اس نے بھی جوگ لے لیا شاید

غزل

زار

اس نے بھی جوگ لے لیا شاید
میں بھی زندہ ہی مر گیا شاید

تجھ سے مل کر بھی کچھ قلق سا ہے
میں بھٹکتا بہت رہا شاید

یہ نہیں ہے کہ وقت کٹ نہ سکا
اس طرح سے نہ کٹ سکا شاید

شہر کا شہر بندہ پرور ہے
میں اکیلا غریب تھا شاید

اب پڑا ہے فراق میں جینا
اب جیا بھی نہ جائے گا شاید

نہیں چارہ، نہیں دوا لیکن
کوئی چارہ، کوئی دوا شاید

جان پہچان ہو گئی تجھ سے
ورنہ کچھ بھی نہ جانتا شاید

ذہن راحیلؔ کا قیامت تھا
دل نے دیوانہ کر دیا شاید

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ