مصحف مصحف ورق ورق تھا

غزل

زار

مصحف مصحف ورق ورق تھا
ہر ایک سبق نیا سبق تھا

یہ کون تھے درس لینے والے؟
میرِ مکتب کا رنگ فق تھا

تھا، اے میرے خدا، کہاں تو؟
جب میں محوِ صدائے حق تھا

قاتل کے انتظار میں شب
تھیں آنکھیں بند، سینہ شق تھا

اجڑے ہوئے شہر دیکھتے تھے
بنجاروں کو کوئی قلق تھا

میرا صلہ اور ہو گا راحیلؔ
ِمیں کشتۂ  شرّ ما خلق تھا

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ