جہاں نیک نامی کی حد ہو گئی

غزل

زار

جہاں نیک نامی کی حد ہو گئی
سمجھ، تشنہ کامی کی حد ہو گئی

روا نا روا میں پھنسے رہ گئے
غلامو! غلامی کی حد ہو گئی

اُدھر ذرہ ذرہ ہوا آفتاب
اِدھر نا تمامی کی حد ہو گئی

وہی ایک خامی جنوں کی رہی
اور اس ایک خامی کی حد ہو گئی

خفا کس سے راحیلؔ صاحب نہیں؟
مزاجِ گرامی کی حد ہو گئی

پس نوشت: اس غزل کو نظرِ ثانی کے بعد اردو گاہ پر دوبارہ پیش کیا جا چکا ہے۔

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ