عشق کے جو اصول ہوتے ہیں

13 فروری 2019 ء

عشق کے جو اصول ہوتے ہیں
کرنے والوں کی بھول ہوتے ہیں

قرض مت دیجیے حسینوں کو
ہوتے ہوتے وصول ہوتے ہیں

جنھیں ہوتا ہے علم کا دعویٰ
وہ ظلوم و جہول ہوتے ہیں

کام کی چیز آدمیت ہے
آدمی سب فضول ہوتے ہیں

کیا خزاں کیا بہار کانٹوں کی
پھول کچھ بھی ہو پھول ہوتے ہیں

نہ ٹھہرنا نہ دیکھنا مڑ کر
لوگ گلیوں کی دھول ہوتے ہیں

مسجدوں میں جو رد ہوئے سجدے
میکدوں میں قبول ہوتے ہیں

درد ایمان کا تقاضا ہے
غم بھی اس کے رسول ہوتے ہیں

ہم تہی دست خوب ہیں راحیلؔ
کچھ نہ کھو کر ملول ہوتے ہیں

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!