نہ مجھے بھول سکے اور نہ اسے یاد رہے

غزل

زار

نہ مجھے بھول سکے اور نہ اسے یاد رہے
تجربے عہدِ محبت کے خداداد رہے

رونقِ شہر سے آگے کوئی ویرانہ تھا
اس میں کچھ لوگ رہے، خوش رہے، آباد رہے

ایک دنیا تھی جسے عشق سے عرفان ملا
ایک ہم ایسے کہ برباد تھے، برباد رہے

شہرِ یاراں میں عجب چھب تھی دلِ وحشی کی
جیسے کعبے میں کوئی بندۂ آزاد رہے

کسے یارا ہے محبت کے ستم سہنے کا؟
دل تو چاہے گا ہمیشہ یہی افتاد رہے

یا تو مل جائے مجھے شانۂ ہمدم راحیلؔ
ورنہ پھر دوشِ ہوا پر یہی فریاد رہے

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ