دل زدہ شہر میں جب آئے گا

غزل

زار

دل زدہ شہر میں جب آئے گا
جاں بلب، مہر بلب آئے گا

لو، مہکتی ہوئی یادیں آئیں
وہ تو جب آئے گا، تب آئے گا

صبحِ امروز ہوئی ہی ہو گی
یاد پھر وعدۂ شب آئے گا

کس قدر زود پشیمان ہے تو؟
تجھ پہ الزام ہی کب آئے گا؟

ابھی افکار میں ہیں رنگ بھرے
ابھی گفتار کا ڈھب آئے گا

ہم بھی صحرا کو چلے ہیں راحیلؔ
ہجر کا لطف تو اب آئے گا

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ