ہے تو قدغن ہی مگر اس میں برا ہی کیا ہے؟

غزل

زار

ہے تو قدغن ہی مگر اس میں برا ہی کیا ہے؟
کچھ نہ کرنے کے سوا ہم نے کیا ہی کیا ہے؟

آ، تجھے سلطنتِ دل کی ذرا سیر کراؤں
تجھے معلوم نہیں ہے کہ تباہی کیا ہے؟

حال یہ ہے کہ خدا جھوٹ نہ بلوائے اگر
تیری یادوں کے سوا گھر میں رہا ہی کیا ہے؟

بڑی سادہ سی محبت کا گنہگار ہوں میں
یہی معلوم نہیں تھا کہ ہوا ہی کیا ہے؟

کچھ نہ دے پاؤں تو شرمندہ نہیں ہوں راحیلؔ
اس زمانے سے بھلا میں نے لیا ہی کیا ہے؟

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ