شعر بیچوں گا، زہر کھا لوں گا

غزل

زار

شعر بیچوں گا، زہر کھا لوں گا
موسمِ گل سے کیا کما لوں گا؟

رنج بے سود ہے مگر یارب!
تیری دنیا سے اور کیا لوں گا؟

کون غارت گرِ تمنا ہے؟
کس ستم گر سے خوں بہا لوں گا؟

زندگی ہے تو ٹھیک ہے ہمدم
چار دن اور جی جلا لوں گا

کبھی کچھ دشمنوں کے باب میں، دوست!
جی میں ہو گا تو کہ بھی ڈالوں گا

والیِ شہر سو چکا راحیلؔ
میں بھی اب بوریا بچھا لوں گا

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ