جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا

غزل

زار

جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا
ریختہ دل ہے، اور بکھرتا جائے گا

جھوٹ نبھانے اس کے بس کا روگ نہیں
دیکھے بن ہی باتیں کرتا جائے گا

اس سے پوچھو جو ساقی کہلاتا ہے
میرا خالی جام نہ بھرتا جائے گا؟

اپنی دھول تو پہنچے گی منزل کو مگر
کون کہے، تب کیسے برتا جائے گا؟

پوج رہا ہے مرتے ماضی کو راحیلؔ
خود بھی رفتہ رفتہ مرتا جائے گا

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ