تم سے کچھ اور تعلق نہ سہی، مان تو ہے

غزل

زار

تم سے کچھ اور تعلق نہ سہی، مان تو ہے
راہ منزل کی نہیں ہے مگر آسان تو ہے

یہ بہت ہے کہ میسر ہے غزل کا سامان
یہی کافی ہے کہ دل میں کوئی ارمان تو ہے

بات کی تاب رہے یا نہ رہے، کیا معلوم؟
عشق ہے، عشق میں آزار کا امکان تو ہے

منزلِ عشق بلا سے کبھی ہوتی ہی نہ ہو
منزلِ عشق پہ ایمان ہے، ایمان تو ہے

لوگ ہیں اور ہے افسانہ ہمارا راحیلؔ
بات کچھ بھی نہ سہی، شہر میں طوفان تو ہے

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ