دیکھے ہوئے رستے ہیں، میں کھو ہی نہیں سکتا

غزل

زار

دیکھے ہوئے رستے ہیں، میں کھو ہی نہیں سکتا
اس زعم پہ ہنستا ہوں اور رو ہی نہیں سکتا

تو اور مجھے پوچھے؟ تو اور مجھے روئے؟
وہ اور کوئی ہو گا، تو ہو ہی نہیں سکتا

او رات، اری او رات! او چاند، ارے او چاند!
وہ جاگ نہیں سکتا، میں سو ہی نہیں سکتا

دستور کی طاقت مان، تقدیر پہ رکھ ایمان
وہ فصل اٹھائے گا جو بو ہی نہیں سکتا

اسباب دھواں ہو جائے، گھر دھول اڑے راحیلؔ
افلاس کے دھبے میں جب دھو ہی نہیں سکتا

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ