تو بھی میرے ساتھ رسوا ہو گیا

غزل

زار

تو بھی میرے ساتھ رسوا ہو گیا
کعبۂ ناموس! یہ کیا ہو گیا؟

اب دلِ ناداں سے پوچھیں کوئی راہ
چشمِ بینا کو تو دھوکا ہو گیا

جب گوارا ہو گیا مرنا مجھے
زہر کی پڑیا سے اچھا ہو گیا

میں دیارِ عشق میں تنہا نہیں
جو بھی آیا سو یہیں کا ہو گیا

قریۂ دل کی بھی نکلیں حسرتیں
آگ لگنے سے تماشا ہو گیا

شہر میں راحیلؔ نامی شخص تھا
یہ تو قصہ ہی پرانا ہو گیا

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ