جو بھی ہوتا ہے ٹھیک ہوتا ہے

جو بھی ہوتا ہے ٹھیک ہوتا ہے
آدمی مفت دیدے کھوتا ہے

عقل والے یونہی نہیں بیٹھے
کام میں احمقوں کو جوتا ہے

ایک آنسو ہے آنکھ میں سیلاب
قطرہ بھر دو جہاں بھگوتا ہے

کھل کے ہنستا ہے رونے والا بھی
ہنسنے والا بھی چھپ کے روتا ہے

لوگ پھولوں کے ہار مانگتے ہیں
عشق پھندوں میں سر پروتا ہے

باج کھاتا ہے بادشاہ اس کا
نیند اس کی فقیر سوتا ہے

عشق حاذق طبیب ہے لیکن
زخم کو آنسوؤں سے دھوتا ہے

دھر خدا پر نہ تہمتیں راحیلؔ
ناؤ کو ناخدا ڈبوتا ہے

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق پاکستانی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر ہیں۔

فہرستِ کلام
یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

”جو بھی ہوتا ہے ٹھیک ہوتا ہے“ پر 2 عدد تبصرے

  1. محمد عدنان اکبری نقیبی

    السلام علیکم
    بھیا شاندار غزل ہے اور یہ شعر تو غزل کا شعر کبرا ہے ۔
    لوگ پھولوں کے ہار مانگتے ہیں
    عشق پھندوں میں سر پروتا ہے

آپ کیا فرماتے ہیں بیچ اس مراسلے کے؟