وہ لاکھ بتاتا ہے جتاتا ہے کہ میں ہوں

اردو شاعری

وہ لاکھ بتاتا ہے جتاتا ہے کہ میں ہوں
میری تو سمجھ میں یہی آتا ہے کہ میں ہوں

کہنے کو تو وہ مجھ کو دکھاتا ہے کہ میں ہوں
جلووں کا ہر آئینہ بتاتا ہے کہ میں ہوں

اللہ ری یہ مستئِ پندار کہ یوں بھی
اپنے کو کوئی یاد دلاتا ہے کہ میں ہوں

ایسا ہے کہ عاشق کا وجود آپ عدم ہے
ہوتا بھی اگر ہے تو چھپاتا ہے کہ میں ہوں

تو اپنے چراغاں کی کہیں اور سے لے داد
مجھ کو تو یہی خواب ستاتا ہے کہ میں ہوں

تو نے تو خدائی میں کوئی کسر نہ چھوڑی
انسان کبھی بھول ہی جاتا ہے کہ میں ہوں

راحیلؔ اسے سامنے پاؤں تو نہ دیکھوں
دیکھوں تو سہی دیکھ بھی پاتا ہے کہ میں ہوں

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ