زندگی زندگی کے درپے ہے

غزل

زار

زندگی زندگی کے درپے ہے
اپنے زندوں کو دیکھنا، ہے ہے!

چیز خاصے کی عشق بھی ہے مگر
حسن کیسی کمال کی شے ہے!

ہجر میں آئے، وصل میں آئے
موت آئے گی، اس قدر طے ہے

اپنی تقدیر ہی نہیں ورنہ
دل ہے، ساقی ہے، جام ہے، مے ہے

جام ہائے شکستہ ہیں ہم لوگ
زندگی دیوتاؤں کی قے ہے

تھے تو گریاں ازل سے ہم راحیلؔ
ان دنوں کچھ بلند تر لے ہے

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ