چھن گئے خود سے تمھارے ہو گئے​

9 اپریل 2012 ء

چھن گئے خود سے تمھارے ہو گئے​
تم پہ عاشق دل کے مارے ہو گئے​

کچھ دن آوارہ پھرے سیارہ وار​
رہ گئے تم پر ستارے ہو گئے​

تجھ پہ قرباں اے جمالِ عہد سوز​
جس کے بیاہے بھی کنوارے ہو گئے​

کیا اسی کو کہتے ہیں ربطِ دلی
چور دل کے جاں سے پیارے ہو گئے​

ہم تھے تیرے خاکساروں میں شمار​
حاسدوں میں چاند تارے ہو گئے​

چار نظریں چار باتیں چار دن​
ہم تمھارے تم ہمارے ہو گئے​

اک نظر کرنے سے تیرا کیا گیا
اہلِ دل کے وارے نیارے ہو گئے​

کچھ تو خود دل پھینک تھے راحیلؔ ہم​
کچھ اُدھر سے بھی اشارے ہو گئے​

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!