گر گئی قیمتِ نظر کچھ اور

غزل

زار

گر گئی قیمتِ نظر کچھ اور
دیکھتے ورنہ دیدہ ور کچھ اور

اٹھ رہے ہیں حجاب ہائے نظر
ہو رہا ہے اِدھر اُدھر کچھ اور

ہے نئی زندگی کی پھر سے نوید
شاید آئیں گے چارہ گر کچھ اور

سر ہوئی تھی نہ منزلِ مقصود
ہو گئی وقت کی ڈگر کچھ اور

ابھی یزداں کو اور بھی ہیں کام
ٹھہر اے دل! ابھی ٹھہر کچھ اور

چھو گئے تم تو رفعتِ افلاک
تھک گئے کچھ شکستہ پر کچھ اور

اور ہے شوخیِ خرد کا علاج
ہے دوائے غمِ جگر کچھ اور

سب نظر کا فریب تھا راحیلؔ
چلتے یہ راہ چھوڑ کر، کچھ اور

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ