مدت میں ایک بار پلٹ کر جو گھر گیا

غزل

زار

مدت میں ایک بار پلٹ کر جو گھر گیا
میں خانماں خراب کئی بار مر گیا

روتا رہا تو پوچھنے والا کوئی نہ تھا
جب ہنس دیا تو حلق میں نشتر اتر گیا

ندیاں کسی دیار کی یاد آ کے رہ گئیں
صحرا میں قطرہ قطرہ لبوں پر ٹھہر گیا

تسنیم و سلسبیل پہ تھا منتظر کوئی
میں کوچۂ مغاں سے بھی پیاسا گزر گیا

سقراطیوں کو دانشِ دوراں پہ ہنسنے دو
زہراب کا پیالہ بھی، سنتے ہیں بھر گیا

ناموسِ شعر کی کوئی میت کو پوچھنا
تہذیبِ غم تو اپنی سی راحیلؔ کر گیا

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ