جنوں نے تجھے ماورا کر دیا

غزل

زار

جنوں نے تجھے ماورا کر دیا
نہ دیکھا، نہ سمجھا، خدا کر دیا

خموشی کی سل جس نے توڑی، سلام!
صدا کو تقدس عطا کر دیا

یہ جو عشق ہم نے کیا، دوستو
بھلا کر گئے یا برا کر دیا؟

کسی دوست کا قرض ہے زندگی
دیا اور طوفان اٹھا کر دیا

ازل سے ہے دستورِ عالم یہی
روا کہ دیا، نا روا کر دیا

متاعِ دل و جاں تھی راحیلؔ ہیچ
اُسی نے اِسے بے بہا کر دیا

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ