روح تک چھید ہوئے آنکھ کے فرمائے ہوئے

اردو شاعری

روح تک چھید ہوئے آنکھ کے فرمائے ہوئے
سینے کچھ اور پھٹے سانس کے برمائے ہوئے

جس میں سرمائے کو سرمایہ سمجھ بیٹھے لوگ
اسی بیوپار میں غارت سبھی سرمائے ہوئے

کعبہ مانیں بھی تو کیوں شیخ و برہمن دل کو
چار پتھر بھی نہیں عشق کے نرمائے ہوئے

زندگی زندہ دلی میل ملاقات سے ہے
سرد ہوتے نہیں دل وصل کے گرمائے ہوئے

وہ تو خیر آپ سے شرمائے ہوئے پھرتے ہیں
آپ راحیلؔ میاں کس سے ہیں شرمائے ہوئے

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ