وہ جو دیکھا گیا، سنا نہ گیا

غزل

زار

وہ جو دیکھا گیا، سنا نہ گیا
ہائے وہ وقت، وہ زمانہ گیا

رونے والے تو رو رہے تھے حضور
ہنسنے والوں سے کیوں ہنسا نہ گیا؟

غلطی دل کی تھی، مگر دل تھا
ہم سے یہ عذر بھی کیا نہ گیا

کس گلی میں ہوں رہ نشیں یا رب!
کون گزرا کہ دیکھتا نہ گیا؟

عام سا تھا مرض، مگر درمان
جس قدر بھی کیا گیا، نہ گیا

کیا نصیحت نہ کی گئی راحیلؔ؟
ہمی نادان تھے، رہا نہ گیا

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ