دیکھنا خواب، تو دنیا کو دکھاتے پھرنا

غزل

زار

دیکھنا خواب، تو دنیا کو دکھاتے پھرنا
کانچ کا ٹوٹنے لگنا تو چھپاتے پھرنا

کبھی آنکھوں سے کوئی خواب کھرچنا جیسے
کبھی ہاتھوں کی لکیروں کو مٹاتے پھرنا

کچھ بھی جب یاد نہ ہونا تو اسے کرنا یاد
خود کو بھی بھولنے لگنا تو بھلاتے پھرنا

شہر والوں پہ عیاں ہے سبھی حالت میری
اب گزرنا تو پھر آنکھیں نہ چراتے پھرنا

یوں کرو آج کہ دو کوئی قیامت کا فریب
پھر کبھی وعدۂ اخلاص نبھاتے پھرنا

دردمندی کی سزا خوب نہیں ہے راحیلؔ؟
دل پہ بیتے ہوئے اشعار سناتے پھرنا

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ