شب گزیدے یونہی کچھ دیر بہل جاتے ہیں

غزل

زار

شب گزیدے یونہی کچھ دیر بہل جاتے ہیں
دن تو ورنہ نئی گلیوں میں بھی ڈھل جاتے ہیں

اوٹ سے جھانکتی رہ جاتی ہے چھپنے والی
ڈھونڈنے والے کہیں اور نکل جاتے ہیں

دن نکلتا ہے، بہت فکرِ زیاں ہوتی ہے
رات ڈھلتی ہے، بہت خواب مچل جاتے ہیں

پٹ تو جاتے ہیں اناڑی مگر اکثر اوقات
چال ایک آدھ بہت کام کی چل جاتے ہیں

دلدلی عہد کے یہ ٹھوس حقائق راحیلؔ
پاؤں جمنے نہیں پاتے، کہ پھسل جاتے ہیں

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ