ان کی آنکھوں میں ڈال کر آنکھیں

8 اکتوبر 2020 ء

ان کی آنکھوں میں ڈال کر آنکھیں
دیکھنا اور اجال کر آنکھیں

کر تو وقفِ جمال کر آنکھیں
ورنہ رکھ دے نکال کر آنکھیں

دل کے سجدوں کو دے دیے محراب
دستِ قدرت نے ڈھال کر آنکھیں

آنسوؤں کی شراب سستی تھی
پی گیا غم کھنگال کر آنکھیں

ہائے میں کس کا اعتبار کروں
کہیے کہیے سنبھال کر آنکھیں

ایک درخواست کرنے لگتی ہیں
ایک درخواست ٹال کر آنکھیں

چاہتی ہیں کہ میں سلجھ جاؤں
الجھنیں پال پال کر آنکھیں

قصۂ طور یاد ہے راحیلؔ
دیکھنا دیکھ بھال کر آنکھیں

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

اردو شاعری

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ

عید مبارک - اردو گاہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!