شام ہے، میں ہوں، رات کا ڈر ہے

غزل

زار

شام ہے، میں ہوں، رات کا ڈر ہے
یہ مقدر بھی کیا مقدر ہے

شاعرانہ سی بات ہے لیکن
حسن آبِ بقا سے بڑھ کر ہے

منزلیں تیرہ، تیرہ تر راہیں
کون جانے کوئی کہاں پر ہے

دیکھ، حسنِ طلب کی بات نہ کر
شہر میں ایک ہی گداگر ہے

ایک جھونکے کے فیض سے رستہ
برزخِ عشق تک معطر ہے

مجھ میں دو شخص جیتے ہیں راحیلؔ
ایک ناظر ہے، ایک منظر ہے

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ