مہربانوں کی تمنا کیوں ہو؟

غزل

زار

مہربانوں کی تمنا کیوں ہو؟
نہ ہوئے تم، تو یہ دنیا کیوں ہو؟

ہو نہ کوئی، تو چلو پھر بھی ہے ٹھیک
جب خدا ہو تو پھر ایسا کیوں ہو؟

ہے مجھے اس سے محبت لیکن
شہر بھر میں یہی چرچا کیوں ہو؟

میرے دکھ ایسے انوکھے کب ہیں؟
کوئی سنتا ہو تو سنتا کیوں ہو؟

کوئی ہو عالمِ دوں میں راحیلؔ
یارِ دل دار سے اچھا کیوں ہو؟

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ