آخری وار سب سے کاری تھا

غزل

زار

آخری وار سب سے کاری تھا
وہ بھی ہارا ہوا جواری تھا

بھیگتی ہی گئی زبورِ حیات
میں نہایت فضول قاری تھا

آج فصلِ بہار کا بوسہ
گرم تھا، ذائقے سے عاری تھا

میری نیند اڑ گئی ہے دھرتی ماں
تیری چھاتی سے خون جاری تھا

دل کا بازار سرد تھا راحیلؔ
اور ہر شخص کاروباری تھا

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ