تبر و تیشہ و تاثیر کہاں سے لائیں؟

غزل

زار

تبر و تیشہ و تاثیر کہاں سے لائیں؟
عشق فرمائیں، جوئے شیر کہاں سے لائیں؟

خواب ہی خواب ہیں، تعبیر کہاں سے لائیں؟
لائیں، پر خوبئِ تقدیر کہاں سے لائیں؟

مرہمِ خاک غنیمت ہے کہ موجود تو ہے
دشت میں بیٹھ کے اکسیر کہاں سے لائیں؟

کوئی زاہد ہے تو اللہ کی مرضی سے ہے
ایسی تقصیر پہ تعزیر کہاں سے لائیں؟

کہیے، کچھ اس کے ٹھکانے کا پتا بھی تو چلے
کر کے راحیلؔ کو زنجیر کہاں سے لائیں؟

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ