باوفا کوئی کوئی ہوتا ہے

4 اپریل 2017 ء

باوفا کوئی کوئی ہوتا ہے
میں بھی تھا کوئی کوئی ہوتا ہے

قدر کر میری قدر کر ظالم
دل جلا کوئی کوئی ہوتا ہے

ابنِ آدم کے روگ بہتیرے
لادوا کوئی کوئی ہوتا ہے

کون ظالم نہیں زمانے میں
آپ سا کوئی کوئی ہوتا ہے

دل میں کاہے نہ چور گھر کرتے
در بھی وا کوئی کوئی ہوتا ہے

جس طرح ہم ہیں آپ کے سرکار
بخدا کوئی کوئی ہوتا ہے

سب کا ہوتا ہے درد کوئی نہ کوئی
درد کا کوئی کوئی ہوتا ہے

آئنہ آپ آئنہ بیں آپ
دیکھنا کوئی کوئی ہوتا ہے

یوں تو قاتل ہیں ان گنت راحیلؔ
آشنا کوئی کوئی ہوتا ہے

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!