دل سے کوئی خطا نہ ہو جائے

غزل

زار

دل سے کوئی خطا نہ ہو جائے
کچھ زیادہ برا نہ ہو جائے

عشق منزل سرائے حیرت ہے
کہیں پھر کچھ نیا نہ ہو جائے

جس پہ نازاں ہے شمعِ دورِ نوی
وہ شرارہ فنا نہ ہو جائے

اس چکا چوند روشنی میں کہیں
چشمِ امکان وا نہ ہو جائے

یہ جو رہ رہ کے ٹیس اٹھتی ہے
دل کی دھڑکن بلا نہ ہو جائے

انتہا کو پہنچ نہ جائے عجز
بندہ پرور خدا نہ ہو جائے

عدل کی آرزو تو ہے لیکن
زندہ رہنا سزا نہ ہو جائے

بزم ہنس ہنس کے تھکتی جاتی ہے
ماتمی سی فضا نہ ہو جائے

پردے سارے اٹھا تو دوں راحیلؔ
یہ مزا کرکرا نہ ہو جائے

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ