عجائباتِ فرنگ

مجلسِ برقی اشاعتِ ادبیاتِ عالیہ

بسلسلۂ اردو ادبِ عالیہ

تاریخِ یوسفی معروف بہ عجائباتِ فرنگ

فہرست

آغازِ کتاب

تاریخِ یوسفی

معروف بہ

عجائباتِ فرنگ

 

ستائشِ بے نہایت اس خدا کو لائق ہے کہ یوسفِ کنعانی کو حاکم مصر کا بنایا اور یوسفِ سلیمانی کو بیچ ملک انگلستان کے پہنچایا۔ انسان ضعیف البنیان کو مرتبۂ شرافت عطا فرمایا اور ساتھ عنایت کرنے گویائی زبان کے سب حیوانوں پر ممتاز کیا۔ اگر  ہر سرِمُو بدن کا زبان ہو جاوے، بیان حمد اس کے کا ہرگز نہ امکان ہو۔ فرد:

وہ الحق کہ ایسا ہی معبود ہے
قلم جو لکھے اس سے افزود ہے

بہرحال یہی بہتر ہے کہ گلستانِ سخن کو پھولون نعت سے زیب و زینت دوں۔ گونا گوں توصیف اس رسول کو زیبا ہے کہ  گمراہوں کو کوچۂ ضلالت کے تئیں شاہراہِ ہدایت پر لایا اور نورِ رہنمائی اپنے سے جمالِ شاہدِ مقصود عرفان و وحدانیت کا دکھلایا۔ فرد:

نبی  کون  یعنی  رسولِ  کریم
نبوت  کے  دریا   کا دُرِّ  یتیم

ازانجا کہ مدح بادشاہِ زمان مرکوز خاطر ناتواں ہے، یہاں سے باگ سمندِ قلم کی اس کی طرف پھیرتا ہوں۔ سبحان اللہ! عجب شاہنشاہ ہے کہ سبب عدالت اس کے سے شیر و بکری ایک گھاٹ پانی پیتے ہیں۔ رعایا سایۂ عنایت اس کی میں روز و شب بہ آسائش بسر کرتی ہے۔ چورنے شہر میں پاسبانی اختیار کی، شیر نے بیشہ میں پیشۂ شبانی۔ گلِ عشرت آبیاری عدل اس کے سے سیراب، خارِ عسرت چمن پیرائی رافت اس کی سے نایاب۔ سخاوت اس کی سے ابرِ گہر بار شرمسار، مناسبت اس کی سے حاتم طائی کو افتخار۔ مطلع مجد و اعتلا کوئین وکٹوریا فرماں روائے انگلستان، تاج بخشِ شاہانِ جہان، خلّد اللہ سلطنتہا الیٰ نہایت الزمان۔ بعد حمد و نعت کے کہتا ہے امیدوارِ رحمتِ پروردگارِ خطا پوش، عذر نیوش، یوسف خاں کمل پوش کہ اس عاجز نے اکثر اوقات اپنی سیر ملکوں میں بسر کی اور کیفیت عجائباتِ زمانہ کی اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ اکثر دوستوں پر رودادِ سفر عیاں کی۔ انھوں نے نہایت محظوظ اور مشتاق ہوکر مجھ کو آمادۂ تالیف و بیان کیا۔ ناچار بپاسِ خاطر ان کے فقیر نے جو کچھ سفر میں دیکھا بھالا تھا، اس رسالہ میں مفصل لکھا۔ اس کے دیکھنے والوں سے امیدوار ہوں کہ بہ مقتضائے بشریت اگر کہیں کچھ بھول جاؤں تو اپنی عنایت سے معاف کریں اور اس عاصی پُر معاصی پر عتاب نہ فرمائیں، اس لیے کہ انسان بھول چوک سے خالی نہیں اور خاکی کو رتبۂ عالی نہیں۔ فرد:

قاریا بر من مکن  چندیں عتاب
گر خطائی رفتہ باشد در کتاب

چونکہ اس کتاب میں سب حال اپنا گزرا بیان تھا، نام اس کا تاریخِ یوسفی رکھا۔ الاہتمام منی والإتمام من اللہ تعالی۔

 

آغاز حال مؤلف

 

یہ فقیر بیچ سنہ اٹھارہ سو اٹھائیس عیسوی (1828؁ء) مطابق سنہ بارہ سو چوالیس ہجری کے حیدرآباد وطن خاص اپنے کو چھوڑ کر عظیم آباد،  ڈھاکہ، مچھلی بندر، مندراج، گورکھپور، نیپال، اکبر آباد، شاہجہاں آباد وغیرہ دیکھتا ہوا بیت السلطنت لکھنؤ میں پہنچا۔ یہاں بہ مددگاری نصیبے اور یاوری کپتان ممتاز خاں مینکنس صاحب بہادر کی ملازمت نصیر الدین حیدر بادشاہ سے عزت پانے والا ہوا۔ شاہ سلیمان جاہ نے ایسی عنایت اور خاوندی میرے حالِ پُراختلال پر مبذول فرمائی کہ ہرگز نہیں تابِ بیان اور یارائے گویائی۔ رسالۂ خاص سلیمانی میں عہدہ جماعہ داری کا دیا۔ بعد چند روز کے صوبہ داری اسی رسالے کی دے  کر درماہہ بڑھایا۔ بندہ چین سے زندگی بسر کرتا اور شکرانہ منعمِ حقیقی کا بجا لاتا۔ ناگہاں شوق تحصیلِ علمِ انگریزی کا دامن گیر ہوا۔ بہت محنت کرکے تھوڑے دنوں میں اسے حاصل کیا۔ بعد اس کے بیشتر کتابون تواریخ کی سیر کرتا، دیکھنے حال شہروں اور راہ و رسم ملکوں سے محظوظ ہوتا۔ اک بارگی سنہ اٹھارہ سو چھتیس عیسوی (1836؁ء ) میں دل میرا طلبگارِ سیّاحیٔ جہان خصوص ملکِ انگلستان کا ہوا۔ شاہ سلیمان جاہ سے اظہار کرکے رخصت دوبرس کی مانگی، شاہِ گردوں بارگاہ نے بصد عنایت و انعام اجازت دی، عاجز تسلیمات بجا لایا اور راہی منزلِ مقصود کا ہوا۔ تھوڑے دنوں بعد دار الامارۃ کلکتہ پہنچا، پانچ چھ مہینے  وہاں کی سیر کرتا رہا۔ بعد ازاں جمعرات کے دن تیسویں تاریخ مارچ کے مہینے سنہ اٹھارہ سو سینتیس عیسوی  (1837؁ء) میں جہاز پر سوار ہوکر بیت السلطنت انگلستان کو چلا۔ نام جہاز کا ازابیلہ، کپتان اس کا ڈبیڈ براں صاحب مع اپنی بی بی کے تھا۔ جہاز وزن میں چھ سو ٹن کا کنارے گنگا پر آ لگا تھا۔ یہاں سے دریائے شور پہنچنے تک اس کی اعانت کو دھویں کا جہاز مقرر ہوا۔ تھوڑے دنوں میں اپنے زور سے ہمارے جہاز ازابیلہ کو گنگا سے کھینچ کر سمندر میں لے گیا، وہاں سے جہاز ہمارا چل نکلا۔ دونوں طرف گنگا کے کنارے سبزۂ آبدار لہلہا رہا تھا۔ جابجا مکان صاحبانِ انگریز کا بنا ہوا نادر اور زیبا۔ جہازِ رواں پر عجب سماں تھا، بیان میں نہیں سماتا۔ اس سبزے کو دیکھ کر دل میرا ملول ہوا کہ دیکھیے پھر کبھی یہاں آنا ہو یا نہیں۔ جمعہ کے دن اکتیسویں تاریخ مارچ کے کھجڑے میں پہنچ کر جہاز ٹھہرا۔ جب آدھی رات کا وقت ہوا، طوفان شدید آیا، سبھوں کا دل گھبرایا اور جہاز ڈگمگایا، مگر قدرتِ الٰہی سے زنجیر لنگر کی نہ ٹوٹی۔ روح کسی ذی حیات کی قفسِ بدن سے نہ چھوٹی۔ مصرع:

رسیدہ  بود  بلائے  ولے بخیر گذشت

خداخدا کرکے تیسری اپریل کو جہاز ہمارا دریائے گنگ سے سمندر میں پہنچا۔ ہوا موافق کا بہنا شروع ہوا، کپتان صاحب نے بادبانوں کو کھول دیا، جہاز تیر کی طرح چلا۔ ننکو خدمت گار میرا تیز روی جہاز سے ڈر کر کہنے لگا، کپتان صاحب بادبانوں کو باندھیں نہیں تو جہاز الٹ جاوے گا۔ میں نے کہنا اس کا کچھ نہ سنا، ہراساں ہو کر جہاز میں بیٹھ گیا اور کہتا تھا کہ میں عبث اپنے تئیں یہاں لایا، اگر نہ آتا یہ مصیبتیں کیوں اٹھاتا۔ کپتان صاحب ہم سب لوگوں پر اتنی مہربانی فرماتے تھے کہ تکلیف اور مصائب جہاز کے کچھ نہ ہوکے پاتے۔ ہر طرح کے کھانے، پینے، میوے، دودھ، گوشت، شراب شام پئین وغیرہ موجود تھے۔ عنایت کپتان صاحب سے ابوابِ تکلیف ہر صورت سے مسدود تھے۔ اتوار اور جمعرات کو موافق رسم مقرر انگریزون ہر قسم کے کھانے اور مٹھائی زیادہ پکتے، ہر ایک کے کھانے میں آتے۔ غرض کہ ہر نہج سے آسائش تھی، گھر میں یہ بات میسر نہیں آتی۔

منگل کے دن چوتھی تاریخ ہوا بند تھی، ایک عجیب تماشا اور کیفیت نظر آئی۔ ہزاروں کچھوے لہراتے ہوئے پانی پر پھرتے، کپتان صاحب نے جہازیوں کو حکم دیا کہ کشتی پر سوار ہوکر ان کا شکار کرو۔ جہازیوں نے بموجب حکم ان کے ناؤ پر سوار ہو کر، کانٹون آہنی سے کچھوؤں کو زخمی کیا، بعد اس کے جیسے کوئی جنگل سے نبوا کنڈے چنتا ہے، ان کو پانی سے اٹھا کر کشتی پر رکھا۔ اسی طرح دو تین گھڑی خوب شکار کیا۔ اتنے عرصے میں دو دو من کے چوبیس عدد کچھوؤں کو پکڑا۔ ایک امر عجیب دیکھا کہ ہر ایک کی گردن میں نیچے ایک چھوٹی مچھلی جونک کی طرح چمٹی تھی۔ کپتان صاحب نے ہڈی چمڑے سے گوشت ان کا صاف کروا کر لوگوں کو بانٹ دیا۔ مجھے اس گوشت سے نفرت اور کراہیت آئی، ہر چند کپتان صاحب نے اصرار کیا، پر میں نے نہ کھایا۔ اور لوگوں نے دو تین دن تک کباب اور شوربا اس کا بڑے مزے سے کھایا۔ یہ طرفہ ماجرا تھا کہ جس روز ہوا کا چلنا موقوف ہوتا، غول کچھوؤں کا خوابِ غفلت میں آکر بے باکانہ پانی کے اوپر آتا۔ اُس وقت جس کا جی چاہتا آسانی سے ان کو پکڑ لیتا۔

جہاز رواں تھا، ساتویں تاریخ مئی کے بڑا طوفان آیا۔ پانی ایسے زور سے اچھلتا کہ لب جہاز تک آتا۔ آخر صدمے اس کے سے دونوں کنارے جہاز کے ٹوٹے، گیارہ بھیڑیں اور کئی مرغیاں اور بطخیں اور کتنے اسباب پانی میں ڈوبے۔ سب آدمی اپنی زندگی سے مایوس ہوکر روتے اور خداوند تعالیٰ کی درگاہ میں عجز و نیاز کرتے، نویں تاریخ کچھ کم ہوا۔ کپتان صاحب نے باد بانوں کو کھولا، دسویں تاریخ اس سے زیادہ آیا۔ پھریرا بادبانوں کا شدت ہوا سے ٹکڑے ٹکڑے ہو کر پانی میں گرا اور مستول جہاز کا ٹوٹ گیا۔ ایک میز جہاز میں جڑا تھا، صدمے ہوا سے جڑ سے اکھڑ کر پانی میں ڈوبا۔ جہاز کے دونوں طرف سے پانی آئینہ ساں قریب سر ہمارے کے اچھلتا مگر فضل الٰہی نے ہم کو اس صدمے سے بچایا۔ سب لوگ بہت گھبرائے اور اس سانحہ سے سخت حیران ہوئے کہ اے خدا! سوائے تیرے ہمارا کوئی مددگار نہیں اور ہم میں سے کوئی اپنے بچانے کا مختار نہیں۔ حق تعالی نے اپنی عنایت سے گیارھویں تاریخ اس طوفان کو دور کیا۔ خسروِ خاوری نے تختِ زریں فلک پر جلوۂ نور دکھلایا۔ دھوپ نکلنے سے مَیں ایسا مسرور ہوا کہ بیان اس کے سے زبان معذور۔ جیسے عاشقِ مہجور طالب دیدار معشوق کا ہو، ویسے جہاز والے کمالِ شوق سے دھوپ کو دیکھتے ہرسو۔ آخر بتائید الٰہی جہاز ان بلاؤں سے نجات پاکر روانہ ہوا۔

تیسری تاریخ جون کی ہفتہ کے دن دوپہر کو ایک بوم شوم بلندی ہوا سے جہاز کی طرف جھکا آ کر۔ جس کوٹھری میں ہم سبھوں کا کھانا رکھا تھا، اس کی چھت پر آ بیٹھا۔ کپتان صاحب نے مجھ سے پوچھا یہ کیا نشان ہے۔ میں نے کہا خوب نہیں، ابھی ایک بلا سے نجات پائی ہے ایسا نہ ہو پھر کوئی اور سانحہ پیش آئے، خرابی میں پھنسائے۔

 

جزیرہ کیپ

 

آٹھویں تاریخ جمعرات کو دوپہر کے بعد زمین جزیرۂ کیپ کی نمایاں ہوئی، مگر بسبب ناسازی ہوا کے جہاز کے پہنچنے میں دیرِ بیکراں ہوئی۔ سترھویں تاریخ جہاز ہمارا جزیرۂ سیمن بیہ میں پہنچا۔ عجب شہرِ طراوت افزا تھا کہ ہر طرف اس کے پہاڑ بلند، سبزۂ رنگا رنگ سے سبز رنگ تھے، غیرت دہِ کارنامۂ ارزنگ تھے۔ آب و ہوا  وہاں کی ایسی معتدل اور لطیف تھی کہ ہر لحظہ بدن کو صحت، دل کو راحت آتی۔ ہر چند ابتدا میں اُن پہاڑوں کو دیکھنے سے وحشت ہوئی، مگر فی الواقعی روح نے اس سے تازگی پائی۔ وہ حال خواب و خیال معلوم ہوتا اس لیے کہ ایسا شہر آباد کبھی نہ دیکھا تھا۔ اس شہر کے دیکھنے سے میں ایسا مسرور ہوا کہ کبھی دل سے نہیں بھولتا، اس واسطے کہ متواتر دو تین مہینے سے سوا دریا کے شکلِ زمین نہ دیکھی تھی۔ وہاں پہنچ کر دوستوں کو یاد کرکے شراب پینے لگا۔ تماشائی قدرتِ صانع بیچوں کا ہوا۔ ایک جہاز تہلایہ نام حفاظت کے واسطے مقرر تھا، پچاس ضرب توپ اور سامان لڑائی کا اس پر تھا۔ جہاز جو اُدھر سے جاتے وہ لوگ ان سبھوں کا حال دریافت کرتے، اگر کوئی بیمار ہوتا اس جزیرے میں اُترنے نہ پاتا۔ جب جہاز ہمارا وہاں جا کر پہنچا، ڈاکتر صاحب اور اَور لوگوں نے ہمارے جہاز پر آ کر حال بیماروں اور تندرستوں کا پوچھا۔ افضالِ خداوندی سے کوئی بیمار نہ تھا، ڈاکتر صاحب وغیرہ دیکھ بھال کر اپنے جہاز پر گئے۔

شام کے وقت ہم لوگ ناؤ پر سوار ہوکر سیمن بیہ میں اُتر گئے۔ وہاں کی خوبیاں اور بلندی مکانوں کی اور خوش اخلاقی آدمیوں کی دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ سرائے کلارنس میں شام تک اپنی صحبت اور جلسے میں بیٹھے رہے۔ جب رات ہوئی، جہاز پر جانے کی نیت کی۔ ملاح نے کہا، رات کو ناؤ نہیں کھلتی ہے۔ ہم نے دیکھا کوئی تدبیر بنتی نہیں ہے؛ لاچار دس روپیہ دے کر اس کو راضی کیا تب جاکر مانجھی نے ہم کو ناؤ پر چڑھا کر جہاز تک پہنچایا۔ آدمی وہاں کے سب حسین و جمیل، پرلے سرے کے خوبصورت اور شکیل؛ خواب میں بھی ایسی صورتیں نہ دیکھی تھیں جو بیداری میں نظر آئیں۔

اٹھارھویں تاریخ افسرانِ جہازِ جنگی مجھ کو اپنے جہاز پر سیر دکھانے لے گئے۔ کام مضبوطی اور نفاست جہاز کی دکھائی۔ میں نے تو کبھی ایسا جہازِ جنگی نہ دیکھا تھا۔ کاریگری اور خوبیاں اس کی دیکھ کر حیران ہوا کہ یا اللہ! اس کو آدمیوں نے بنایا ہے یا فرشتوں نے سانچے میں ڈھالا ہے۔ پچاس تو پیں اس پر لگی تھیں اور بیس ضرب اٹھارہ پنی دائیں طرف اور بیس اٹھارہ پنی بائیں طرف۔ پانچ پانچ تینتیس پنی ادھر اُدھر کہ بے سلگانے پلیتے اور مہتاب کے سب چھوٹیں اور آئینہ کی طرح صاف صاف نظر آتیں۔ میگزین شیشے اور باروت کا ایسا مضبوط بنا کہ کبھی اس کو صدمہ آگ یا پانی کا نہ پہنچتا، بمقتضائے احتیاط ایک شیشہ گندا اس کے اوپر کھڑا کیا۔ بجائے خود سدِ آہنی تھا، ہرگز آگ اور پانی کا اس پر اثر اور گزر نہ ہوتا۔ اُس جہاز پر تین سو پچاس آدمی مسلح بیٹھے تھے، ہر وقت مستعد رہتے۔ ایک کنارے سات حبشی پابزنجیر تھے، رنگ ان کا ایسا کالا کہ اُس وقت اندھیرا معلوم ہوتا۔ بال ان کے ایسے پیچ دار کہ پیچ و تابِ زمانہ ان سے شرم سار، اوپر کا ہونٹ ان کا نتھنوں تک پہنچا،  نیچے کا ٹھوڑی تک لٹک آیا۔ میں ان کو دیکھ کر جانور صحرائی سمجھا کہ جہازیوں نے سیر و تماشا کے لیے پالا۔ جب جہاز والوں سے پوچھا، معلوم ہوا کہ حبشی ہیں۔ اسپانیل حبشیوں کو پکڑ لاتے ہیں، لوگوں کے ہاتھ بیچ جاتے ہیں۔ صاحبانِ انگریز نے جہاز جنگی مقرر کیے کہ جب اسپانیل حبشیوں کو پکڑ لاویں، اُن کو مع سب اسباب کے اُن سے چھین لیویں۔ چنانچہ اِن کو ہم نے اُن سے چھین لیا، بہ سبب وحشت کے زنجیر میں قید کیا۔ جب ان کی وحشت کم ہوگی، کچھ آدمیت ان کو آوے گی، چھوڑدیں گے۔ میں دیکھنے عجائبات اور خوش اخلاقی جہاز والوں سے بہت خوش ہوا ور رخصت ہو کر کنارے جزیرۂ کیپ کے آیا۔ تماشا عمارت و آبادی وہاں کا دیکھتا تھا کہ ایک مردِ ضعیف ہمارے پاس آیا، کمال مہربانی اور اخلاق کیا۔ مجھ کو اور بوچڑ صاحب اور ایک اور شخص کو اپنے گھر لے گیا۔ گھر اس کا اگرچہ چھوٹا تھا، مگر بہت خوب بنا تھا۔ ہم سبھوں کی ضیافت چائے اور شراب انگوری وغیرہ کی کی اور دو لڑکیان خوب صورت اپنی کو تکلیف انگریزی باجے بجانے کی دی۔ ان دونوں سے ایک کتخدا اور دوسری کنواری تھی، پر ہر ایک انگریزی باجوں کے بجانے میں کمال رکھتی۔ سننے اس کے سے روح کو راحت حاصل ہوئی، دل کو فرحت آئی۔ دوتین گھڑی بڑی کیفیت سے گزری، آخر اُس بڈھے اور پری رویوں سے ہم نے رخصت لی۔ حال اُس بڈھے کا دریافت کیا، ظاہر ہوا کہ وہ شخص کارِ نجّاری میں یکتا تھا۔ جہازوں کو جوانی میں بناتا، اسی کام میں بہت روپے کمائے اور مکان خوب خوب ہوئے۔ اب بہت دولت و عزت رکھتا ہے، عیش و نشاط سے زمانہ بسر کرتا ہے، اسی سبب سے بادشاہ جان کہلاتا ہے۔

شہر کیپ

 

وہاں سے ہم تینوں آدمیوں نے شریک ہوکر ایک گاڈی چھ گھوڑوں کی ساٹھ روپے کرائے پر ٹھہرائی، اُس پر سوار ہو کر واسطے سیر شہر کیپ کے چلے۔ راہ میں قدرت خدا کی نظر آئی۔ بڑے بڑے پہاڑ ہیں، سبزہ ان پر بے حد و بے شمار، سبزہ رخسارے معشوقوں کا اُس کے سامنے شرمندہ۔ دیکھنے اُس کے سے خاطر شاد، دل زندہ ہوتا۔ درخت پھولوں کے جھونکے ہوا سے ہلتے، دل تماشائیوں کا اپنی طرف کھینچتے۔ دیکھنے روانی نہروں سے آنکھ میں ٹھنڈک آتی، صفائی پانی اس کے کی چشمۂ کوثر سے یاد دلاتی۔ بلبلیں درختوں پر بیٹھی چہچہاتیں، قمریاں سرو کے سایہ میں کوکو کا شور و غل مچاتیں۔ ایسے ایسے طائر وہاں بیٹھے کہ طائرِ دل خود بخود جاپھنسے۔ قلم کو کیا طاقت کہ وصف وہاں کا لکھے، زبان کو کیا مجال کہ خوبیاں اس جا کی بیان کرے۔ صاحبانِ انگریز نے جابجا مکانِ نفیس مع پائیں باغ بنوائے ہیں، روز و شب اس میں آسائش سے رہا کرتے ہیں۔ راہ میں مَیں نے ان لوگوں کو دیکھا کہ کوئی بانسری بجاتا ہے، کوئی شراب پیے ہوئے پانی کی لہروں کی سیر دیکھتا ہے۔ ان باتوں کو دیکھ کر میرا دل لہرایا، کاش کہ کوئی ایسا سبب ہوتا کہ میں بھی ساری عمر آرام سے یہاں رہتا اور زمانے سے سروکار نہ رکھتا مگر کہاں ایسے نصیب کہ ہاتھ آتی یہ دولت عجیب۔ راہ میں مسافر خانے بنے ہوئے تاکہ مسافر کو کوئی تکلیف نہ پہنچے، مچھلی، انڈے، مرغی، شراب سب وہاں موجود اور جو کچھ نہ چاہیے وہاں سے مفقود۔ عجب شہر ہے؛ لڑکوں، کنواروں، خوبصورتوں کو دیکھا کہ اُستاد کے سامنے بڑے امتیاز سے بیٹھے پڑھ رہے ہیں، خُرد و بزرگ سے حسبِ مراتِب ادب سے پیش آتے ہیں۔ میں حیران ہوا کہ ہمارے وطن کے لڑکے اس سِن میں نشست و برخاست کی تمیز نہیں رکھتے ہیں۔ یہ کیا شے ہیں جو اِس صغر سن میں باوجود حسن و جمال کے دانائی میں بڈھوں سے سبقت لے گئے ہیں۔ پریاں کوچہ و بازار میں کھڑیاں، دل عاشقوں کا عوض ایک جھپکی آنکھ کے پُھسلاتیاں۔

آدھی راہ میں ایک مسافر خانہ بہت خوب دیکھا، وہاں جاکر ہم سب بیٹھے راہ کی ماندگی سے سستائے۔ پک صاحب اُس سراکا مالک تھا، بہت اخلاق سے پیش  آیا اور اپنی بی بی سے کہا: ان کے واسطے شراب بیَر اور پنیر اور مچھلی وغیرہ لا۔ وہ بہت ہوشیار اور دانا تھی، ایک کشتی چھوٹی میں سب چیزوں کو خوبی سے جما کر لائی، بہت تکلف سے ہر چیز کھلائی اور شراب پلائی۔ نہایت خوش ہو کر ایک ساعت ہم نے توقف کیا اور پک صاحب کو بطریق انعام کچھ دیا۔ اسی عرصہ میں ایک بھیڑ کا بچہ آیا۔ ہمارے پانو پر مونہہ اپنا رگڑتا اور زبان سے بدن ہمارا چاٹتا۔ جب تھوڑی شراب بیَر اُس کو پلائی، نشے میں آ کر اس نے آرام پائی، کنارے جا بیٹھا۔ معلوم ہوا اسی واسطے مونہہ رگڑتا تھا۔ ہر مسافر کو چاہیے کہ وہاں جا کر شراب بیر پیے اور کیفیت اس کی معلوم کرے۔

وہاں سے روانہ ہوکر قریب شام کیپ میں پہنچ کر جارج کی سرا میں مقام کیا۔ عجب سرا تھی کہ ہمارے شہر میں مکان بادشاہ کا بھی ایسا عالی شان نہیں ہوتا ہے۔ بلکہ وہاں ایسی عمارت کا دیکھنا خواب میں بھی نہیں میسر آتا ہے۔ جھاڑ فانوس اُس کی چھتوں سے لٹکتے، جیسے ستارے آسمان پر چمکتے۔ صحن ایسا وسیع تھا، اگر لشکر اُس میں آتا ایک کونے میں سما جاتا۔ ہم لوگ وہاں جاکر دلجمعی سے بیٹھے، صحبت اور جلسے گرم ہوئے۔ نکلسن صاحب کپتان پلٹن اٹھائیسویں انگریزی کے رخصت لے کر وہاں آئے تھے۔ آدمی ان کا ہمارے پاس پیغام لایا، اگر اجازت ہو ہم تمھاری ملاقات کو آویں۔ ہم نے کہلا بھیجا، ہم لوگ مشتاقِ ملازمت ہیں آپ تشریف لائیں، عنایت فرمائیں۔ رات کو کپتان صاحب آئے اور حرفِ دوستانہ زبان پر لائے۔ بعد صحبتِ نمکین اور کلامِ شیرین کے نوبت شراب کباب کی آئی، کپتان صاحب نے شراب پی کر اور بہت خوش ہوکر خوب نغمہ سرائی کی، مجھ سے ٹوپی بدل کر رشتۂ برادری کو مضبوطی دی۔ ہم سبھوں نے رات خوشی سے بسر کی، جب تھوڑی رات رہی، ہم سوئے۔ کپتان صاحب اپنے مقام پر گئے۔

سوا پہر دن چڑھے آنکھ کھلی، حاضری کھائی۔ بعد اس کے سب مل کر کیپ کی سیر کو چلے۔ وہاں تین قلعے  دیکھے قوم ڈچ کے بنائے ہوئے تھے، دو قلعے بسبب بے مرمتی اور گزرنے مدتِ دراز کے ڈھے گئے، مگر ایک ان میں سے بہت مضبوط اور بلند۔ قریب اُس کے چھاؤنی گوروں کی قابل دیکھنے کے تھی۔ جاتے جاتے بازار میں پہنچے، دیکھا کہ بازار مختصر بہت اچھا تھا۔ دو طرفہ گوشت فربہ دُنبے اور گائے کا لٹکا، کنجڑنیاں دونوں طرف بیٹھی ترکاریاں بیچتیں، خریداروں کو اشارے آنکھ سے اپنی طرف مائل کرتیں۔ دوسری طرف اور بازار میں جاکر دیکھا کہ حبشنیں بدشکل مچھلیاں  بیچ رہی ہیں۔ عجب رنڈیاں، چوتڑ اُن کے پہاڑ سے موٹے، بال پیچ دار، مونہہ کالے؛ پُتلی آنکھ کی اُن کے دیکھنے سے، زبان قلم کی ان کی سیاہی لکھنے سے کالی ہوئی۔ دیکھ کر ان کو میں ڈرا کہ کیوں ان چڑیلوں میں آپھنسا، لاچار وہاں سے بھاگا اور میوزیم میں آیا۔

میوزیم اُس مقام کو کہتے ہیں کہ انگریزوں نے عجائبات وہاں رکھے ہیں۔ چنانچہ ہر طرح کے ہتیار وحشیوں کے اور جنگلی آدمیوں کے رکھے، مردہ جانور روغن ملے ہوئے کھڑے۔ عجب روغن تھا کہ اس کے مَلنے سے جسم جانوروں، مُردوں کا نہ سڑا بلکہ مردہ زندہ معلوم ہوتا ہے۔ ایک کھال، دو چند کھال ہاتی سے، نظر آئی؛ اس کو دیکھ مجھ کو حیرت چھائی۔ حال اس کا وہاں کے اہتمامی سے پوچھا، جواب معقول نہ دے سکا۔ ثابت ہوا کہ وہ خود کیفیت اُس کی نہ جانتا تھا اور لیاقت اہتمام اس مکان کی نہ رکھتا تھا۔ وہاں سے باہر نکل کر مکان گورنر جنرل صاحب بہادر کا بہت خوش قطع بنادیکھا۔ چشمہ پہاڑ سے نیچے اس کے بہتا، سوا اس چشمہ کے وہاں پانی نہ ملتا۔ اس واسطے کہ اُس جزیرہ میں کنواں نہ تھا۔ ہر کوئی پانی اسی کا پیتا، نہایت شیریں اور ہاضمِ طعام تھا۔ رنڈیاں وہاں کی خوبصورت، خوش منظر، زیبا طلعت، رنگت میں نہ بہت گوری نہ کالی؛ اس لیے کہ باپ انگریز اور ماں باہر والی۔ ایک قوم ملائی وہاں مسلمان ہیں، شراب نہیں پیتے ہیں، مزاج میں غصہ بہت رکھتے ہیں۔ عورتیں اُن کی پتے کے لیے ایک کپڑا سر پر لپیٹے رہتی ہیں، عفیفہ اور پارسا معلوم ہوتی ہیں۔ ملائی جس کے نوکر ہوتے ہیں، خوب اطاعت اس کی کرتے ہیں۔ ایک مسجد اپنی عبادت کے لیے بنا کر ایک موذن اس پر مقرر کیا ہے۔ ہر چند کوئی ان میں سے علم دین کا نہیں پڑھا ہے، پر اپنے طریقہ پر استحکام رکھتے ہیں۔ شادی بیاہ سِوا اپنے ہم جنسوں کے کسو سے نہیں کرتے ہیں۔ سوا اُن کے، قومِ حبشی بھی وہاں رہتے ہیں، قمار بازی اور شراب نوشی میں پھنس کر کارِ آقا سے باز رہتے ہیں؛ جب تنخواہ پاتے ہیں امورِ بیجا میں اُڑاتے ہیں، ہرگز آدمیت کا نام و نشان نہیں جانتے ہیں۔ راہیں بازار کی صاف نہیں، گاڈی اور بگھیاں ایک گھوڑے سے چھ گھوڑے تک کرائے پر ہاتھ آتیں۔ مقابل اس جزیرہ کے سمندر ہے، جس کا جی چاہے ناؤ پر سوار ہوکر جہاز اور دریا کی سیر کو جاوے۔ بندہ گھوڑے پر، بوچڑ صاحب گاڈی پر سوار ہوکر چلے جاتے  تھے۔ ناگاہ ایک معشوقہ چودہ برس کی دیکھی۔ ایک دکان میں بیٹھی؛ پری صورت، حور سیرت، چاند اُس کو دیکھ کر شرمائے، سورج اُسی کے فراق میں دن بھر چکر کھائے۔ عجب حسن و جمال بے مثال کہ بیان اس کا امرِ محال۔ گورے گورے گال، ہونٹھ لعل لعل، دانتوں میں چمک، کمر میں لچک، شیریں ادا، دل ربا، ابھری اس کی چھاتیاں، دل عاشقوں کا پُھسلاتیاں، فرد:

برس پندرہ یا کہ چودہ کا سِن
جوانی کا عالم، تماشے کے دن

میں اس کے دیکھتے ہی بے ہوش ہوگیا اور نشۂ بادۂ وصال اس کے سے مدہوش ہوا، پھر اپنے تئیں سنبھالا اور کنسٹانسیا یعنی انگورستان میں گیا۔ وہاں شراب عمدہ کھینچی جاتی ہے، ہر کسی کی طبیعت اس کے دیکھنے کو للچاتی ہے۔ وہاں کے مالک نے بہت اخلاق سے ملاقات کی اور شراب انگوری ہم کو پلائی۔ عجب ذائقہ کی تھی کہ کبھی دل سے نہیں بھولتی۔ ایک شخص قوم ملائی سے میرا نوکر تھا، اس نے مجھ سے کہا: تم مذہب مسلمانی رکھتے ہو شراب کیوں پیتے ہو؟ میں نے جواب دیا کہ حضرت پیغمبر ﷺ نے شیرۂ انگور کو منع نہیں کیا۔ اس بات سے صاحب خانہ خوش ہوکر ہنسا۔ جس جگہ اپنے معشوق کے ساتھ شراب پیتا تھا، لے گیا۔ عجب جگہ کہ ایک پیپل کے سے درخت پر لکڑیوں کی پاڑھ باندھ کر گھاس پھوس کا مکان بنایا تھا، نیچے اُس کے ہر چہار طرف چشمہ بہتا۔ آب و ہوا وہاں کی دل کو بھائی، تھوڑی دیر بیٹھ کر شراب پی۔ بوچڑ صاحب نے ایک پیپا شراب خرید کی۔

پھر اُس سے رخصت ہو کر سرائے  جارج میں آئے، راہ میں ایک  گاڈی دیکھی۔ اٹھارہ بیل سیاہ رنگ اُس کو کھینچتے، ایک شخص اکیلا اُن سب کو ہانکتا؛ میں اُس کو دیکھ کر متحیر ہوا۔ کپتان براؤن صاحب بھی کسی کام کو آئے تھے، راہ میں ملے، ہم وہ باہم چلے۔ پک صاحب کی سرا میں آ کر ٹھہرے، وہاں سے ایک گاڈی کرایہ کرکے کپتان صاحب کے ساتھ اُس پر سوار ہو کر سیمن بیہ کو راہی ہوئے۔ راہ میں ایک گانو دیکھا، وہاں کے لوگوں نے اویل پر مدارِ معاش ٹھہرایا۔ اویل ایک مچھلی کا نام ہے، ہاتی سے چار چند اُس کا اندام ہے۔ وہ لوگ اس کو پکڑتے ہیں، ہڈی اور چربی اس کی بیچتے ہیں۔ چنانچہ وہاں کے سب مکان اس کی استخواں سے پٹے تھے بلکہ دروازے اور شہتیر اُسی کے بنے تھے۔ ایک ہڈی میں نے دیکھی بیس ہاتھ لنبی تھی، یہ سیر و تماشے دیکھتے سیمن بیہ میں پہنچے۔

تیئیسویں تاریخ جون کے، جہاز پر سوار ہوکر لندن چلے۔ جابجا پہاڑ دریائی پانی میں چھپے تھے، جہاز ان کے ٹکڑ سے ٹوٹتے۔ اس خیال سے باوصف ناموافقت ہوا اور برسنے مینہ کے کپتان صاحب نے ٹھہرانا جہاز کا مناسب نہ جان کر بڑی اُستادی سے جہاز ہانکا۔ بسبب رطوبت مینہ اور مخالفت ہوا کے کپتان صاحب کو استسقا ہوگیا۔

گیارھویں تاریخ جولائی کے جہاز ہمارا قریب اس پہاڑ کے پہنچا کہ قبر بونے پاٹ کی اس پر تھی؛ ہر چہار طرف اس کے سمندر۔ جہاز بسبب مخالفت ہوا کے وہاں رکا۔ مجھے بونے پاٹ کی قبر دیکھنے کا بڑا شوق تھا، باوجود ان موانع کے کپتان صاحب نے جہاز میں لنگر نہ ڈالا، آگے بڑھایا۔ اس سبب سے پہاڑ کے اوپر جانے کا اتفاق نہ ہوا، مگر جہاز سے صاف نظر آتا۔

جاتے جاتے سترھویں تاریخ اسنشن پہاڑ پر پہنچے۔ تین راتیں برابر عجب حالات دیکھے، پانی سمندر کا چمکنا نظر آتا۔ میں حیران تھا کہ اس کا سبب کیا کہ پانی آگ سا چمک رہا ہے۔ طرفہ اس پر یہ ہوا کہ ایک شعلۂ جوّالہ آدھی رات کو جہاز کے مستول کے اوپر سے گرا۔ کپتان صاحب سے حال چمکنے  پانی کا پوچھا، انھوں نے جواب دیا کہ ایک قسم کے کیڑے ہیں، جب وہ پانی کے اوپر آتے ہیں پانی کا یہ حال ہوتا ہے کہ شعلہ ساں چمکتا ہے۔ میرے یقین کے لیے ایک برتن میں پانی بھرلیا، میں نے دوربین سے بغور اس میں دیکھا، ننھے ننھے کیڑے نظر آئے، ووہی باعث چمک پانی کے تھے۔ یہ حال دیکھتے بھالتے مصیبتوں سے بچتے بچاتے اکتیسویں تاریخ اگست کی 1827؁عیسوی میں قریب ولایت انگلستان کے پہنچے، ولایت لندن وہاں سے ڈیڑھ سو کوس باقی رہا۔ بندہ شکر خدا کا بجالایا اور کپتان صاحب سے کہہ کر ایک ناؤ سواری کے لیے بلوائی۔ اس میں دو ملاح اور ایک کپتان تھا، کشتی تو چھوٹی تھی مگر بہت مضبوط اور خوب بنی۔ باورچی خانہ آہنی اس میں خوش اسلوب، نہایت مرغوب۔ جب وہ ہمارے پاس آئی، چالیس روپے کرائے پر ٹھہرائی۔ کپتان صاحب سے رخصت ہوکر جہاز ازابیلہ سے اترے، بوچڑ صاحب کے ساتھ اس ناؤ پر سوار ہوکر چلے۔ آب و ہوا وہاں کی دل کو بھائی، روح کو اس سے تازگی آئی۔

 

لندن

 

شام کے وقت ایک گانو میں پہنچ کر سیر کی، ایک مکان دیکھا کہ اس میں بہت مرد اور رنڈیاں جمع ہیں۔ دیکھتے ہی انھوں نے مجھ کو گھیر لیا اور تُرک تُرک کہہ کر پکارا۔ شراب سیب کی وہاں بنتی تھی، مجھ کو لا کر پلائی۔ تھوڑی سی پی، بعینہ مزا تاڑی کا پایا۔ کچھ انعام دے کر رخصت ہوا۔ آگے بڑھا ایک پہاڑ دیکھا۔ لوہے کی کان اس میں تھی، خوب سیر کی۔ پھر ایک چھوٹی ناؤ پر سوار ہوکر دریائی ڈاک منٹ کی سیر کو چلا۔ عجب دریا تھا کہ دونوں طرف اس کے پہاڑ تھے۔ اس پر مکان نفیس بنے ہوئے، پریاں ناؤ پر سوار اپنے عاشقوں کے ساتھ شراب پیتیں۔ چڑیان خوش الحان کنارے پر بولتیں۔ پھول ہر قسم کے پھولے، دیکھنے ان کے سے غمِ دل بھولے۔ جس کے پاس روپیہ ہووے، وہاں جاکر عیش و نشاط سے بسر کرے کہ اس سے بہتر کوئی مقام نہیں۔ بیت:

اگر   فردوس   بر   روئے    زمیں  است
ہمیں ست و ہمیں ست و ہمیں ست

جدھر آنکھیں اٹھائیں، پریاں نظر آئیں۔ افسوس میں بادشاہ ہند کا نہ ہوا، نہیں تو ہر ایک پری کو ایک ملک بخش دیتا۔ دنیا مقام عجب ہے کہ مفلس کو کوئی نہیں پوچھتا ہے، ہر شخص روپیہ ڈھونڈتا ہے۔

سیر کرتے ہوئے ایک شہر میں پہنچا۔ وہاں ناؤ سے اتر کر سرا میں گیا۔ کیا اچھی سرا تھی کہ زبان اس کی توصیف سے عاجز ہوئی، ہر طرف شیشہ آلات اور آئینہ تصویر کے لٹکے، اوپر کمرے میں کرسیاں اور میز رکھے۔ سب کے سب صفائی سے آئینہ کی طرح چمکتے، فرش فروش زرینہ ہر مکان میں بچھے۔ مالک اس سرا کا ایک انگریز بہت خوب آدمی تھا۔ محبت اور اخلاق سے اس سرا کی عمارت اور ہر مکان مہربانی کرکے دکھلایا۔ مجھ کو ہرگز یقین نہ ہوتا کہ یہ سرا ہے بلکہ جانتا یہ شخص ہنسی کرتا ہے۔ پہر رات تک جلسہ گرم رہا، بعد اس کے ہر ایک اپنی جگہ پر جا کر سویا، بندہ بھی ایک مکان میں جاکر بچھونے پر لیٹا۔ ایسا بچھونا کہ پَروں کا بھرا ہوا، نرمی اور ملائمت اس کی سے حریر اور قاقم شرمایا۔ بندہ رات بھر اس پر چین سے سویا، صبح بیدار ہوا اور گاڈی میل کوچ پر ہمراہ بوچڑ صاحب کے سوار ہو کر آگے چلا۔ گاڈی چار گھوڑوں کی تھی، تین درجے رکھتی؛ خط ڈاک کے اس میں روانہ ہوتے۔ چار چار کوس کے بعد گھوڑے بدلے جاتے، تمام دن رات میں بیس منٹ اس کو ٹھہراتے ہیں۔ سب لوگ اُتنی دیر میں کھانا کھاتے ہیں، ایک سپاہی نگہبانی کے لیے پیچھے رہتا ہے۔ وقت پہنچنے مقام اور روانگی کے ترئی بجاتا ہے، اگر کوئی اس وقت نہ پہنچے گاڈی چل نکلے، وہ وہیں پڑا رہے۔ وہاں کے لوگ گاڈی کے آنے جانے کے وقت جانتے ہیں۔ سراؤں میں ہر طرح کا کھانا تیار رکھتے ہیں تاکہ مسافروں کو بیس منٹ کی بھی کھانے پینے میں دیر نہ ہو۔ گاڈی پر سوار سیر دیکھتا جاتا تھا۔ ہر گانو کو آباد، آدمیوں کو خوش سلیقہ پایا۔ کنواریان خوبصورت اپنی اپنی کھیتیوں میں بیٹھیں اناج کاٹتیں۔ باوجود بے مقدوری کے بڑے بناؤ سنگار سے تھیں بلکہ بول چال و حسن و جمال میں  امیر زادیون ہندوستان سے بہتر معلوم ہوتیں۔ لڑکے پری زاد جابجا جمع ہوکر عقل مندوں کی طرح بیٹھے باتیں کرتے۔ لڑکپن میں وہ دانائی حاصل کی کہ ہندوستان کے بڈھوں میں بھی نہیں ہوتی۔ کھیت غلّوں سے اور میوؤں سے بھرے ہوئے، بالیاں دانوں سے پُر، خوشۂ پروین سے پرے سرے۔ طراوت ان کی سے قطعۂ جنت شرمندہ، دانے ان کے موتیوں سے زیادہ تابندہ۔ دیکھنے اس سرزمین اور کھیتون ارم تزئین سے ایسی خوشی حاصل ہوئی کہ سلطنت ہفت اقلیم کی ہاتھ آئی۔ گائے، بکری، بھیڑ اور بیل ایسے موٹے تازے کہ تھوڑی دور چلنے سے تھک جاتے۔ ہوا ایسی فرحت بخش تھی کہ نیند آنے لگی، مگر میں نے تماشا دیکھنے کے واسطے آنکھ نہ بند کی۔ سب طرح سے مجھ کو گاڈی پر آسائش تھی، مگر آدھی راہ میں ایذا پہنچی؛ اس لیے کہ کوچوان نے ایک عورت بدشکل کو میرے پاس بٹھلایا۔ پہاڑ سے موٹی تھی، صورت اس کی سے نفرت ہوتی، میں نے اپنے تئیں بہت بچایا تو بھی اس کے موٹاپے سے صدمہ پہنچا۔ خدا نے خیر کی کہ وہ آدھی راہ سے اتر گئی۔

جاتے جاتے وہاں پہنچا کہ ایک ستون سنگین بہت اونچا کھڑا تھا، ایک ستون پر کئی ستون رکھے۔ ظاہر میں مصالح وغیرہ سے نہیں جڑے ہیں۔ اس کو دیکھ کر متعجب ہوا کہ بے جڑائی مصالح کے ایک کو دوسرے پر کیوں کر قائم کیا ہے۔ یہ حکمت کس سے سیکھی اور کس نے بنایا ہے۔ آخر دریافت ہوا کہ مذہب اور زمانے انگریزوں سے پہلے ایک قوم تھی کہ وہ اس ستون کے نیچے آکر سورج پوجتی۔ آگے بڑھا، مکان لاڈ بیرن صاحب کا ایک ٹیلے پر دیکھا، خوب مضبوط بنا، کسی طرح کا اس میں نقصان نہیں آیا۔ خلاصہ یہ کہ پہر رات گئے لندن کی سڑک پر پہنچا۔ عجب رستہ دیکھا پتھر کا بنا، بیچ میں جانوروں کی راہ تھی، اس میں آدمیوں کے چلنے کی ہرگز نہ اجازتِ شاہ تھی۔ ادھر اُدھر دو طرفہ چار چار یا تین تین گز راہ آدمیوں کی، اسی سبب سے اُس میں خوب صفائی تھی۔ دو طرفہ شاخون آہنی پر فانوس اور گیس جلتے، چمک اپنی سے ستاروں کو شرماتے۔ دونوں طرف بنے ہوئے مکان نفیس  اور بہتر، جیسے دو صفیں جنگی کھڑی ہوں جم کر، بلندی اور اونچان میں ہر ایک برابر۔ مرد رنڈیوں، راہ چلنے والیوں کا کیا بیان، جیسے جنت میں حوروں کے ساتھ ہوں غلمان۔ خوبی شاہ راہ اور حسن و جمال کی اور کیفیت آب و ہوا اُس شہر کی دیکھ کر جانتا تھا کہ خواب و خیال ہے۔ ورنہ عالم بیداری میں اُن امروں کا دیکھنا خیال محال ہے۔ بعد اس سیر و تماشے کے سرائے بل موت میں پہنچا۔ عجب سرا تھی کہ بہشت اُس پر رشک لے جاتی، سرا نہیں بلکہ قطع گلشن۔ گلِ شمع و فانوس ہر طرف روشن۔ حال عمارت اس کی کا کیا لکھوں، فقط مضبوطی میں کوہِ بے ستون کہوں۔ میں اُسے دیکھ کر گھبرایا کہ خدایا! خانۂ شاہ لندن میں آیا یا راہ بھول کر پرستان میں آنکلا۔ جب وہاں جا کر پہنچا، دیکھا کہ صاحبانِ انگریز جابجا بیٹھے، اپنے اپنے کام میں مشغول تھے۔ کوئی اپنے یار کے ساتھ شراب پیتا، کوئی اچھی آواز سے گاتا، کوئی در و دیوار دیکھتا، کوئی سیر کتابوں کی کرتا۔ ہر جگہ کرسی اور میز شیشہ آلات رکھے، انداز اور سامان وہاں کے سب اچھے۔ مالک سرا سے ہنوز کھانا نہ مانگا تھا کہ جو کچھ دل چاہتا تھا سامنے لایا، اس سے ثابت ہوا کہ وہ دل کا حال جانتا تھا یا فرشتہ اس کو سکھاتا۔ رات آرام سے بسر کی۔ فجر کو سرا کی سیر دیکھی، ایک رقم ایک ہزار تین سو گھوڑے ولایتی قدم باز زرخرید مالکِ سرا کے تھے، میل کوچ اور گاڈی میں کرائے پر چلتے۔ قیاس کیا چاہیے جس شہر کے سرا والوں پاس اتنے گھوڑے ہوئیں، رئیسوں کا سامان کس قدر ہو گا۔

تیسرے دن شہر کی سیر کو گیا۔ جو کچھ دیکھا دل ہی جانتا ہے، زبان پر نہیں آتا۔ کنارے دریا کے جا کر دیکھا، سیکڑوں جہاز وہاں تھے اور ہزاروں ناؤ رواں۔ جہاز دھوئیں کے ادھر اُدھر آتے جاتے، اُس پر سے صاحبانِ انگریز اپنی بی بیوں کے ساتھ دریا کا تماشا دیکھتے۔ کیا ہی عورتیں تھیں حسن و جمال میں پریوں کو شرماتیں۔ ایک اندھیرے تہ خانے کی سیر کی، صاحبِ خانہ نے راہ بتائی۔ دو آدمیوں نے ہاتھ میں مشعل لی، اس میں پیپے شراب کے رکھے تھے۔ اگر شاید کھلتے شراب کے دریا بہتے، جہاز ان میں چلتے۔ اُن پیپوں پر ایساروغن ملا تھا کہ ہرگز ان میں آگ کا اثر نہ ہوتا۔ شراب یہ خواص رکھتی ہے کہ ایک چنگاری سے رال کی طرح بھڑکتی ہے۔ یہ اُن لوگوں کی کاریگری تھی کہ آگ اُس میں اثر نہ کرتی۔ دو گھنٹے اُس میں روشنی مشعل سے پھرے تو بھی اس سرے سے اس سرے تک نہ پہنچے۔ نہ معلوم تہ خانہ کتنا بڑا تھا کہ میں اتنے عرصے میں کنارے نہ پہنچا۔ لاچار ہو کر باہر آیا، دوسری طرف جاکر دیکھا۔ تنباکو کا ڈھیر تھا، بہ خدا اس قدر ڈھیر نہ کبھی آنکھوں سے دیکھا نہ کانوں سے سنا جو تنباکو بابت چوری محصول کے چھن آتی تھی۔ ڈھیر کے ڈھیر جل رہے تھے، اگر اتنی تنباکو ہندوستان میں جلائی جاوے، ہندوستانیوں کے دماغ سے ریزش نادانی کی ہو جائے۔

لندن عجب شہر گلستان ہے، دانائی کی وہاں کان ہے۔ یہ تماشے دیکھ کر سرائے بل موت میں پھر آیا۔ راجڑ صاحب کو ساتھ لے کر مکان کرائے کا تلاش کیا۔ بہت جستجو سے محلہ سمور پلیس میں لمبر تیسرا قریب سینکرک کلیسا کے ایک مکان سو روپے کرائے پر ٹھہرایا، ایک شخص اور کو شریک کرکے اس میں رہا۔ بعد اس کے دکانوں اور بازار کی سیر کرنے گیا۔ ایک رستا دیکھا، پشت ماہی سا بنا تھا اور دونوں طرف زمین کے برابر لوہا لگا اس لیے کہ پہیا گاڈیون دودی کا اونچا نیچا نہ ہو جاوے اور  کنکریوں کا ان میں صدمہ نہ آوے۔ وہاں آٹھ سات گاڈیاں کھڑی تھیں، ایک بڑی گاڈی سب سے آگے، اس میں تین آدمی بیٹھے کوئلے سلگاتے، ہر گاڈی کی زنجیر دوسری گاڈی میں لگی تھی، بڑی گاڈی تک زنجیر بندھی یوں ہی تھی۔ جب سب آدمی ان میں بیٹھ جاتے، بڑی گاڈی کے پیچ کو پھیرتے، فی الفور وہ تیرکی طرح دھویں کے زور سے رواں ہوتی۔ ہر ایک گاڈی زنجیر کے لگاؤ سے اس کے ساتھ چل نکلتی، میں نے ایسا کبھی تماشا نہیں دیکھا، نہایت مشتاق تھا۔ گاڈی بان سے پوچھا، کہاں جاؤ گے۔ اس نے کہا آٹھ کوس پر، میں نے کہا مجھ کو بھی سوار کر۔ اس نے کہا بہتر۔ آخر میں اُس پر سوار ہوا، اس نے گاڈی کا پیچ موڑا، فوراً گاڈی چلی، طبیعت بہلی۔ راہ میں ایک جگہ سر نکال کر دیکھا، قریب تھا کہ تیز روی اس کی سے پگڑی میری گرے، جلدی سے سر اندر کرلیا۔ پاؤ ساعت میں آٹھ کوس جا پہنچا، وہاں سے دھویں کی ناؤ پر سوار ہوکر موضع گرنچ میں سیر کو گیا، شہر دیکھا بہت گلزار اور آباد۔ عمارتیں شاہی اس میں جیسے باغ میں شمشاد۔ گورے جہاز کے جب کارِ سرکاری میں زخمی ہوتے ہیں، انگلس پا کر چین سے زندگی وہاں بسر کرتے ہیں۔ میں نے دیکھا کھانے نفیس میزوں پر چنے ہیں، پیالے شراب بیَر کے بھرے رکھے ہیں۔ گورے بڑے مزے سے کھاتے تھے اور خوشی سے بیٹھے تھے۔ میرے دل میں آئی، صاحبانِ انگریز کی دانائی کہ کیا اچھی عقل رکھتے ہیں، جب سپاہی کچھ اچھا کام کرتے ہیں، ان کو انگلس دیتے ہیں، وہ آرام سے بسر کرتے ہیں۔ مالک جب نوکر کے حال پر اتنی مہربانی کرے، نوکر کس طرح آقا کے کام میں جان کو جان سمجھے۔

آگے بڑھے، ایک اور مکان میں پہنچے کہ وہاں تصویریں جہاز جنگی اور امیرون نامدار فرنگی کی تھیں۔ نشان جنگی لڑائی واٹرلو کا بطریق تحفہ و یادگاری وہاں رکھا، مارے گولیوں کے سوراخ دار تھا۔ اس کے سامنے ایک الماری میں شیشہ تصویر لارڈ نلسن کا اور کُرتے خون بھرے ہوئےاس کے رکھے۔ وہ بھی گولیوں سے چھلنی ہو رہے۔ نمونے جہاز وغیرہ کےاور طرح طرح کی تصویریں رکھیں۔ اس کے مقابل حضرت پالوس  اور حواریوں کی تھیں، آدمیوں سے ایسی تصویریں بننا ممکن نہیں، مگر خداکی قدرت سے بنیں۔ امریکہ سے ایک رئیس وہاں آیا تھا، عوض ان تصویروں کے ڈیڑھ لاکھ روپیہ دیتاتھا، مگر انگریزوں نے نہ مانا اور تصویروں کو نہ دیا۔ ایک جاسات ستون سنگ مرمر کے ایک ڈال ترشے کھڑے تھے۔ نہیں معلوم پتھر کتنے بڑے تھے کہ اُن سے اتنے اتنے بڑے ستون ایک ڈال ترشے۔ یہ سیریں دیکھ کر شام کو اپنے مکان میں پھر آیا۔

صبح کے وقت مکان کی سیر کرنے لگا، باورچی خانہ میں ایک چھوٹا حوض کہ اس کے اوپر نل پیچ دار تھا، بندہ وہاں کی راہ و رسم سے محض نا آشنا تھا۔ باورچی خانہ کو حمام سمجھ کر نہانے لگا اور پیچ نل کا کھول دیا نوکر میرا بدن ملتا۔ تھوڑی دیر میں پانی کمروں میں بھر گیا۔ تعجب کرکے عورت صاحب خانہ مع پیش خدمت اپنی کے دوڑ آئی، مجھ کو نہاتے دیکھ بہت ہنس کر چلی گئی۔ نوکر میرا اور میں بھی حیران ہوا کہ باعث ہنسی کا کیا ہے۔ شاید یہاں رسم نہانے کی نہیں کہ نہاتے دیکھ کر ہنسیں، میں نے نہا دھو کر حاضری منگوائی۔ اُس وقت وہ عورت نوکر صاحب خانہ کی پھر آئی، فقیر نے اس سے پرسش کی کہ مجھے نہاتے دیکھ کر تو اور تیری بی بی کیوں ہنسی، وہ پھر بہت ہنسی۔ میں نے ہَٹ کی، تب اُس نے کہا، جہاں تم نہائے باورچی خانہ ہے نہ غسل خانہ۔ ہم کو تمھاری نادانی پر ہنسی آئی کہ تمھیں باورچی خانہ اور غسل خانہ کی نہیں شناسائی، یہ سن کر میں شرمندہ ہوا اور کچھ جواب نہ بن آیا۔

اتوار کو سیر کرنے چلا، کلیسائے سنٹ پال میں گیا۔ وہ کلیسا ہزار برس کا بنا ہے مگر اب تک ویسا ہی مضبوط اور نیا ہے۔ میں ہندوستان سے اس کے دیکھنے کی آرزو رکھتا تھا۔ وہاں جاکر دیکھا کہ بہت انگریز اور پادری بندگی کے لیے جمع تھے۔ چونکہ میں پگڑی باندھے تھا، اندر کے جانے سے رُکا، مگر ڈرتے ڈرتے آگے بڑھا۔ ان لوگوں کا طرز عبادت دیکھتا، اتنے میں نگہبان اس مکان کا ایک لکڑی ہاتھ میں لیے میرے پاس آیا اور کہا: تو مرد اجنبی غیر قوم کا معلوم ہوتا ہے۔ میں نے کہا بجا ہے۔ وہ بہت مہربانی اور شفقت سے پیش آیا، اونچی جگہ میں جہاں بڑے بڑے امیر نامدار بیٹھے تھے مجھ کو لے جاکر بٹھلایا۔ وہاں سے حال عبادت کا خوب دیکھا۔ ایک آرگن تیس ہاتھ کا بجاتے تھے اور دھیان طرف خدا کے لگاتے۔ اس کی آواز سننے سے میرے دل میں ہیبت سمائی، خدا کی قدرت یاد آئی۔ ایک طرف لڑکے کھڑے ہوئے مرثیہ کی طرح شکریہ خدا کا گاتے، داہنی طرف پادری اپنی جگہ پر کھڑے بندگی بجا لاتے۔ انگریزوں کی رائے جہاں آرائے پر صد آفریں کہ مجھ اجنبی بے پہچان کو برابر اپنے بٹھایا، ہر گز خیال خلاف مذہبی کا نہ فرمایا۔ مسلمانوں کی مسجد اورہندوؤں کے بت خانہ میں سوائے اپنی قوم کے دوسرے کو جانے نہیں دیتے ہیں، مگر صاحبان انگریز با وصف حکومت اور اقتدار کے خیال اس کا نہیں کرتے ہیں۔ پگڑی باندھے گرجے جانا نہایت بے ادبی بطریقہ عیسوی ہے،میں پگڑی باندھے گیا تھا، پر کسو نے نہ کہا تو نے یہ کیا حرکت کی ہے۔ جس قوم میں اتنا حلم و صبر ہووے، حق تعالیٰ اسے کیوں کر نہ سرفراز کرے۔ پہلے ایک نورانی شکل بڈھے پادری نے آکر نماز پڑھی، ضعف و نقاہت اس کی سے صاف آواز میرے کان میں نہ آئی، میں سچ کہتا ہوں خدا کو گواہ کرتا ہوں کہ آواز ارگن اور گانے فقرے شکریہ لڑکوں اور نمازپادریوں سے شوق خدا کا ہر دم زیادہ ہوتا، دل میں آتا کیا اچھا ہوتا اگر سب گناہوں سے توبہ کرکے یہاں بیٹھ رہتا۔ دل میں ایسا ذوق شوق ہوا کہ خیال میں نہیں آتا۔ کلیسا کے اندر کام سونے کا ایسا کیا ہے کہ عقل دریافت کرنے خوبیوں اس کی سے بے سروپا ہے، اگر کوئی برسوں وہاں رہے، ہرگز خوبیاں اس کی دریافت نہ کرسکے۔ میناروں پر بھی پانی سونے کا پھرا ہوا، فرش زمین کا سنگِ مرمر سپید سے بنا ہوا۔ قبریں بادشاہون عالیشان اور پادریوں کی اس میں جا بجا، اس کی چھت پر سے تمام شہر لندن نظرآتا۔ میں نے روضہ تاج بی بی کا دیکھا تھا، جب وہاں پہنچ کر اس کی عمارت کو دیکھا سخت حیران ہوا کہ روضۂ تاج بی بی سے اس کو تشبیہ دوں یا اس کو اُس سے بہتر کہوں؛ خلاصہ یہ کہ ایک دوسرے سے بہتر ہے، وہ اس سے یہ اس سے خوشتر۔ دن بھر سیر اس کی دیکھتا رہا، رات کو اپنے گھر آیا۔ دوسرے دن کالاسم میں گیا،وہ مکان طلسمات کا تھا۔ نیچے کے درجے میں تصویریں پتھر کی تراشی ہوئی استادون کامل کی ہرطرف رکھیں، اس میں ناخنِ پا سے سر تلک پٹھے اور رگیں نظر آتیں، جسم آدمی سے اُن میں فرق ایک بال کا نہ تھا۔ بنانے والوں کو تحسین کہ کیا خوب ان کو بنایا۔ اس کے بعد وہاں کے چوکیدار نے کہا، آؤ تم کو ایک مکان دکھلاؤں کہ کبھی نہ دیکھا ہو۔ میں اُس کے ہمراہ ہوا، ایک چھوٹے مکان میں لے گیا کہ اس کے اندر سِوا چار آدمیوں کے جگہ بیٹھنے کی نہ تھی، میں نے پوچھا یہ مکان کیا خوبی رکھتا ہے نہ اس میں وسعت ہے نہ عمارت اچھی۔ ایک بارگی وہ مکان مانند تخت حضرت سلیمان کے ہوا پر اوڑا، جھٹ پٹ بہت بلند ہوا، اُس پر سے سب آبادی و عمارت، مرد، رنڈیاں، راہ، گلی، بازار، جہاز ناویں سمندر کی، پہاڑ، جنگل، لندن کا آسمان ابر نظر آتا، میں ہرگز  نہیں جانتا کہ یہ طلسم خیال کا ہے۔ بعد دریافت کرنے کے ثابت ہوا کہ وہ سب طلسم خیال کا تھا۔ پھر چوکیدار نے کہا، آؤ اس سے ایک اونچا مکان دکھلاؤں، میں ششدر ہوا کہ اس سے زیادہ اونچا کیا ہوگا، شاید قریب آسمان لے جاوے گا۔ اس کے ساتھ چلا اس جگہ لے گیا کہ پہلے سے کچھ کم تھا، مگر شہر لندن سب معلوم ہوتا۔ اس کو دیکھ کر اس کے ساتھ پھر نیچے گیا، وہاں ایک حوض دیکھا کہ اس سے فوارہ مدوّر جاری تھا، دونوں طرف پھول رنگا رنگ اور سبزہ ہرا۔ آگے بڑھا، ایک پہاڑ اور خندق دیکھا، اس کے پاس جاکر تامل کیا، اُس گڑھی پہاڑ نقلی کو اصلی سے کچھ فرق نہ پایا؛ جا بجا سے پانی جاری، بسبب رطوبت کے اس پر کائی جم گئی۔ اس کے اندر گیا، سمندر لہریں مارتا ہوا دیکھا اور ایک جہاز طوفان میں تباہ ہوا، دوسری طرف پہاڑ تھا کہ پانی اس سے ایک چشمہ میں آتا اورپانی سے وہ چشمہ لبالب تھا۔ اس میں مرغابیاں اور اور جانور اور ایک باز بھی بیٹھا۔ ایک طرف دیکھا میز لگی ہوئی، ان میں کھانے عمدہ چنے ہوئے، شرابیں رنگا رنگ شیشہ کے برتنوں میں رکھی ہوئیں، پریاں قریب میز کے بیٹھی کھاپی رہیں۔ میں ان کے پاس گیا، ایک پری نے پیالہ شراب کا مجھ کو دیا، شکر خدا کا کرکے پیالہ اس کے ہاتھ سے لیا اور دوستون غائب کو یاد کرکے پیا۔ کرسی بونے پاٹ کے بیٹھنے کی وہاں رکھی تھی۔ یہ سب سیریں دیکھ دوسری سمت چلا، وہاں بھی ایک مکان طلسم کا دیکھا کہ استادون کامل نے نقشہ گانو انگریزوں کا بنایا ہے۔ ہرگز ثابت نہ ہوتا کہ یہ طلسم خیال کا ہے۔ جابجا مکان انگریزوں کا بنا ہے، دھواں آتش دانوں سے نکلتا ہے۔ مزدور اور گدھے راہوں میں چلتے نظر آتے، گھاس اور کھیت اور جانور رواں سب دکھائی دیتے۔ ایک مکان میں ایک ایسا شیشہ بنا کر لگایا ہے کہ باوجود بند ہونے مکان کے سب چیزیں اور صورت آدمیون باہر کی دیکھیں، یہ جو کچھ میں نے دیکھا سب کارخانہ طلسمات کا تھا، یہ حالات دیکھ کر شام کو اپنے مکان پر آیا۔

صبحی بیدار ہوکر میوزیم گیا۔ وہ بھی ایک عجب مکان ہے۔ تعریف اس کی نہ یارائے بیان ہے۔ عمارت اس کی میں لاکھوں روپئے صرف ہوئے ہوں گے۔ ہر طرح کے تحفے اور عجائبات وہاں رکھے، بہت مورتیں مصر کی اور ہتیار لڑائی کے، جانور دو پائے، چوپائے قسم قسم کے رکھے ہیں۔ سب چیزیں نادر ہر ایک جا سے بہت تلاش سے لائے ہیں۔ حضرت نوح کے طوفان کے ڈوبے ہوئے مرد اور عورتیں وہاں تھیں۔ اکثر لاشیں مردوں اور رنڈیوں کی جو پتھر کے نیچے پانی میں دبیں اور مدت تک پڑی رہیں، گوشت سارا گل گیا، مگر ہڈیاں ان کی پتھروں میں لگی رہیں اور اسی طرح ڈھانچے گھڑیال اور کتنے اور جانوروں کے یعنی فقط ہڈیاں پتھروں میں لگیں وہاں نظر آئیں۔ اسی طوفان میں ایک درخت دو پتھروں کے بیچ دبا تھا، انگریزوں نے آرے سے اسے چیرا، آدھا درخت نیچے کے پتھر میں لگا رہا ہے اور آدھا اوپر والے میں جما ہوا ہے۔ میں نے ان امروں کو اپنی آنکھ سے دیکھ کر طوفان نوح کا اعتبار کیا اور دل میں یقین لایا۔ بعد اس کے سر ایک جانور کا دیکھا کہ دُگنا ہاتی کے سر سے تھا۔ اگلے زمانے میں وہ جانور نکلتا، اب شاید نہیں پیدا ہوتا۔ اس کو دیکھ کر قدرت خدا کی نظر آئی کہ کیسے کیسے جانور اور صورتیں بنائیں۔ وہ تمام روز اسی سیر میں بسر کیا۔

دوسرے دن سیر کلیسائے منسٹر آبی کو گیا۔ بادشاہی مکانوں کی سیرمیں مشغول ہوا۔ درِ دولتِ شاہی پر ایک شخص مشکیں گھوڑے دو رکابے پر سوار زرہ بکتر پہنے تیار نظر آیا، خود میں اس کے ریچھ کے بال لگے تھے، قد اس کا جون سروِ سہی، موچھیں اس کی کھڑی۔ میں نے بہت سفر کیا، پر ویسا سوار کہیں نہیں دیکھا۔ مقابل درِ دولت کے ایک پائیں باغ تھا کہ باغ ارم اس پر رشک لے جاتا، اس میں حوض پانی کے بھرے ہوئے، جانور اس میں تیرتے۔ ملکہ عالم آرا یعنی کوین وکٹوریا اس روز اس مکان میں آئی تھی، اس لیے مجھ کو اندر ان مکانوں کے رسائی نہ ہوئی، باہر سے خوب تماشا دیکھا اور خوش ہو کر گھر اپنے آیا۔ دل میں کہا ایسی زبان کہاں سے لاؤں کہ خوبیاں یہاں کی بیان کروں۔

گیارھویں تاریخ ستمبر کی رات کے وقت باغ بادشاہی کی سیر کرنے گیا، نام اس کا رایل جولاجکل گاڈن تھا۔ وہاں ایک دریا بڑا، اس میں کئی جہاز کا لنگر پڑا ہوا۔ کنارے دریا کے شاہ لندن نے پہاڑ بنوایا کہ پہاڑ اصلی سے ذرا فرق نہ رکھتا۔ نیچے اس پہاڑ کے کئی شہر آباد تھے، بعینہٖ مانند نقشۂ شہرِ یونان کے معلوم ہوتے۔ ایک مکان میں باجے والے بادشاہی نوکر عجیب و غریب باجے بجاتے، سامنے اس کے دوسرے مکان میں گیس اور چراغ اور فانوس بہت روشن تھے۔ اُس میں میز لگی ہوئی اور شیشہ کے برتن اور کھانے عمدہ چنے ہوئے، شرابیں طرح طرح کی شیشہ کے ظروف میں رکھیں؛ پریاں لندن کی وہ کھانے اور شراب بیچتیں، سب کی سب خوبصورت تھیں؛ سوائے اس شہر کے، مقابل ان کا روئے زمین میں نہیں۔ ان میں سے ایک پری چودہ برس کی سراپا غضب تھی، نگاہ اس کی آفت ڈھاتی، تعریف جمال اس کی محال، بالوں اس کے سے عاشقوں کو زندگی وبال، شعر:

زلفیں یوں بکھری ہوئی چہرہ پہ مانگیں تھیں دل
جس طرح ایک کھلونے پہ ہٹیں دو بالک

میں یہ  تماشا دیکھ رہا تھا کہ وقت آدھی رات کا ہوا؛ اک بارگی پہاڑ سے دھویں رنگا رنگ نکلنے لگے، ہر ساعت زیادہ ہوتے جاتے۔ بعد دوچار گھڑی کے ایک آواز گرجنے کی سی آئی، پہاڑ کے نیچے رہنے والوں پر تباہی لائی، وہ سب پریشان و تباہ ہوئے، نام و نشان کو باقی نہ رہے۔ یہی نقشہ تباہی یونان کا ہوا کہ پہاڑ سے گندھک نکل کر آدمیوں پر گری اور ہلاک کیا، میں یہ طلسم دیکھ کر اپنے گھر آیا۔

صبح کو راجڑ صاحب اور ایک شخص اور کی صلاح سے نقل گھر گیا، اس مکان کو انگریزی میں اسلس ٹیاٹر کہتے ہیں۔ اس مکان میں تین درجے تھے، سب سے اوپر کمینے اور کم ظرف بیٹھے تماشا دیکھتے، درجہ اوسط میں صاحبانِ والا شان مع اپنی بیبیوں کے رونق افروز تھے، نیچے کے درجے میں غریب اور مفلس جی بہلاتے۔ مکانات خوب نفیس اور مضبوط بنے تھے، ہم ہر آدمی پیچھے دو دو روپئے دے کر بیچ کے درجے میں بیٹھے۔ نقالوں نے پہلے نقل لڑائی مظفر شاہزادہ قزلباش اور ترکمانوں کی بیان کی۔ ایک چادر اٹھادی، سبھوں کی نظرمیں دریا جہاز جنگل آیا اور معلوم ہوا کہ مظفر شاہزادہ بھاگا، ترکمانوں نے اس کا تعاقب کرکے پکڑا، ایک گھوڑے ننگی پیٹھ پر چت لٹاکر رسیوں سے باندھا اور گھوڑا ہانک دیا، گھوڑے نے اپنے تئیں دوڑا کر دریا میں ڈالا۔ ایک باز اُوپر سے حملہ کرتا اور ایک بھیڑیا پیچھے اس کے پڑا، مگر گھوڑا گرتے گرتے دریا سے پار ہوا اور قریب ہلاکت پہنچا۔ اسی عرصہ میں معشوقہ شاہزادہ کی ایک لوٹا تانبے کاہاتھ میں لیے ہوئے پہاڑ سے نکلی اور اپنے عاشق کے اچھے ہونے کے لیے خدا کی درگاہ میں رو رو کر دعا کی۔ شہزادہ کو گھوڑے کی پیٹھ سے کھول کر شیر کے چمڑے پر بٹھلایا اور لوٹے میں پانی لا کر زخموں کو دھو دھا کر صاف کیا۔ بعد دو گھڑی کے باپ شاہزادے کا آ کر اپنے بیٹے کو نظرِ عنایت سے دیکھ رہا تھا کہ ترکمان بھی آ پہنچا؛ ان دونوں شخصوں میں نوبت ڈھال تلوار کی آئی۔ شاہزادہ بھی اٹھ کر ہوا مستعدِ جنگ آرائی، فی الفور دونوں طرف سے سپاہ آئی۔ آخر فوجِ قزلباش نے ترکمان پر فتح پائی، فوج ترکمانی نے بھاگنے کی راہ لی؛ شاہزادہ بڑے جلوس اور دھوم سے شادیانے فتح کے بجاتے ہوئے اپنے گھر آیا۔ جب یہاں تک نوبت نقل کی پہنچی پردہ گرایا اور پھر اٹھایا، اس میں سے ڈکرو نکلا۔ وہ بڑا نقال پوشاک عربی پہنے ہوئے تھا، ایک میدان مدور دو ہاتھ کے نیچے میں آ کر ٹھہرا، سامنے اس کے ایک گھوڑا ابلق اسی میدان میں آیا۔ ڈکرو جدھر اشارہ کرتا گھوڑا اُدھر پھرتا، اسی عرصہ میں ڈکرو نے ایک پتھر دو گز کا طول میں اس میدان میں ڈالا، گھوڑے نے دونوں پانو اگلے اپنے کو اس پر جمایا، تصویر سان بے حس و حرکت ہوا، پھر ڈکرو کے اشارے سے پانو پتھر سے اتار کرناچنے لگا۔ بعد اس کے نو آدمیوں نے حلقے لکڑیوں کے گھوڑے کے قد برابر لیے اور گھوڑے کے گرد کھڑے ہوئے؛ جب ڈکرو اشارہ کرتا، گھوڑا ہوا کی طرح ہر حلقہ سے نکل جاتا، بلکہ ایسی تیزیاں کرتا کہ ہوا کو بھی اس پر رشک آتا۔  بعد ازاں لوگ نو لکڑیاں بڑی بمفاصلہ جسم گھوڑے کے لے کر کھڑے ہوئے، گھوڑا ہر لکڑی سے اُچک کر اس سرے سے اُس سرے پہنچتا، اسی طرح اُدھر سے ادھر آتا۔ بعد ان حرکتوں کے تماشائیوں کے سامنے گھٹنا زمین پر  ٹیکا اور سرجھکاکر سلام کیا۔ کیا اچھا گھوڑا تھا، مرتبہ شناسی میں آدمی سے زیادہ ہوش رکھتا۔ ڈکرو اس پر سوار ہوکے چلاگیا؛ تھوڑی دیر کے بعد بہت روشنی ہوئی، ڈکرو آیا۔ اس کے پیچھے ایک گھوڑا سبزہ اسی گول میدان میں موجود ہوا، ڈکرو اس کی ننگی پیٹھ پر سوار ہوکر اسی میدان میں کاوا دیتا اور نیزہ کو بہت چستی سے ہلاتا؛ کبھی گھوڑے کی پیٹھ پر آتا کبھی گردن پر جاتا، کبھی پانو میں چمٹتا، کبھی وہاں سے ہٹتا، گھوڑا ویسا ہی رواں تھا۔ غرضکہ ڈکرو نے ایسی چالاکی دکھائی کہ دیکھنے والوں کو حیرت آئی۔ بعد اس کے آٹھ گولیاں پیتل کی نکالیں، گھوڑا دوڑتا جاتا، وہ ان گولیوں کو اچھال کر ہاتھ میں روکتا، یہاں تک کہ بارہ گولیوں کی نوبت آئی، زمین میں ایک بھی نہ گرنے پائی؛ اسی تیز روی میں ایک رکابی تانبے کی لکڑی کا دستہ لگی ہوئی نکالی، گولیاں اچھال کر اس رکابی میں روکتا اور وہ رکابی کی لکڑی ہاتھ میں پکڑے تھا۔ کبھی گھوڑے کی پیٹھ پر کھڑا ہوجاتا، کبھی دُم کے پاس کھڑا ہوکر یہ کمال دکھاتا؛ اسی حال میں چھت سے ایک رسی لٹکا کر اپنے پانو کو اس  میں باندھا اور اوندھا لٹک گیا۔ گھوڑا ویسا ہی دوڑتا تھا، اکبارگی قلابازی کھا کر رسی کو اپنے پانو سے کھولا اور گھوڑے پر آ بیٹھا۔ بعد اس کے ایک پلٹن آئی، کپتان اس کا مجنوں کی طرح دبلا اور ناتواں، سپاہی سب بے ساماں، کسی کے پاس بندوق نہ تھی، کسی پاس تھی پر چانپ سے خالی، کسو پاس کپی باروت کی نہیں، کوئی کہیں کوئی کہیں۔ ان سپاہیوں کو دیکھ مجھ کو فوج شاہِ اودھ کی یاد آئی۔ اتنے میں خدمت گاروں نے مسخروں کی طرح آ کر کرسی اور میز لگایا، اس پر شراب اور کھانا ہر قسم کا چنا؛ کپتان نے کرسی پر بیٹھ کر شراب پی اور کھانا کھایا، سپاہیوں کو اپنے برابر بٹھلایا، جب خوب نشہ میں چور ہوا سائیس سے گھوڑا منگواکر سوار ہو بیٹھا، اسی میدان مدور میں گھوڑا پھرایا۔ بندوق کی قواعد ایسی کی کہ میں نے کسی انگریز یا ہندوستانی سے نہیں دیکھی۔ اگرچہ کپتان عمر میں دس برس کا نہایت نزار و لاغر تھا، مگر ایسے ایسے کمال دکھائے کہ عقل میں نہ آئے۔ گھوڑے کی تیز روی سے ثابت ہوتا کہ یہ لڑکا اس پر گر پڑے گا، مگر گھوڑا بے تحاشا ویسا ہی دوڑاتا جاتا، نہایت مدہوشی میں کمیس پتلون بدن سے اتارا،فقط ایک باریک کپڑا ریشمی کمیس کے نیچے کا پہنے رہا، ایک پانو اٹھاکر انگلیاں اس کی دانتوں سے کاٹتا۔ سب تماشائیوں نے اس کی تیزی دیکھ کر بہت تعریف کی اور ٹوپی ہر ایک نے سر سے اتاری۔ میں بھی حیران ہوا کہ اس نے کیا کام کیا، شاید دیو کا بچہ ہے جو ایسے کام کرتا ہے، ورنہ آدمی کو کیا مجال جو دکھلاوے ایسے کرتب اور کمال۔ خلاصہ یہ کہ وہ قواعد کرکے غائب ہوا، ڈکرو پھر آیا، تین گھوڑے بے زین باگ دار ساتھ لایا۔ اس کے اشارہ سے وہ گھوڑے اسی گول میدان میں گئے اور برابر کاوا پھرنے لگے۔ ڈکرو نے کود کر ایک پانو ایک گھوڑے پر رکھا، دوسرے گھوڑے پر دوسرا پانو جمایا، تیسرے کو درمیان لے کر آپ کھڑا ہوکر خوب دوڑاتا۔ تین گھوڑے اور آئے، ان کو بھی آگے کرلیا اور باگ ہاتھ میں لے کر برابر دوڑایا۔ بعد ایک لحظہ کے تین گھوڑے اور موجود ہوئے، ان کو بھی ویسا ہی چھ گھوڑوں پہلے کے آگے کرلیا، سب کی باگیں پکڑ کر برابر دوڑانے لگا۔ کیا کمال رکھتا تھا کہ نو گھوڑوں کو برابر بے کم و بیش دوڑاتا۔ یہ تماشے دیکھ کر میں اپنے گھر آیا۔

جمعرات کے دن اکیسویں تاریخ ستمبر کی، بوچڑ صاحب کے مکان پر گیا۔ سیر کو طبیعت چاہی، ایک گاڈی بگھی کوچ ٹھہرائی، دو گھوڑے اس کو کھینچتے ہیں، آٹھ آدمی فراغت سے بیٹھتے ہیں۔ بوچڑ صاحب اور ان کے بھائی ولیم صاحب اور ڈک صاحب اور ہم اس پر سوار ہوئے اور ٹوارف لندن پرانے قلعہ میں گئے۔ وہ قلعہ دو تین ہزار برس کا بنا ہے، انگریزوں کے مذہب اور زمانے سے پہلے کا ہے۔ عمارت اس کی ہندوستان کے مکانوں کے مانند تھی، مضبوطی میں کوہ آہنی سے زیادتی رکھتی۔ وہاں دو لاکھ ہتیار جنگی تیار،جیسے بندوق اور پستول اور تلوار، ایسی نفاست سے دیواروں پر رکھے کہ طرح طرح کے پھول معلوم ہوتے۔ صفائی میں آئینہ کے مثل آبدار، در و دیوار ان کے سبب سے گلزار۔ ایک توپ اژدھائی باریک کام کی کہ بونے پاٹ کو روم سے ہاتھ آئی، ایک طرف رکھی تھی۔ سر جہاز جنگی لاڈنلسن کا اب تلک وہاں رکھا ہے، لڑائی میں گولی توپ کی جو اس میں لگی تھی ویسی ہی ان میں جمی تھی۔ کاٹ کے گھوڑے اگلے زمانے کے موافق اوستادوں کے ہاتھ کے بنائے ہوئے ایک طرف کھڑے، ان پر پتلے سرداروں کے زرہ پہنے زندہ گھوڑے پر چڑھے معلوم ہوتے، اپنی اصل سے ذرا بھی فرق نہ رکھتے تھے۔ ہرگز نہ ثابت ہوتا کہ یہ کاٹ کے گھوڑے ہیں اور امیروں کے پتلے۔ ایک جانب شبیہ ملکہ وکٹوریا کی، گھوڑے پر سوار تھی۔ تاج جواہر نگار سر پر رکھے، موتیوں کا مالا بیش قیمت گلے میں ڈالے؛ ایک نوکر بھی اس کے پاس کھڑا ہوا۔ میں نے اس شبیہ کو ملکہ اصل جانا، شبیہ نہ سمجھا، جو کوئی دیکھے بے شبہ اس کو زندہ جانے۔ اس قلعہ میں ہتیار لڑائی کے ہر قسم کے موجود ہیں۔ بندوق توڑے دار، گرز، تبر، ڈھال، تلوار اور ہزاروں طرح کے ہتیار بے حد و شمار۔ ہر نوع کا ہتیار انگریزی وضع قدیم کا رکھا، بسبب گذرنے بہت دنوں کے لوہا پتلا پڑگیا تھا۔ وہ تبر بھی تھا کہ شاہ لندن کے بیٹے کا سر اس سے کاٹا گیا۔ چلتہ اور زین شاہ ٹیپو کا بھی یادگاری کے لیے رکھا تھا۔ وہاں کا نگہبان مردِ سلیقہ شعار نظر آیا کہ حال وہاں کی ہر چیز کا بخوبی بیان کیا۔ اس کے کرتہ پر تغمہ بادشاہی تھا، بہت مہربانی سے میرے ساتھ چلتا پھرتا؛ ایک مکان میں لے گیا کہ وہاں زیور نقرئی اور طلائی جڑاؤ و موتی یاقوت اور ہر جواہر کا تھا۔ اظہار خوبیوں اس مکان کا بیان سے کب امکان ہے۔ وہاں سے پھر کر بوچڑ صاحب کے مکان پر کھانا کھایا۔ شام کو سیر کرنے وہاں گیا کہ میز، انٹی کھیلنے کی بہت ستھرائی سے رکھی اور کتنے انگریز شطرنج اور انٹہ بازی میں مشغول تھے۔ حال مفصل اس کا یوں ہے کہ ایک میز کے گرد کتنے لوگ بیٹھتے تھے اور ہاتی دانت کی گولیون رنگ برنگ کو میز پر ایک لکڑی سے ڈھلکاتے۔ اس میں کچھ حساب رکھا تھا کہ اسی سے ہارتے جیتتے۔ میں وہاں جاکر تھوڑی دیر ٹھہرا، کھیل ان کا دل کو نہ بھایا، نا چار باہر آیا اور ان کی بربادیٔ اوقات پر تاسف کیا کہ کیسے بے عقل لوگ ہیں کہ اپنے اوقاتِ عزیز بیجا کاموں میں برباد کردیتے ہیں۔

جمعہ کے دن بائیسویں تاریخ ستمبر کی، میں ایک صاحب کے ساتھ بک سال گاڈن کی سیر کرنے گیا۔ یہ نام ایک باغ کا ہے کہ بہت خوب تھا اور رنگینی اپنی سے باغ ارم کو شرمندہ کرتا۔ وہ مقام طلسمات کا تھا کہ کہیں پانی اوپر سے نیچے آتا اور کہیں ویرانہ تھاکہ اس سے  وحشت ہوتی، طبیعت  گھبراتی۔ مکانوں کے اندر میزوں پر شیشہ آلات چنے ہوئے، بہت لوگ مع بی بیوں کے خوشی سے بیٹھے۔ آواز ارگن کی ہر طرف سے آتی، مردہ دلوں کو جوش میں لاتی۔ کہیں صاحب لوگ پریوں ساتھ ناچتے گاتے، غرض سب سامان خوشی کے نظر آتے۔ میں اس باغ کو دیکھنے اور گانے ناچنے اور آواز ارگن کی سننے سے بہت محظوظ ہوا اور دوسری طرف چلا۔ دیکھا کہ ایک غبارا ہے، اس میں بہت ڈوریاں لگیں اور دوسو گوروں نے اپنے ہاتھ میں وہ ڈوریاں پکڑیں۔ اس میں دھویں بھرنے کے لیے گیس جلایا، اس لیے کہ بغیر دھویں بھرنے کے غبارا اڑ نہ سکتا۔ نیچے اس کے ایک ٹکڑا تانبے کا لگاہوا، اس پر ایک پلنگ چھوٹا سا بچھا ہوا، اس میں بارہ آدمیوں کے بیٹھنے کی جگہ تھی۔ نیچے اس کے ایک ناؤ مع سامان دریائی کے لگی کہ شاید غبارا اڑ کر دریا میں گرے، ناؤ کے سبب سے ڈوبنے نہ پاوے۔ چار آدمی اس میں بیٹھے تھے، ایک شخص ہاتھ میں جھنڈی لیے۔ جب غبارا دھویں سے بھرا، صاحب غبارے نے گوروں کو حکم دیا کہ ڈوریوں کو چھوڑ دو، پھٹک کھڑے ہو۔ گوروں نے ڈوریوں کو چھوڑا، غبارہ بلند ہونے لگا۔ جب دو چار نیزوں پر آیا، اس شخص نے جھنڈی کو ہلایا۔ سب لوگوں نے بہت تعریف کی، ٹوپی سر سےاتاری۔ آخر وہ ایسا بلند ہوا کہ انڈے سا سوجھائی دیتا، پھر نہ ثابت ہوا کہ کہاں گرا۔ جس کاجی چاہے اس کے مالک کو ایک سوتیس روپے دے اور غبارے میں بیٹھ کر آسمان کی سیر کرے۔

یہ کیفیتیں دیکھ کر اس باغ سے دوسرے مکان میں چلا، وہاں ایسی بھیڑ تھی کہ اندر جانا مشکل ہوا، بڑی محنت سے اس کے اندر گیا۔  ایک میز رکھا ہوا تھا، اس پر بارہ پیالہ شیشہ کے چھوٹے اور ایک پیالہ پانی کا بھرا ہوا۔ صاحب مکان نے پردہ اٹھایا، اکبارگی ایک رنڈی پری زاد نکلی؛ اس کے دیکھنے سے میری آنکھ میں ٹھنڈک آئی، عجب صورت رکھتی کہ چاند کو شرماتی۔ پردہ سے نکل کر اس میز پاس آبیٹھی اور پانی کے پیالہ سے ہاتھ بھگو کر ان بارہ پیالوں کو بجاتی، ان سے ایسی آواز نکلتی کہ دل کو بیتاب کرتی۔ اس کے سننے کے لیے سارا بدن کان ہوگیا اور صورت دیکھنے کے لیے ہر عضو آنکھ بنا۔ بخدا اس آواز کو جنگل میں اگر جانور سنتے، بے خود ہوکر مطیع اور فرماں بردار اس کے ہوجاتے۔ میں حیران تھا کہ یہ رنڈی ہے یا پری جادو کر رہی ہے؛ تھوڑی دیر کے بعد وہ پری پردہ میں گئی۔ دوبارہ پردہ اٹھایا، اندر مکان کے نظر آیا کہ بُت پتھر کے کھڑے ہیں۔ ہر چند اور بھی تماشے وہاں تھے، پر میرا ہمراہی گھبرایا کہ چلو یہاں سے، ناچار اس کے کہنے سے گھر آیا۔

کراہنٹ صاحب مصور نے کلکتہ سے ایک خط اپنی بہنوں کے واسطے لکھ کر دیا تھا، میں تعویذ کی طرح اس کو اپنے ساتھ حفاظت سے رکھتا۔ تیئیسویں تاریخ ستمبر کی اس خط کو ان کی بہنوں پاس لے گیا۔ دونوں بہنیں ان کی بن بیاہی تھیں، میرے ساتھ بہت اخلاق سے پیش آئیں، مہمانداری میں مصروف رہیں۔ میں نے شام تک ان کے ساتھ چائے پی اور کھانا کھایا، ان کی عنایت و اشفاق کا شکر گزار ہوا۔ کیا خوب شہر لندن ہے، لوگ وہاں کے مسافروں پر ایسی عنایت کرتے ہیں کہ باپ بیٹوں کے ساتھ نہیں کر سکتے۔ فقیر نے سفر بہت شہروں کے کیے، مگر صاحب مروت ایسے کہیں نہ پائے۔ انگریز جو ہندوستان میں آتے ہیں مزاج بدل جاتے ہیں، اِن لوگوں کو اُن سے کچھ نسبت نہیں۔ مصر؏:

چہ نسبت خاک رابا عالمِ پاک

مقام تاسف ہے کہ ہندوستان کے لوگ اس شہر جنت نشان میں نہیں پہنچتے ہیں تاکہ اپنی آنکھوں سے ان لوگوں کے اخلاق کا حال دیکھتے اور جانتے۔ شام کو میں ان سے رخصت ہوکر مکان پر آیا، بوقت رخصت کراہنٹ صاحب کی ماں اور دونوں بہنوں نے کہا: تم پرسوں ضرور آنا اور بی بی لکی سے ملاقات کرنا۔ میں نے کہا: بسر و چشم آؤں گا اور ان سے بہرہ یاب ملازمت ہوں گا۔ بموجب وعدہ پچیسویں تاریخ ان کے مکان پر گیا اور ایک گاڈی  کرایہ کرکے ہمراہ دونوں بہنوں کراہنٹ صاحب کے بی بی لگی کے گھر چلا۔ وہاں جاکر دیکھا کہ کھانا پک رہا ہے اور تین بی بیاں اور انگریز بزم آزا، بی بی لکی اور سبھوں سے ملاقات ہوئی، بہت عنایت ہر ایک نے کی۔ بعد کھانے پینے کے باتیں شروع ہوئیں، ایک مصور نے تصوریں اپنے ہاتھ کی دکھائیں، نہایت خوب بنی تھیں۔ بعد اس کے بی بی لکی کی بیٹی آئی اور بین ہاتھ میں لائی۔ جب اس کو بجانے لگی، قدرت خدا کی نظر آئی۔ کیا آواز تھی، اگر دریا پاس بجاتی، پانی بہتا رک جاتا؛ اگر صحرا میں وہ آواز پہنچتی، جانوروں کو راحت آتی؛ نکیسا اگر اس کو سنتا، پردہ میں چھپتا۔ عمر اس کی چودہ برس کی، حسن و جمال میں بے مثل تھی۔ میں اس لیلیٰ وش کو دیکھتے ہی مجنون بن گیا اور ٹکٹکی باندھ کر یہ شعر پڑھنے لگا:

دامان نگہ تنگ و گل حسن تو بسیار
گل چینِ بہارِ تو زداماں گلہ دارد

اگر رتبہ سلطنت مجھ کو حاصل ہوتا، اس کے اوپر سے قربان کر کے غلامی اس کی اختیار کرتا۔ خلاصہ یہ کہ آدھی رات تک اسی کیفیت میں رہا؛ جب اور لوگ رخصت ہونے لگے، میں بھی رخصت ہوکر اپنے مکان پر آیا۔ تمام رات اس ماہرو کو یاد کرکے ستارے گنتا رہا۔

ستائیسویں تاریخ بدھ کے دن بوچڑ صاحب کے مکان میں جا کر سیر دریا  پر طبیعت لہرائی۔ ایک گاڈی کرایہ کی ٹھہرائی، بوچڑ صاحب، ان کے بھائی ولیم صاحب اور ڈک صاحب بخشیٔ فوجِ بادشاہی کو ساتھ لے کر اس گاڈی پر سوار ہو کر کنارے دریا کے گئے، پھر ایک دھویں کے جہاز پر سوار ہوکر دریا کی سیر میں مشغول ہوئے۔ جہاز دودی پہلو بہ پہلو آتے جاتے پر ایک دوسرے سے ٹکر نہ کھاتے، یہ اوستادیاں کپتانوں جہاز کی تھیں۔ میں نے ان کی بہت تعریفیں کیں۔ لندن عجب شہر ہے؛ جدھر دیکھیے کیا دریا، کیا صحرا، کیا شہر ہرجا پر پریاں بیٹھی اختلاط کررہی ہیں، دل عاشقوں کا پھسلاتی ہیں۔ جو کوئی زندگی میں بہشت دیکھا چاہے، اپنے تئیں اس شہر میں پہنچاوے اور مزہ زندگی کا پاوے۔ یہ سیر دیکھ کر کنارے دریا کے پھر آئے اور توپ خانہ بادشاہی کے پاس کہ اس کا نام اولج ہے، اترے۔ چاہا کہ اندر اس کے جا کر تماشا دیکھیں، دربانوں نے منع کیا کہ بے پروانگی گورنر جرنیل کے مرد اجنبی یہاں جا نہیں سکتا؛ یہ سن کر میں مایوس ہوا، مگر رڈک صاحب نے میرے لیے گورنر جرنیل کا حکم پہنچوایا، تب میں اس کے اندر گیا اور دو صاحبوں اور کو ہمراہ لیا۔ وہ وہاں کا حال بتلاتے اور عجائبات دکھلاتے۔ ایک طرف دیکھا توپ بنانے کی کل تھی، لوہا وغیرہ پانی کی طرح پگھلا کر اس میں ڈالتے اور توپیں ڈھالتے۔ وہ اندر سے ٹھوس ہوتیں، گولی باروت کی جگہ نہ رکھتیں، اس لیے ایک اور کل تھی کہ کولہو کے بیل کی طرح گھوڑے اس میں جتے ہوئے گرد گھومتے، توپ کے منھ کو اس کے برابر رکھتے اور بقدر اندازہ کے اندر سے خالی کرتے۔ ایک طرف دوسرا سانچا تھا، اس میں لٹھے لکڑی کے ڈالتے، اوزار جہاز اور اَور چیزوں کے بناتے۔ غرض وہ لوگ ایسی چالاکیاں کرتے کہ دیو اور جنات ان کو دیکھ کر چکراتے۔ ایک جگہ اور نمونے جہاز جنگی اور اشیائے نادر کے رکھے، فرمائش شاہِ مصر سے چودہ توپیں تو بتیس یہی پانچ پینتالیس پنی بنی تھیں، وہ بھی وہاں زمین پر پڑی تھیں۔ سامنے ایک دیوار چوڑی استوار بنی، آزمائش توڑ گولی کے لیے تھی۔ توپوں میں گیارہ گیارہ سیر باروت بھرتے، اس دیوار پر نشانہ مارتے۔ وہاں سے ایک اونچے پر گیا، نیچے دیکھا بیس ہزار توپیں نظر آئیں، چھوٹی بڑی۔ ایک ندی سیاہ رنگ لہریں مارتی معلوم ہوتی۔ توپیں قواعد کی اور جو ہر روز بنتیں ان کے سوا تھیں۔ یہاں سے غور کیا چاہیے، جو لوگ ایسے صاحب عقل اور تدبیر ہوں، ہمیشہ انھیں کاموں میں مشغول رہیں، کیونکر حاکم ہفت اقلیم کے اور عالمگیر نہ ہوں۔ ان سے مقابلہ کرنا گویا جنات سے لڑنا ہے۔ ایک اور مکان میں سب سامان توپ خانہ کا تھا۔ زین، لگام اور ساز چرمینہ گھوڑوں کا باحتیاط رکھا۔ اگر شاید کبھی  ضرورت پیش آئے، بیس ہزار توپ جنگی مع گھوڑوں کے دو گھنٹے میں تیار ہوئے۔ برخلاف ہندوستان کے، وہاں اسباب بے احتیاطی سے ڈال رکھتے ہیں، کیڑے اس کو کھاتے ہیں۔ جب کام لگا کاریگروں کو بلاتے ہیں، شور و غل مچاتے ہیں اور حال یہ کہ اس سے کام کچھ نہیں نکلتا۔ فقیر یہ حال دیکھ کر قواعد کے میدان میں گیا۔ وہاں پچاس ہزار سپاہی پیدل قواعد کررہے تھے، عجیب عجیب چالاکیاں کرتے۔ قریب اس کے ایک بڑی توپ پڑی تھی، صاحبانِ انگریز نے قلعہ بھرت پور سے وہاں لے جا کر بطریق تحفہ رکھی۔ ایک اور مکان تھا کہ اس میں ہتیاروں ہندوستان کا انبار بے پایاں تھا، سوا اس کے ہر قسم کے ہتیار تھے اور نادر تحفے مصر کے کہ بونے پاٹ بعد فتح مصر کے لایا تھا، وہاں رکھے۔ معلوم ہوا کہ کوئی بادشاہوں لندن سے شوق ہتیاروں کا رکھتا تھا، اس نے توپخانہ میں یہ سلاح خانہ بنوایا اور ہتیاروں کو اس میں جمع کیا۔ ایک گاڈی ٹوٹی بھی نظر آئی، اس سے مجھ کو حیرت چھائی کہ جہاں ایسے تحفے رکھے اور ہتیار عمدہ جمع کیے، اس ٹوٹی گاڈی کا کیا کام، اس کا کیا آغاز و انجام۔ حال اس کا وہاں کے نگہبان سے پوچھا، اس نے جواب دیا کہ بونے پاٹ کی لاش کو اسی گاڈی پر رکھ کر لائے تھے اور اس ٹاپو میں کہ چاروں طرف اس کے سمندر ہے دفن کرا ہے۔ مجھ کو اس بات کے سننے سے بہت رنج ہوا کہ زندگی چند روزہ کا کیا بھروسا، بونا پاٹ سا بادشاہ جو دس لاکھ فوج ملازم رکھتا اور سب بادشاہوں پر غالب آیا تھا، آخر کار کس بیکسی سے لاش اس کی گاڈی پر لائے اور اسے جزیرۂ خراب میں سونپ آئے۔ مصر؏:

دنیا ہیچ ست و کار دنیا ہمہ ہیچ

یہ ماجرا دیکھ کر وہاں سے پھرا۔

اٹھائیسویں تاریخ ستمبر کی، جمعرات کے دن ایک گاڈی کرایہ کرکے اس پر سوار ہوا اور کتاب خانہ شاہ لندن میں گیا۔ وہاں کتابوں عربی، فارسی، عبرانی، یونانی، سریانی، انگریزی کا ایسا ڈھیر تھا کہ دور سے بجائے خود ایک پہاڑ معلوم ہوتا۔ پاس اس کے ایک اور مکان، اس میں تصویر ہر عضو انسان کی موم سے بنی ہوئی، عضوِ اصلی سے فرق ایک بال کا بھی نہ رکھتی۔ ہر ایک رگ پٹھا صاف نظر آتا، بسبب برودت کے اس میں کبھی فساد نہ آتا۔ ایک الماری میں شیشہ کی، جسم مردہ کا تھا؛ اس کا بھی رگ پٹھا ظاہر تھا، میں نے حال اس کا مکان دار سے پوچھا، اس نے بیان کیا کہ عرصہ تین ہزار برس کا ہوا کہ یہ مردہ مصر سے آیا اور اسی طرح رکھا ہے، جس کو شوق تحصیل علم ڈاکتری کا ہوتا ہے، یہاں آ کر رگ پٹھے دیکھتا ہے اور پہچانتا ہے۔ وہاں سے پھر کر شام کو بموجب طلب راجڑ صاحب کے مکان میں جا کر چائے پی، وہاں پادری ماٹ مر اور دو تین بی بیاں آئی تھیں، ان سے مجھ سے باتیں ہوئیں۔ پہلے پادری صاحب نے کہاکہ ہم کو ہے مقام بڑے تعجب کا کہ سو برس سے پادری ہندوستان میں جا کر وعظ و نصیحت کرتے ہیں، مگر ہندوستانی لوگ نہیں سمجھتے ہیں اور راہ راست پر نہیں آتے ہیں۔ میں نے جواب دیا وہ لوگ آپ راہِ راست پر ہیں، اگر پادری کے کہنے پر عمل نہ کریں، کیا تعجب کا  مقام ہے۔ انھوں نے کہا: کیوں کر سیدھی راہ پر ہیں، بت پرستی کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ سے غافل ہوتے ہیں۔ میں نے کہا: جیسے کوئی عاشق معشوق تک نہ پہنچ سکتا ہو اور دیکھنا اس کا منظور رکھتا ہو، ناچار وہ تصویر اس کی سامنے رکھتا ہے اور اپنے دل کو اس سے تسلی دیتا ہے۔ اسی طرح ہندو بت کو اپنے سامنے رکھتے ہیں، حقیقتاً اس کو خدا نہیں جانتے، بلکہ خدا کو وحدہٗ لا شریک کہتے ہیں۔ انھوں نے یہ سن کر سکوت کیا، دوسرا کلام فرمایا کہ یہ ہم نے مانا، بیل اور درختوں کے پوجنے کا سبب کیا۔ میں نے کہا جس نے مذہب ہندوؤں کا ایجاد کیا مرد عاقل تھا، ہندوستان میں گرمی بہت ہوتی ہے، مسافروں کو دھوپ سے ایذا ہوتی ہے، راہ میں جہاں کہیں درخت پاتے ہیں اس کے سایہ میں بیٹھتے ہیں۔ اس صورت میں اگر موجد مذہب ان کے کا درخت پرستی کا حکم نہ کرتا لوگ جڑ سے درخت کو کاٹ ڈالتے اور مسافروں اور جانوروں کو بسبب نہ ہونے سایہ کے بہت رنج پہنچتے، بلکہ قریب المرگ ہوتے۔ باوجود اس تاکید کے اب بھی درخت کٹتے ہیں اور لوگ نہیں سمجھتے ہیں؛ اگر یہ اعتقاد نہ ہوتا خدا جانے کیا حال ہوتا اور کوئی درخت باقی نہ رہتا۔ گاؤ پرستی کا حال بھی یوں ہی ہے، اکثر امر ہندوستان کے بیل پر موقوف ہیں جیسے کھیتی اور سینچنا اور گاڈی میں بھی جُتیں۔ پس اگر گاؤ پرستی کا حکم نہ ہوتا، کوئی بیل زندہ نہ بچتا، لوگ ان کو کھاجاتے۔ ان سب باتوں میں ہرج واقع ہوتے، غرض یہ سب باتیں مصلحت کے واسطے ہیں، وحدانیت خدا میں کچھ دخل نہیں رکھتی ہیں۔ اگر کوئی نادان بیل کو خدا جانتا ہے، جادہ پیمائے حماقت کا ہے۔ ہر روز کا نہانا، برتنوں کا مٹی سے دھونا، پکانے کی جگہ چوکا دینا، شراب نہ پینا، گوشت کا نہ کھانا یہ بھی فائدہ سے خالی نہیں۔ اس لیے کہ ہندوستان گرمی کی کان ہے، اگر نہ نہائیں وبا اور مرض میں گرفتار ہوجائیں؛ اگر شراب اور گوشت استعمال کریں، احتراقِ خون میں مبتلا ہوکر ہلاکت کو پہنچیں؛ پس یہ سب امر منفعت کے واسطے ہیں، نہ مذہب میں داخل ہیں۔ مگر ہندوؤں کے پیشوا نے ان باتوں کو از راہ دانائی اعتقادات میں شامل کیا کہ اس وجہ سے ان سب امروں کو ضرور ماننا پڑے گا۔ سوا اس کے آپ ملاحظہ فرمائیں، جو تلنگے یا متصدی ہندو نوکر شاہِ لندن کے ہیں، اپنے اوپر کیا کیا مصیبتیں اٹھاتے ہیں، یہاں تک کہ ایک وقت روٹی کھاتے ہیں اور اپنے ماں باپ کو خرچ بھجواتے ہیں، جب آپ رخصت لے کر گھر جاتے ہیں ہر طرح سے والدین کی خدمت کرتے ہیں اور اپنی کتاب اور پوتھی پر چلتے ہیں؛ پس کس طرح راہ راست سے ہٹے ہیں۔ صاحبان انگریز باوصف جاننے انجیل اور تحصیل علوم کے کیا عمل کرتے ہیں، باوجود امکان اور مقدور کے ماں باپ سے غافل ہوکر بیبیوں حسینوں کے ساتھ مشغول رہتے ہیں اور ماں باپ سے مطلق سروکار نہیں رکھتے۔ یہ بات آشکارا ہے کہ فرزند پھل زندگانی کا ہے، یعنی ماں باپ اس سے بڑھاپے میں چین اٹھاویں اور اس کی جہت سے آرام پاویں۔ جب ان کو لڑکے سے کچھ فائدہ نہ ہوا مقام افسوس کا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ جو کوئی تم میں سے عیب آدمیوں کا دیکھے گا، خداوند تعالیٰ اس کے گناہوں پر نظر کرے گا۔ یہ بھی فرمایا کہ اے اُمت کے لوگو! جہاں تک تم سے ہو سکے اپنے ہم قوموں سے کسی کو بھوکا پیاسا نہ رکھو اور محتاجوں کو اپنے پاس جگہ دے کر کھانا پانی دو، وگر نہیں تم نے مجھی کو بھوکا پیاسا رکھا، قیامت کے دن تم پر اس کا عذاب ہوگا۔ اس زمانہ میں عیسائیوں کا حال یوں ہے کہ اپنی قوم کے بھوکے پیاسے کو عیب لگا کر نکال دیتے ہیں، ہرگز نان و نمک نہیں دیتے ہیں۔ اب تم سے انصاف چاہتا ہوں کہ ہندوؤں کو اچھا کہوں یا عیسائیوں کو۔ اگرچہ دین عیسائی اَور دینوں سے بالذات بہتر ہے، لاکن کسی عیسائی کا عمل نہیں ہے اس پر۔ پس پہلے اپنے ہم مذہبوں کو راہِ راست پر لانا چاہیے، بعد ازاں اوروں کو سمجھانا۔ جب یہ لوگ اپنے طریقے پہ قائم ہوئیں اور لوگ بھی ان کا کہنا مانیں اور پادریوں کے سمجھانے سے راہ پر آویں۔ آدمی جب آپ ہی عمل نہ کرے، دوسرے کو کیا سمجھا سکے؛ ویسی ہی مثل ہے جیسے کوئی آپ شراب پیے اور بیٹے کو منع کرے، بھلا وہ کیوں کر مانے گا اور شراب پینے سے باز آوے گا۔ ایک شخص نے کہ نام اس کا یوسف تھا، حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے پوچھا: وہ کون کام ہے کہ خداوند تعالیٰ بسبب اس کے مجھ سے راضی رہے۔ فرمایا کہ خدا نے دس حکم جو کیے ہیں آدمیوں کی بھلائی کے لیے ہیں، ان پر ہمیشہ عمل کیا کر بصدق و یقین؛ اس سے بہتر کوئی امر نہیں۔ یوسف نے کہا: جب سے میں نے ہوش سنبھالا، ان ہی دس حکموں پر عمل کیا۔ آنحضرت نے فرمایا: جا سب مال اپنا خدا کی راہ پر لٹا کر میرے ساتھ آ۔ یوسف نے یہ سنتے ہی سر جھکایا اور کچھ جواب نہ دیا۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے اپنے شاگردوں سے فرمایا کہ اونٹ کا نکلنا سوئی کے ناکے سے، آسان ہے اس سے کہ دولت مند خدا کی سلطنت میں داخل ہوئے، غرض یہ امر ناامکان ہے۔ ایک روز ایک شخص نے آنحضرت سے پوچھا کہ آپ کے رہنے کی کون سی ہے جا۔ فرمایا کہ جانوروں، درندہ کو بہت جگہ ہے مگر میرے لیے اتنی جگہ نہیں کہ سر رکھ کر سو رہوں۔ حضرت عیسی علیہ السلام کب گھوڑے کی گاڈیوں پر معشوقۂ رعنا کے ساتھ سوار ہو کر بازار کی سیر کرنے جاتے تھے اور کب گرجے میں مخملی فرش پر نماز پڑھتے تھے، کب پَر بھرے بچھونے پر سوتے تھے۔ تم لوگ ہر طرح سے دلجمعی رکھتے ہو، خوشی سے رات سے دن کرتے ہو، زبانی دینداری کا دعویٰ، دل میں ذرا بھی خیال نہیں آتا۔ پادریوں کا وہ حال کہ مال میں مشغول ہو کر بی بیوں ساتھ گاڈیوں پر چڑھ کر سیر کرتے پھرتے ہیں۔ خدمت گار ان کی اطاعت میں حاضر رہتے ہیں۔ راہ خدا ایک کوڑی نہیں دیتے ہیں۔ غریبوں پر کم توجہی کرتے، بھوکے کو روٹی نہیں دیتے۔ زبانی وعظ و نصیحت کہتے ہیں اور آپ عمل نہیں کرتے۔ بھوکا روٹی روٹی پکارے، وہ نصیحتوں پر اتارے۔ بھلا یہ کہاں کی دینداری ہے۔ شعر:

ترک دینا بمردم آموزند
خویشتن سیم و غلہ اندوزند

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے کب عیش و نشاط سے زندگی بسر کی اور عبادت خدا کی  میں کب کوتاہی کی۔  تم نے خزانہ جمع کیے، خدا کی راہ میں دو پیسے بھی نہ دیے۔ زبانی نصیحت کرنا تمھارا لوگوں کو کیا فائدہ بخشے گا۔ میں نے اکثر پادریوں سے ملاقات کی، ان کی فربہی اور جسامت سب سے زیادہ دیکھی۔ اگر عبادت اور ریاضت میں رہتے  اس قدر موٹے نہ ہوتے۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ قیامت کے دن سب لوگ امت میری کے، مجھ سے ملیں گے اور مجھ کو دیکھیں گے۔  تھوڑے ان میں سے مقبول ہوکر مجھ تک پہنچیں گے اور بہت سے نا مقبول ہو کر رہ جائیں گے۔ یہاں سے ثابت ہوا کہ اگر کوئی جنیو پہنے اور بطور برہمنوں اور شاستر کے عمل نہ کرے، برہمن نہیں اور مسلمان فقط ختنے کرنے سے مسلمان نہیں ہوتا ہے، جب تک اپنے پیغمبر کے طریقۂ کار پر عبادت نہیں کرتا ہے۔ اسی طرح کوئی شخص پوشاک انگریزی کے پہننے سے عیسائی نہ ہو، جب تک حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی راہ پر قائم اور شناسائی نہ ہو۔ یہ مثل ویسی ہے جیسے کوئی کالے کپڑے پہن کر اپنے تئیں سپاہی بناوے، وقت لڑائی کے حال شجاعت اس کی کا کُھل جاوے؛ یوں ہی حال پرہیز گار اور ریا کار کا دن قیامت کے ظاہر ہوگا۔ میں یہ کہہ رہا تھا کہ ایک میم نے مجھ سے مخاطب ہوکر کہا تم نے جوابدہی ہندوؤں کی خوب کی، مسلمانوں کی بات باقی رہی۔ میں کچھ ان کے مذہب سے بھی سوال کروں، اگر آپ آمادۂ بیان ہوں۔ میں نے کہا بہت اچھا، تب انھوں نے یہ کہا کہ مسلمانوں کے مذہب میں نکاح ایک مرد کا چار بی بیوں سے جائز ہوتا ہے، ظاہراً یہ امر خلاف عقل نظر آتا ہے کہ ایک مرد چار عورتوں کی رفع حاجت کرے اور ہر ایک کی خیر گیری کی طاقت رکھے۔ میں نے جواب دیاکہ ابتدا ظہور اسلام میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کا ایمان تھوڑے سے لوگ لائے تھے، کافر خلاف اپنے جان کر  بمقابلہ پیش آتے، جو کچھ شہید ہوتے اور بھی تھوڑے  رہتے۔ لہٰذا پیغمبر ﷺ نے بمقتضائے مصلحت چار نکاح جائز رکھے، اس سبب سے لڑکے زیادہ پیدا ہوتے، امت کی زیادتی ہوتی گئی اور اسلام کی ترقی ہوئی اور یہ جو پیغمبر ﷺ نے گوشت سور کا کھانا، شراب کا پینا منع کیا، بہت سا اس میں فائدہ تھا۔ ملک عرب گرم اور آدمی وہاں کے جہل مطلق تھے۔ اگر گوشت سور کا کھاتے اور شراب پیتے، نشہ میں آ کر لڑ لڑ مرتے اور ہر طرح کے مرض میں مبتلا ہوتے۔ سوا اس کے سور کا پالنا کچھ محنت نہیں رکھتا ہے، فکر دانے چارے اس کی کا نہیں کرنا پڑتا ہے، وہ خود چر چگ کر پیٹ اپنا بھرتا ہے۔ عرب کے لوگ اس کو غنیمت جانتے اور پالتے، یاد الٰہی سے باز رہتے۔ پس یہ کیا خوب بات ہے گویا ان کے لیےراہِ نجات ہے اور ان کے ہاں پانچ وقت کی نماز اور وضو کا حکم ہے، فرمایئے اس میں کیا سقم ہے، آگے عرب کے لوگ بسبب جہالت کے بت پرستی کرتے تھے، اب نماز پنج وقتہ اور یاد خدا میں مصروف رہتے ہیں۔ وضو باعث نفاستِ بدن ہے اور موجب صحت و سلامتِ تن۔ اور ذبح کرنا جانوروں کا فائدے رکھتا ہے بے انتہا۔ تم خوب جانتے ہو کہ زیادہ ہونا خون کا باعث ہے امراض اور جنون کا،اس لیے وہ لوگ جانور کو ذبح کر کے خون بہاتے ہیں اور گوشت نفیس اس کا کھاتے ہیں۔ اب فرمایئے کون سی بات اسلام کی قابلِ حرف گیریٔ جناب ہے، جو کوئی اپنے طریقہ پر قائم نہ ہو اس کا کیا حساب ہے۔ جیسے دین عیسائی بہتر ہے بالذات، مگر کوئی نہیں رکھتا ہے اُس پر ثبات۔ پس یہ خطا صاحبِ دین کی ہے، نہ نفسِ دین و آئین کی۔ پھر میں نے پادری صاحب سے کہا مسلمانوں میں ختنہ کرنا رواج رکھتا ہے یہ بھی سبب نفاست کا ہے نہ عیب و کراہیت کا۔ آخر پادری صاحب نے پوچھا: تمھارا مذہب کیا ہے؟ میں نے کہا: بندہ بارہ برس کے سِن سے اسی تحقیقات میں پھرتا ہے اور روز و شب اسی تلاش میں رہتا ہے مگر کسی دین میں ایسا شخص نہ پایا کہ حرص و طمع دنیا سے علاقہ نہ رکھتا ہو۔ بہت روز ان فاضلوں کی صحبت میں کاٹے کہ منبروں پر چڑھ کر وعظ و نصیحت کہتے اور روتے؛ آخر جو ان کو دیکھا، ہوائے نفسانی سے صاف نہ پایا۔ برسوں برہمنوں اور ہندو فقیروں کی خدمت میں رہا کہ شاید انہی سے ہاتھ لگے راہِ راست کا پتا۔ بعضے فقیروں کو دیکھا کہ درختوں سے پانو باندھ کر اُلٹے لٹکتے، بعض شدت گرمی میں آگ تاپتے لیکن جب خوب غور کیا سوائے مکر و فریب کے کچھ نہ پایا۔ اسی طرح پادریوں پاس اکثر رہا، ان کو بھی بموجب حکم عیسیٰ علیہ السلام کے روپیہ کی طلب سے خالی نہ پایا۔ آخر لاچار ہوکر مذہب سلیمانی اختیار کیا، اس کو سب سے اچھا جانا۔ وہ یہ ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے فرمایا ہے: بنی اسرائیل میں مجھ سا بادشاہ کوئی نہیں ہوا، حق تعالیٰ نے سب نعمتیں جہاں کی مجھ کو دیں، نہیں طاقت شکر اس کے کی میرے تئیں، اتنی مدت میں مَیں نے خلاصۂ مطلب یہ سمجھا: نیک بخت وہ شخص ہے جو کسب اور وجہ حلال سے معاش پیدا کرے، اس میں سے کچھ آپ کھاوے باقی کچھ غریبوں کو دے۔  بدبخت وہ ہے کہ گدھے کی طرح بوجھ روپے کا اپنے اوپر اٹھاوے، نہ  آپ کھاو ے نہ کسی کو کھلاوے، نہ دن کو آرام پاوے، نہ رات کو سووے۔ یکایک اس کی موت آوے، جہاں سے لے جاوے؛ وہ بیکسی سے مرے، اوروں کے لیے مال اپنا چھوڑے، جیسے کتا مرے۔ نہیں معلوم روح اس کی بہشت میں یا دوزخ میں پڑے، اسی طرح بعد مرنے کے روح نہیں ثابت ہوتی ہے کہ کہاں جاتی ہے۔ اسی قول پر مذہب بندے کا ہے کہ خداوند تعالیٰ کو برحق جانتا ہے، بدکاری، چوری اور سب گناہوں کو بد سمجھتا ہے۔ ہر وقت ہر کام کے لیے مقرر ہوا، سونے کے وقت سونا، کھانے کے وقت کھانا۔ جیسے کہ کسی بزرگ نے کہا: کُلُّ أمرٍ مَرہُونٌ بِأوقاتِہَــــا۔ بندہ یہ جانتا ہے کہ خدا نے جو کچھ پیدا کیا ہے، آدمی کے واسطے ہے، مگر آدمی کو تمیز کھانے کی چاہیے کہ اعتدال سے تجاوز نہ کرے۔ میں نے بے دھڑک مذہب اپنا ظاہر کیا، بھروسا خدا پر رکھا، چاہے کوئی بھلا جانے، چاہے بُرا مانے۔ مثل: راجہ روٹھے نگری راکھے، رام رُسے کت جاندا۔ میری ان باتوں سے سبھوں نے سکوت کیا۔

بعد اس کے رخصت ہوکر اپنے گھر آیا اور تیئیسویں تاریخ ستمبر کی روز ہفتہ کے ڈایہ رام میں گیا۔ جب اندر جانے کا ارادہ کیا، آنکھوں میں اندھیرا چھایا۔ اس سبب سے ہاتھ میرا ایک عورت کے کندھے پر جا پڑا، سخت ندامت زدہ ہوا۔ اکبارگی روشنی چمکی، شکل ہیکل حضرت پالوس کی نظر آئی، زمین اس کی سنگ مرمر کی تھی، دونوں طرف کے ستون بھی ایسے ہی، قربان گاہ کے مقابل تصویر پوپ کی رکھی۔ دفعتاً اس ہیکل میں آگ لگی اور چھت گری، اس میں سے آسمان نظر آیا۔ فرش زمین جو سنگ مرمر سے بنا تھا نہ ثابت ہوا کہ کیا ہوگیا۔ تصویر پوپ کی بھی ٹوٹ گئی مگر قربان گاہ اپنی حالت اصلی پر رہی۔ بعد اس کے جس زمین پر بندہ اور دو تین انگریز اور بی بیاں بیٹھی تھیں، اپنی جگہ سے ہلی، ایک گانو میں جا پہنچی۔ نام اس کا الکتا، بہت آباد وسیع لطیف تھا، گرد اس کے ہر طرف پہاڑ بلند، رات بسبب چاندنی کے دن سے دہ چند۔ چراغ اور شمعیں روشن تھیں۔ اکبارگی پہاڑ سے آوازیں ہیبت ناک آئیں، برف کا ایسا طوفان آیا کہ شمع اور چراغوں کا نور جاتا رہا، اندھیرا چھا گیا، کلیساؤں میں گھنٹا بجا کہ یہ وقت ہے قہر و آفت کا، سبھوں کو چاہیے کریں ذکر خدا کا۔ یہاں تک کہ کوئی مکان نہ دکھائی دیتا، مگر کنگرہ کلیسا کا نظر آتا۔ بعد عرصہ کے ثابت ہوا کہ صبح ہوئی، آفتاب بدستور مقرر پچھم سے نکلا۔  میں ہرگز نہ جانتا کہ یہ سب پہاڑ گانو خیال ہے اور شعبدہ، لاکن درحقیقت یہ سب طلسمات تھا اور صاحبانِ فرنگ کا کمالات۔ مگر مجھ کو ہرگز یقین نہ آیا کہ یہ سب ہی طلسم بنا ہوا، بلکہ دو ایک شخصوں سے تکرار کی اور اس کے طلسم ہونے کا انکار۔ پھر ظاہر ہوا، انھی کا قول سچ تھا۔ یہ طلسم دل کو بہت بھایا۔ یہ ہیکل بعینہٖ نقشہ اس ہیکل کا تھا کہ کنسٹان ٹینا کے بادشاہ نے روم کے پچھم طرف آدہ کوس فاصلے پر بنوائی تھی۔ عرض اس کا ایک سو اڑتالیس فٹ اور دوسو فٹ لنبائی، گھیر مر مر کے ستونوں اس کے کا گیارہ فٹ آٹھ انگل، فرش زمین اس کی کا مرمر سے بالکل۔ ایک قربان گاہ اس میں بنی، مقابل اس کے تصویر پوپ اور ایک عورت کی کھڑی۔ جب وہ ہیکل قریب تیاری کے پہنچی، سن اٹھارہ سو تیئیس عیسوی میں سولھویں تاریخ جولائی کے اس کی چھت میں آگ لگی، یہاں تک کہ جل کر گری۔ ہر ایک ستون ٹکڑے ٹکڑے ہوا، فرش سنگ مرمر کا بھی جل کر گم ہوگیا، تصویر پوپ اور اس عورت کی بھی ٹوٹ گئی، مگر قربان گاہ بدستور رہی۔ یہاں کی ہیکل طلسمی جو میں نے دیکھی وہیں کی نقل تھی پر اصل معلوم ہوتی۔

پہلی تاریخ اکتوبر ۱۸۳۷ ؁ء کے بندہ تاج گھر گیا، اس کا نام رایل سری ٹیاٹر تھا۔ کئی شعبدہ باز عرب سے وہاں آئے تھے، اپنے اپنے کمال دکھلاتے۔  ایک نے ان میں سے نو آدمیوں ہمراہیوں اپنے کو برابر کھڑا کرکے ننگی تلواریں ہاتھ میں دیں، انھوں نے بموجب اس کے کہنے کے ہاتھ اٹھا کر تلواریں علم کیں، وہ شخص پھلانگ مار کر ان تلواروں کے اوپر سے کود جاتا۔ ایک طرف ایک موٹا کپڑا بچھا تھا، اُڑ کر کبوتر کی طرح اس پر جابیٹھا۔ بعد اس کے ایک لکڑی کھڑی کی، اس کے اوپر ایک تھالی جمائی، اس میں ہاتی دانت کے مہرے رکھے۔ ہر ایک قلا بازی کھا کر اچھل کر اس تھالی سے مہرہ ہاتھ سے اٹھاتے، ان کی چالاکیاں دیکھ کر ہم حیران ہوئے، اس لیے کہ ویسے کرتب والے دکھن اور مچھلی  بندر میں بھی نہ دیکھے تھے۔

دوسری تاریخ اکتوبر کی پاڑلی صاحب نے دعوت کر کے اپنے گھر بلایا۔ میں وہاں جاکر بہت خوش ہوا، دونوں بہنیں گران صاحب کی اور اَورپریاں اس مجلس میں بیٹھی شراب پیتیں۔ ایک مرد ضعیف بھی بیٹھا تھا، ذکر علم ریاضی اور گردشِ فلکی کا درمیان لایا، میں نے لطائف الحیل سے اس کو ان قصوں سے روکا، پر وہ اس ذکر سے باز نہ آیا۔ لاچار ہوکر صاف صاف کہا کہ میں فن تحصیلِ معاش کا جو ہر آدمی کو ناگزیر ہے نہیں رکھتا ہوں، علم نجوم اور ستاروں کا کہاں سے لاؤں۔ یہ کہہ کر اس کی طرف سے مونھ پھیرا، پریوں کے ساتھ شراب پینے لگا۔ مجلس رقص و سماع کی گرمی رکھتی، رات بہت کیفیت سے کٹی۔ صبح کو اس بڈھے کو دیکھا، کرسی پر بے خبر سوتا، کسو نے کہا یہ سوتا ہے، میں نے کہا نہیں خیال ستاروں میں ڈوبا ہے، جگانا ضرورت نہیں رکھتا ہے۔

تیسری تاریخ وہاں سے اپنے گھر آیا، تنہا ملول بیٹھا تھا۔ چھوٹے بھائی بوچڑ صاحب کے آئے، کلام خاطر داری کے زبان پر لائے کہ اے یوسف خان! تو کیوں آزردہ ہے، میرے ساتھ سیر کو آ۔ میں بپاس خاطر ان کے ساتھ چلا۔ اس مکان میں لے گئے کہ عجائبات خطۂ یونان کے وہاں تھے، انگریزوں نے ان چیزوں کو گڑھوں اور تہ زمین سے پایا، اس مکان میں تماشے کے لیے رکھا۔ سوائے اور عجائبات کے ایک صندوق پتھر کا وہاں نظر آیا، اس کے اندر ایک کھوپڑی کاغذ کی طرح صاف تھی۔ گرد اس کے حمائل زریں لپٹی، جس کی وہ کھوپڑی تھی اسی کی تلوار بھی اس صندوق میں رکھی، چھلنی کے مانند مشبک ہوئی۔ بسبب اس کے کہ مدت تین چارہزار برس کی اس پر گزری۔ گرد صندوق کے خط یونانی زبان قدیمی میں حال اور نام اس نامدار کا لکھا تھا، مگر مجھ سے بسبب ناآشنائی اس زبان کے پڑھا نہ گیا۔ اس کے ہاتھ لگنے کی یہ صورت ہے کہ ایک دفعہ انگریزوں نے زمین یونان کھودوائی، تہ زمین میں صورت اس صندوق کی نظر آئی، بہت شوق سے اس کو نکالا اور یہاں لاکر رکھا۔

بندہ صاحبانِ لندن کے اخلاق کا حال بیان نہیں کرسکتا ہے، ایک دوسرے پر سبقت رکھتا ہے۔ میرے مکان پر آ کر تسلی دیتے اور باوجود اجنبیت کے اپنا ہمراز مجھ کو کرتے۔ حال وہاں کا دیکھ کر ہم اپنے گھر آئے۔ شام کوبوچڑ صاحب کے بھائی میرے پاس آکر اپنے ساتھ سیر کو لے چلے۔ راہ میں دو پریاں نظر آئیں، دکان پر بیٹھی قہوہ پلاتیں، ایک نگاہ سے دل تماشائیوں کا پھسلاتیں۔ میں نے اپنے ساتھی سے کہا قہوہ پیو، اس نے جواب دیا پھرتی دفعہ پی لینا۔ میں نے کہا زندگی کا کیا اعتبار، پھر آنے کا کیا اقرار؛ اگر اتنی دیر میں چراغ زندگی بجھے، یہ آرزو دل ہی میں رہے۔ یہ شہر میرے نزدیک جنت الماویٰ ہے، اگر بخوبی نہ دیکھا اور آدمیوں کو نہ پہچانا کیا فائدہ۔ آخر وہ راضی ہوئے، وہ دکان پر ٹھہرے، قہوہ نوشی کے حیلہ سے ان کے نظارے کیے، بعد اس کے اپنے گھر پھرے۔

آٹھویں تاریخ اکتوبر کی کپتان لاڈ صاحب کے ساتھ موضع ٹیٹرس ہل میں گیا۔ وہ گورستان ہے انگریزوں کا، لندن سے بہت فاصلہ رکھتا۔ سبب دور گاڑنے مُردوں کا یہ تھا کہ مبادا روم یا مصر کی طرح بسبب مُردوں کے متعفن ہو ہوا، مصر اور روم میں وبا اکثر آتی ہے۔ باعث اس کا یہی ہے کہ عین شہر میں بہت تکیے ہیں، مردے وہیں دفن کیے ہیں۔ موضع ٹیٹرس ہل بلندی پر واقع ہوا ہے۔ وہاں سے تمام لندن نظر آتا ہے، ایک کلیسا بھی اس میں خوب بنا ہے، اس مقام کو بنظرِ غربت دیکھا۔ پھر کپتان صاحب کے مکان پر آکر کھانا کھایا اور عرض کیا: مدت سے آرزو رکھتا ہوں کہ ہیکل یہودیوں کو دیکھوں۔ کپتان صاحب نے لی بیسن یہودی جوہری کے مکان پر لے جاکر مجھ سے ملاقات کروائی۔ اس نے بہت اخلاق اور محبت سے ملاقات کی اور مہربانی فرمائی۔ مجھ سے اس سے دیر تک ہر مقدمہ میں خاص مذہب کے باب میں گفتگو رہی، آخر اس نے خوش ہو کر یہ بات کہی کہ کل ہماری عید کا دن ہے، اگر تم آؤ اپنے ساتھ ہیکل میں لے چلوں، لطف وہاں کا تمھیں دکھاؤں۔

میں دوسرے دن بموجب وعدہ اس کے مکان پر آیا۔ وہ مجھ کو اپنے ساتھ ہیکل میں لے گیا۔ عمارت اس کی عالی تھی۔ ظروف پرستش کے طلائی، سامنے اس کے ایک قربان گاہ بنی۔ مگر کلیسائے انگریزوں کی سی اس میں نفاست نہ تھی۔ بہت یہودی اپنے طریقے پر نماز پڑھتے تھے مگر دل سے ہرگز متوجہ نہ تھے۔ ظاہر میں عبادت تھی، باطن میں شقاوت۔ کاہن یعنی پیشوا ان کے قریب منبر کے بیٹھے سبھوں کی طرح بے دلی سے نماز پڑھتے۔ ایک طرز ان کی مجھے پسند آئی، وہ امر یہ تھا کہ عورتیں یہودیوں کی اوپر کے درجے میں تھیں، وہاں مردوں سے کوئی نہیں۔ انگریزوں کے کلیساؤں میں یہ بات نہیں پاتا ہوں کہ رنڈیاں مردوں سے جدا ہوں۔ ان کا عبادت خانہ دیکھ کر دل میں آیا کہ اگر قابو پاؤں، ان کی رنڈیوں کو اچھے باغ میں رکھوں۔ مردوں کو گھوڑوں اور کتوں کی خدمت پر مقرر کر کے شکار گاہ میں دوڑاؤں۔ مگر انتظام اور عمل انگریزوں کا ایسا ہے  کہ ہاتھی چیونٹی سے ڈرتا ہے۔ لا چار رخصت ہو کر گھر آیا۔

بعد چند روز کے لی بیسن نے مجھ کو ایک رقعہ لکھا کہ کل ہماری عید ہے۔ اگرتم آؤ عنایت سے نہیں بعید ہے۔ میں دوسرے دن بموجب طلب گیا، دربانوں نے اندر جانے نہ دیا کہ اس وقت کوئی آدمی سوا یہودیوں کے نہیں جا سکتا ہے۔ تمھارا آنا کہاں سے ہوتا ہے۔

آخر جب لی بیسن کو خبر ہوئی، اپنے ساتھ اندر لے گیا۔ اپنے زمرے میں اچھی جگہ مجھ کو بٹھایا۔ وہ سب میرے جانے سے حیران ہوئے۔ سبھوں کے چہروں پر آثار ملال نمایاں ہوئے کہ اس وقت مرد اجنبی غیر قوم کا اپنے ہاں لانا راہ دانائی سے بعید ہے۔ لی بیسن نے کہا اپنی جماعت سے کہ اس شخص سے پوچھو، مذہب تمھارا کیا ہے۔ ایک شخص جو ان سبھوں میں ممتاز تھا میری طرف متوجہ ہو کر حال مذہب کا پوچھنے لگا۔ میں نے ایسا جواب دیا کہ بہت راضی ہوا۔ آخر اس نے بھی یہی کہا کہ ہم کو تعصب نہیں مذہب کا۔ اگر بنظر انصاف دیکھیے اور دل میں غور کیجیے، مآل سب مذہبوں کا ایک ہے۔ بعد اس کے میں حال ان لوگوں کا دیکھتا رہا۔ انھوں نے ایک مکان گنبد دار پھولوں کا بنایا۔ اس کے اندر دو تین کاہنوں کو بٹھلا کر کھانا کھلایا۔وہ لوگ اپنے کاہنوں کی تعظیم بادشاہوں کی مانند کرتے ہیں۔ بجا آوری احکام ان کے میں مستعد رہتے ہیں۔ بادشاہ انگلستان کا بھی ان کی عزت کرتا ہے اور معزز رکھتا ہے۔

میں یہ حال دیکھ کر اپنے گھر آیا اور یہ سنا کہ نویں تاریخ نومبر کی جمعرات کے دن جلوس کوئین وکٹوریا کا کل ڈھال میں ہوگا، یعنی اجلاس تخت سلطنت ابتد اسی دن ہوا تھا۔ اس روز کے جلوس دیکھنے کو لوگ منزلوں سے آ کر جمع ہوتے ہیں۔ٹڈیوں کی طرح ہر طرف کے رئیس امیر دیکھنے آتے ہیں۔ اس روز کل ڈھال کے نزدیک مکان کرایہ کا نہیں میسر آ تا۔ مجھ کو اس جلوس کے دیکھنے کا شوق غالب ہوا۔ چند روز پیشتر سے ایک مکان قہوہ خانے کے بائیں طرف قریب کل ڈھال کے  ایک دن کے لیے ایک اشرفی کرایہ کا ٹھہرایا۔ جس روز جلوس ہوا، صبحی اٹھ کر اس مکان میں چلا۔ راہ میں ایسا ہجوم تماشائیوں کا تھا کہ اس مکان تک پہنچنا دشوار ہوا۔ بہ ہزار دقت جا پہنچا۔ بعضے شخصوں کو دیکھا کہ مکان کرایہ کا ڈھونڈھتے، دو سو روپیہ ایک دن کا کرایہ دیتے مگر ہاتھ نہ لگا۔ ایسا آدمیوں کا انبوہ تھا کہ بیان نہیں کرسکتا۔ میں اس مکان میں بیٹھا، سواری آنے کی راہ دیکھتا۔ دن قریب ڈیڑھ پہر کے آیا۔ ترشح مینھ کا شروع ہوا۔ اس سبب سے جلوس ہم راہی شاہزادی میں کمی تھی۔ دوپہر پر دو بجے سواری آئی۔ وقت سوار ہونے شاہزادی  کے گھنٹے کلیساؤں میں بجنے لگے، لوگوں کو اس امرخیر سے خوش خبری دینے لگے۔ سب سے پہلے سردار اور منصب دار گھوڑوں پر سوار کل ڈھال میں داخل ہوئے۔ بعد ان کے ارکانِ دولت اعیان سلطنت چار چھ گھوڑے کی گاڈیوں پر سواروں کے  شامل ہوئے۔ گھوڑے گاڈیوں کے اصیل ولایتی قدم باز راہوار، سب ساز ان کا  جڑاؤ نہایت آبدار۔ نوکر پوشاک زرینہ و زربفت  پہنے، ایک دوسرے سے زیادہ بنے چنے۔ پھر سواری وزیراعظم لاڈمیر کی آئی۔ بعد اس کے  گاڈی ملکہ جم جاہ کی نمود ہوئی۔ گاڈی ستھری جواہر جڑے، آٹھ گھوڑے سمند اس میں لگے۔ صورت و سیرت میں سب برابر تھے، ایک ذرہ آپس میں فرق نہ رکھتے۔ اگر ایک چھپایا جاتا دوسرا سامنے آتا۔ دھوکا اس کا اس پر ہوتا اور ہرگز فرق نہ ثابت ہو سکتا۔ویسے گھوڑوں کی صورت دیکھنا مجھ کو پھر نہ نصیب ہوئی۔ بھوک پیاس ان کے دیکھنے سے بھولی۔ اصیل اور قدم بازی میں چاق۔ خوبی میں ہر ایک یکتائے آفاق۔ جب وہ گاڈی اگاڈی بڑھی، میرے قریب آئی۔ دو تصویریں رومیوں کی قد آدم اس میں کھڑی تھیں۔ میں سمجھا دو رومی زندہ ہیں، تصویریں نہیں۔ جب خوب غور سے دیکھا شبہ مٹا۔ ملکہ مہر سیما کوئن وکٹوریا مع اپنی والدہ ماجدہ کے اس پر سوار تھیں۔ چاند صورت، سورج طلعت دکھائی دیتیں۔تخمیناً عمر میں اٹھارہ برس کی۔ مجمع شرم و جمال و عفت بے شمار تھیں۔ میں نے صورت دیکھتے ہی دل میں دعا کی: یا اللہ! گاڈی ملکہ کی میرے پاس پہنچ کر ایک لحظہ ٹھہرے، خدا نے سن لی۔ جب گاڈی میرے سامنے آئی، ایک ساعت رکی، چہرۂ نورانی ملکہ کا میں نے بغور دیکھا، نمونہ قدرت ایزدی کا پایا۔ آداب تسلیمات بجا لایا۔ نگاہ عنایت سے میری طرف دیکھ کر تبسم فرمایا۔ ان کی ماں نے بھی دیکھا۔ میں خوشی سے پھولوں نہ سمایا اور دل میں دعائیں دیتا رہا کہ یااللہ اس کی سلطنت کو کبھی زوال نہ ہوئے، ہمیشہ زیادتی اور کمال ہوتا رہے۔ غرض قدوم میمنت لزوم سے کلڈھال رشک گلزار ہوا اور وہ میدان کثرت فوج و سپاہ وردی پوش سے رشکِ لالہ زار۔ ایک رسالہ سواروں مشکی گھوڑوں کا زرہ اور خود پہنے نظر آیا۔ ہر ایک کی موچھیں کھڑی، کمال ہیبت اور شان سے ٹولیاں باندھے قدم با قدم برابر جاتا۔ تماشائیوں کو ان سے ہرگز صدمہ نہ پہنچتا۔ سوا ان کے بہت توزک سے اور فوج مسلح تھی۔ دیکھنے سے اس کے بہت ہیبت آتی۔ القصہ فوج بادشاہی اور تماشائیوں کا ایسا اژدہام تھا کہ بیان میں نہیں سماتا۔ سننے میں آیا کہ اس جلوس میمنت مانوس میں ڈیڑھ کروڑ روپیہ صرف ہوا۔ فقیر نے تیسرے پہر کا کھانا وہیں کھایا۔

شام کو اپنے گھر آیا۔ اثنائے راہ میں چراغ فانوس روشن تھے۔ چاند، سورج، ستارے روشنی کے ایسے بنے کہ چمک دمک میں مہر و ماہ و ستاروں سے ڈِگتے۔ دکانوں پر دو شالے رومال سرخ سرخ، کار کشمیر کے رکھے اور ہر طرح کی چیزیں، اسباب عجیب و غریب وہاں تھے۔ نہیں معلوم بایں افراط کہاں سے ہاتھ آئے۔ ہر پری زاد فرنگ کے خوشی سے راہ میں آتے جاتے، ہر ادا سے اعجاز مسیحائی دکھاتے۔ مرد رنڈیاں پہلو بہ پہلو خوش رفتار، جیسے جنت میں حور و غلمان نمودار۔ دکان نان بائیوں کی نعمتوں سے بھری، فریفتہ ہوا جس کی نظر اس پر پڑی۔ لوگوں کی بول و چال و دیدارِ حسن و جمال مجھ کو خواب خیال معلوم ہوتا، ورنہ بیداری میں ایسی کیفیت دیکھنا محال تھا۔ فی الواقعی جو دیکھا خیال ہی تھا کہ اب اس کا دیکھنا میسر نہیں آتا، بلکہ جس سے وہ حال کہتا ہوں اعتبار نہیں کرتا۔ اگر اپنی آنکھوں سے دیکھے تو مانے۔ اسی طرح سب کام دنیا کے خیال ہیں۔ لذات اس کی سریع الانتقال۔ کوئی کیفیت اس کی برقرار نہیں رہتی۔ کوئی لذت اعتبار نہیں رکھتی۔ عاقل کو چاہیے کام آج کا کل پر نہ ڈالے، شاید کل کوئی اور سانحہ پیش آئے، شعر:

کہ داند کہ فردا چہ خواہد رسید
زدیدہ کہ خواہد شدن نا پدید

رباعی:

دنیا  خوابے  ست کش  عدم  تعبیر ست
صید اجل ست چہ جوان و چہ پیر ست
ہم  روی  زمین  پرست  وہم  زیر  زمین
ایں صفحۂ خاک ہر  دو رو تصویر ست

گیارھویں تاریخ نومبر کے الود بوچڑ صاحب میرے مکان پر آئے۔ اپنے ساتھ کلڈھال کا تماشادکھانے لے گئے، جہاں جلوس شاہی ہوا تھا۔ کوئی اس کے اندر بے ٹکٹ جانے نہ پاتا۔ مگر جو چٹھی رکھتا ہوتا، البتہ جا سکتا، اس لیے انھوں نے اپنے باپ سے ٹکٹ لے لیا تھا۔ اس ذریعہ سے میں بھی کلڈھال کے اندر گیا۔ وہاں کا خوب تماشا دیکھا۔ برابر میز لگی ہوئی تھی، ان پر ظروف نقرہ و طلائی رکھے۔ سب سے آگے میز بادشاہی لگا۔ اس کا عجب ٹھاٹھ تھا۔ دستر خوان زربفت کا، مقیشی جھالر لگا ہوا اس پر بچھا۔ بہت برتن سونے چاندی کے برابر چنے۔ جھاڑ شیشہ و بلور کے کی چھت اور دیوار پر لٹکے۔ برابر اس میز کے ایک کرسی زرنگار، مقابل اس کے چھت سے لٹکتا ایک چتر طلائی بشکل تاج شہریار۔ وہ کرسی اور میز خاص مقام اجلاس شاہزادی کا تھا۔ عمدہ اسباب بادشاہی وہاں رکھا، تصویریں امیرانِ نامدار کی دیوار میں لگیں۔ ان سب نادر چیزوں کے دیکھنے میں مصروف تھے سارے تماشا بین۔ میں نے دیر تلک تماشا دیکھا، پھر بھی وہاں سے نکلنے کو جی نہ چاہتا۔ بلا چاری مکان پر آیا۔ انگلستان میں ایسی ایسی عجیب چیزیں اور تماشے دیکھے کہ ہندوستان میں کانوں سے بھی نہ سنے تھے۔ خدا اس شہر کو قیامت تلک قائم رکھے اور وہاں کے فرماں روا کو مدد بخشے۔ شعر:

عجب شہر ہے وہ عجب شہریار
پر از حکمت و لطف ہے وہ دیار

تیرہویں تاریخ نومبر کی ایک شخص کے ساتھ ماڈم ترساد میں گیا۔ جب قریب اس کے جا پہنچا، اپنی آنکھ سے دیکھا کہ ایک مجلس آراستہ ہے، اس میں نامدار بیٹھے۔ میں نے اس ساتھی سے کہا: تو مجھ سے ہنسی کرتا ہے کہ بے تعارف و شناسائی امیروں کی محفل میں لے چلتا ہے۔اس نے کہا: یہ تصویریں امیروں کی موم کی بنی ہیں، صاحبانِ تصویر کچھ مرے کچھ جیتے ہیں۔ میں یہ سن کر سخت متحیر ہوا۔ اس کا کہنا ہرگز یقین نہ ہوتا مگر ڈرتے ڈرتے آگے بڑھا، یہاں تک کہ قریب تصویروں کے پہنچا تو بھی یہ شبہ نہ مٹا کہ امیر زندہ ہیں یا تصویریں اِستادہ۔ آخراُس شخص نے میرے رفع شک کے لیے ایک تصویر کے مونھ پر ہاتھ رکھا۔ ہرگز سر یا ہاتھ اُس نے نہ ہلایا۔ تب میں نے بھی گستاخ ہوکر چہروں پر ہاتھ رکھا اوراُن کے تصویر ہونے کا یقین لایا۔ ایک طرف تصویر وکٹوریا شاہزادی کی اور والدین اُس کے کی بنی تھی۔ میں نے دیکھتے ہی تسلیم بجا لانی چاہی۔ اُس نے کہا یہ بھی تصویر ملکہ کی ہے، نہ ملکہ اصلی  ہے۔ بخدا ایسی تصویر کہ اصل اپنی سے سرِ مُو تفاوت نہ رکھتی۔ لباس، رنگ، قد قامت میں تل بھر کم وبیش نہ تھی۔ اسی سبب سے دیکھنے والے کو اصل و نقل میں تمیز نہ ہوتی۔ تصویریں مومی شیکس پیر، لاڈ بائرن، سر والٹر سکاٹ شاعروں ذی رتبہ کی کھڑی تھیں۔ ایسا ثابت ہوتا کہ شعر و سخن میں طبیعتیں اُن کی لڑیں۔ اسی طرح لاڈ نلسن سپہ سالار جہاز جنگی اور کئی بادشاہوں انگلستان کی مثل ولیم اور جارج کے اور کئی بادشاہوں روس اورکئی رہزنوں کی تصویریں مومی بنی تھیں۔ سوا اُن کے اور کتنوں کی کہ دیکھنے والوں کو زندہ معلوم ہوتیں۔ جن کی وہ نقل تھی، اگر سامنے ہوتے دیکھنے والے اصل اور نقل میں تمیز نہ کر سکتے۔  فقیر یہ مکان ارزنگ نشان دیکھ کر اپنے گھر آیا۔

دیب صاحب نے بتقریب ضیافت مجھے طلب فرمایا۔ بموجب طلب بائیسویں تاریخ نومبر کی، میں ان کے مکان پر گیا۔ ازانجا کہ مہمان نوازی طریقہ رئیسوں کا ہے، خاص طرز انگریزوں کا۔ انھوں نے بہت اشفاق فرمایا اور اپنی دو لڑکیوں پری پیکر پاس بٹھلایا۔ میز پر ہر قسم کا کھانا پینا نعمتوں کا چُنوایا۔ اپنے ساتھ مہربانی سے کھلایا۔ میں درمیان اُن دونوں گلوں کے کانٹا معلوم ہوتا۔ جب کھانا کھا چکے، آتشدانوں کے گرد سب برابر بیٹھے۔ ایک نے دونوں پریوں میں سے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا: آگ، کیا خاصیت ہے اس کی اگر ہمارے ملک میں نہ ہوتی، بغیر اس کے بہت اذیت پہنچتی۔ میں نے کہا: یہ خواص رکھتی ہے، پانی سے بجھتی ہے۔ مگر آگ حسن تمھارے کی غضب ڈھاتی ہے، ایک چنگاری اُس کی جس پر گرے جان و جگر جلاتی ہے۔ پانی سے زیادہ بھڑک آتی ہے، حشر تک بجھنے نہیں پاتی ہے۔ آدھی رات تک یہی راز و نیاز رہا۔ بعد اس کے میں رخصت ہو کر اپنے گھر چلا۔ ایک گلی تنگ تاریک میں پہنچا۔ ایک رنڈی رومال مونھ میں لپیٹے چلاتی غل مچاتی۔ ایک مرد اس پر زیادتی کر رہا تھا۔ اُس سے اپنے تئیں بچاتی۔ مجھ کو دیکھتے ہی اس گرفتار پنجۂ ظالم نے مجھ کو پکارا کہ برائے خدا مجھ کو اس کے ہاتھ سے چھوڑا۔ مرد نے کہا: اے شخص اگر ذرا بھی آگے بڑھا، میں نے تجھ کو مارا۔ میں سخت متردد ہوا۔ ہرطرف آدمیوں تھانے پولس کو دیکھنے لگا، کوئی نظرنہ آیا۔ لاچار ہو کر دل میں سوچا، اگر تو اس عورت کو اس خرابی میں چھوڑ کر چلا جاتا ہے، خلاف جواں مردی اور آدمیت کے ہوتا ہے۔ اگر تھانہ دار کوخبر کرتا ہے، وقت ہاتھ سے جاتا ہے۔ اگراُس سے الجھتا ہے اور آدمی تھانے کے دیکھ پاویں، ساتھ ان کے تجھ کو بھی گرفتار کر لے جاویں۔ سر دست بدنامی خدا راہ ہوئی۔ کوئی اصل مطلب سے آگاہ نہ ہوے۔  آخردل میں یہی ٹھنا کہ اُس حرام کار سے اُس رنڈی کو بچالوں۔ یہ امر خدا راہ کا کرتا ہوں، اپنی ذات کا کچھ لگاؤ نہیں رکھتا ہوں، جو کچھ ہونا ہو سو ہوے۔ مرضی مولیٰ از ہمہ اولیٰ۔ خدا کو یاد کر کے دونوں پانوں اُس کے زمین سے اُٹھا کر دے مارا اور اُس کے اوپر چڑھا۔ کشتی کے بیچ سے دونوں شانوں کو اس کے مضبوط گانٹھا۔ اس عورت سے کہا کہ میری کمرے سے کھول شالی ٹپکا، اُس سے اس کے پانو باندھ۔ اُس نے ویسا ہی کیا۔ کمر بند میرا کھول کر پانوں کو اُس کے خوب باندھا۔ میں نے زمین میں اُس کو خوب سا رگڑ کر ہاتھ بھی باندھے۔ تب وہ مردک  گڑگڑانے لگا کہ میں نے بڑا گناہ کیا، قصور میرا معاف کرو، خدا کے لیے مجھ کو چھوڑ دو، نہیں تو تھانہ میں گرفتار ہوؤں گا،سزا پاؤں گا۔ مجھ کو تم سے شرم آتی ہے، آنکھ نہیں سامنے کی جاتی ہے۔ لعنت میری اوقات پر کہ اپنے ہم جنس اور ہم مذہب سے ارادۂ بد رکھتا تھا۔ رحمتِ خدا تم پر کہ باوجود اجنبیت و بیگانہ وضعی کے اس بدی سے باز رکھا۔ میں سمجھا کہ یہ اپنی سزا کو پہنچا۔ در صورتِ گرفتارئ تھانہ بہت ذلیل ہوگا۔ قول و قرار لے کر چھوڑ دیا۔ اُس نے چھوٹتے ہی سلام کیا اور بھاگا۔ تب میں نےعورت سے پوچھا کہ اس وقت تمھارا نکلنا کیونکر ہوا اور یہ شخص نالائق تم سے کیا تعلق رکھتا تھا۔ اُس نے جواب دیا کہ میں اپنی ماں کے کام کو جاتی تھی۔ جب یہاں آکر پہنچی، اس بدمست نے ہاتھ میرا پکڑا۔ خیال بدی کا رکھتا تھا۔ اتنے میں خدا نے تم کو یہاں پہنچایا کہ مجھ کو اُس سے چھوڑایا۔ میں نے یہ سن کر اس کو اس کے گھر تک پہنچا کر اپنے گھر کا راستہ لیا۔ اُس نے بہت مبالغہ سے بلا کر یہ حال اپنی ماں اور عزیزوں سے کہا۔ اُن لوگوں نے شکر گزار ہو کر مجھ کوکئی پیالے شراب کے پلائے اور پتا مکان کا پوچھنے لگے۔ میں نے اس خیال سے کہ مسافر کو کسی سے دوستی کرنا نہ چاہیے۔ لاؤبالی پتا بتا کر رخصت ہوا اور اپنے گھر آیا۔

تیئیسویں تاریخ نومبر کی کپتان لاڈ صاحب کے مکان پر گیا۔ اُن کو اپنےساتھ لیا۔ جس مکان میں دیوانے اور سودائی قید تھے، دیکھنے چلا۔ حال اُس کا یہ ہے کہ شاہ لندن نے ایک مکان بنوایا ہے۔ جو کوئی لندن میں دیوانہ ہو جاتا ہے، وہ اُس مکان میں مقید ہوتا ہے۔ اُس مکانِ عالیشان میں کئی درجے ہیں۔ مرد رنڈیوں سے جدا رہتے ہیں۔ ڈاکتر علاج معالجہ کے لیے مقرر کیے گئے ہیں۔ جب کوئی اُن میں سے اچھا ہو جاتا ہے، اپنے گھر چلا آتا ہے۔ جب میں اُس مکان میں پہنچا، نگہبان نے روکا کہ بغیر چٹھی سند کے کوئی اندر نہیں جانے پاتا۔ میں نے اُس سے اظہار کیا: میں مسافر ہوں، دشوار ہے چٹھی ملنا، تو اپنی مہربانی سے اس مکان کو دکھلا؛ مسافر نوازی سے بعید نہ ہوگا۔ اس بات سے وہ برسرِ عنایت ہوا، مجھ کو اندر لے گیا۔ ہر ایک درجہ دکھلایا۔ دیوانوں کو دیکھا، جا بجا بیٹھے کوئی ہنستا، کوئی روتا، کوئی کاغذ اخبار پڑھتا۔ ایک نے اُن میں سے مجھ کو دیکھتے ہی بہت اشتیاق سے ہاتھ سے ہاتھ ملایا اور کہا: اتنے دنوں سے تو کہاں تھا۔ میں تیرا بہت مشتاق، نگراں تھا۔ میں تجھ کو خوب پہچانتا، تو قوم مملوک سے ہے۔ بونے پاٹ کی لڑائی میں شریک تھا۔ اُس کی گرم جوشی سے ڈاکتر صاحب اور ہر ایک دیکھنے والا حیران ہوا کہ یہ شخص بیس برس سے قید ہے، کسو سے بات نہیں کرتا۔ تم سے اتنا کیوں ملتفت ہوا۔ ہم کو ہے مقام بڑے تعجب کا۔ حال اس کا یوں بیان کیا کہ یہ سارجن ہے، نوکرِ بادشاہی تھا۔ بعد لڑائی بونے پاٹ کے کئی بادشاہ لندن کے سیر کو آئے۔ لاڈ منگلٹن صاحب نے سبھوں سے اُس کی تعریف فنون سپہ گری اور بہادری اس کی کے ظاہر کی۔ سب لوگ مشتاق دیکھنے کے ہوئے۔ اُس نے اِس میدان میں کہ کئی  بادشاہ اور لاکھ سوار و پیادے موجود تھے، گھوڑے پر چڑھ کر کمال اپنے دکھلائے۔ شاہِ روس نے بہت تعریف کر کر کہا کہ ہم نے کوئی سوار اس کمال کا نہیں دیکھا۔ یہ شخص فنون سپہ گری میں کامل اور یکتا۔ تب سے یہ دیوانہ ہو کر اس حال کو پہو نچا کہ یہاں آ کر قید ہوا۔

اُس مکان میں تین درجے تھے۔ پہلے میں وہ دیوانے کہ بسبب احتراقِ بلغم کے اختلالِ حواس بہم پہنچایا۔ مزاج اُن کا مائلِ نرمی وملائمت تھا۔ دوسرے میں وہ لوگ کہ بسبب حرقتِ خون کے اُن کے دماغ میں فساد آیا۔ تیسرے میں نہایت دیوانے پرلے سرے کے جن کا مزاج بسبب احتراق سودا یا صفرا کے بالکل منحرف ہوا۔ ہر ایک کو ایک جگہ بلند کرسی کی شکل پر ہاتھ باندھ کر بٹھلایا، کوئی مجال حس وحرکت کی نہیں رکھتا اس خیال سے کہ ناخونوں سے اپنی آنکھیں نہ پھوڑیں۔ ہاتھوں میں دستانہ چرمی پہنائے، دروازے آتشدانوں کے لوہے کے جالی دار بنائے کہ مبادا کوئی اپنے تئیں اُس میں گرائے۔ اس طرح دوسری طرف رنڈیاں درجے بہ درجے قید تھیں، حسن جمال میں بے مثال تھیں۔ دیکھنے والا ان کا دیوانہ بن جاتا۔ اپنے تئیں واسطے دیدارِ جمال اُن کے کے اُس مکان کا قیدی بناتا۔ بعضی اُن میں جو اچھی ہو چلی تھیں، علیحدہ مکان میں اپنے اپنے کام اور پیشہ میں لگی تھیں۔ میں دو تین عورتوں باہوش کو اس قید میں دیکھ کر بہت ملول ہوا۔ فی الفور باہر نکل کر اسکول میں آیا۔ وہاں دیکھا لڑ کے بن باپ کے یتیم پتلون زرد پہنے ہوئے لکھنے پڑھنے میں مشغول تھے۔ خرچ ضروری اُن کے بادشاہ کے ہاں سے مقرر اور معمول تھے۔ وہ سب لڑکے امیروں نامدار کے ہیں، بہت صاحبِ لیاقت۔ طبیعت اُن کی نوشت وخواند پر ایسی مصروف پائی کہ مجھ کو حیرت آئی۔ اپنے دل میں کہا سبحان اللہ! لڑکے ہندوستان کے باوجود تاکید والدین کے تحصیلِ علم میں ہرگز نہیں مشغول ہوتے ہیں، اوقات اپنی مفت برباد دیتے ہیں بلکہ چھٹ پنے میں حرکتیں بیجا کرتے ہیں۔ یعنی ماں باپ کو گالیاں دیتے اور ان کے سامنے حقہ پیتے ہیں؛ وہ انھی باتوں میں لڑکپن ان کا سمجھ کر خوش ہوتے ہیں۔

ایک اور مکان میں گیا۔ اُس میں نصیحت کرنے والے اور پادری سرکار بادشاہی سے مقرر ہوئے ہیں۔ جوعورت زنا کاری سے باز آئے اورحرام کاری سے تو بہ کرے، اُن کے پاس جا کر ظاہر کرے کہ میں تمھارے ہاتھ سے توبہ کرتی ہوں اور گناہوں سے باز آتی ہوں۔ وہ لوگ اُس کو اُس مکان میں رہنے کی جگہ دیتے ہیں۔ وعظ کہہ کر تعلیم کرتے ہیں اور سرکارِ شاہی سے اُس کے لیے کچھ خرچ مقررکرواتے ہیں۔ جب وہ راہِ راست پر آوے، کسو مرد کے ساتھ نکاح کر دیتے ہیں۔ ایک اسکول اور ہے اُس میں اندھےلڑ کے رہتے ہیں۔ روٹی کپڑا سرکار سے پاتے ہیں۔ پادری اشارے سے اُن کو تعلیم کرتے ہیں۔ بندگی عبادت بخوبی سکھاتے ہیں۔ ایک اسکول اور ہے، جو لڑکا چھنال رنڈیوں کا یا حرامی پیدا ہوئے، وہ اس لڑکے کووہاں ڈال جاوے۔ سرکار سے پرورش اُس کی ہوتی ہے۔ جب سنِ شعور کی نوبت پہنچتی ہے، پڑھایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ اس سے فراغت پاتا ہے۔ بعد اس کے کسی عہدے میں نوکربادشاہی ہوتا ہے۔ اب صاحبان عقل غور کریں کہ ان باتوں میں کیا کیا فائدے ہیں۔ جہاں کہیں ہرمقدمہ میں ایسا انتظام ملحوظِ خاطر ہو، کیوں کرکسی امر میں خلل اور فساد ظاہر ہو۔ ایسے لوگ جہاں پر کس طرح مسلط اور قادر نہ ہوں۔ ہندوستان میں کوئی کسی کو نہیں پوچھتا ہے۔ بادشاہ فکر رعایا سے غفلت رکھتا ہے۔ اگر کوئی عورت زنا کار ہوئی تمام عمر اسی میں رہی، کوئی اُس کو نہ سمجھاوے کہ راہ راست پر آوے۔ اگر کوئی لڑکا یتیم ہوتا ہے، کوئی شخص نہ اُس کو روٹی کپڑا دیتا ہے نہ پڑھاتا ہے۔ ان صورتوں میں خاک انتظام ہو۔ امورِ ملکی کا کیا سرانجام ہو۔ صاحبان انگریزوں کی عقل پر آفرین اور مرحبا کہ کیا اچھی باتوں کا رواج دیا۔ اپنی قوم سے کسی لڑکے کو بے علم و ہنر نہیں رکھتے ہیں۔ ہر ایک کے لیے ایک طرز جدا معاش کا مقرر کرتے ہیں۔ غرض یہ سب امور لندن کے جو بندے نے لکھا بہت خوب اور مستحسن دیکھا۔ بعد ان سیروں کے ملک فرانس کے دیکھنے کا شوق ہوا۔

 

فرانس

 

چھبیسویں تاریخ نومبر کی بوچڑ صاحب کے ساتھ ایک گاڈی پر سوار ہو کر کنارے دریا کے آیا۔ بوچڑ صاحب کے بھائی ہندوستان میں آتے تھے۔ ننکو نوکر اپنے کو اُن کے سپرد کیا۔ اُس نے بروقتِ رخصت بہت رنج کیا کہ تم نے مجھ کو اس شہر میں اکیلا چھوڑا۔ دل جدائی گوارا نہیں کرتا۔ میں اُس کو تسلی دلاسا دے کرجہاز پر سوار ہو کر چلا۔ نام اس جہاز کا گران ترک، زرنگار بنا تھا۔ ہر قسم کا کھانا پینا اُس پر موجود اور مہیا۔ کپتان جہاز کا نہایت خلیق اور شفیق حال غربا۔ راہ میں ایک رات بڑا طوفان آیا، جہاز ڈگمگایا۔ کپتان صاحب نے لنگر ڈالا۔ اُس پر بھی کچھ فائدہ مرتب نہ ہوا۔ اکثر صاحبوں اور بی بیوں کا حال حرکتِ جہاز سے پریشان ہوا۔ کوئی زیادتی ابکائی اور قے سے بیہوش اور ہراساں، کوئی دورانِ سر سے مصروفِ شور و فغاں۔ لڑکے بیچارے اور زیادہ حیران۔ خلاصہ یہ کہ جہاز پر شورِ قیامت بپا تھا مگر عنایت ایزدی سے بندہ اپنے حال پر رہا۔ جب وقتِ صبح ہوا، جہاز قریب جزیرہ بلون کے پہنچا۔ کنارہ اُس کا دیکھ کر میں بہت خوش ہوا، اس لیے کہ کنارہ اُس کا پل کی طرح لٹھوں سے پٹا تھا۔ صاحب لوگ مع بی بیوں کے اس پر چلتے پھرتے دور سے صاف دکھائی دیتے۔ بندہ جہاز سے اُتر کر محصول گھر میں گیا، پروانہ اپنا وہاں کے اہلکاروں کو دکھایا۔ بعد اس کے ایک سرا میں جا کر اُترا۔ ایک رات دن سیر و تماشا دیکھتا رہا۔ دوسرے دن صبحی اُٹھ کر  گاڈی میل کوچ پر سوار ہو کر دار السلطنت پارس کو روانہ ہوا۔ مواضع اور دہات راہ میں دیکھتے جاتے۔ بہ نسبت دہات لندن کے خوبی اور آبادی میں بہت کم تھے۔ گاڈی میل کوچ بہت بڑی انگریزی میل کوچ سے زیادہ تھی۔ چھ گھوڑے اُس میں جتے مگر انگریزی گھوڑوں سے قوت میں کم اور آہستہ آہستہ چلتے۔ راہ میں نشیب و فراز اور کیچڑ چھلا تھا، اس لیے کہ مینھ برسا تھا اور برستا۔ گاڈیبان گھوڑوں کو ہانکتے ہانکتے تمام منزل تھک گیا۔ ہم تین شخصوں نے شریک ہو کر گاڈی میں سے مقام کیا کہ اُس میں تین آدمیوں کی جگہ بآسائش ہوتی ہے۔ کرایہ پر لیا تھا، تسپر بھی گاڈی کے تکان سے بچاؤ نہ ہوا۔ جاڑے کی خوب شدت تھی۔ راہ میں ہر چیز میسر آتی، کتنے گانو کے بعد ایک موضع آبادان پایا کہ عمارت اس کی بلند اور نام اس کا آمین تھا۔

میں نے اپنے دوست سے کہہ کر وہاں مقام کیا اور اس شہر کی سیر کو چلا۔ لڑکے فقیروں کے پیچھے لگے سوال کرتے ساتھ چلے۔ یہ رسم وہاں کی برخلاف لندن کے نظر آئی۔ وہاں کبھی نہ دیکھی تھی۔ اُس شہر میں ایک کلیسا دیکھا۔ تین سو بیاسی فٹ اونچا تھا۔ تمام شہر اس پر سے نظر آتا۔ تصویریں شاگردوں حضرت عیسیٰ ؑ اور مقدسوں کی رکھیں، میں نے ویسی تصویریں کہیں نہیں دیکھیں۔ آئینہ جوڑیوں کے بہت صاف ایک روغن سے جِلا دیے شفاف۔ اس زمانہ میں وہ روغن نہیں ملتا ہے بلکہ بن ہی نہیں سکتا۔ اُس کلیسا کو دیکھ کر بہت خوش ہوا۔ بعد سیر کے سرا میں مقام کیا۔

غرض کہ پہلی تاریخ دسمبر کی دار السلطنت پارس میں پہنچا۔ نزدیک بازار بادشاہی کے سرائے ڈلی میں اُترا۔ دوسرے دن شہر کا تماشا دیکھنے چلا۔ پہلے بازار بادشاہی میں آیا، اُس کا آدھ کوس کا گھیرا تھا۔ حال اُس کا سنا کہ زمانۂ سابق میں مکان بادشاہی تھا۔ گردشِ زمانے سے اُس نے مفلس ہو کر بیچا، چنانچہ وہی مکان اب بازار ہوا۔ اسی سبب سے نام اس کا بازار بادشاہی رہا۔ دو طرفہ دکانیں سنگ مرمر کی تھیں۔ بعضو ں میں جواہرات، بعضی شال دو شالوں کشمیری سے بھریں۔ کسی میں کپڑے رنگا رنگ رکھے۔ پھول اُن کے رنگوں سے شرماتے۔ راہ بازار کی مابین دکانوں کے، واسطے محافظت مینھ اور غبار کے، شیشوں سے پٹی، عجب لطافت اور کیفیت رکھتی۔ قہوہ خانوں میں چھت پر زرستون سنگِ مرمر کے تھے۔ اندر ان کے میز پتھر کی رکھی، برابر ان کے کرسیاں زرنگار بچھیں۔ پریاں فرانس کی قہوہ پلانے کے لیے بیٹھیں۔ میں وہ مقام عشرت افزا دیکھ کر سرا میں آیا۔

دوسرے دن کلیسائے نیوٹروم میں گیا۔ اُس شہر میں بہتر اُس سے کلیسا نہ تھا۔ عمارت اُس کی نہایت وسیع اور عالیشان۔ دوسری طرف باغِ جنت نشان؛ اُس میں ہر ملک اور ہر قسم کے جانور موجود اور نمایاں، شمار ان کا نہیں یارائے زباں۔ ایک جانور عرب کا نظر آیا کہ لنبائی قد میں قریب بیس ہاتھ کے تھا۔ اگلا دھڑ اس کا بلند، پچھلا پست، اُس سے دو چند شکل اس کی ملی ہوئی شیر و آہو سے تھی۔ زراف اس کو کہتے ہیں بزبانِ عربی۔ اس کی صورت دیکھنے سے مجھ کو عبرت و ہیبت آئی۔ ایک کٹہرے میں سپید ریچھ بیٹھے وہ بھی بجائے تماشے کے تھے۔ رنڈیاں وہاں بیٹھیں، روٹی اور مٹھائی بیچتیں۔ جو مسافر سیر کو جاتا ہے اُن سے روٹی مٹھائی مول لے کر ریچھوں کو کھلاتا ہے، وہ خوش ہوتے ہیں اور روٹی کھاتے ہیں۔

چوتھے دن باغ بادشاہی میں گیا۔ پھولوں کو کھلا ہوا، میوؤں سے بھرا پایا۔ ہر قسم کے پھول تھے۔ کثرت میوؤں سے درخت جھکے۔ پری زاد فرانس کے خوش رفتار، باغ میں عجب بہار۔ غرض کہ وہ قطعہ روکشِ بہشتِ بریں تھا۔ گل بوٹوں سے سراپا رنگیں تھا۔ دماغ اُس کی بو سے تازہ ہوا۔ دل شگفتگی اُس کی سے کھلا۔

پانچویں دن پارس کی میوزیم میں گیا، وہاں کا تماشا دیکھا۔ ایک روغن مل کر ہر طرح کے جانوروں کو زندے کی طرح کھڑا کیا تھا۔ ہرگز زندہ مردہ میں سوائے حس و حرکت کے فرق نہ ہوتا۔ یہاں کئی جانور ایسے خوب دیکھے کہ لندن میں نہ تھے۔ چنانچہ اُن میں سے ایک ہاتھی اور شیر اور زراف تھا، عجیب وضع سے کھڑا تھا۔ اور بیان اُس جگہ کا مناسب نہ دیکھا بعینہ لندن کا سا تھا۔

چھٹے دن میں بوچڑ صاحب کے ساتھ کھانا کھاتا، ایک بوڈھا بہرا سرا میں اُترا تھا۔ شام پین پی کر وہ مست ہوا، مجھ سے اور ولیم بوچڑ صاحب سے کہنے لگا: آؤ ہم تم مل کر ناچ گھر چلیں، وہاں کا سیر و تماشا دیکھیں۔ اُس مکان کو اُن کی زبان میں اپرہ کہتے ہیں۔ ہم اس کے کہنے پر راضی ہو کر ناچ گھر چلے، وہاں جا کر سب مصروفِ تماشا ہوئے۔ دو رنڈیاں کہ ناچنے گانے میں یکتائے زماں تھیں، رقص و سماع میں مشغول ہوتیں، ایسے کرتب دکھائے کہ سب سرور میں آئے۔ مگر مجھ کو ایک امر اُن کا پسند نہ آیا، وہ یہ کہ انھوں نے ناچتے وقت ایسا کپڑا مہین ریشمی پہنا کہ تمام بدن خصوص جسم نہانی ان کا صاف نظر آتا۔ ناچتے ناچتے جب پانوں اُٹھاتیں، گویا لوگوں کو شرمگاہ اپنی دکھاتیں، مرد رنڈی سب تماشا دیکھتے۔ اس امر نامناسب کو خلافِ حیا نہ سمجھتے۔ یہ ماجرا خلافِ عقل نظر آیا۔ میں نے اکثر انگریزوں کا حال سُنا کہ ہندوستان کی کسبیوں سے بسبب پہننے ننگی پوشاک اور کپڑے باریک چست کے نفرت کرتے ہیں اور اسی وجہ سے ان کا راگ اور گانا نہیں سنتے ہیں۔ پر وہاں کوئی مانع نہ ہوا کہ ان کو اس حرکت بیجا سے باز رکھتا۔ قصہ مختصر وہ بوڈھا ساتھی ہمارا دیکھنے ہنروں ناچ اور مقام مخصوص اُن کے سے اور پینے شراب سے ایسا بے حال و بے خود ہوا کہ شور و غل مچاتا۔ اُس محفل میں حکم بادشاہی سوائے ناچنے گانے والوں کے کسی کے بولنے کا نہ تھا۔ جب وہ بوڈھا چلانے لگا، دو تین آدمیوں عزت دار قوم نے منع کیا۔ وہ بہرا اُن ناچنے والیوں کے دریائے عشق میں ایسا ڈوبا تھا کہ ہرگز شنوا نہ ہوا۔ جب ہم نے دیکھا کہ وہ نہیں سنتا ہے اور رنگِ مجلس بدلتا ہے بلکہ اپنے نکالے جانے کا بھی باعث ہوتا ہے، اشارے کنائے سے سمجھایا۔ شور و غل سے اس کو باز رکھا اور اپنے دل میں عہد کیا کہ اس کے ساتھ اب کہیں نہ جاویں گے، ہمراہی اس کے سے آپ کو بچاویں گے۔ رات بھر ناچ کے تماشے میں رہے، صبحی اپنے مقام پر آئے۔

ساتویں دن پھر ایسا ہی امر پیش آیا یعنی جب وہ بوڈھا کھانا کھا چکا اور شراب پی کر مست ہوا، مجھ سے اور بوچڑ صاحب سے کہنے لگا آج میرے ساتھ کنسٹ میں چلو، وہاں کی سیر دیکھو۔ ہم نے تکرار کی کہ تمھارے ساتھ جانے سے دل میں انکار کی۔ تم بالطبع مست ہوتے ہو، کسی کا کہنا نہیں سنتے ہو۔ اس نے ایسا مبالغہ کیا کہ ساتھ جانا پڑا، مقام عذر نہ رہا۔ ناچار ہمراہ ہوئے، کنسٹ گئے۔ وہ ایک مکان عالیشان بہت نفیس تھا۔ چند رئیسوں امیروں قوم نے شریک ہو کر اس کو بنوایا۔ کوچ عمدہ رکھی ہوئی، اس پر بچھونے اطلس و مخمل کے بچھے ہوئے۔ آٹھویں دن رات بھر مرد و زن کا جماؤ ہوتا ہے۔ ہر کوئی بجانے باجوں کا کمال دکھلاتا ہے اور شراب پی کر اپنی اپنی معشوقہ کا ہاتھ پکڑ کر ناچتا ہے۔ جب میں وہاں پہنچا فرانسیس کی پریوں کو دیکھا کہ کوچوں پر بیٹھی باجے بجاتیں۔ کیا خوب باجے تھے کہ آواز اُن کی سے مردے جی اٹھتے۔ اتنے میں دورِ جام شروع ہوا۔ بعد اس کے ہر ایک مست ہو کر ایک ایک پری کا ہاتھ پکڑ کر ناچنے لگا۔ چونکہ بندہ تمام عمر کبھی ناچا نہ تھا، ان صاحبوں کے سامنے اجنبی معلوم ہوتا۔ مگر اس حیلہ سے کامیاب مطلب تھا۔ اُس بڈھے نے بھی ہاتھ ایک بڑھیا کا کہ مٹاپے اور قد میں اس سے دگنی تھی، پکڑ کر ناچنا شروع کیا۔ بوجھ اس بڑھیا کا بھاری تھا۔ تھوڑی دیر میں تھک کر ہانپتے ہوئے کوچ پر بیٹھا اور سویا۔ میں نے اور بوچڑ صاحب نے تمام شب خوشی سے بسر کی۔ مگر وہ رات ایسی جلد کٹی کہ تھوڑی سی معلوم ہوئی۔ فقیر نے یہ شعر حسب حال پڑھی:

امشب مگر بوقت نمی خواند ایں خروس
عشاق بس نہ کردہ ہنوز از کنار و بوس

بالجملہ وہ شب ایسے لطف سے بسر ہوئی کہ بادشاہوں کو باوجود سامان کے میسر نہیں آتی۔ ہندوستان میں ایسی مجلس پریوں کی، خواب میں بھی نہیں دکھائی دیتی۔ صبحی اپنے مقام پر آیا۔

آٹھویں دن اپنے ہمراہیوں سے پیشتر جاگا۔ ایک شخص اٹھارہ برس کے سن کا شیشہ شراب بیر آگے رکھتا، قہوہ وغیرہ ملا ملا کر اُس کو پیتا۔ میں دیکھ کر متحیر ہوا یہ کون ایسا ہے جو علی الصباح شراب بیر پیتا ہے۔ یہ وقت لال شراب پینے کا ہے اس لیے کہ شرابِ سرخ اس وقت پینا فائدہ اور رواج رکھتا ہے۔ میں اسی خیال میں تھا کہ اُس نے آپ ہی کہا آؤ شراب بیر پیو۔ میں نے کہا اس وقت معاف رکھو۔ ثابت ہوا کہ وہ امیر زادہ تھا۔ باپ اُس کے نے تحصیلِ علم کے واسطے فرانس میں بھیجا تھا، وہ یہاں آ کر ایسے امور بے جا میں پھنسا۔ شغل علم سے باز رہا۔ پھر اُس نے کہا ہمارے ساتھ چلو، سیر عجائبات اس ملک کی دیکھو۔ میں نے اقبال کیا۔ بوچڑ صاحب کو ساتھ لے کر ہمراہ اُس کے چلا۔ جاتے جاتے اُس جگہ لے گیا کہ در و دیوار شیشے کا تھا۔ جو کوئی گمنام زہر کھا کر مرتا ہے یا تلوار بندوق سے اپنے تئیں ہلاک کرتا ہے، لاش اس کی اس مکان میں رکھتے ہیں۔ فوارے کی راہ حوضوں سے پانی اُس پر چھڑکتے ہیں۔ بعد تین چار روز کے جب تعفن آتا ہے اور کوئی وارث مردہ نہیں پیدا ہوتا ہے، کہیں نہ کہیں دفن کر دیا جاتا ہے۔ اگر وارث اُس کا ہوتا ہے، ایام مقررہ سے پہلے لاش لے جاتا ہے۔ چنانچہ اُس وقت بھی لاش ایک رنڈی کی پڑی تھی، مجھ کو اس سے عبرت آئی۔ پارس میں چند روز رہا، کوئی دن ایسا نہ ہوا کہ دو تین آدمیوں نے اپنے تئیں نہ ہلاک کیا۔

نویں تاریخ دسمبر کی پکچر آف اڈس میں گیا۔ وہ تصویر خانہ تھا۔ ایسا مکان کہ بلندی میں آسمان سے باتیں کرتا۔ ستون اُس کے زرنگار اور مطلا فرش اس کا شفاف خوش رنگ لکڑی کا پل کی طرح پٹا ہوا۔ اگر کوئی عاقل اچانک اُس پر قدم رکھتا، یقین ہے کہ بسبب چکناہٹ کے پھسل پڑتا۔ اُس مکان میں تصویریں مصوروں کامل اگلے زمانہ کی زیب پذیر تھیں، سب کی سب بے نظیر تھیں۔ اُستادوں کے ہاتھ کی بنیں۔ بموجب تخمینہ قریب دو لاکھ کے نظر آئیں۔ اس جائے عشرت فزا کو دیکھ کے میں بہت خوش ہوا۔

بعد ازاں ایک گاڈی کرایہ کر کے مع بوچڑ صاحب کے اُس پر سوار ہو کر پیالس برسیل کو چلا۔ وہ مقام پارس سے چھ کوس فاصلہ رکھتا۔ مکان جشن اگلے بادشاہ کا تھا۔ وہاں آ کر مع اپنی بیویوں کے جشنِ جمشیدی کرتا یعنی شراب پی کر اُن کے ساتھ عیش و نشاط میں مشغول ہوتا۔ راہ میں جا بجا آبادی و سبزی نظر آئی۔ دلِ حزیں نے اس سے شگفتگی بہم پہنچائی۔ دو گھڑی دن رہے وہاں پہنچا۔ گرد اُس کے پہاڑ اور سبزۂ مینا رنگ تھا۔ قریب اُس کے ایک باغ جنت آثار بوجھ پھلوں سے جھکے ہوئے درختِ میوہ دار، پھول اُس کے رنگا رنگ، غیرت دہِ کارنامۂ ارژنگ۔ حوضوں پُر آب میں تصویریں عجیب و غریب قائم و برپا، اُن کے مونھ سے فوارہ پانی کا اُبلتا۔ بعض حوض میں مرغابیاں اور چڑیاں دریائی تیر رہیں، گویا وہ چشمۂ حیات تھا اُن کے تئیں۔ اُس باغ کے دیکھنے سے دل میں طاقت آئی، آنکھوں نے طراوت پائی۔ اُسی کے پاس ایک مکان گنبددار، اندر اُس کے کرسیاں سنگِ مرمر کی ترشی ہوئیں آبدار۔ بیچوں بیچ اُس کے حوض لبریز، پانی کا فوارہ اُس میں جاری تھا۔ اگلے بادشاہ اس کو عرقِ انگور سے بھرتے، نازنینوں کے ساتھ پیتے۔ بعد اس کے مکانِ جشنِ بادشاہی نظر آیا۔ سوائے زر تابدار، چھت اور دیوار اس کی مینا کار۔ پائے نگاہ شفافی اس کی سے  پھسلتا ہر بار۔ میزاک ڈال سنگِ مرمر کے بچھے تھے۔ ہر ایک لاکھ لاکھ روپیہ سے قیمت زیادہ رکھتے  اور سامانِ شاہانہ ایسا کہ عقل میں وصف اُس کا نہ آ سکتا۔ حق یہ کہ وہ مکان روضۂ تاج بی بی سے لاکھوں درجے بہتر تھا۔ عمارتوں لندن اور ہندوستان سے کہیں خوب تر تھا۔ کوئی بادشاہوں زماں سے اب مجال نہیں رکھتا ہے کہ ویسا مکان بنوائے۔ الحاصل وہ مکان حلقۂ زمین میں جوں نقشِ نگیں ہے یا بروئے زمین بہشت بریں ہے۔

گیارھویں دن بوچڑ صاحب کے ساتھ گاڈی پر سوار ہو کر بالشیش میں گیا۔ وہ گورستان فرانسیسیوں کا تھا۔ شہر سے دو کوس فاصلہ رکھتا۔ دروازے اُس کے پر پھول والیاں بڑے تکلف سے ہار پھول بیچنے میں مشغول تھیں۔ جو کوئی اپنے دوستوں کی قبر پر جاتا، ہار اُن سے مول لے کر قبروں پر چڑھاتا۔ فقیر کو اس بات سے رسوم ہندوستان کا خیال آیا کہ وہاں بھی یہی طریقہ تھا۔ جب اُس کے اندر پہنچا قبریں سنگِ مرمر کی بنی دیکھیں تیار۔ اُن پر ایک چھوٹی سی کوٹھری کھڑکی دار۔ اُس میں دو بتیاں مومی اور کتاب نماز کی اور تصویر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی اور پھولوں کے ہار۔ جو کوئی اپنے دوست کی قبر پر جاتا ہے، کھڑکی کھول کر  اندر کوٹھری کے بیٹھ کر کتاب نماز پڑھتا ہے۔ ثواب اُس کا مردہ کی روح پر پہنچتا ہے۔ عود وغیرہ خوشبو کے لیے جلاتا ہے۔ طرفہ تکلف یہ دیکھا کہ ہر قبر کے پاس درخت پھولوں کا تھا۔ درختوں سرو کا سایہ ہر قبر پر رہتا۔ دھوپ کا ہرگز گذر نہ ہوتا۔ دو قبریں سنگِ مرمر کی الاڈانوریا کی بہت مضبوطی بنی تھیں۔ شبیہیں ان کی پتھر پر لکھیں۔ وہ دونوں عاشقی معشوقی میں مثل لیلا و مجنوں یکتائے زمانہ ہوئے ہیں، حالات اُن کے افسانۂ زبان ہوئے ہیں۔ اس نواح میں اب جوکوئی کسی پر عاشق ہوتا ہے اُن کی قبر پر جا کر پھولوں کا ہار چڑھاتا ہے اور کتاب نماز پڑھ کر ثواب ان کی روح پر بھیجتا ہے۔ دو تین قبریں اور جرنیل لشکر بونے پاٹ کی نظر آئیں۔ بہت مستحکم اور مضبوط تھیں۔ سبب زیادتی سنگ مرمر کا یہ معلوم ہوا کہ وہاں سے قریب ملک انٹلی اور پہاڑ مرمر کا تھا۔ اُس سے یہ پتھر کُھد کُھد کر آتا۔ بندہ جہاں میں پھرا، پر ایسا قبرستان لطیف کسی قوم کا نہ دیکھا۔ قبرستان نہیں گلستان ہے، بظاہر مُردوں کے لیے بہشت کا سامان ہے۔ یہ بات دل کو پسند آئی، اَور قوموں میں نہ ہونے اس رسم سے، طبیعت غم کھائی۔ انگریز کہتےہیں خاک مردوں کو تکلف ضرور نہیں، کیا اس سے اُن کو نجات ہے۔ یہ صحیح میں بھی جانتا ہوں لیکن اگر قبروں پر پھول رکھیں، خوشبوئیں جلائیں کیا قباحت کی بات ہے۔ خوشبو ایسی چیز ہے کہ جانور، پرندہ مثل زنبور سیاہ و زنبورِ عسل اُس پر مائل ہوتے ہیں۔ ہندو اپنے بتوں پر ہار پھول چڑھاتے ہیں، مسلمان قبروں پر پھول لے جاتے ہیں، خوشبوئیں جلاتے ہیں۔ پس یہ رسم ہر مذہب میں خوشنما ہے۔ ظاہر ارواح کو اس سےلطف ہوتا ہے۔

بارھویں دن پتہیم میں گیا۔ وہ خاص مدفن بادشاہوں فرانسیس کا تھا۔ عمارت عالی رکھتا۔ صورت اُس کی یہ کہ گنبد در گنبد مانند چھلکے پیاز کے بنا۔ اندر اُس کے تصویریں عمدہ کھچی ہوئیں، خوشنما سیڈھی گول چکردار بنی تھی۔ لوگوں کو اوپر چڑھنے میں کیفیت اندر گنبد کے نظر آتی۔ سب سے اوپر چھت شیشے کی، محافظت گرد و غبار کےلیے بنائی۔ وہاں سے تمام عمارت شہر کی نظر آئی۔ اندر مکان کے تہ خانہ تھا کہ تابوت بادشاہوں کا اُس میں دفن کیا۔ نگہبان اُس مکان کا مجھ کو اندر لے گیا۔ اپنے دامن پر ایک لکڑی ہاتھ سے پکڑ کر ماری، توپ کی سی آواز کان میں آئی؛ معلوم ہوا کہ یہ بسبب مکان گنبددار کے وہ شور تھا۔ قبر بادشاہوں کی دیکھ کر مجھ کو عبرت آئی کہ کیا کیا صورت تہ زمین سمائی۔ یہ پادشاہ کہ فرماں روا تھے، اب کوئی نشان سلطنت کا نہیں رکھتے۔ والٹیر جو بڑا عالم اپنے علم کا تھا، آخر بسبب زیادتی علم کے بے دین ہوا تھا۔ اُس کی قبر بھی وہیں تھی، اُس پر تصویر اُس کی کھڑی۔

تیرھویں دن کتاب خانہ بادشاہی میں گیا۔ ہر علم اور ہر زبان کی کتابوں کا ڈھیر تھا۔ برابر رکھی ہوئیں بطرزِ خوشنما کہ کوئی عمرِ نوح پاوے اور رات دن ان کی سیر کرے، ہرگز ان کی نہایت کو نہ پہنچے۔ ان لوگوں کو شاباش اور آفریں جنھوں نے خونِ جگر کھا کر کتابیں جمع کیں۔

چودھویں دن اُس مکان میں گیا کہ تصویریں آدمیوں اور جانوروں کی اور ہر ایک عضو ان دونوں کے موم سے بنائے ہیں، ایسا ثابت ہوتا کہ تصویر آدمیوں کی بات کیا چاہتی ہیں۔ تمام اعضا ایسے بنے کہ سرِ مُو فرق نہ رکھتے۔ ہاتھ چومیے بنانے والوں کے کہ کیا کمال کیا تھا۔ جو لڑکا شوق ڈاکتری کا رکھتا ہے، مدتہا وہاں رہ کر ہر عضو مومی کو بغور دیکھتا ہے۔ یہ بات خلاف عقل نظر آئی کہ محافظ وہاں کی ایک عورت تھی۔ اُس نے ہر عضو تصویر مجھ کو دکھلایا۔ بعضا ان میں سے ایسا کہ قابل دیکھنے رنڈی کے نہ تھا۔ صاحبان عقل سے بعید نظر آیا کہ اس خدمت پر اُس کو مقرر کیا۔

پندرھویں دن ایک مکان میں گیا۔ وہاں صد ہا آدمی قالیچے شطرنجیاں بُن رہے تھے، بناوٹ میں تصویر عمدہ کھینچتے۔ دریافت ہوا کہ وہ سب مصور تھے۔ تصویریں قالین اور دریوں پر ایسی معلوم ہوتیں کہ کسی مصور کامل نے تصویریں کاغذ پر کھینچی ہیں۔ اُن کی کاری گری دیکھ کر متحیر ہوا۔ حال ان کا پوچھا، ظاہر ہوا کہ واسطے فرش دیوان عام شاہ فرانسیس کے بُنتے ہیں اور کہیں نہیں بیچتے۔ زبانِ فرانسیسی میں اس کام کو ٹپسٹری کہتے ہیں۔ اُس کے بعد کونسل کے مقام پر گیا، ایک مکانِ فلک بنیاد دیکھا۔ ستون سنگ مرمر کے ایک ڈال راست اس میں لگے۔ صاحبانِ کونسل اپنے رتبہ کے موافق جا بجا بیٹھے۔ ہر ایک کے نمبر لکھے۔ اُس مکان کی شکست و ریخت کے لیے مزدور لگے تھے۔ میں یہ حال دیکھ کر باہر نکلا، پانی برسنے لگا۔ سارے کپڑے تر ہوئے مگر گرتے پڑتے گھر چلے۔ راہ میں دو رنڈیاں ایک خوبصورت دوسری کریہ الہیئت ملیں۔ میری وضع خلاف اُس شہر کے دیکھ کر تُرک تُرک کہتی، تماشا دیکھتی، پیچھے دوڑی آتیں۔ اکبار پانو پھسلا، دونوں لڑکھڑا کر گریں۔ میں نے قریب جا کر زنِ جمیلہ کا ہاتھ پکڑ کر اُٹھایا، بدشکل کو ویسے ہی چھوڑا۔ وہ بڑی محنت سے اُٹھ کر اپنی بولی میں کچھ کہنے لگی۔ مگر اُس زبان سے مجھ کو آگہی نہ تھی۔ آخر اُس نے ایک دھکا دیا مجھ کو زمین پر گرایا، دوسری عورت خوبصورت نے جس کو میں نے اٹھایا تھا میری طرف ہو کر اُس سے مقابلہ کیا۔ میں جان بچانی غنیمت سمجھا، وہاں سے بھاگا۔ لڑکے کیچڑ بھرے ہوئے کپڑے اور بیگانہ وضع دیکھ کر تالیاں دیتے پیچھے میرے دوڑتے آتے۔ بہزار خرابی بھاگتے بھاگتے سرا میں پہنچا۔ میرا حال دیکھ کر سب ہمراہی ہنسنے لگے۔ میں سخت نادم و شرمندہ ہوا۔ پانو میں چوٹ آئی تھی، اس سبب سے دو ایک دن قیام کیا۔ بعد اس کے اُس امیر زادہ کے ساتھ جو صبوحی شراب بیر پیتا تھا سیر کو چلا۔ مٹھائی بیچنے والیوں کی دکان پر گیا۔ دیکھا کہ رنڈیاں خوبصورت تھال مٹھائی کے سلیقہ سے جمائے ہوئے بیچ رہی ہیں۔ جب مجھ سے چار چشم ہوئیں، بے اختیار ہو گیا۔ دل ہاتھ سے کھو گیا۔ انھوں نے مجھ سے کہا قسم مٹھائی سے جو چاہو سو لو، میں نے جواب دیا تمھارے لبِ نوشیں، کلام  شیریں کے سامنے مٹھائی کیا اصل ہے۔ یہ اصل وہ نقل ہے، تم خود شہد ہو؛ اس سے زیادہ کیا مٹھائی ہے بھلا سچ کہو۔ یہ سن کر وہ بہت ہنسیں اور باتیں معشوقانہ فرمائیں۔ اپنے پاس عنایت سے بٹھلایا۔ بندہ ان کی شیریں گفتاری سے چاشنی یاب ہوا۔ جب چلنے کا ارادہ کیا، انھوں نے پھر بٹھلایا۔ میں نے کہا مکھی کو اُسی قدر شہد پر بیٹھنا چاہیے کہ پھنس نہ جاوے۔ میں بھی اگر زیادہ ٹھہروں گا، پھنس جاؤں گا۔ پھر میں نے چلتے وقت تھوڑی مٹھائی مول لی اور روانہ ہوا۔ وہی امیر زادہ اور کتنے مکانوں میں لے گیا۔ بیان اُن کا نہیں ہو سکتا۔ حق یہ ہے کہ فرنگستان پرستان ہے، ہر ایک شخص حسن و جمال میں غیرتِ مہرِ درخشاں۔ جو کوئی یہاں آتا ہے، وطن کو اپنے بھول جاتا ہے۔ شعر:

سیہ چشم سبزانِ رنگیں نگاہ
بشورِ نمک از شکر باج خواہ
رہِ مایہ دارانِ ایمان زنند
بخروار بیعِ دل و جان کنند

جائے فضل و کمال ہے، کانِ حسن و جمال ہے۔ ملک پارس دار السلطنت فرانس نہایت آبادان ہے اور ولایت جوں گلستان۔ مگر  راہ کوچہ و بازار کا انتظام لندن سا نہ تھا۔ یعنی لندن میں ایسی سڑک بنی ہے، دونوں طرف سے بلند بیچ میں نیچی ہے۔ دو طرفہ راہ بلند پر آدمی آتے جاتے ہیں۔ راہ پست بیچ کی سے جانور اور گاڈی لے جاتے ہیں۔ یہاں سب راہ برابر ہے، یکساں سرا سر ہے۔ آدمی اور جانور کی راہ میں کچھ فرق نہیں۔ بلکہ برسات میں بسبب نشیب و فراز فرش سنگی کی راہیں قابلِ آمد و رفت نہیں رہتیں۔ کہیں کہیں پانو پھسلتے ہیں، آدمی اور جانور گرتے ہیں۔ مگر جب سے فلپ شاہ بادشاہ تخت پر بیٹھا ہے، راہوں کی تیاری میں جہدِ بلیغ رکھتا ہے۔ سابق اکثر جا روشنی چراغ و فانوس کی ہوتی تھی، بادشاہ موصوف وہاں اب گیس روشن کرواتا ہے۔ عدل و انصاف کا پتلا ہے۔ بہت رسمیں بیجا جو پہلی تھیں، اس نے اپنے عہد دولت سے موقوف کروا دیں۔ جیسے قمار بازی وغیرہ وہاں کے لوگوں کی عادت تھی، اُس نے بالکل اٹھا دی۔ ہر امر میں احتیاط و ہوشیاری رکھتا ہے۔ اس کی تدبیر سے رستہ بھی مثلِ لندن کے تیار ہوتا ہے۔

مکانِ قواعد اور سلاح خانے میں گیا۔ بارہ ہزار سپاہیوں کو قواعد میں مشغول پایا۔ پیادے فرانسیس کے قواعد اور قد اور چستی چالاکی میں پیادوں انگلش سے کم تھے۔ دل کا حال نہیں معلوم کہ شجاعت کم یا زیادہ رکھتے۔ سوار داڑھی موچھ والے البتہ ہیبت ناک تھے۔ قد و قامت میں دراز اور چالاک نظر آتے۔ گھوڑے اُن کے ضعیف البنیان، نہ مثل گھوڑوں انگلستان کے۔ گاڈیوں میں بھی گھوڑے چھوٹے لگے۔ لندن میں ایسے گھوڑے دیکھے کہ سُم اُن کے اونٹوں کے سے اور پٹھی ہاتھی کے سے تھے۔ جس قدر صفائی اور صیقل لندن کے ہتیاروں میں دیکھی یہاں کی فوج کے ہتیاروں میں نہ تھی۔ جب ان سیروں سے فارغ ہوا۔ گاڈی میل کوچ سے مقام کیا۔ کرایہ پر ٹھہرا کر دو تین صاحبوں کے ساتھ سوار ہوا اور لندن چلا۔ راہ میں گانو آباد فرانسیس کے دیکھے۔ ہر ایک دیوار شہر پناہ رکھتی اور ہر ایک میں قلعہ اور خندق۔ قلعے میں پل بنے تھے۔ جو گاڈی اس پر سے جاتی، سبکی و گرانی اس کی اُس پل سے دریافت ہوتی۔ کوئی جب تک پروانہ سند پاس نہ رکھتا ہو، اس میں چہرہ اور خال و خط اس کا نہ لکھا ہو، شہروں فرانسیس میں نہیں جا سکتا ہے۔ چلتے چلتے بندہ جزیرۂ بلون میں پہنچا۔ وہاں مچھلی پکڑنے والوں کے جہاز جمع تھے۔ بسبب افراط کے مچھلی بہت ارزاں بیچتے۔ آب و ہوا وہاں کی اچھی۔ بارش، برف کی زیادتی۔ یہ جزیرہ کنارے سمندر کے عجب جائے عشرت فزا تھا، زمانہ قدیم سے بسا تھا۔ تین طرف سے دیوار شہر پناہ تھی مگر ایک سمت جدھر حال سے آبادی ہوئی خالی۔ ایک قلعہ قدیمی بھی اُس میں تھا۔ وہاں پہنچ کر بوچڑ صاحب کا دل مائلِ قیام ہوا، بپاسِ خاطر ان کی، آٹھ روز مقام کیا۔ ہر روز سیر و تماشے میں رہتا۔ اسی عرصہ میں مجھ سے اور ایک عورت خوبصورت سے نہایت محبت ہوئی، مگر خالی اغراضِ نفسانی سے تھی۔ سن اس کا پندرہ سولہ برس کا، عقل و دانائی میں وحید و یکتا۔ اکثر اس کے ساتھ دریا کنارے سیر کرنے جاتا۔ ایک روز میں اور وہ مصروف تماشا اور کوئی مخلِ صحبت نہ تھا، اس نے شیشۂ ساعت نکال کر کوکا۔ حال ساعتوں دن کا دریافت کیا۔ گھڑی بیش قیمت تھی۔ میں نے یہ بات کہی: تم ہندیوں پر بے مروتی اور بے رحمی کا طعنہ دیتی ہو۔ اگر اس وقت میں تم کو دریا میں ڈال دوں اور گھڑی چھین لوں، تم کیا کرو، کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔ اُس نے جواب دیا کہ میں نے خوب سمجھ کر تم سے اتحاد کیا۔ اتنی عقل و تمیز رکھتی ہوں کہ جواہر کو پتھر سے جدا کروں۔ آٹھ دن کے بعد بمقتضائے ضرورت اُس نازنین سے جدا ہو کر جہاز گران ترک پر سوار ہوا۔ اگرچہ مفارقت اس کی کا سخت قلق تھا، مگر چار ناچار صبر کیا۔ رات کو ہوا موافق تھی، جہاز چل نکلا اور سریع السیر ہوا۔ بندہ دو تین ہمراہیوں کے ساتھ اس پر بیٹھا تھا، اور لوگ بھی اس میں تھے۔ رات کا کھانا کھا کر باتیں کرنے لگے۔ کسو نے شراب پی کر کچھ قصور کیا تھا، اس کا تذکرہ آیا۔ کوئی کہتا، قابل تعزیر ہے، کوئی کہتا، سزاوار بخشش اُس کی تقصیر ہے۔ ایک شخص ظاہر میں بہت متقی اور دیندار تھا، علم رکھتا۔ وہ بھی اس کے حق میں باتیں طرح طرح کی کہتا۔ بندہ خاموش بیٹھا سنتا تھا۔ کسی کی بی بی خوبصورت اس دیندار کے پاس بیٹھی تھی، جب سب لوگوں کو نیند آئی میں نے بھی اس کی باتیں سنتے سنتے کپڑا مونھ پر رکھ کر قصداً اپنے تئیں نیند میں ڈالا۔ اس مرد دانا نے چپ و راست نظر کر کے بزعم خود سبھوں کو سوتا پایا۔ دروازہ کمرے کا بند کیا اور اس عورت غیر کی سے مشغول لذات نفسانی ہوا۔ میں اپنے دل میں  سوچا، یہ وہی شخص ہے جو دو گھڑی پیشتر دینداری کی باتیں کہتا۔ آپ ہی گناہ میں ڈوبا۔ عجب حال اہل دنیا کا۔

ولایت کے سب سامان اور باتیں اور رسمیں اچھی ہیں، مگر بعضی رسمیں خلاف آئین ہیں۔ ایک اُن میں سے مقدمہ خاوند جورو کا ہے۔ بنظر انصاف دیکھا چاہیے کہ مرد بہزار محنت و مشقت وجہ معاش حاصل کرتا ہے۔ حقوق والدین سے کہ ان سے زیادہ حق کسی کا نہیں، غافل ہوتا ہے، دل و جان سے بی بی کی خاطر داری میں مصروف رہتا ہے۔ سخت حیف ہے کہ وہ بی بی اور سے ملتفت ہوئے۔ ننگ و ناموس شوہر برباد کرے۔ ہزاروں لعنت اس مرد ملعون پر کہ پرائی جورو سے مرتکب مباشرت ہو، منھ کالا اس عورت کا کہ غیر مرد سے مشغول لذت ہو۔ یہ رسم اس ملک کی اپنےمزاج کے پسند نہ آئی۔ اس لیے کہ اس میں بہت فساد ہے اور برائی۔

قصہ مختصر بعد چند روز کے لندن میں پہنچ کر قدیمی مکان پر اُترا اور شہر کی سیر میں مشغول ہوا۔ لی بیس یہودی ایک کلیسا میں لے گیا۔ وہاں کے عبادت کرنے والوں کا عقیدہ یہ تھا کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہیں ہیں خدا کے بیٹے، بلکہ رسول ہیں خدا کے بھیجے۔ اسی طرح انگریزوں میں کئی مذہب دیکھے بلکہ ہر قوم میں سینکڑوں مذہب ہوے۔

میں نے خوب غور کیا، مذہبوں کا پردہ پایا۔ ہر ایک ہوا و حرص دنیا میں پھنسا ہے، مذہب کا نام رکھ لیا ہے۔ عمل اپنے طریقہ پر کوئی نہیں کرتا ہے۔ آخر بعد تحقیقات کے یہ ثابت ہوا کہ مذہب سلیمانی ہی سب مذہبوں سے اچھا ہے۔ کلیہ اس کا یہ ہے کہ حق تعالیٰ کو وحدہ لا شریک جانے۔ جو کچھ معاش محنت مشقت سے پیدا کرے کچھ اپنے خرچ میں لاوے باقی خدا کی راہ پر بانٹ دے۔ خدا نے جہاں میں پیدا کیں اقسام کی نعمتیں، بندوں کے لیے ہیں تا کھاویں اور بانٹیں۔ جنت و دوزخ اسی دنیا میں موجود ہیں نہ اور کہیں۔ جس کی عمر رنج و مصیبت میں گزرے اس کو دوزخ ہے یہیں۔ جس کی زندگی چین و آرام سے بسر ہوتی ہے اس کو ہے بہشتِ بریں۔ خدا تعالیٰ رحیم و کریم ہے۔ عدل و انصاف میں نہیں کوئی اس کا سہیم۔ یہ بات خلاف عدل و داد کے ہے کہ زندگی چند روزہ انسان کے لیے بہشت و دوزخ آباد کرے۔ اس زندگی چند روزہ میں اور مصیبتیں کیا کم ہیں۔ سینکڑوں مکروہات و غم ہیں۔ چڑیا اور جانوروں کو باوصف بے عقلی کے اپنے بچوں سے اتنی محبت ہوتی ہے کہ اُڑ کر دور سے دانہ لا کر کھلاتے ہیں اور اس کو بہر صورت تکلیفوں سے بچاتے ہیں۔ حق تعالیٰ جو ستر درجے ما باپ سے زیادہ محبت اپنے بندوں سے رکھتا ہے کیوں کر عقل میں سماتا ہے کہ دوزخ میں ڈالے گا۔ آدمی زاد جب پیدا ہوا، فکر دودھ کا ہوا۔ جب کچھ بڑھا، محنت تحصیل ہنروں اور نوشت و خواند میں پڑا۔ جب اس سے فراغت پا کر سن بلوغ کو پہنچا، جورو کے پھندے میں پھنسا۔ سب چوکڑی بھولا۔ جب کہ عیال دار ہوا، اور زیادہ جکڑ گیا۔ عزیز قریب والدین سب کو بھولا۔ ماں باپ کے مرنے کا غم طرہ اس پر ہوا۔ جب پچاس برس کا ہوا، کوئی بینائی سے معذور ہوتا ہے، کوئی کانوں سے نہیں سنتا ہے۔ اس سے زیادہ عذاب اور کیا ہو گا کہ ساری عمر بندے کی مصیبت میں گزری۔ اس کا نام دوزخ ہے۔ خداوند کریم و رحیم نے دوزخ اور کہیں نہیں بنائی کہ اُس میں بندوں کو ڈالے۔ خلاصہ مذہب سلیمانی کا یہ ہے، سوا اس کے گمرہی ہے۔ ہر ایک مذہب برائے نام ہے۔ جو خدا کی راہ پر خرچ کرتا ہے، غریبوں مسکینوں کی پرورش مدنظر رکھتا ہے، مردم آزاری سے باز رہتا ہے، وہی بندہ مقبول ہے کوئی مذہب رکھتا ہووے۔ اے یوسف حلیم! یہ قصہ بے پایاں ہے، زبان کو نہیں تاب بیاں ہے۔ سر رشتہ سخن کا توڑ، باگ قلم کی طرف مطلب کے موڑ۔

پچیسویں تاریخ دسمبر کی تھی، اس روز عید انگریزوں کی ہوئی۔ پراون صاحب نے جو کپتان جہاز کے تھے، میری دعوت کی۔ بموجب طلب ان کے کے قریب شام کے ان کے مکان پر گیا۔ کتنے صاحبوں اور بی بیوں سے جو شریک دعوت تھے، فائز ملاقات ہوا۔ ساری رات عیش و عشرت میں رہا، صبحی رخصت ہو کر اپنے گھر آیا۔ بعد چند روز کے تین دن تک مثل کہرہ کے ایسا برف پڑتا رہا کہ روزِ درخشاں رات کی طرح تاریک ہوا۔ کچھ نہ دکھائی دیتا۔ پانی دریائے سرپن ٹین کا جم گیا۔ فرش مرمر سپید کا سا نظر آتا۔ زن و مرد لوہے کی جوتیاں پہن کر اس پر دوڑتے پھرتے، اس پار سے اس پار آتے جاتے۔ میں نے ایسا ماجرا کبھی نہ دیکھا تھا۔ اچنبھا سمجھ کر دیکھ رہا تھا۔ آخر یادگاری کے لیے میں بھی کبھی اس پار آتا کبھی اس پار جاتا۔ اس عرصہ میں آگس چنچہ یعنی خرانہ کے مکان میں آگ لگی جو قریب مکان کمپنی کا تھا۔ لوگ سراسیمہ ہو کر دوڑے، آگ بجھانے میں مصروف ہوئے۔ ایک کل پانی کی سامنے لا کر کھڑی کی۔ نل اس کے مقابل آگ کےکیے اور دیر تک گھماتے رہے، مگر بسبب برودت کے پانی کل کے اندر جم گیا تھا ہرگز رواں نہ ہوا۔ جب بہت لوگوں نے محنت کی، کل کے اندر گرمی پہنچائی، تب پانی نلوں کی راہ سے بہ نکلا، آگ کو بجھایا۔ لیکن بجھتے بجھتے سارا اسباب جل گیا۔ چند روز بعد کپتان لاڈ صاحب نے میری دعوت کی، نہایت مہربانی میرے حال پر فرمائی۔ ازراہ عنایت مکان ڈوک صدر لین بھائی شاہ کا تماشا دکھانے اپنے ساتھ لے گئے۔ عمارت رفیع الشان، نقش و نگار بے پایاں نظر آئے۔ کمرے اس کے بہت بڑے تھے۔ دروازے اس کے مکان بادشاہی سے زیادہ اونچے۔ آتش خانے سنگ مرمر کے ترشے عجیب و غریب بنے تھے۔ میں نے باوجود سیاحت کے ویسے کہیں نہیں دیکھے۔ محافظ مکان سے پوچھا کہ ان آتشدانوں کے ساخت میں کیا خرچ ہوا۔ اس نے کہا ایک ایک کے تراشنے میں اسی ہزار روپیہ صرف ہوا۔ اسی بات سے دریافت کیا چاہیے کہ اور صنعتوں میں کیا لاگت آئی ہو گی جس کے فقط آتشدانوں کے تراشنے میں اتنی مزدوری اٹھی۔ وہ مکان دیکھ کر بندہ بہت محظوظ ہوا۔

ماہ جنوری میں ایک دن برنڈن صاحب سے کہ اگلے دنوں میں شاہ اودھ کے نوکر تھے، ملاقات ہوئی۔ بہت تپاک سے مل کر اپنے گھر لے جا کر میری ضیافت کی۔ دیر تک دوستانہ باتیں رہیں اور عجائبات اور خوبیاں لندن کی بیان ہوئیں۔ بعد اس کے ذکر اس پل کا آیا کہ انگریزوں نے دریائے ٹیم کے نیچے بنوایا۔ وہ قریب ان کے مکان کے تھا۔ میں نہایت مشتاق دیکھنے کا ہوا۔ آخر ان کے ساتھ پل دیکھنے چلا۔ وہاں جا کر عجب حال دیکھا۔ اوپر ایک دریا جس میں جہازوں کا لنگر پڑا ہوا تھا، بہتا۔ نیچے اس کے انگریزوں نے پل بنوایا۔ دو طرفہ اس میں راہ آدمیوں کی، بیچ میں گاڈی بگھیوں کی۔ تھوڑے دن پیشتر ایک مقام پر ٹوٹ گیا تھا۔ پانی اس طرف سے اندر اس کےآیا تھا۔ ٹپنل صاحب جو وہاں کے نگہبان تھے، کہنے لگے اگر تم کو خوف نہ آتا ہو تو اس جاگہ چلو۔ میں اپنے ساتھ لے چلوں۔میں نے جواب دیا، بسم اللہ میں مستعد ہوں۔ کپڑے اوٹے جوٹے موٹے پہنے۔ دس آدمیوں نے پلیتے روشن کر لیے۔ اس مقام پر پہنچ کر دیکھا عجب انداز کا تھا کہ عقل میں نہ آتا۔ جہاں درز پڑی تھی مرمت جاری تھی۔ پیچوں میں لگا کر اینٹ اس جاگہ تک پہنچاتے۔ ایک ایک مزدور چھ روپیہ روزینہ پاتے۔ اس پل کی تیاری میں چوبیس کرور روپیہ خرچ ہوا اور اب تک ہوتا جاتا ہے۔ ایک بازار بھی وہاں بنا چاہتا ہے۔

 

لندن سے واپسی

 

بعد ان سیروں کے ایک دن خیال آیا۔ جو روپیہ میں زادِ راہ کے لیے لایا تھا، بہت خرچ ہوا، تھوڑا سا باقی رہا۔ اب مصلحت یہی ہے کہ یہاں سے چل دیجیے۔ جب یہ بھی اُٹھ جائے گا، نہ رہنے میں لطف ہے نہ جانا بن پڑے گا۔ یہ سوچ کر اٹھارھویں تاریخ جنوری کے روانگی کا عزم مصمم کیا۔ اس وقت سے وہاں کی ہر چیز کو کمال محبت سے دیکھتا تھا اور دل سے کہتا ایک دن وہ ہو گا کہ دیکھنے ان پریوں اور بازار اور گاڈیوں اور راہوں دلکش اور دوست آشناؤں سے جدا پڑوں گا جیسے مردے کے لیے سامان تجہیز و تکفین کا کرتے ہیں۔ اپنے سامانِ سفر میں مستعد تھا اور خشکی کی راہ سے ارادہ سفر کا کیا۔ بوچڑ صاحب اور دوستوں نے راہ دریا سے چلنے کو کہا۔ مگر میں نے سوچا دیکھی ہوئی راہ کیا فائدہ پھر دیکھنا۔ آخر اٹھارھویں جنوری کے خشکی کی راہ سے اور اسباب بھاری اپنا بوچڑ صاحب کو سونپا کہ کسی کے جہاز پر رکھ کر ہندوستان میں میرے پاس بھیج دینا۔ اسباب ضروری ایک پٹاری چرمی میں رکھ کر اپنے ساتھ لیا۔ ایک جام شراب وین دوستوں کے ساتھ پی کر گاڈی میل کوچ پر سوار ہوا۔ وقت روانگی بوچڑ صاحب، راچر صاحب اور کئی دوست افسوس کھا کر رنج جدائی سے رونے لگے۔ میں بھی وہاں سے چلتے وقت ایسا ملول ہوا جیسے حضرت آدم بہشت سے نکلے۔ چونکہ ملتے ملاتے دوستوں سے رخصت لیتے مجھ کو دیر ہوئی، گاڈی میل کوچ آدمیوں سے بھر گئی۔ کہیں جگہ باقی نہ رہی۔ ناچار کوچوان کے پاس بیٹھا مگر دل پر مفارقت دوستوں کا قلق تھا۔ برف ایسا برستا کہ تمام راہ میں میری داڑھی مونچھ پر جم گیا۔ ڈیڑھ پہر رات گئے کرکوزانڈر میں پہنچا۔ وہ مقام لندن سے چوبیس کوس تھا۔ وہاں سے ایک مزدور نے میرا اسباب میل کوچ سے اتار کر اپنی گاڈی پر رکھ کر مجھ کو ساتھ لے کر سرائے فلکن میں پہنچایا۔ میرے نوکر نے کہا کیا کیا کھانا لاؤں۔ میں نے کہا سردی مارا، برف کا ستایا ہوں، آتش پرستی کروں گا۔ پہلے آگ لا، ا س کے پاس بیٹھ کر تاپوں گا۔ اس نے آتشدان میں آگ جلائی۔ قریب اس کے بیٹھ کر ایسی مجھ کو آرام آئی کہ آگ مجھ کو مثل آتش پرست عزیز ہو گئی۔ ہر شخص گاڈی سے اتر کو خوشی میں مشغول ہوا مگر مفارقت میں ان دوستوں اور شہر جنت نشاں سے رنجیدہ اور چپ بیٹھا تھا۔

ایک شخص جبالڑکو اپنی نوکری پر جاتا تھا، مجھ کو رنجیدہ دیکھ کر قریب آ بیٹھا۔ ہنگامۂ صحبت گرم کیا۔ میں نے اس کی میٹھی باتیں سن کر غم کو دل سے مٹا دیا۔ اس کے ساتھ شراب شیریں دوستوں کو یاد کر کے پی اور ان کے حق میں دعا دی۔ پھر وہاں سے شہر لندن کی محبت سے دل اٹھایا۔ دو پہر رات کو دھویں کے جہاز پر سوا ر ہوا۔ نام اس کا مکس تھا۔ حال جہاز والوں کا بسب برف کے متغیر ہوا۔ برف سطح جہاز پر چار چار انگل جم گیا۔ رسیاں جہاز کی برف جمیں ٹکڑا بلور کا معلوم ہوتیں۔ یہاں تک کہ صبحی جہاز جزیرہ فال مت میں پہنچا۔ چاروں طرف اس کے پہاڑ تھا۔ وہاں طوفان جہاز کو آفت نہیں پہنچاتا ہے مگر بغیر ہوائے موافق کے جہاز وہاں سے نہیں ہلتا ہے۔ پہاڑوں پر سبزی تھی۔ دل کو اس سے راحت آتی۔ رستے بازار کے لطیف تمام تھے۔ آدمی خوبصورت و خوش کلام تھے۔ وہاں سے لاڈنیکم صاحب مع اپنی میم صاحب کے اور ولیم سیڈ صاحب اور کئی صاحب مع بی بیوں اپنی کے سوار جہاز پر ہوئے۔ جہاز مصر کی طرف چلا۔ بعد دو ایک دن کے ایک شہر میں پہنچا۔ نام اس کا ویگوتھا۔ حاکم وہاں کے اسپانیل تھے، وہ بھی ہیں قوم انگریزوں سے۔ جہاز اس جزیرے میں خط پہنچانے کے لیے ٹھہرا۔ خطوں کو اس طرف ایک چھوٹی ناؤ پر لاد کر روانہ کیا۔ بندہ بھی اس شہر کی سیر کو اس پر سوار ہو کر کنارے اترا۔ شہر دیکھا، پر سبزہ و گلہائے خنداں مگر بسبب بے انتظامی اور لڑئی بھڑائی کے ویران۔ ایک قلعہ پرانا تھا ٹوٹا پھوٹا ہوا۔ توپوں کو کھود کر زمین میں گاڑا۔ مجھ کو دیکھنے ویرانے ملک اور بے سرو سامانی سپاہ سے لکھنؤ یاد آیا۔ دائیں بائیں پھرا، دو رنڈیوں حسین کو دیکھا۔ کمر ان کی مانند چیتے کی کمر کے تھی۔ آنکھ بھون ان کی ہرن کی سی۔ دل اگرچہ صورت دیکھنے ان کے سے نہ بھرا۔ مگر خیال روانگی جہاز کا آیا کہ مبادا جہاز رواں ہوئے۔ اسی سوچ میں تھا کہ جہاز کی توپ کا دھماکہ کان تلک پہنچا۔ یہ دستور ہے کہ جب جہاز کا لنگر کھولتے ہیں لوگوں کی اطلاع کے واسطے توپ چھوڑتے ہیں۔ تاکہ جو کوئی کہیں گیا ہوئے جلدی سے چلا آئے، اپنے تئیں جہاز پر پہنچائے۔ توپ کی آواز سنتےہی گرتے پڑتے میں جہاز پر آیا۔ جہاز وہاں سے چل نکلا۔ رات کو طوفان آیا، ہوائے مخالف کا غلبہ ہوا۔ مگرجہاز تباہی سے بچ کر بخیریت رواں تھا۔ مجھ کو خیال زندگی کا آیا کہ اسی طرح جہاز عمر بہا جاتا ہے۔

لزبن

 

ستائیسویں جنوری 1838؁ء کی شہر لزبن میں پہنچا۔ وہ ہے دار السلطنت پرتکیزوں کا۔ وہاں جہاز تھے اور بھی کئی۔ ایک ڈونگی پرتکیزوں کی ہمارے جہاز کو راہ بتانے آئی۔ لزبن کنارے دریا ٹیکس کے ہے۔ دائیں طرف اس کے شہر اور پہاڑ جانب چپ کے ہے۔ ڈونگی پرتکیزی اس لیے رہنمائی جہاز کو مقرر تھی کہ اس دریا میں کہیں پانی تھوڑ اتھا۔ کہیں اندازہ سے بیشتر۔ جب جہاز ہمارا وہاں پہنچا، ہوا کا زور تھا مگر استادی کپتان سے جہاز سلامت رہا۔ ہمارےکپتان اور ناخدائے پرتکیز سے کسی بات پر تکرار ہوئی۔ یہ تو ڈم ڈم کہتے اکثر، طرف ثانی کہتا فوٹر فوٹر۔ پہلے پرمٹ کی جگہ نظر آئی۔ وہ ایک میدان چٹانوں پتھر سے برابر تھا۔ اس میں ایک گھوڑا مع سوار کے پتھر سے تراشا کھڑا کیا۔ نیوٹن صاحب سوداگر میرے دوست تھے۔ وہ اس شہر میں تشریف رکھتے۔ جب میرے آنے کی خبر پائی، بہت تکلف سے دعوت میری کی۔ کئی طرح کا کھانا میرے لیے پکوایا۔ جب اس کو کھایا، دل کو بھایا۔ پھر سیر شہر کو چلا۔ وہاں کے آدمیوں کو کج اخلاق پایا۔ حسن و جمال عورتوں کا بہ نسبت لندن کے کم تھا۔ بار برداری کی گاڈیوں میں بیل لگے تھے۔ رستے بازار کے صاف ستھرے تھے مگر دکانیں بمقابلہ لندن اور فرانس کے بد قرینے۔ ایک کلیسا عجب وضع کا بنا تھا۔ تصویریں حضرت عیسیٰ اور مریم اور حواریوں کی نفیس بنی ہوئی رکھیں، ان پر کام سونے کا۔ دو تین باغ دیکھے، بہت اچھے تھے۔ حاکم اور فرماں روا وہاں کے مثل لندن۔ ایک رنڈی کم سن تھی، تناسب اعضا اور جمال بدنی نہیں رکھتی تھی۔ بلکہ فربہ اور جسیم تھی۔ کنارے دریا کے ایک مکان بنواتی۔ وہ نہایت خوش قطع اور نادر تھا۔ بسبب کمی روپیہ کے ان دنوں بننا اس کا موقوف تھا۔ میں نے اس کو خوب دیکھا۔

ایک دن ناچ گھر کا تماشا دیکھنے گیا۔ شہزادی حاکمہ بھی آئی۔ میرے قریب بیٹھی۔ شوہر اس کا ایک امیر زادہ، بہت خوبصورت اور وجیہ ہمراہ تھا؛ سن و سال میں بیس برس کا۔بندہ آدھی رات تک کیفیت دیکھتا رہا۔ پھر اٹھ کر باہر آیا اور ملاح سے کہا کہ ناؤ پر سوار کر کے مجھ کو جہاز تک پہنچا دے۔ اس نے انکار کر کے کہا کہ رات کو ہمارے شہر میں کسی کو ناؤ پر نہیں چڑھاتے۔ اکبارگی مینھ بھی برسنے لگا۔ تب میں مجبور ہو کر سرا میں شب باش ہوا۔ صبحی اٹھ کر پھر سیر کو چلا۔ مکانات دیکھے، اوندھے پڑے۔ حال ان کا پوچھا، لوگوں نے کہا اسّی برس کا عرصہ ہوا کہ یہاں ایک بڑا زلزلہ آیا تھا، ساٹھ ہزار آدمی اس میں مر گئے، بہت مکان اس میں گر گئے۔ پانی دریا کا اپنے ٹھکانے سے ہٹ گیا تھا۔ بعد اس کے اس آبادی کا جو تم دیکھتے ہو، اتفاق ہوا۔ یہ حال دیکھ کر گھبرایا۔

دوسرے دن تیسرے پہر تک پھر سیر کرتا رہا۔ بعد اس کے جہاز وہاں سے رواں ہوا۔ میں اس پر سوار ہوا۔ کتنے صاحب اور بی بیاں اور بھی تھیں۔ بی بی اسمٹ بھی مع دونوں بیٹیوں پریزاد کے اس پر سوار ہوئیں۔ حرکتِ جہاز سے دونوں پریاں متلی اور ابکائی میں گرفتار ہوئیں۔ جہاز پر چڑھ کر نہایت بیزار ہوئیں۔ سچ ہے سواری جہاز کی عورتوں کو بہت ایذا دیتی ہے۔ مجھ کو ان کی بے چینی سے بے قراری تھی۔ دو تین دن میں جہاز جاتے جاتے تیسرے پہر کو قریب شہر کندس کے ٹھہرا۔ کئی اسپانیوں نے کشتیوں کو ہمارے جہاز پاس پہنچایا۔ اکثر صاحب واسطے سیر شہر کے ناؤ پر سوار ہوئے۔ ہم بھی مدت سے مشتاق اس شہر کے دیکھنے کے تھے۔ ناؤ پر چڑھے بعد اس کے مینھ آیا۔ ہر شخص جہاز پر پھر گیا۔ مگر بندہ ناؤ پر بیٹھا رہا۔ اسپانیل جو ملاح تھے اپنی زبان میں باہم باتیں کرتے اور میرے مونھ کی طرف دیکھتے، بلا تحاشا ناؤ کو کنارے لیے جاتے۔ ہر چند میں نے کنارے جانے سے انکار کیا، پر انھوں نے میری بات نہ سنی۔ ظاہراً معلوم ہوتا کہ کنارے لے جا کر گھڑی اور اسباب طلائی میرا چھین لیتے اور جان سے ہلاک کرتے۔ ناگاہ جہاز کے چھوٹے کپتان نے میرے حال پر رحم کیا، چھوٹی ناؤ پر سوار ہو کر میری ناؤ کو خار آہنی سےاپنی طرف کھینچ کر جہاز پر پہنچایا اور اس آفت سے مجھ کو بچایا۔ بسبب مینھ کے اس شہر میں جانے کا اتفاق نہ پڑا، مگر سامنے سے بخوبی نظر آتا۔ عمارت عالیشان، وہاں حسن و جمال کی کان تھی۔لاڈ بیرن شاعر نے وہاں کے حسن کی تعریف کی ہے۔ دادِ سخنوری دی ہے۔

جبالٹر

 

اکیسویں تاریخ جنوری 1838ء؁ کے دو گھڑی رات رہے میں جاگا۔ جہاز کے قریب بڑا سا پہاڑ نظر آیا۔ میں متحیر ہوا کہ یہ پہاڑ کہاں سے آیا۔ پوچھنے سے معلوم ہوا کہ یہی ہے قلعہ جبالٹرکا۔ یہ شہر سابقاً ترک کے عمل میں تھا۔ جبالٹر مخفف ہے جبال ٹائر کا۔ ٹائر نام حاکم کا تھا، یہ قلعہ اسی کے نام پر مشہور ہوا، پس جبال ٹائر کہلایا۔ اب بسبب کثرت استعمال کے جبالٹر نام پڑ گیا۔ ترک سے انگریزوں کے قبضہ میں آیا۔ جب جہاز وہاں پہنچا سب لوگ ناؤ پر سوار ہوئے، قلعہ کی سیر کو چلے۔ بی بی اسمٹ کی دو بیٹیاں بھی اتریں، میں نے ان سے کیفیتیں جہاز کی پوچھیں۔ انھوں نے کہا ہم نے توبہ کی کہ پھر جہاز پر نہ سوار ہوں کبھی۔ قلعہ کے دروازے پر ایک چوکیدار بیٹھا تھا، سب کو اندر جانے دیا مگر مجھ کو روکا۔ اس وجہ سے کہ میں پروانۂ سند نہ رکھتا۔ میں نے کہا اپنی خوشی سے تیرے پاس بیٹھا ہوں، کہیں نہیں جاتا ہوں۔ مگر میرے کھانے پینے کی فکر کر۔ بعد دو گھڑی کے ایک انگریز آیا۔ میری وضع سے حال لیاقت دریافت کر کے دلاسا دینے لگا اور ایک بلند کرسی پر بٹھلا کر کہا تم کچھ رنج اور فکر نہ کرو، میں حاضر ہوں تمھاری خدمت گزاری کو۔ ناگاہ پرنکل صاحب میرے دوست نظر آئے۔ ولایت سے ہندوستان آتے تھے۔ مجھ کو اس حال میں دیکھ کر تسلی دینے لگے کہ ہم جاتے ہیں تمہاری تدبیر کے لیے۔ یہ کہہ کر وہاں کے حاکم پاس گئے، میرے لیے پروانہ لکھوا کر چھڑا لائے اور سرا میں اپنےمقام پر لے گئے۔ تعریف مہربانی انگریزوں کی کیا کروں، یاراے زبان نہیں رکھتا ہوں۔ پرنکل صاحب سے اور مجھ سے فقط شناسائی تھی، نہ رتبہ اتحاد و فرطِ دوستی۔ پاس شناسائی سے انھوں نے مجھ کو چھڑایا۔ ہندوستان میں ایسی محبت اپنے ہم جنسوں سے کوئی نہیں کرتا۔ میں جب تک دم میں دم رکھتا ہوں، دم شکر گزاری ان کے کا بھرتا ہوں۔

قلعہ جبالٹر کا یہ حال دیکھا کہ توپ کے گولوں کا انبار تھا۔ ہر چہار طرف اس کے توپیں لگیں۔ آدمی مقرر ہیں، چوکی پہرے کی تھیں۔ گرد قلعہ کے پہاڑ ہیں، ان کے گرد دریائے قہار۔ دریا میں چاروں طرف جہاز جنگی حفاظت کےلیے رہتے ہیں مستعد اور تیار۔ بلندی قلعہ کی چودہ سو فٹ کی۔ ایک مکان اَور اس کے سوائے ہے، اس کے گرد بھی توپیں ہیں۔ اونچائی اس کی گیارہ سو پچیس فٹ کی ہے۔ اس پر سے جہاز تینتیس کوس کے مفاصلے کے نظر آتے ہیں۔ پہاڑ میں بڑے بڑے غار ہیں۔ انگریزوں نے اسے تراش کر عمارت سنگی بنائی ہے استوار۔ اس میں لوہے کی گاڈیوں پیچدار پر توپیں لگائی ہیں۔ جدھر کل گاڈی کی پھیرتے ہیں، مونھ توپ کا بھی ادھر پھر جاتا ہے۔ سوا ان کے اور بھی توپیں ہیں۔ چاروں طرف پہاڑ کے سمندر ہے مگر ایک طرف سوکھی رہگذر ہے۔ ادھر سے قریب شہر اسپانیل ہے۔ وہاں سے پاؤ کوس پر عمل اسپانیل کا ہے۔ جب چاہتے ہیں اس راہ خشک کو بھی پانی لا کر بند کر دیتے ہیں۔ کسی غیر قوم آدمی کو رات کے رہنے کا وہاں حکم نہیں۔ دن کو اسپانیل یہاں کی سیر کو جاتے  ہیں۔ یہاں کے رہنے والے بھی عمل اسپانیل میں کھیتی کرتے ہیں، دن ہی کو چلے آتے ہیں۔ لارڈ بنکم صاحب حسبِ اتفاق ان دونوں اس قلعہ میں آیا تھا۔ قلعہ دار مراسم مہمانداری میں بہ دل و جان مصروف ہوا۔ قواعد پلٹوں نمبر تینتیس، چھیالیس، باون، اکیاسی، بیاسی کی دکھلائی۔ لارڈ صاحب نے قواعد دیکھ کر بہت خوش ہوکر عنایت مبذول فرمائی۔ جو مسافر وہاں پہنچے، چاہیے کہ ضرور اس قلعہ کو دیکھے۔ اگر بارہ لاکھ آدمی اس پر حملہ کریں، میری عقل ناقص میں یہ ہے کہ ہرگز فتحیاب نہ ہوئیں۔ بلکہ سابق اسپانیل اور فرانسیس اور پرتکیز نے مل کر اس کو گھیرا تھا، دو تین برس تک لڑتے رہے مگر فتحیاب نہ ہوئے۔ آخر ناامید پھر گئے۔ غرض کہ ایسا  قلعہ مستحکم روئے زمین میں کہیں نہیں ہے۔ ہم نے کرایہ جہاز کا کرلوزاند سے جبا لٹر تک ایک سو اسی روپیہ دیے۔ وہاں سے اسپٹ فابہ جہاز پر سوار ہو کر تیسری فروری کو آگے چلے۔ کرایہ جہاز کا جبرالٹر سے مالٹا تک کا ایک سو تیس روپئے ٹھہرائے۔ وقت روانگی جہاز کے، دو تین عورتیں اسپین کی نظر آئیں۔ جمال میں غیرتِ مہرتاباں تھیں۔ دل میرے سے بے اختیار شور اٹھا کہ پھر ان کا دیکھنا کاہے کو میسر آوے گا۔ راہ میں جہاز پر سے پہاڑ اسپین کے نظر آتے۔ زیادتی برف باری سے سپید ہوئے تھے۔

چوتھی فروری کو جہاز ہمارا قریب شہر الجر کے کہ کوہستان ہے، پہنچا۔ سابق وہ عمل عرب میں تھا۔ اہل عرب زمانہ حکومت اپنی میں جہازوں کو لوٹتے، آدمیوں کو جان سے مار ڈالتے۔ جو کوئی زندہ رہتا اس کو غلام بنا کر زندگی بھر نہ چھوڑتے۔ اس سبب سے جہاز اس راہ سے نہ جاتے۔ اسی خیال سے فرانسیس اس شہر کو اپنے قبض و تصرف میں لائے۔ اب جہاز اس راہ سے بخیریت جاتا ہے۔ کوئی مزاحمت نہیں پہنچاتا ہے۔

ساتویں فروری کو جہاز قریب اس قلعہ کے پہنچا کہ ڈزرٹا نام رکھتا۔ خوب مضبوط بنا۔ اس کے برابر ایک شہر بسا۔ جھول نام، بہت آباد عمل عرب میں تھا۔ اس سے ایک شہر لطافت بنیاد خوب آباد توئس نام رکھتا۔ چند روز پیشتر وہاں عربوں سے لڑتے تھے۔ دونوں طرف سے ہزاروں آدمی کام آئے۔ سوا اس کے اور شہر بہتیرے دیکھے کہ بہت آباد اور عرب کے عمل میں تھے۔ اس کے بعد شہر حبش اور اٹلی اور اٹنا پہاڑ نظر آیا۔ اس سے شعلہ آگ کا نکلتا، مگر بہ جہت دوری اور تاریکی ابر غلیظ کے دھویں کی صورت دکھائی دیتا۔

مالٹا

 

آٹھویں فروری 1838ء؁ کو ڈیڑھ پہر رات گئے، مالٹا میں پہنچا۔ جہاز سے اترا۔ دوسرا جہاز ملیزر نام اسکندریہ تک ایک سو بیس روپیہ کرایہ پر ٹھہرا کر اسباب اپنا اس پر لے گیا۔ اس وقت سب صاحبان عالیشان نے میری سفارش کی چٹھی کرنیل لو صاحب رزیڈنٹ لکھنؤ کے نام پر لکھ کر مرحمت فرمائی۔ لارڈ بنکم صاحب نے بھی چٹھی میں بہت طرح سے سعی کی۔ ان صاحبوں کی خوبیوں کو میں بیان نہیں کر سکتا ہوں کہ مجھ مسافر پر کیا کیا عنایت فرمائی۔ میں ملیزر جہاز کے کپتان سے دوپہر کی رخصت لے کر مالٹا کی سیر کرنے چلا۔ کپتان صاحب نے مجھ سے چلتے وقت کہا کہ اگر تم کو آنے میں عرصہ کھچے گا، جہاز روانہ ہووے گا، تم کو یہیں رہنا پڑے گا۔ میں ڈرتے ڈرتے سیر کو گیا۔ شہر دیکھا آباد خُجستہ بنیاد۔ فرش بازار سنگ مرمر سے بنا۔ دو طرفہ میوہ فروشوں کی دکان پر میوہ چنا۔ زیادتی میوہ جات سے بازار باغ معلوم ہوتا۔ دیکھتے دیکھتے کلیسائے سنٹ جان تک پہنچا۔ وہ بہت قدیمی رومن کا بنایا ہوا تھا۔ عمارت اس کی بلند، کنگرے فلک پیوند۔ تصویریں حواریوں وغیرہ کی رکھیں۔ بندگی کے لیے کھڑے تھے صاحبان دین۔ دوسری طرف ایک مکان میں گیا، وہاں پادریوں نے ترک دنیا کر کے رہنا اختیار کیا۔ گوشہ تنہائی میں تجرد سے موافقت کر کے تعلقات دنیا سے ہاتھ اٹھایا۔ ان کے معتقد اور مرید کھانا بھیجتے ہیں اور غذائے نفیس ان کو کھلاتے ہیں۔ دنیا داروں سے ان کو زیادہ موٹا اور فربہ پایا۔ سمجھا کہ گوشہ کو بیٹھنا محض کھانوں لطیف اور زیادتی معتقدوں کے لیے تھا۔ ان سے یہ حرکت بد نظر آئی۔ ماباپ نے کس محنتوں سے ان کی پرورش کی، اس خیال سے کہ بوڑھاپے میں ہمارے کام آویں۔ افسوس کہ وہ جوان ہو کر اس سعادت سے باز رہیں بلکہ آپ اوروں کے ٹکڑوں پر نظر لگاویں۔ میرے نزدیک بہتر وہ شخص ہے کہ باوجود تعلق دنیوی اور بارِ عیال و اطفال کے فکر عاقبت سے غافل نہ ہو۔ سوائے اپنی جورو کے اور کسی عورت پر مائل نہ ہو، عذابِ خدا تعالیٰ سےہمیشہ ڈرتا رہے، حتی الامکان بندگان خدا سے نیکی کرتا رہے۔ درحقیقت وہ پادری گوشہ نشین مانند سانڈوں بنارس کے موٹے تازے نظر آئے۔ بے محنت باربرداری کے دانہ گھاس غیروں کا کھا کر موٹے ہوتے ہیں۔ بعد اس کے اور تین مکانوں عالیشان کی سیر کی۔ عمارت ان کی پسند طبیعت آئی۔ پھر وہاں سے اس سرا میں کہ لارڈ بنکم صاحب تشریف رکھتے تھے، گیا۔ ان سے اور ان کی بی بی سے رخصت چاہنے والا ہوا۔ دونوں صاحبوں نے اس فقیر کو شراب وین پلائی۔ جدائی میری سے رنجش خاطر بہم پہنچائی، مجھ کو بھی رقت آئی۔ اس لیے کہ جہاز پر ہر روز لارڈ صاحب اور بی بی ان کی شراب وین پلاتی تھیں اور باتوں عنایت آمیز سے دل میرا خوش فرماتی تھیں۔ خدا ان کو آفات زمانہ سے بچاوے اور ہمیشہ روز عیش و عشرت دکھلاوے۔ ناگاہ آواز توپ جہاز کی کان میں آئی۔ واماندوں نے روانگی جہاز کی خبر پائی۔ بندہ مضطرب ہو کر لارڈ صاحب کے پاس سے اٹھ کر کنارے دریا کے آیا۔ لنگر جہاز کا کھلا دیکھا اور قریب روانگی کے تھا۔ ایک اور جہاز جنگی ایشیہ نام وہیں قیام رکھتا۔ نول صاحب کپتان اس کے نے مجھ کو بڑے اصرار سے جہاز پر بلایا اور اس کا تماشا دکھلایا۔ چوراسی ضرب توپ اس میں لگیں۔ جہاز مضبوطی میں جوں قلعہ آہنیں۔ ازانجا کہ ہمارا جہاز آمادۂ روانگی تھا، زیادہ ٹھہرنا مناسب نہ جانا۔ ایک دو کلمہ کہہ سن کر اپنے جہاز پر سوار ہوا، کپتان نے کہا۔ اگر تم آنے میں ایک لحظہ دیر کرتے، جہاز روانہ ہوتا۔ تم ہر گز ہم تک نہ پہنچتے، مانند پادریوں سائل نان طلب کے یہیں اوقات گزاری کرتے۔ بندہ درگاہ الٰہی میں شکر بجا لایا اور جہاز پر سوار ہو کر آگے چلا۔

اسکندریہ

 

تیرھویں تاریخ فروری 1838ء؁ کےجہاز ہمارا شہر اسکندریہ میں پہنچا۔ جہاز سے اتر کر مع دوست و احباب روانہ شہر ہوا۔ کنارے دریا کے لڑکے عرب کے گدھے کرائے کے لیے ہوئے کھڑے تھے۔ ہر وضع و شریف کو ان پر سوار کر کر لے جاتے۔ ہر چند ابتدا میں اُس سواری سے نفرت ہوئی، لیکن بموجب ہر ملکے و ہر رسمے کے آخر ہم نے بھی گدھوں کی سواری کی اور سرا کی راہ لی۔ گلی کوچے تنگ اور راہی بہت تھے۔ اس لیے لڑکے گدھے والے آگے بجائے بچو بچو کے یمشی یمشی پکارتے، لوگوں کو آگے سے ہٹاتے، نہیں تو گذرنا اُس راہ سے دشوار تھا۔ بندہ راہ بھر اُس شہر کا تماشا دیکھتا چلا۔ کنارے شہر کے محمد علی شاہ مصر کے دو تین مکان بنائے ہوئے نظر آئے۔ ایک قلعہ قدیمی تھا، وہیں اُس میں توپیں ناقص از کار رفتہ پڑیں۔ محمد علی شاہ بادشاہ مصر کا ہے۔ بہتّر برس کی عمر رکھتا ہے۔ بہت صاحب تدبیر و انتظام ہے، جہاز جنگی اُس کے پُر استحکام۔ صفائی اور سب باتوں میں مثلِ جہازِ انگریزی۔ مگر افسروں جہاز کی پوشاک نفاست میں بہ نسبت جہازیوں انگریزی کے کم تھی۔ عقلِ شاہ مصر پر صد ہزار آفریں کہ ایسی باتیں رواج دیں۔ غرض کہ دیکھتا بھالتا گدھے پر سوار سرا میں پہنچا۔ اسباب اُتارا۔ پھر سیر کرنے کنارے دریا کے آیا۔ کپتان ملریز جہاز کے سے ملاقات ہوئی۔ اس نے نہایت اشتیاق سے یہ بات فرمائی کہ آؤ میں نے ذکر تمھارا یہاں کے بڑے صاحب سے کیا ہے اور تمھاری تلاش میں تھا۔ بندہ بپاسِ خاطر اُن کی ہمراہ ہو کر بڑے صاحب کی ملاقات کو گیا۔ بڑے صاحب اور میم اُن کی نے نہایت عنایت فرمائی اور وقت شام کے دعوت کی۔ بندے نے قبول کر کے مان لی۔ بعد اس کے صاحب موصوف سے یہ غرض عرض کی کہ میں ارادہ رکھتا ہوں یہاں کے مکانوں اور عجائبات کو دیکھوں۔ کوئی آدمی ہوشیار اپنا میرے ساتھ کیجیے کہ ایسے مکانات اور اشیائے عجیب مجھ کو دکھلاوے۔ انھوں نے ایک آدمی رفیق اپنا میرے ساتھ کیا۔ نام اس کا مصطفیٰ تھا کہ یہ شخص اچھی طرح سے سب مکان تم کو دکھلائے گا۔ میں نے مصطفیٰ کے ساتھ باہر آ کر پوچھا۔ وطن تیرا کہاں ہے اور نام تیرا کیا۔ اس نے کہا وطن میرا حبش ہے اور نام مصطفیٰ۔ ہندی زبان میں بات کی۔ مجھے حیرت تھی کہ رہنے والا حبش کا ہے اردو زبان کیونکر جانتا ہے۔ پھر اس نے چٹھی نیک نامی اپنی کی دکھلائی۔ اُس میں تعریف چستی اور چالاکی اُس کی لکھی تھی کہ یہ شخص بہت کار دان اور دانا ہے۔ ساتھ ہمارے ہندوستان، ایران، توران، انگلستان، فرانسیس میں پھرا ہے۔ میں نے چٹھی دیکھ کر اُس سے حال لندن کا پوچھا کہ آیا وہ شہر تجھ کو کچھ بھایا۔ کہا وصف اُس کا ہرگز نہیں قابلِ بیان ہے۔ فی الواقعی وہ ملکِ پرستان ہے۔ جن کا میں نوکر تھا انھوں نے لندن میں تین ہزار روپے مجھ کو دیے تھے۔ میں نے سب پریزادوں کی صحبت میں صرف کیے۔ یہ سن کر ہم سب ہنسے اور اُس کے ساتھ باہر آئے۔ وہ باہر نکل کر دوڑا۔ عرب بچوں کو جو گدھے کرائے کے اپنے ساتھ رکھتے، دو چار لات مکّے مار کر اپنے ساتھ مع تین گدھوں تیز قدم کے لایا۔ مجھ کو اور ہیڈ صاحب اور پرنکل صاحب کو ان پر سوار کر کے چلا اور گدھوں کو ہانک کر دوڑایا۔ اتنے میں ہیڈ صاحب کا گدھا ٹھوکر کھا کر گرا اور ہیڈ صاحب کو گرایا۔ وہ بچارے گر کر بہت نادم اور شرمندہ ہوئے۔ مصطفیٰ نے دو تین کوڑے اس گدھے والے کو مارے، وہ بلبلا کر زمین پر گرا۔ زمیں کا چھلا اُچھل کر ہیڈ صاحب کے کپڑوں پر پڑا۔ وہ بہت ناخوش ہوئے اور جس سرا میں اترے تھے، پھر گئے۔ میں نے مصطفیٰ سے کہا اس قدر ظلم و بدعت بے جا ہے۔ کہا قوم عرب بد ذات اور شریر ہوتے ہیں، بغیر تنبیہ کے راستی پر نہیں آتے۔ میں نے کہا تم بھی اسی قوم سے ہو، انھیں کی سی خلقت رکھتے ہو۔ جواب دیا اگرچہ وطن میرا بھی یہی ہے مگر میں نے اور شہروں میں رہ کر خُو یہاں کی سر سے دور کی ہے۔ پھر میں نے مصطفیٰ سے کہا میرا قصد ہے حمام میں نہانے کا۔ وہ ایک حمام میں لے گیا، اندر اس کے حوض بھرا پانی کا تھا۔ راہ فواروں سے پانی بہتا۔ کئی ترک کنارہ اُس کے بیٹھے لطف کر رہے تھے۔ کوئی قہوہ، کوئی چپک پیتا۔ بندہ نے موافق قاعدہ مقرر کے وہاں جا کر کپڑے نکالے۔ پانچ چھ حمامی مالشِ بدن میں مشغول ہوئے۔ اپنی زبان میں کچھ گاتے جاتے مگر مضامین اس کے میری سمجھ میں نہ آتے۔ جب وہ ہنستے، میں بھی ہنستا، جب وہ چپ رہتے، میں بھی چپ رہتا۔

میں نے کہا مصطفیٰ سے کہ ان سے کہہ دے موافق رسم اس ملک کے بدن ملیں۔ کسی طرح سے کمی نہ کریں، ان رسموں سے مجھ کو پرہیز نہیں۔ مذہب سلیمانی میں ہر امر موقوف ہے ایک وقت کا۔ ایک وقت وہ ہوا کہ میں جہاز میں میلا کچیلا تھا۔ ایک وقت یہ ہے کہ نہا رہا ہوں۔ میں ان کو راضی کروں گا خوب سا انعام دوں گا۔ انھوں نے بموجب کہنے کے بدن خوب سا ملا اور اچھی طرح نہلایا۔ بعد فراغت کے ایک اور مکان میں لے گئے۔ اس میں فرش صاف تھا۔ گرد اُس کے تکیے لگے۔ اُس پر بٹھلا کر پوشاک پہنائی۔ مجھ کو اُس سے راحت آئی۔ بعد ایک دم کے تین لڑکے خوبصورت کشتیاں ہاتھ میں لے کر آئے۔ ایک میں قہوہ، دوسرے میں شربت، تیسرے میں قلیاں چپک رکھ لائے۔ فقیر نے شربت اور قہوہ پیا۔ حقہ چپک کا دم کھینچا۔ پھر ایک خوشبو مانند عطر کے مانگ کر لگائی۔ بتیاں اگر وغیرہ کی جلائی۔ حمام کیا بجائے خود ایک بہشت تھا۔ دل میں خیال آیا اگر شاہدِ شیریں ادا غم زدہ ہو، یہ مقام غیرت دہِ روضۂ رضواں کا ہو۔ دو گھڑی وہاں ٹھہرا پھر باہر نکل کر کئی روپئے حمامیوں کو دے کر بڑے صاحب کے مکان پر آیا۔ نام ان کا ٹن بن صاحب تھا۔ کپتان صاحب جنھوں نے میری تقریب کی تھی وہ بھی موجود تھے۔ جا بجا کی باتیں اور ذکر رہے۔ بعد اس کے میں نے ٹن بن صاحب سے پوچھا کہ یہاں افسران فوج سے تمھاری ملاقات ہے یا نہ۔ انھوں نے کہا، آگے مجھ سے اُن سے بہت دوستی تھی مگر ان کی حرکتوں سے طبیعت کو نفرت ہوئی۔ اس واسطے اُن سے ملاقات ترک کی۔ اکثر وہ لوگ میرے مکان پر آ کر شراب برانڈی پیتے اور چپک کے اتنے دم کھینچتے کہ مکان دھویں سے سیاہ ہوتا۔ لا چار میں نے ان سے کنارہ کیا۔ اے عزیزانِ ذی شعور! اگر  جناب رسول مقبول اجازت شراب نوشی کی دیتے، یہ لوگ شراب پی کر مست ہو کر کیا کیا فساد برپا کرتے۔ باوجود ممانعت کے یہ حرکتیں کرتے ہیں۔ اگر منع نہ ہوتا خدا جانے کیا فتنہ و غضب نازل کرتے، لڑ لڑ مرتے۔ چنانچہ راہ میں اکثر ترک دیکھنے میں آئے۔ قہوہ خانوں میں شراب بھی ہوتی ہے اُس کو لے کر پیتے تھے۔

دوسرے دن گدھے پر سوار ہو کر شہر کا تماشا دیکھنے گیا۔ آدمیوں کو میلے اور کثیف کپڑے پہنے پایا۔ اکثروں کو نابینا دیکھا۔ سبب اُس کا یہ قیاس میں آیا کہ اس شہر میں ہوا تند چلتی ہے، مٹی کنکریلی اُڑ کر آنکھوں میں پڑتی ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ لوگ وہاں کے اپنی اولاد کی ایک آنکھ یا اگلے دانت بخوفِ گرفتاری نوکری فوج محمد علی شاہ کے پھوڑ توڑ ڈالتے ہیں۔ اس عیب سے نوکری بادشاہی سے کہ بد تر غلامی سے ہے، بچاتے ہیں۔ لباس وہاں کے لوگوں کا میرے پسند نہ آیا۔ کثیف اور کالا مانند لباس مشعلچیوں کے تھا۔ قواعد پلٹنوں کی دیکھی، مثل قواعد فوج انگریزی کے تھی۔ ہر ایک سپاہی کے کندھے پر بندوق فرانسیسی۔ سب جوان، جسیم اور موٹے مگر قد و قامت کے چھوٹے۔ کپڑے پرانے، سڑیل پہنے۔ افسر اُن کے بھی ویسے ہی کثیف پوش تھے۔ اگر ایسے لوگ توانا اور قوی فوج انگریزی میں ہوں، بادشاہ روئے زمین کے مقابلہ میں عاجز ہوں اور زبوں۔ مگر یہاں خرابی میں مبتلا تھے، کوئی کسی کو نہ پوچھتا۔ کوئی شخص نوکری فوج شاہی میں بخوشی نہیں قبول کرتا ہے۔ شاہ مصر زبردستی نوکر رکھتا ہے اس لیے کہ خوفِ مضرت و ہلاکت و قلتِ منفعت ہے۔ لوگ اپنی اولاد کو عیبی کرتے ہیں یعنی آنکھ یا دانت توڑتے ہیں تا کہ نوکرئ سپاہ سے بچیں۔ نوکر ہونے کے ساتھی دائیں ہاتھ پر سپاہی کے بموجب حکم شاہی کے داغ دیا جاتا ہے۔ پھر عمر بھر اُسی نوکری میں رہتا ہے، ماں باپ عزیز و اقربا پاس نہیں جا سکتا ہے۔ چھاؤنی فوج کی مانند گھر سوروں کے مٹی اینٹ سے بنی۔ ہر ایک   کوٹھری میں سوا ایک آدمی کے دوسرے کی جگہ نہ تھی۔ اونچاؤ اُس کا ایسا کہ کوئی آدمی سیدھا کھڑا نہ ہو سکتا۔ کھانے کا یہ حال تھا کہ شام کو گوشت چاول کا ہریسہ سا پکتا، طباقوں میں نکال کر رکھ دیتے۔ ایک طباق میں کئی آدمیوں کو شریک کر کے کھلاتے۔ معاذ اللہ یہ نوکری کیا بد تر ہے۔ اکبارگی اپنے تئیں دریا یا کنویں میں گرانا بہتر ہے۔ اُس شاہِ والا شان سے یہ امر بعید نظر آتا ہے کہ لوگوں کو زبردستی سے نوکر رکھتا ہے اور ان پر جبر کرتا ہے۔

خیر بندہ تماشا دیکھتے ہوئے باہر شہر کے گیا۔ ایک گورستان دیکھا۔ اُس میں ہزاروں قبریں نظر آئیں۔ دیکھنے والے کو باعثِ حیرت تھیں۔ میں نے لوگوں سے پوچھا اس قدر زیادتی قبروں کا سبب کیا۔ دریافت ہوا کہ یہاں اکثر وبا آتی ہے، ہزاروں آدمیوں کو ہلاک کرتی ہے۔ مکینوں کی اُسی سے آبادی ہے۔ اسکندریہ آباد کیا ہوا اسکندر کا ہے۔ وقت آباد کرنے کے ایک بڑا سا پتھر کھڑا کیا تھا۔ اب تلک قائم اور کھڑا ہے۔ راہوں اور کوچوں میں تنگی ہے۔ اس سبب سے بیشتر وبا آتی ہے۔ آدمی وہاں کے مفلس و پریشان اکثر تھے۔ بعضے راہ میں فاقہ مست اور خراب پڑے ہوئے مثلِ سگانِ بازاری  ہندوستان کے، دیکھنے اُن کے سے سخت تنفّر ہوا۔ آگے بڑھا، ایک اور پرانا تکیہ دیکھا، وہاں فرانسیسوں نے محمد علی شاہ کی اجازت سے قبروں کو کھودا ہے۔ مُردوں کو شیشہ کے صندوق میں رکھا پایا ہے۔ ظاہراً ہزار دو ہزار برس پہلے مُردوں کو شیشے کے صندوقوں میں رکھ کے دفن کرتے تھے۔ نہیں مردے صندوقوں میں کیوں کر نکلتے۔ اگرچہ عمارت اُس شہر کی شکستہ ویران تھی۔ مگر آبادی زمانہ سابق سے خبر دیتی۔ کئی وجہوں سے ثابت ہوتا کہ یہ شہر اگلے دنوں میں پُر عمارت اور خوب آباد ہوگا۔ اس واسطے کہ جا بجا اینٹ کا اور پتھر کا نشان تھا۔ زمین کے نیچے سے اکثر سنگِ مرمر نکلتا۔ ان دنوں کئی مکان کوٹھی فرانسیسوں اور انگریزوں کے خوب تیّار ہوئے ہیں۔ سو اُن کے اور سب مکان ٹوٹے پھوٹے ہیں۔

محمدی

 

پندرھویں تاریخ فروری ۱۸۳۸ء؁ کی، میں اور پرنکل صاحب، ہیڈ صاحب اور ہل صاحب باورچی سرائے مصر کی کشتی پر سوار ہو کر شہر محمدی کو چلے۔ یہاں سے حال سنیے۔ ناؤ نہر محمدی میں رواں ہوئی۔ کیفیت اُس کی اس طرح پر کہ سابق وہ نہر تھی۔ محمد علی شاہ نے اپنے زمانہ سلطنت میں کھدوائی۔ مردوں اور رنڈیوں کو زور ظلم سے پکڑا، نہر کھودنے میں لگایا۔ سات دن میں اسکندریہ سے محمدی تک نہر کو کھدوایا۔ یہاں سے وہاں تک فاصلہ چوبیس کوس کا تھا۔ اس محنتِ شاقہ رات دن کی میں قریب ساٹھ ہزار آدمیوں کے مرے۔ اب اس نہر میں ناؤ آتی جاتی ہے۔ راہ نہر میں کنارے شہر کے ویرانی گانو کے دہات صوبہ اودھ سے یاد دلاتی۔ بسبب ظلم شاہ مصر کے رعیت برباد ہوئی بلکہ بستی اُجڑ گئی۔ تمام راہ میں دیکھتا گیا۔ زمین قابل زراعت کو اُفتادہ پایا۔ عامل ترددِ زراعت میں رہتے ہیں مگر لوگ بہ سبب سخت گیری اور جبر اُن کے کی کشتکاری سے کنارہ کرتے ہیں۔ شاہِ مصر اگرچہ ہر بات میں مردِ دانا ہے پر رعیت پر سخت ظلم کرتا ہے۔ ہر شخص اُس کے ہاتھ سے دست با خدا ہے۔

فقیر چار روز میں اسکندریہ سے محمدی پہنچا۔ پرمٹ گھاٹ پر ناؤ سے اسباب اُتارا۔ محمدی میں صد ہا زن و مرد نابینا نظر آئے۔ بہتیرے لڑکے بغل میں دابے میلے کپڑے پہنے بیٹھے۔ آدمیت سے مطلق بہرہ نہ رکھتے اور میل بدن کے سبب سے ہر ایک کے کپڑے میں جوں پڑی۔ چنانچہ وہ لوگ جوں مارنے میں مشغول تھے۔ یہ حال دیکھ کر مجھ کو نفرت آئی، طبیعت گھبرائی۔ ایک اور امر عجیب دیکھا۔ جس ناؤ پر علم انگریزی ہوتا کوئی کچھ مزاحم نہ ہوتا، محصول پرمٹ کم دینا پڑتا اور جس کشتی پر نشان ترکوں کا دیکھتے۔ ایذا دے کر محصول زیادہ لیتے۔

سبحان اللہ! جس کو حق تعالیٰ صاحب اقبال کرتا ہے، ہر ایک اُس کا پاس کرتا ہے اور ڈرتا ہے۔ جزیرہ انگریزوں کا چھوٹا اور اُن کے ملکوں کے سامنے کیا اصل رکھتا۔ مگر بہ سبب اقبال بے زوال انگریزوں کے، یہاں کے لوگ ڈرتے ہیں۔ کسی طرح کی تکلیف اور ایذا اُن کے متوسلوں کو نہیں پہنچا سکتے ہیں۔ محمدی میں ہر چیز کی تجارت ہوتی ہے۔ خلقت خرید و فروخت اسباب کی کرتی ہے۔ میں یہاں سے کشتی رودِ نیل پر سوار ہوا، مصر کو چلا۔ پانی نیل کا شیریں اور ہاضمِ طعام ہے بلکہ مثل معجون کے مقوّی اعضاء رئیسہ اندام ہے۔ اسی سبب سے وہاں کے لوگوں کو توانائی میں اوروں سے زیادہ پایا۔ کنارے نیل کے سبزہ زمرد رنگ نظر آیا۔ سبزہ کنارے گنگا کا اس کو دیکھ کر یاد آیا۔ حق یہ ہے کہ ایسا سبزہ اور میٹھا پانی اس کا ہرگز نہ تھا۔ ملاح عربی بہ نسبت ہندیوں کے ناؤ چلانے میں زیادہ مہارت رکھتے ہیں۔سر سے پانو تک فقط ایک کرتا پہنتے ہیں۔ وقت ناؤ کھینچنے کے اس کو بھی کمر سے لپیٹتے ہیں، بے شرم و حجاب ننگے ہوتے ہیں۔ اس لیے ہندوستان یا انگلستان کی رنڈیوں کو اُن کی ناؤ پر سوار ہونا نہ چاہیے۔ کشتی ہماری اُستادی ملاحوں عرب کی سے لطف سے رواں تھی کہ اسی عرصہ میں ایک کشتی عَلَم انگریزی کی نظر آئی۔ اس پر ایک شخص بیٹھا پیالہ شراب کا ہاتھ میں لیے شراب پیتا۔ ایک آدمی نے ہماری ناؤ پر سے اُس کو پکارا۔ وہ زبان انگریزی سن کر بہت خوش ہوا۔ اپنی کشتی ہماری کشتی پاس لایا اور دست بدست ہماری کشتی پر آیا۔ نشے میں ایسا مست تھا کہ وقت آنے کے کپڑا اُس کا پانی نیل میں بھیگ گیا۔ ایک پیالہ شراب وین ہم کو پلائی۔ اُسی کے ہاتھ کی کھینچی تھی۔ بعد اُس کے اپنی ناؤ پر معشوقہ مصری کے پاس گیا۔ ظاہراً وہ شخص فقط تفریح طبع کے لیے پھرتا تھا۔ مجھ کو پینے جام وین سے ایسا لطف اُٹھا کہ سابق ہرگز نہ تھا۔ دل مثل آئینہ زنگ زد و دہ کے صاف ہوا۔ کنارے نیل کے بہت جانور ہیں۔ جو شائق شکار بیشتر ہیں، چاہیے کہ وہاں شکار کریں اور تماشا نیل کا دیکھیں۔ بندہ نے بھی شکار بطخ و قاز وغیرہ کا کیا، بہت محظوظ ہوا۔

 

مصر

 

اٹھارویں تاریخ فروری کو دو گھڑی رات گئے مصر میں پہنچے، شکرانہ خدا کا بجا لائے۔ گرد مصر کے دیوارِ شہر پناہ عظیم الشان ہے۔ شام سے پھاٹک بند ہوتا ہے، اس وقت اندر جانے کا کسی کو نہ امکان ہے۔ ہم سخت متحیر ہوئے کہ اندر شہر کے کیوں کر پہنچے۔ ہل صاحب مصر کی سرا کے باورچی ایک راہ جانتے تھے، اُدھر لے گئے۔ ہم سب دیوار پر چڑھے، اندر شہر کے کودے۔ خدا نے بڑا فضل کیا کہ چوکیداروں نے نہیں دیکھا۔ ورنہ بلا تحاشا گولی مارتے۔ شاہ مصر سے اجازت اُس کی رکھتے۔ ہم ہل صاحب کے ساتھ ان کی سرا میں گئے۔ میز پر کھانا کھانے بیٹھے۔ کئی انگریز ترکی لباس پہنے کھا رہے تھے۔ ہم ابتداءً ان کو ترک سمجھے، جب وہ کلام کرنے لگے، انگریز ثابت ہوئے۔ ملازم شاہ مصر کے تھے۔ تمغہ بادشاہی نمایاں رکھتے۔ مگر دو شخص نوجوان بیس برس کے بے تمغہ تھے۔ اُن سے فقیر نے پوچھا کہ تم یہاں کیوں اور کس لیے آئے۔ جواب دیا سیر کے لیے۔ باپ ہمارا صاحب دولت و حشمت ہے۔ ہم کو سیر ملکوں کی اُس کی اجازت ہے۔ چنانچہ ہم سیر ملکوں کے لیے پھرتے ہیں۔ تلاش کسی بات کی نہیں رکھتے ہیں۔ مجھ کو اِس بات سے حیرت آئی کہ اس عمر میں لڑکے ہندوستان کے کھیل کود میں مشغول رہتے ہیں۔ لہو و لعب میں ایسے مبتلا کہ اپنے تئیں نہیں پہچانتے ہیں۔ یہ کون لوگ ہیں کہ باوجود ثروت و عیش کے اپنے اوپر تکلیف گوارا کر کے شہروں میں پھرتے ہیں۔ تجربہ نیک و بد زمانہ کا حاصل کرتے ہیں۔ انھیں باتوں سے انگریز جہاں میں قابض اور مسلط ہوئے ہیں۔ میں نے ان کی صحبت میں سے کئی پیالے شراب وین پی کر دل کو راحت دی۔ پھر نیند آئی، سو رہا۔ صبح اٹھا۔ عمارت سرا کی دیکھ رہا تھا۔ اتنے میں ملاح نیل نے آ کر ہل صاحب سے انعام مانگا۔ ہل صاحب نے اس کو گالیاں دیں اور مارا۔ ایک خر مہرہ انعام نہ دیا۔ مجھ کو اس بات سے رنج ہوا مگر ملّاح کے عوض لڑنا مناسب نہ سمجھا۔ بعض انگریز مردم آزار، سنگدل جو ہندوستان یا عربستان یا اور جگہ جاتے ہیں، بے وجہ ناحق لوگوں کو ستاتے ہیں۔ بخوفِ شاہ انگلستان لوگ اُن کی خاطر کر جاتے ہیں مگر عمل انگریزی میں ظلم و جبر نہیں کر سکتے ہیں۔ ہل صاحب عملداری انگریز میں اگر ملّاح کو مارتے، وہ بھی ایسا گھونسا اُن کے مونھ پر مارتا کہ دانت ٹوٹتے مگر یہاں پاسداری شاہ انگلش سے کسی کو طاقت مقابلہ کی نہیں۔ عالی ظرف باوجود اقتدار و اختیار کے کسی کو نہیں ستاتے ہیں۔ اگر ایک شخص کوتاہی دست یا خوف حاکم کے سے ایذا رسانی سے باز رہے، اُس کی کوئی کیا تعریف کرے کہ اور کے خوف سے ہے۔ قابل تعریف وہ ہے کہ باوصف حکومت و اختیار کے کسی کو نہ ستاوے بلکہ مطیع ہونے اور فرماں برداری آدمیوں کا شکر خدا کی درگاہ میں بجا لاوے۔ عجز و انکسار کو مصاحب دائمی کرے۔ خلاصہ یہ کہ انتیسویں تاریخ فروری  ۱۸۳۸ء؁  کے بموجب رسم اس ملک کے ہم گدھے پر سوار ہوئے اور عنایت پرنکل صاحب سے ایک چوبدار بادشاہی راہ بتانے کے لیے ساتھ لے کر بازار کا تماشا دیکھنے چلے۔ ہر ایک دکان اور تنگی راہ وہاں کی اور خرید و فروخت اشیا کی مثل بنارس کے تھی۔ مگر ساخت بازار میں البتہ صورت دوسری یعنی یہاں درمیان دکانوں کے چھپر گھاس پھوس کا ڈالا ہے۔ بہ سبب اُس کے مینھ اور غبار سے صحن بازار کا بچتا ہے۔ دکانیں حلوائیوں اور باورچیوں کی مانند دکانوں ہندوستان کے آباد۔ نان بائیوں کی دکان پر ترک و عرب روٹی کھا رہے تھے دل شاد۔ چھوارا بیچنے والے دکانوں پر بیٹھے چھوارا بیچتے، مکھیوں کے اُن کے پاس ہجوم تھے۔ راہ میں ہندوستان کی طرح جا بجا اسباب عمدہ رکھے۔ کسی طرف سے بگھیوں کے رستے نہ تھے۔ ایک آدھ راہ سے بگھی شاہ مصر کی بدشواری جا سکتی۔ قصابوں کی یہ صورت تھی کہ میلے کپڑے پہنے اور ایک چتھڑا میلا گوشت پر ڈالے گوشت بیچ رہے تھے۔ آبادی شہر مصر کی ایسی ہے کہ شہر بھر کی چھت ایک دوسری سے ملی ہے۔ اگر کوئی چھت پر چڑھے۔ سب چھتوں پر بے تکلّف جا سکے۔ اس کثرتِ آبادی سے یہ بات ثابت ہوتی کہ فصل گرمی میں نہایت گرمی ہوتی ہو گی۔ سیر کرتے ہوئے ایک قدیمی مکان میں گیا۔ زبانی لوگوں کے ثابت ہوا کہ فرعون کے زمانہ کا بنا تھا۔ بلندی اور گنبد اُس مکان کے جامع مسجد شاہجہان آباد سے زیادہ۔ گردا گرد اُس کے  دیوار پختہ ایستادہ۔ مکان عالیشان تھا۔ در و دیوار  میں جا بجا نشانِ خون نمایاں۔ بہت سے تابوت وہاں رکھے۔ عبرت ہوتی اُن کے دیکھنے سے۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا کہ در و دیوار میں خون لگنے کا سبب کیا۔ لوگوں نے بیان کیا کہ ایک قوم عرب نام اس کا مملوک تھا۔ مدّت سے اس شہر میں رہتی، شجاعت و بہادری میں بے نظیر تھی۔ اطاعت بادشاہ کی بسبب  جرأت کے نہ کرتے۔ سب سات سو نفر تھے۔ آخر ایک دن شاہ مصر نے اُن سے فریب کیا یعنی بہانہ دعوت سے سب کو اُس مکان میں بلایا۔ جب وہ سب جمع ہوئے۔ دروازے بند کروا دیے اور اپنے لوگوں کو دیواروں پر چڑھایا۔ گولی، نیزے، تلوار سے اُن کو مروایا۔ وہ زخموں سے چور دوڑے دوڑے پھرتے۔ یہ دھبّے اُنھی کے خون کے ہیں، جو دکھائی دیتے۔ یہ حال سن کر میں نے بہت افسوس کیا کہ یہ امر دانائی و شجاعت سے دور ہے بہت سا۔ اوّل عنایت و مہربانی سے بلانا، پھر دغا بازی سے قتل کرنا خلاف دیانت و امانت کے ہے۔ جو اپنے کہے پر قائم نہ رہے، کتّے سے بد تر ہے۔ اس واسطے کہ کتّا حق نمک ملحوظ رکھتا ہے، پس یہ شخص کتّے سے بھی برا ہے۔ دنیا ناپائدار ہے۔ کسی کو یہاں قرار نہیں ہے۔ افسوس کہ اس پر بھی آدمی نہیں سمجھتے ہیں۔ ظلم و بدعت پر آمادہ ہو قتلِ انسان کرتے ہیں۔ بالاتفاق ہر مذہب میں ثابت ہے کہ کوئی گناہ قتل بنی آدم سے نہیں زیادہ ہے۔ باوجود اس کے جس کو دیکھیے از راہِ نفسانیت خوں ریزی پر آمادہ ہے۔ انسان نمونہ قدرت کاملہ حق تعالیٰ کا ہے۔ جو اس کو قتل کرتا ہے دونوں جہاں میں منھ اُس کا کالا ہے۔

قصہ مختصر  وہاں سے پھر کر اُس بازار میں آیا کہ لونڈی غلاموں کے بکنے کا وہ مقام تھا۔ بردہ فروش لونڈیاں علانیہ بیچتے  ہیں، خوف حاکم و عسس نہیں رکھتے ہیں۔ جو لونڈیاں خوبصورت کم سن دیکھتے ہیں، اُن کو علیحدہ  ایک مکان میں پردہ نشین کرتے ہیں۔ جس خریدار کو صاحب عزّت و ثروت جانتے ہیں، اُس مکان میں لے جا کر دکھلاتے ہیں۔ باقی اور لونڈیاں سر بازار بٹھلا کر بیچتے ہیں۔ لوگ دیکھ بھال کر مول لیتے ہیں۔ حال اُن بے چاریوں کا اُن ظالموں کے ہاتھ سے متغیر تھا۔ کسی کا بہ سبب فاقہ کشی کے بدن میں فقط چمڑا رہا، کسی کا سارا بدن ننگا۔ بندہ کپڑے سپید انگریزی پہنے تھا۔ اظہارِ خریداری لونڈی خوبصورت کا کیا۔

بردہ فروشوں نے اندر مکان کے لے جا کر لونڈیاں خوبصورت دکھلائیں۔ صورت شکل میں سب پری کے مانند تھیں مگر بسبب تکلیف دینے اُن ظالموں کے روٹی کپڑے سے سوکھ کر پوست و استخواں رہیں۔ سب کی سب میری طرف دیکھ کر عاجزی سے اشارہ خریداری اپنی کا کرتیں۔ میں دیکھنے حال تکلیف اور مصیبت اُن پریوں سے سخت رنجیدہ ہو کر باہر آیا۔ بخدا اگر مجھ کو مقدور ہوتا ان ستمگاروں ناخدا ترس سے سب کو مول لے کر آزاد کر دیتا، مگر لاچار ہوا کہ اتنا روپیہ کہاں سے لاتا۔ بجز غم کھانے کے چارہ نہ دیکھا۔ دل میں تعجب آیا کہ اس قدر زیادتی لونڈیوں کا باعث کیا۔ لوگوں نے کہا محمد علی شاہ مصر کا جس ملک کو فتح کرتا ہے۔ اُس شہر کے زن و مرد پکڑ لاتا ہے۔ اُن کو درماہے کے عوض سپاہیوں کو تقسیم کر دیتا ہے۔ ہر ایک سپاہی اُن کو اس بازار میں لا کر سر دست ان ظالموں کے ہاتھ کم قیمت پر بیچ جاتا ہے۔ یہ بتدریج بیچتے ہیں، قیمت زیادہ لیتے ہیں۔ شاہ مصر کی دانائی سے بعید معلوم ہوتا ہے کہ رعیت پر اس قدر ظلم گوارا کرتا ہے، با وصف کمال ہوشیاری کے خدا تعالیٰ سے نہیں ڈرتا ہے۔ میں حیران ہوں کہ اس ظلم سے قیام سلطنت اس کی کا کیوں کر ہوتا ہے۔ آخر ایک دن خدا فریاد مظلوموں کی سنے گا۔ ان اعمالوں سے سلطنت اُس کی خاک میں ملا وے گا۔

آگے چلا، ایک مکان بادشاہی دیکھا۔ نیا بنا تھا۔ ہر ستون اور فرش اس کا ترشا سنگ مرمر کا۔ یقین کہ بعد تیاری کے بہت خوب ہو گا۔ سنگِ مرمر جا بجا سے بہت تلاش سے بہم پہنچایا۔ وہ مکان نہایت عالیشان تھا۔ اُس کے بعد ایک اور عمارت نظر آئی۔ پاس اُس کے دکان نان بائی کی۔ میں نے پوچھا یہ مکان کس کا ہے۔ لوگوں نے اظہار کیا دیوانے تمام شہر کے اُس میں قید رہتے ہیں۔ جو مسافر اِدھر سے گزرتے ہیں۔ نان بائی کی دکان سے روٹی مول لے کر اُن کو کھلاتے ہیں۔ میں نے بھی اُس دکان سے روٹی مول لی، اُس مکان میں جانے کی نیّت کی۔ اندر گیا۔ دیوانوں کو دیکھا، کتّوں کی طرح دست و پا زنجیر میں بندھے، چٹائی پر بیٹھے۔ گلوں میں طوق آہنی پڑے۔ کثافت سے کپڑوں میں جوں پڑی تھیں۔ مکھیوں کے غول ہر ایک پاس بھن بھنا رہے تھے۔ اسی طرح دوسری طرف رنڈیاں دیوانیاں گرفتار۔ وہ بھی یوں ہی بحالِ زار۔ ان قیدیوں کا حال دیکھ کر مجھ کو عبرت آئی۔ روٹی ہر ایک کے سامنے پھینک دی۔ ایسے بھوکے تھے کہ جلدی سے روٹی منھ میں ڈال کر کتّو ں کی طرح نگل گئے۔ اُن کے لیے سرکار شاہ مصر سے کھانا مقرر تھا مگر کارندوں کی بد دیانتی سے ایک ٹکڑا روٹی کا بھی اُن کو نہ ملتا۔ خوراک اُن کی مسافروں کے آنے پر ہے۔ سوبھی جو مسافر نرم دل اُس راہ سے گزرتا ہے اور حال اُن کا سنتا ہے، اِس مکان میں جا کر اُن کو روٹی کھلاتا ہے نہیں تو اپنی راہ چلا جاتا ہے۔ ان میں ایک جوان وجیہ، لئیق، ترکی نزاد عمر میں چالیس برس کا، اسی حال میں مبتلا تھا۔ اُس کے پاس جا کر میں نے حال پوچھا۔ زبان ترکی سے کچھ کلام کیا مگر میں اس کو نہ سمجھا۔ بہرحال وہ شخص عقل و ہوش رکھتا، نا حق اُس مکان میں قید تھا۔ یہ ثابت ہوا کہ مصر میں اگر کسی کو کسی سے عناد ہوتا ہے، قاضی کو رشوت دے کر اُس کو دیوانہ ظاہر کر کے اس مکان میں قید کرواتا ہے۔ مجھے تعجب اور تاسف آتا ہے کہ رعیت پر، خاص دیوانوں پر اتنا ظلم ہوتا ہے۔ مگر بڑا صاحب جو وہاں رہتا ہے، شاہ مصر سے اُن کے مقدمے میں کچھ نہیں کہتا ہے۔ سوا اس کے اکثر انگریز اور اُس راہ سے گزرتے ہیں۔مگر اُن دیوانوں کے حق میں شاہ مصر سے کلمۃ الخیر نہیں بولتے ہیں۔ باوجودے کہ نیّت صاحبان انگریز کی رفاہیتِ خلائق پر مصروف ہے اور باگ ارادے اُن کے کی بہودِ خلقت پر معطوف ہے۔ جو کوئی اُن بچاروں کو اُس مصیبت سے چھڑا لے، دنیا و آخرت میں اجرِ عظیم پاوے۔

ایک مکان سودائیوں کا لندن میں دیکھا تھا۔ ہر ایک نفاست سے سنگ مرمر کی کرسی پر بیٹھا تھا۔ پوشاک نفیس پہنے ہوئے۔ آدمی خدمت کے لیے سرکار سے مقرر تھے۔ ڈاکتر علاج کے واسطے مقرر۔ ہر طرح کی دوا و غذا سرکار سے میسر۔ مکان ایسا صاف اور بہتر تھا مکھی کا ہرگز گزر نہ تھا۔ جب کوئی جنوں سے صحت پاتا ہے اپنے گھر خیریت سے بھیج دیا جاتا ہے یا ملازم سرکاری ہوتا ہے۔ یہاں برخلاف اُس کے عمل میں آتا ہے۔ کوئی اُن دیوانوں کی خبر نہیں لیتا ہے۔ اگر مسافر آ نکلے، ان کو کچھ کھلاوے نہیں تو فاقہ کریں، مصیبت میں رہیں۔ اگر خدا کی قدرت سے بے دوا اور علاج کوئی اچھا ہو جاوے، اس مکان سے نکلنے نہ پائے۔ انگلستان میں کتّے بھی ان دیوانوں سے اچھے  رہتے ہیں۔ کھانے کی طرف سے ہرگز تکلیف نہیں کھینچتے  ہیں۔ یہ عجب بادشاہ اور عجب کارندے ہیں۔ بنی آدم کو ایسی تکلیف میں ڈال کر روٹی کی خبر نہیں لیتے ہیں۔یہاں کا حال  دیکھ کر اُس تہ خانہ میں گیا کہ فرعون علیہ اللعنت نے حضرت یوسفؑ کو اس میں قید کیا تھا۔ دروازہ اس کا ہمیشہ بندرہتا۔ میرے ساتھ چوبدار بڑے صاحب کا تھا۔ اس لیے ایک عورت نے دروازہ کھولا اور ہاتھ میں مشعل لے کر اندر دکھایا۔ میں نے چاروں طرف دیکھا۔ فرش زمین پتھر کا تھا اور وہ تہ خان سنگستان میں بنا۔ بیچوں بیچ  اُس کے ایک کنواں گہرا۔

بعد اس کے ایک اور مکان میں گیا۔ وہ دریائے نیل کے پار تھا، پہاڑ کے مانند بڑا اور اونچا۔ تین کنگرے رکھتا۔ مجھ کو نیل کے اترنے میں دیر ہوئی، یہاں تک کہ شام ہو گئی۔ آدمی پرنکل صاحب کا دوڑا آیا کہ جلدی چلے آؤ نہیں تو درواز ہ شہر پناہ کا بند ہو جائے گا پھر شہر میں پہنچنا دشوار ہوے گا اور پرنکل صاحب کا قصد ہے کل یہاں سے روانگی کا۔ بندہ یہ بات سنتے ہی سیر اُس مکان سے پھرا۔ دروازہ شہر پناہ پر آ پہنچا، پھاٹک بند ہوتا تھا۔ میں چستی سے اندر آیا اور اپنے مقام پر پہنچا۔ بخوبی نہ دیکھنے اُس مکان سے بہت تاسف کیا۔ الّا لاچار ہوا کچھ بن نہ پڑا۔ میرے نزدیک مصر میں یہ طریقہ اچھا ہے کہ رات کو کوئی بے روشنی قندیل کے باہر نہیں نکلتا ہے۔ اگر چوکیدار کسو کو بے قندیل دیکھتے ہیں، بے دھڑک گرفتار کر لیتے ہیں۔ اس سبب سے چور اور شاہ پہچانا جاتا ہے۔ چور چوری نہیں کر سکتا ہے۔ سوا اس کے ہر محلّہ  میں ایک پھاٹک لگا ہے۔ رات کو بند ہو جاتا ہے،کوئی ادھر سے اُدھر نہیں جانے پاتا ہے۔ نہ شب کو کوئی تماشا ہے کہ آدمی اس کو دیکھنے نکلے اور سیر کرے۔ مگر ایک امر قابل دید ہے، نادید و ناشنید ہے۔ وہ یہ کہ رات کے وقت ترک اور عرب قہوہ خانوں میں بیٹھ کر حقہ چپک کے دم کھینچتے ہیں اور شراب پیتے ہیں۔ داستان گو اُن کے سامنے قصّہ کہانیاں نادر  کہتے ہیں۔ سابق شراب نوشی کا رواج نہ تھا۔ محمد علی شاہ کے زمانہ سے اس کا بہت چرچا ہوا، اس لیے کہ بادشاہ اور شہزادہ ولی عہد علانیہ شراب پیتے ہیں۔ سفر اور حضر میں اس کو ساتھ رکھتے ہیں۔ شاہزادہ ولی عہد محمد ابراہیم نام رکھتا ہے۔ زبانی وہاں کے لوگوں کے، شجاعت و بہادری میں یکتا ہے۔ باوصف اس قدر حکومت و اقتدار کے لڑائی کے وقت سامان آسائش کا ساتھ نہیں لے جاتا ہے۔ خیالِ سبک ساری سے جریدہ رہتا ہے۔ ایک دن لڑائی میں دو تین اونٹ بوجھ سے لدے  ہوئے نظر پڑے۔ پوچھا کہ یہ اسباب کس کا اور اونٹ کس کے۔ مصاحبوں نے عرض کیا کہ ان پر اسباب ہمارا لدا ہوا ہے۔ بہت ناخوش ہو کر کہا میں اپنے ساتھ کچھ سامان نہیں رکھتا اور رات کو زمین پر سوتا، تم کو اس قدر اسباب ساتھ لے چلنا کیا ضرور تھا۔ اس آرام طلبی  کی وجہ سے اُن کو نوکری سے جواب دیا۔ ازانجا کہ مزاج بادشاہ اور شہزادے کا متوجہ شراب نوشی کے ہے، ساری فوج اور رعیت کو اثر اس کا آیا ہے یعنی ہر ایک شراب پیتا ہے۔ چنانچہ سعدی شیرازی نے فرمایا ہے: النَّــاسُ عَلی دِینِ مُلُوکِــهِم۔

قبل اجلاس اس بادشاہ کے مصر میں انگریزوں کو گھوڑے پر سوار ہونے کا حکم نہ تھا۔محمد علی شاہ نے اپنے عہد سلطنت سے اس بات کو خلاف جان کر انگریزوں کو گھوڑوں کی سواری کا حکم دیا اور بہت سی رسمیں اور حکمتیں ایجاد کیں جو زمانہ سابق مصر میں نہ ہو سکتیں تھیں۔ اُن میں  سے ایک یہ امر نیا ہے کہ لوگوں کو توپ اور بندوق ڈھالنا سکھایا ہے۔ چنانچہ توپیں تیار کرواتا ہے، فوج کو قواعد انگریزی سکھلاتا ہے، مصورونِ کامل کو نوکر رکھا ہے۔ رعایا کو حکم دیا ہے کہ اپنے لڑکوں کو فنِ تصویر کشی تعلیم کروائیں۔ لندن کی طرح تصویر مومی بھی اُن سے بنوائیں۔ وہاں آگے لوگ اس فن کو بُرا جان کر نفرت کرتے تھے۔ اب ایسا رواج ہوا کہ ہنر سمجھے۔ جا بجا مدرسہ بنوایا ہے۔ عالموں اور طالب علموں کا درماہہ مقرر کیا ہے۔ بہت سے لڑکے نوکر رکھ کر انگلستان اور فرانس فنِ جہاز رانی سیکھنے کے لیے بھیجے۔ اسی طرح صد ہا امرِ خیر اُس نے اپنی ذات سے رواج دیے۔ غرض کہ بعضی بات میں قابلِ تحسین و آفریں ہے۔ بعض رسمِ ظلم و ستم سے سزاوارِ نفریں۔

 

مصر سے روانگی

 

یہ حالات دیکھ کر انتیسویں تاریخ فروری کی گدھے پر سواری کی اور اونٹ باربرداری کا کرایہ پر ٹھہرا کر بندہ پرنکل صاحب اور ہیڈ صاحب کے ساتھ مصر سے سوئیس کو چلا۔ یہاں سے وہاں تک تین منزل کا فاصلہ تھا۔ تمام راہ کھانا پانی میسر نہ آتا، اس لیے ہر چیز ضروری اور کھانا پانی، شراب میوہ اُونٹوں پر لاد کر ساتھ لیا۔ راہ میں عورتیں مصر کی دیکھیں۔ برقع ریشمی پہن کر مقدور والیاں باہر نکلتی تھیں اور جو غریب اور بے مقدور تھیں سوتی برقع پہنے پھرتیں۔ بہ سبب برقع کے بدن اُن کا سر سے پاؤں تک چھپا تھا، کوئی عضو نظر نہیں آتا۔ آنکھوں کے برابر ایک ٹکڑا جالی کا سیا تھا، اُس سے رستہ نظر آتا۔ بعض کو دیکھا کہ پردہ اُٹھا کر مونھ اپنا راہیوں کو دکھاتیں، برقع برائے نام پہنے تھیں۔ چہروں اُن کے سے جمالِ یوسفی عیاں تھا۔ چال ڈھال میں حسنِ زلیخائی نمایاں۔ مگر اتنا عیب رکھتیں کہ قد و قامت میں اکثر موٹی تھیں۔ ایک مکان نظر آیا، وہ مقبرہ حضرت امام حسینؓ  کا تھا۔ لوگوں نے کہا کہ یہاں سر مبارک آنحضرت کا دفن ہوا۔ عمارت اُس کی عالیشان۔ ستون اُس کے چاندی کے مستحکم بنیان۔ گرد اُس کے قرآن خواں قرآن شریف پڑھتے۔ مراد والے وہاں آ کر منت مانتے۔

دیکھتے بھالتے کنارے مصر کے پہنچا۔ وہاں دو تین لڑکیون خوبصورت نے آ گھیرا۔ پھٹے پرانے کپڑے پہنے سوال بخشش و انعام کا کرتیں اور پیچھے ہمارے دوڑتی آتیں۔ مجھ کو ان کے جمال اور کمالِ افلاس پر رحم آیا۔ ان گُلوں کا کانٹوں میں دوڑنا دل کو نہ بھایا۔ بطریق بخشش اُن کو کچھ دیا اور رخصت کیا۔ وہ اپنی زبان میں دعائیں دیتی پھر گئیں اور بخشش پانے سے نہایت خوش ہوئیں۔ مصر میں اس قدر غلبہ سائلوں اور فقیروں کا ہوتا ہے کہ مسافروں کو راہ چلنا مشکل پڑتا ہے اور خوف ترکوں سے کوئی عورتوں کی طرف بدنظری سے نہیں دیکھ سکتا ہے۔ میری زبان جہاں کے میوؤں سے ذائقہ یاب ہوئی مگر کہیں بہتر مصر کی نارنگی سے خوش ذائقہ نہ پائی۔ مٹھائی اس کی مثل شیریں ادائی معشوق۔ کھٹائی اُس کی مرغوبِ طبائعِ مخلوق۔

مصر سے دو کوس آگے بڑھے۔ کئی مقبرے قدیمی صحرا میں نظر آئے۔ اہل عرب سے حال اُن کا پوچھا۔ انھوں نے کہا مقبرہ ہارون رشید اور کئی بادشاہوں کا ہے۔ مدّت کا بنا ہے۔ سامنے سے عمارت مستحکم اور وسیع نظر آئی۔ مگر بہ سبب رواروی راہ کے وہاں کی سیر نہ ہو سکی۔ اس خیال سے کہ جہاز دودی سوئیس سے رواں ہو جاوے گا، بندہ سرگرمِ تردد تھا۔ چلتے چلتے صحرائے ریگستان میں پہنچا۔ وہاں ہم سب کھانا کھا کر سو رہے، صبح اٹھ کر پھر چلے۔ راہ پُر آفت و بلا تھی۔ صورت دانے پانی کی کہیں نظر نہ آئی۔ ہزار خرابی سے قطع مسافت کرتے تھے۔ تیسری منزل تیئیسویں تاریخ فروری کے پرنکل صاحب اور ہیڈ صاحب کہنے لگے ہم آگے چلتے ہیں، سوئیس میں جا کر جہاز ٹھہراتے ہیں، تم آہستہ آہستہ اُونٹوں کے ساتھ آؤ۔ اُن کو احتیاط سے لے آؤ۔ اگر جہاز چلا جاوے گا کچھ بن نہ آوے گا۔ چلتے وقت ہیڈ صاحب نے میرے گدھے کو تیز رفتار قدم باز دیکھ کر اپنی سواری میں لیا۔ اپنا گدھا سست قدم میری سواری کو دیا۔ میں نے چار ناچار قبول کیا۔ وہ دونوں صاحب جلدی سے آگے بڑھے۔ ہم اونٹوں کے ساتھ چلے۔ جب رات آئی، بہت تاریکی چھائی۔ چلتے چلتے پاؤں گدھے میرے کا ایک گڑھے میں جاتا رہا۔ میں بھی اُس کے اوپر سے مع تلوار بندوق کے اُس میں گرا۔ عرب جو میرے ساتھ تھے، حال پوچھنے لگے۔ میں زبان عربی سے ناآشنا تھا۔ اُس وقت اور ہر حال میں طائب طائب کہتا۔ طائب ان کی بولی میں بجائے بہتر کے بولتے اور میں نے کہا بیچ ایسے وقت مصیبت کے۔ انھوں نے یہ سن کر قہقہہ مارا اور غار سے مجھ کو نکالا۔ بڑی محنت اور مشقت سے ڈیڑھ پہر رات گئے سوئیس میں مج صاحب کے مکان پر جا کر اُترا۔ سارا اسباب اونٹوں سے اُتارا۔ مج صاحب ملازم شاہ لندن کے تھے۔ پہنچانے اسباب ضروری جہاز کے لیے مقرر سرکار سے تھے۔ اپنے دونوں ہمراہیوں کو خواب غفلت میں پایا۔ جگانا اُن کا مناسب نہ سمجھا۔ ہاتھ پاؤں دھو کر کچھ کھانا کھایا اور سو رہا۔

صبح اُٹھا حال جہاز کا پوچھا۔ معلوم ہوا کہ ان دونوں کے آنے سے پہلے روانہ ہو گیا۔ یہ سن کر بہت ملول ہوا کہ یہاں کچھ دنوں رہنا پڑا۔ حال اس شہر کا اس طرح دیکھا کہ کہیں سبزی اور درختوں پھول کا نام و نشان نہ تھا۔ یہاں تک کہ پہاڑ بھی سبزے سے خالی پایا۔ تمام شہر کے کنوؤں کا پانی کھاری تھا۔ نہ کوئی چشمۂ شیریں جاری ہے۔ وہاں سے تین کوس کے فاصلہ پر ایک کنواں اچھا تھا۔ نام اس کا بیر موسےٰ اور پانی اُس کا میٹھا۔ سقّے مشکوں میں پانی اُس سے بھر لاتے۔ بازار میں لا کر بیچ جاتے۔ خریدار ان پر ہجوم کرتے، شہد کی  طرح مول لیتے۔ سوا پانی کے سوئیس میں ہر چیز ملتی۔ آسانی سے بے تکلّف میسر آتی جیسے گوشت، دودھ، دہی، پنیر، گھی اور تمباکو پینے کا۔ حقّہ چپک بھی وہاں خوب بنتا۔ قہوہ خانوں میں شراب اور چائے موجود و مہیّا۔ ایک سرا پختہ تھی، جگہ اُترنے مسافروں اور سوداگروں کی۔ یہ شہر مقام تجارت اسباب مصر کا ہے۔ دریائے شور سے لگا ہے۔ بگلے عرب کے یعنی چھوٹے جہاز وہاں آتے ہیں، اسباب خرید کر کے جدّے اور مکّے لاد لے جاتے ہیں اور وہاں کا اسباب یہاں بیچنے لاتے ہیں۔ پرنکل صاحب نے مج صاحب سے اترنے کی جگہ مانگی۔ انھوں نے ایک جگہ بہتر رہنے کے لیے تجویز کر دی۔ حق یہ ہے کہ مج صاحب مردِ دانا تھا۔ لیاقت چوگنی درماہے کی رکھتا۔ اُس وجہ مقرر سے کہ سرکار کمپنی سے پاتا۔ اُس شہر میں رہنا ہر کسی کا کام نہ تھا۔ قوم گرِیک سے کتنے آدمی وہاں رہتے تھے۔ لوگ حال بیان کرنے لگے کہ یہاں گرمی کی فصل میں اکثر تپ و بخار آتا ہے۔ ہر شخص شراب دوا جان کر پیتا ہے۔ انھی دنوں میں نے کلن صاحب سے جو مج صاحب کے مکان پر رہتے تھے، ملاقات کی، دوستی اور محبت بدرجہ کمال بہم پہنچی۔ وہ تھے رہنے والے دٹلین کے۔ پسٹن فوج انگریزی رسالہ ہارس ٹرین کے سرکار سے رخصت لے کر مصر کی سیر کرنے آئے تھے۔اُس شہر کو پسند کر کے چندے ٹھہرے۔ ہم اکثر ان کی صحبت میں رہتے۔ وہ بہت سیاح اور جہاں دیدہ تھے۔ جب سے وہ اس جوار میں آئے ترکوں کی طرح  ڈاڑھی مونچھ بڑھا دی اور پوشاک ترکی پہنتے۔ بندہ بیشتر اُن کے ساتھ دریائے شور اور بازار کی سیر کرنے جاتا، باتون شیریں اُن کی سے ذائقہ یاب ہوتا۔ قہوہ خانوں  میں ہمراہ اُن کے جا کر قہوہ و شراب پیتا اور مج صاحب کے مکان پر جو کنارے دریا کے تھا، اُن کے ساتھ بیٹھ کر حقّہ چپک پیتا، پانی کی لہروں کی سیر دیکھتا۔ ہر روز نہانے کو ان کے ساتھ سمندر جاتا۔ اسی لطف میں ہفتہ عشرہ گزرا۔

ایک دن دوپہر کو دل گھبرایا، کنارے دریا کے جی بہلانے گیا۔ وہاں سے پھرا  آتا تھا۔ راہ میں ایک پھاٹک کے نیچے ایک بیمار پڑا دیکھا۔ اُس نے میرے دیکھتے ہی سوال کیا کہ للّٰہ مجھ بیمار غریب الوطن پر بتصدّق حضرت عیسیٰ کے رحم کرو اور کہیں رہنے کی جگہ دو۔ میں نے اُس سے پوچھا تو کہاں کا رہنے والا اور مذہب تیرا کیا ہے۔ کہا وطن میرا بنبئی اور مذہب میرا عیسوی ہے۔ ایک صاحب والا شان کا نوکر ہو کر اُس کے ساتھ جاتا تھا۔ مصر میں پہنچ کر مرض تپ اور بخار میں گرفتار ہوا۔ لاچار ہو کر اپنے آقا سے عذر بیماری کا کیا۔ درماہہ لے کر یہاں تک آیا۔ اب یہاں کوئی خبر گیر میرا نہیں ہوتا۔ پھر میں نے اُس سے کہا میں مذہب سلیمانی کا یقین اور آئین رکھتا ہوں۔ کوڑی پیسا پاس نہیں رکھتا ہوں۔ تو اپنے مذہب والوں سے مطلب اپنا ظاہر کر۔ اُس نے کہا بہت خوب اور بہتر۔ بعد اس کے میں اُسی پھاٹک پاس کھڑا چپک پیتا رہا۔ ایک شخص عیسائی سوئیس کا رہنے والا تسبیح ہاتھ میں لیے سامنے آتا تھا۔ اپنے مذہب میں بہت پرہیزگار اور متقی۔ ملک شام میں زیارت مقبرے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی کی۔ بظاہر اپنے مذہب والوں سے تقویٰ، طہارت میں سبقت لے گیا۔ نہایت مرفّہ الحال اور صاحب مقدور تھا۔ میں نے اُس بیمار سائل سے اشارے آنکھ سے کہا۔ یہ جو صاحب بڑے دیندار آتے ہیں ان کو حال اپنا کہہ سنا۔ جب وہ برابر آئے، اُس نے گڑگڑا کر کہا میں مذہب عیسائی رکھتا ہوں، مسافرت میں بیمار پڑا ہوں۔ برائے خدا مجھ پر رحم اتنا کرو کہ گھر لے چل کر میری دوا کرو۔ انھوں نے اُس سے یہ بات سن کر پوچھا تو خط صلیبی کھینچنا جانتا ہے۔ ا س نے فی الفور خط صلیبی ابرو سارے بدن پر کھینچ کر دکھلایا اور اُن کے پاؤں پر گرا۔ وہ خفا ہو کر سخت کلمے کہہ کر چلے گئے، ایک پیسا بھی نہ دے گئے، سوا باتون سخت و ناروا کے۔ اسی طرح بہت پادری اور کتنے اور صاحب اُس راہ سے نکلے، حال اُس کا دیکھتے گئے۔ سبھوں سے اُس نے سوال کیا مگر کسی نے اُس پر رحم نہ کیا۔ اس سخت دلی اُن لوگوں سے ثابت ہوا کہ عقیدہ درست نہیں ہے کسی کا۔ ظاہر میں پادری اور سب صاحب مذہب عیسائی کا دم مارتے ہیں، باطن میں ذرّہ بھر ایمان نہیں رکھتے ہیں۔ حضرت عیسیٰ نے ان لوگوں کے حق میں فرمایا کہ حال ان کا مثل مقبرے کے ہے۔ ظاہر میں آراستہ و خوشنما، اندر اُس کے سوائے ہڈیون مردہ کے اور کیا۔ اسی طرح میری امت کے لوگ ظاہر میں میری محبت کا دعویٰ کریں گے، باطن میں کچھ اُس کا خیال نہ رکھیں گے۔ دین عیسائی بالذات بہتر ہے۔ لیکن اس مذہب والے اپنے طریق سے بےخبر ہیں۔ اکثر آنحضرت علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ فردائے قیامت میں تم سے کہوں گا کہ اے میری امّت کے لوگو میں بھوکا تھا، تم نے مجھ کو کھانا نہ کھلایا، پیاسا تھا پانی نہ پلایا، ننگا تھا کپڑا نہ پہنایا، مسافر تھا تم نے اپنے گھر رہنے کا ٹھکانہ نہ دیا۔ مراد اس سے یہ ہے کہ میری امّت کے بھوکوں، پیاسوں، ننگوں کو تم نے کامیاب نہ کیا۔ باوصف یہ کہ سلوک کرنے کا تم کو اختیار تھا۔

القصہ جب اُس مسافر بیمار کا کوئی پرسان نہ ہوا، میں نے پرنکل صاحب کے آدمی سے کہا کہ اس شخص کو اپنے ساتھ لے جاؤ، باورچی خانہ میں رہنے کی جگہ دو۔ وہ اس کو اپنے ساتھ لے گیا۔ باورچی خانہ میں اُتارا۔

ازانجا کہ جہاز کے آنے میں عرصہ تھا، لاچار اُس اطراف و جوانب کی سیر کا ارادہ کیا۔ پرنکل صاحب اور ہیڈ صاحب اور کلن صاحب کے ساتھ ایک گرِیک کی کشتی پر سوار ہوئے اور سمندر میں چلے۔ نام اُس گرِیک کا نکلس۔ کشتی بھری ہوئی تھی غلّہ سے۔ تھوڑی دور تک ناؤ موافقت ہوا سے اچھی طرح چلی۔ جب بیچ میں جا  پہنچی، ہوا ناموافق زور سے بہی۔ کشتی ڈگمگائی۔ لہر پانی کی ناؤ تک آئی۔ ہوا کے زور سے ناؤ کبھی اونچی ہوتی، کبھی نشیب میں جا گرتی۔ نکلس بڈھا تھا۔ تدبیر سے عاجز ہوا۔ ایک ملّاح اور تھا۔ اُس نے لاچار ہو کر اپنے تیئں دریا میں گرا کر ہلاک کرنا چاہا۔ ہم نے منع کیااور منع کر کے پکڑ رکھا۔ بادبان  کی رسّی کاٹ دی۔ ناؤ ٹھہرائی لیکن تدبیر آدمی کی ہوا پانی سے کچھ کام نہیں کرتی۔ کشتی ویسی ہی ڈانواڈول رہی۔ کنارے لے جانے کی بھی صورت نہ تھی۔ اس لیے کہ کنارے پر درخت مونگے کے ایسے سربرآوردہ تھے کہ اگر کشتی اُن پر جاتی، توڑ ڈالتے۔ یہ وہی مقام تھا کہ حضرت موسیٰ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر آئے۔ پانی خدا کے حکم سے خشک ہوا، وہ پار اُتر گئے۔ ہم لوگ اس مصیبت میں پڑے۔ خدا کی درگاہ میں دعا کرتے تھے۔ اکبارگی  بگلہ عرب کا نظر آیا۔ ہم نے اُن سے اظہارِخیال کیا۔ انھوں نے ایک چھوٹی ناؤ بھیج کر اپنے پاس بلایا۔ ہم نے اُس ناؤ پر سوار ہو کر اُن کے بگلے پر پہنچنا غنیمت جانا۔ سبب بچنے جان کا ہوا۔ بعد ایک ساعت کے ایسی ہوا موافق چلی کہ کشتی اس گرِیک کی بھی بخیریت کنارے پر پہنچی۔ ہم اُس بگلے پر چڑھ کر موضع طور میں آئے۔ وہ وطن یہودیوں کا تھا۔ کئی گھر عرب کے اور دو تین گھر گرِیک کے تھے۔ اُس کی طرز آبادی سے معلوم ہوتا کہ سابق میں خوب آباد ہو گا۔ قسم غلّہ سے کوئی چیز وہاں نہیں پیدا ہوتی۔ زمین اُس کی سنگستان اور کان نمک کی تھی۔ اس سبب سے درخت  میوہ دار اور سبزہ بھی نہ تھا مگر درخت کھجور کا البتہ اُگتا۔ ظاہراً کم پانی غلّہ اور ہر چیز کی تنگی سے لوگ وہاں سے نکل گئے، وطن مالوف اپنے سے ٹل گئے۔ غذا وہاں کے لوگوں کی مچھلی ہے۔ اسی سے اُن کو سیری ہے۔ غلّۂ مصر اور طرفوں کو جاتا ہے، اس سبب سے گراں بکتا ہے۔ اسی لیے لوگوں نے مچھلی کھانا اختیار کیا ہے۔ پانی کنوؤں کا کھاری ہوتا ہے۔ اگرچہ بہت شوریت نہیں رکھتا ہے مگر بدمزہ پایا جاتا ہے۔ وہاں دریائے شور میں مچھلی کی زیادتی سے گویا کانِ ماہی ہے۔ جب بگلہ یعنی جہاز ہمارا وہاں پہنچا۔ آدمیون معزز کو  دیکھا کہ جال شکار کے واسطے دریا میں ڈالا۔ جب اُس کو پانی سے اُٹھایا، اتنی مچھلیاں بھر گئیں کہ اُٹھانا جال کا دشوار ہوا۔ اُس مقام سے دو تین کوس کے فاصلہ پر ایک حوض سنا کہ وہ حمام حضرت موسیٰ اور مقام تعظیم کا تھا۔ پانی اس کا بھی خوب شیریں نہ تھا۔ اُس میں ہم نے جا کر غسل کیا۔ بعد فراغت کے پھر وہاں سے طور کو چلے۔ راہ میں کئی جھانکل اُڑتے  دیکھے۔ میں نے چھرے بھر کر اُن پر ایک بندوق ماری۔ اتفاقاً اُن میں سے ایک کو زخم لگا کاری، وہ زخمی  ہو کر گرا۔ میں نے شکرِ خدا ادا کر کے گوشت اس کا کھایا۔ پنجہ اور چونچ پھینک دیا۔ اُس کو عرب کے لڑکوں نے بھون کھایا۔ طور میں آ کر بہت تلاش کر کے اونٹ بہم پہنچائے۔ ان پر سوار ہو کر کوہِ طور پر چلے۔ طور سے کوہِ طور تک چار روز کی راہ تھی۔ ہم نے اپنی تیز روی سے دن بھر چل کر تین روز میں طے کی۔ راہ میں ایسے ایسے رستے پہاڑ کے دیکھے کہ بسبب تنگی کے دو اونٹ برابر نہ جا سکتے۔ بلکہ سوا اونٹ کے دوسرا جانور ہرگز تاب  و طاقت نہ رکھتا کہ اُن راہون دشوار گزار سے چل سکتا۔ اونٹ عجیب جانور ہوتا ہے کہ اپنے اوپر تکلیف سہہ کر سوار کو منزل تک پہنچاتا ہے۔ جس جگہ پہاڑوں پر اونٹ تھک جاتے، اونٹ والے غزلین عربی گاتے۔ اکبارگی اُونٹ جوش میں آتے، تیز ہو کر چل نکلتے۔ فی الواقعی غزل سرائی بدوؤں کی عجیب کیفیت رکھتی۔ میری طبیعت بھی اُس کو سن کر مسرور ہوئی۔  راہ بھر پہاڑوں پر کہیں سبزہ نہ دیکھا مگر ایک آدھ چشمہ نظر آیا کہ بلندی سے نشیب میں بہتا اور درخت کھجور کا بھی اُس کے پاس تھا۔ وہاں بیٹھ کر کھانا کھایا، پانی پیا، بدن دھویا۔ باقی تمام راہ اپنی ساتھ کی مشکوں سے پانی پیتا گیا۔ دیر تک وہاں بیٹھ کر سستائے۔ ٹھنڈی ہوا مزے دار پانی پر للچائے۔ آگے چلنے کو دل نہ چاہتا۔ مگر لاچار قدم آگے رکھا۔ نام اُس کا وادئ ایمن مقام بنی اسرائیل کا تھا۔ چالیس برس تک گروہ بنی اسرائیل کا اُس میں حیران و پریشان رہا۔ جا بجا پہاڑوں پر خطوط عربی، ہندی، عبرانی لکھے۔ ظاہر ا وہ سب لکھے ہوئے  بنی اسرائیل کے تھے۔ ہر چند غور و خوض کیا مگر مضمون اس کا ہم میں سے کسی کی سمجھ میں نہ آیا۔ ایک جگہ تکیہ قبرستان بدویوں کا نظر آیا اور اکڈال پتھر قبرون انگریزوں زمانہ قدیم کا بھی دیکھا۔ درمیان انھیں پہاڑوں کے اونٹ پرنکل صاحب او ر کلن صاحب کی سواری کے بیمار ہوئے اور تھک کر راہ چلنے کے قابل نہ رہے۔ ہم کو سخت حیرانی ہوئی کہ یہاں سے جان کیوں کر بچے گی۔ بدوی اسی جنگل میں دوڑے گئے۔ اپنے بھائیوں کے پاس سے دو اونٹ لائے۔ کلن صاحب اور پرنکل صاحب ان پر سوار ہو کر چلے۔

کوہ طور پر

 

تیسرے دن چلتے چلتے شام کو کوہِ طور پر پہنچے۔ دور سے پہاڑ نظر آئے۔ ایک باغ نفیس تھا بیچ میں اُن کے۔ دیکھنے اُس کے سے میں بہت خوش ہوا، پھولا نہ سمایا۔ تمام عمر میں دو مرتبہ مجھ کو جتنی خوشی حاصل ہوئی ویسی کبھی خیال میں نہیں آتی ہے۔ ایک دیکھنا زمین جزیرۂ کیپ طراوت آباد کا، دوسرے بعد از صحرا نوردی مشاہدہ اس باغِ ارم بنیاد کا۔ اُن دونوں پہاڑوں میں سے جو داہنی طرف تھا، کوہ ِ طور نام رکھتا۔ پہاڑ کے اوپر ایک قلعہ بنا ہے، بلندی میں آسمان سے باتیں کرتا ہے۔ اگر اتنا بلند نہ ہوتا، مال اور اسباب اُس کا لُٹ جاتا۔ اس لیے کہ بدوی ہمیشہ مستعد تاراج و یغما رہتے ہیں، قابو پانے پر مال و اسباب لوٹ لے جاتے ہیں۔ باغ اور قلعہ میں گریک کے دو سو پادری ترکِ دنیا کر کے بیٹھے ہیں۔ تما م عمر عورت سے نہیں واقف ہوتے ہیں۔ چنانچہ یہ حال اُن کا مشہور ہے، معلوم ِ نزدیک و دور ہے مگر حال باطن اُن کے کا خدا جانتا ہے کہ دل مکدّر ہے یا صفائی رکھتا ہے۔ قوم گریک کے رئیس نے قلعہ کے اندر ایک مسجد بنوائی ہے، رضامندی بدویوں کے لیے یہ بات بنائی ہے تا کہ بدوی اُن کو محض کافر نہ گنیں۔ اُن کی طرف سے دل میں محبت رکھیں۔ اسی واسطے دو سو بدویوں کو ہر روز کھانا کھلاتا ہے، عناد و خصومت سے باز رکھتا ہے۔ پھر بھی وہ آمادۂ غارت گری رہتے ہیں، قابو پانے پر نہیں چوکتے ہیں۔ قلعہ جانے کی راہ ایک دروازہ مستحکم ہے۔ راہ باغ کی بھی اُسی سے توام ہے، اور طرف کوئی دروازہ نہیں لگا ہے۔ وہ ایک بھی خوف بدویوں سے ہمیشہ بند رہتا ہے۔ سابق دروازہ پر گھنٹے تھے کہ مسافر جب وہاں پہنچتے گھنٹا ہلاتے۔ لوگ قلعہ کے اُس کی آواز سے خبردار ہو کر مسافر کو اندر لے جاتے۔ بدوی کئی بار اُن کو اُٹھا لے گئے۔ اب انھوں نے لاچار ہو کر دروازہ پر ایک لکڑی رکھی کھڑکھڑانے کے لیے۔ مسافر جب جاتا ہے وہ لکڑی دروازہ پر دے مارتا ہے۔ قلعہ والے جب آواز اُس کی سنتے ہیں، مسافر کو اندر بلا لیتے ہیں۔ ہم لوگ بھی جب وہاں پہنچے، اطلاع کے لیے لکڑی دروازے پر بجانے لگے۔ قلعہ والے دوڑے۔ بلندی پر ایک کھڑکی تھی اُس کے پٹ کھولے، نیچے دیکھا۔ ہمارا حال پوچھا۔ کلن صاحب نے چٹھی سفارش کی اُن کے نام پر لکھوائی تھی، دکھلائی۔ انھوں نے ایک رسّی پیچ لگی ہوئی، نیچے لٹکائی۔ چٹھی پیچ میں رکھوا کر اوپر کھینچ لی۔ بعد اس کے اُسی رسّی پیچ دار کو پھر لٹکایا۔ ہم کو اور اسباب ہمارے کو اوپر کھینچ لیا۔ اندر لے جا کر مہمانی میں مشغول ہوئے۔ دو ایک صاحب نہایت مہربانی فرما کر دو چار کلیسوں میں جو وہاں تھے لے گئے۔ ایک کلیسا قدیمی بہت بڑا تھا۔ اندر اُس کے اسباب چاندی سونے کا رکھا۔ فرش سنگِ مرمر سپید و سیاہ کا مانند خانون شطرنج کے بنا ہوا۔ جھاڑ چاندی کے چھت اور دیواروں پر لٹکے۔ فریم تصویر اولیا انبیا کے جا بجا لگے۔ قدرت خدا کی اس مکان والا شان سے پیدا۔دوسری طرف ایک اور مکان گنبددار تھا۔ حضرت موسیٰ اسی جگہ روشنی اور تجلیّ خدا کی دیکھ کر سجدہ میں آئے تھے۔ اب تلک وہاں جانے والا کانپتا ہے ہیبت سے۔ اندر اس کے بتیاں اگر کی جلتیں اور ہر طرح کی خوشبوئیں تھیں۔ اُس کے سامنے ازراہِ ادب جوتا پہنے کسی کو جانے نہیں دیتے ہیں۔ گریک اور انگریز اور ہر کوئی برہنہ پا ہو کر زیارت اُس کی کرتے ہیں۔ میں نے اور ہمراہیوں میرے نے وہاں جا کر زیارت کی۔ بعد اس کے رہنمائی اُن دونوں صاحبوں سے تہ خانہ کی راہ سے جو ملحق باغ سے تھی، باغ میں آئے، اُس کا تماشا اور سیر دیکھتے رہے۔ عجب باغ نادر اور سر سبز تھا کہ نہال خشک قلم مدح نگاری اس کی سے بارور ہوا۔ شعر:

دراں باغ مرغان بجوش آمدہ
زہریک دگرگون خروش آمدہ

درخت بادام، پستہ، ناریل، زیتون اور ہر ایک میوہ کے پھلوں سے لدے ہوئے۔ ہر قسم کے پھل اور میوے وہاں موجود تھے۔ وہ پادری تارک الدنیا جو وہاں رہتے، سوائے کھانے کے وہ میوے  کھاتے۔ اسی سیر میں شام ہوئی، دل کو خواہشِ  طعام ہوئی۔ ازانجا کہ مقیموں پر دعوت مسافروں کی لازم ہے، یہی طریقہ ہمیشہ سے قائم ہے، ہم ان کو مہمان نوازی پر منتظر رہے۔ زیادہ تر اس سبب سے کہ کوئی جا گہ خرید و فروخت کھانے کی نہ  جانتے۔ اتنے میں میز پر دستر خوان بچھا، ستھرے برتنون صاف کو اُس پر چُنا۔ دو تین بڑے برتنوں میں چاول تر بتر پلاؤ کی صورت لائے۔ اسی قدر روٹی سیاہ بد ہئیت۔ ترکاری روغنِ زیتون کی پکی ہوئی۔ قہوہ اور شراب بھی آئی۔ چاولوں کو دیکھ کر بندہ بہت محظوظ ہوا کہ مدّت کے بعد پلاؤ میسّر آیا۔ جب کھانا آ چکا اور ہر ایک برتن میز پر قرینے سے جما۔ کھانا شروع ہوا۔ چاولوں پر میں نے پہلے ہاتھ ڈالا اور ایک لقمہ کھایا، تیل کا پکا ہوا پایا۔ ایسا تنفّر ہوا کہ پھر کوئی نوالہ اُس کا حلق سے نہ اُترا، مگر ترکاری وغیرہ سے البتہ قدرے قلیل کھایا او ر قہوہ بھی پیا۔ ہیڈ صاحب نے بھی میری طرح عمل کیا۔ مگر پرنکل صاحب نے چند لقمہ روٹی کے کھائے، بعد اس کے خاموش ہو کر بیٹھے۔

کلن صاحب مرد خود نما تھے، ہاتھ بڑھا کر ایک برتن کے چاول صاف کر گئے۔ پھر دوسرا برتن اپنے آگے کھینچ لیا، اُس میں سے بھی تھوڑا سا کھایا۔ ہم اور سب لوگ مانع ہوئے کہ چاول تیل کے پکے ہرگز ہضم نہ ہوں گے۔ انھوں نے کچھ خیال نہ کیا، از راہِ جہالت شکم سیر کھایا اور کہا تم اس کھانے کا مزا نہیں جانتے ہو، یہ کھانا خوب ہوتا ہے، ناحق منع کرتے ہو۔ میں نے ترکوں کے ساتھ اکثر کھایا، اس نے کبھی مجھ کو ضرر نہیں کیا۔ کچھ زبانِ عربی بھی سمجھتے تھے۔ اُن لوگوں کے جواب میں تعال ہیں، تعال ہیں کہتے، لیکن ہم لوگ زبان عربی اور گریک کچھ بھی نہ سمجھتے۔ جب کھانے پینے سے فراغت ہوئی، قہوہ اور چپک کی نوبت آئی۔ اسی کیفیت میں رات ہوئی۔ کلن صاحب کے پیٹ میں درد اُٹھا، شور و غل مچایا۔ منگوا کر عرق انگور کا ایک پیالہ پیا، تب کچھ افاقہ ہوا۔ مگر ہنوز دردِ خفیف باقی تھا کہ وقتِ فجر ہوا۔ میں نے اُٹھ کر بعد سلام رسمِ خاص و عام کے ان کے مزاج کا حال پوچھا، انھوں نے حال بتایا اور کہا وہ روغن  سوائے زیتون کے کچھ اور ہی تھا۔ ورنہ اتنا رنج نہ دیتا۔

دوسرے دن ہم نے پادریوں سے کہا کہ ہم میں سے کوئی زیتون وغیرہ کھانے کی عادت نہیں رکھتا، اگر گھی میسر آئے تو البتہ ہضم ہوئے۔ انھوں نے جواب دیا ہم لوگ ترک ِ لذات کر کے یہاں بیٹھے ہیں، انہی چیزوں کو کھاتے ہیں۔ میں نے پرنکل صاحب سے کہا: قرینہ سے ثابت ہوتا ہے کہ اگر یہ لوگ ہم سے کچھ پاویں، راضی ہو کر کھانے نفیس کھلاویں۔ پرنکل صاحب میرے کہنے پر راضی ہوئے، ایک کو اُن میں سے پانچ روپے دیے۔ اُس دن دوپہر کو جب میز پر دستر خوان بچھا، پستہ، بادام، انڈا، روٹی، چاول اور ہر طرح کا کھانا موجود ہوا۔ میں نے دل میں کہا سبحان اللہ، با وصف یہ کہ انھوں نے ترک تعلقات کر کے یہاں بیٹھنا اختیار کیا، اُس پر بھی دل سے دنیا کی محبت کو نہ چھوڑا۔ تھوڑے روپے دینے سے کیا کیا تکلف کیا اور اقسام اقسام کا کھانا سوائے گوشت کے میز پر لگایا۔ اس سے ثابت ہوا کہ اُن کا اظہار نانِ خشک کا بیجا تھا۔ میوے اور کھانے مرغّن کھاتے۔ نہیں تو ایسے موٹے کیوں کر ہو جاتے کہ سب جنگلی سور کی طرح پھولے تھے اور لنبے چوڑے نظر آتے۔ دوسری دلیل یہ کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، ایک شخص ایک برتن کندھے پر رکھے آتا، پکی مچھلیوں سے بھرا تھا۔ اُن پادریوں کے لیے لایا۔ مخفی  جگہ پر بیٹھ کر انھوں نے کھایا۔ تیسرے پہر کو میں نے چھپ کر اُن کے کھانے کا مکان دیکھا۔ ہر ایک طرح طرح کی نعمتیں کھا رہا تھا اور شراب و چپک پیتا۔ انھی دنوں دو انگریز ایک کا نام ڈاکتر ہال رائے صاحب، دوسرا ایندرو صاحب وہاں سیر کے لیے وارد ہوئے۔ دونوں دولت مند اور صاحب ثروت تھے۔ فقط سیر اور تجربہ اور حصول علموں  اور صنعتوں کے پھرتے۔ چنانچہ روم،  شام، عربستان طے کرکے یہاں پہنچے تھے۔ ڈاکتر ہال رائے صاحب جس ملک کو دیکھتا نقشہ اس کا کھینچتا، ایندرو صاحب حال ہر ملک کا لکھتا دونوں صاحب پوشاک عربی پہنے تھے۔ اس لیے ہم ان کو شیخ عرب سمجھے۔ بعد کلام کرنے کے ثابت ہوا اُن کا انگریز ہونا۔ ایک لڑکا حبشی خدمت کے لیے اور ایک ڈیرہ و خیمہ چھوٹا بوجھ ایک گدھے کا ان کے ہمراہ تھا۔ میں بہت اشتیاق سے اُن کی ملاقات کرنے گیا۔ اُس وقت وہ کھانا کھا رہے تھے۔ دونوں اپنے ہاتھ سے نوالہ اُٹھا کر منہ میں لے جاتے۔ میں نے حیران ہو کر پوچھا چھری کاٹنے سے کھانا کیوں موقوف کیا۔ انھوں نے کہا: سفر میں اس قدر بوجھ اُٹھانا اور لباس انگریزی پہننا عقل کے خلاف دیکھا۔ عربی پوشاک پہنی، اس ملک میں جہاں ہم جاتے ہیں لوگ اخلاق سے مل کر اچھی جاگہ عزّت سے بٹھلاتے ہیں۔ وہ ایسے تپاک سے مجھ سے ملے اور کلمات نصائح بیان فرمائے کہ اُن کے پاس سے اُٹھنے کو دل نہ چاہتا۔

صاحبانِ انگریز کیا عقل رسا اور فہم و ذکا رکھتے ہیں کہ باوجود ثروت کے ہمیشہ علم و ہنر کے طالب رہتے ہیں، ایک لحظہ اپنی اوقات برباد نہیں کرتے ہیں۔ مستعدِ تلاش امور عجیب کے ہوتے ہیں۔ ایک نئی بات حاصل کر کے اہل جہاں اور واماندوں کے لیے یادگار چھوڑ جاتے ہیں۔ ایسی ہی باتوں سے ملک ہندوستان وغیرہ اپنے قبضۂ تصرف میں کیا اور کرتے جاتے ہیں۔ وائے بحال رئیسانِ ہندوستان کہ زندگی اپنی بیجا باتوں میں برباد دیتے ہیں۔ کبوتر اور مرغ اور بٹیر اور قماربازی میں مشغول رہتے ہیں۔ دنیا اور مافیہا سے خبر نہیں رکھتے ہیں۔ خوشامدی اُن کے پاس بیٹھ کر تعریفیں فضول کرتے ہیں۔ غرض وہ تحصیل علوم  اور فنون سے کاہل ہیں، آمادۂ امورِ بے حاصل اور لاطائل ہیں۔ اس سبب سے روز بروز مغلوب اور ضعیف ہوتے جاتے ہیں۔ انگریز اپنی مستعدی چالاکی سے اُن پر غالب آتے ہیں۔ سابق انگریزوں کے قبضہ میں سوائے انگلستان کے دوسرا ملک نہ تھا۔ اب انھوں نے اپنی مستعدی  سے  کتنے ملکوں کو سر کیا۔ شاہ ہندوستان جو کابل و قندھار تک قبضہ رکھتا، اب کاہلی اور نامستعدی سے مثل شاہِ شطرنج کے اپنے گھر میں بھی بے دخل ہوا۔ اے قلم! تو ارادہ مطلب نگاری کا رکھتا ہے۔ اظہار عیب و ہنر سے ہر ایک کو ناحق دشمن اپنا بنا کر بات بڑھاتا ہے۔

قصہ مختصر دوسرے دن بندہ مع احباب ہمراہ کے اور ایک عرب سقّے کے کوہ ِ طور پر آیا۔ ایک شخص راہ بتانے والا قلعہ سے  ساتھ لیا۔ کوہ طور آٹھ ہزار فٹ بلندی رکھتا۔ اوپر چڑھنے کو ایک زینہ پتھر کا قدیم سے بنا ہوا۔ اُس زینہ سے رستہ آمد و رفت کا مشہور ہے کہ وہ ہزار برس کا شاہ گریک کا بنوایا ہے۔ کوہ ِ طور پر ایک حوض نظر آیا۔ کنارے اُس کے ایک درخت سرو کا لگا۔ اگرچہ حوض پانی سے خالی تھا مگر ایسا تر و تازہ اور سیدھا درخت سرو کا کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ آگے بڑھ کر ایک غار دیکھا پانی اس کا شربت سا میٹھا۔ میں اُس کو پی کر چپ و راست پھرا۔ پہاڑ عظیم الشان نظر آیا۔ تھوڑا آگے بڑھا۔ نشان پیٹھ حضرت موسیٰ کا پتھر میں پایا۔ تفصیل اُس کی یہ ہے کہ ایک دفعہ حضرت موسیٰ تحریر احکام الٰہی میں مشغول تھے۔ ناگہاں ایسی چمکاری نور کی چمکی کہ حضرت موسیٰ پیٹھ پہاڑ سے لگا کر حیران ہوئے۔ ازراہ اعجاز پتھر میں نقش پیٹھ آنحضرت کا پڑ گیا، یہ وہی پتھر اعجاز نشان تھا۔ حضرت محمد مصطفیٰ کا بھی معجزہ وہاں تھا۔ یعنی اُن کے اونٹ کے سم کا نقش پتھر پر بنا تھا۔ یہ حال سب میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا اور عرب سے حال اُن کا مفصل سنا۔ عبادت خانہ گریک اور اہل اسلام کا اُس پہاڑ پر تھا۔ یہ سیر دیکھ کر اور مقام پر گیا کہ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے بہت مبالغہ سے پانی مانگا۔ حضرت موسیٰ نے عصا اپنا پتھر پر مار کر چشمہ پانی کا نکالا۔ اب اُس میں پانی نہ تھا مگر نشان ثابت ہوتا  اور ایک جگہ پر نشان سرِ گوسالہ پرستش بنی سرائیل کا تھا۔ جب حضرت موسیٰ نے اُن کو پرستش سے منع کیا اور غصّہ کر کے سمجھایا، تب بنی اسرائیل کے سرداروں نے اس گوسالہ کو سر کے بل دے مارا۔ سر اُس کا مع سینگوں کے پتھر میں دھنس گیا۔ نشان اُس کا اب تلک باقی رہا۔ عرب نے حال کہا کہ اگر مینھ برسے اتنا کہ پہاڑ ڈوبے تو بھی پانی اُس گڑھے میں نہ آوے۔ یہ بات میں نے اپنی آنکھ سے نہیں دیکھی، پر عربوں کی زبانی سنی۔ ایک اور جگہ تھی وہاں مسلمان بھیڑی بکری کی قربانی کرتے ہیں اور اس قربانی کو سبب برکت اور زیادتی بکریوں کا سمجھتے ہیں۔ آگے بڑھ کر ایک پتھر دیکھا۔ جس پر بیٹھ کر وعظ کہتے تھے  حضرت موسیٰ۔ ان سب باتوں کو دیکھ کر بندہ نے اعتماد کیا۔ قدرت الٰہی سے بعید نہ جانا۔ مگر بعضے انگریز جو کم عقل رکھتے ہیں، ان امروں کو محض جھوٹ جان کر کہتے ہیں، کیوں کر حضرت موسیٰ سمندر سے پار اُتر گئے ہوں گے۔ اگر بالفرض پانی بھی سوکھا ہو، جال درخت مونگے کے کس طرح راہ سے ہٹے ہوں گے۔ اسی طرح سارے حال قصے کہانی جانتے ہیں، دل میں یقین نہیں لاتے ہیں۔ مجھ کو اُن کی نادانی پر تاسّف آتا ہے کہ جو شخص تحصیل معاش کے فنون سے خبر نہیں رکھتا ہے، قدرت خدا اور معجزہ انبیا سے کیا جان کر انکار کرتا ہے، عمداً گمراہی میں بھٹکتا ہے، اس واسطے کہ قدرت خدا کی عقل میں نہیں آتی۔ عقل کو کیا طاقت اس کے بھید دریافت کرنے کی۔ حال ان لوگوں کا مانند حال اُس دولت مند کے ہے کہ ایک فقیر لازرس نام نے ساتھ اُمید ٹکڑے روٹی کے اُس کے دروازہ پر رہنا اختیار کیا۔ مرضِ جذام میں گرفتار، سراپا فگار تھا۔ وہ دولت مند بخیلی کے سبب سے اُس کو کبھی پارۂ نان نہ دیتا اور اپنی تن پروری خوب طرح کرتا۔ ایک دن فکر بارہ برس کے سامان کی کرتا تھا، ایک بارگی قضا آئی مر گیا۔ وہ فقیر بھی خرابی اور مفلسی میں مرا۔ دولت مند دوزخ میں داخل ہوا۔ فقیر حضرت ابراہیم کی گود میں آرام سے بیٹھا۔ دولت مند نے فقیر کو حضرت ابراہیم کی گود میں بیٹھا دیکھا، لجاجت سے کہنے لگا: اے نبی اللہ کے! مجھ کو بھی اس مصیبت سے چھڑا کر اپنے پاس بلا۔ آنحضرت نے جواب میں فرمایا: ہمارے اور تیرے درمیان ایک بڑا غار ہے، آنا جانا اس کے سبب سے دشوار ہے۔ تو دنیا میں سائلوں محتاجوں کو اپنے دروازہ سے نکالتا تھا او ر خدا کے دیے ہوئے سے کچھ نہ دیتا  تھا۔ اُس کے عوض خدا تعالیٰ نے یہاں تجھ کو اپنی نعمت سے محروم رکھا۔ دولت مند نے پھر عرض کیا: میں مستحق اس ظلم و جفا کا ہوں۔ اب یہ التماس رکھتا ہوں کہ ان مردوں میں سے کسی کو ارشاد ہووے تا کہ میرے بھائیوں زندوں کو خبر میری مصیبت و تکلیف کی پہنچاوے۔ آنحضرت نے فرمایا اگر انھوں نے کتاب خدا اور رسول مقتدیٰ  پر اعتماد نہ کیا، ایک مردے کی خبر دینے سے کیا فائدہ  ہوئے گا۔ اسی طرح اگر کوئی معجزون انبیا کا نہیں قائل ہوتا ہے، عاقبت اپنی خراب کرتا ہے۔ میں نے یہ سب معجزے پیغمبروں کے اپنی آنکھ سے دیکھ کر اس کتاب میں لکھے۔ اگر کوئی اعتبار نہ کرے اپنی بلا سے۔

ہم نے بعد زیارت ایسے مکانون پاک کے نیت سوئیس پھرنے کی کی۔ اُن پادریوں سے اجازت رخصت چاہی۔ چلتے وقت انھوں نے زادِ راہ اور قہوہ اور روٹی سیاہ چھوٹی اور تھوڑی سی شکر دی۔ وہ بھی چھ منزل راہ میں پوری نہ پڑی۔ اس خیال سے کہ  یہ مسافر انعام نہ دے چلے، گھبرائے ہوئے تھے۔ فی الحقیقت ان کو کچھ دینا ضرور نہ تھا۔ اس لیے کہ کئی ہزار روپے کا سالیانہ سرکار شاہ گریک سے اُن کو ملتا۔ چنانچہ ہر ایک صاحبِ نصاب تھا۔ میوون باغ کا کچھ حساب نہ تھا۔ سوا اس کے فقیروں کو روپے لینے سے کیا غرض و مدعا۔ بخل اور امساک جبلّی  سے چلتے وقت ہم کو میوون باغ یا کھانون نفیس سے سوا روٹی سیاہ اور تھوڑی شکر کے کچھ نہ دیا۔ شاید انھوں نے قول شیخ سعدی کا نہیں سنا کہ ہمارے ساتھ  ایسا معاملہ کیا، شعر:

بزرگان مسافر بجاں پرورند
کہ نامِ نکوشاں بعالم برند

اُن کو لازم ہے کہ سب روپیہ اپنا خدا کی راہ پر دے ڈالیں، اگر بھلائی دنیا و آخرت کی چاہیں۔ نہ یہ کہ بخیلوں کی طرح روپے جمع کر کے اُس کی محبت دل میں رکھیں اور مسافروں سے انعام کی خواہش کریں۔ حضرت عیسیٰ نے فرمایا: جس چیز کو زیادہ دوست رکھتے ہو بُت ہے تمھارا۔ پرستش اُس کی کرتے ہو۔

اس زمانہ میں مسلمان، ہندو، انگریز وغیرہ سے میں کسی کو نہیں دیکھتا ہوں کہ روپے کا عشق دل میں نہ رکھتا ہو۔ سب لوگ مذہب زر پرستی رکھتے ہیں، اپنے طریقے پر نہیں چلتے ہیں۔ زیادہ اس سے کیا ہو گا کہ ان پادریوں نے دنیا اور عزیزوں قریبوں کو چھوڑا، جنگل پہاڑ پر رہنا اختیار کیا۔ خدا تعالیٰ سے دھیان لگایا۔ افسوس کہ زر پرستی سے باز نہ آئے۔ ہمیشہ طالب روپیے کے ہیں۔ جب میں نے دیکھا کہ انھوں نے ہمارے انعام نہ دینے سے چہرہ پر آثارِ ملال ظاہر کیا، میں نے پرنکل صاحب سے اشارہ سے کہہ کر انعام اُن کو دلوایا۔ سردار پادری نے روپیوں کو لے کر کپڑے میں مضبوط باندھا اور اپنے مقام پر گیا۔ ظاہراً اسی امید پر ٹھہرا تھا۔ جب پا گیا رخصت ہوا۔ ہم سب جس طرح قلعہ پر گئے تھے، اُسی طرح ہنڈولے میں بیٹھ کر نیچے اُترے اور روانہ منزل مقصود ہوئے۔

بروقت روانگی کلن صاحب اور پرنکل صاحب کے آدمی سے کسی بات پر تکرار ہوئی۔ وہ ہمیشہ اُس کو جان کہہ کر پکارتے۔ اس وقت بھی تعال  ہیں، تعال ہیں جان کہتے۔ چاند اُن کو کلم کلم کہتا۔ اسی بحث و تکرار میں دو  گھڑی کا عرصہ ہوا، آخر ہم نے مشکیزے پانی کے اونٹوں پر لا دے اور آپ بھی اونٹوں پر سوار ہوکر سوئیس چلے۔ سب رستہ کو ہستان ہے۔ تکلیف اور مصیبت بیحد و پایاں ہے۔ ہم کو راہ میں ایسی تکلیف ہوئی کہ نہیں طاقت بیان کی۔ تپش آفتاب کی اس درجہ پر تھی کہ ساری جلد منہ اور بدن کی جلی، رنگت سیاہ ہوئی۔ پرنکل صاحب اور ہیڈ صاحب اوّل مرتبہ لندن سے ہندوستان آتے تھے، صعوبتِ سفر سے خبر نہ رکھتے تھے۔ یہ سب تکلیفیں سہتے مگر حرفِ شکایت زبان پر نہ لاتے۔ خوراک سوا سیاہ روٹی اور شکر کے کچھ نہ تھی۔ سو بھی بخیال کمی اور بہم نہ پہنچنے کسی چیز کے ایک ایک روٹی حصّہ میں آتی۔ سوئیس کے قریب نوبت آدھی روٹی کی بلکہ اس سے کم کی آئی۔ پرنکل صاحب ہمیشہ دودھ گائے اور بھیڑ کا پیتے تھے، یہاں تک کہ قہوہ بھی بے دودھ نہ پیتے۔ راہ میں نہ ملنے اُس کے سے سخت حیران ہوئے۔ اگر کہیں گلّے بکریوں بدویوں کے ملتے۔ کلن صاحب خوش طبع تھے، ازراہ خوش طبعی دودھ بکریوں کا پی لیتے۔ پرنکل صاحب کے لیے کچھ بھی نہ چھوڑتے۔ بلکہ ازراہ سادہ مزاجی تھن بکریوں کے منہ میں لیتے اور بے تکلف دودھ پیتے۔ بدوی شوروغل مچاتے۔ مگر وہ کچھ بھی نہ سنتے، پتھر پہاڑوں پر سے ڈھکیلتے۔ ایک مرتبہ قریب تھا کہ اُس کے ساتھ آپ بھی گر پڑتے۔ مگر عنایت الٰہی سے بچ گئے۔ ایک چھری پاس رکھتے۔ جہاں کہیں ڈیرہ قنات استادہ ہوتی طناب اور میخیں اُس سے کاٹ ڈالتے اور چھوڑ دیتے۔ جابجا  تعال ہیں تعال ہیں کہتے۔ غرض کہ تما م راہ میں یہی حرکتیں کرتے رہے۔

راہ میں ہم نے ایک بکری کو بدویوں سے مول لے کر ذبح کیا، گوشت اُس کا کھایا۔ جو باقی رہ گیا، شتربانون عرب کو تقسیم کر دیا۔ عجب احمق و نادان تھے کہ گوشت پوست مع ناخونوں کے بھون کر کھا گئے۔ فقط سینگ بسبب سختی اور نہ چبائے جانے دانتوں کے پھینک دیے۔ اونٹ ہماری سواری کے جب منزل پر پہنچتے، شتربان اُن کو پہاڑ جنگل میں چرنے کو چھوڑ دیتے۔ اُس اطراف میں سوا ایک قسم سوکھی گھاس کے نہیں ہوتی ہے۔ شام تک اونٹ اُس کو چرتے رہتے۔ جب اندھیرا ہوتا اونٹ والے اپنے اپنے اونٹ کو اُس کا نام لے کر پکارتے، اونٹ اپنے مالکوں پاس بلا تحاشا دوڑ آتے۔ اونٹ والے قریب سیر بھر کے دانہ اُن کو کھلاتے، پانی تین تین روز تک نہ پلاتے۔ مگر باوجود اس کمی دانہ کے بارثقیل اپنے اوپر لاد کر منزل تک پہنچاتے۔ اگر اونٹ اُس طرف نہ ہوتا، ریگستان اور کوہستان میں گذرنا دشوار تھا۔ مصر؏:

بے چارہ خار می خورد و بار می برد

اونٹ والے عرب شام کو بھوسی سے کوئی چیز نکالتے، اُس کو حریرے کی طرح اونٹ کی مینگنیوں میں پکا کر کھاتے۔ عقل و تمیز سے مطلق بہرہ نہ رکھتے۔ جانوروں کی طرح سب افعال اُن کے تھے۔

ہم چلتے چلتے قریب سوئیس کنارے دریا کے جا پہنچے۔ اُس کشتی پر سقّے پانی بیر موسیٰ سے بھرے لیے آتے تھے، سوار ہوئے۔ کلن صاحب جلدی سے ایسا کود کر ناؤ پر چڑھے کہ پرنکل صاحب اُن کے دھکے سے ناؤ میں گر پڑے۔ کلن صاحب نے شرمندہ ہو کر پرنکل صاحب کو اُٹھا کر بٹھلایا اور عذر کیا۔ انھوں نے راضی ہوکر معاف کیا کہ یہ امر اختیاری نہ تھا بلکہ سہواً ہوا؛ اس میں کیا مقام رنجش کا۔

اس مصیبتوں سے بچ کر سولھویں تاریخ مارچ کے دن جمعہ کے، دریا کے پار جا کر سوئیس میں پہنچے اور مج صاحب کے مکان پر اُترے۔ انھوں نے فی الفور برسمِ دعوت کھانے نفیس منگوائے، ہم لوگوں کو کھلوائے۔ اس وقت وہ کھانے مزیدار بہشت کے کھانے اور میوے معلوم ہوتے، اس لیے کہ بہت دنوں بعد کھانے میں آئے۔ انھیں دنوں میں فابر صاحب مع اپنی بی بی کے اور ارکٹ صاحب گورنر جرنیل کے بیٹے ہندوستان جانے کو مصر سے سوئیس آئے۔ جہاز کی انتظاری میں مقام کر کے خیمے کھڑے کروائے اور کئی صاحب بنبئی سے لندن جاتے تھے۔ وہ بھی یہاں پہنچ کر سستانے کے لیے چند روز رہ گئے۔ سب صاحبوں سے ملاقات ہوئی، ہر ایک نے مجھ سے مہربانی اور عنایت فرمائی۔ الّا فابر صاحب اور ان کی بی بی اور ارکٹ صاحب سے مجھ سے زیادہ تر موافقت ہوئی۔ اس لیےکہ انھوں نے شفقت بزرگانہ میرے حال پر مبذول کی۔ اتفاقاً لشکر پیدل شاہ مصر کے نے آ کر وہاں کئی دن مقام کیا۔ حبش کی لڑائی کا قصد رکھتا۔ خیمہ اور ڈیرہ لشکر کا مانند فوج انگریزی کے صاف اور خوشنما تھا۔ اچھی جگہ پر استادہ ہوا۔ میں نے اُن لوگوں سے ملاقات کی۔ ہر ایک کی صورت دردناک اور غم گین تھی۔ حال پوچھا کہ تم لوگوں کو کیا صدمہ ہوا۔ انھوں نے کہا:  ملک حبش بہت گرمی رکھتا ہے ہم میں سے زندہ بچ کر ایک بھی پھرتا نہیں نظرآتا ہے۔ ہر ایک کی ماں بہنیں سوئیس تک پہنچانے آئیں تھیں۔ گویا لب قبر تک پہنچانے چلیں۔ مجھ کو ان کی جوانی پر رحم آیا کہ افسوس ہر ایک جوان مارا جائے گا، برداشت گرمی اور مقابلہ اہل حبش کی کون لائے گا۔ بعد دو تین دن کے جہاز اٹلنٹا سے آیا۔ سبھوں نے پہنچنا اُس  کا غنیمت جانا اور فکر روانگی میں ہوئے۔ مگر میرے پاس روپے خرچ کے تھوڑے باقی رہے اور کرایہ جہاز  کا سوئیس سے بنبئی تک آٹھ سو روپے تھے۔ ہم متردّد ہو کر اس بات پر مستعد ہوئے کہ عرب کے بگلے پر سوار ہوکر جدّے جاویں، وہاں جو کچھ بن پڑے سو کریں۔ پرنکل صاحب نے میرا حال دریافت کرکے کہا: بنگلہ عرب کا جدے  میں جا کر ٹھہرتا ہے۔ جب ہو ا موافق ہوتی ہے وہاں سے رواں ہوتا ہے۔ اس سبب سے تم کو بنبئی پہنچنے تک پانچ چار مہینے کا عرصہ ہو گا۔ خرچ پاس نہ رہے گا اور زیادہ تر دد ہوگا۔ جب میں جہاز کے مکان دیکھنے جاؤں گا تو صاحب کپتان جہاز سے تمھاری سعی کر کے کوئی جگہ ٹھہرادوں گا۔ میں نے ان کا کہنا قبول کیا۔ بہتری سمجھ کر راضی ہوا۔ جب پرنکل صاحب اور ہیڈ صاحب جہاز پر مکان دیکھنے گئے، کپتان جہاز سے سفارش کر کے میرے لیے بھی ایک مکان ٹھہرا آئے۔ میں نے ادائے شکر اُن کا کیا۔ بعد اس کے اس درویش سائل کے رہنے کا ٹھکانا چاہا۔ خدا ان صاحبوں کو ترقی مرتبہ پر پہنچاوے۔ میرے حال پر کیا کیا عنایتیں فرماتے۔ میری خاطر سے اُس کو بھی جہاز پر جگہ دی اور یہ بات کہی کہ تم اور لوگوں کرایہ دینے والوں سے زیادہ آرام پاؤ گے۔ کسی طرح تکلیف نہ اُٹھاؤ گے۔

تیسویں تاریخ مارچ کی بندہ ہمراہ اُن  صاحبون عالیشان کے سوار ہوا۔ ایک کمرۂ ہوادار پر بیٹھ کر خانسامان جہاز کے ساتھ بنبئی چلا۔ کپتان صاحب نے تخفیف کرایہ کے واسطے نام میرا نوکروں میں لکھوایا۔ اس سبب سے کرایہ بنبئی تک کا چالیس روپے پر ٹھہرا۔ میں ہوادار کمرے میں خانساماں کے ساتھ بیٹھا آرام سے جاتا تھا۔ خانساماں فارسی نژاد عدل جُو نام، سراپا عدل تھا کہ اپنے اوپر تکلیف گوارا کرتا مگر مجھ پر کوئی تکلیف نہ ہونے دیتا۔  ارکٹ صاحب بعد کھانے کے میرے پاس آ کر چپک پیتے، باتیں مصر اور ہر ایک شہر کی کہتے سنتے۔ چلتے چلتے جہاز مخے میں پہنچا۔  قہوہ وہاں کلکتہ سے آتا ہے اور وہیں سے کویلہ وغیرہ جہاز کے لیے خرید ہوتا ہے۔ اس خیال سے کہ مبادا راہ میں کویلہ خرچ ہو جاوے۔ جہاز دودی جودھویں کے زور سے چلتا ہے روانگی  سے باز نہ رہے۔ کپتان صاحب نے جہاز ٹھہرایا اور کویلہ وہاں سے خرید کیا۔ میں نے دور سے مخے کو بہت آباد دیکھا مگر جب وہاں جا پہنچا گلیوں کو تنگ، آدمیوں کو لا نبا دبلا پتلا پایا۔  ہر ایک بدشکل، سیا ہ رنگ تھا۔ گرمی کا ایسا زور کہ ٹھہرنا دشوار ہوا۔ قہوہ خانے یہاں کے بُرے تھے۔ مانند قہوہ خانون مصر کے ستھرے نہ تھے۔ چنانچہ میں نے ایک قہوہ خانہ میں قہوہ پیا، پسند نہ آیا۔ سابق یہ شہر عملداریٔ عرب میں تھا۔ اب محمد علی شاہ حاکم مصر نے زور شمشیر سے اس کو قبضہ اپنے میں کیا۔ آدمی شاہ مصر کے چوکی پہرے کو مقرر تھے۔ توپیں پرانی پڑی تھیں۔ قریب دیوار شہر پناہ کے مسلمان اور انگریز حبش کے جو شاہ مصر کے ہاں پکڑے آئے تھے، بھوکے پیاسے دھوپ میں بیٹھے پک رہے تھے۔ میں ان کا حال دیکھ کر بےقرار ہوا، جہاز پر آیا۔ دیکھا کہ مخے کے لوگ کویلوں کو جہاز میں بھر رہے ہیں، آمد و رفت میں گرد و غبار اڑا رہے ہیں۔ صورت ان کی ہوبہو بندر کی سی الّا ایک فرق کہ دُم نہ تھی۔ کپتان صاحب نے جب جہاز کولوں سے بھرا، لنگر کھولا، جہاز چل نکلا۔ مکلا میں پہنچ کر ٹھہرا۔ میں اتر کر اس شہر میں گیا۔ آدمیوں کو سیاہ رنگ، بدصورت پایا۔ وہاں دو تین ہندو پیشہ ور تھے۔ نہیں معلوم عربوں میں کیوں کر گذران کرتے۔ پھر ایک چھوٹی ناؤ پر سوار ہو کر جہاز پر آیا۔ ملاحون عرب کے لڑکوں نے ناؤ پر مجھ سے کہا کہ اگر ایک پیسا دو ہمارا تماشا دیکھو، یعنی غوطہ ماریں جہاز کے نیچے سے نکلیں۔ بندہ نے بموجب خواہش ان کے ایک لڑکے کو ایک پیسا دیا۔ اس نے غوطہ مارا جہاز کے نیچے سے نکل آیا، ڈر مچھلی گھڑیال کا نہ کیا۔ میں اس کو دیکھ کر متحیر ہوا کہ یہ لڑکے مچھلی کی طرح تیرتے ہیں۔ آفتون دریا سے ہر گز نہیں ڈرتے ہیں۔

جاتے جاتے جہاز قریب ملک سلون کے پہنچا، ہندی میں نام اس کا لنکا۔ سامنے اس کے سمندر میں دونوں طرف سے دو پہاڑ برابر سر نکالے ہیں۔ اس کے مابین سے جہاز کی راہ ہے۔ ہندو ان کو راون کا پل کہتے ہیں۔ رام لچھمن نے اس کو وقت لڑائی راون کے بیچ سے توڑا دیا۔ میں یہ سیر و تماشے جزیروں کے دیکھتا آتا تھا، ناگہاں وہ بیمار عیسائی قریب ہلاکت پہنچا۔ علاوہ اس کے دھوپ کی گرمی سے سخت حیران تھا۔ پرنکل صاحب سے حال غلبۂ مرض اور تکلیف دھوپ میں بیٹھنے اس کی کی بیان کی۔ انھوں نے کپتان صاحب سے کہہ کر ایک جگہ سایہ دار اس کے رہنے کو ٹھہرا دی۔ وہ طاقت ایک قدم چلنے کی نہ رکھتا۔ میں نے جہازیوں سے اس کو اس جگہ پر اٹھا لانے کو کہا، میرا کہنا کسی نے نہ سنا۔ آخر ایک گورا ولایتی ثواب جان کر اس کو دھوپ سے چھاؤں میں اٹھا لایا۔ از انجا کہ وہ قریب المرگ ہو رہا تھا، حال اس کا زیادہ تر بگڑا۔ مجھ سے کہا میرا مذہب عیسوی ہے، اس وقت کوئی سرہانے میرے بندگی پڑھے۔ میں نے سبھوں سے کہا کوئی بندگی پڑھنے پر راضی نہ ہوا۔ مگر پرنکل صاحب نے عنایت کر کے سرہانے اس کے بندگی پڑھی۔ بندگی سنتے ہی اس نے قضا کی۔ ہم نے اس کو طریقۂ عیسائی پر کفن پہنا کر دریا میں ڈالا اور ڈوب جانے کے لیے ایک گولہ توپ کا کمر اس کی سے باندھا۔ اس کی بیکسی اور مفلسی دیکھ کر عبرت آئی کہ بےزر کا دنیا میں کوئی نہیں ساتھی۔ بے روپے کے کوئی حاجت نہیں بر آتی۔ حسب حال یہ شعر یاد آیا، شعر:

اے زر تو خدا نای ولیکن بخدا
ستّارِ عیوب و قاضی الحاجاتی!

 

بنبئی([1])

 

بعد اس کے سبزہ پہاڑ اور کنارے دریا کا دیکھتے ہوئے خیر و صلاح سے بنبئی پہنچے۔ وہاں جا کر سب علیٰحدہ مکانوں میں اترے۔ پرنکل صاحب نے ازراہ عنایت فرمایا: تم کو مناسب ہے ہمارے مکان پر رہنا۔ میں نے ساتھ رہنا مناسب نہ دیکھا، کثرت صحبت کو موجب کمیٔ الفت سمجھا۔ کنارے سمندر کے قریبِ قلعہ ایک مسلمان کا مکان تھا، بندہ وہاں اترا۔ صندوق کپڑوں کا اس کے گھر رکھ دیا۔ دن بھر شہر کی سیر کرتا، رات کو وہاں سو رہتا۔ بستی بنبئی کی دو جگہ پر تھی، ایک اندرون قلعہ دوسری باہر تھی۔ قلعہ مستحکم و استوار ہے، پر تکیزوں کا بنایا ہوا۔ قبل ازیں وہ شہر انھیں کے عمل میں تھا، ان سے انگریزوں کے قبضہ میں آیا۔ اب صاحبانِ انگریز نے بازار و قلعہ و شہر بہت خوب بنایا۔گرد قلعہ کے دو کھائیاں گہری بنائی ہیں، پنیا سوت تک پہنچائی ہیں۔ دیوار قلعہ کی پختہ ہے، اندر اس کے بازار و شہر بستا ہے۔ صبح کو چوک میں ازدحام ہوتا ہے، رستہ شہر و بازار کا وسعت رکھتا ہے۔ ہمہ چیز بازار میں مہیا تھی، مچھلی اور انڈے کی زیادتی۔ ایرانیوں اور پارسیوں کے مکان نفیس بنے تھے، بلند۔ ایک کلیسا بھی وہاں تھا، فلک پیوند۔ کنارے دریا کے درخت ناریل کے ہرے ہیں۔ سوا ان کے اور درخت سبز لگے ہیں۔ وہ مقام نہایت وسعت و فضا کا ہے۔ عجب لطیف و طراوت فزا ہے۔ شام کو پارسی وہاں جا کر اپنے طور پر عبادت کرتے ہیں۔ انگریز بھی سیر و تماشا دیکھتے جاتے ہیں۔ بندہ بخدا سچ کہتا ہے وہ مقام ہر شام نمونہ روضہ رضوان ہوتا ہے۔ لعل باڑی نام ایک مقام کا ہے کہ نسیم جیو وارہٹیہ پارسی نے وہاں ایک مکان اور باغ بنوایا ہے۔ عجب جائے عشرت افزا ہے کہ سارا سامان امیرانہ و رئیسانہ اس میں مہیا ہے۔ جھاڑ و فانوس، تصویریں امیروں کی اور شبیہیں اور جانور مردے ہر قسم کے مصالح سے بھر کر وہاں رکھی ہیں۔ اکثر امیر شہر کے اس میں جا کر محفل ناچ رنگ کی جما کر عیش و عشرت کرتے ہیں۔ ان سیروں سے فراغت کر کے ماما ہرالی صاحبہ کے روضہ میں گیا۔ سراپا زیب و زینت تھا۔ ایک پتھر سونا اور جواہر جڑا رکھا عجب لطف رکھتا۔ پہاڑ بسبب رطوبت ہوا کے سبز ہو رہے تھے۔ چشم نظارہ طلب کو تازگی بخشی۔ باہر شہر کے ایک پہاڑ ہے، پارسی اپنے مردوں کی لاش کو لے جا کر اس پر پھینک آتے ہیں۔ چیل کوے گدھ اس کو کھا جاتے ہیں۔ پارسی لوگ آتش پرست ہوتے ہیں مگر امورات دنیوی میں عقل کامل رکھتے ہیں۔ کرانیوں میں بیشتر نوکر ہوتے ہیں اس لیے کہ صاحبان انگریز ان کو معتمد سمجھتے ہیں۔ جو ان میں زیادہ عزت رکھتے ہیں، جہاز کا کام کرتے ہیں۔ فقیر نے اکثر ان کو صاحب علم و لیاقت پایا۔ لباس ان کا سفید اور بہتر تھا۔ عورتیں ان کی عصمت و عفت رکھتی ہیں، بدی پر ہر گز مائل نہیں ہوتی ہیں۔ اندر شہر کے ایک آتش کدہ ہے، برسوں سے اس میں آگ جلتی ہے، کبھی سرد نہیں ہونے پاتی۔ سب پارسیوں نے متفق ہو کر یہ امر ٹھہرایا ہے کہ ہر روز ایک شخص بموجب حصہ کے صندل کی لکڑی مول لے کر اس میں جلاتا ہے۔ اعتقاد اس کا دل میں رکھتے ہیں، خلاف مذہب اپنے کو اس میں جانے نہیں دیتے ہیں۔

اتوار کے دن بائیسویں تاریخ اپریل 1838؁ء کے ایک چھوٹی کشتی پر سوار ہو کر جزیرۂ الف انٹا میں گیا۔ زبان ہندی میں نام اس کا گورہ پوری اور بنبئی سے چار کوس کا فاصلہ رکھتا۔ ایک پہاڑ دیکھا اس پر ہاتھی کے قد برابر ایک ہاتھی پہاڑ سے تراشا بنا اور ایک بت خانہ نفیس بھی پہاڑ کا ترشا ہوا تھا۔ اسی طرح اور بہت مکان گرے پڑے تھے اور بت بڑے بڑے پہاڑ کے ترشے نظر پڑے، عجیب و غریب تھے۔ اب شاہ لندن نے ایک شخص اس کی نگہبانی کے لیے مقرر کیا۔ قرینہ سے ایسا ثابت ہوتا کہ وہ مقامِ پرستش ہندؤوں کا تھا۔ زمانۂ سابق میں خوب تیار و آباد ہو گا۔ بعضوں کے کلام سے ثابت ہوا کہ شاہ اورنگ زیب عالمگیر نے ان بتوں کا توڑ ڈالا، بعضوں نے کہا نہیں پرتکیزوں نے اپنی عملداری میں اس بت خانہ کو کھودا۔ راست و دروغ بہ گردنِ راوی، میرے نزدیک قول دوسرا قرین صداقت ہے۔ اس واسطے کہ پرتکیزوں کو بت اور بت پرستی سے کمال نفرت ہے۔ یہ سیر و تماشا دیکھ کر شام کو ایک ناؤ پر سوار ہو کر اپنے مقام پر آیا۔ جب تلک میں بنبئی میں رہا، شام کو سیر کرتے ہوئے پریٹ کے کنویں تک ضرور جاتا۔ عورتیں ہندوؤں کی جو کنویں پر پانی بھرنے آتیں، صورت شکل میں فتنۂ روزگار تھیں۔ زیور اور ریشمی لہنگے پہنے چھم چھم کرتی آتیں، دیکھنے والوں کا ہوش اڑا لے جاتیں۔ جتنا حسن و جمال بنبئی میں تھا، ہندوستان میں کہیں نہیں نظر آیا۔

تیسویں تاریخ اپریل کی ٹون ہال میں جو قلعہ کے اندر تھا، بندہ تماشا دیکھنے گیا۔ دو تین بت پتھر کے ترشے کھڑے تھے۔ ایسے خوب کہ پھر میں نے ویسے کہیں نہ دیکھے۔ کئی سطر عبارت ہندوی پتھر پر کُھدی۔ میں نے کیفیت حال بتوں کی استفسار کی۔ لوگوں نے یہ بات کہی: ایک انگریز سیاح ہندوستان سے ان کو لایا ہے، بطریق سوغات لندن لیے جاتا ہے۔ فی الواقعی استاد نے ان کو ایسا تراشا کہ ہر ایک قابل تماشا تھا۔

ایک دن پرنکل صاحب نے مالکم صاحب کے مکان پر میری دعوت کر کے بلایا۔ میں بموجب فرمانے ان کے  کے مالکم صاحب کے مکان پر گیا۔ کئی صاحب اور بھی موجود تھے۔ مالکم صاحب اور سب مجھ سے با اخلاق پیش آئے۔ عزت سے بٹھلایا، اپنے ساتھ کھانا کھلایا۔ پھر مالکم صاحب نے پرنکل صاحب کی طرح میرے حال پر عنایت فرمائی۔ ازراہِ اشفاق یہ بات ارشاد کی، جو کچھ تم کو درکار ہو بے تکلف ہم سے ظاہر کرو تاکہ ہم اس کو حاضر کریں، تم سے شرمندہ نہ رہیں۔ میں نے کہا آپ کی عنایت میرے حق میں کافی ہے۔ دل میں کوئی آرزو نہیں باقی ہے کہ آپ سے بیان کروں۔ بعد ان باتوں کے میں نے پرنکل صاحب سے کہا کہ بندہ پرسوں قصد رکھتا ہے یہاں سے روانگی کا۔ یہ کہہ کر اپنے مقام پر آیا۔

چھبیسویں تاریخ اپریل کی پھر پرنکل صاحب کے پاس رخصت ہونے گیا۔ قصور اپنے ان سے بخشوائے۔ اس وقت وہ آنکھوں میں آنسو بھر لائے، میرے بھی آنسو نکل آئے۔ ہم دونوں بے اختیار روئے۔ پرنکل صاحب کے بھائی کلکتہ میں تھے، دو تین قطعہ خط ان کے نام لکھ کر مجھ کو دیے۔ میں رخصت ہو کر گھر آیا۔ راہ خشکی سے کلکتہ کا ارادہ کیا۔ سواری کے لیے گھوڑا تلاش کرنے لگا۔ وہاں گراں قیمت بکتا تھا، اس سبب سے نہ لیا۔

 

ہندوستان کی سیر

 

ستائیسویں تاریخ اپریل کی ناؤ پر سوار ہو کر آگے چلا۔ اس پر ایسا ہجوم آدمیوں کا تھا کہ جنبش کرنا محال ہوا۔ ہزار خرابی سے نو کوس بعد پنولی میں پہنچ کر اترا۔ وہاں سے ڈھرّہ پہاڑ کا تین کوس تھا۔ دوسرے دن پا پیادہ بارہ کوس راہ چل کر بڑگاوں تک آیا اور مقام کیا۔ تیسرے دن پھر بارہ کوس کی منزل طے کر کے پونا میں داخل ہوا۔ پنولی سے یہاں تک زمین اور پہاڑ سبزہ زار، سڑک وسیع اور صاف ہموار تھی۔ قرینے سے دریافت ہوتا کہ بگھی اس راہ سے آتی جاتی۔ یہ رستہ مانند راہ ولایت لندن کے تھا۔

میں نے پونا پہنچ کر ایک دن مقام کیا۔ یہ شہر پرانا ہندوؤں کا لبِ دریا ہے۔ ہر ایک مکان ہندوؤں کا رفیع الشان بنا ہے۔ چھاؤنی انگریزوں کی شہر سے باہر دو کوس کے فاصلے پر ہے۔ یہاں میں نے چاہا گھوڑا خرید کرنا مگر قابل سواری کے ہاتھ نہ لگا۔ لاچار وہاں سے پیدل روانہ ہوا۔ سات کوس طے کر کے موضع لونی میں پہنچا۔ بعد پونا کے راہ میں نشیب و فراز تھا۔ دو عورتیں مرہٹوں کی نوجوان گھوڑوں پر سوار ہتیار باندھے جاتیں۔ عجب عورتیں کہ جرأت و مردانگی میں مردوں سے سبقت لے گئیں۔ لونی سے گیارہ کوس چلا۔ کڑے گانو میں آ کر ٹھہرا۔ صبح اٹھ کر بعادت مقرری راہ چلتا تھا۔ وقت دوپہر اور شدت دھوپ کا ہوا۔ ہزار خرابی سے ریت کے جنگل میں قدم اٹھاتا تھا۔ ناگاہ ایک طرف غول آہوؤں کا نظر آیا۔ ایک ان میں سے سیاہ رنگ تھا۔ میں نے چاہا شکار کرنا اس کا۔ اس خیال سے اس طرف جا کر ایک گولی ماری، اس ہرن کے لگی مگر باوجود گولی کھانے اور زخمی ہونے کے بھاگا۔ میں نے یہ سمجھ کر کہ آخر کہیں گر پڑے گا، اس کا پیچھا کیا۔ یہاں تک کہ دوڑتے دوڑتے دور تک گیا۔ کوہستان اور ریگستان میں پہنچ کر تھک گیا۔ ہرن نظر سے غائب ہو گیا۔ دوڑنے اور دھوپ کی گرمی سے ایسا غلبہ پیاس کا ہوا کہ قریب ہلاکت پہنچا بلکہ مرنے میں کچھ باقی نہ رہا تھا۔ مگر صبر کر کے ایک درخت سایہ دار کے تلے لیٹا۔ لیٹنے کے ساتھ ہی بے ہوش ہوا۔ تھوڑی دیر کے بعد جب ہوش آیا، پانی کی تلاش میں چلا۔ دور سے ایک تالاب سا دیکھا، قریب اس کے جا کر سوکھا پایا۔ مگر جابجا کیچڑ چہلا تھا۔ گڑھوں میں ہاتھ پانوں ڈال کر پانی ڈھونڈنے لگا۔ حسب اتفاق ایک گڑھے میں کیچڑ ملا ہوا پانی تھوڑا سا ملا۔ جلدی سے اس میں مونھ میں ڈال کر گدلا پانی پیا، میرے نزدیک آب حیات سے بہتر تھا۔ گویا اس کے پینے سے دوبارہ زندہ ہوا۔ بعد اس کے اپنے تئیں اس گڑھے میں گرا کر سارا بدن تر کیا۔ پھر اس درخت کے سایہ میں آ کر لیٹا اور سویا۔ شام کو آگے چلنے کی نیت کی۔ مگر اعضا نے یارائے حرکت نہ دی۔ لاچار وہاں رہ گیا۔ رات کے کھانے کو دو میناؤں کا شکار کیا۔ آگ پتھر سے نکال کر گوشت ان کا کباب کر کے کھایا اور اسی گڑھے سے پانی پی کر رات کو وہیں سو رہا۔ ہر چند خوف جانورون درندہ سے نیند نہ آئی۔ مگر جوں توں کر کے رات بسر کی۔ صبح اٹھ کر راہ راست تلاش کرنے لگا۔ ڈھونڈتے ڈھونڈتے راستہ پر آ پہنچا۔ دوپہر کو سپا میں پہنچ کر ٹھہرا۔ دودھ دہی میٹھے کو جی چاہا۔ ہر چند تلاش کیا پر اس اجاڑ گانوں میں ہر گز میسر نہ آیا۔ فقط دال خشکے پر قناعت کی، رات وہاں کاٹی۔ علی الصباح اٹھ کر چلا۔ راہ میں قافلہ بنجاروں کا دیکھا۔ عورت لڑکے ملا کر قریب دو سو آدمیوں کے تھے۔ اناج شکر گھی اور اَور جنس بیلوں اور چھکڑوں پر لادے تھے۔ کئی گائے بکریاں اور کتے ہمراہ رکھتے۔ میں مدت سے جویائے صحبت اس قوم کا تھا۔ ملنا قافلہ کا غنیمت جان کر ان کے ساتھ ہوا اور کہا کہ میں ارادہ رکھتا ہوں تمھارے ساتھ چلنے کا۔ انھوں نے پہلو تہی کی کہ ہم آہستہ آہستہ منزل چلتے ہیں۔ آپ قطع مسافت میں تیز روی رکھتے ہیں۔ اس صورت میں ہمارا تمھارا ساتھ نہ نبھے گا۔ میں ان کی پیروی پر راضی ہو کر ساتھ لگا۔ منزل بہ منزل جاتا تھا، یہاں تک کہ ہڑھے میں پہنچا۔ آخر صحبت برآر نہ ہوئی، دیکھنے حرکات بد ان کی تاب نہ آئی۔ تفصیل اس کی یہ کہ وہ بنجارے باوجود یہ کہ ہندو تھے مگر بیلوں چھکڑوں اور گون لدے ہوؤں کو کمال تکلیف دیتے۔ یعنی اگر بیل ساری منزل میں سے کہیں ٹھہر کر چلتے، وہ بے رحم اتنا پیٹتے کہ پیٹھ اور پیٹ بیلوں کے زخمی ہوتے، تو بھی وہ پیٹنے سے باز نہ آتے۔ جب مقام پر پہنچتے تھوڑا سا بھوسا دے کر چرنے کو چھوڑ دیتے۔ ہر گاہ وہ بیل تمام دن محنت بار برداری میں رہیں، شام کو دانہ چارہ آدھا پیٹ پاویں، کیوں کر زیادہ بوجھ اٹھاویں اور جنگل میں خاک چریں کہ قدم اٹھانے کی طاقت نہ رکھیں۔ آپ وہ بنجارے چھکڑے یا بیل پر سوار مقام تک پہنچتے۔ کھانے مزیدار مرغن پکا کر کھاتے اور گھی شکر ملا کر ناک تک بھر لیتے۔ رات کو بیبیاں اپنی گود میں لے کر سوتے۔ زندگی کے مزے اڑاتے۔ اس سے زیادہ کمبختی اور بے رحمی اور کیا ہے کہ بیلوں بےزبانوں باربرداروں کو بھوکا پیاسا رکھتے، آپ پیٹ بھر کھا کر جورو کے ساتھ سو رہتے۔ دوسرے دن پھر انھیں پر سوار ہو کر آگے چلتے اور تھوڑے توقف میں بہت سا مارتے۔ میں حال ان کا دیکھ کر سراپا حیرت ہوا۔ اگر ان کے مذہب میں بیل کا گوشت کھانا جائز ہوتا، نہیں معلوم کیا مفسدہ برپا کرتے اور بیلوں کو کس طرح ستاتے۔ گاؤ پرستی ان کے ہاں حکمِ شاستر ہے، اس پر یہ حالِ ابتر ہے۔ شاید اگر یہ حکم نہ ہوتا، ہر ایک بیلوں کے حق میں قسائی بنتا۔ یہ طرفہ ماجرا ہے اور قصہ نیا ہے کہ آپ ان بےزبانوں پر اتنا ظلم و ستم کرتے ہیں اور انگریزوں اور مسلمانوں کو گاؤ خوری پر طعنہ دیتے ہیں۔ جو کوئی بیل کو ذبح کرے بہتر اس سے کہ تمام عمر باربرداری اور محنت فاقہ کشی میں رکھے۔ انگریز کھانے نفیس بیلوں کو کھلا کر پالتے ہیں، بعد اس کے ایک جائے مقرر پر لے جا کر بیچ سے ایک پتھر ان کے سر پر دے مارتے ہیں۔ بیل فی الفور مر جاتا ہے، کچھ صدمہ اور رنج نہیں پاتا ہے۔ اس صورت میں کس کا ظلم زیادہ ہوتا ہے اور قصور کس کا بہت پایا جاتا ہے۔ خلاصہ یہ کہ میں بڑہی پہنچ کر تاب بے رحمی ان کی نہ لایا، وہاں سے ساتھ ان کا چھوڑ کر آگے چلا۔

اورنگ آباد

 

بارہ کوس چل کردہ گانو میں آیا۔ وہاں سے نو کوس راہ چل کر اورنگ آباد پہنچا۔ تامس صاحب کپتان رسالے ساتویں کے نے چکس صاحب کو ایک خط لکھا تھا۔ وہ میرے پاس بندھا تھا۔ چکس صاحب اورنگ آباد میں رہتے۔ نظام کی پیدل فوج میں کپتان تھے۔ خیال آیا کہ ان کے پاس جاؤں، خط ان کا ان کو پہنچاؤں۔ پھر دل نے یہ کہا اگر تو خط ان کے پاس لے گیا، وہ اپنے مکان پر اتاریں گے۔ تکلیف مہمانداری کی اٹھاویں گے اور اس شہر میں دو تین روز رہنے کا ارادہ تھا۔ اس سبب سے یہ بہتر معلوم ہوا کہ پہلے کہیں اور اتروں، بعد اس کے خط ان کے پاس لے جاؤں۔ قریب دروازہ شہر پناہ کے ایک فقیر کا مکان تھا۔ وہ صاحب کمالوں میں مشہور وہاں تھا۔ میں بھی لباس بدویون عرب کا پہنے ہوئے تھا اور صورت فقیروں کی رکھتا۔ وہاں جا کر سلام کے بعد کہا میں مسافر اس شہر میں تازہ وارد ہوا ہوں، اترنے کی جگہ چاہتا ہوں۔ شاہ صاحب نے جواب دیا کہ کیا مضائقہ اتر رہنے کا، اس درخت کے نیچے اتر؛ مگر میں مقدور مہمانی کا نہیں رکھتا ہوں۔ تم آپ اپنے کھانے پینے کی فکر کرو۔ میں غنیمت سمجھا، درخت کے نیچے کمل بچھا کر بیٹھا۔ رات بھر وہاں رہا۔

صبحی اٹھ کر دولت آباد جانے کا قصد کیا۔ اس واسطے کہ قریب دولت آباد کے مقبرہ شاہ اورنگ زیب عالمگیر اور مزار ولیون کامل کا تھا۔ اورنگ آباد سے دولت آباد نو کوس کا فاصلہ رکھتا۔ گٹھری کپڑوں کی اور لوٹا تانبے کا شاہ صاحب کے پاس لے جا کر کہا: میرا قصد ہے اورنگ آباد جا کر زیارت مزار عالمگیر اور ولیوں کا، لہذا امیدوار ہوں کہ ایک دو روز اسباب اپنا امانتاً آپ کے پاس رکھوں۔ انھوں نے کہا: ہمارا ہرج کیا، لیکن جس دن سے اس حاجی پاجی نے مجھ کو فریب دیا میں نے ہر کسی کی امانت رکھنا موقوف کیا۔ ایسا نہ ہو تم بھی ویسا کرو اور مجھ کو ستاؤ۔ میں نے پوچھا اس حاجی نے آپ کو کیا ایذا دی اور خدمت شریف میں کیا تقصیر کی۔ سابق ازیں ایک حاجی فقیروں کی صورت میرے پاس آ کر اترا۔ تمھاری طرح دولت آباد جانے کے وقت اپنا اسباب میرے تفویض کر گیا۔ جب وہاں سے پھرا سب اسباب اپنا لیا پھر اس کافر نے دغا دی۔ اشرفی اور روپوں کا دعوئے باطل کیا، محکمہ کوتوالی میں نالش کر کے مجھ کو گرفتار کروایا۔ ازانجا کہ جھوٹ کو سچ کے سامنے فروغ نہیں ہوتا، آخر دعوے بے جا سے شرمندہ ہو کر آپ ہی قید ہوا۔ اس سبب سے ڈرتا ہوں کہ مبادا تم بھی وہاں سے پھر کر دعویٰ روپوں کا کرو اور میری عزت پر حرف لاؤ۔ مجھ کو اس کلام سے شبہ ہوا کہ شاید یہ شخص چور ہے بصورت فقیر بنا۔ اس کے امتحان کے لیے کنارہ گیا، شیشے کی پچاس گولیوں کو روپے پیسے کی طرح ایک پتھر سے گول اور چپٹا کیا اور ایک روپیہ بازار سے خوردہ کر کے پیسے ان میں ملائے۔ ایک تھیلی میں رکھ کر مونھ اس کے پر لاکھ لگائی، اس پر مہر اپنی کر دی۔ اس کو گٹھری میں رکھ کر شاہ صاحب پاس لے گیا۔ بطریق امانت ان کے سپرد کر کے رخصت ہوا۔ انھوں نے گٹھری ہاتھ میں رکھ لی، گراں وزن سمجھ کر دو چار سواروں کے سامنے جو ساتھ ان کے بھنگ پیا کرتے تھے، یہ بات کہی۔ تم سب شاہد رہو، اس شخص کی گٹھری میں نہیں روپیا پیسا ہے۔ اگر آئندہ دعوے کرے بیجا ہے۔ میں نے کہا سچ یونہی ہے، سوا دو چار پیسے کے اس  میں کچھ نہیں ہے۔ یہ کہہ کر راہی ہوا، دولت آباد جا پہنچا۔ راہ میں کئی سرائیں دیکھیں، شاہ عالمگیر کی بنوائیں۔ بسبب بے مرمتی کے ہر ایک جابجا سے ٹوٹی اور خراب پڑی۔ یقین کہ اورنگ آباد اور دولت آباد زمانہ سابق میں خوب آباد ہوں گے، اس لیے کہ اب تک نشان عمارتون قدیم کا ہے باقی۔ قریب اورنگ آباد شاہ عالمگیر نے ایک مکان عالیشان بنوایا ہے۔ چاروں طرف قطعات مستحکم رکھتا ہے۔ اندر اس کے ایک حوض، مقابل اس کے ایک مسجد فلک توامان ہے۔ رہتے ہیں اس میں قرآن خواں۔ مسافر وہاں جا کر ٹھہرتے ہیں، حوض سے پانی لے کر وضو کر کے نماز مسجد میں پڑھتے ہیں۔ میں بھی اس مکان میں گیا۔ سہ پہر تک بیٹھا رہا۔ بعد اس کے ایک ولی کے مزار پر گیا، نام اس کا فراموش ہوا۔ مجاور درگاہ کے ساتھ ہوئے، تربت تک لے گئے۔ گنبد کے اندر انڈا شتر مرغ کا لٹکتا، برابر اس کے جھبّا مقیش کا گلدستہ کی طرح لگا۔ چادریں پھولوں اور کمخاب کی تربت پر بچھیں، ایک طرف بتیاں اگر کی جلتیں۔ میں نے اندر جا کر فاتحہ پڑھا اور تھوڑی دیر ٹھہرا۔ تین روپے کی مٹھائی مول لے کر فاتحہ دے کر مجاوروں کو تقسیم کر دی، بعد اس کے کچھ خیرات بھی ان کو دی۔ انھوں نے تھوڑے پھول اور ٹکڑا چادر تربت کا پھاڑ کر مجھ کو تبرک دیا، میں اس کو لے کر باہر آیا۔ ہر چند ارادہ یہ تھا کہ سب ولیوں کی قبروں پر جا کر فاتحہ پڑھتا مگر سوال اور تقاضائے مجاوروں سے تنگ  آیا اور خوفِ صرفِ زائد سے باز رہا۔فقط اورنگ زیب کے مقبرہ پر گیا۔ گرد قبر کے کٹھرا لکڑی کا لگا۔ مقبرہ چنداں نفیس نہ تھا۔ میں دیکھنے اُس کے سے عبرت پذیر ہوا کہ یہ بادشاہ ہندوستان کا کتنے ملک زور شمشیر سے اپنے قبضہ میں لایا۔ اپنے زمانہ میں کس طرح غلبہ رکھتا تھا۔ اب خاک میں ملا۔ یارائے حس و حرکت، جنبش دست و پا کی طاقت نہیں رکھتا۔ دنیا عجب مقام ہے، ہر ایک کا یہی انجام ہے۔ یہ سوچ کر باہر آیا۔ تھوڑی دور چلا، ایک باغ نظر آیا۔ اس کے اندر جا کر دیکھا۔ ہر طرف دیوار پختہ رکھتا، ہر سمت مکان نفیس بنا۔ درمیان باغ کے مقبرہ زیب النسا دختر عالمگیر کا تھا۔ وہ سارا مع تربت کے سنگِ مرمر سے تیار ہوا۔ چھت اور فرش سنگ مرمر کا تھا۔ گرد قبر کے حوض بھی اُسی کا اور ہر طرف تربت کے فوارہ پانی کا۔ چنانچہ ایک فوارے میں میں نے منہ لگا کر پھونکا، دوسرے فوارے سے پانی نکلا۔ بہ سبب بے مرمتی کے گرد جمی تھی بلکہ ہر چیز میں شکستگی آئی۔ اغلب کہ اب بھی اگر کوئی درستی کرے، آب و تابِ اول پر آوے، فوارے بھی جاری ہوویں۔ اس لیے کہ ابھی تک نقصان سے بچے ہیں۔ سبحان اللہ جب تیار ہوا ہو گا، کیا نفیس بنا ہو گا کہ اب تک اس میں وہی رونق باقی ہے۔ طبیعت کو دیکھنے سے فرحت آتی ہے۔ ان دنوں نظام الملک آصف جاہ حاکم حیدر آباد سنگ مرمر وغیرہ وہاں کھدواتا ہے اور اپنے باپ کے مقبرے پر لگاتا ہے۔ اگر چندے یہی حال رہے گا، یہ مقبرہ ویران اور برباد ہو گا۔ ایک دن وہ تھا کہ باپ زیب النسا کا دبدبۂ عالمگیری اور کشور کشائی رکھتا، کسی کو دم مارنے کا امکان نہ تھا۔ آج وہ روز ہے کہ اُس کے لختِ جگر کے مقبرے سے پتھر کھودے لیے جاتے ہیں، خوف خدا دل میں نہیں لاتے ہیں۔ وہ کچھ خبر نہیں رکھتا۔ یہاں سے ثابت ہوا کہ بموجب مذہب سلیمانی یوسف کمل پوش کے ہر امر ہر ایک وقت پر مقرر ہے، بُرا ہو یا بہتر۔ ایک وقت وہ تھا کہ یہ مقبرہ بنا، ایک یہ ایام ہیں کہ خراب ہوا۔ دنیا مقام پاداش ہے نہ جائے بود و باش۔ اے مغرور! غرّہ نہ کر اپنے کاموں کا کہ ایک وقت سزا پاوے گا۔ اس باغ سے باہر ہے ایک تالاب اور بہت سے باغ اور عمارات قدیمی۔ میں نے ان سبھوں کی گنتی نہ کی۔ سارا دن اُن مکانوں کی سیر میں آخر کیا۔

دوسرے روز حالِ عجیب ایک پہاڑ کا سنا کہ دیوؤں کا تراشا تھا۔ نہایت مشتاق ہو کر اس کی سیر کرنے گیا۔ پہاڑ دیکھا، آدھ کوس کے گھیر میں تھا۔ اُس پر مکانات عالیشان سہ منزلے پہاڑ سے ترشے بنے۔ ستون بھی پتھر کے تھے۔ بُت بڑے بڑے قد آدم بلکہ زیادہ اس سے، سنگ کوہ کے تراشے جا بجا کھڑے۔ ایسا ہی ایک طرف دیو ہرا پہاڑ کا ترشا بنا۔ ہاتھیون پیل قد کے سر پر رکھا۔ وہ بھی پہاڑ سے ترشے تھے۔ قد و قامت میں برابر ہاتھی کے تھے۔ اندر بت خانہ کے ایک بڑا بت سنگی رکھا۔ ہندوؤں میں کیلاس نام اس کا مشہور ہوا۔ برہمن اُس میں رہتے ہیں۔ شام کو چراغ اُس میں جلاتے ہیں۔ باہر سے وہ بت خانہ چھوٹا دکھائی دیتا ہے مگر بھیتر سے جگہ ہزاروں آدمیوں کی اور بہت وسعت رکھتا۔ تصویر جانوروں کی مثل بندر وغیرہ کے ترشی تھیں۔ بخدا میں نے ایسی مورتیں کہیں نہیں دیکھیں۔ در حقیقت یہ کام بشر کا نہ تھا۔ شاید جنات اور دیوؤں نے تراشا۔ حال اس کا سن کر میں قصّہ جانتا تھا، آنکھوں سے دیکھ کر یقین لایا۔ اگر لاکھوں آدمی برسوں تراشتے، ویسی صورتیں اور مکان ہرگز نہ بنا سکتے۔ اندر اُس بت خانہ کے نہر تھی، جاگہ نہانے ہندوؤں کی۔ ہندو ملکون دور دراز سے یہاں آ کر نہاتے ہیں۔ اپنے زعم میں گناہون تمام عمر سے اس غسل سے پاک اور مبرّا ہو جاتے ہیں۔ اسی سیر و تماشے میں پہر دن باقی رہا۔ میں اطراف پہاڑ کما ینبغی نہ دیکھنے پایا، اس لیے قصد شب باشی کا وہاں کیا۔ چھرّے بندوق سے کئی کبک شکار کر لایا، نمک ایک فقیر سے لے کر اُن کا کباب بنایا۔ روغنی روٹی کے ساتھ جو پاس بندھی تھی کھا کر پانی اس چشمہ سے پیا اور مقام کیا۔ رات کے وقت اکثر الّو اور چمگیدڑ اُڑتے اور وہ بت دیوؤں کی طرح ہیبت ناک نظر آتے مگر دیو و پری اصلی کا نشان نہ پایا۔ صبحی اُٹھ کر پھر سیر میں مشغول ہوا۔ اکثر مورتیں ایسی نظر آئیں کہ بعضی سر بعضی دھڑ نہ رکھتیں۔ دریافت ہوا کہ شاہ عالمگیر نے توپ کے گولوں سے اُن کو بے سروپا کیا، کسی کا سر اُڑ گیا، کسی کا پانو اُکھڑ گیا۔ مکانات ٹوٹے، ستون گرے پڑے۔ ایک سمت ایک مکان تھا ترشا پہاڑ کا۔ اس کے گنبد پاس کڑیاں ترشیں پتھر کی لگیں۔ بعینہ کڑیان چوبی معلوم ہوتیں۔ اُس میں ایک بت عظیم الشان تھا۔ وہ مکان کوٹھری بڑھئی کی کہلاتا۔ لوگوں سے معلوم ہوا جس کی یہ سب صنعت ہے اُسی کی یہ صورت ہے۔ ایک نجّار تھا، جس نے پہاڑ تراشا۔ تصویر ایک بخیل کی بڑھئی کی کوٹھری میں کھڑی بہت خوب بنی تھی۔ لاغری اور نحافت سے ہر جوڑ بدن کا نظر آتا۔ ایک روپیہ ہاتھ میں لیے مٹھی زور سے بند کیے تھا۔ دو ہندو وہاں رہتے تھے۔ ان سے میں نے حالات اُس پہاڑ کے پوچھے۔ چونکہ عقل و خرد نہ رکھتے، حال مفصل بیان نہ کر سکے۔ اسی قدر کہا کہ یہ دیوؤں کا کام ہے، ہزاروں برس سے بنا۔ اُس صحرا میں ایک تالاب بھی تھا اور میدان میں وسعت زیادہ۔ اس قرینے سے مجھ کو ثابت ہوا کہ سابق وہ مقام عملداری ہندوؤں میں آباد ہوا ہو گا۔ گردشِ زمانہ سے اب ویران ہوا۔ نام و نشان باقی نہ رہا۔ میں نے بہت ملکوں میں سفر کیا مگر ویسے بت اور بت خانہ اور پہاڑ کہیں نہ دیکھے۔ لہٰذا بندہ شائقوں کو اطلاع دیتا ہے کہ جو کوئی اورنگ آباد کی طرف جاتا ہے اس کو چاہیے کہ اس پہاڑ پر جاوے۔ سیر و تماشا وہاں کا ضرور دیکھے۔ اورنگ آباد سے اُتر طرف تھا۔ بارہ کوس فاصلہ رکھتا۔

وہاں سے پھر قلعہ دولت آباد میں آیا۔ صورت اُس کی یہ کہ ایک پہاڑ تھا انڈے کی طرح نیچے سے کم عرض اوپر سے چوڑا۔ حاکموں نے تراش کر اس کا قلعہ اور مکان بنوایا۔ جا بجا توپیں لگیں، بلندی میں ہمتائے چرخِ بریں۔ اگر اس قلعہ میں کوئی مثل انگریزوں کے بندوبست کرتا، کسی کو یارائے مقابلہ اُس سے نہ ہوتا۔ اب اس میں قبضہ نظام الملک کا ہے۔ ویران اور خراب پڑا ہے۔ حفاظت کے لیے برائے نام سو سپاہی نجیب دروازہ پر بیٹھے ہیں۔

عجب سپاہی کہ بندوقیں ان کی زنگ آلودہ، کپڑے کالے، میلے کچیلے پہنے ہیں۔ جب میں نے وہاں پہنچ کر اندر جانے کا قصد کیا، انھوں نے روکا کہ بے اجازت اور پروانگی نظام الملک کے کسی کو حکم نہیں اندر جانے کا۔ اس سبب سے میں اندر اُس کے جا نہ سکا۔ باہر سے بلندی اور وسعت اس کی دیکھتا رہا۔ گرد دولت آباد کے دیوار شہر پناہ پختہ ہے، آٹھ سات ہزار آدمی اس میں بستا ہے۔ جب فقیر ان سیروں سے فراغت کر چکا، اورنگ آباد میں جس فقیر کے مکان پر اُترا تھا آنے کا ارادہ کیا۔ راہ میں ایک عورت نوجوان مرہٹن پری زاد، زعفرانی اطلس کے کپڑے پہنے ہوئے ملی۔ نیزہ ہاتھ میں لیے ایک کمیت گھوڑے پر سوار جاتی تھی۔ شعر:

جمالش چو در نیم روز آفتاب
کرشمہ کناں نرگسِ نیم خواب

عجب حسن و جمال درخشاں رکھتی کہ دیدۂ خورشید نے اس کی طرف ٹکٹکی باندھی۔ چہرہ اس کا درمیان بالون عنبریں کے یوں چمکتا جیسے سورج کالی گھٹا سے نکلا۔ زیور خورشید طلائی بالوں میں گندھا عجب کیفیت دکھاتا۔ انداز اُس کا معشوقانہ تھا، دل دیکھتے ہی لوٹ جاتا۔ جدھر آنکھ اُٹھا کر دیکھتی، فتنہ بپا کرتی۔ فقیر جونہی چار چشم ہوا، آئینہ ساں حیران ہو کر دیکھتا رہا۔ جب قریب آ پہنچی، میں نے بے اختیار شوق سے یہ بات کہی: اگر اجازت پاؤں کچھ آپ کی خدمت میں عرض کروں۔ نگاہ تیز سے میری طرف دیکھا اور اشارے سے حکم کیا۔ میں نے کہا: اُس مصور بیچوں پر صد آفریں کہ تیری یہ تصویر کھینچی نازنین۔ اس کلام سے وہ معشوقہ ہنس کر کہنے لگی: اے فقیر صاحب کمال! سچ بتا کہ عمل مرہٹوں کا ہندوستان میں کب ہوگا اور کتنے دنوں میں انگریزوں پر زوال آوے گا۔ میں نے کہا: اے جان! جب میرا نکاح تیرے ساتھ ہووے گا، عمل انگریزوں کا ہندوستان میں نہ رہے گا۔ اُس نے کہا: فقیر کو نہ چاہیے ایسی خوش طبعی اور استہزا۔ میں نے کہا: تمھاری خاطر نازک میں رنج نہ آوے۔ سابق میں رہتا تھا بیچ صحبت پریوں کے۔ ہر وقت ان کے جمال کا تماشائی اور ہم کلام تھا۔ شامت اعمال سے وہاں سے نکلا۔ پھر وہاں جانے کی آرزو رکھتا ہوں۔ خدا سے استمداد چاہتا ہوں۔ یعنی انگلستان میں تھا۔ وہاں کی رنڈیون پری وشوں کا جمال دیکھتا۔ اس وقت جو تجھ کو دیکھا، دل میں ولولہ آیا۔ اس سبب سے حرفِ شوق بے اختیار زبان سے نکلا۔ بعد اس گفتگو کے اُس معشوقہ رعنا نے ہوا کی طرح گھوڑا تیز کیا اور یوسف حلیم کمل پوش آہ و فغاں کرتا اورنگ آباد کی طرف چلا۔

جب قریب شہر آ پہنچا، ایک پرانا مقبرہ دیکھا۔ وسعت اور صفائی خوب رکھتا۔ دو تربوز مول لے کر پانی اُن کا پیا۔ اتنے میں ایک فقیر جو وہاں رہتا تھا ملا، بہت اخلاق سے پیش آیا۔ حقہ پانی سامنے لایا تخمیناً نود سالہ تھا مگر سن اپنا سو برس کا بتلایا۔ نور الٰہی پیشانی اس کی سے چمکتا۔ عقل و دانائی سے بہرہ کامل رکھتا۔ ایسا خوش زبان اور شیریں بیان تھا کہ بندہ صحبت اُس کی غنیمت سمجھا۔ اُس مقبرہ میں دو قبریں تھیں۔ ساتھ ساتھ اُس کے جا کر دیکھیں۔ حال قبروں کا پوچھا۔ اُس نے جواب دیا کہ میں نے حال صاحب قبر کا اپنا سا پایا ہے۔ اس سبب سے یہاں رہنا اختیار کیا ہے۔ اسی گفتگو میں تھا کہ میں نے ایک تربوز اُس کے آگے رکھا اور تنباکو تھوڑا اپنے پاس سے نکال چلم بھر اس کے آگے کیا اور مستفسر حال اس کے کا ہوا۔ اُس مرد دانا نے مجھ کو فقیر جان کر کہا: اگرچہ میں یہ شیوہ و عادت نہیں رکھتا ہوں کہ کسی سے حال اپنا بیان کروں، لاکن تم کو زیادہ شائق پاتا ہوں قصہ اپنا کہہ سناتا ہوں۔ میری کیفیت یہ ہے کہ لڑکپن سے جوانی تک سایہ پدری میں فارغ البال اور آسائش سے رہا۔ سوائے تلاوت قرآن شریف اور تحصیلِ فنونِ سپہ گری کے پچیس برس تک کوئی کام نہ رکھتا۔ باپ میرا نظام الملک کی سرکار میں امتیازیوں میں نوکر تھا بلکہ اُس زمانہ میں کوئی بسبب آسودگی کے نوکری کی پروا نہ رکھتا۔ رئیس قدر دان جویائے اہل سیف و قلم کے رہتے، ہر ایک کی بقدرِ لیاقت عزت کرتے۔ سلطنت ہندوستان میں انگریزوں کا کچھ دخل نہ تھا، کوئی ان کا نام و نشان نہ جانتا۔ حسب اتفاق ایک میرے عزیز کی برات تھی، محفل رقص و سماع گرم ہوئی۔ میں بھی بمقتضائے قرابت شریکِ صحبت ہوا، ناچ ایک رنڈی کا دیکھتا رہا۔ نام اُس کا تراب کنور تھا۔ ایک بارگی تیر عشق اُس کے کا دل میں لگا۔ تمام رات اُس کے منہ پر ٹکٹکی باندھے رہا اور پوشیدہ اُس سے کہا کہ فلانے دن میں کسی باغ میں محفل جماؤں گا، دوست آشناؤں کو بلاؤں گا۔ چاہتا ہوں کہ تم بھی اُس دن شریکِ محفل ہو، حال دوستون پر مہربانی کرو۔ اُس نے کہا بہت اچھا ضرور آؤں گی۔ مجھ کو تو بے تابی تھی۔ بروز مقرر مجلس آراستہ کی۔ دوستوں کو تکلیف تشریف آوری کی دی۔ تراب کنور بموجب وعدہ آئی۔ رات بھر محفلِ عشرت گرم رہی۔ اس صحبت میں مجھ کو اُس پر اور زیادہ شیفتگی ہوئی۔ بہت سا زرِ نقد خرچ کیا۔ ذائقۂ وصال سے چاشنی یاب ہوا۔ دل یہ چاہتا کہ جس طرح سے قابو پاؤں اُس کے ساتھ نکاح کر لوں۔ والد بزرگوار نے یہ حال سنا۔ وعظ و نصیحت سے سمجھایا اور اس امر بےجا سے تابمقدور منع کیا۔ جب میرے خیال میں نہ آیا، لاچار انھوں نے بہت رُپیا خرچ کر کے اس رنڈی کے ساتھ میرا نکاح کر دیا۔ مدت تک میں عیش کرتا رہا، اُس کی صحبت سے حظ زندگی اُٹھاتا۔ بعد چند روز حضرت قبلہ گاہی نے کار سرکاری پر قضا کی، ساری جمع اُن کی میرے ہاتھ لگی۔ میں اس روپے کا ملنا غنیمت سمجھا، دوستوں کی مہمانداری میں مشغول ہوا۔ ایک سال میں سب اُڑایا۔ اس عرصہ میں اُس رنڈی کا دل ایک حریف ہم صحبت پر آیا، بد بات کا سامنا ہوا۔ چونکہ مجھ کو اُس کے ساتھ عشق تھا، حرفِ شکایت زبان پر نہ لایا۔ جب سب نقد و جنس خرچ ہو چکا، خوابِ غفلت سے سمجھ کر چونکا۔ ایک گھوڑا باقی تھا، اُس پر سوار ہو کر تلاش روزگار کو نکلا۔ سعی سفارش چاہنے لگا۔ سوائے بیس تیس روپے کے روزگار میسر نہ آتا۔ سخت حیران ہوا مگر اُس کو نہ اختیار کیا۔ اس وقت اس رنڈی نے بھی راہِ بے مروتی میں قدم رکھا۔ ترکِ محبت کا قصد کیا۔ میں نے کہا تجھ سے میرا نکاح ہوا ہے، تو نے مفارقت کا کس طرح ارادہ کیا ہے۔ جواب دیا ہم نے نکاح کو بالائے طاق رکھا۔ جب تک تو مال رکھتا، قابلِ صحبت تھا۔ اب اوقات گزاری کیوں کر کرے گا۔ دوست آشنا بھی جو شریکِ خوان تھے آنکھ چرانے لگے۔ لاچار بندے نے دنیائے دوں سے دل اٹھایا۔ اس گوشے میں بیٹھ رہا۔ نظم:

جہاں را ندیدم وفاداریے
نخواہد کس از بیوفا یاریے
بریدم ز ہر آشنائے شمار
بس ست آشنائے من آمرزگار

اب میں یہاں رہتا ہوں۔ خداوند تعالیٰ کو اپنا رفیق جان کر چاہتا ہوں کہ ساری عمر اس جا رہوں اور بعد مرگ یہیں دفن ہوں۔ حال ان دو قبروں کا یہ ہے کہ ایک قبر اس میں سے ایک رئیس زادہ کی ہے۔ دوسری قبر کتّے کی۔ میں نے کہا قبر کتّے کی آدمی کے برابر بنانا کیا ضرور تھی۔ تب اُس نے یوں حقیقت حال کہی کہ حیدرآباد میں ایک امیر صاحبِ ثروت تھا۔ سرکار نظام الملک سے در ماہہ بیش قرار پاتا۔ سوا اس کے پانسو گھوڑے اپنی سرکار میں داغ کروائے۔ بارگیر ان پر مقرر کیے۔ یہ فائدہ علاوہ درما ہے اس کے سے تھا۔ ایک بیٹا عاشق مزاج رکھتا۔ بعد مرنے اُس امیر کے سارا مال و متاع بیٹے کے ہاتھ لگا، وہ نوجوان اور کمسن تھا۔ چندا بائی کی ایک نوچی پر عاشق زار ہوا۔ تھوڑی مدت میں سب مال و اسباب لٹایا۔ جب نقد و جنس باقی نہ رہا، گھوڑوں کو بیچا۔ آخر چندو لال نائب نظام الملک نے اُس کی بد وضعی سے آگاہ ہو کر نوکری سے معزول کیا۔ ناچار یہ  شخص بھی حیران پریشان ہو کر گھوڑے پر سوار ہوا۔ ملکون دور و دراز میں مثل شاہجہاں آباد، اکبر آباد وغیرہ بتلاشِ روزگار پھرتا رہا اور ایک کتّا ولایتی ساتھ لیا، نام اُس کا شیرا تھا۔ حسبِ اتفاق کہیں روزگار خاطر خواہ نہ ہوا۔ اورنگ آباد آ کر بسبب مفلسی کے گھوڑا بیچا اور کنجِ عزلت میں گوشہ نشین ہوا۔ نوبت فقر و فاقہ کی پہنچی۔ بہ سبب امارت مزاج کے طبیعت کسی سے سوال کرنے کو نہ چاہتی۔ کتّا ولایتی جو رفیق تھا۔ رات کو نکلتا، نان بائیوں کی دکان سے روٹی مونھ میں لے کر اپنے مالک پاس لاتا۔ نان بائی کتّے کی چالاکی سے حیران تھے۔ پتہ اور نشان نہ پاتے۔ اورنگ آباد میں شہرہ ہوا تیزی اور چالاکی کتّے کا۔ لوگوں نے پکڑنے اُس کے کا فکر کیا۔ وہ کتّا دن کو باہر نہ نکلتا اس سبب سے کسو نے اس کا پتا نہ پایا۔ بعد چند روز کے اورنگ آباد میں چکلہ دار نیا سرکار نظام الملک سے مقرر ہو کر آیا۔ اس گوشہ نشین کے بزرگوں اور حال ریاست اُس کے سے خوب آگاہ تھا۔ اس شخص نے ایک پرچہ کاغذ پر حال اپنا لکھا اور اس کے پاس بھجوایا۔ حاکم نے اطلاع پا کر بہت عزت سے اُس کو اپنے پاس بلایا۔ حسبِ لیاقت درماہہ مقرر کیا اور اپنی بیٹی کا نکاح اس کے ساتھ کر دیا۔ تائید بخت سے پھر امیر ہوا۔ تھوڑے دنوں بعد کتّا مرا، صاحب اپنے کو داغِ مفارقت دے گیا۔ اُس نے بہت ماتم کیا۔ عزّت و آبرو سے آدمیوں کی طرح یہاں دفن کیا اور مقبرہ بنوا دیا۔ برابر اُس کی قبر کے اپنے لیے قبر کی جگہ تجویز کی اور وارثوں سے وصیت کر دی کہ بعد از مرگ مجھ کو بھی یہیں دفن کیجیو، یہ قول میرا یاد رکھیو۔ نہیں تو فردائے قیامت تمھارا دامن گیر ہوں گا، درگاہ خدا میں تمھاری نالش کروں گا۔ انھوں نے اقرار کیا کہ تمھارا کہنا عمل میں آوے گا۔ بعد چند روز وہ بھی مر گیا۔ بموجب وصیت وارثوں نے اُس کو یہاں لا کر دفن کیا۔ ان دونوں قبروں سے ایک قبر اُس کی ہے، دوسری قبر کتّے کی۔ حال اس شخص کا میرے حال سے مشابہت رکھتا ہے اس سبب سے یہ فقیر یہاں کا مجاور ہوا ہے، تابہ زندگی یہیں رہے گا۔ بعد مرنے کے بھی یہیں دفن ہو گا۔ دوستوں سے وصیت کر چکا ہوں کہ بعد مرنے کے مجھ کو اسی مقبرہ میں دفن کر دیں، یہ کلام دھیان رکھیں۔ اُس شہر میں وہ مقبرہ کتّے کا مشہور تھا۔ میں نے یہ حال سن کر دل میں خیال کیا، کیا اچھا کتّا تھا کہ اپنے مالک کا حق نمک ادا کیا۔ بلکہ اس نے ایسی رفاقت کی کہ عزیزوں قریبوں سے نہ ہو سکتی۔ گو کتّا تھا پر سیرت میں آدمی سے اچھا تھا۔ خیال آیا میں بھی یہاں بیٹھ رہوں، اس درویش صاحب کمال سے جدا نہ ہوں۔ پھر دل نے کہا: اے یوسف کمل پوش! اوقات اپنی یہاں بیٹھ کر ضائع کرنا سیرون جہاں سے محروم رہنا ہے۔ لنجوں کی طرح بیٹھنا، اوروں کے ہاتھ تاکنا جواں مردی سے بعید ہے۔ تماشائے جہاں قابلِ دید ہے۔ چل پھر کر کوششِ بازو سے کچھ پیدا کیا چاہیے۔ غریب و غربا کو اپنی وجہ سے آرام پہنچانا چاہیے۔ مثل شیروں کے شکار کر کے آپ کھا اور اوروں کو کھلا۔ نہ اپنے تئیں گیدڑ کی طرح پست حوصلہ بنا۔ دل کے سمجھانے سے میں اُس ارادہ سے باز آیا۔ اپنے اوپر جبر کر کے اس فقیر سے رخصت ہوا۔

اورنگ آباد میں اس فقیر کے مکان پر آیا جس کے پاس گٹھری اور لوٹا چھوڑ گیا تھا۔ اُس سے ملاقات کی اور گٹھری اپنی مانگی۔ وہ ظاہر میں فقیر باطن میں چور تھا۔ شیطان کو تعلیم برائیوں کی کرتا۔ چیں برجبیں و ترش رو ہو کر کہنے لگا: تم اپنا اسباب لو، اسی وقت میرے مکان سے نکلو۔ تم چور اور راہزن معلوم ہوتے ہو۔ اگر نہ مانو گے، کوتوالی چبوترے میں کہہ دوں گا۔ قید ہو گے۔ ہر چند میں نے کہا: حضرت مجھ سے کیا قصور ہوا جو باعثِ خفگی ٹھہرا۔ انھوں نے کچھ نہ سنا، اُسی غصہ میں گٹھری لا دی۔ میں نے کھول کر دیکھی تھیلی پیسوں اور چپٹے شیشے کی، منھ پر لاکھ بدستور لگی تھی۔ مگر مہر میرے نام کی بالکل بگڑی۔ ظاہراً اُس درویش مکّار نے تھیلی روپے اشرفی کی سمجھی۔ لاکھ جس پر مہر میری لگی تھی توڑ کر تھیلی کھولی۔ جب اس میں کچھ جمع نہ دیکھی، شرمندہ ہو کر لاکھ بدستور جما دی۔ مگر مہر میری اُس کے پاس نہ تھی، وہ کیوں کر بن سکتی۔ اس سبب سے حرف مہر کے مٹے تھے۔ ہم دیکھتے ہی دریافت کر گئے کہ اس نابکار کو برد ہاتھ نہ لگی۔ اس لیے دل میں رنجش آئی۔ اصل یہ ہے کہ مجھ کو تجربہ اُس کی دیانت داری کا منظور تھا۔ ورنہ شیشے کی گولیوں کو چپٹا کر کے پیسوں کے ساتھ بھرنا کیا ضرور تھا۔ اب اے صاحبان عقل و شعور! ملاحظہ فرماؤ کہ ان لوگوں نے ظاہر میں فقیری کا جامہ پہنا ہے، باطن میں چوری اور غارت گریٔ خلق مدعا ہے۔ نہیں تو فقیر کو کیا کام تھا کہ میری گٹھری غائبانہ کھول کر دیکھتا۔ میں نے اکثر فقیرون ہندوؤں کو دیکھا کوئی اُلٹا درخت سے لٹکا، کوئی شدّت گرمی میں آگ میں بیٹھا۔ اسی طرح فقر ائے اہل اسلام کو بھی اپنے طور پر عبادت میں غرق پایا۔ آخر جب امتحان کیا، سب کا مکر و فریب پایا۔ جب وہ فقیر شیطان سیرت نہایت بدمزہ ہوا۔ اُس کے مکان کے قریب ایک کھنڈر تھا، اسباب اپنا بندہ وہاں اُٹھا کر لے گیا اور گھوڑے کی تلاش کرنے لگا۔ ایک شخص حیدرآباد کا رہنے والا نوکر نظام الملک کا اورنگ آباد میں تعینات تھا۔ اُس سے حال خرید و فروخت گھوڑوں کا پوچھا۔ اُس نے مجھ کو اپنا ہم وطن سمجھ کر بہت خاطر داری کر کے کہا: اندک صبر کرو اور چندے یہاں رہو۔ میں تمھارے لیے گھوڑا قدم باز ٹھہرائے دیتا ہوں۔ جہاں سے بنتا ہے تلاش کیے لاتا ہوں۔ پھر کہا ایک گھوڑا چہار سال فلانے جمعدار پاس ہے۔ ہاتھ پاؤں سے صاف ہے۔ مگر عیب نحوست رکھتا ہے۔ جو اس کو مول لیتا ہے، نوکری سے برطرف ہوتا ہے اور اس کے گھر کوئی مر جاتا ہے۔ اس لیے میں تمھارے واسطے نہیں لے سکتا۔ ورنہ بہت خوب ہے اور قیمت مناسب پر ٹھہر جاتا۔ جس نے ان دنوں اُس کو مول لیا تھا، نوکری سے چھٹ گیا اور لڑکے اُس کے نے انتقال کیا۔ اب وہ ارادہ رکھتا ہے کہ گولی بندوق سے اُس کو مار ڈالے۔ میں یہ سنتے ہی اُس کا طالب ہوا اور بیس روپے کو مول لیا۔ بہ جہت نحوست فہمی اُس شخص کے بھوکوں کا مارا تھا، میرے پاس دانہ گھاس پیٹ بھر کھا کر قد و قامت خوب نکالا۔ میں چند روز وہاں رہا۔ کوچہ و بازار کا تماشا دیکھا۔

ایک دن عالمگیر اورنگ زیب کی بی بی کے مقبرے پر گیا۔ فرش اور چھت سنگ مرمر کا تھا۔ اگرچہ بسبب کہنگی کے آب و تاب اولیٰ نہ رکھتا مگر تاہم بہتر اور نقشہ اُس کا مانند روضۂ تاج بی بی کے تھا۔ کاریگری اور صنعتوں کے سوا وہ صناعی میں اس سے کہیں زیادہ۔ اورنگ آباد پہاڑ کے نیچے بسا ہے۔ دیوار شہر پناہ اور دروازہ آمد و رفت کا پختہ بنا ہے۔ اب جا بجا سے اس میں بھی نقصان آیا۔ زمانہ سابق میں خوب آباد ہو گا۔ اس سر زمین میں میوے تروتازہ مثل نارگی و سیب وغیرہ پیدا ہوتے ہیں۔ اگر کوئی اس زمین کو تیار کرے، میوے ولایتی پیدا ہوویں۔ اس زمانہ میں مکان اور عمارت اس کی ٹوٹی پھوٹی ہے۔ رئیسوں سے نام و نشان نہیں باقی ہے۔ مگر رہنے چکلہ دار کے سے البتہ آبادی ہے۔ اس کے نوکرون ذی رتبہ سے جو وہاں رہتے ہیں سپید پوشی ہے۔ شام کو چوک میں جماؤ ہوتا ہے۔ ہنگامہ خرید و فروخت اسباب گرمی پاتا ہے۔ رنڈیاں سات سنگار کرکے اپنے اپنے کوٹھوں کھڑکیوں پر بیٹھتی ہیں، اپنے تئیں آراستہ کر کے راہیوں کو دکھاتی ہیں۔ مرد نوجوان تماش بین گھوڑوں پر سوار ہو کر بناؤ کر کے آتے ہیں، گھوڑے دوڑاتے ہیں۔ رنڈیوں سے اشارے کنائے کرتے جاتے ہیں۔ ان کا حال دیکھ کر مجھ کو افسوس آیا کہ ان میں اور لندن کے لڑکے اور جوانوں میں فرق ہے زمین و آسمان کا۔ یہ لوگ اپنی اوقات بیجا باتوں میں برباد کرتے ہیں۔ وہ عاقل ایک لحظہ تحصیل علم و ہنر سے خالی نہیں رہتے ہیں۔ اسی سبب سے اِن کے لیے ہمیشہ ذلت و خواری بڑھتی ہے، اُن کے واسطے ہمیشہ رونق اور ترقی ہوتی ہے۔

بعد اس سیر و تماشے کے کپتان جاکس صاحب کے مکان پر گیا۔ ان کے نام کا خط تامس صاحب کا لکھا میرے پاس تھا۔ وہ اُس وقت گھر میں تشریف نہ رکھتے۔ کہیں گئے تھے۔ میں ٹھہر گیا، ان کے آنے کا منتظر ہوا۔ ایک ساعت کے بعد اپنی میم صاحب کے ساتھ بگھی پر سوار آئے۔ میرا حال پوچھ کر بہت عنایت سے پیش آئے۔ شکوہ و شکایت کرنے لگے کہ تم اتنے دنوں سے اس شہر میں آئے تھے، پہلے سے ہمارے پاس کیوں نہ چلے آئے، ہم تمھارے لیے خیمہ کھڑا کروا دیتے، مکانات عمدہ اور عجائبات اس شہر کے تم کو دکھلاتے۔ میں نے جواب دیا: میرے آنے سے تم کو یہ سب تصدیعہ ہوتا، اس سبب سے میں نے اب تک حاضر ہونے میں تامل کیا۔ شام کے وقت کھانا منگوایا۔ آپ مع میم صاحب کے میرے ساتھ کھانا کھایا اور نہایت اصرار سے مجھ کو کھلایا۔ ان کی میم مزاج خلیق رکھتیں۔ تھوڑے دنوں سے ان کے نکاح میں آئی تھیں۔ ان دونوں میاں بیوی نے میرے حال پر بہت عنایت فرمائی۔ ساری رات ان کی صحبت میں گزری۔

 

ایلچ پور

 

صبحی ان سے رخصت ہو کر اپنے کھنڈر میں آیا۔ گھوڑے نو خرید پر سوار ہو کر ایلچ پور چلا۔ راہ میں اندارے زینہ دار پختہ دیکھے، بہت خوب اور مستحکم بنے۔ مگر بعضے قابل پانی پینے کے تھے، بعضے خراب پڑے۔ سبب اس کا یہ کہ مسافر نالائق جو اس راہ سے نکلتے، انھیں کنووں میں زینے سے اتر کر گوشہ سمجھ بول و براز کرتے تھے۔ اس واسطے بعضوں کا پانی بدبو کرتا، کثیف اور خراب پڑا تھا۔ اس راہ میں اکثر کوہستان تھا۔ سننے میں آیا کہ بسبب رہزنوں کے گزر مسافروں کا اس راہ میں دشوار تھا۔ مگر اب انگریزوں کی شکایت سے نظام الملک نے حفاظت راہ کے لیے جا بجا سوار مقرر کیے ہیں۔ کنوؤں پر اکثر چوکی پہرے بٹھلائے ہیں تاکہ مسافر با امن و امان راہ سے گزریں، انداروں میں بول و براز نہ کریں۔ انگریزوں کی عقل کو سراہا چاہیے کہ انھوں نے اپنی عملداری میں اور غیروں کے ملک سے راہزن اور ڈکیت نکلوا دیے۔ تمام راہ زمین قابل زراعت نظر آئی۔ مگر ظلمِ عاملون سے خراب پڑی تھی، رعیت برباد ہو کر اجڑ گئی۔ کہیں بھی خوب آبادی نہ تھی، بلکہ گانوں کے گانوں اجڑے پڑے تھے۔ مواضع آبادان مسکنِ دام ودد ہوئے۔ اگر کوئی تردد اس زمین کا کرے، منفعت قرار  واقعی ہوئے۔ عامل کو تہ اندیش ناعاقبت بیں، رعیت کا اسباب لوٹ لیتے ہیں۔ اسی کو منفعت سمجھتے ہیں۔ غافل اس بات سے کہ در حقیقت ملک اجاڑتے ہیں، نقصان سرکار کا کرتے ہیں۔ اگر ملک آباد اور تردد زمین کا ہوتا اس سے چار چند روپیہ آتا۔

یہ حالات دیکھتے چلتے چلتے بڑوڑ میں آیا۔ اورنگ آباد سے پانچ کوس تھا۔ دوسرے دن دس کوس چلا، ویاڑی میں آ پہنچا۔ وہاں سے دس کوس کے بعد جعفر آباد میں آ کر ٹھہرا۔ یہ موضع بہ نسبت اور گانو کے آباد پایا۔ ایک پرانا قلعہ اور تالاب اس میں بنا تھا۔ بسبب عرصہ کھچنے بارش مینہ کے پانی کم رہا تھا۔ جعفر آباد سے دس کوس آگے بڑھا، چکلے میں آیا۔ وہاں سے سات کوس چل کر امر پور پہنچا۔ وہاں سے لکھن بارہ جو سات کوس تھا آیا۔ پھر نو کوس راہ چلا، بڑگانو میں داخل ہوا۔ وہاں سے سات کوس کی منزل طے کر کے اکولا میں رات کاٹی۔ اکولا سے قبضہ دہنڈا میں آیا، نو کوس کا فاصلہ تھا۔ وہاں سے دس کوس بعد کپس تلی میں آیا۔ کپس تلی سے گیارہ کوس بڑھا، ایلچ پہنچا۔ یہ راستہ مانند سڑک ملک انگریزی کے برابر اور صاف نہ تھا۔ میں نے بسبب نشیب و فراز راہ کے اور گڑھوں اور پہاڑ کے رنج بہت پایا۔

ایلچ پور قریب پہاڑ کے واقع ہوا ہے۔ معتدل یہاں کی آب و ہوا ہے۔ زمانۂ سابق میں اغلب کہ خوب آباد ہوگا، اس لیے کہ اب تلک بھی کچھ آباد و معمور تھا۔ عمارت اور مکان قدیمی گر گئے مگر آبادی سابق سے خبر دیتے۔ یہاں فوج نظام الملک تعینات رہتی ہے، قواعد انگریزی سیکھتی ہے۔ انگریز قواعد سکھانے کے لیے نوکر ہوئے ہیں۔ یہاں کا لشکر درماہہ ماہ بماہ سرکار سے پاتا ہے۔ قریب پہاڑ کے ایک میدان خوب صاف ہے۔ اس میں چشمہ پانی کا شیریں اور شفاف ہے۔ پہاڑ پر ہر قسم کے جانور شکاری موجود تھے جیسے ہرن، نیل گائے، پاڑھے۔ اگر کسی کا اس راہ سے گزر ہو اور شوق شکار کا اس کو بیشتر ہو، چاہیے کہ اس پہاڑ پر جاوے، جانوروں کا شکار کرے۔ اس واسطے کہ وہ جگہ نفیس اور نادر ہے، محل تماشائے قدرت قادر ہے۔ غریب آدمی اس جنگل اور پہاڑ سے بانس اور لکڑیاں وغیرہ کاٹ کر بیلوں پر لاد لاتے ہیں، شہر میں لا کر بیچ جاتے ہیں۔ اسی طرح سے اوقات گزاری اپنی کرتے ہیں۔ میں نے دو تین دن ایلچ پور میں مقام کیا۔ سیر و شکار میں مشغول رہا اور بسبب تکلیف راہ کے ایک آدمی صاحب خان نامی نوکر رکھا۔

ناگپور

 

بعد اس کے ناگپور چلا۔ اول منزل دس کوس چل کر چاند آور میں آیا۔ وہاں سے نو کوس راہ طے کر کے نیر میں پہنچا۔ راہ میں بسبب کمی بارش کے کنویں سوکھ گئے تھے، لہذا پانی کی طرف سے تکلیف کھنچتے رہے۔ سوا اس کے ساری راہ میں جنگلا تھا اور خوف و خطر شیر اور چیتے اور جانورون درندہ۔ کہیں عمل نظام الملک کا، کہیں کسی راجہ کا، کہیں کہیں انگریزی تھا۔ نیر سے دس کوس چلا قصبہ وردہ میں آیا۔ وہاں سے گیارہ کوس کے بعد کرنجہ میں پہنچا۔ وہاں سے گیارہ کوس آگے چلا، کنڈل واری میں آیا۔ دس کوس آگے بڑھا، دامنہ تک آیا۔ دس کوس آگے چلا، ناگپور پہنچا۔

شہر سے باہر ایک سرا میں اترا، نزدیک اس کے ایک تالاب دلچسپ تھا۔ چونکہ اس سال مینہ کم برسا۔ پانی کنوؤں کا خشک ہوا، اس لیے زن و مرد شہر کے اسی تالاب سے پانی بھر لے جاتے۔ ناگپور سے دو تین منزل پیشتر میں نے بازار گانو میں سنا کہ ایک شیر ہے، مسافروں کو ہلاک کرتا مگر گانو کے آدمیوں کو نہیں ستاتا۔ گائے بکریوں کو نہ کھاتا۔ اس کے پکڑنے کے لیے ناگپور کے راجہ نے قریب سو پیادوں کے مقرر کیے تھے۔ وہ لوگ کہیں پتا اور سراغ شیر کا نہ پاتے۔ اس سے مجھ کو ثابت ہوا کہ وہ شیر نہ تھا بلکہ کوئی رہزن اپنے تئیں صورت شیر بنا کر مسافروں کو مارتا اور اسباب ان کا لوٹ لے جاتا۔ اگر میں کچھ دنوں وہاں رہتا اور دو تین آدمیوں کو شریک حال اپنا پاتا،اس رہزن شیر لباس کا پتا لگاتا اور ضرور اس کو گرفتار کرتا۔ بسبب تنہائی اور رواروی راہ کے لاچار پڑا۔ ظاہراً وہ شخص وہاں کے حاکم سے سازش رکھتا۔ ورنہ کیا امکان کہ پتا اس کا نہ لگتا۔

ناگپور کے قرب وجوار سب زمین ریگستان اور کوہستان ہے اور جا بجا شور، زراعت کا اس میں نہیں نام و نشان ہے۔ انھی وجہوں سے اس شہر میں شدت حرارت ہے۔ آدمیوں میں مثل وحشیوں کے ہرگز نہ آدمیت و لیاقت ہے۔ مکانات ان کے مانند ڈھابلی کبوتر اور مرغوں کے تنگ و تاریک تھے۔ طرفہ یہ کہ راجہ کے مکانات ویسے ہی بنے۔ میں نے جب راجہ کا مکان دیکھا، قید خانہ نیو کیڈ لندن کا یاد آیا کہ وہ بھی اس سے سو گنا بہتر تھا۔ اس کے مکان کے سامنے ایک میدان پڑا۔ شام کو راجہ اپنے مکان کے باہر آ بیٹھتا۔ میدان میں سوار متلاشیٔ روزگار جمع ہوتے، اپنے اپنے کمال اور کرتب دکھلاتے۔ راجہ جس کسی کو پسند کرتا نوکر رکھ لیتا۔ سوار و پیادہ راجہ کے نوکر وردی انگریزی پہنے تھے، عجب بد قطع جانور کی شکل معلوم ہوتے۔ رستے بازار کے نہایت تنگ تھے۔ شام کو مرہٹے عزت دار گھوڑوں پر سوار سیر کرنے آتے۔ ان کی ایسی قطع حماقت کی تھی کہ حماقت چہروں سے برستی۔ ایک پرانا قلعہ تھا، اس میں لشکر انگریزوں کا رہتا۔ اگرچہ وہ قلعہ قابل تعریف کے نہیں، مگر انگریزوں نے اس میں توپیں جمائیں۔ شہر سے تین کوس نکل کر دریائے کابٹی ہے۔ اس کے نزدیک فوج انگریزی کی چھاؤنی ہے، سوار پیادے اور توپ خانہ اور بہت گورے اس میں رہتے ہیں۔ بسبب قرب کابٹی کے اس کو چھاؤنی کابٹی کہتے ہیں۔

عمر راجہ ناگپور کی تخمیناً تیس برس کی ہے۔ طبیعت اس کی مائل عیش و عشرت ہوئی ہے۔ ایک مکان رنڈیوں سے بھرا ہے۔ اب تلک تلاش اوروں کی رکھتا ہے۔ چنانچہ حال میں ایک رنڈی نہایت حسین بنارس سے آئی تھی۔ راجہ کے منظور نظر ہوئی۔ ایسا اس پر فریفتہ اور مبتلا ہوا کہ ایک لحظہ مفارقت اس کی گوارا نہیں کرتا۔ جو کچھ اس رنڈی کو منظور ہوتا ہے، بدل و جان اس کو بجا لاتا ہے۔ بموجب حکم اس کے کبھی باغ میں جاتا ہے، کبھی قریب تالاب کے مکان بنواتا ہے۔ غرض کہ بہر صورت اس کی اطاعت میں ایسا مصروف رہتا ہے کہ عقل میں نہیں آتا ہے۔ شہر میں کوئی ہتیار باندھے نہیں نکل سکتا ہے۔ یہ حکم راجہ کا ہے۔ شہر سے باہر ایک تالاب اور تھا۔ دونوں تالابوں پر چوکی پہرہ بیٹھا۔ آدمی یا جانور کو حکم نہانے بلکہ پانو دھونے کا ان میں نہ تھا۔ جس کا جی چاہتا، پانی پینے کا البتہ وہاں سے لے جاسکتا۔

کامٹی

 

ایک دن بندہ چھاؤنی کابٹی کا تماشا دیکھنے گیا۔ قبریں انگریزوں کی دیکھ کر سخت ملول ہوا کہ یہ لوگ کس قدرراہ دور و دراز سے بامید بہبود یہاں آئے ہوں گے۔ کامیاب ہوکرارادہ پھرنے ملک اپنے کا رکھتے ہوں گے مگر صیادِ اجل نے مہلت نہ دی، وطن جانے کی نوبت نہ آئی۔ اسی حال میں دوست لندن کے یاد آئے، آنسو بے اختیار بہے۔ بعد ایک ساعت کے خیال آیا کہ اس رنج و غم سے فائدہ کیا۔ بہتر یہ ہے کہ دوا دلِ غمگین کی کروں اور طبیعت کو بہلاؤں۔ قریب چھاؤنی کے جا کر ایک بوتل شراب وین کی  خرید کی اور بھر کر سامنے رکھ لیا۔ اپنا چپک مصری، دوستوں کو یاد کر کے کئی پیالے شراب وین کے پیے۔ بعد اس کے چپک پینے میں مشغول ہو کرغم دل سے دور کیے۔ بقول حافظ شیراز، بیت:

اے نورچشم! من سخنے ہست گوش کن
تا ساغرت پرست بنوشاں ونوش کن

دو چار گھڑی اسی چین اور خوشی میں اوقات گزاری کی۔ پھراسی کیفیت و سرور میں گھوڑے پر سوار ہو کر باگ اس کی ڈھیلی کی۔ سوجھائی نہیں دیتا کہ گھوڑا کدھر جاتا۔ اُس نے چلتے چلتے ایک پھسلنے پتھر پر پاؤں رکھا اور پھسل پڑا۔ میں بھی اُس پر سے گر کرزخمی ہوا۔  تھوڑی ون وہیں زخم میں پلا کر خوب مضبوط باندھا۔ پھر گھوڑے پر سوار ہو کرسٹک کو چلا۔ وہاں سے نو کوس تھا۔ اثنائے راہ میں بہ سبب نہ برسنے مینہ  کے حال آدمیوں اور جانوروں کا پریشان پایا۔ کنویں سوکھ گئے تھے، اس سبب سے راہ میں پانی کہیں نہ  ملتا۔ اکثر جانور پرند نظر آئے کہ شدّت پیاس سے درخت پر سے گر کر مر گئے۔ میں نے جیوں تیوں سٹک میں پہنچ کر مقام کیا۔

دوسرے دن گیارہ کوس چل ڈونگر تال میں آیا۔ راہ میں سارا جنگل اور پہاڑ تھا۔ وہاں ایک جانور بصورت شیر گھانس میں چھپا نظر آیا۔ گھوڑے سے اُتر کر گھوڑا نوکر کے حوالے کیا۔ آپ پیدل ہو کر پہاڑ پر ایک پتھر مشبک کی آڑ میں بیٹھا، بندوق کو گولی سے بھرا، پتھر کے سوراخ سے مونھ بندوق کا نکالا،تاک کراس جانور کا شکار کیا۔حسب اتفاق گولی کا زخم کاری لگا۔ جانوراچھل کرگرا مگر میں خوف سے قریب اُس کے نہ گیا۔ ایک اور گولی ماری، یہاں تک کہ سرد ہوا۔ تب پاس اس کے جا کر دیکھا، چیتا تھا۔ قد و قامت میں بہت بڑا۔ اُس کو ساتھ اپنے ڈونگرتال لوا لایا اور ایک رو پیہ مزدوری دے کے چمڑا اُس کا نکلوا لیا۔

دوسرے دن ڈونگر تال سے دسں کوس آگے چلا۔ موضع کڑھے  میں آ کر ٹہرا۔ اُس دن مینہ خوب برسا تھا۔ راہ بھرعجب حال دیکھا۔ لاش ہندؤوں کی جا بجا پڑی۔ کوئی تڑپ رہا، کسی کی جان نکلی۔ گوشت بدن اُن کے کا گیدڑ اور جانور کھا گئے۔ کوئی شفیق نہ تھا کہ اُن کے حال پررحم کرے۔

ایک شخص ان میں سے ہوش و حواس بجا رکھتا۔ میں نے اُس سے استفسارِ حال کیا۔ اُس نے کہا: ہم لوگ ہندو ہیں۔ رامیشر سے تیرت کر کے آتے ہیں۔ اپنے قافلہ کے ساتھ کاشی جی جاتے تھے۔ یہاں آ کر بیمار ہوئے۔ ساتھی ہمارے ہم کو اس حال میں چھوڑ کر چلے گئے۔ اب ہم اس عذاب و مصیبت میں گرفتار ہیں۔ زندگی سے بیزار ہیں۔ بہتیرے پڑے پڑے بسبب بھوک و پیاس کے مر گئے۔ بہتوں کو جانور درندے ہلاک کر گئے۔ گوشت بدن کا کچھ کھایا، کچھ چھوڑ گئے۔ ہڈیوں کو بھی توڑ گئے۔ بعضے مانند میرے حالت نزع میں تڑپ رہے ہیں، موت آنے کی راہ دیکھتے ہیں۔ مجھ کو دل میں رنج آیا کہ افسوس اس حالت میں کوئی نہیں اُن کا پوچھنے والا۔ با وجود یہ کہ ہندوؤں کے غول تیرت کیے ہوئے اُس راہ سے نکلتے تھے اور وہ گرفتاران مصیبت حال اپنا کہہ کر رام و لچھمن کا واسطہ دلاتے تھے۔ مگر کوئی متوجّہ حال نہ ہوا اور کسو نے اُن کے حال پر رحم نہ کیا۔ بندہ اُن ہندوؤں کی سخت دلی سے متحیر ہوا کہ باوجود بھگتی اور تیرت رامیشر کے اپنی ہم قوموں کا حال نہ پوچھا۔ رامیشر اور کاشی جانے سے کیا فائدہ، جو دل میں اُس سے سختی آئی زیادہ۔ چاہیے تھا کہ اگردل سخت پتھرسا ہوتا، تیرت سے موم ساملائم ہو جاتا۔ یہاں برعکس ہویدا ہوا کہ تیرت سے اور زیادہ کڑا ہوا۔

صاحبانِ انصاف ملاحظہ کریں کہ ایسے امور بے رحمی اور شقاوت کس مذہب میں جائز ہیں۔ ان سے زیادہ سخت دل اور نالائق کون ہوگا کہ اپنے ہم مذہب اور ساتھیوں پر اتنا ظلم روا رکھا۔ میں نے بہت ملکوں میں پھر کر بے رحمی میں بدویون عرب کو مستثنیٰ کیا تھا، مگر حال ہندوؤں کا دیکھ  کر ہندوستانیوں پر ختم بے مروتی کا کیا۔ اس سے زیادہ یہ ماجرا کہ جس کو کچھ مقدور ہوا، کمینہ ہو یا اشراف، شریف ہو یا اجلاف، ہندی نزاد اُس کی خوشامد کہہ کر دماغ اُس کا آسمان پر پہنچاتے ہیں، شرافت اور کمینگی کا ہرگز پاس نہیں کرتے ہیں۔ سامنے خداوند پیرمرشد کہتے ہیں، غائبانہ ہزاروں گالیاں دیتے ہیں۔ زبان سے وہ قال ومقال ہے، دل میں یہ خیال ہے۔ انھی حرکات سے خداتعالیٰ نے ان پر غضب نازل کیا، سلطنت ہندوستان کی بیچ قبضہ وتصرف انگریزوں کے لایا۔ یہ ملک وسیع ایسا نہ تھا کہ بآسانی جماعت قلیل سے انگریزوں کے ہاتھ لگتا مگر ان کی طرف بہ سبب نیک طینتی کے تائید الٰہی ہے اور ان پر حرکاتِ ظلم ان کے سے تباہی آئی۔ کوئی کسی سے موافقت نہیں رکھتا ہے، بھائی بھائی سے کنائی کاٹتا ہے۔ ظاہر میں اپنے تئیں بھگت اور پرہیز گار بناتے ہیں، باطن میں ہر رشتہ نفس سے دام فریب بنتے ہیں۔ یہ پرہیزگاری ظاہرنمائی کی آخرت میں کیا فائدہ دے گی۔ بموجب مثل ہندی “دیا دھرم نہیں تورے من میں، کیا دیکھے تو مکھ درپن میں”۔ زیادہ اس سے لکھنا فضول ہے، کلام طویل کرنا عاقلوں کے سامنے نامقبول ہے۔

خلاصہ یہ کہ دس کوس  راہ طے کر کے مو ضع کرہی سے سنہی میں آیا۔ یہاں سے عمل راجوں کا تھا۔ خلقت یہاں کی نرالی اور انداز نیا ہے۔ بے زجر اور تنبیہ کے کام نہیں نکلتا ہے۔ راہ میں مَیں نے کنوؤں پر جا کر لوگوں سے بہ خوشامد پانی مانگا، کسو نے ازراہ بد ذاتی گھونٹ بھرپانی نہ پلایا۔ بلکہ ٹرہ پن سے جواب سخت دیا۔ بنیوں کی دکانوں پر جا کر نرمی اور لجاجت سے رات بھراُتر رہنے کی اجازت چاہی، اُنھوں نے بھی میرا کہنا خیال میں نہ لا  کر انکار کی۔ جب میں نے دیکھا کہ آشتی سے کام نہیں چلتا، انگریزی کپڑے پہن کر اپنے تئیں صوبے دار فوج انگریزی کا ظاہر کیا۔ جہاں کہیں جاتا، اہل حرفہ کو گالیاں دیتا بلکہ جوتیاں مارتا؛ کوئی سرتابی نہ کر سکتا۔ سب موم کی طرح پگھل کر فرمانبرداری کرتے، دل و جان سے اطاعت میں مشغول رہتے۔ اسی طرح تلنگے انگریزی جس گانوں میں جاتے ہیں، بیگاری پکڑ کر اس پر اسباب اپنا لاد کرمنزل تک لے جاتے ہیں، ایک کوڑی بھی مزدوری نہیں دیتے ہیں۔ جب دکان پر بنیوں کی پہو نچتے ہیں گالیاں بے سبب دے کر قرارواقعی تنبیہ اُن کی کرتے ہیں۔ آٹا بہ نسبت اور خریداروں کے ارزاں مول لیتے ہیں، چلتے وقت انعام میں گالیاں دے جاتے ہیں، میرے نزدیک بہت اچھا کرتے ہیں۔ وہ نالائق، بد ذات بغیر اس کے نہیں مانتے ہیں۔ سابق بندہ بدزبانی اور بے رحمی انگریزوں سے ہندوستان میں شاکی تھا۔ رودادِ سفر اور سابقے اُن لوگوں سے ثابت ہوا کہ بغیر بد زبانی اور بے رحمی کے کام نہیں نکلتا ہے۔ اگر کوئی صد ہا روپیہ خرچ کرے ویساہرگز اجرائے کار نہیں ہوتا ہے۔ غریب مسافر جو ٹٹوؤں پر سوار آتے تھے، محافظانِ راہ زیادہ قیمت ٹٹو سے محصول لیتے پھر بھی نجات نہ دیتے۔ ایک شخص  نے میرے سامنے تین روپے کا ایک چھوٹا ٹٹو مول لیا تھا، چوکیداروں نے چارروپیہ اس کا محصول لیا۔ آخر اُس بچارے نے حیران ہوکرٹٹو کو ایک طرف چھوڑ دیا کہ اس آفتِ جان سے میں در گزرا۔ جابجا مجھ سے بھی چوکیداروں سے تکرار ہوئی مگر میں وضع ہندوستان سے بخوبی آگاہ تھا، اس سے اُن ظالموں سے نجات پائی۔ اگر کوئی اپنی بی بی ان راہوں میں ساتھ لے جاوے، سخت خرابی میں گرفتار ہووے۔ اگر گھوڑے ٹٹو پر سوار چلے، دونا قیمت سے محصول دے۔ اگر کوئی عورت اکیلی اس راہ سے سفر کرے، ممکن نہیں کہ گزر سکے۔ غرض کہ ہر منزل میں محافظ مثل منکرنکیر تھے، مسافراُن کی ایذارسانی سے دلگیر تھے۔ راجہ ہائے ہندوستان شامت اعمال اپنے سے محکوم انگریزوں کے ہوئے۔ ورنہ کیا مجال کہ ایسا ملک فسیح الفضا انگریز فوجِ قلیل سے لے سکتے۔ یقین کے انھی حرکتوں سے ہمیشہ فرماں روا اوروں کے رہیں، ظلم و جبرغیروں کے اپنے اوپر سہیں۔

جبل پور

 

قصہ مختصر بندہ سنہی سے نو کوس چلا، نراین گنج میں پہنچا۔ وہاں سے نو کوس کی منزل طے کرکے گنیش گنج آیا، پھرنو کوس کے بعد دہوبان میں اُترا، وہاں سے دس کوس چل کر چری بُدی میں پہنچا۔ پھردس کوس منزل کر کے جھبل پور میں مقام کیا۔وہ نواح دل کو بھایا۔ اُس پار جھبل پور کے دریائے نربدا تھا۔ میں شکارمیں مشغول ہوا۔ یہ دریا مقام پوجا ہے اور نہانے ہندوؤں کا ہے۔ فی الواقعی پانی اس کا مزیدار اور میٹھا ہے۔ ہندو راہونِ دور سے آکر اس دریا میں نہاتے ہیں، اپنے نزدیک اس پانی سے سارے گناہوں کو دھو جاتے ہیں۔ ایک دن میں نے نربدا پر مقام کیا، شکار کر کے کئی جانور پکڑ لایا۔ ایک جگہ گنجان درختوں کا سایہ اور خوب سبزہ تھا، اُتر کر شکاری جانوروں کا کباب بنا کر کھایا اور شب باش ہوا۔ بندہ جب نربدا پہنچا، گرمی کا غلبہ تھا۔ اسی سبب سے پانی دریا کا گھٹ گیا، یہاں تک کہ پہاڑ دریائی جونربدا میں تھا نظر آتا۔ کشتی کا رستہ مسدود تھا۔ دوسرے دن خاص جھبل پور میں آ کر ایک بنیے کی دکان پر اترا،  راہ کی ماندگی سے سستایا۔ اُس دن ابر تھا، دل میں یہ  خیال آیا کہ راہ کے چلنے سے ماندہ ہوا ہوں، بہتر یہ کہ ایک آدھ روز یہاں چین کروں۔ بنیے کی دکان کو صاف کروایا، عرقِ انگور پینے میں مصروف ہوا۔ گویون خوش آواز کو بلا کر راگ سننے لگا۔ آنب، خربوزے مول لے کر آپ کھائے، باقی گویوں اورنوکرکو تقسیم کردیے۔ اسی عیش ونشاط میں دو تین پیادے کوتوالی کے آ کر پوچھنے لگے: تم کون ہو، کیا پیشہ رکھتے ہو، کہاں سے آئے، کہاں جاتے ہو۔ میں نے کہا: مسافر ہوں، بنبئی سے آتا ہوں بنارس جاتا ہوں۔ تم کو میرے پیشہ اور مقام سکونت سے کیا کام، اس سے کیا غرض و انجام۔ وہ موذی تقریر بیجا سے باز نہ آئے، بلکہ تھوڑی دیر بعد کہنے لگے: ہمارے ساتھ چلو تم کو کوتوال نے بلایا ہے۔ میں نے ان کا کلام پوچ و لچر سمجھ کر یہ کہا: اگر کوتوال کو تحقیقات منظور ہوئے، میرے پاس آ کر حال پوچھ جائے۔ میں اُس کے پاس ہر گز نہ جاؤں گا، اپنے عیش میں خلل نہ لاؤں گا۔ میں نے کسی کی چوری نہیں کی اور تھیلی نہیں کاٹی کہ کوتوال نے مجھ پر طلبی بھیجی۔ شام تک اُسی کیفیت میں رہا، رات کو کھانا کھا کر سویا۔ صبحی گھوڑے پر سوار ہو کر آگے چلا۔ انھی پیادوں نے آ کر روکا کہ کوتوال کا حکم  نہیں تمھارے جانے کا۔ میں نے کچھ نہ سنا، اپنا رستہ لیا۔ دو کوس تک پیادے ساتھ آئے، بعد اس کے پھر گئے۔ ظاہراً معلوم ہوا کہ کوتوال جھبل پور کا مسافروں کو تہمت دزدی سے گرفتار کرتا تھا اور اُن سے دھمکا کرشوت لیتا تھا۔ مگر مجھ سے اُس کو کچھ وصول نہ ہوا۔ جھبل پور اگرچہ بہت وسعت نہیں رکھتا ہے مگر آباد اچھا ہے۔ کسی انگریز نے اُس کا چوک بنوایا ہے۔ بہت نادر نقشہ اُس کا ہے۔ چوطرفہ دیوار ہے، اندر اس کے دکانیں اور بازار ہے۔ ہر قسم کی چیز اُس میں رکھی ہے، شام کو آدمیوں کی بھیڑ ہوتی ہے۔ جھبل پور سے آگے رستہ ہموار ہے، دو طرفہ درخت آنب کے سایہ دار۔ مسافر سایہ میں راہ چلے۔ جہاں چاہے آنب کھائے اور ٹھہرے۔ اُس سال درختوں میں آنب لدے تھے۔ مسافر راہ چلتے آنب کھاتے جاتے۔ یہاں پہاڑ سیاہ بہت نظر آئے۔

میں جھبل پور سے چلا۔ نو کوس کے بعد سہوڑا میں پہنچا۔ پھر نو کوس چل کر دنیڑی آیا۔ وہاں سے آٹھ کوس چلا، سہا گنج میں گیا۔ وہاں سے دس کوس آگے بڑھا، مہیر میں پہنچا۔ مہیر موضع آبادان ہے، ایک راجہ ہندو حاکم ہے وہاں۔ اُس نے ایک چھوٹا سا قلعہ پختہ مضبوط بنوایا ہے، ہزاروں طوطوں نے اُس کی دیوار کے رندوں میں آشیانہ بنایا ہے۔ گرد قلعہ کے خندق گہری پانی سے بھری ہے۔ آدمی اُس موضع کے نادان، بدقطع اور احمق ہیں گویا حیوان مطلق ہیں۔ ایک شب بندہ وہاں رہا۔ صبحی پانچ کوس بڑھ کر امرپٹن میں آیا۔ یہاں بھی عمل ایک راجہ کا، انتظام ملک خاک نہ تھا۔ عملداری راجاؤں کی۔ انھی راہوں میں مسافر اکثر مارے جاتے ہیں۔ راہزن اسباب راہیوں کا لوٹ لے جاتے ہیں۔ کوئی شنوائی نہیں کرتا ہے کہ یہ کیا ظلم و فساد ہوتا ہے۔ امرپٹن میں پہنچ کر ایک درخت کے نیچے سو رہا۔ آدھی رات کو بیدار ہوا۔ ایسی چاندنی کھلی تھی کہ رات دن معلوم ہوئی۔ آدمی کو آواز دے کر جگایا۔ میں نے اُس نے دونوں نے جانا کہ تڑکا ہوا۔ وہاں سے اُسی وقت چل کھڑا ہوا۔ جب دو کوس نکل آیا دو آدمی جنگلی لٹیرے ملے۔ ایک ایک لاٹھی لوہا لگی ہوئی، کندھوں پر رکھے۔ آواز دی کہ اے مسافر! گھوڑا اور اسباب اپنا ہم کو دے، سیدھی طرح گھر کی راہ لے نہیں تو ہم تجھ کو مار ڈالیں گے، گھوڑا اور سب اسباب لے لیویں گے۔ میرے پاس چقماق بھری ہوئی اور سب ہتیار تھے۔ دل میں ہراس نہ لایا اُن کی اس گفتار سے بلکہ یوں جواب دیا: تم اپنی راہ جاؤ، میرے نزدیک مت آؤ۔ ورنہ ایک کو گولی سے ماروں گا، دوسرے کا تلوار سے کام تمام کر دوں گا۔ انھوں نے یہ سن کر دو کوس تک پیچھا کیا۔ میں بھی اُن کے مقابلہ سے غافل نہ ہوا۔ جب انھوں نے دیکھا کہ یہ شخص ہوشیار ہے، اسباب اس کا لینا دشوار ہے، آپس میں کچھ صلاح کی اور اپنی راہ لی۔ میں درگاہ الٰہی میں شکر بجا لا کر آگے بڑھا، لیکن ابھی تک صبح صادق کا پتا نہ تھا۔ تب یہ بات ثابت ہوئی کہ چلتے وقت رات بہت باقی تھی۔ تھوڑی دور آگے چلا۔ دیکھا کہ ایک مہاجن راہ میں بیٹھا مع متعلقوں کے رو رہا ہے۔ میں نے پوچھا حال کیا ہے۔ اُس نے کہا میں ناگپور جاتا تھا۔ جب یہاں آ کر پہنچا دو ڈکیت آئے، اسباب میرا لوٹ لے گئے اور لاٹھی لوہے کی لگی ہوئی سے مجھ کو زخمی کیا۔ اب مجھے کچھ نہیں بن پڑتا، اگر کچھ خرچ پاس ہوتا گھر پھر جاتا یا منزل مقصود تک پہنچتا، سخت حیران ہوں، الٰہی کیا کروں۔ میں اس کا حال دیکھ بہت کُڑھا مگر کچھ نہ بن آیا۔ لاچار اپنا رستہ لیا۔

دس کوس چل کر نریمان میں آیا۔ سنا کہ ایک سوار سپاہی پیشہ پچاس سواروں کے ساتھ بڑے ٹھاٹ سے گوالیر سے نوکری چھوڑ کر یہاں آیا ہے۔ ارادہ نوکری راجہ کا رکھتا ہے۔ میں نہایت مشتاق دیکھنے اس کے کا ہوا۔ جا کر اُس کو اور اُس کے ہمراہیوں کو دیکھا۔ فی الواقع جوان وجیہ اور دیدارو تھا۔چنانچہ وہاں کے راجہ نے اُس کو پان سو روپے درماہے کا نوکر رکھا اور ہمراہیوں اس کے کا بھی درماہہ حسب لیاقت مقرر کیا۔ بعد اس کے قلعہ اور شہر کی سیر دیکھنے گیا۔ رستہ بازار کا تنگ تھا۔ مکان راجہ کا بہ نسبت اور مکانوں کے اچھا بنا، اگرچہ قابل تعریف نہ تھا۔ گرد قلعہ اور شہر کے خندق کی طرح چاروں طرف دریا ہے۔ پانی اُس میں پتھر اور پہاڑ سے آتا ہے، عجب کیفیت دیتا ہے۔ جب یہ سیروتماشا دیکھ چکا، سات کوس رہ نوردی کر کے منکونا میں آیا۔ بہ سبب گرمی اور نہ برسنے مینھ کے کنویں سوکھے تھے۔ حالات تشنگی شہدائے کربلا کے یاد آئے۔ چھ کوس کے بعد مئو میں پہنچا۔ اس ویرانے گانوں میں بھی پانی کا یہی حال تھا۔ وہاں سے سات کوس چلا، بن منا میں آیا۔ بعد اس کے درمن گنج میں پہنچا۔ چار کوس کا مفاصلہ تھا۔ درمنس صاحب نام کسو انگریز کا ہے، اُس نے یہ گنج ڈالا ہے، اس سبب سے نام اُس کا درمن گنج مشہور ہوا۔ یہاں سے عمل انگریزی تھا۔ پہاڑ پر سے رستہ چلتا ہے، ڈیڑھ کوس تک نشیب و فراز رکھتا ہے۔ جو کوئی اسباب اُس راہ سے لے جاتا ہے، وہاں کے پرمٹ میں محصول دینا پڑتا ہے۔ سابقاً ہندوستانی لوگ مقرر تھے، محصول ہر شے کا لے کر جمع کرتے۔ آخر انھوں نے تغلّب تصرف کیا۔ انگریزوں نے یہ عہدہ اُن سے نکال کر ایک سارجن کو بجائے اُن کے مقرر کیا۔ وہ لیاقت نوشت و خواند کی نہ رکھتا۔ فقط بسبب امانت داری کے معتمد علیہ سرکار کا ہوا۔ ہندوستانی عجب عقل ناقص رکھتے ہیں، اپنے ہاتھ سے اپنے پانو پر کلہاڑی مارتے ہیں۔ اگر چوری نہ کرتے کیوں اس عہدہ سے موقوف ہوتے۔ وہ پہاڑ رفیع الشان تھا۔ نشیب و فراز بیحد و پایاں رکھتا۔ آدمی بمشکل اس راہ سے جاتا۔ بگھی یا گاڈی کا ہر گز گزر نہ ہو سکتا۔ صاحبان انگریز نے جا بجا سے پہاڑ کاٹ کر رستہ برابر اور ہموار کیا، بلکہ اب بھی درست کرتے جاتے ہیں۔ اس سبب سے اب بگھی چھکڑے بھی اُس راہ سے جا سکتے ہیں۔ میں جب وہاں پہنچا، لوگوں نے آگے بڑھنے سے منع کیا کہ یہاں ایک شیر لاگو رہتا ہے، ہر روز ایک آدمی مارتا ہے۔ تم یہاں ٹھہرو آگے مت بڑھو۔ جب سو پچاس آدمیوں کا جماؤ ہو آگے جانے کا قصد کرو۔ پہلے میں نے اُن کا کہنا خیال نہ کیا کہ میرے پاس بندوق بھری ہے۔ اگر شیر سامنے آوے گا ماروں گا۔ سوا اس کے میں خوفناک مقاموں پر گیا، افضال الٰہی سے ہمیشہ محفوظ رہا۔ یہاں بھی صدمہ سے بچوں گا مگر پھر قول سعدی شیرازی رحمہ اللہ کا یاد آیا، شعر:

گرچہ کس بے اجل نخواہد مرد
تو مرو در دہان اژدرہا

اس وجہ سے ٹھہر گیا۔ جب بہت لوگ جمع ہوئے، سب مل کر غُل کرتے ہوئے اُس پہاڑ ناہموار سے نیچے آئے، میں بھی اُن کے ساتھ آیا۔ چڑھاؤ اُتار سے تھک گیا، ایک درخت سایہ دار کے نیچے اُتر رہا۔ آدھی رات کو باران رحمت برسا، میں نے کمل اوڑھ لیا اور وہیں رات بھر بسر کی۔ صبحی اٹھ کر قصد چلنے کا کیا۔ اپنے زانو کے نیچے دو بچھوؤن سیاہ کو بیٹھے پایا۔ فضل الٰہی شامل حال تھا کہ انھوں نے ڈنک نہ مارا۔ میں نے چمٹے سے اُٹھا کر گھاس میں ڈالا پر جان سے ان کو نہ مارا۔ اگرچہ یہ امر خلاف عقل تھا مگر اُس وقت بمقتضائے وحدانیت یہی بہتر معلوم ہوا۔ وہاں سے چستی چالاکی سے سات کوس طے کر کے لال گنج کی سرا میں پہنچا۔ کئی منزل سے ایک صوبہ دار کسی راجہ کا نوکر مع رفیقوں اپنے کے ہمراہ ہمارے تھا۔ اسی طرح ایک کہار بھی دور سے ہمراہ ہمارے آتا۔ میرزا پور کا رہنے والا تھا۔ بہت دنوں کے بعد روپے اشرفی جمع کر کے اور کپڑے نفیس اپنی جورو کے لیے بنوا کر نوکری پر سے گھر اپنے آتا تھا۔ کم بختی نصیبہ سے یہ سمجھ کر کہ گھر قریب آ پہنچا، لال گنج کی منزل میں ہم سے جدا ہو کر شراب نوشی میں مشغول ہوا۔ ہم لوگ سرائے لال گنج ووہیں پہنچے تھے کہ کہار بھی آیا، زخمی روتے پیٹتے۔ میں حال پوچھا۔ کہا کیا کہوں، غضب ہوا۔ میرے سارے روپے اور اشرفیاں دو تین چوروں نے زبردستی چھین لیا اور مجھ کو کر کے ننگا نکال دیا۔ میں نے کہا تو نے ازراہ بے عقلی و احمقی ہمارا ساتھ چھوڑا جو اس مصیبت و تکلیف میں گرفتار ہوا۔ میں بسبب ماندگی راہ کے لاچار ہوا۔ نہیں تو ضرور ان رہزنوں کا پتا لگاتا۔

دل میں خیال آیا کہ عمل انگریزی میں بھی باوجود اس قدر انتظام کے ظلم صریح ہوتا ہے، پس اور حاکمون ہندوستان کو بسبب بے انتظامی کے الزام دینا بیجا ہے۔ اگر انگریز مثل اورنگ زیب عالمگیر کے رہزنوں کو جان سے ماریں تو البتہ اُس پیشہ والے رہزنی سے باز آئیں۔ فقط تہدید زبانی سے کام نہیں نکلتا ہے، انتظام قرار واقعی نہیں ہوتا ہے۔

میرزاپور

 

الغرض صبحی وہاں سے سات کوس چلا۔ میرزا پور  آ کر ایک سرا میں اُترا۔ عجب سرا کہ مکان اُس کے معدن حرارت، بھٹیاریاں ڈائنوں کی صورت میلے کپڑے پہنے۔ سیکڑوں چیلڑ اُس میں بھرے۔ صفائی ستھرائی کی یہ حالت تھی کہ رینٹ ہونٹوں تک لٹکتی۔ کوئی اپنے سر کے بال کھجلاتی، کوئی اپنے چوتڑوں پر ہاتھ دوڑاتی۔ مسافر اپنی شامت سے اگر وہاں آ نکلا، عذاب دوزخ میں گرفتار ہوا یعنی ہر ایک اپنی طرف بلاتی ہے۔ ایک مکان تاریک و تنگ میں اُتارتی ہے۔ وہاں مچھر ہجوم لاتے ہیں۔ ہڈی چمڑا زخمی کر ڈالتے ہیں۔ میں بھی اس سرا میں اُترا۔ ایک تو گرمی مکان اور تکلیف مچھروں سے حیران تھا، دوسرے لید اور گوبر کی بو دماغ کو پریشان کرتی۔ طرفہ اُس پر یہ کہ ہر ایک بھٹیاری آدھی رات تک آپس میں لڑی۔ ان وجہوں سے نیند آنکھ میں حرام ہوئی۔ یہاں کی تکلیف سے لندن کی سرا یاد آئی کہ وہاں کیا کیا آسائش تھی۔ مسافر جب وہاں پہنچتا ہے، ایک شخص سپید پوش دروازے تک آتا ہے۔ بڑی عزت اور تکلف سے دو منزلے مکان بلند میں لے جاتا ہے۔ شیشہ آلات درودیوار میں لگے، کوچ مخملی بچھونوں کی ہر چہار طرف بچھے۔ ہوا کھڑکیوں کی راہ سے جو آتی ہے، مانند نسیم بہشت روح میں قوت دیتی ہے۔ مکھی یا مچھر کا ہر گز اُس میں نام و نشان نہیں۔ نیچے کے مکان میں میزوں پر ہر طرح کے کھانے چنے ہوئے بصد تزئین۔ مسافر کو جس کھانے کی تمنا ہے، میز پر مہیا ہے۔ جب کھانے کی نوبت آئے، ایک پری زاد سامنے بیٹھ کر بین بجائے۔ بعد فراغت کے شراب وین خوشبودار اور میوے ہر قسم کے مزیدار لا کر کھلاتی ہے۔ صبح کے وقت ایک رنڈی نہایت حسین سرہانے آ کر ملائم آواز سے آہستہ آہستہ جگاتی ہے اور آواز “امروز روز خوش” کی مسافر کے کان میں سناتی ہے۔ سوا اُس کے اور پریاں پوشاک نفیس پہنے سامنے آتی ہیں، تراش خراش میں ایک سے ایک نرالے انداز دکھاتی ہیں۔ علاوہ اس سے کوچ گاڈی فرش مخملی وغیرہ کی سواری کے لیے ہر جگہ ملتی ہے۔ ایک دن میں سو کوس کی منزل پر بے رنج و تکلیف پہنچا سکتی ہے۔ مسافر سفر میں ایسی آسائش پاتا ہے کہ گھر بھول جاتا ہے۔ ان سراؤں کو اگر بہشت کہوں بجا ہے اور اگر باغ ارم سے تشبیہ دوں روا ہے۔ انگریز لوگ اگر ہندوستان کے مکانوں اور سراؤں کو ناپسند کریں، ہو سکتا ہے۔ اس لیے کہ لندن کے مکانوں یا سراؤں سے یہاں کا کوئی مکان اور سرا نسبت نہیں رکھتا ہے۔ ؏

چہ نسبت خاک را با عالم پاک

اُس نواح میں چار کوس کے بعد ہر چیز ملتی ہے، بلکہ جا بجا بستی ہے۔ یہاں اگر مسافر سارا دن چل کر بہ ہزار خرابی سرا میں پہنچے، عذاب دوزخ اور سخت بلا میں مبتلا ہوئے۔ بھلا انگریزوں کو یہ سرا کیوں کر بھاوے جب ہم ہی لوگوں کو پسند نہ آوے۔

قصہ مختصر بندہ ایک دن سیر و تماشے کے لیے وہاں رہا۔ بازار اور دریا کی سیر کو گیا۔ ایک جگہ ایک فقیر فربہ لحیم و جسیم ہندو مذہب بیٹھا تھا، سر سے پانو تک ننگا۔ عورتیں ہندوؤں اور مہاجنوں کی اس کے عضو تناسل کو پوج رہی تھیں، اپنے نزدیک گویا عبادت کرتی تھیں۔ کوئی بہت ذوق و شوق سے اُس کو ہاتھ میں لے کر چومتی، کوئی چاول اور پھول اُس پر چھڑکتی۔ وہ فقیر ننگا عجب صاحب نصیب تھا کہ اندر کے اکھاڑے میں بے پروائی سے بیٹھا، نظارہ جمال پری زادوں کا کرتا۔ ایک نے ان پریوں میں سے گاڈھ دودھ میں قند کا چورہ ملایا، بہت خوشامد و لجاجت سے اُس بے حیا کو پلایا۔ مجھ کو یہ ماجرا دیکھ کر بے اختیار غصہ آیا، یہی جی چاہا کہ اس مردک بے شرم کو ایک لاٹھی ماروں اور رنڈیوں کو اُس کے پاس سے ہٹا دوں۔ پھر جو غور کیا یہ امر مناسب نہ سمجھا، ناچار صبر کیا۔ اس واسطے کہ وہ رنڈیاں بہت حسن اعتقاد سے لنگ پوجتی تھیں، صورت تہدید میں اُس نابکار کو رنج ہوتا اور وہ بھی آزردہ ہوتیں۔ مزاحمت کرنا مناسب نہ دیکھا بلکہ دل میں خیال آیا کہ میں بھی سپہ گری اور دوا دوش ملکوں کی چھوڑوں، ننگا ہو کر اپنے تئیں مہا پرش بناؤں اور ان رنڈیوں حسینوں سے اپنا لنگ پجواؤں، زندگی کا مزہ اور لطف پاؤں۔ نوکری میں اذیت ہے پر اس فقیری میں عجب کیفیت ہے۔ پریاں اطاعت میں حاضر رہتی ہیں، دودھ اور موہن بھوگ لا کر کھلاتی ہیں۔ بھلا یہ مزہ نوکری میں کہاں۔ اِس سے اُس سے تفاوت زمین و آسمان۔ ہندو عجب بے تمیز ہوتے ہیں کہ اپنی جوروؤں کو برہنہ مکار فقیروں پاس بھیج کر لنگ پجواتے ہیں۔ چاہیے تھا اُن کو اس امر بیجا سے روکنا سو برعکس بخوشی اجازت دیتے ہیں۔ ننگے آدمی سے مرد آنکھ بچا جاتے ہیں۔ حیف ہے کہ اس کے پاس رنڈیاں جا کر لنگ پوجیں۔ یہ کیا حرکت لچر ہے اور کیسی رسم ابتر ہے۔ خیر بندہ یہ حال دیکھ کر سرا میں آیا، لوگوں سے یہ قصہ نقل کیا۔ ایک بھٹیاری نے کہا: تم نے ابھی کیا دیکھا، یہ تو ذرا سی بات ہے۔ اگر فلانے گھاٹ پر چھپ کر جاؤ دیکھو ان کی کیا کیا حرکات ہے۔ میں نہایت مشتاق ہوا، رات کو اس گھاٹ پر جا کر مخفی بیٹھا۔ ڈیڑھ پہر رات گئے دو تین جوگی مسنڈے نوجوان مٹھائی ہاتھ میں لیے آئے اور دو تین حسین رنڈیاں مہاجنوں کی بیبیاں ساتھ لائے۔ ایک دونگی پر سوار ہو کر دریا کے پار گئے، ایک باغ میں نفیس بچھونا بچھا کر چین سے بیٹھے۔ بندہ بھی چالاکی کر کے ایک چھوٹی ناؤ پر سوار ہو کر پار اُترا۔ کرائے اُس کے کا ایک روپیہ دیا۔ اُن کی آنکھ سے چھپ کر ایک کنارے بیٹھ رہا۔ انھوں نے مجھ کو نہ دیکھا۔ پہلے سبھوں نے مل کر مٹھائی کھائی، بعد اس کے اُن میں اور رنڈیوں میں بات چیت کی نوبت آئی۔ یہاں تک ہنگامہ عیش و نشاط گرم ہوا کہ جوگیوں نے اُن سے مساس کیا۔ آخر طرفین سے قوائے شہوانی جوش میں آئیں، جوگیوں نے ساق بلوریں اُن پریوں کی ہاتھ میں لے کر کمر سے کمریں ملائیں۔ کیفیتیں صحبت کی اُٹھائیں۔ جام وصال اُن کے سے بادہ نوش ہوئے، ساری فقیری اور جوگ بھولے۔ جب فراغت کر چکے، اس پار آئے۔ رنڈیاں اپنے اپنے گھر گئیں۔ جوگیوں نے ایک درخت کے نیچے آسن مارے اور مونگے کا مالا ہاتھ میں لے کر رام رام جپنے لگے۔ یہ ماجرا دیکھ اول دل میں آیا کہ ضرور ہی ان حرام زادیوں کے حال سے ان کے وارثوں کو خبر کرنا چاہیے۔ پھر یہ سمجھا کہ اگر یہ حال جا کر اُن سے کہوں، وہ بے عقل ہیں۔ شاید برخلافی مذہب باعث خصومت جان کر آمادہ مقابلہ ہوں۔ ناحق بات بڑھے، حاکم تک پہنچے۔ بہرحال اس مقدمہ میں سکوت کرنا بہتر معلوم ہوا، سرا میں آیا۔ ہندو عجب عقل ناقص رکھتے ہیں کہ ننگ و ناموس کا کچھ خیال نہیں کرتے ہیں۔ یعنی ازراہ حماقت جوگیون طویل القامت بدمستوں کو صاحب کمال جانتے ہیں، بے تکلف اپنی جوروؤں کو ان کے پاس بھیج کر خراب کرواتے ہیں۔

بنارس

 

قصہ مختصر بندہ سرائے میرزا پور سے گھوڑے پر سوار ہو کر آگے چلا۔ سولہ کوس منزل طے کر کے بنارس پہنچا۔ یہ شہر میرا دیکھا ہوا تھا۔ پر اس بار بھی خوب پھرا اور سیر دیکھتا رہا۔ رستہ بازار کا مانند شہرون ہند کے تنگ تھا۔ الّا خوب آباد ہے اور اسباب سب قسم کا ملتا۔ قصائی جو بکری کا گوشت بیچتے تھے ایک سڑی دکان مثل بیت الخلا پر بیٹھے تھے۔ میلے کچیلے کپڑے پہنے۔ گوشت کو ایک کثیف چیتھڑے پر رکھے ہوئے۔ اوپر سے ایک اور میلا کپڑا اوڑھائے، خریداروں کو اُس کے دیکھنے سے نفرت آتی۔ بیچتے وقت ہزاروں مکھیاں گرتیں، بہتیری اُس میں حل ہوتیں۔ ہندوستان میں یہ شہر عمدہ مشہور ہے۔ جب اُس کا یہ دستور ہے، اَور قصبات و دیہات کا کیا مذکور ہے۔ برخلاف انگلستان کے کہ وہاں قصائی پوشاک سپید اور نفیس پہنے، دکان رشک گلستان پر نفاست سے بیٹھے ہیں۔ ٹکڑے گوشت فربہ کے مانند دستون پھول کے برابر لٹکا کر بیچتے ہیں۔ ایک طرف پارچے اور بھیڑ مسلّم لٹکی، دوسری طرف چٹھی قیمت ہر ایک کی لکھی ہے۔ جو خریدار آتا ہے، بے تکلف چٹھی کے موافق قیمت دے کر ٹکڑا گوشت کا لے جاتا ہے۔ اسی طرح مچھلی اور مرغی بیچنے والوں کا حال ہے۔ وہاں کے سب دکانداروں کی یہی چال ہے۔ دکانوں کو سیسر سے بلند کیا، صفائی سے اُن پر جوبن تھا۔ افسوس کہ ہندوستانی اپنے اپنے فنون میں کاہل ہیں، صفائی ستھرائی ہر چیز کی سے غافل ہیں۔

بنارس میں کنارے گنگا کے ایک مکان عالیشان بنا ہے۔ سابق وہ بت خانہ تھا عالمگیر نے اپنے عہد میں اس کو کھدوا کر بطور مسجد بنوایا ہے۔ اب وہ تماشا گاہ خلائق ہوا۔ بندہ بھی ایک روز اس کو دیکھنے گیا۔ بدویوں کی پوشاک پہنے تھا۔ کئی راجہ ہندو اور مسلمان صاحب آبرو وہاں موجود تھے۔ میری وضع نرالی دیکھ کر حیران ہو کر پوچھنے لگے تم کون ہو کہاں سے آتے ہو۔ میں نے کہا فقیر ہوں پھرتے پھرتے ادھر بھی آ نکلا۔ تمھیں اس تقریر سے غرض کیا۔ انھوں نے نہ مانا زیادہ اصرار کیا۔ میں جواب دیا کہ مرد سیاح جادہ پیما ہوں۔ ملک فرنگستان سے آتا ہوں۔ وہ بہت متعجب ہوئے کہ اللہ بہت دور سے آئے۔ اب بتاؤ کہ انگلستان بنارس کی سی آبادی رکھتا ہے۔ یہاں کا سا مکان اور محل بلند سنگین وہاں بھی بنتا ہے۔ یہ سن کر میں ہنسا۔ انھوں نے تعجب کیا کہ سچ کہو ہنسنے کا باعث کیا ۔ تب تو میں نے کہا وہ ملک روئے زمین میں بہشت خانہ ہے۔ اُس کے سامنے یہ شہر اور عمارت اُس کی پاخانہ ہے۔ اس شہر ناہموار کو اُس سے کیا نسبت، اس میں اُس میں بڑا تفاوت۔ وہاں ایسی فضا اور وسعت ہے کہ گویا نمونہ جنت ہے۔ اگر وہاں ایسی تنگی اور عفونت ہوا ہوتی، انگریزوں کی زیست اصلاً نہ ہوتی۔ یہاں کی سی بے حیائی اگر وہاں کے لوگ کرتے انگریز ان لوگوں کو جان سے مارتے۔ یہاں کے لوگ عجب بے حیا ہوتے ہیں کہ ایک لنگوٹی غرقی سے ستر ڈھاکتے ہیں، اُس سے مقام بول و براز نظر آتے ہیں۔ پر وہ کسی زن و مرد سے شرم و حیا نہیں رکھتے ہیں۔ انگلستان میں مرد اور عورت تہرے چوہرے کپڑے پہنتے ہیں۔ یہ کیا ممکن کہ سارے بدن میں اکہرا کپڑا بھی پہنیں۔ اس سرزمین میں بہ نسبت ہر اقلیم کے میوے اور نعمتوں کی زیادتی ہے، روز بروز ثروت اور حشمت کی ترقی ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ اگر وہاں یہ سب امر میسر ہوتے ہیں انگریز کیوں اُس شہر کو چھوڑ کر تلاش معاش میں اور ملکوں میں پھرتے ہیں۔ تم ہندوستانی ہو کر لندن کی تعریف کرتے ہو۔ شاید وہاں انگریزوں کے ساتھ کھانا کھایا اور اُن کے مذہب میں آئے ہو۔ اس سبب سے اُن کا دم بھرتے ہو۔ میں نے کہا تم غلط کہتے ہو، کوئی کسو کے ساتھ کھانے سے اُس کے مذہب میں نہیں آ جاتا ہے۔ مذہب دل سے تعلق رکھتا ہے۔ ساتھ کھانے اور زیادتی صحبت غیر مذہب والے سے مذہب میں کچھ خلل نہیں آتا۔ میں نے اگرچہ انگریزوں کے ساتھ کھایا، پر اس وجہ سے اُن کے مذہب میں نہیں آیا۔ جب تک دل سے ایمان نہ لاؤں اور ان کے مذہب میں نہ آؤں۔ میں مذہب سلیمانی رکھتا ہوں۔ موافق اور مخالف دونوں سے صلح کرتا ہوں۔ میں نے تم سے جو تعریف لندن کی کی، ساری حق اور صحیح تھی۔ اس میں مذہب سے کچھ واسطہ نہیں۔ انگریزوں سے مجھ کو علاقہ نہیں اور یہ جو تم نے کہا کہ اگر انگلستان میں یہ ناز و نعمت ہوتی، انگریز لندن سے کیوں باہر نکلتے۔ صورت اس کی یوں ہے کہ اُس اقلیم کی وسعت پانسو کوس کی ہے۔ ہمیشہ لوگوں کی اولاد بڑھتی ہے۔ اگر سب وہیں رہتے مکان رہنے کے نہ ملتے۔ اس واسطے بعضے اُس شہر کو چھوڑ کر عربستان یا ہندوستان وغیرہ میں جاتے ہیں، نقد و اسباب جمع کرکے پھر اپنی ولایت آتے ہیں۔ اسی سے خیال کرو اگر اُس ملک میں یہ لطف و خوبی نہ ہوتی کیوں انگریز اور شہروں سے روپیہ جمع کرکے وہاں چلے جاتے اور جو کہ سامان خاطر خواہ نہیں پاتے ہیں، جہاں جاتے ہیں وہیں بسر کرتے ہیں۔ اس صورت میں انگریزوں کا اور ملک میں رہنا بلاچاری ہے، گویا بلبل باغ کی رہنے والی کو قفس میں گرفتاری ہے۔ جب پنجرے سے چھوٹے، باغ میں اُڑ جائے۔ انگریز بھی جب طاقت پائیں، ملک بیگانہ سے لندن میں جاویں اور یہ جو ہندی مشہور کرتے ہیں کہ انگریز ہندوستان میں اکثر ثروت پاتے ہیں، لندن سے محتاج آتے ہیں محض جھوٹ کہتے ہیں۔ اُس ملک کا انتظام ایسا کہ جب لڑکا کسی کے ہاں پیدا ہوا، دائی کی گود میں سونپا۔ یہاں تک کہ سنِ شعور کو پہنچا۔ صفائی کا یہ عالم کہ کوئی کپڑا میلا یا متعفن اُس کے پاس تک نہیں آنے پاتا۔ پھر مکتب گلزار آئین میں فرش سفید بچھاتے ہیں، پوشاک صاف ستھری پنہا کر اُس کو پڑھواتے ہیں۔ ہزاروں روپے خرچ کرتے ہیں۔ ناز و نعمت سے پرورش دیتے ہیں، بعد اس کے زیادہ مستعدی کے لیے اسکول بھیجتے ہیں۔ وہاں بھی ہزاروں روپے عوض تعلیم وغیرہ کے دیتے ہیں۔ بعد فراغت ان سب باتوں کے کسی عہدہ ادنیٰ میں سو سوا سو روپے کا نوکر شاہی ہوتا ہے، بتدریج رتبے اور عہدہ اعلیٰ کو پہنچتا ہے۔ بھلا اگر اُن کو دولت و حشمت نہ ہوتی، صورت تعلیم و تربیت اس صرف زائد سے کیوں کر ہوسکتی۔ خُرد بزرگ وہاں کے پُر شرم و حیا۔ لڑکوں کا ایسا فہم رسا کہ ثروت آبائی پر مغرور نہ ہو کر مثل عوام کے ہزاروں محنت و مشقت سے علم و ہنر حاصل کرتے ہیں، باپ اُن کے ان باتوں سے نہایت راضی اور خوش ہوتے ہیں۔ لڑکے ہندوستان کے باپ کی حشمت پر غرہ کرتے ہیں، کسبیوں کی صحبت میں اوقات برباد کرکے انجام کار نہیں سوچتے ہیں کہ بعد باپ کے ہم تدبیر معاش کس ہنر سے کریں گے، زندگی اپنی کیوں کر نباہیں گے۔ طرفہ ماجرا یہ ہے کہ باپ اُن کے اُن کا حال لہو لعب دیکھ کر فکر مآل سے غافل ہوکر خوش ہوتے ہیں۔ درشتی کا کیا مقام، کلمۂ پند و نصیحت بھی نہیں کہتے ہیں۔

کلکتہ

 

القصہ یہ کلام کرکے اس مکان سے سرا میں آیا، ارادہ کلکتہ جانے کا کیا۔ اس سبب سے کہ میں جریدہ راہ خشکی سے آیا تھا، اسباب ضروری لندن سے اپنے ہمراہ لایا تھا۔ باقی کپڑے اور اسباب اپنا راہ دریا سے کلکتہ میں روانہ کردیا تھا۔ یہاں آکر کپڑے پرانے ہوئے، اس واسطے اور زیادہ ہم کلکتہ جانے پر مستعد ہوئے۔ خرچ راہ کا میرے پاس تھوڑا رہا۔ یقین کہ خشکی کی راہ سے پورا نہ پڑتا۔ اس وجہ سے ناؤ کی تلاش کرنے لگا۔ بہت جستجو سے ثابت ہوا کہ کئی برہمنوں نے شریک ہوکر ایک کشتی ٹھہرائی ہے، کلکتہ کی طرف ان کی جوائی ہے۔ بندہ نے اُن کے پاس جاکر اظہار کیا کہ میں بھی تمھارے ساتھ کلکتہ چلوں گا۔ انھوں نے یہ بات کہی: ہماری تمھاری شرکت نہ نبھے گی۔ تم ترک کہلاتے ہو، گوشت جانوروں کا کھاتے ہو۔ ہم لوگوں کو اس سے نفرت ہے پھر بھلا ہمارے تمھارے کیا لطفِ صحبت ہے۔ میں نے کہا بہر صورت تمھاری اطاعت کروں گا۔ راہ بھر گوشت نہ کھاؤں گا۔ جب یہ قول و قرار ہوچکا، ناؤ کا کرایہ ٹھہرایا۔ پھر پانچویں تاریخ جولائی کے ان برہمنوں کے ساتھ ناؤ پر سوار ہوکر کلکتہ چلا۔ بموجب اقرار ساری راہ روٹی گیہوں کی اور ماش کی دال کھایا۔ زمفری صاحب جو شریک حصہ ہملٹن صاحب کمپنی کے تھے، بسبب بیماری کے ایک بڑی ناؤ پر سوار ہوکر تبدیل آب و ہوا کے لیے نیل کی کوٹھی میں اپنے بھائی ڈاکتر راجڑ صاحب پاس آتے تھے۔ راہ میں اُن سے ملاقات ہوئی۔ دور سے مجھ کو دیکھ کر بہت اشتیاق سے آواز دی کہ اے یوسف کمل پوش سلیمانی مذہب! کہاں جاتے ہو اور کدھر سے آتے ہو۔ میں اُن کی ناؤ پر جاکر دو گھڑی ٹھہرا، حال اپنا بیان کیا۔ پھر رخصت ہوکر اپنی ناؤ پر آیا۔ برہمنوں نے کلام انگریزی جب میری زبان سے سنا، حیران ہو کر پوچھنے لگے سچ کہو تم کون ہو۔ اگر مذہب مسلمانی رکھتے ہو، زبان انگریزی کہاں سے سیکھے ہو۔ میں نے کہا اس کا تعجب کیا۔ بہت مسلمان کلکتہ میں رہتے ہیں، انگریزی بولی بول سکتے ہیں۔ وہ تو بہت گھبرائے تھے۔ پر میرے سمجھانے سے سمجھے۔

چلتے چلتے ناؤ ہماری قریب چنکی پور کے پہنچی۔ بابت محصول پرمٹ کے وہاں روکے گئے اور بہت کشتیاں دیر سے رکیں تھیں۔ اس لیے کہ بے محصول دیے کیوں کر جاسکتیں۔ میں نے پوچھا سبب کیا جو محصول دینے میں اتنا عرصہ کھینچا۔ لوگوں نے کہا بابو فلانا یعنی داروغہ گھاٹ کا ابھی سوتا ہے۔ جب میں نے یہ حال سنا آدمی کے ہاتھ کہلا بھیجا بابو صاحب کتنی دیر میں جاگیں گے۔ دریافت ہوا دو تین گھڑی بعد خوابِ راحت سے فراغت پائیں گے۔ چار نا چار میں نے ناؤ کو ٹھہرایا۔ اسی عرصہ میں ایک فقیر لنگڑے گونگے نے ناؤ کے سامنے آکر اشارے انگلیوں سے سوال کیا۔ مجھ کو اس کی پالنگی اور بے زبانی پر رحم آیا۔ روٹی اور ترکاری منگوا کر دینے لگا۔ اُس حرام زادے نے تکرار کرکے سر ہلایا کہ مجھ کو پیسا دو، روٹی نہ لوں گا۔ کچھ کوڑیاں دیں وہ بھی نہ لیں۔ تب میرے ساتھیوں سے ایک برہمن نے روغنی روٹی نکال کر دی۔ وہ بھی دیکھ کر انکار کی۔ پیسا مانگتا اور کچھ نہ لیتا۔ معلوم ہوا کہ پیٹ بھرا ہے، شرارت اور بدذاتی سے مانگتا ہے۔ ہم نے سکوت کیا اور اُس کو کچھ نہ دیا۔ وہ کسی طرح نہ مانتا، ناؤ پر ڈھیلے پھینکتا۔ ہم اس کے ہاتھوں سے تنگ آئے۔ لاچار ہوکر اس کی پیٹھ پر دو تین کوڑے مارے۔ دکھلانے کو گونگا تھا، کوڑے کھا کر صاف بولنے لگا، لنگڑاہٹ بھی جاتی رہی۔ گالیاں سخت دیتا۔ میں نے خواب سمجھایا کہ اس حرکت سے تو باز آ۔ اُس نے ہرگز نہ مانا اور کہا تم کو تھانہ دار پاس لے چل کر قید کراؤں گا۔ مجھ کو اور زیادہ غصہ آیا، اُس کو دونوں ہاتھوں سے اُٹھا کر ایک گڑھے کیچڑ بھرے ہوئے میں دے مارا۔ سارا بدن اُس کا کیچڑ سے بھر گیا لیکن اگلی باتوں سے باز نہ آیا۔ آخر میں اُس کی بے حیائی سے لاچار ہوا، چار پیسے دے کر رخصت کیا۔ بعد اس کے کچہری پرمٹ میں آکر کہا: ہم نے چار گھڑی سے ناؤ کو یہاں ٹھہرایا، بابو صاحب ابھی تک آرام خواب میں ہیں، ہم ناحق عذاب میں ہیں۔ نائب اور گماشتوں اس کے نے رنجش سے کہا: سینکڑوں کشتیاں رکی رہیں، تم میں کیا سرخاب کا پر لگا جو اتنی دیر میں گھبرا گئے، ہم تک شکوہ لائے۔ چار گھڑی کیا اگر چار روز بھی تمھاری ناؤ یہاں رہے، بعید نہیں بلکہ حق بجانب ہے۔ میں اُس فقیر کی حرام زدگی سے پہلے ہی سے جل رہا تھا، ان کے کلام سن کر آگ بگولا ہوگیا مگر جواب تند نہ دے سکا، اپنے تئیں سنبھالا۔ بقول شخصے قہر درویش بجان درویش، غصہ ضبط کیا۔ اسکول گھر میں ایک ماسٹر انگریزی لڑکوں کے پڑھانے پر مقرر تھا۔ میں نے لاچار ہو کر اُس کے پاس جا کر زبانِ انگریزی میں کہا: تمھارے شہر میں یہ کیا اندھیر اور زیادتی ہے مسافروں کی ناؤ چار چار روز روکی جاتی ہے۔ بندہ محصول دیتا ہے۔ ناحق داروغہ گھاٹ کشتی روکتا ہے۔ ماسٹر صاحب نے میرے ساتھ بابو کے مکان پر آکر محصول دلوایا اور جھٹ پٹ رَونّا لکھوا کر مجھ کو دیا۔ انگریزوں کی رائے صائب سے یہ امر بعید نظر آتا ہے کہ اُن کی عمل داری میں بسبب غفلت کے ایسا ظلم صریح ہوتا ہے۔ وہ بابو یعنی داروغہ پرمٹ جس کو انگریز جانتا، فی الفور رَونّا کشتی اُس کی لکھوا کر روانہ کرتا۔ مگر ہندوستانیوں پر جبر تھا۔ شاید کوئی انگریز لباس ہندوستانی سے وہاں نہیں آیا۔ نہیں تو حال اُس کا کھل جاتا اور تدارک قرار واقعی ہوتا۔

چلتے چلتے پچیسویں تاریخ جولائی کے، ناؤ ہماری کلکتہ پہنچی۔ دوستوں آشناؤں سے ملاقات ہوئی، سبھوں نے میرے حال پر شفقت کی۔ ہملٹن کمپنی اور کران صاحب نے یہ بات کہی کہ تم کرایہ کی حویلی نہ لو، ہمارے مکان پر اُترو۔ میں نے کثرت صحبت باعثِ کمی الفت سمجھ کر نہ مانا۔ محلہ ٹبک خانہ میں ایک مکان بیس روپے کرایہ کا مع تنخواہ باغبان لے کر رہا۔ بیچ میں عمارت نفیس اور مکان خوش وضع تھے۔ گرداگرد، درخت میوے اور پھولوں کے۔ جب میں لندن جاتا تھا، سیر اس شہر کی بخوبی کرچکا تھا۔ مگر اس خیال سے کہ شاید انقلاب زمانہ سے کچھ صورت بدلی ہو پھر پھرا۔ حال وہاں کا دیکھا۔ جن دو کانوں پر چھپر پڑے تھے، کھپریل بنی۔ جن راہوں میں تنگی تھی، وسعت ہوئی۔ جو دکانیں سابق بدقطع تھیں، اب کی مرتبہ مرتب اور تیار دیکھیں۔ زمانہ عجب انقلاب رکھتا ہے کہ کسی آدمی یا جگہ کو سدا ایک حال پر نہیں چھوڑتا ہے۔ بعد اس کے اور مکانوں میں جن کو پہلے نہیں دیکھا تھا، دوستوں کے ساتھ دیکھنے گیا۔ لطف و صنعت سبھوں کا بنظرِ غور دیکھا۔ چنانچہ مارچ صاحب نے کلڈھال میں، مارس صاحب نے ٹون ہال میں، کران صاحب نے میوزیم اور اَور جاؤں پر لے جاکر تماشا دکھلایا۔ وصف اُن مکانوں کا زبان سے بیان نہیں ہوسکتا۔ بنگالیوں کے لڑکے دیکھے۔ بے تکلف مثل ولایتیوں کے کلام انگریزی کرتے۔ چرچا علم کا روز بروز بڑھتا جاتا ہے۔ اگر یہی حال بیس برس تک رہتا ہے، یقین کہ وہاں کے رہنے والوں سے کوئی بے علم و جاہل نہ رہے گا بلکہ بجائے خود ہر ایک اُستاد بنے گا۔ لڑکے بنگالیو ں کے شوق دلی سے علم انگریزی پڑھتے ہیں۔ مدرسوں میں اُستاد فارسی خواں بھی نوکر رہتے ہیں۔ علم فارسی لڑکوں کو پڑھاتے ہیں۔ اسی طرح عربی کے لیے عالم کامل جانب شاہِ لندن سے مقرر ہوئے ہیں۔ طالبِ علموں کو صرف نحو، منطق، ریاضی، ہیئت، فلسفہ، حکمت پڑھانے میں مستعد رہتے ہیں۔ اگرچہ بندہ عربی فارسی میں دخل نہیں رکھتا ہے کہ بیان کمالات ان کے کا بتفصیل کرے، مگر ایک عالم کے دو تین شاگردوں سے ملاقات ہوئی، کامل پائی اُن کی عقل و دانائی۔ اس دلیل سے ثابت ہوا حال مستعدی مدرسوں کا کہ جن کے ادنیٰ شاگردوں میں یہ عقل رسا ہے کیا مذکور اُن کے علم و فضیلت کا ہے۔ غرض کہ کوشش انگریزوں سے کلکتہ دارالعلم ہوا ہے۔ قلعہ کلکتہ کا سب قلعوں سے زیادہ مضبوط ہے اور متین، سیکڑوں توپیں اس میں لگیں۔ اگر روپیہ آدمی کے پاس موجود ہو جو چیز کہیں نہیں ملتی، اُس شہر میں میسر آتی ہے۔ عجب نادر شہر اور بستی ہے۔ اگر کسی پاس روپیہ اور مال ہووے وہاں جا کر مزہ زندگانی کا لوٹے کہ ہمہ چیز وہاں ملتی ہے۔ ہر ملک کے آدمیوں کی صورت نظر آتی ہے۔ کنارے گنگا کے چنپا گھاٹ پر ہر روز ایسی کیفیت ہوتی ہے کہ شامِ اودھ اور صبحِ بنارس بھول جاتی ہے۔ ہر طرف سبزہ اُگا ہے۔ جاڑے گرمی اور ہرفصل میں ہرا رہتا ہے۔ جہاز روم اور روس اور حبش کے یہاں آ کر مقام کرتے ہیں۔ صاحبان انگریز اور بی بیاں بگھی پر سوار ہو کر وہاں ہوا کھانے جاتے ہیں۔ گھوڑے اور بگھی مانند رسم لندن کے یہاں کرایہ پر ملتے ہیں۔ روز بروز سب سامان اور انداز لندن کے سے ہوتے جاتے ہیں۔ صاحب علم اگر اُس شہر میں جائے، ہرگز مفلس و محتاج نہ رہنے پائے۔ سڑکیں یہاں کی ہموار اور صاف، آئینہ مثال۔ کوڑی یا مردے جانور پڑے رہنے کا کیا مجال۔ رستے ایسے ماہی پشت بنے کہ پانی یا جو کچھ اُس پر گرے، دونوں طرف ڈھلے۔ ایک قسم آدمی پہاڑی جوڈھانکر کہلاتے ہیں، سرکار سے کئی ہزار روپے درماہہ سوا چھکڑوں کے پاتے ہیں۔ وہ تمام شہر کا کوڑا اور گندا پانی موریوں کا چھکڑوں پر لاد کر باہر پھینک آتے ہیں۔ اب ہندوستان میں کوئی شہر مقابل اُس کے نہیں نظر آتا ہے، بندہ از راہ انصاف سچ کہتا ہے۔ میں اسی سیر و تماشے میں دو مہینے وہاں رہا اور حال سفر اپنے کا بطور کتاب جمع کرنا چاہا مگر میرے پاس خرچ تھوڑا سا رہ گیا تھا اور کوئی یار و مددگار نہ ہوا۔ لا چار قصد روانگی کا کیا۔

ساتویں تاریخ ستمبر کی ایک چھوٹی ناؤ کرائے پر ٹھہرا کر گنگا کی راہ سے بنارس چلا۔ اُس سال گنگا بڑی طغیانی پر تھی اور بسبب بڑھنے پاٹ کے آنب کے باغوں میں بہتی۔ یعنی اپنی جگہ اصلی سے بہت بڑھی تھی۔ زور بہنے اپنے کے سے سیکڑوں درختوں کو جڑ سے اکھاڑ کر ڈوبایا۔ دو تین دن تک ہم کو کنارہ نہ نظر آیا۔ لاچار ہو کر ایک آنب کے درخت میں ناؤ کی رسی کو باندھا۔ شب بھر وہاں مقام کیا۔ صبحی پھر روانہ ہوا۔ میں نے اپنی آنکھ سے دیکھا اس مرتبہ گائے بھینسوں کو پانی میں ڈوبتے، سینکڑوں سانپ بچھو ہماری ناؤ پر چڑھے آتے۔ بہ ہزار خرابی دن رات چل کر دیوان گنج میں بھاؤ سنگھ کی کوٹھی میں ڈاکتر راجڑ صاحب کے پاس پہنچے۔ وہ تجارت نیل اور ریشم کی کرتے تھے۔ راجڑ صاحب اور ان کی میم نے نہایت شفقت و عنایت فرمائی۔ میں نے بہر صورت وہاں آسائش پائی۔ سچ تو یہ ہے کہ بندہ نے ان کی میم صاحب کی سی عورت خلیق کم دیکھی کہ مسافر نوازی میں بدل و جان مصروف ہوئی۔ بندہ تین دن عیش و عشرت میں رہا۔ تفریح طبع کے واسطے شکار بھی کیا۔ رمفری صاحب سے بھی ملاقات ہوئی، انھوں نے بیماری سابقہ سے صحت پائی تھی۔ بہت گرم جوشی سے پیش آئے۔ دیر تک ذوق شوق سے ہم آغوش رہے۔ بعد تین دن کے فقیر نے نیّت چلنے کی کی، راجڑ صاحب اور میم صاحب سے رخصت چاہی۔ دونوں صاحبوں نے یہ بات کہی، ابھی نہ جاؤ، چند روز یہاں رہو۔ میں نے بہت کہہ سُن کر راضی کیا اور رخصت ہو کر وہاں سے روانہ ہوا۔ حق تعالیٰ راجڑ صاحب اور ان کی میم صاحب کو ترقی مراتب پر پہنچاوے کہ دل اُن کا مسافر نوازی پر مصروف رہتا ہے۔ ولایت میں ان کے بھائی سے بھی ملاقات ہوئی تھی، انھوں نے بھی میرے حال پر کمال مہربانی فرمائی تھی۔

جب بندہ راجڑ صاحب سے رخصت ہو کر کشتی پر سوار ہو کر چلا، راہ میں ایک دن تیسرے پہر دریائے گنگ میں ایک کو ڈوبتے دیکھا۔ ملاحوں سے کہا شاید یہ کوئی آدمی ہے ڈوبتا، اگر کوئی تم میں سے جائے اور اس کو میرے پاس لائے، موافق مقدور کے انعام دوں گا۔ ملاحوں نے جواب دیا: اس دریائے قہار میں اپنے تئیں گرانا عاقبت اندیشی سے دور ہے اور ناؤ کو بھی اس طرف لے چلنا سراپا فتور ہے، مبادا صدمہ پانی کا پہنچے، ناؤ ڈگمگا کے ڈوبے۔ اسی طرح سینکڑوں آدمی ڈوبتے ہیں، ہم کس کس کو دریا سے نکالیں۔ جب ملاحوں نے میری بات نہ سنی اور کسی اور نے بھی اس کی طرف توجہ نہ کی، میں نے بے اختیار ہو کر دل میں کہا اگر طبیب دوا مریض کی نہ کرے مواخذہ دار ہووے۔ میں تیرنے میں دخل رکھتا ہوں۔ اگر اس کو دریا سے نہ نکالوں گنہگار خدا کا ہوں۔ بلا تحاشا آپ دریا میں کودا، اُس ڈوبتی عورت کو نکالا، کنارے لا کر کہا: اگر تجھ کو منظور ہو میری ناؤ پر آ کہ تیری دوا کروں، صورتِ صحت دکھلاؤں۔ اس کمبخت نے نہ مانا، دل میں کچھ اور ہی خیال کر کے کہا: میں کیوں تیری کشتی پر آؤں، تو دھرم میرا برباد کرے گا۔ میں نے دل میں کہا: سبحان اللہ جس سے نیکی کی وہ کچھ اور ہی سمجھے۔ کلام شیخ سعدی رحمۃ اللہ علیہ کا یاد آیا، شعر:

نکوئی با بداں کردن چناں ست
کہ بد کردن بجای نیک مرداں

آدمی کو چاہیے کہ ناقدر دان کے لیے جان اپنی محل ہلاکی میں نہ ڈالے۔ بُروں کے ساتھ برائی سے در گزر نہ کرے۔ یہ حال دیکھ کر اپنی ناؤ پر سوار ہوا اور منزل مقصود کا رستہ لیا۔

چلتے چلے منگیر پہنچا۔ ناؤ سے اُتر کر شہر میں گیا۔ شہر چنداں وسعت نہ رکھتا مگر آباد خوب تھا۔ آب و ہوا وہاں کی اور شہروں سے معتدل اور بہتر تھی۔ قریب اس کے کئی پہاڑ اُن پر سبزی لگی۔ متصل اس سے ایک چشمہ پانی کا خوشگوار، کئی مکان سارجنوں کے اس قرب میں طیار۔ سارجن مع اپنی بی بی لڑکوں کے لبِ جو بیٹھے، مچھلیوں کا شکار کر رہے تھے۔ ان کے چہروں پر آثار شگفتگی اور بشاشت کے نمودار۔ پیشہ ور وہاں کے اپنے اپنے فن میں کمال رکھتے۔ عمدہ عمدہ چیزیں کنارے گنگا کے لا کر مسافرون کشتی نشینوں کے ہاتھ سستی بچتے۔ چنانچہ میرے سامنے پنجرے عجیب و غریب اور گوشت اور مچھلیاں اور سب چیزیں ارزاں بیچیں۔ ایک شخص نے چھ مچھلیاں بڑی ایک روپے کی مول لیں۔ میرے نزدیک اس قیمت پر مفت تھیں۔ وہاں سے ایک پالکی کرایہ کی لے کر سیتا کنڈ کے جنگل میں گیا۔ شہر سے تین کوس پرے تھا۔ وہاں پہاڑ بسبب روئیدگی کے سبز ہو رہے تھے۔ درخت میوؤں سے لدے ہوئے، آواز جانوروں کی موزوں، سبزہ اُگا زمرد گوں۔ ویسی زمین ارم تزئین ہندوستان میں کم نظر آئی، سبزی اور ہوائے ساز گار اس کی دل کو بھائی۔ اُس دشت پُر فضا میں تین چار تالاب برابر تھے۔ خوشگواری میں ایک دوسرے سے بہتر، سرد پانی سبھوں کا۔ الا بیچ والے کا نہایت گرم تھا۔ ووہی سیتا کنڈ کہلاتا، اگر کوئی اُس میں ہاتھ ڈالتا۔ شدّتِ گرمی سے آبلہ پڑ جاتا۔ میں یہ ماجرا دیکھ کر قدرت الٰہی پر غش کر گیا کہ سبھوں میں پانی سرد ہے بیچ میں جلتا آگ سا۔ کئی ٹھلیاں مول لے کر ٹھنڈا اور گرم ملایا۔ جب وہ حد اعتدال پر آیا اُس سے نہایا۔ عجب تاثیر اُس کی تھی کہ کسالت اور ماندگی دور ہوئی۔ بعد اس کے ایک درخت کے سائے میں بیٹھا شیشہ عرقِ انگور کا جو ساتھ لے گیا تھا کھولا۔ ٹھنڈھا پانی اُس چشمۂ شیریں کا ملا کر دوستوں کو یاد کر کے دو تین پیالے اس کے پیے، زندگی کے مزے اور لطف حاصل کیے۔ جب وہ چشمے خوشگوار اور کوہ و صحرائے سبزہ زار دیکھا، بے اختیار دل میں آیا کہ ساری عمر یہاں بیٹھ کر یادِ خدا میں مصروف رہوں۔ طریقۂ اسلاف پر گلّہ بکریوں اور گھوڑوں کا چراؤں مگر بن نہ پڑا۔ مشکل نظر آیا۔ بعد چار گھڑی کے وہاں سے پھر آیا۔ ناؤ پر سوار ہو کر راہی ہوا۔

عظیم آباد پہنچ کر دو دن سیر کرنے کو رہا۔ وہ شہر کنارے گنگا کے ہے بہت آباد ہوا۔ مگر یہاں کی آب و ہوا میں رطوبت ہے، اکثر لوگوں کو مرض پر صعوبت ہے یعنی رہنے والے یہاں کے اکثر مرض فتق یا فیل پائی میں گرفتار ہیں۔ سبھوں کا رنگ زرد، دبلے اور نزار ہیں۔ قریب اُس کے دانہ پور ہے۔ وہاں انگریزوں کا توپ خانہ اور لشکر ہے۔ آب و ہوا وہاں کی بہ نسبت عظیم آباد کے بہتر ہے۔ یہ سب سیر دیکھ کر بنارس میں آیا۔ یہاں آ کر ایک چھکڑا کرایہ کا ٹھہرایا۔ اسباب اپنا ناؤ اسے اُتار کر اُس پر لادا اور گھوڑا پچھّم کا مول لیا ہوا جو وقت جانے کلکتہ کے یہاں چھوڑ گیا تھا، اُس پر سوار ہو کر دار السلطنت لکھنو چلا۔ عمل انگریزی سے بخوبی نبھ آیا۔ مگر شاہ اودھ کے عمل میں زمینداروں نے جا بجا کوس دو کوس کے بعد بابت کوڑیون محصول کے سخت ستایا۔ ہر چند کہتا تھا میرے چھکڑے میں نہیں کوئی اسباب محصول کا پھر تم کسی چیز کا محصول مانگتے ہو، ناحق اور بے وجہ ستاتے ہو۔ اس کا جواب یہ دیتے تم ہمارے گانو سے آ نکلے ہو، اس کا محصول دو۔ جا بجا اس بات پر تکرار ہوئی پر کسو نے میری بات نہ سنی۔ آخر لا چار ہو کر ایک کتّا ولایتی جو اپنے ساتھ لایا تھا، اُس کے گلے میں رسّی ڈال کر چھکڑہ سے باندھا۔ جہاں کوئی زمیندار رہ گذری کی کوڑیاں مانگتا، میں جواب میں کہتا: یہ کتّا اور چھکڑہ ہے، کپتان ڈاسن صاحب کا۔ سارا اسباب تم کو سونپتا ہوں، میں کپتان صاحب پاس جاتا ہوں۔ تم اس کی حفاظت کرو۔ مبادا کچھ کم ہو، جوابدہی میں پھنسو۔ نام انگریز کا سنتے ہی سب خاموش ہو جاتے۔ نرمی اور ملایمت سے پیش آتے۔ طرفہ تر یہ ماجرا ہے۔ قابل استہزا ہے کہ جو لوگ ملازم شاہ اودھ کی نگاہ بانی کے لیے مقرر ہیں وہ بھی کوڑیاں تحصیلتے ہیں۔ آمادہ تر محافظت راہ کی جیسی جیسی کچھ کرتے ہیں، لوگ خوب جانتے ہیں۔ زمین اس نواح کی قابل زراعت اور بہت بہتر ہے۔ مگر بسبب ظلم عالموں کے ہزاروں بیگھہ خراب افتادہ اور ابتر ہے۔ بلکے گانو کے گانو جا بجا جلے پڑے ہیں۔ سوائے جانورون درندہ کے کہیں آدمی نظر نہیں آتے ہیں۔ شاہ اودھ کی طرف سے جو چکلہ دار آبادی ملک اور تحصیل روپے کے لیے جاتا ہے، حاکم سابق سے زیادہ ظلم و بدعت کرتا ہے۔ اپنی منفعت کے خیال سے خوف خدا اور بادشاہ سے غافل ہوتا ہے، رعیت کو ظلم سے اُجاڑ دیتا ہے۔ عاملوں کے یہ ہتھکنڈے ہیں کہ وقت تردد کے اسامی اور زمینداروں کو دِلاسے سے بلاتے ہیں، پٹہ قبولیت روپے بیگھہ کا لکھواتے ہیں۔ جب غلّہ تیار ہوا، دو روپے بیگھہ مانگتے ہیں۔ اپنے قول و قرار سے بدل جاتے ہیں، اس وجہ سے کسان بھاگتے ہیں۔ زمیندار عاملوں سے مقابلہ کرتے ہیں اور بد قولی کے سبب سے ایک کوڑی نہیں دیتے ہیں۔

عامل فوج بادشاہی بلوا کر گڈھی قلعہ اُن کا کھدواتے ہیں۔ گائے، بیل اور غلّہ ان کا بیچ کر دُگنا تگنا روپیہ بٹھلاتے ہیں۔ زمین یہاں کی قابل زراعت ہے، پر افسوس کہ چکلہ داروں کی بدعت ہے۔ شاہ اودھ بہ سبب کثرت مشاغل کے اس امر سے غفلت رکھتا ہے، ورنہ ان ظالمون بوم ہفت کو اس ظلم ناحق سے متنبہ کرتا۔

لکھنؤ

 

بندہ یہ حالات دیکھتے قرب و جوار لکھنؤ کے پہنچا، ایک گانو میں آ کر ٹھہرا۔ شکار میں مشغول ہوا۔ ایک چڑیا کو چھرّے سے مارا۔ پچاس آدمی جنگلی دوڑ پڑے۔ ڈھال تلوار ہاتھ میں لیے ہوئے کہ تم نے ہمارے گانو کے جانور کو کیوں مارا۔ سبھوں نے آ کر مجھ کو گھیر لیا۔ میں مقابلہ کرنا اُن سے مناسب نہ سمجھا، نرمی اور آشتی سے پیش آیا۔ لیکن وہ لوگ بد ذاتی سے باز نہ آئے، آمادہ میرے قتل پر تھے۔ کوئی کہتا اس کا سر کاٹ ڈالو۔ کسی کے خیال میں آتا، نہیں زندہ پکڑ لے چلو۔ جب میں نے دیکھا کہ جان مفت جاتی ہے، کوئی تدبیر نہیں بن آتی ہے، انگریزی بولی میں گفتگو کی۔ انھوں نے انگریز سمجھ کر طرح دی اور اپنی راہ لی۔ اُس دن اگر میں اپنے تئیں انگریز نہ بناتا، بے شک و شبہ مارا جاتا۔ اسی طرح سینکڑوں آدمیوں کا خون ہوتا ہے، کوئی کسی کا حال نہیں پوچھتا ہے۔ وہاں سے بچ کر خدا خدا کر کے متصل لکھنؤ کے آیا۔ ایک چٹھی میں کپتان ممتاز خان منگنس صاحب بہادر کو لکھا کہ اگر آپ کی مرضی ہو میں حاضر ہوں، نہیں تو اور کسی طرف جاؤں۔ کپتان صاحب نے اس کے جواب میں چٹھی عنایت آمیز لکھ بھیجی کہ ضرور آؤ، مجھ کو ہے تمھاری انتظاری۔ بندہ بموجب حکم کے اُن کے مکان پر گیا، فیضیاب ملازمت ہوا۔ انھوں نے نہایت مہربانی فرمائی اور دعوت و مہمانی کی۔ ایک خیمہ کھڑا کروایا، اُس میں فقیر کو اُتروایا۔ بعد چند روز میں نے قصد اور سمت کا کیا۔ انھوں نے باز رکھ کر فرمایا: تم یہاں رہو اور اسم سابق اپنے کے درستی کرو۔ بندہ چٹھیاں سفارش کی افسرون ولایت کی لکھی ہوئیں کرنیل لو صاحب، بڑے صاحب اور پاٹن صاحب چھوٹے صاحب کے نام پر لایا تھا۔ دونوں صاحبوں کو لے جا کر دکھلائیں۔ انھوں نے کمال اخلاق اور عنایت سے پیش آکر یہ باتیں کہیں کہ ہم کو شاہ اودھ کی فوج میں سفارش کرنے کا اختیار نہیں۔ مہربانی زبانی اُن کی سے شکر گذار ہوا۔ اگرچہ خوبیٔ ایّام سے کچھ بھی نہ اجرائے کار ہوا۔ میں نے یہ حال کپتان مینگنس صاحب سے کہہ کر رخصت ہونے کا قصد کیا۔ انھوں نے اپنے مکان کے نزدیک ایک مکان کرایہ کا میرے رہنے کے لیے ٹھہرا دیا اور جدا ہونا میرا ہر گز گوارا نہ کیا۔ تھوڑے دنوں کے بعد تدبیر کر کے سرکار شاہی میں عرضداشت کی اور اسامی قدیمی بحال کروائی۔ یعنی اپنے ہمراہی رسالہ سواروں اور توپ خانہ کی صوبہ داری دی، کھانے میں اپنے ساتھ شریک رکھا۔ چنانچہ آج تک وہی طور چلا آتا ہے کہ بندہ انھیں کے ساتھ کھانا کھاتا ہے۔ کپتان صاحب نے جس قدر عنایت میرے حال پر فرمائی زبان طاقت نہیں رکھتی ہے اس کی شکر گزاری کی۔ جب تک جیوں گا اُن کا احسان مند رہوں گا۔ ان دنوں ڈاکتر کاربائن صاحب نے ازراہ اشفاق چٹھی سفارش میری کی  افسران فوج انگریزی کے نام پر میرے پاس لکھ بھیجی تھی کہ اگر تم کو منظور ہو اُن کے پاس جاؤ۔ پلٹن انگریزی میں جو قندھار جاتی ہے، تمھاری نوکری ضرور ہو جاوے گی۔ بندہ فقط پابندی مہربانیوں کپتان صاحب موصوف کے سے وہاں جانے سے باز رہا، ورنہ بے شبہ و شک وہاں جاتا۔ اس شہر میں جتنے صاحب لوگ رہتے ہیں میرے اوپر کمال شفقت فرماتے ہیں۔ چنانچہ جس دن بڑے صاحب اور چھوٹے صاحب یعنی کا لفیلڈ صاحب اور دلکی صاحب اس شہر میں آئے تھے، شاہزادہ ولی عہد صاحب عالم بہادر ثریا جاہ اُن کے استقبال کو تھوڑی دور تک گئے تھے۔ بندہ بھی ہمرکاب ظفر انتساب تھا۔ دلکی صاحب نے راہ میں نظر عنایت سے میری طرف دیکھا۔ جب آ کر اپنی کوٹھی میں داخل ہوئے اور کاروبار ضروری سے فراغت کر چکے۔ میری یاد فرمائی اور بلا کر بہت سی مہربانی کے بعد اس کے بڑے صاحب سے میرا ذکر کیا۔ اپنے ساتھ لے جا کر مشرف ملازمت کروایا۔ بڑے صاحب نے بھی قدردانی کی۔ بمقتضائے ریاست قر ب بساط بوسی سے عزت دی۔ بندہ گاہ گاہ اب بھی دلکی صاحب اور کا لفیلڈ صاحب کے پاس جاتا ہے، ووہی عنایت ِ سابقہ اپنے حال پر مبذول پاتا ہے۔ جب سے کا لفیلڈ صاحب اس ملک میں آئے، مزاج محمد علی شاہ بادشاہ اودھ کا انتظام ملکی پر مصروف کر لائے ہیں۔

نصیرالدین حیدر جو سابق یہاں کے تخت نشین تھے۔ روانہ خلدِ بریں ہو کر دریا پار کی کر بلائے نو تعمیر میں مدفون ہوئے۔ میں ان کا نمک خوار و خدمت گزار تھا۔ نہایت ملول ہو کر اُن کے مقبرے پر گیا۔ دیکھا کہ بجائے فرش حریر و ریشم کے فرش زمین خوابگاہ ہوا اور جسم نازک ان کا جو پھولوں کا ہار بار جانتا، ہزاروں من اینٹ پتھر کے نیچے دبا۔ کوئی رفیقوں اور جلسہ والوں سے پاس نہ رہا۔ دنیا عجب مقام ہے، کبھی اوج کمال پر پہنچاتی ہے، کبھی خاک  میں ملاتی ہے۔ ایک دن وہ تھا کہ وہ حضرت ِ خلد منزل تختِ سلطنت ہندوستان پر جلوہ فرما تھے۔ نوکر اور خدمت گزار حسب مراتب اپنی اپنی جگہوں پر کھڑے ہو کر تسلیمات بجا لاتے۔ رنڈیاں ناچنے گانے والیاں الحانِ داؤدی  اور حسنِ یوسفی سے دل تماشائیوں کا پھسلاتیں۔ جام طلائی و نقرئی میں شراب بھر بھر کر اہل محفل کو بطور دور پلاتیں، وہ خود بدولت کمال عیش و عشرت سے زر ریزی میں مشغول ہوتے۔ فقرا اور مساکین کو دفعتاً تونگر کر دیتے۔ کوئی ہندوستانیوں سے باقی نہ رہا کہ ذلہ ربائے خوانِ انعام شاہ خلد آرامگاہ کا نہ ہوا۔ کوئی اہلِ علم و کمال اس اقلیم میں نہ آیا کہ قدردانی اُس مغفور مبرور سے ترقی مدارج پر نہ پہنچا۔ زندگی میں وہ حال تھا، آج یہ ماجرا نظر آیا کہ جنبشِ دست و پا کی طاقت نہیں رکھتے ہیں۔ مثل خزانہ تہ ِ خاک و خشت دبے ہیں۔ بندہ شاہ سلیمان جاہ کا مقبرہ اور حال بے کسی ان کے کا دیکھ کر سخت ملول ہوا اور دیر تک سرہانے قبر کے کھڑے ہو کر روتا رہا۔ حال وفات ان کی کا اس طرح سنا کہ نمک حراموں نے زہر پلا کر مارا۔ افسوس صد افسوس ان کم بختوں نے غضب کیا کہ ایسے بادشاہ ِ فیاض کو یوں برباد کیا۔

بعد انتقال ان کےکے مرزا فریدوں بخت عرف منا جان جو اپنے تئیں صلبِ شاہِ خلد آرام گاہ سے جانتے تھے اور شاہ سلیمان جاہ   حالت حیات اپنی میں نوشتہ مہری اپنا متضمن ابطال دعوی فرزندی اُن کی کاسرکار کمپنی میں بھجوا چکے تھے، بے اجازت بڑے صاحب کے آ کر تخت سلطنت پر بیٹھے اور اپنے طور پر مصروفِ نظم و نسق ہوئے۔ بڑے صاحب یعنی کرنیل لو صاحب نے کہا تم کو نہیں مناسب تخت پر بیٹھنا۔ اس لیے کہ تم بموجب نوشتہ شاہ ِ مغفور کے ان کے نطفہ سے نہیں ثابت ہوتے ہو، پس ارادہ سلطنت کا کس دعوے سے رکھتے ہو۔ بہتر یہ ہے کہ اس خیال سے باز آؤ، خیریت سے اپنے گھر جاؤ۔ نہیں تو بعد دو گھڑی کے گرفتار ہو گے، نہایت ذلیل و خوار ہو گے۔ مرزا فریدوں بخت نے کہنا بڑے صاحب کا نہ مانا اور اپنے تئیں مستحقِ سلطنت جانا۔ لاچار بڑے صاحب نے اپنے ہمراہی پلٹنوں اور توپ خانہ کو حکم دیا۔ یکایک گولی اور گولہ برسنے لگا۔ مصطفی ٰ خان قندھاری رسالہ  دار اسی جھگڑے میں مارے گئے اور بہت لوگ ناحق مفت کام آئے۔ تختِ زرنگار اجلاسِ شہر یار گولے توپ سے پرزے پرزے ہوا۔ فریدوں بخت مع بادشاہ بیگم دادی اپنی کے گرفتار ہو آیا۔ بعد اس کے لو صاحب نے بموجبِ حکم شہنشاہ  انگلستان نصیرالدولہ بہادر کو تخت سلطنت پر بٹھلایا۔ تمام اختیار امورِ سلطنت کا اُن کو دیا۔ چنانچہ یہاں کے اب ووہی فرماں روا ہیں، صاحبِ سکّہ و لِوا ہیں۔ کسی نے سکّہ اُن کا یوں کہا، بندہ نے یادداشت کے لیے اس رسالہ میں لکھا، فرد:

بجو د و کرم سکہ زد در جہاں
محمد علی بادشاہ زماں

محمد علی شاہ نے ابتدائے جلوس اپنے سے روشن الدولہ نائب شاہ خلد منزل کو عہدۂ نیابت سے معزول کیا اور سبحان علی خاں کمبو مشیر اُس کے کو بسبب مفسدی طینت اس کی کے مع اہل و عیال گنگا پار کر دیا۔ حکیم مہدی علی خاں منتظم الدولہ بہادر کو فرخ آباد سے بلا کر بجائے روشن الدولہ کے عہدۂ وزارت پر سرفراز کیا۔ چند روز خان مسطور نے نہایت خوش سلیقگی سے کاروبارِ وزارت نباہا، پر افسوس اجل نے مہلت نہ دی تھوڑے دنوں کے بعد قضا کی۔ بعد اُن کے بھتیجے اُن کے منور الدولہ بہادر نے خلعتِ نیابت سے سربلندی پائی، اپنے چچا کے طور پر انھوں نے بھی یہ خدمت انجام دی۔ اگرچہ مقلد مجتہد کے مثل نہیں ہو سکتا، الّااثر اس کا کچھ آ جاتا ہے۔ اسی طرح ان دنوں منور الدولہ اگرچہ مستعد رہتے ہیں، پر اجرائے کار میں اپنے چچا کو نہیں پہنچتے ہیں۔ عظیم اللہ خاں جو قدیم سے رفیق شاہ حال تھے، ابتدائے تخت نشینی شاہ زمان سے مالا مال اور نہال ہوے۔ داروغگی دیوان خانہ ٔ سلطانی کی  انھیں کے پانام ہے۔ سوا اُس کے اور کار خانجات کا انھیں کے حوالہ سرانجام ہے۔ بادشاہ کے مزاج میں نہایت دخل رکھتے ہیں، جلوت و خلوت میں باریاب ہوتے ہیں۔ جب سے محمد علی شاہ نے تخت سلطنت پر اجلاس فرمایا ہے، رومی دروازے کے سامنے دولت خانہ میں ایک امام باڑہ قبر اپنی کا اور مسجد اور دروازہ، جواب رومی دروازے کا اور دکانیں اور بازار بطور امام باڑہ اور مکانات آصف الدولہ بہادر کے بنوایا ہے اور اب تک بنتا جاتا ہے۔ اگر چہ امام باڑہ ٔ آصف الدولہ کو نہیں پہنچتا ہے مگر تاہم قابل تماشا ہے اور بہت بلکہ اور سب عمارتون اس شہر سے نفیس بنا ہے۔ عمارت عالی شان رکھتا ہے۔ آگے اس مقام کا نام جمنیا باغ تھا، اب  بسبب بننے امام باڑہ کے خطاب اُس کا حسین آباد ہوا۔ بڑے صاحب کی کوٹھی مقام بیلی گارد اور دولت خانہ بادشاہی سے حسین آباد تلک سڑک وسیع بنی ہے۔ ایسی ہمواراور درست ہوئی کہ اندھا بھی اُس پر بے تکلف دوڑتا چلا جائے، کہیں ٹھوکر نہ کھائے۔ دو طرفہ راہ میں دو دو تین تین گز کے فاصلہ پر لکڑیاں گڑی ہیں، رات کو اُن پر لالٹینیں روشن ہوتی ہیں۔ اَور راہوں کی درستی کا بھی حکم ہوا ہے۔ جابجا رستہ بنتا جاتا ہے، چنانچہ لکھنؤ سے شاہجہان پو ر تک سڑک بنتی آتی ہے۔ تھوڑے دنوں میں لائق آمدورفت بگھیوں کے ہوئی جاتی ہے۔ غرض کہ مزاج بادشاہ کا ہر صورت سے رعایا پروری پر مصروف ہے اور عنان عزیمت کی رفاہیتِ خلائق پر معطوف۔ گرفتاری رہزنوں اور قزاقوں اور کھود ڈالنے گڈھی زمینداروں سرکشوں کے لیے بہ تاکید ِ اکید حکم دیا ہے۔ بموجبِ حکم محکم قزاق ہر شہر سے پکڑے آتے ہیں اور قلع وقمع گڈھیوں کا ہوتا ہے۔ ان دنوں بندہ بھی دو تین دفعہ ہمراہ کپتان منگنس صاحب اورر اجہ درسن سنگھ غالب جنگ کی زمینداروں اور رہزنوں کے پکڑنے کو گیا تھا۔ ایک دن موضع سریان میں گڈھی کھودنے اور گرفتاری امام بخش زمیندار کے واسطے گیا۔ دیکھا کہ گڈھی بہت مضبوط بنی، گرد اُس کے چاروں طرف خندق گہری کھدی۔ ہر سمت اس کے جنگلا تھا۔ دیکھنے والے کا دم رکتا۔ اُس گڈھی میں آٹھ سو آدمی بندوقچی تھے۔ ملازم بادشاہی اُس کی گرفتاری کو تین ہزار آدمی مع دس ضرب توپوں کے گئے۔ بعضے عاقلوں اور بھائیوں اُس کے نے اُس کو سمجھایا کہ تو لڑائی سے باز آ، مقابلہ فوج بادشاہی نہ کر سکے گا۔ اُس کوتاہ اندیش نے ہرگز نہ مانا۔ ہمراہی اُس کے سب گڈھی سے نکل گئے۔ فقط سولہ آدمی امام بخش کے ساتھ گڈھی میں رہ کر گولیاں مارتے۔ ادھر سے تین ہزار آدمی مستعد تھے۔ اُن کے سوا دس ضرب توپ کے گولے پڑتے۔ آخر وہ سولہ آدمی اما م بخش سمیت مارے گئے اور فوج بادشاہی سے دو آدمی کام آئے اور کتنے زخمی ہوئے۔ حق یہ ہے کہ گڈھی والوں نے بہت جرأت کی لیکن فوج بادشاہی کے سامنے ان کی کیا حقیقت تھی۔ اگر چند روز حکم بادشاہ کا یوں ہی جاری رہے گا، رہزنوں اور ڈکیتوں کا ممالک محروسہ بادشاہی میں نام و نشان باقی نہ رہے گا۔ ملک کا انتظام بخوبی ہو ئے گا، روپیہ سرکاری بے کدو کا وش تحصیل آئے گا۔

اس اطراف و جوار میں لکھنؤ بھی غنیمت ہے کہ یہاں کچھ ایجاد و صنعت ہے۔ لیکن جو قدرت اختراعی اور صنعت و کاریگری فقیر نے ملک انگلستان میں دیکھی، یہاں عشر عشیر اس کی بھی نہ پائی۔ شمہ یہ کہ وہاں کلیں آہنی توپ اور بندوق اور تلوار اور کاغذ اور کپڑے وغیرہ کی کھڑی کی ہیں کہ گھڑی بھر میں اس سے ایک رقم کی ہزاروں چیزیں بنتی ہیں۔ یہاں کوئی اس کی خبر نہیں رکھتا ہے بلکہ نام و نشان بھی نہیں جانتا ہے۔ رئیس ہندوستان کے خوابِ خرگوش میں پڑے رہتے ہیں۔ بٹیر یا مرغ یا کبوتر یا پتنگ بازی وغیرہ میں عمر برباد کرتے ہیں۔ کوئی تحصیل علم و ہنر کا شوق نہیں رکھتا ہے۔ امورات کار آمدنی اور فنون سپاہ گری یا شکار شیر وغیرہ سے کاہلی کرتا ہے۔ صد آفریں امیران انگلستان پر کہ ان میں سے کوئی تمام دن میں ایک گھڑی اپنی برباد نہیں کرتا ہے، ہر کوئی اپنے کام میں شام تلک مصروف رہتا ہے۔ رات کو عیش و عشرت کرتے ہیں۔ خیال سیر ملکوں کا سر میں رکھتے ہیں۔ عورتیں ان کی بھی تضیع اوقات نہیں کرتی ہیں، علم و ہنر میں مشغول رہتی ہیں۔ بہ خلاف ہندوستان کے کہ مرد یہاں کے امور بے جا میں صرف اوقات کرتے ہیں اور اپنی عورتوں کو ایک مکان میں قید کرکے دنیا اور ما فیہا سے غافل کر دیتے ہیں۔ سوائے دیوارِ خانہ یا چھت آسمان کے ان کو نظر نہیں آتا ہے۔ ہر مرد اس پردہ نشینی کو باعث عصمت بی بی سمجھتا ہے۔ در حقیقت ان کو سیکھنے علم و ہنر سے باز رکھتا ہے۔ میرے نزدیک یہ خیال بے جا ہے کہ پردہ نشینی باعث عفت کا ہے۔ بلکہ جو عورت بالطبع عفیفہ اور صالحہ بنے، اگر ہزار مردون بد میں بیٹھے عصمت اس کی قائم رہے اور بد طینت عورت کو کوئی لاکھ پردے میں چھپائے، وہ اپنی حرکات ناشائستہ سے باز نہ آئے۔ ولایت لندن میں ایک عورت حسینہ ناکدخدا غیر مردوں کے ساتھ ایک بگھی میں بیٹھ کر جس ملک میں چاہے چلی جاوے، ہرگز اس سے کسی طرح کا فساد یا حرکت بد واقع نہ ہونے پائے۔ اس لیے کہ مرد نیک کار ہیں اور عورتیں حیادار۔ پس کیوں کر امر نا مناسب کا خیال آوے۔ یہاں پردہ نشینی میں کیا کیا خرابیاں ہوتی ہیں، انجام کار ذلت اور رسوائیاں ہوتی ہیں۔ اگر یہاں کی عورتیں علم رکھتی ہوتیں اور بے پردہ باہر نکلتیں، ہرگز ایسا فساد نہ ہوتا۔ بھلا اس پردہ نشینی میں کیا فائدہ نکلا۔ حقیقت میں مرد نادانی کرتے ہیں کہ عورتوں اپنی کو ایک مکان تنگ پنجرے سے میں قید کرکے تماشائے عجائبات زمانہ سے باز رکھتے ہیں۔ کیا اندھیر ہے کہ آپ سیر دیکھتے پھرتے ہیں اور اپنے ہم جنسوں یعنی عورتوں کو اجازت نہیں دیتے ہیں۔ کافی ہے ان کو یہ پند “ہر چہ بر خود نہ پسندی، بر دیگرے مپسند”۔

ہر چند حال بہت تھا، لاکن اسی قدر لکھنا مناسب سمجھا۔ اس فقیر نے نہایت خون جگر کھایا، تب جا کر یہ رسالہ مختصر تیار ہوا۔ امید ہے کہ ارباب خرد اس کو پسند کریں، عیب گیری میں نہ مصروف ہوویں۔ اب بھی یوسف حلیم کمل پوش سلیمانی مذہب ارادہ سیر ملک سیہ پوشوں کا رکھتا ہے اور ایران و توران و استنبول اور روس و ماژندران وغیرہ کے جانے پر آمادہ ہے۔ بسب لاچاری اور نہ بہم پہنچنے زاد راہ کے یہاں پڑا ہے۔ امیر اور رئیس ہندوستان کے ایسے خیال کب رکھتے ہیں کہ خرچ راہ کا اور ایک محرر کامل ہمراہ میرے کر کے رخصت کریں۔ بندہ ملکوں میں پھرے اور بے کم و کاست حال ہر جا کا اپنی آنکھ سے دیکھ کر بیان کرے۔ اگر یاورئ بخت سے کوئی متکفل خواہش میری کا ہوا، فبہا، نہیں تو فقیر تھوڑے دنوں میں راہی ہوگا۔ خدا مسبب الاسباب ہے، کوئی سبب کر دے گا۔ پاجامہ فقیری پہن کر سیر ملکوں کی کرے گا۔ ایک دن وہ تھے کہ میں انگلستاں میں پریوں کے ساتھ چلتا پھرتا تھا، رات کو نفیس باجوں کی آواز سنتا تھا؛ ایک یہ وقت ہے کہ اس مکان نا ہموار میں چڑیلوں کے پڑوس رہ کر صورت کریہہ ان کی دیکھتا ہوں اور رات کو ان کی آپس کی لڑائی کے شور و غل سے سونے نہیں پاتا ہوں۔ ولایت لندن میں پریوں کی سیر دیکھتا، دکانون خوش قطع کے نظارے کرتا۔ بارش برف کا عجب عالم تھا۔ نسیم خوش گوار بہار سے دل شگفتہ ہوتا۔ سیکڑوں بگھیاں اور گھوڑے نفیس نظر آتے۔ راگ معشوقوں کے دل میں اثر کرتے۔ یہاں بجائے گھوڑوں کے گدھے اینٹوں کے لدے رات کو دوڑتے دکھائی دیتے ہیں اور بجائے پریوں کے چڑیلوں کے مونھ نظر پڑتے ہیں۔ جس مکان میں رہتا ہوں قریب اس کے اجلاف لوگ رہتے ہیں۔ ان کی عورتیں رات کو شراب پی پی کر درجہ بدرجہ ہمسایوں کو گالیاں دیتی ہیں۔ اگر بالفرض تھک کر چپ رہتی ہیں، مرد ان کے بد مست ہو کر آلہا گاتے ہیں، دماغ کو پریشان کرتے ہیں۔

 

خاتمہ الطبع از جانب کار پردازان مطبع

 

بعد حمد و نعت سیاحان قلزم نا پیدا کنار، عجائب روزگار و سیاحان منازل پر غرائب دشت وکہسار کو مژدۂ طرب افزا کہ اس زمان فرحت اقتران میں رشک آئینہ اسکندری کاشف حالات خشکی و تری عزیز مصر خوبی موسوم بہ تاریخ یوسفی مصنفۂ سیاح دیار و امصار صدق بیان و راست گفتار نثار پر جوش اَعنی یوسف خاں کمل پوش جس میں حضرت مصنف نے اپنے سفر یورپ کے کل حالات بعبارات رنگین فقرات نمکین درج فرمائے ہیں، ناظرین با تمکین کو کل مقامات کے فوٹو دکھائے ہیں؛ بار دوم مطبع نامی و گرامی منشی نو لکشور واقع لکھنؤ میں بعالی ہمتی جناب منشی پراگ نرائن صاحب دام اقبالہ مالک مطبع موصوف بماہ فروری ١٨٩٨؁ء مطابق ماہ رمضان المبارک ١٣١٥؁ھ حیلۂ طبع سے آراستہ و پیراستہ ہو کر زیب آغوش مشتاقان ہوئی۔

 

 

 

 

[1]۔ بمبئی (حال ممبئی)

ختم شد

یہ کتاب اردو گاہ اور مجلسِ برقی اشاعتِ ادبیاتِ عالیہ کے تعاون سے پیش کی گئی ہے۔
یہ کتاب اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!