میں، کہ تھا محوِ تماشا کب سے

غزل

زار

میں، کہ تھا محوِ تماشا کب سے
رہ گیا شہر میں تنہا کب سے؟

اس نے جانے کا بہانہ ڈھونڈا
ورنہ ساون تو وہی تھا کب سے

ایک جھونکے نے پلٹ کر پوچھا
باغ کا باغ ہے صحرا کب سے؟

انھیں غزلیں بھی غنیمت ہیں، جنھیں
نہ ہوا بات کا یارا کب سے

دشت سے کیا نہیں لوٹا راحیلؔ؟
اس گلی میں نہیں دیکھا کب سے

راحیلؔ فاروق

زار کے مصنف۔ پنجاب، پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ غزل اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ