عشق اگر اشک بہانے سے امر ہو جائے

غزل

زار

عشق اگر اشک بہانے سے امر ہو جائے
روؤں، یوں روؤں کہ زم زم کو خبر ہو جائے

لوحِ ایام پہ لکھ دے، کوئی اتنا لکھ دے
کہ یہی دن ہیں تو ناپید سحر ہو جائے

نسلِ آدم ہی سنبھل جائے کبھی، ہائے کبھی
جو اُدھر ہو نہ سکا تھا وہ اِدھر ہو جائے

پھر جلے پاؤں کی بلی کی طرح نکلا ہوں
گھر میں لگتا نہیں یہ شام بسر ہو جائے

میرے آوارہ کی اب تک تو نہیں ہے امید
میں گزر جاؤں تو ممکن ہے گزر ہو جائے

گرتے پڑتے چلے جاتے ہیں کسی منزل کو
جس طرح گردِ سفر محوِ سفر ہو جائے

ہے فقیہانِ محبت کا یہ فتویٰ راحیلؔ
کہ نہ ہونے سے تو بہتر ہے، جدھر ہو جائے

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ