منزلوں کا سراغ تھا پہلے

غزل

زار

منزلوں کا سراغ تھا پہلے
جو دھواں ہے، چراغ تھا پہلے

تو بھی عالی دماغ ہے شاید
میں بھی عالی دماغ تھا پہلے

تھے عنادل بھی، لالہ و گل بھی
جب یہاں ایک باغ تھا پہلے

متعلق رہا ہوں دنیا سے
اس قدر بھی فراغ تھا پہلے

اب غزل کی متاع ہے راحیلؔ
میرے سینے کا داغ تھا پہلے

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ