ہم کہاں؟ تم کہاں؟ وہ رات کہاں؟

غزل

زار

ہم کہاں؟ تم کہاں؟ وہ رات کہاں؟
ایسی بازی، پھر ایسی مات کہاں؟

نکہتِ دوش سر پٹخ تو گئی
اس قفس سے مگر نجات کہاں؟

ایک عالم ہے خود شناسی کا
دل لگی میں بھلا یہ بات کہاں؟

جستجو کس خلا میں چھوڑ گئی؟
کیا خبر، ہے مقامِ ذات کہاں؟

شاعری میں امید کیا مطلب؟
دہر میں لذتِ ثبات کہاں؟

صبح سے کیا قمر گزیدوں کو؟
دن چڑھے ایسی واردات کہاں؟

اب تو جینا کمال ہے راحیلؔ
اب غزل، سیمیا، نکات کہاں؟

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ