مجھ ناتواں پہ کاش نہ بارِ غزل پڑے

غزل

زار

مجھ ناتواں پہ کاش نہ بارِ غزل پڑے
کوئی چراغ ہو کہ سرِ شام جل پڑے

صحرا کے تیوروں کی خبر خوب تھی مگر
بے اختیار ہو گئے، گھر سے نکل پڑے

کلیوں کا خون خاکِ گلستان پی گئی
بادل ہوا کے زور پہ چپ چاپ چل پڑے

پھر ناگہانیوں سے وہ بھونچال آ گیا
راوی کے پانیوں میں سے گوہر اچھل پڑے

بیٹھا گیا نہ راہ میں ذلت کے خوف سے
بھوکے، قدم بڑھائے تو رستوں میں بل پڑے

راحیلؔ آب دیدہ غزل کہ گیا ہے، دیکھ
کس کوہِ سنگلاخ سے چشمے ابل پڑے

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ