شہرہ آفاق بد دعا ہے مجھے

غزل

زار

شہرہ آفاق بد دعا ہے مجھے
حسن سے عشق ہو گیا ہے مجھے

بندہ پرور! جنوں کی بات نہیں
ایک صحرا پکارتا ہے مجھے

کچھ مقامات پر نظر کر کے
راستوں نے بھی طے کیا ہے مجھے

بڑی بھٹکی ہوئی نگاہ سہی
سامنے کوئی دیکھتا ہے مجھے

تو نے اے بوئے آرزو! تو نے
تو نے برباد کر دیا ہے مجھے

عشق ہے یا بلا ہے ناہنجار
کاٹ کھانے کو دوڑتا ہے مجھے

شعر درِ یتیم تھا راحیلؔ
راہِ غم میں پڑا ملا ہے مجھے

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ