سادہ ہیں لوگ، ارادوں کو اٹل کہتے ہیں

غزل

زار

سادہ ہیں لوگ، ارادوں کو اٹل کہتے ہیں
ایک دھوکا جسے توفیقِ عمل کہتے ہیں

اپنے بھی نام قیامت کے ہیں نامے سارے
ایک وہ ہے جسے پیغامِ اجل کہتے ہیں

کئی فرزانے تھے، کہتے رہے صورت پہ غزل
کئی دیوانے ہیں، صورت کو غزل کہتے ہیں

تجھے عالم پہ حکومت ہو مبارک لیکن
جانِ عالم! اسے لمحوں کا محل کہتے ہیں

بند آنکھیں کیے تم چل تو پڑے ہو راحیلؔ
ایسی راہوں میں ہوا کرتے ہیں بل، کہتے ہیں

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ