لے کر یہ محبت کے آزار کدھر جائیں؟

غزل

زار

لے کر یہ محبت کے آزار کدھر جائیں؟
سر پھوڑ کے مر جائیں؟ سرکار کدھر جائیں؟

بیٹھیں تو کہاں بیٹھیں اس کوئے ملامت میں؟
اٹھ جائیں تو ہم اہلِ پندار کدھر جائیں؟

مانا کہ مسیحا کو ہیں اور ہزاروں کام
یہ بھی تو کہو کوئی، بیمار کدھر جائیں؟

یہ کرب، یہ سناٹا، یہ رنگ کی ننگی لاش
لالے تو گئے صاحب! گلزار کدھر جائیں؟

اندھوں کو بتا دینا، باہر بھی اندھیرے ہیں
بے فائدہ کیا گھومیں؟ بے کار کدھر جائیں؟

کس اینٹ پہ سر پٹکیں؟ کس در پہ کریں گریہ؟
راحیل ؔ بتا، تیرے غم خوار کدھر جائیں؟

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ