یہ نہیں ہے کہ آرزو نہ رہی

غزل

زار

یہ نہیں ہے کہ آرزو نہ رہی
تیرے بعد اور جستجو نہ رہی

کھوئے کھوئے گزر گئے ہم لوگ
راستوں کی وہ آبرو نہ رہی

جانے کیا تھا کہ وحشتوں میں بھی
دل کو تسکین ایک گونہ رہی

چاک دامن کچھ اور بھی دیکھے
مدتوں خواہشِ رفو نہ رہی

آخرِ کار میں وہ میں نہ رہا
آخرِ کار تو وہ تو نہ رہی

دن گزرتے گئے، گزرتے گئے
زیست راحیلؔ تھی عدو، نہ رہی!

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ