اہلِ دل تھا، بڑی مشکل میں تھا

غزل

زار

اہلِ دل تھا، بڑی مشکل میں تھا
وہ جو دنیا میں نہ تھا، دل میں تھا

جستجو دشت میں سرگرداں تھی
جانِ عالم کسی محفل میں تھا

آج پہنچا ہے گریبان پہ ہاتھ
کل ابھی دامنِ سائل میں تھا

اوس پڑ جائے نہ ارمانوں پر
کچھ نیا تارے کی جھلمل میں تھا

لے اڑی دل کو خلش پھر کوئی
میں ابھی لذتِ حاصل میں تھا

تو نے اے دوست! زمانہ دیکھا
کچھ نیا بھی کسی بسمل میں تھا؟

ایک دعویٰ تو ہمیں تھا راحیلؔ
ایک سودا سرِ قاتل میں تھا

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ