چیل کووں نے پڑھے مرثیے گل‌زاروں کے

27 مئی 2017 ء

چیل کووں نے پڑھے مرثیے گل‌زاروں کے
آشیانے ہی بڑی دور تھے مکاروں کے

معجزے اب کے گداؤں ہی کو مطلوب نہیں
منتظر اہلِ کرم بھی ہیں چمتکاروں کے

بکتے ہیں آج بھی لوگوں کے جگر کے ٹکڑے
گاہک اچھے تھے مگر مصر کے بازاروں کے

حال پر اہلِ گلستاں کے خدا رحم کرے
اب تو صیاد ہیں بچے بھی چڑی‌ماروں کے

دادِ فرہاد تھی بڑھیا کی زباں کی آری
کٹ گیا دل تو چلو دن کٹے بیگاروں کے

اے کہن‌مردہ ستاروں کی خردیافتہ دھول
سجدہ‌گاہیں بھی ہیں ذرات میں سیاروں کے

محتسب سے نہ بنی ہے نہ ٹھنی ہے اپنی
اور ہیں دوست بھی دشمن بھی گنہ‌گاروں کے

دل کے بازار میں بھی آگ لگی ہے راحیلؔ
بھاؤ پڑتے ہوئے دیکھے ہیں بڑے پیاروں کے

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!