غبارِ دشت سے بڑھ کر غبار تھا کوئی

غزل

زار

غبارِ دشت سے بڑھ کر غبار تھا کوئی
گیا ہے، توسنِ غم پر سوار تھا کوئی

فقیہِ شہر پھر آج ایک بت پہ چڑھ دوڑا
کسی غریب کا پروردگار تھا کوئی

بہت مذاق اڑاتا رہا محبت کا
ستم ظریف کے بھی دل پہ بار تھا کوئی

رہا لطائفِ غیبی کے دم قدم سے بسا
دیارِ عشق عجب ہی دیار تھا کوئی

نصیب حضرتِ انساں کا تھا وہی راحیلؔ
کسی کی گھات میں تھا، ہوشیار تھا کوئی

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ