دل نکلتا ہے جان سے آگے

28 مارچ 2017 ء

دل نکلتا ہے جان سے آگے
شاہِ من کچھ امان سے آگے

اس کے لطف و کرم کا کیا مذکور
سایہ ہے سائبان سے آگے

آبلہ پا نکل نہ جائیں کہیں
منزلِ بےنشان سے آگے

ٹھیک سمجھا ہوں کائنات کو عشق
حد ہے حدِ گمان سے آگے

کیوں مسافر ٹھہر نہیں جاتا
کچھ تو ہے اس مکان سے آگے

اس کے انجم بھی دیکھ اس کے بھی
ہے زمین آسمان سے آگے

سن کے آئے ہیں مہربان کا نام
چارہ گر مہربان سے آگے

ہجر ہے پھر وصال ہے توبہ
امتحان امتحان سے آگے

سر جھکا کر خموش بیٹھا ہوں
کیا کہوں رازدان سے آگے

تیر دیکھا نہیں گیا راحیلؔ
دل سے پیچھے کمان سے آگے

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!