راہوں میں ٹھہر جاؤں، منزل سے گزر جاؤں

غزل

زار

راہوں میں ٹھہر جاؤں، منزل سے گزر جاؤں
کچھ اور بھٹک لوں میں، حسرت میں نہ مر جاؤں

ہر راہ کا عالم اور، ہر گام پہ سو سو رنگ
سوچا کہ اِدھر جاؤں، چاہا کہ اُدھر جاؤں

کچھ اور کھٹک تھی تب، اب اور کسک سی ہے
مدت ہوئی نکلا تھا، اب جی میں ہے گھر جاؤں

ویرانیِ منزل کا افسانہ ہی کہ ڈالوں
کوئی تو سبق سیکھے، کچھ کام تو کر جاؤں

میں گردِ سفر بہتر، میں خاک سہی راحیلؔ
وہ بھی تو اڑائے گا، خود کیوں نہ بکھر جاؤں؟

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ