لکھنؤ کی آخری شمع

مجلسِ برقی اشاعتِ ادبیاتِ عالیہ

بسلسلۂ اردو ادبِ عالیہ

لکھنؤ کی آخری شمع

فہرست

آغازِ کتاب

١٤مہجور١٣١٢١١١٠٩٨٧٦شناور٥
١٥کوثرنادرولیمسیحانسیمفریادگویاشعورعارفراسخ٤
١٦عرش

١٢٦٧؁ھ مطابق ١٨٥١؁ء کے

مشاعرہ میں شعرا کی نشست کا نقشہ

 

فدا٣
١٧جوشصبر٢
١٨عاشقخلیل١
١٩علیسلطان عالم

واجد علی شاہ اخترؔ

 

٢٠سحر
٢١بحر
٢٢رشکجلال٣٩
٢٣محسنذوق٣٨
٢٤محسنامیر٣٧
٢٥تسلیممہروزیرقلقصبااسیررندامانتقبولغالب٣٦
٢٦برق٢٧٢٨٢٩٣٠٣١٣٢٣٣٣٤منیر٣٥

 

جانِ عالم واجد علی شاہ

 

واجد علی شاہ عہد مشرقی دربار کی تاریخ کا آخری ورق اور شمع اودھ کا آخری شمعدان ہے۔ چونکہ انتزاع سلطنت ان ہی کے عہد میں ہوا، اس لیے تمام اہل الرائے کے مورد الزام اور نشانۂ ملامت وہی بن گئے اور قریب قریب تسلیم کر لیا گیا کہ زوالِ سلطنت کا باعث وہ ہی تھے۔ لیکن جس زمانہ میں ان کی سلطنت کا خاتمہ ہوا ہے ان دنوں ہندوستان کی تمام وطنی قوتیں ٹوٹ رہی تھیں اور بری بھلی سب طرح کی قدیم حکومتیں دنیا سے مٹتی جاتی تھیں۔ پنجاب میں سکھوں کا اور دکن میں مرہٹوں کا دفتر کیوں الٹا؟ یہ تو بہادر اور زبردست اور ہوشیار مانے جاتے تھے۔ دہلی میں مغل شہنشاہی کا اور بنگالہ میں نواب ناظم بنگالہ کا استیصال کیوں ہوا؟ اُن میں تو اتنی طفلانہ مزاجی نہ تھی جتنی کہ لکھنؤ کے اریکہ آرائے سلطنت میں بتائی جاتی ہے۔ مذکورہ بالا چاروں درباروں میں کوئی واجد علی شاہ نہ تھا، حالانکہ ان کی تباہی لکھنؤ کی تباہی سے کم نہ تھی۔

اصل یہ ہے کہ اس عہد میں ادھر اہل ہند کی غفلت و جہالت کا پیمانہ چھلکنے کے قریب پہنچ گیا تھا اور اُدھر دولت برطانیہ کی قوت اور برٹش قوم کی عاقبت اندیشی، قابلیت، جفا کشی اپنی کوششوں اور اپنی اعلی تہذیب و شائستگی کا ثمرہ پانے کی روز بروز مستحق ثابت ہوتی جاتی تھی۔ غیر ممکن تھا کہ دانایانِ فرنگ کی ذہانت و طباعی، خوش تدبیری و باضابطگی، ہندوستان کی جہالت و خود فراموشی پر فتح نہ پاتی۔ زمانے نے ساری دنیا میں تمدن کا نیا رنگ اختیار کیا تھا اور پکار پکار کے ہر ایک قوم سے کہہ رہا تھا کہ جو اس مذاق میں میرا ساتھ نہ دے گا، مٹ جائے گا؛ زمانے کے اس ڈھنڈورے کی آواز ہندوستان میں کسی نے نہ سنی اور سب مٹ گئے۔ ان ہی مٹنے والوں میں اودھ کی سلطنت بھی تھی، جس کے زوال کا بار غریب واجد علی شاہ پر ڈال دینا محققانہ مذاق کے خلاف ہے۔ واجد علی شاہ کی عیش پرستی کی جو داستانیں مشہور ہیں وہ معرضِ بحث میں نہیں، حالانکہ ان میں بھی رنگین مزاجی کے پردے میں مختلف فنون کی سرپرستی اور خود واجد علی شاہ کے فنی کمالات کی جھلک ملتی ہے۔ رقص اور موسیقی کو ہی لے لیجیے، ان دونوں میں واجد علی شاہ نے خود جو کمال پیدا کیا وہ ان کے درباری گانے اور ناچنے والوں کے لیے ایک مثال اور نمونہ تھا، اس سے طبیعت کی موزونی اور شعر گوئی کی فطری اور وہبی صلاحیت کا پتہ چلتا ہے۔ چنانچہ کسی شاعر اور اہلِ کمال کی مجال نہ تھی کہ کوئی شعر یا مصرع غیر موزوں یا وزن سے گرا ہوا اُن کی مجلس میں پڑھ سکے۔ زمانۂ ولی عہدی سے غزل گوئی کا شوق تھا۔ ہندوستان کے مشہور شاعروں سے صحبت گرم رکھتے تھے۔ خاص مصاحبین اچھے اچھے نامی شاعر تھے۔ خواجہ آفتاب الدولہ ارشد علی خاں عرف خواجہ اسد قلقؔ، فتح الدولہ بخشی الملک مرزا محمد رضا برقؔ، تدبیر الدولہ مدبّر الملک مظفر علی خاں اسیرؔ، گلشن دولہ بہارؔ اسی نظام کے روشن سیارے تھے۔

بادشاہ کی قدردانی کے لحاظ سے خاص و عام میں یہ جذبہ موجزن تھا؛ جس کو دیکھیے شاعر، جس کو سنیے شاعر۔ محلات میں اکثر بیگمات اسی رنگ میں ڈوبی ہوئی تھیں، جن میں ملکۂ محذرۂ عظمی نواب بادشاہ محل صاحبہ عرف نواب خاص محل صاحبہ عالم ؔ کا نام سرِ فہرست تھا جو زبان اور محاورات کے لحاظ سے نظم کی لڑیوں میں موتی پروتی تھیں۔

ان کی تصنیف سے ایک دیوان ‘‘بیاض عشاق’’ اور ایک مثنوی بہت پیاری زبان میں مطبوعہ موجود ہے۔ اس کے علاوہ پھبتیاں، ضلع اور جگت کے فن میں بھی یہاں کے لوگ طاق تھے۔ چھوٹے چھوٹے لڑکے، باہر نکلنے والی عورتیں، جاہل دکاندار اور ادنی طبقے کے لوگ ایسی پھبتیاں کہہ جاتے تھے کہ دوسری جگہ کے لوگ متحیر ہوتے۔ ایک صاحب کربلائے معلّی کی زیارت کر کے واپس آئے اور نہایت سفید کپڑے پہن کر دوستوں میں آ کے بیٹھے ہی تھے کہ ایک چھوکرے نے پھبتی کسی: ‘‘یہ فرات کا بگلہ کہاں سے آگیا’’۔

اسی طرح ایک مرتبہ نواب علی نقی خاں یعنی واجد علی شاہ کے خسر ایک مرتبہ مع بیگم صاحبہ قائمؔ نامی بھانڈ کی سبیل کو دیکھنے آئے جسے وہ محرم کے موقع پر خوب سجاتا تھا۔ معزز زائرین کو دیکھتے ہی قائم ہاتھ جوڑ کر حاضر ہوا اور عرض کی کہ خدا نواب صاحب کو سلامت رکھے اور بیگم صاحبہ کو قائم۔ نواب صاحب نے باوجود اس گستاخی کے اس کی ظرافت پر اس کو انعام دیا۔

بادشاہ کی تصنیفات کی تحریر پر بہت سے منشی مستقل ملازم رہتے تھے۔ عہد سلطنت کا ذکر ہے منشی امیر اللہ تسلیمؔ نے جو علاوہ شاعر ہونے کے خوش نویس بے بدل بھی تھے، ایک عریضہ حضرت ابو المنصور کی خدمت میں نظم میں نہایت خوش خط پیش کیا، اتفاقِ وقت سے حضور کی نظر اس عرض داشت پر پڑگئی، دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور بعد ملاحظہ شرح دستخط نظم لکھوائی۔ وہ اشعار یہ ہیں:

بشنو اے خوشنویس اے خوشگو
ہر دو فن می کنی و ہر دو نکو
اسم تو مندرج بہ دفتر شد
بست و دہ روپیہ مقرر شد

کبھی کبھی مشاعرے میں نوک جھونک اشارتاً و کنایۃً چوٹیں فی البدیہ اشعار ہوا کرتے۔ جانِ عالم سے دادِ سخن ملتی تھی۔

ایک مرتبہ ایک شاعر نے ایک شعر مثالیہ پڑھا:

اہلِ جوہر نہیں جھکتے ہیں کسی کے آگے
ٹوٹتی ہے وہی تلوار جو فولادی ہے

حضرت نے پسند فرمایا اور تمام مشاعرے نے داد دی۔ان کے حریف نے اسی کے جواب میں دوسرے مشاعرے میں ایک شعر کہا جو سب نے پسند کیا:

نیک و بد سب سے جھک کے ملتے ہیں
دونوں ناکوں پہ تیغ کستی ہے

ایک شعر حضرت واجد علی شاہ اخترؔ کا بہت مشہور ہے۔ جس وقت آپ نے لکھنؤ کو خیر باد کہا ہے، چلتے وقت آپ کی زبان سے یہ شعر نہایت مایوسانہ لہجے میں نکلا تھا جس کا ایک ایک لفظ اس نازک وقت کی تصویر کھینچ رہا ہے جب آپ وطن سے جدا ہو رہے تھے۔ شعر یہ ہے:

در و دیوار پہ حسرت سے نظر کرتے ہیں
خوش رہو اہل وطن ہم تو سفر کرتے ہیں

اپنی نظر بندی میں گھبرا کر اور پریشان ہو کر نجات کی دعا کرتے تھے۔ چند شعر بطور نمونہ ملاحظہ ہوں:

فقط نام شاہی سے ہوں میں خراب
کہاں میں کہاں قید کیسا عذاب
دلِ زار ہونٹوں پہ آ آگیا
میں گھبرا گیا سخت گھبرا گیا
الہی مجھے قید سے دے نجات
نکلتی نہیں غم سے اب منہ سے بات
بس اب الحذر الحذر اے خدا
کر اس اختؔرِ زار کو تو رِہا

واجد علی شاہ اختر کی نسبت روایت ہے کہ مقام مٹیا بُرج میں جب آپ کا اخیر وقت تھا، آپ تکلیف نزع سے کراھتے تھے، اس وقت کل بیگمات محلاتِ شاہی سے نکل کر سرِ بالیں آگئی تھیں، سبھوں نے ہم زبان ہو کر کہا کہ حضرت شگون بد ہے آپ کراہیں نہیں۔ اس تکلیف شدتِ نزع میں رنگینیٔ مزاج و حاضر جوابی نہ گئی تھی، بے ساختہ آپ کی زبان سے یہ شعر نکلا:

آہ کرنے سے تو سب لوگ خفا ہوتے ہیں
اے نسیمِ سحری ہم تو ہوا ہوتے ہیں

یہ کہا اور آپ کی روح قالبِ خاکی سے پرواز کر گئی۔

جانِ عالم کا زمانہ مشرقی دربار شاہی مشاعرے کی تاریخ کا آخری ورق اور بزم آخر اور اسی مرثیۂ پاستان کا آخری بند ہے، لہذا یاد تازہ کرنے کی غرض سے یہ مشاعرہ اور صحبت دکھائی گئی ہے جو اس درباری مشاعرے میں ہوتی تھی۔ وہ کیا تھی؟ کیسی تھی؟ کس طرح ہوتی تھی؟

یہ مشاعرہ در حقیقت لکھنؤ کے گذشتہ شاہی مشاعرہ و صحبت کا مرقع ہے جس میں عہد شاہی کے تاریخی مشاعرے و علمی صحبت کی تصویر کھینچی گئی ہے، تاکہ لکھنؤ کے گذشتہ مشاعرے کا مرقع آنکھوں کے سامنے پھر جائے، ہندوستان میں مشرقی مشاعرے کا یہ آخری نمونہ تھا اور اس دربار کا ایک ادبی کارنامہ جو ترقی کی معراجِ کمال کو پہنچ کر بہت جلد فنا ہوگیا جسے مٹے ہوئے کچھ کم سو سال ہوتے ہیں۔

 

شاہی مشاعرہ لکھنؤ

 

جانِ عالم واجد علی شاہ کے زمانہ میں لکھنؤ عیش پسندی اور عشرت پرستی کا گہوارہ بنا ہوا تھا۔ اہلِ لکھنؤ اپنے رنگین بادشاہ کے متوالے تھے۔ ان دنوں لکھنؤ اندر سبھا ہے، کہیں رہس ہو رہا ہے، کبھی کوئی میلہ ہے، کہیں کوئی ٹھیلہ۔ کہیں عرسوں کی بہاریں ہیں، کہیں چھڑیوں کا لطف، محرم آئے تو عَلَموں، تعزیوں کے جلوس، مجلسیں اور محفلیں ایسی کہ چشم فلک نے بھی نہ دیکھی ہوں، جانِ عالم قیصر باغ میں بڑے پیمانے پر میلہ کیا کرتے۔ شہر کے بوڑھے جوان شریک ہوتے اور لطف اٹھاتے۔ حضرت سحر لکھنوی نے میلے کا نقشہ اس طور پر کھینچا ہے، ملاحظہ ہو:

(۱)

جمع ہیں رنگیں ادا میلا ہے قیصر باغ میں
ہر روش پر نور کا جلسہ ہے قیصر باغ میں
سامنا سلطانِ عالم کا ہے قیصر باغ میں
سب کو اپنے رنگ پر کھینچا ہے قیصر باغ میں
گیروا ہر ایک کا جوڑا ہے قیصر باغ میں
سچ اگر پوچھو تو سب ہیں جانِ عالم پر فقیر
بھرتے ہیں الفت کا دم طفل و جواں بر ناؤ پیر
جس گرو کے سب ہیں چیلے ہے بڑا روشن ضمیر
مرشدِ کامل ہے فن عشق میں ہے بے نظیر
جو ہے اس کے رنگ میں ڈوبا ہے قیصر باغ میں
پاک و پاکیزہ زمیں دھویا دھلایا آسماں
تازہ و تر ہر شجر نکھرا ہوا ہر نوجواں
باغ سب شاداب سبزہ لہلہا آبِ رواں
نہریں جاری ہر طرف لبریز پختہ کیاریاں
تختۂ جنت اتر آیا ہے قیصر باغ میں

(بقیہ اگلے صفحہ پر)

 

سبز رنگوں کا ذخیرہ([1]) مجمعِ اہلِ سخن
اپنے اوپر شعر خود پڑھتا ہے یارِ گل بدن
آنکھیں ہیں بادام لب عناب ہیں پستہ دہن
اک درخت اور اتنے میوے کیوں نہ ہو زیبِ چمن
جو شجر ہے غیرتِ طوبٰی ہے قیصر باغ میں
سامنا اس باغ میں آٹھوں پہر حضرت کا ہے

۱۲۶۶؁ھ

بوٹیاں اکسیر کی ہیں یہ اثر حضرت کا ہے
ورد مرغانِ چمن ہر شعر تر حضرت کا ہے
نو عروسانِ چمن کے دل میں گھر حضرت کا ہے
واہ کیا کیا نور کا کمرا ہے قیصر باغ میں
خوب نظروں میں تڑی ہے آنکھ ہر معشوق کی
یعنی کہنی پر گڑی ہے آنکھ ہر معشوق کی
ہر شگوفہ سے لڑی ہے آنکھ ہر معشوق کی
نونہالوں پر پڑی ہے آنکھ ہر معشوق کی
ہر شجر نرگس کا گلدستہ ہے قیصر باغ میں
نہر پر کس برق وش نے آ کے چھیڑا ہے ملار
آسماں کا عکس ہے پانی میں یا یہ بہار
ہے زبانِ موج پر ہر دم یہ شعرِ آب دار
ساقیا تجھ کو مبارک ہو بطِ مے کا شکار
نہر کاہے کو ہے اک دریا ہے قیصر باغ میں
صورتِ سر و لب جو لم گھرے ہیں بیشمار
ہیں ہزارے نور کے ایک ایک لم میں چار چار
شعلہ آوازے روشن ہے چومکو پیش بار
آگ پانی میں لگانے کی صنعت آشکار
چشمۂ خورشید کا جلوہ ہے قیصر باغ میں
اے سحرؔ بعد از نماز اپنی دعائے صبح و شام
جانِ عالم ہیں حقیقت میں خدا رکھے یہ نام
سیر کرنے کو غریبوں کے دیا ہے حکم عام
شعر پڑھتے پھرتے ہیں رنگیں بیاں رنگیں کلام
ہر چمن میں ڈھیر پھولوں کا ہے قیصر باغ میں
خوش رہیں سلطانِ عالم یہ چمن پھولے پھلے
ہر برس سیریں کریں ہم یہ چمن پھولے پھلے
جمع ہوں یک رنگ باہم یہ چمن پھولے پھلے
کہتی ہیں پریاں بھی جم جم یہ چمن پھولے پھلے
کیا اکھاڑا راجہ اندر کا ہے قیصر باغ میں

(۲)

دیکھو بہار حسن خدا داد باغ میں
کیا سر و قد کھڑے ہیں پری زاد باغ میں
خیمہ بھی ہے سنجاف کا استاد باغ میں
پہرے پہ ہیں صنوبر و شمشاد باغ میں
شاید حضور آئے ہیں سجاد باغ میں
لالے کی پلٹنیں ہیں برابر جمی ہوئی
وردی سیاہ و سرخ نئی قطع کی ہوئی
موجِ ہوا کے ہاتھوں میں کرچیں اُپی ہوئی
غنچوں کی زین لیس پڑاقے چڑھی ہوئی
کھولے نشان سوسن آزاد باغ میں
میلہ ہے نونہالوں کا اللہ رے اژدہام
گل کا کٹورا بجتا ہی رہتا ہے صبح و شام
شادی کے گھرمیں ہوتی ہے جس طرح دھوم دھام
کھینچا ہے نقشہ گلشنِ ایجاد کا تمام
کیا کیا ہیں بیل پٹری کی ایجاد باغ میں
جھولے پہ لطف دیتی ہے مینہ کی بہار کیا
بائیں کی کیا گمک ہے صدائے ستار کیا
اک برق وش نے چھیڑا ہے آ کر ملار کیا
آتا ہے جھوم جھوم کے ابر بہار کیا
اترے گا بن کے تختِ پری زاد باغ میں
رنگِ بہارِ عیش ہے ایسا جما ہوا
گل کا پیالہ بجتا ہے دورہ ہے پھول کا
شمشاد جھولتے ہیں لبِ نہر جا بجا
مینائے سرو کو نہ کہیں لے اڑے صبا
سو بار پڑچکی ہے یہ افتاد باغ میں
اب کی بہار ایسی مبارک ہو اے سحرؔ
باغِ جہاں میں نخلِ تمنا ہو بارور
نخلِ مراد میں نئے آیا کریں ثمر
سر سبز یہ چمن رہے گل اس کے اہلِ زر
دن رات چہچہے رہیں سجاد باغ میں
اک رنگ خاص ہے کہ وہ اپنی سخن میں ہے
مشہور دور دور ہوں مسکن وطن میں ہے
فانوس میں یہ شمع ہے نور انجمن میں ہے
بلبل کے چہچہے کا تکلف چمن میں ہے
نواب کامدار کریں یاد باغ میں

الغرض لکھنؤ میں آئے دن کے ایسے مشغلے دن رات، ہر لب پر گل کا فسانہ، ہر زبان پر بلبل کا ترانہ، ہر سر عشق کا سودائی، ہر سینہ جوش تمنائی، ہر شب گانے بجانے کی دھوم، البیلوں کے جھمگٹے لگے ہیں، بانکوں کے جتھے جمے ہیں، کہیں ضلع، جگت اور تالیاں ہیں، کہیں قہقہے اور گلے بازیاں ہیں۔ جہاں دیکھو رندی و سر مستی جوش و خروش ہے۔ ہر گوشہ بقول کسی کے ‘‘دامانِ باغبان و کفِ گل فروش ہے’’۔

کسی کی دکان پر بے فکروں کا ہجوم ہے، کہیں زہر عشق سن کر مغموم۔ کوچہ بکوچہ شعر و شاعری کی چہل پہل خوب ہے۔ کچھ دنوں سے آتؔش کی آتش بیانی سرد اور ناسخ کی طلاقت بیانی گم ہوچکی ہے۔ پھر بھی ان کے متوالے و پیرو کثرت سے لکھنؤ میں موجود ہیں۔ اس پر طرّہ جان عالم اخترؔ کے ذوق شعر و سخن سے تمام نزدیک و دور کے شعرا ان کے ارد گرد جمع ہیں۔ روز مرہ صحبت گرم رہتی ہے۔ خواجہ آفتاب الدولہ ارشد علی خاں قلقؔ، فتح الدولہ بخشی الملک مرزا محمد رضا برقؔ، تدبیر الدولہ مدبر الملک مظفر علی خاں بہادر اسیرؔ، گلشن الدولہ بہارؔ، یہ ہر وقت سلطان عالم کے رفیق صحبت، لکھنؤ کے شعرا میں خواجہ وزیر وزیرؔ، شیخ مسیتا عیشؔ، کپتان مقبول الدولہ قبولؔ، آغا ہجو شرفؔ، الٰہ یار خاں سحابؔ،میر جان جاں یکتاؔ، میر محمدی سپہرؔ، امداد علی بحرؔ، امیر خاں ہلالؔ، نواب حسین خاں اثرؔ، مہدی حسن خاں آبادؔ، حضرتِ صباؔ، خلیلؔ، عرشؔ، شادؔ، غرض کہ ایسے ایسے باکمال استادانِ فن کی یہاں گرم بازاری ہے۔ تمام شہزادگان بھی اسی رنگ میں رنگے ہوئے ہیں۔ صاحبِ عالم شہزادہ مرزا سلیمان قدر تسخیرؔ، کرنیل مرزا فریدوں قدرؔ، مرزا ہزبر علی خاں ہزبرؔ، کیواں قدر ہمایوں جاہ قیصر خشمؔ ، ولی عہد مرزا حامد علی خاں بہادر کوکبؔ، اشرف الدولہ منظم الملک محمد ابراہیم خاں مستقیم جنگ خلیلؔ، راجہ مقیم الدولہ سحرؔ، نواب ممتاز الدولہ تاثیرؔ، نواب سید محمد خاں رندؔ، حسین قلی خاں جویاؔ، راجہ جواہر سنگھ جوہرؔ، نواب علی خاں عیشؔ، مہاراجہ جے پال سنگھ ثاقبؔ، نواب عاشور علی خاں عاشورؔ۔ بیگمات میں بھی شعر گوئی کے چرچے ہیں۔ بعض بعض بیگمیں زبان اور محاورات کے لحاظ سے نظم کی لڑیوں میں موتی پروتی تھیں، نواب خاص محل عالمؔ، ملکہ محمودہ اختر محل، نواب رونق آرا بیگم، تاج النساء نواب معشوق محل، نواب زیب حور بیگم، سندر بیگم، محل بیگم، رشک محل ہر ایک شعر گوئی سے شوق رکھتی تھی۔ حور بیگم کی غزل ملاحظہ ہو:

اے جانِ جاں خلوتِ جاں اعتبار کیا
تم آؤ یا نہ آؤ ہمیں اختیار کیا
بے اپنے گل کے سیر گلستاں خراب ہے
کیفیتیں دکھائے گی فصلِ بہار کیا
برہم ہوئے ہیں گیسو برہم کی یاد سے
اب پوچھتے ہو تم سببِ انتشار کیا
گیسو کی آرزو کبھی عارض کا اشتیاق
دیکھیں دکھائے گردشِ لیل و نہار کیا
ممکن نہیں جو کوچۂ جاناں میں رہ سکے
میرے غبار سے ہے صبا کو غبار کیا
لو آؤ ایک دم مرے پہلو میں سو رہو
گر اپنا جانتے ہو تم اے جان عار کیا
قسمت کہاں جو دیکھیے صورت بھی چند دم
تم سے امید داریِ بوس و کنار کیا
بگڑی ہوئی ہے ہجر سے کیفیتِ مزاج
تم ہم سے پوچھتے ہو اجی بار بار کیا
آتی ہے خوش کسی گلِ پژمردہ کی بہار
تم کو دکھائیں شکلِ دلِ داغ دار کیا
لاکھوں حسیں ہیں صورتِ جاناں کے شیفتہ
ہم کس قطار میں ہیں ہمارا شمار کیا
کب ہے یقیں کہ زینتِ آغوش ہو حصول
اے حورؔ ان کے دل پہ ہمیں اختیار کیا

بیگم رشکِ محل ریختی کہتی تھیں۔ چند شعر ملاحظہ ہوں:

نہ بھیجوں گی سسرال میں تم کو خانم
نہیں مجھ کو دو بھر ہے کھانا تمھارا
مری کنگھی چوٹی کی لیتی خبر ہو
یہ احساں ہے سر پر دگانا تمھارا
ہوا بال بیکا جو مرزا ہمارا
تو پھر سنگ ہے اور شانا تمھارا
گھر سہ گانہ کے دگانہ مری مہمان گئی
میں یہ انگاروں پہ لوٹی کہ مری جان گئی

غرض کہ بادشاہ کی قدر دانی نے شعر و شاعری کا ہر خاص و عام میں بے حد ذوق و شوق پیدا کر دیا۔ آئے دن مشاعرے ہوتے، ادبی صحبتیں ہوتیں، سلطانِ عالم خود مشاعرے میں شریک ہوتے۔ ان کی طرف سے مشاعرہ کا اہتمام خاص طور سے شاہی تکلفات سے عموماً ہوتا، ‘‘لال بارہ دری’’ میں اس کا انتظام رہتا، میلوں ٹھیلوں سے جانِ عالم کا جی بھر گیا تو مشاعرہ کی یاد اٹھی، مہتمم مشاعرہ میر اسد صبرؔ بلائے گئے۔ حکم ہوا ما بدولت طرح دیتے ہیں۔ مشاعرہ کا اعلان([2]) عام کیا جائے، ‘‘لال بارہ دری’’ میں انتظام ہو۔ مصرع طرح:

(۱) عشق ہے جس طرح اک کوہِ گراں بالائے سر

(۲) سر کھل گیا نکل گئے باہر کفن کے پاؤں

(۳) ہاتھ۔ ہاتھ کے مضمون پر بھی اشعار ہوں اس میں کوئی قید طرح کی نہیں۔ یہ مضمون ہاتھ کا بے قید ہے۔ جس ردیف، قافیہ میں غزل پڑھنے کو دل چاہے پڑھے۔

میر اسد صبرؔ نے شعرا اور امرا کو دعوت نامے بھیج دیے۔ چودھویں کو تاریخ مشاعرہ مقرر ہوئی، شہر میں عام چرچا تھا، ہر ایک کی زبان پر اس کا تذکرہ۔ خدا خدا کر کے وہ دن آیا، ‘‘لال بارہ دری’’ میں سہ پہر سے چمن بندیٔ گل ہونے لگی، فوارے کھولے گئے، ‘‘لال بارہ دری’’ کی چھت پر چھڑکاؤ کیا گیا، قناتوں سے گھیر دی گئی، پھولوں کے گلدستے منڈیروں پر رکھے گئے، مکلف فرش بچھایا گیا، قناتوں پر بیلے کے ہار پھیلائے گئے۔ خواجہ سرا گنگا جمنی کشتیوں میں بھاری بھاری لچکے گوٹہ کے ہار، الائچیاں، چکنی ڈلیاں، گلوریاں، عطر کے کنٹر رکھے ہوئے، مخملی کشتی پوش پڑے ہوئے سلیقے سے لگا رہے تھے۔ رات گئے کشمیری چائے کا دور رہتا، اس کے لیے جام بلوریں موقع بموقع رکھ دیے گئے۔ پانی پینے کے لیے ظروف نقرئی و طلائی ۔ غرض کہ تمام شاہانہ سامان محفل مشاعرہ میں فراہم کیا گیا۔ درمیان میں پشمینے کا زر نگار خیمہ لگایا گیا، جس کی طنابیں بادلے کی تھیں، اس کے نیچے مخملی بارہ دری جس کے نیچے موتی ٹنکے ہوئے، کنول جھاڑ جن میں موتیوں کے ہی آویزے لگے ہوئے تھے۔ ارد گرد رنگ برنگ کی بلوری ہانڈیاں، فانوس، دریچیاں سبز سرخ کا شانی مخمل کی جن میں گز گز بھر کی جھالر نقرئی و طلائی ٹنکی ہوئی۔ اس کے چاروں طرف گلدستے قرینے سے رکھے ہوئے، پردوں میں بنت، گوکھرو، لچکا لگا ہوا، چاروں طرف قد آدم آئینہ بندی۔

آفتاب عالم تاب رخصت ہوا، ستارے نمودار ہوئے، تاریکی پھیلنے کو تھی کہ جھاڑو جھالے، کنول، فانوس روشن کر دیے گئے، محفل بقعۂ نور بن گئی، شام سے ہی مرزا خرم بخت بہادر نوابـ یحیی علی خاں، مرزا عظیم الشان نوابـ محمد تقی علی بہادر، مرزا رفیع الشان بہادر نوابـ مجید الدولہ عظمت اللہ ولد مرزا سلیمان قدر بہادر دارا سطوت، مرزا حیدر نیشاپوری تشریف فرما تھے۔ اتنے میں عمائد و اراکین دولت مدار الدولہ علی نقی خاں بہادر وزیرؔ، تدبیر الدولہ دبیر الملک منشی مظفر علی خاں بہادر جنگ اسیرؔ، مقبول الدولہ احسان الملک کپتان مرزا مہدی علی خاں ثابت جنگ قبولؔ، آفتاب الدولہ قلقؔ، فتح الدولہ بخشی الملک مرزا محمد رضا خاں برقؔ، لکھنؤ کے مشاہیر شعرا اور ان کے ساتھی حضرت شناورؔ، عارفؔ، شعورؔ، فریادؔ، حضرت شیخ امان علی سحرؔ، مسیحاؔ،حضرت میر اوسط علی رشکؔ، نادر استاد شیخ امداد علی بحرؔ، کوثر عباد میر کلو عرشؔ، حضرت جوشؔ، فداؔ، حضرت راسخؔ، عاشقؔ، حضرت نسیم دہلوی، مہجورؔ، ولیؔ، محسنؔ، شہزادہ قیصر ؔوغیرہ اپنے اپنے مراتب کے موافق محفل میں دائیں بائیں بیٹھ گئے۔ بیچ میں شاہی مسند بچھی، یکایک غل ہوا، پردہ اٹھا، دفعتاً حضور جان عالم لباسِ فاخرہ سے ملبوس دوپہری چہرہ گل انداموں کے کندھوں پر ہاتھ رکھے ہوئے برآمد ہوئے۔ تمام حضار محفل سر و قد کھڑے ہوگئے، بسم اللہ، بسم اللہ کی صدا چاروں طرف سے آنے لگی، حضور نے مسند زر نگار پر قدم رکھا با جاہ و جلال اس پر جلوہ افروز ہوئے؛ پیچوان طلب ہوا، زمرد کا حقہ ادب سے ان کے سامنے لگایا گیا۔ بادشاہ حقے کا شوق فرمانے لگے، خواجہ سرائے نے پان الائچی و عطر سے تواضع کی اور ہر ایک کی گردنوں میں گوٹے کے ہار پہنائے گئے، جھک جھک کر ہر شخص بادشاہ کو مجرا عرض کرتا تھا، جانِ عالم سلام لے کر مسکرا دیتے۔ حکم ہوا: میاں صبرؔ مشاعرہ کا آغاز ہو۔

خلیل

 

خلیل منشی دوست علی خلیلؔ طلب ہوئے، شمع کے سامنے آ کر بیٹھے، ہاتھ کی ردیف میں غزل پڑھی:

کرتے ہیں پیرہن کو مرے تار تار ہاتھ
ہو جاتے ہیں بہار میں بے اختیار ہاتھ
آیا جو روزِ وصل شبِ ہجر کا خیال
سینے میں دل اچھلنے لگا چار چار ہاتھ
کردے گدا کو شاہ جو منظور ہو تجھے
دینے کے اے کریم ترے ہیں ہزار ہاتھ
اس بت کو دیکھتے ہی ہوا دل مرا اسیر
پتھر کے نیچے دب گئے بے اختیار ہاتھ
ہر طرح مل رہے گا پسِ مرگ اے خلیلؔ
دس گز کفن گزی کا زمیں تین چار ہاتھ

خلیل دوست علی ابن سید جمال علی آتؔشؔ کے شاگرد تھے۔ شاعر اچھے تھے، بٹیر بازی کا بڑا شوق، اپنے بٹیر کو رستم سے خطاب کیا کرتے۔ جب کبھی ذکر کرتے معلوم ہوتا رستم اور سہراب میدان میں اترے ہوئے ہیں۔ ادبی خوبی نہیں کلام کا وہی رنگ ہے جو لکھنؤ میں مقبول تھا، چنانچہ دوسرے شعر اور مقطع پر واہ واہ سبحان اللہ سبحان اللہ کے شور نے محفل سر پر اٹھالی۔ ان کے چند شعر(٢)ملاحظہ طلب ہیں۔

صبر

 

اس کے بعد شمع گردش کر کے میاں صبرؔ کے سامنے آئی، انھوں نے جہاں پناہ کی طرف دیکھ کر اجازت چاہی۔ ارشاد ہوا بسم اللہ، بسم اللہ۔ انھوں نے حضور والا جاہ کو مخاطب کر کے اپنی طرح کی غزل پڑھی:

ہوگیا آتش کدہ داغوں سے یاں بالائے سر
اب سمندر باندھے اپنا آشیاں بالائے سر

ابھی مطلع پڑھا تھا کہ سبحان اللہ، سبحان اللہ کا شور اٹھا، مکرر مکرر کی فرمائش ہونے لگی۔ کئی بار پڑھا اور داد لی، جب ذرا سکون ہوا تو باقی اشعار ارشاد فرمائے:

یاد مژگانِ صنم ہر روز رہتی ہے مجھے
خواب میں چلتی ہیں ہر شب آریاں بالائے سر
یاد آئی گر ہنسی اس بحر خوبی کی ہمیں
اس قدر روئے، ہوا در یا رواں بالائے سر
فرقتِ دل دار میں ہم سے اٹھا جاتا نہیں
بارِ غم ہے یا کہ ہے کوہِ گراں بالائے سر
ہے یقیں اے صبرؔ پہنچے صدمۂ کوہِ گراں
رکھ لوں برگِ کاہ گر میں ناتواں بالائے سر

میر اسد تھا ان کا نام، خلف میر مہدی خاص محل نواب معتمد الدولہ بہادر کے اقربا میں تھے، شاگرد ناسخ، ذی علم اور رکھ رکھاؤ کے آدمی تھے۔ شاہی مشاعروں کا انتظام و اہتمام کرتے تھے، اس مشاعرے کے مہتمم بھی یہی تھے، ٹھنگنا قد، متوسط اندام، شعر گوئی کا شوق تھا۔

فدا

 

اب شمع فدا حسین فداؔ خلف شیخ کریم اللہ کے سامنے آئی، یہ قصبہ ڈبائی کے رہنے والے ہیں، نواب مصطفی خاں شیفتہؔ سے مشورۂ سخن کیا ہے، ایک عرصہ سے بسلسلۂ ملازمت لکھنؤ میں مقیم ہیں۔ طرح پر کہتے ہیں:

کوئی دھوکے سے نہ سمجھے آسماں بالائے سر
ہے یہ میری آہِ سوزاں کا دھواں بالائے سر
وہ جو میرے پاس بیٹھا ہے تو میں افلاک کو
دیکھتا ہوں سر اٹھا کر ہر زماں بالائےسر
اس قدر میں نے اڑائی خاک جنگل کی جنوں
بن گیا اک چرخ زیرِ آسماں بالائے سر
ٹکڑے ٹکڑے بلبلوں نے جامۂ ہستی کیا
تو نے رکھا گل جو اے غنچہ دہاں بالائے سر
اے فداؔ وہ طفلِ دلبر بام پر شاید چڑھا
دیکھتے ہیں آج جو پیرو جواں بالائے سر

کہیں کہیں کسی شعر پر داد بھی ملی، لیکن زیادہ گرمی پیدا نہ ہوئی اور شمع راسخ کے سامنے پہنچ گئی۔

راسخ

 

نواب ظفر یاب خاں المتخلص بہ راسخ خلف ملا میاں حافظ الملک حافظ رحمت خاں کی اولاد میں ہیں، نواب منصور خاں مہرؔ کے شاگرد رشید، نوابی ٹھاٹ سے رہتے ہیں، خوبصورت وجیہ و شکیل نو عمر، استعداد علم معقول۔ جب کسی محفل میں آتے ہیں، چوبدار ساتھ ہے، عبا، قبا پہنے ہوئے، لباس فاخرہ  زیب جسم، گول زریں ٹوپی سر پر اپنے کو لیے دیے رہتے ہیں، گو زمانہ کے ہاتھوں تباہ ہوچکے مگر آن بان باقی ہے، آواز کراری ہے، شعر خوب پڑھتے ہیں۔ کہتے ہیں:

زخمِ تیغِ یار کا کب ہے نشاں بالائے سر
خطِ پیشانی کا ہے یہ ترجماں بالائے سر
ہے طلسمِ زندگی اس بحر میں مثل حباب
کون اٹھا کر لے گیا اپنا مکاں بالائے سر
عالمِ اسباب سے حاصل نہیں کچھ جُز کفن
خاک لے جائیں گے یہ اہلِ جہاں بالائے سر
جو ستم دیکھے ہیں دنیا میں وہ کہتا روز حشر
کاش ہوتی چشم کی جگہ زباں بالائے سر
پاؤں رکھنا اس زمیں میں سخت تر دشوار تھا
ہم نے اے راسخ اٹھایا آسماں بالائے سر

ان کے بعد مرزا شناورؔ کی باری آئی۔

شناور

 

صاحب مرزا المتخلص بہ شناورؔ، شاہ میر خاں ابن آغا نصیر نیشاپوری کے صاحب زادے، آتش کے جرگے کے ہیں۔ استاد کی نظر خاصی تھی، ایک دیوان بھی مرتب کر لیا ہے، عمر پختہ ہونے کو آئی مگر آواز میں کڑک ہے۔ لمبا قد، چھریرا بدن، سانولی رنگت، کتابی چہرہ، مخملی دو پلڑی ٹوپی سر پر، انگرکھا بانے دار، گردن میں رومال، جس کے دونوں سرے کندھوں پر، عرض کے پائینچے کا پاجامہ، گھیتلی جوتی پیر میں، چھڑی ہاتھ میں لیے مشاعرے میں آئے تھے ۔ ایک انداز خاص سے آ کر بیٹھے، کبوتر بازی کا شوق ہے، عارفؔ پاس بیٹھے تھے، ان سے ڈینگ ہانک رہے تھے۔ صبرؔ کے کہنے سے متوجہ ہوئے، طرح پہلے پڑھی، اس کے بعد اپنا کلام بادشاہ سے اجازت لے کر پڑھنے لگے:

ایک دن داغِ جنوں ہوں گے عیاں بالائے سر
پھولے گا عشقِ پری میں گلستاں بالائے سر
جب کبھی رویا ہوں اُس دریائے خوبی کے لیے
پھر گیا ہے بس وہیں آب رواں بالائے سر
شرم سے اس نازنیں نے سر جھکایا یہ نہیں
بالوں میں تعویذ ہے بارِ گراں بالائے سر
عاشقِ نا فہم کیا جانے ادب معشوق کا
گل کہاں رہتا ہے مرغِ بوستاں بالائے سر
گر میں آہستہ سے بھی بولوں تو کہتا ہے وہ شوخ
تم تو ناحق کو اٹھاتے ہوں مکاں بالائے سر

جہاں پناہ نے دل رکھنے کو زبان مبارک سے دو ایک مرتبہ واہ واہ فرمایا لیکن آہستہ زبان اور بے کیف انداز میں۔ اب شمع آگے بڑھی۔

عارف

 

یہ میر جمال الدین المتخلص بہ عارفؔ ہیں، خلف میر بدر الدین نواسۂ خواجہ باسط، حیدر علی آتشؔ سے تلمّذ ہے۔ بھاری بدن، منڈی ہوئی ڈاڑھی، چھوٹی چھوٹی مونچھیں، سانولا رنگ، تنگ مہری کا پائجامہ، اوپر سوسی کا کرتا، کندھے پر گزی کا رومال، سر پر سوزنی کے کام کی گول ٹوپی۔ ملازمت پیشہ ہیں، غربت چہرہ سے عیاں ہے لیکن شعر و شاعر کے دھتی۔ جب تک استاد آتؔش زندہ رہے، روزانہ ان کے پاس آنا اور ان کی خدمت کر جانا۔ مشاعرہ کا شوق بہت ہے، کہیں ہو پہنچنا ضرور۔ غزل طرح میں کہہ کر لائے تھے:

سرخ ایک پیچہ نہ باندھ اے جانِ جاں بالائے سر
خون ہو جائے گا لاکھوں کا رواں بالائے سر
ظالم سرکش کی ہو جاتی ہے قلبِ ماہیت
دیکھ لو نیزے کی رہتی ہے زباں بالائے سر
شاخِ گل پر بیٹھ کر اے عندلیب اتنا نہ پھول
لائے گی آفت کوئی دن میں خزاں بالائے سر
کوچۂ جاناں سے سرکیں گے نہ ہم اِک گام بھی
آگ بھی برسائے گا گر آسماں بالائے سر
کر نہ اندیشہ عذاب قبر کا عارف ؔذرا
ہوئیں گے اُس دم امیر مومناں بالائے سر

مقطع کے شعر پر بڑی داد ملی۔

اس کے بعد شعورؔ کی باری آئی۔ ادب سے اجازت طلب کی، حضور والا نے فرمایا: ارشاد کیجیے۔ آداب بجا لا کر فرمایا:

صورتِ خوانِ تہی ہے آسماں بالائے سر
جا نہ اے دستِ ہوس تو بہرِناں بالائے سر
میرے آگے ہاتھ رکھے غیر واں بالائے سر
آگ تلوؤں سے لگے اٹھے دھواں بالائے سر
اے جنوں چاکِ گریباں کی ہمیں فرصت نہیں
دل پہ ہے اک ہاتھ تو اک ہاتھ یاں بالائے سر
آسماں سے کون لے احسانِ تاجِ خسروی
اٹھ سکے گا کس سے یہ بارِ گرں بالائے سر

اس شعر پر جان عالم کچھ مسکرائے، ہوا خواہوں نے عجیب انداز سے داد دی، شاید کوئی نوجوان بانکا ہوتا تو اس طنزیہ داد پہ خنجر نکل آتے اور خون خرابہ ہو جاتا، لیکن یہ کچھ کانوں سے معذور کچھ آنکھوں سے مجبور نہ کچھ سمجھ سکے اور نہ یہ جانا کہ کیوں یہ شعر خاطرِ مبارک پر بار گزرا، خیریت گزری کہ انھوں نے فوراً مقطع پڑھ ڈالا:

یہ نظر آتا ہے ضبط اشک سے مجھ کو شعورؔ
چشم گریاں ہوں عیاں فوارہ ساں بالائے سر

شعور

 

شیخ عبد الرؤف ان کا نام اور تخلص شعورؔ ہے۔ شیخ حسن بلگرامی کے صاحبزادے، مصحفی کے دیکھنے والے ہیں۔ بہت ضعیف العمر ہیں، چلا جاتا نہیں مگر شعر گوئی سے عشق ہے۔ کہیں مشاعرہ ہو، لکڑی ٹیکتے چلے جا رہے ہیں۔ چوگوشیہ ٹوپی اور انگرکھا اور بر کے پائنچہ کا پائجامہ۔ اگلی صحبتیں دیکھے ہوئے، ادب و آداب کے پابند، جس جگہ بیٹھ گئے، جم دیا ہوگئے، آخر میں اٹھتے ہیں، ثقلِ سماعت بھی ہے، شعر خوب سمجھتے ہیں، یہاں بھی طرح پر کہہ کر لائے تھے۔

اس کے بعد شمع گویا ؔکے سامنے آئی۔

گویا

 

شیخ ولایت علی نام گویاؔ تخلص ہے۔ شیخ امام بخش کے صاحبزادے، قلندر بخش جرات کے شاگرد صاحبِ دیوان ہیں، استاد زادے ہونے کی وجہ سے ان کی قدر زیادہ ہے۔

جانتی ہے خلق جس کو آسماں بالائے سر
ہے یہ گویا میری آہوں کا دھواں بالائے سر

شعر استاد ناسخ کے رنگ میں تھا، محفل داد سے گونج اٹھی، سبحان اللہ، سبحان اللہ۔ سلطان عالم نے بھی فرمایا: واہ میاں گویاؔ خوب کہا؛ گویاؔ نے جھک کر سات تسلیمیں ادا کیں۔ ہر طرف سے مکرر مکرر کی طلب ہوئی، کئی مرتبہ پڑھوایا گیا، اور شعر ملاحظہ ہوں:

ناز کی سے کچھ نہ اس موئے میاں پر بل پڑے
بارِ گل ہرگز نہ رکھنا اے میاں بالائے سر
چہچہے کرتی ہے کیا بلبل چمن میں پھول پھول
کہتی ہے فصلِ بہاری ہے خزاں بالائے سر
کھل کھلا کر گل جو ہنستے ہیں تو شبنم روتی ہے
کہتی ہے اک دم میں آ پہنچی خزاں بالائے سر
دولتِ ایمان سے یا رب رہے گویاؔ غنی
لے گئے کب حشمت و زراغنیاں بالائے سر

شمع گردش کرتی اب فریاد کے سامنے آئی۔

فریاد

 

مرزا مغل بیگ، تخلص فریادؔ، مرزا تقی بیگ لکھنؤ کے بیٹے ہیں۔ الٰہ آباد میں کچھ عرصے سرشتہ دار رجسٹری رہے، مرثیہ میں جناب افسرؔ کے شاگرد ہوئے، پھر چند غزلیں حضرتِ ناسخ کو بھی دکھائیں تھیں، صاحبِ دیوان ہیں، طبیعت میں افسردگی بہت ہے۔ کم سخن اور کم گو ہیں، شعر سنانے کا ڈھنگ اچھا ہے، خوش پوشاک اور قرینہ کے آدمی ہیں۔

شمع کے سامنے سنبھل کر بیٹھے، پہلے بادشاہ کو مجرا دیا اور اجازت طلب کی۔ جانِ عالم نے فرمایا بسم اللہ کیجیے مرزا صاحب۔ مرزا صاحب آداب بجا لائے اور انداز خاص سے طرح پر یہ غزل پڑھی:

جب نہ تب پڑتے ہیں پائے رہرواں بالائے سر
کارواں کے ہیں روانہ کارواں بالائے سر
اس قدر تھا حاصلِ اموال دنیائے دنی
لے گیا قاروں نہ گنجِ رائگاں بالائے سر
ماہتابِ حسن ہے یا چہرۂ پُر نور ہے
موتیوں کی مانگ ہے یا کہکشاں بالائے سر
عیب بینی ایک کی ہرگز نہ کرتا دوسرا
کیوں ہوئیں پیدا نہ چشم مرد ماں بالائے سر
ایک سے ہے ایک اعلی قدرتِ اللہ ہے
دیکھ فریادؔ آسماں کے آسماں بالائے سر

اب شمع ایک استاد کے سامنے آئی، یہ نسیمؔ دہلوی ہیں، جن کے دم سے لکھنؤ میں دہلوی شاعری کا انداز قائم ہے۔ سچ پوچھو تو جو مزہ ان کی شاعری میں ہے وہ اکثر ان کے معاصرین میں جو خالص لکھنوی رنگ پر شیدا ہیں نہیں ملتا، اس لیے قدردان انھیں سر آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔

نسیم

 

اصغر علی خاں نام، نسیمؔ تخلص، دہلی کے رہنے والے ہیں، نواب آقا علی خاں کے بیٹے ہیں، شاگرد حکیم مومن خاں مومنؔ، لکھنؤ میں قیام ہے۔ دہلوی لباس میں ملبوس، گورے چٹے، حکیم صاحب کے منظور نظر، ادب و آداب میں فائق، رکھ رکھاؤ کے آدمی۔ شعر خوب کہتے ہیں، طبیعت میں کچھ رعونت بھی ہے، استاد کا رنگ چڑھا ہے، ذرا سی بات میں ناک بھوں چڑھ جاتی ہے۔ نول کشور پریس میں ایک مرتبہ الف لیلہ کو نظم کرنے پر مامور ہوئے، نول کشور کی طرف سے قصہ تمام کرنے میں جلدی کی فرمائش ہوئی، نسیؔم کو یہ بات ناگوار گزری اور انھوں نے اس شعر پر دفتر اول کو نظم کر کے چھوڑ دیا۔

لکھا یاں تک نسیمؔ دہلوی نےلکھا آگے سے طوطا رام جی نے

شعر سنتے ہیں، داد نہیں دیتے، دلی کی زبان کے متوالے، استادوں میں شمار، طرح پر فرماتے ہیں:

بے زبانوں کو ملا اوجِ لساں بالائے سر
ہر شجر رکھتا ہے کوپل کی زباں بالائے سر
گفتگوئے حرمتِ مے زندگی کرتی حرام
کھینچ کر رکھ دیتی واعظ کی زباں بالائے سر
کس کی پا بوسی کی خاطر یہ بلندی ہے تجھے
اے فلک ہے کون سا عرش آشیاں بالائے سر
سایہ پروردِ تمنا ہے دل ناداں مرا
لائیو آفت نہ کوئی آسماں بالائے سر
تنگ آئے ہیں دلِ نالاں سے کیسا اے نسیمؔ
روز ہے ہنگامۂ شور و فغاں بالائے سر

ان کے ہر شعر پر خوب داد ملی، سبحان اللہ اور واہ واہ کے شور سے محفل گونج اٹھی، انھوں نے بھی اٹھ اٹھ کر دونوں ہاتھوں سے ہر طرف تسلیمات عرض کی۔ جانِ عالم نے بھی از راہ قدر دانی بار بار ماشاءاللہ خوب کہا، خوب کہا کہہ کر عزت بڑھائی۔

ان کے بعد شمع مسیحاؔ کے سامنے آئی۔

مسیحا

 

حکیم محمد علی خاں نام، مسیحاؔ تخلص۔ معلوم ہوتا ہے کبھی طبابت کا پیشہ تھا اور غالباً اسی مناسبت سے مسیحاؔ تخلص اختیار کیا، مصطفی خاں کے بیٹے ہیں، اخبار نویسی کا مشغلہ ہے۔ امام بخش ناسخ سے اصلاح کلام لی۔ خوش گو، خوش فکر، ایک دیوان بھی مرتب کر لیا ہے، پتلے، دبلے، سانولا رنگ، سفید کُچّی ڈاڑھی، سر پر دو پلڑی ٹوپی، انگرکھا اور عرض دار پاجامہ، پرانے اخبارات کا پلندہ ساتھ۔ ہکلا کے پڑھتے ہیں، زندہ دل اور خوش مزاج ہیں، عمر کا حصہ بیت چکا ہے، پر ہنس مکھ ہیں۔ اخبار نویسی کی بدولت ہر ایک ان کا خیال کرتا ہے، اس کا چرچا ہے کہ فرنگیوں سے ساز باز رکھتے ہیں۔ فرماتے ہیں:

داغِ سودا فصلِ گل میں ہے عیاں بالائے سر
جوشِ وحشت کا یہ رکھتے ہیں نشاں بالائے سر
وصلِ گل سے عندلیبِ خستہ کو مانع نہ ہو
خون کیوں لیتا ہے تو اے باغباں بالائے سر
بزمِ عالم میں کبھی اعلیٰ کو آسائش نہیں
رات دن گردش میں ہے یہ آسماں بالائے سر
سر کشانِ ہفت کشور جن کے زیر دست تھے
پاؤں رکھتا ہے اب ان کے اک جہاں بالائے سر
سچ میں کہتا ہوں ثبوت اس کا بہت دشوار ہے
کس طرح باندھوں مسیحاؔ میں دہاں بالائے سر

ہکلا ہکلا کر پڑھنے نے غزل کا آدھا لطف کھودیا۔

پھر شمع ولیؔ کے سامنے آئی۔

ولی

 

علی محمد خاں نام، ولیؔ تخلص، خلف قائم علی خاں لکھنوی، شاگرد رشید نواب ظفر یاب خاں راسخ۔ خوش مزاج، ہنس مکھ چہرہ پایا ہے، اوائلِ عمر سے شعر کہتے ہیں، مشاعروں میں شریک ہونے کا بہت شوق ہے، جو کچھ کہتے ہیں اچھا کہتے ہیں، استاد کو ان پر ناز ہے۔

کھینچ اے جلّاد تیغِ امتحاں بالائے سر
کھیل بیٹھیں گے وگر نہ نیم جاں بالائے سر
عاشقِ صادق ہیں سرتابی کریں یہ کیا مجال
پاؤں رکھیے شوق سے اے مہرباں بالائے سر
گرچہ ہوں بے خود و لیکن کارِ خود ہشیار ہوں
رہتی ہے تصویرِ جاناں ہر زماں بالائے سر
ہمسرِ ماہِ دو ہفتہ ہے جبیں اس ماہ کی
مانگ میں افشاں نہیں ہے کہکشاں بالائے سر

اس پر مکرر مکرر کی فرمائش ہوئی، آداب بجا لا کر پھر سنایا اور اس مقطع پر کلام ختم کیا:

اے ولیؔ! کرتا بیاں وصفِ عروجِ زلفِ یار
کاش ہر موئے سرم بودے زباں بالائے سر

نادر

 

اب شمع جن حضرت کے سامنے آئی ان کا آغا کلبِ حسین خاں نام، نادر تخلص ہے، خلف الرشید احترام الدولہ دبیر الملک کلب علی خاں بہادر ہیبت جنگ، بنارس وطن ہے، اٹاوہ میں ڈپٹی کلکٹر ہیں مگر لکھنؤ آتے جاتے رہتے ہیں، مشاعرے کے لیے مخصوص طور سے آئے ہیں۔ خوش وضع، خوش پوشاک، خشخاشی ڈاڑھی رکھتے ہیں، مونچھیں بڑی بڑی، جسم دوہرا ہے، تصنیف و تالیف سے بھی شوق ہے، فن شاعری سے خاص مناسبت اور بے انتہا شوق ہے، چنانچہ آپ فرماتے ہیں:

لوگ کہتے ہیں کہ فن شاعری منحوس ہے
شعر کہتے کہتے میں ڈپٹی کلکٹر ہو گیا

کسی نے اس کا جواب بھی لکھا تھا:

تری قسمت میں لکھی تھی بادشاہی ہند کی
شعر کہتے کہتے تو ڈپٹی کلکٹر رہ گیا

اپنے استاد شیخ امام بخش ناسخ کے تو گرویدہ ہیں، جب نام لیں گے ادب سے لیں گے۔ غزل پڑھنے کا طرز دل پسند ہے، جوانی میں خوب رویوں سے بے تکلف رہا کرتے، آقا باقر ما زندرانی کی توجہ ان پر تھی، ان کے فارسی ادب میں زیر مشق بہت رہے۔

لطیفہ: جناب آغا مرزاؤں میں خوب رو تھے، مولوی اکرام اللہ صاحب تصویر الشعراء اور یہ جس طرف نکل جاتے تو لوگ صورت دیکھتے رہتے۔ مہرؔ کے یہاں صحبتِ احباب تھی، آغا بھی شریک تھے، آگرہ کی دو رقاصہ دُرگا بائی صنمؔ جن کی طرف مہرؔ مائل تھے، دوسری کالی خانم تھی، ہر دو آغا نادرؔ کو گھورے جاتی تھیں، دوستوں نے چھیڑنا شروع کیا۔ کہتے ہیں:

کبھی ہنس کر ذرا بولے کبھی پیش آئے گالی سے
خدا محفوظ رکھے اس مزاجِ لا اُبالی سے
برہمن پوجتے ہیں بت کو میں مردِ مسلماں ہوں
نہ دُرگا سے غرض مجکو نہ کچھ مطلب ہے کالی سے

طرح میں فرماتے ہیں:

واں نزاکت سے ہے ٹوپی تک گراں بالائے سر
کوہِ غم رکھتے ہیں یاں ہم ناتوں بالائے سر
ایک ضربت میں اڑائے گا جو قاتل سر مرا
موئے سر بہرِ ثنا ہوں گے زباں بالائے سر
آہِ آتش ناک کے شعلے اگر ہوں گے بلند
جل کے آخر گر پڑے گا آسماں بالائے سر
گر خراماں باغ میں سروِ خراماں ہو مرا
پاؤں اس کے رکھے سروِ بوستاں بالائے سر
یا علی نادرؔ تمھارا فدویٔ جاں باز ہے
مارو اب دشمن کے تیغِ دو زباں بالائے سر

ان کے بعد مہجورؔ کی باری آئی۔

مہجور

 

عنایت حسین خاں بہادر نام، تخلص مہجورؔ، نواب اقبال الدولہ لقب، خلف نصیر الدین علی خاں صمصام جنگ نصیرؔ ابن نواب امین الدولہ عزیز الملک علی ابراہیم خاں نصیر جنگ، خلیلؔ تخلص، سکونت بنارس ہے، مہجورؔ اکثر لکھنؤ میں قیام رکھتے ہیں، صاحبِ دیوان ہیں، امیرانہ ٹھاٹ ہیں، امرائے لکھنؤ کا سا لباس پہنتے ہیں، تکلف بڑا ہے، جس محفل میں جاتے ہیں تمکنت اور وجاہت کو ٹھیس لگنے نہیں دیتے، عیاش طبیعت ہیں، عمر کا حصہ بہت بیت گیا ہے، نخرے نہیں جاتے۔ نواب نصیر الدین حیدر کے زمانہ میں بڑی پوچھ گچھ تھی، اب زیادہ دربار میں پرسش نہیں ہے، طبیعت کی موزونی سے شعر کہہ لیا کرتے ہیں، دو ایک شاعر دامنِ دولت سے وابستہ رکھتے ہیں۔ کہتے ہیں:

ہے جو آہوں کا ہمارے یہ دھواں بالائے سر
تازہ تر پیدا ہوا ہے آسماں بالائے سر
اے اجل تو آ کے کر دے اب سبکدوش اس کو آہ
بار رکھے تابکے یہ ناتواں بالائے سر
باغباں نالوں میں اس کی کچھ بھی گر تاثیر ہو
پاؤں قمری کے رکھے سروِ رواں بالائے سر
ترک ہو عشقِ بتاں ہم سے نہ ہوگا ناصحا
ورنہ جو فرمایئے سب مہرباں بالائے سر
جامہ زیبی کچھ نرالی اس کی اے مہجورؔ ہے
کجکلہ گو رکھتے ہیں سب نوجواں بالائے سر

اس کے بعد کوثرؔ کی باری آئی۔

کوثر

 

مرزا مہدی نام، کوثرؔ تخلص، ولد مرزا قطب الدین حیدر، شاگرد ناسخ۔ بوڑھے آدمی ہیں، ہر ایک لحاظ کرتا ہے، موزوں طبیعت ہیں، ہر ایک استاد کہہ کے پکارتا ہے، ناسخ کی نظر ان پر بہت تھی۔ طرح پر کہتے ہیں:

داغ سودے کے ہوئے اے گل عیاں بالائے سر
قدرتِ حق سے کُھلا یہ گلستاں بالائے سر
کب اندھیرے سے ضرر ہوتا ہے روشن طبع کو
شمع جلتی ہے تو ہوتا ہے دھواں بالائے سر
جب کہ اس رشکِ قمر نے مانگ میں موتی بھرے
ہوگیا سب کو ستاروں کا گماں بالائے سر
کچھ بھی دل میں ہے تمھارے اے بتو خوفِ خدا
بیگُنہ لیتے ہو خونِ عاشقاں بالائے سر
مثلِ کوثرؔ عاشقوں میں سرخرو ہو جائے گا
ایک دن آئے اگر تیغِ بتاں بالائے سر

میر تقی میرؔ کے صاحبزادے کی باری تھی، تمام مجلس میں غلغلہ بپا ہوگیا، ہر ایک نے نگاہیں اٹھا کر ان کی طرف دیکھا، صبرؔ نے کہا: قبلہ عرش صاحب تشریف لائے ہیں، وہ آگے بڑھے اور شمع کے سامنے آ کر بیٹھ گئے۔

عرش

 

میر حسن عسکری نام، عرفیت میر کلّو، عرش تخلص، خلف میر تقی میر اکبر آبادی، شاگرد حضرتِ ناسخ۔ باپ کی سی بات تو ہے نہیں، لکھنوی عادات و اطوار میں بڑے ظریف اور نکتہ سنج، کلام میں میر صاحب کا رنگ جھلکتا ہے، زبان پر ناز ہے۔ دلی اور لکھنؤ کا ملا جلا لباس زیبِ جسم ہے، لانبا قد، سانولی رنگت، بھری ڈاڑھی، کچھ عرصہ کلّا صاف بھی رہا۔ اچکن پہنتے ہیں اور قبلے نما ٹوپی سر پر، کشمیری رومال گردن میں لپٹا ہوا۔ ناسخ پر مٹے ہوئے ہیں، مگر ان کے پورے مقلد نہیں۔ استاد زادے ہیں، ہر ایک عزت اور منزلت سے پیش آتا ہے، بادشاہ بھی احترام کرتے ہیں، عمر ڈھل چکی، پر کرارا پن باقی ہے، پڑھنے میں آن بان لیے ہوئے طرح میں فرماتے ہیں:

رات دن آتے ہیں سنگِ کود کاں بالائے سر
عشقِ بت اٹھوائیگا کوہِ گراں بالائے سر
اے دلِ ناداں نہیں ہے کہکشاں بالائے سر
تیغ کھینچتے ہے یہ ترکِ آسماں بالائے سر
وہ گدا ہوں میں کہ رشکِ شاہِ ہفت اقلیم ہوں
چترساں پھرتے ہیں ساتوں آسماں بالائے سر
آگیا ہوں پیچ میں مثلِ زمیں میں خاکسار
آسماں زیرِ قدم ہے آسماں بالائے سر
مثلِ ساغر پائے خم جاوے ہے مجھ میخوار کو
حشر تک ہے منتِ پیرِ مغاں بالائے سر
حشر برپا ہو رہا ہے قِرانِ مہر و ماہ
چاند سورج میں جو آئے جانِ جاں بالائے سر

ان کے بعد جوش کے پڑھنے کی باری آئی۔

جوش

 

میر وارث علی نام، جوش تخلص، خلف منشی میر حسن علی، شاگرد ناسخ، بوڑھے آدمی ہیں، موزوں طبیعت ہیں، مگر ان کی پیرانہ سالی کا ہر ایک خیال کرتا ہے، اس لیے آخر میں کلام پڑھوایا جاتا ہے۔ طرح پر کہتے ہیں:

کا کلِ شبگوں نہیں اے جانِ جاں بالائے سر
ہے چراغِ روئے روشن کا دھواں بالائے سر
ناتوانی سے ہوئے ہیں موئے سر ایسے وبال
نوک ہے ہر بال کی نوکِ سناں بالائے سر
تیر جو تیرا لگا ہے سر پہ او ناوک فگن
ہے دہانِ زخم میں گویا زباں بالائے سر
گیسوئے شب رنگ پر ٹوپی ستاروں کی نہیں
ہیں شبِ تاریک میں تارے عیاں بالائے سر
جوشِ وحشت میں ہوا اے جوشؔ یہ سودا ہمیں
پھاڑ کر دستار باندھیں دھجیاں بالائے سر

ان کے بعد عاشق نے اپنا کلام سنایا۔

عاشق

 

محمد علی خاں نام، عاشقؔ تخلص، مشیر الدولہ خطاب، ولد رحمت اللہ خاں فیض آبادی۔ عرصہ سے لکھنؤ میں قیام ہے، صاحبِ دیوان ہیں، شاگرد میر حیدری مرثیہ گو۔ چھریرہ بدن، لنبوتری گردن، کالا اور سیتلا کا چُگا ہوا چہرہ، مونچھیں بڑی، ڈاڑھی منڈی ہوئی، سوز خوانی کا شوق۔ شعر پڑھتے ہیں معلوم ہوتا ہےسوز پڑھ رہے ہیں۔کہتے ہیں:

لٹ کو لٹکائے جو آیا وہ جواں بالائے سر
آگئی عاشق بلائے ناگہاں بالائے سر
سرکے تعویذوں پہ تیرے میں کہوں پھبتی نئی
خوشۂ پرویں ہے یہ اے مہرباں بالائے سر

علی

 

پھر شمع مرزا علی خاں کے سامنے آئی۔ علی ان کا تخلص ہے، خلف مرزا احمد بیگ خاں طپاںؔ، ان کے اسلاف دشتِ قبچاق کے رہنے والے تھے، کچھ عرصہ دہلی رہے، اب بسلسلۂ  کاروبار کلکتہ میں قیام ہے، اب لکھنؤ آرہے۔ خواجہ وزیرؔ کے شاگرد ہیں، ایرانی لباس مرغوب ہے، ملنے والے اچھے ہیں، موزوں طبع ہیں، استاد کی توجہ خاص ہے۔ فرماتے ہیں:

آہِ سوزاں کا جو رہتا ہے دھواں بالائے سر
آسماں پیدا ہوا ہے آٹھواں بالائے سر
تجھ سے او قاتل بیاں کرتے کچھ اپنی سرگزشت
زخم میں پیدا اگر ہوتی زباں بالائے سر
سلسلہ جنباں ہوئی کیا وحشتِ گیسوئے یار
لاتی ہیں حد اور کہہ کر بیڑیاں بالائے سر
کیوں نہ گھر سارا ترے آنے سے مہکے مثلِ باغ
تن سمن ہے گیسوئے عنبر فشاں بالائے سر
کہکشاں دکھلاتی ہے جلوہ سب تاریک میں
خط نہیں سیندور کا اے جانِ جاں بالائے سر
ساق و ساعد کی صفت کے واسطے اے شعلہ رو
شمع کی صورت ہوئی پیدا زباں بالائے سر
داغِ سودا سر پہ ہیں مثلِ گلِ تر اے علیؔ
چاہیے بلبل کو بھی اب آشیاں بالائے سر

جناب صبرؔ نے اعلان کیا کہ اب شمع استاد سحرؔ کے سامنے آتی ہے، سامعین بھی سنبھل کر بیٹھے۔ اتنی رات بھیگنے پر کہیں کہیں خمار کے آثار آ چلے تھے، کسی نے آنکھیں ملیں، کسی نے پہلو بدلا، شمع بردار نے بھی ذرا روشنی چمکائی اور جنابِ سحر کی باری آئی۔

سحر

 

شیخ امان علی سحرؔ ولد شیخ محمد امین کڑہ مانک پور کے رہنے والے، امجد علی شاہ کے عہد میں لکھنؤ آئے اور یہیں رہ پڑے۔ ناسخ کے شاگرد ہوئے، چنانچہ خود اعتراف فرماتے ہیں:

ہو قیامت شعر میں اپنے نہ کیوں کر اے سحرؔ
مدتوں صحبت اٹھائی ناسخ مغفور کی

لا ابالی طبیعت تھی، وارستہ مزاج تھے، رفع شر کے خیال سے متروکہ پدری چھوڑ بیٹھے:

ترکے کے لیے کون عزیزوں سے لڑے
جیتے ہیں سدا دہر میں چھوٹے بہ بڑے
باپ آج مُوا بیٹے کو کل مرنا ہے
دو دن کے لیے کون بکھیڑے میں پڑے

نواب محمد احسن خاں کی سرکار سے منسلک تھے، کچھ دنوں امجد علی شاہ کے دربار سے تعلق رہا، ہفتہ وار مشاعرہ اپنے مکان پر کیا کرتے:

کفش خانے کو جو احباب سرفراز کریں
آٹھویں روز اسی طرح کا جلسہ ہوجائے
چار غزلیں ہوں مہینے کی تو کیا کم ہیں شعر
کاش اس حیلے سے دیوان ہمارا ہوجائے

سحرؔ وضع کے یکتا تھے، جب پہنا، ایک ہی رنگ کا لباس پہنا، جس کپڑے کی ٹوپی ہے، اسی کا انگرکھا، اسی کا پائے جامہ۔ آدمی حسین اور جامہ زیب تھے، اس پر وارستگی کی بہار۔ محمد تقی خاں کانپوری شاگرد رشکؔ کہتے تھے، کبھی کبھی آپ خس کی پوشاک بھی زیب بر کر کے اسی رنگ سے نکلا کرتے، انگرکھا، ٹوپی، جوتا حتی کہ عصا خس پوش ہوتا اور تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد خادم آپ پر پانی چھڑکتا جاتا تھا، ایک شعر ان کے اسی زمانہ میں بہت مقبول تھا:

ہمیں کیا جو تربت پہ میلے رہے
کہ ہم تو وہاں بھی اکیلے رہے

ہاتھ کی ردیف میں غزل پڑھی:

پائے نظر الجھتے ہیں ہر بار ہاتھ میں
آئینہ ہے حجاب کی دیوار ہاتھ میں
مثلِ کمر لچکتی ہیں دونوں کلائیاں
بھاری ہیں پائینچے دمِ رفتار ہاتھ میں
دو ہی قدم میں وادیٔ الفت کو طے کیا
دریائے غم سے پار ہوا چار ہاتھ میں
سب عاشقوں کو آپ برابر نہ چاہیے
پانچ انگلیاں کب ایک سی ہیں یار ہاتھ میں
کچھ کھا کے سو رہیں گے قسم کھاتے ہیں سحرؔ
یہ سبحہ خاکِ پاک کی ہے یار ہاتھ میں

دوسرے شعر پر خوب داد ملی اور کیوں نہ ملتی، اپنے رنگ کا خاص اثر جھلکتا تھا۔ خارجی مضمون میں زبان کی لطافت سے مل کر ایسا نقشہ کھینچا تھا کہ سننے والوں کو خاص لطف حاصل ہوا، جان عالم کو بھی پسند آیا جس کا اظہار قدرے مسکرا کر کیا اور فرمایا: ماشاء اللہ خوب کہتے ہو؛ انھوں نے کھڑے ہو کر تسلیمات عرض کیں پھر اپنی جگہ پہنچ کر باقی اشعار سنائے۔ اہلِ مشاعرہ نے سحر کو ان کے کلام کی قرار واقعی داد دی، یہ بھی مسکراتے جاتے تھے، کبھی ایک طرف مخاطب ہو کر آداب بجا لاتے تھے، کبھی دوسری طرف توجہ کر کے تسلیمات عرض کرتے تھے اور اپنی قدر دانی پر ارباب نظر کے سامنے بچھے جاتے تھے۔

اب حضرتِ بحر کی باری تھی، یہ خود اٹھ کر جگت استاد بن شمع کے سامنے آئے۔

بحر

 

شیخ امداد علی نام، تخلص بحرؔ، خلف شیخ امام بخش لکھنوی، شاگرد ناسخ۔ تحقیق الفاظ و صحت زبان اور فنِ عروض میں بڑی شہرت ہے۔ ۱۲۲۵ ؁ھ میں پیدا ہوئے تھے، ناسخ کے جرگے کے نقیب ہیں۔ پتلے، دبلے، ڈھیلا پائجامہ، لمبا کرتا، اس پر انگرکھا، پاؤں میں لکھنوی کفش، لکھنوی طرز کے اصلی نمونے۔ ہر ایک ان کا خیال کرتا ہے۔ ایک شعر پڑھا:

گئی برسات گزرا سال یہ بھی آہ وشیوں میں
خبر ہم کو نہیں بادل کدھر آیا کدھر برسا

سماں کچھ ایسا تھا اور پڑھنے کا انداز اس طرح کا کہ شعر کے مضمون نے خاص اثر کیا، جو لوگ نیند کے جھونکے لینے لگے تھے وہ بھی چونک پڑے اور توجہ سے کلام سننے لگے، انھوں نے طرح پر غزل شروع کی:

شالِ نارنجی ہوئی زیبا وہاں بالائے سر
داغِ سودا سے اٹھے شعلے یہاں بالائے سر
پاؤں کی مہندی ستم ہے اور آفت سر کے بال
آگ ان کے پاؤں کے نیچے دھواں بالائے سر
بخت ایسے ہیں جو ڈھونڈوں سایۂ ابرِ کرم
صاعقے کی طرح ہو آتش فشاں بالائے سر
سرفرازی مجھ پہ فرمائی قدم رنجہ کیا
بیٹھیے بالائے چشم اے مہرباں بالائے سر
کیوں قدم رکھنے نہیں دیتا چمن میں باغباں
کیا اٹھا لے جاؤں گا میں بوستاں بالائے سر
بوڑھے اور بوڑھوں کے عمامے پاؤں کے نیچے ملے
ٹیڑھی ٹوپی رکھ کے تو نے اے جواں بالائے سر
موتیوں سے مانگ بھرنا اس کا یاد آتا ہے بحرؔ
رات، آری کھینچتے ہی کہکشاں بالائے سر

اِدھر لوگ رشک کی طرف نظریں لگائے ہوئے تھے جن کے سامنے شمع آنے والی تھی، انھیں استاد ناسخ کا جانشین سمجھا جاتا تھا اور یہ مسلمہ تھا کہ ناسخ مرحوم کے بنائے ہوئے قاعدوں اور اصولوں کو ان کے تلامذہ میں سب سے زیادہ انھیں نے برتا ہے۔ استاد اپنی زندگی میں ہی اکثر نو مشق شعرا کو بغرض اصلاح ان کے سپرد کرتے تھے۔

رشک

 

میر علی اوسط نام، رشکؔ تخلص، منیر سلمان کے صاحبزادے، لکھنؤ کے رہنے والے، علوم رسمی سے واقف ہیں، متوسط قد، کہسکتا چہرہ، چھریرہ بدن، قبلے نما ٹوپی۔ انگرکھا بالے دار اور پٹکا لکھنوی استعمال میں رہتا ہے، تنگ موری کا پائجامہ، چھڑی ہاتھ میں، طرز پڑھنے کا خوب ہے۔ منیر شکوہ آبادی پر جان دیتے ہیں، ان کی حسن پرستی پر انگلیاں اٹھتی ہیں، مگر ایام محرم میں عزاداری میں انہماک رکھتے ہیں۔ یہ نہایت متین اور مہذب تھے، مگر ان کے بعض اشعار ظرافت کی چاشنی سے خالی نہیں، اس کی وجہ صرف یہی معلوم ہوتی ہے کہ اس وقت کے لوگ متانت کے ساتھ ظرافت سے کلام میں مزہ پیدا کرتے تھے۔ جو شعر نیچے لکھے جاتے ہیں ان سے یہ صاف معلوم ہوتا ہے کہ نادانستہ ظرافت نہیں ہے بلکہ قصداً اس طرف قدم بڑھایا گیا، اگر ایسا نہ ہوتا تو پھر یہ نہ لکھے جاتے:

چاول الماس گوشت لختِ جگر
فرقتِ یار میں پُلاؤ نہیں
میرے کھانے سے کیوں فلک ہے کباب
پاؤ روٹی ہے نان پاؤ نہیں
اور کیا ہے ترا لعابِ دہن
یہ اگر قند کا چواؤ نہیں
اب کے جاڑے میں اور نالہ و آہ
اس طرح کا کوئی الاؤ نہیں
یہ زمینِ غزل وہ ہے اے رشکؔ
جس میں ذرہ کہیں بھراؤ نہیں

مندرجۂ بالا غزل سن کر کسی ظریف الطبع نے سرِ مشاعرہ یا سر محفل رشک کو مخاطب کیا اور یہ شعر پڑھا     ؎

چھچڑے دور سے دکھاؤ نہیںرشکؔ بیٹھا ہے بن بلاؤ نہیں

سننے والوں نے وہ قہقہہ اڑایا کہ محفلِ عشرت گونج گئی، اس سے اس عہد کی شاعری اور اس خاص مذاق کا یہی پتہ چلتا ہے کہ استادی اور قادر الکلامی کے اظہار کے لیے مصرع طرح پر کوئی ممکن قافیہ طبع آزمائی سے چھوٹتا نہ تھا۔ چنانچہ صرف بلاؤ کا قافیہ رہ گیا تھا جسے اس طرح پورا کر دیا گیا تھا۔ کچھ طبیعت ناساز ہے، سلطان عالم اور اہلِ مشاعرہ کے اصرار پر پاؤں کی ردیف میں غزل سنائی، مجلس نے داد بہت دی، فرماتے ہیں:

سوجے ہیں پھرتے پھرتے یہ مجھ خستہ تن کے پاؤں
مارے ورم کے بن گئے لاکھ من کے پاؤں
ہم کاٹتے ہیں عمر غمِ تیغ یار سے
آئے اجل تو قطع ہوں اُس بد چلن کے پاؤں
ہم خاک بھی ہوئے وہ نہ آئے مزار پر
پروانہ جل کے پڑتا ہے شمعِ لگن کے پاؤں
وہ مہ سیاہ پوش محرم میں ہوگیا
رکھا ہے ماہ تاب نے اندر گہن کے پاؤں
چھانی ہے خاک وادیٔ غربت میں ہم نے رشکؔ
وحشت میں چھلنی ہوگئے کانٹوں سے چھن کے پاؤں

ان کے بعد محسن کی باری آئی۔

محسن

 

سید محسن علی نام، تخلص محسنؔ، ولد سید شاہ حسین ابن سید عرب شاہ، آپ کے اجداد خوست سے توابع بلاد غور سے تھے۔ عرب سے آ کر خوست کا رہنا اختیار کیا، سید امیر جو اولاد سید امیر کلال حسب الطلب فرخ سیر مع تبرکات سندی لاہور آگئے۔ سید میرک شاہ ان کے جد کے والد شاہ عالم کے زمانہ میں دلی پہنچے، سید شاہ حسین ہمراہ اپنے نانا حکیم میر محمد نواز مغفور لکھنؤ چلے آئے، خواجہ وزیرؔ اور مہر علی اوسط رشکؔ کے شاگرد ہوئے۔ ہاتھ کے قافیہ پر غزل پڑھی:

زندگی بھر نہ کبھی وہ گلِ تر ہاتھ آیا
بس یہی نخلِ محبت کا ثمر ہاتھ آیا
ہنس کے کہتے ہیں وہ عاشق کا جو سر ہاتھ آیا
شاخِ شمشیر سے ہم کو یہ ثمر ہاتھ آیا
دیکھ کر دست درازی مری جھنجلا کے کہا
شامت آ جائے گی اب کے جو ادھر ہاتھ آیا
غم ہوا لاکھ مگر ایک نہ آنسو نکلا
نخلِ ماتم سے بھی ہم کو نہ ثمر ہاتھ آیا
مرگئے ہم نہ گئی ہجر کی شب اے محسنؔ
اپنی میت کو نہ کافورِ سحر ہاتھ آیا

اب شمع گردش کرتی ایک نوجوان کے سامنے آئی جن کے چہرے سے پاکیزگی، گفتگو سے ادب اور اشاروں کنایوں سے متانت ٹپکتی تھی، بظاہر پچیسواں سال تھا لیکن چہرہ پر ایک نورانی ضیا تھی، یہ محسن کاکوری ہیں۔

محسن کاکوری

 

محسن کا کلام اس حیثیت سے زیادہ قابلِ قدر ہے کہ اس کی بنیاد خلوص و محبت پر رکھی ہے۔ انھوں نے اپنی شاعری کو اپنی شہرت، عزت یا صلے کا ذریعہ نہیں بنایا، اپنی تمناؤں کا اظہار کس خوبی سے چراغِ کعبہ کے آخر میں کرتے ہیں، رسول کریم ﷺ سے خطاب کرنے کے بعد لکھتے ہیں:

جس طرح ملا تو اپنے رب سے
انداز سے شوق سے ادب سے
یوں ہی ترے عاصیانِ مہجور
ایک دن ہوں تری لقا سے مسرور
صدقے میں ترے یہ آرزو ہے
دم میں کریں راہِ آخرت طے
ہو حشر کا دن خوشی کی تمہید
جس طرح سے صبحِ صادقِ عید
گزرے مری نعت کے سخن میں
رکھی ہو یہ مثنوی کفن میں
پھولے پھلے گلشنِ تمنا
عقبی مری پھل ہو پھول دنیا
یاں شوق و خلوص و التجا ہو
واں میں ہوں اور آپ ہوں خدا ہو

پاؤں کی ردیف میں حسب ذیل غزل پڑھی:

تھے گرد سے بھرے جو غریب الوطن کے پاؤں
شبنم دھلا رہی ہے نسیمِ چمن کے پاؤں
آیا نہ ٹھیک بر میں ہمارے کوئی لباس
مرنے کے بعد بھی رہے باہر کفن کے پاؤں
مانی نہ ایک بات سحر تک شبِ وصال
میرا سرِ نیاز تھا اور سیم تن کے پاؤں
آئی جو اس کے آنے سے گلشن میں فصل گل
بلبل نے چوم چوم لیے گل بدن کے پاؤں

مصرعہ ثانی پر الفاظ کے انتخاب نے استادوں کو بھی داد دینے پر مجبور کر دیا، انھوں نے بڑی متانت سے ہر طرف آداب عرض کیا اور اس مقطع پر جو ان کی طبعی مناسبت ظاہر کرتا ہے، کلام ختم کیا:

محشر کے دن وسیلہ شفاعت کا ہو مجھے
محسنؔ جو ہاتھ آئیں حسینؑ و حسنؑ کے پاؤں

ان کے بعد ایک اور استاد کی باری آئی جو عمر میں جوان اور شہرت میں بوڑھے ہو چکے ہیں۔

تسلیم

 

نام امیر اللہ، تخلص تسلیمؔ، والد کا نام مولوی عبد الصمد انصاری، تعلیم و تربیت لکھنؤ میں ہوئی۔ نسیمؔ دیلوی کے شاگرد، فربہ اندام، آواز متوسط، وضع لباس قدیم، پڑھنے کا انداز معمولی، خطاطی میں کمال بہم پہنچایا۔ بادشاہ کی تصنیفات کی تحریر پر عرصہ تک ملازم رہے۔ پہلے سلطان عالم سے اجازت طلب کی، پھر استاد کی طرف دیکھا، انھوں نے فرمایا بسم اللہ کرو، انھوں نے ایک رباعی پڑھی:

کوئی مخلوق ہوا زہد و عبادت کے لیے
کوئی دنیا میں ہوا خلق حکومت کے لیے
ہم سیہ نامہ تھے مانندِ قلم اے تسلیمؔ
آئے اس صفحۂ ہستی پہ کتابت کے لیے

اس کے بعد طرحی غزل سنائی:

چشمِ معنی بیں سے دیکھ اے مہربان بالائے سر
رنگ کیا کیا لا رہا ہے آسماں بالائے سر
جل رہا ہے دل مرا سوز دروں سے روز و شب
موئے سر بن کر نکلتا ہے دھواں بالائے سر
دل میں دیتے تھے جگہ کل تک مجھے یارانِ جاہ
آج رکھتے ہیں قدم نا قدر داں بالائے سر
گاہ شادی ہے کبھی ہیں غم کے ساماں جلوہ گر
روز ہیں سو طرح کی نیرنگیاں بالائے سر
بس کر اے تسلیمؔ عرضِ شیوۂ شعر و سخن
تا کجا ہر لحظہ لب پر زیر پا بالائے سر

تسلیمؔ کے بعد برقؔ کے سامنے شمع رکھی گئی۔

برق

 

پورا نام فتح الدولہ بخشی الملک مرزا محمد رضا خاں، برقؔ تخلص، باپ کا نام مرزا کاظم علی خاں، خطاب نواب واجد علی شاہ کی سرکار سے ملا تھا، جن کے مصاحبِ خاص اور استاد ہیں۔(٣)

برقؔ علاوہ شاعری کے بانکپن میں مشہور، بانک، بنوٹ وغیرہ کے ماہر، ہاتھ کی ردیف میں غزل پڑھی:

بچتا رہا ہوں ہاتھ پہ اے جان دھر کے ہاتھ
ممکن نہیں کہ جان بچے اور سر کے ہاتھ
لایا ہے خطِ یار قدم پر نثار ہوں
آنکھوں سے کیوں لگاؤں نہ میں نامہ بر کے ہاتھ
دلچسپ ہے یہ جسم کہ چھو لوں جو وصل میں
سر جائے، پر وہاں سے کبھی پھر نہ سرکے ہاتھ
پنجے تمھارے پنجۂ مژگاں سے کم نہیں
اللہ نے بنائے ہیں خطِ نظر کے ہاتھ
مانندِ شمع ہجر کے دیکھی نہ میں نے صبح
آیا پیامِ موت نسیمِ سحر کے ہاتھ
محشر میں رنگ لائے گا مہدی نہیں ہے برقؔ
پچتائیں گے ہمارے لہو میں وہ بھر کے ہاتھ

اب مہر کی باری آئی، نقیب نے اعلان کیا: حضرات! اب جنابِ مہرؔ کے کلام کی ضیا باری ملاحظہ ہو۔

مہر

 

نام مرزا حاتم علی بیگ، تخلص مہرؔ، ناسخ کے شاگردوں میں سب سے ممتاز، بچپن سے شاعری کا شوق تھا۔(٤)

مرزا غالب تو ان کو استاد ناسخ سے بہتر سمجھتے تھے، چنانچہ اپنے مکاتیب میں ناسخ کو ‘‘ایک فن’’ بتایا ہے اور مہر کی قادر الکلامی کی بے حد تعریف کی ہے۔

حضرت خواجہ بے خبرؔ میں اور مہرؔ میں بے حد مراسم تھے۔ وبائی مرض میں بے خبرؔ  مبتلا ہوئے، اتفاقیہ مہرؔ کو جب خبر لگی جب خواجہ بے خبرؔ نے غسلِ صحت کیا۔ اس پر مہرؔ نے یہ قطعۂ مسرت لکھ کر خواجہ بے خبر کو بھیجا،پھر خود حاضر ہوئے:

منشی غلام غوث ہیں مشہور بے خبر
ہم سا بھی بے خبر مگر اے مہر کم ہوا
ان کے علیل ہونے کا فصلِ وبائی میں
مطلق نہ ہم کو علم خدا کی قسم ہوا
اب جو سنا تو رنج ہوا پر یہ شکر ہے
اُس سے سوا خوشی ہوئی جتنا کہ غم ہوا
ہاتف نے ایک مصرعِ تاریخ پڑھ دیا
اچھی طرح سے ہیں یہ خدا کا کرم ہوا

کشیدہ قامت، رنگ گندمی، ڈاڑھی منڈی ہوئی، مونچھیں بڑی اور بھری ہوئی، لباس میں بالے دار انگرکھا، قبلہ نما ٹوپی، چوڑی دار تنگ موری کا پاجامہ، سلیم شاہی جوتہ کا مدار، چاندی کی موٹھ دار چھڑی ہاتھ میں رکھتے ہیں۔ کہتے ہیں:

شمشاد کیوں نہ چوم لے اُس گل بدن کے پاؤں
گر ہاتھ شاخِ گل ہیں تو شاخِ سمن کے پاؤں
اے شمع حسنِ عشق میں تیرے یہ ضعف ہے
اٹھتے نہیں ہیں اس ترے کا ہیدہ تن کے پاؤں
ہیہات ہم کنار نہ اک بار وہ ہوا
سو بار ہم پڑے بتِ پیماں شکن کے پاؤں
وہ چشمِ مستِ یار اگر دیکھ لے کبھی
نقشِ قدم بنیں نہ اٹھیں پھر ہرن کے پاؤں
گر یوں مہرؔ  کو آپ لگانے نہ دیں گے ہاتھ
چھولے گا ایک روز وہ دیوانہ بن کے پاؤں

اب شمع وزیر کے سامنے رکھ دی گئی، اتنی دیر میں یہ کچھ اونگھ گئے تھے، یکایک جھرجھری لی اور سنبھل کر اجازت طلب کی۔

وزیر

 

نام خواجہ محمد وزیر، تخلص وزیرؔ، شاگرد ناسخ، اپنے عہد کے مشّاق شعرا میں سے تھے۔ ایک مرتبہ ان کے استاد امام بخش ناسخ ایک مشاعرہ میں اس وقت تشریف لائے جب مشاعرہ قریب الختم تھا، مگر آتشؔ و چند شعرا ابھی موجود تھے، وزیرؔ کے استاد ناسخ نے یہ مطلع پڑھا:

جو خاص ہیں وہ شریکِ گروہِ عام نہیںشمار دانۂ تسبیح میں امام نہیں

چونکہ یہ غزل خاص لوگوں کے سامنے پڑھی گئی تھی یعنی عوام اٹھ کر چلے گئے اور نام بھی امام تھا اس وجہ سے بڑی واہ واہ ہوئی، لیکن آتشؔ نے فوراً مطلع موزوں کیا:

یہ بزم وہ ہے کہ تاخیر کا مقام نہیںہمارے گنجفہ میں بازیٔ غلام نہیں

ابھی ناسخ اس کا جواب بھی نہ دینے پائے تھے کہ ان کے شاگرد رشید خواجہ وزیر وزیرؔ نے مطلع پڑھا کہ مشاعرہ چونک گیا اور ان کے استاد ناسخ بھی اچھل پڑے اور بہت داد دی گئی:

جو خاص بندے ہیں وہ بندۂ عوام نہیںہزار بار جو یوسف بکے غلام نہیں

اس شعر میں اس کا بھی جواب تھا کہ بعض لوگ ناسخ کو خدا بخش خیمہ دوز کا غلام کہتے تھے اور ترکہ پدری کی تقسیم میں اسی اختلاف نے تنازع کی صورت اختیار کر لی تھی۔

عین حالتِ نزع میں جب کہ اعزہ و احباب کا مجمع تھا انھوں نے اسی حالت میں مرنے سے ایک گھنٹہ پیشتر یہ شعر پڑھا تھا:

بیمارِ محبت نے ابھی  یاد کیا تھاخوب آ گئی اے موت تری عمر بڑی ہو

ہاتھ کی ردیف میں غزل پڑھی:

شوخی تو دیکھو کہتے ہیں اپنے چھپا کے ہاتھ
ہیں آج دستِ غیب ترے آشنا کے ہاتھ

مطلع کے استادانہ رنگ پر ہی محفل گونج اٹھی، ہر شخص بار بار داد دیتا تھا اور اس ادائے خاص کا لطف لیتا تھا جس کی طرف وزیرؔ نے اشارہ کیا تھا:

چاہے اگر خدا تو ہر اک عیب ہو ہنر
موسی کو دے دیا ید بیضا جلا کے ہاتھ
الٹی جو آستین تو اک صف الٹ گئی
تیغِ برہنہ ہوگئے اس دل ربا کے ہاتھ
ہے آرزوئے قتل اجی دم نہ دو مجھے
چھوٹا ہے نیمچہ تو لگاؤ بڑھا کے ہاتھ
دیں دار ہم اسی کو سمجھتے ہیں اے وزیرؔ
دنیا سے جو بیٹھ رہا ہو اٹھا کے ہاتھ

مقطع میں محاورہ کچھ اس انداز سے نظم ہوگیا تھا کہ بے ساختہ سب کی زبان سے واہ واہ نکل گئی، ویسے بھی ان کا شمار استادوں میں ہوتا تھا، اس لیے حاضرین نے دل کھول کر داد دی۔وزیر کے بعد شمع قلقؔ کے سامنے آئی۔

قلق

 

ان کا نام خواجہ اسد علی خاں اور تخلص قلقؔ ہے، والد کا نام خواجہ بہادر حسین فراقؔ، خواجہ وزیرؔ کے بھانجے اور ان ہی سے مشورۂ سخن کرتے تھے۔ قلقؔ کا رنگ گورا، جسم ذرا نحیف، آواز کچھ پست، آفتاب الدولہ شمس جنگ بہادر کا خطاب واجد علی شاہ نے دیا۔ ایک مرتبہ حضرت سلطان کے محل میں بڑے دھوم دھام کا جلسہ تھا، شعرائے وقت نے بڑے زوروں میں قصیدے لکھے، حاضرین دربار میں مظفر علی اسیرؔ و خواجہ اسد اللہ قلقؔ بھی موجود تھے، ان لوگوں نے بھی قصیدے پڑھے۔ بادشاہ نے حسب دستور قصیدوں کو قبول فرما کر خلعت و زر سے ان لوگوں کو مالا مال کر دیا، اس وقت تک جناب قلق کو کوئی خطاب سرکار سے نہیں ملا تھا، بعد عطائے خلعت و زر کے انھوں نے بادشاہ سے دست بستہ عرض کی کہ ایک شعر بدیہی ہوگیا ہے، اگر اجازت ہو تو پڑھوں۔ بادشاہ نے نہایت خندہ پیشانی سے ان کو پڑھنے کی اجازت دی، قلقؔ نے یہ شعر پڑھا   :

خلعت و زر سے تو ہر طرح سنوارا جاؤں                      ایسی محفل میں قلق کہہ کے پکارا جاؤں

اسی وقت بادشاہ نے ان کو آفتاب الدولہ کا خطاب عطا فرمایا۔

ایک دن شام کے وقت قیصر باغ میں سلطان عالم ٹہل رہے تھے، جِلو میں آفتاب الدولہ قلق بھی موجود تھے۔ اتفاقیہ بادشاہ کا دامن چنبیلی کے درخت سے اٹک گیا، زبان سے بے ساختہ نکل گیا، ؏:

اے سیم بدن دن میں بھلا تجھ کو میں کیا دوں

قلقؔ سے کہا اسی مصرع پر مصرع تو لگاؤ، انھوں نے بھی فوراً یہ مصرع لگایا:

شب ہونے دے نسخہ تجھے سونے کا بتا دوں

بادشاہ بہت خوش ہوئے۔

شمع سامنے آتے ہی حضور سے اجازت لے کر انھوں نے پاؤں کی ردیف میں مندرجہ ذیل غزل پڑھی:

بلبل ہوں رنگ دیکھے جو اس گل بدن کے پاؤں
طوطی اڑائیں پنجۂ صیاد بن کے پاؤں
نرگس ملے گی آنکھوں سے غنچہ دہن کے پاؤں
گل دھوئیں گے گلاب سے اس گل بدن کے پاؤں
قدرت خدا کی بے سرو پائی پہ یہ ستم
نے ہاتھ ہے نہ سر ہے نہ چرخِ کہن کے پاؤں
آنکھوں پہ دیکھ کر وہ بھویں خوب سوجھی ہے
پھبتی کہوں کہ نکلے ہیں سر پر ہرن کے پاؤں
اچھی غزل کہی یہ تمنا ہے اے قلقؔ
بس اتنی داد منہ سے ہر اہلِ سخن کے پاؤں

قلق کی غزل تو بہت معمولی تھی لیکن جان عالم کی ان پر نظر خاص تھی، اس لیے داد ملی اور خوب ملی، استاد خود سمجھ رہے تھے اور بار بار تسلیمات، تسلیمات عرض کرتے تھے۔

ان کے برابر جو شاعر بیٹھے تھے، اب شمع ان کے سامنے آئی۔

صبا

 

میر وزیر علی نام، صباؔ تخلص، والد کا نام میر بندہ علی، شاگرد ناسخ، واجد علی شاہ کے دربار سے تعلق تھا اور دو سو روپے ماہوار ان کو بطور وظیفہ ملتے تھے۔ بہت خلیق، ملنسار اور بڑے یار باش، دوست احباب ہر وقت ان کے پاس جن کی خاطر تواضع دل کھول کر کرتے تھے۔ ہاتھ کی ردیف میں غزل پڑھی:

لی یار نے جو زلفِ سیہ فام ہاتھ میں
رنگِ حنا ہوا شفقِ شام ہاتھ میں
مجھ بادہ کش کو بھی وہیں پہنچا مرے کریم
حوریں جہاں کھڑی ہیں لیے جام ہاتھ میں
خط کا جواب یار سے لانا کسی طرح
قاصد میں پہلے دیتا ہوں انعام ہاتھ میں
جامِ بلور پنجۂ مرجاں کو ہو نصیب
مہندی لگائے ساقیٔ گلفام ہاتھ میں
جام جہاں نما اسے سمجھوں میں اے صباؔ
ساقی جو اپنے ہاتھ سے دے جام ہاتھ میں

ان کے بعد اسیرؔ نے اپنا کلام سنایا۔

اسیر

 

مظفر علی خاں نام، اسیرؔ تخلص، تدبیر الدولہ مدبر الملک خطاب، والد کا نام سید مدد علی، فارسی کی تحصیل اپنے والد سے، عربی کی تکمیل علمائے فرنگی محل سے کی۔ علمی قابلیت اور صلاحیت مسلم، واجد علی شاہ نے اپنے عہد میں تدبر الدولہ مدبر الملک بہادر جنگ خطاب دے کر اپنی خدمت سے سرفراز کیا، امور متعلقہ کی انجام دہی میں بڑی نیک نامی حاصل کی۔

کشیدہ قامت، گورے، کتابی رو، متوسط الجثہ، ٹخنوں تک کا کرتہ پہنتے، آواز درمیانی، پڑھنا سیدھا سادہ بلا تصنع۔ خود نمائی نہ تھی، ایک شعر میں اپنی عادت کو نظم کرتے ہیں:

مثلِ ہلال بدر ہے کب طالبِ خطر
وہ خود نما نہیں ہے جو صاحبِ کمال ہے

مزاج میں انکساری، ایک موقع پر اس کا اظہار بھی کیا ہے:

جو افتادہ ہیں ان کی ہر جگہ تعظیم ہوتی ہے
ہجومِ خلق ہو ہر چند جائے سایہ خالی ہے

ہر کہ و مہ سے بتواضع پیش آتے تھے، علم و فضل کا غرور نہ تھا۔ اسیرؔ نے قدرتاً شاعرانہ طبیعت پائی تھی، مصحفی اکثر کہا کرتے تھے: ‘‘ایک روز یہ آخری شاگرد استادوں کی صف اول میں جگہ لے گا۔’’

پاؤں کی ردیف میں غزل پڑھی:

کیا آئے چومنے مرے ناوک فگن کے پاؤں
اٹھتے نہیں ہیں خوف کے مارے ہرن کے پاؤں
نخوت سے خاک پر جو نہ رکھتے تھے تن کے پاؤں
سر ان کے تیری راہ میں چلتے ہیں بن کے پاؤں
اتنے تو کام آئے پسِ مرگ چشم تر
دلدل میں پھنس رہے مرے دزدِ کفن کے پاؤں
شیریں کلام جب تری شیریں ہو کوہ کن
دھو دھو کے جب پیے مرے شیریں سخن کے پاؤں
ہو دست گیر تھام لو تم ہاتھ یا علیؓ
کانپیں صراط پر جو اسیرِؔ محن کے پاؤں

پھر شمع رندؔ کے سامنے آئی۔

رند

 

سید محمد خاں نام، رندؔ تخلص، سراج الدولہ نواب غیاث محمد خاں کے بیٹے۔ نوابانِ اودھ کے خاندان سے قرابت ہونے کی وجہ سے ان کی تربیت خاص محل میں ہوئی۔ میر محسن خلیقؔ کے شاگرد، حسین، عاشق مزاج اور دولت مند رئیس تھے، ایک مرتبہ ایک غزل میں ایک شعر لکھا تھا:

اگرئی کا ہے گمان شک ہے ملا گیری کا
رنگ لایا ہے دوپٹہ ترا میلا ہو کر

فخریہ استاد سے عرض کیا کہ اس زمین میں میلا کا قافیہ دشوار ہے جیسا اس نیاز مند نے باندھا ہے اس سے بہتر ممکن نہیں۔ استاد بھی زمانہ دیکھے ہوئے تھے، سمجھ گئے کہ حوصلہ مند شاگرد کے دل میں اب کچھ ولولۂ استادی پیدا ہو چلا ہے، اس وقت چپ رہے، بعد کو ایک دوسرے شاگرد کی غزل میں وہی قافیہ ‘‘میلا’’ کا یوں باندھا:

بلبل کشتہ کو صیاد کفن کیا دیتا
پیرہن گُل کا نہ اترا کبھی میلا ہو کر

شاگرد کے شیشۂ دل پر چوٹ تو ضرور لگی، مگر اس بات کو پھر زبان پر نہ لائے۔

پاؤں کی ردیف میں غزل پڑھی:

تیری گلی پکڑتی ہے مجھ خستہ تن کے پاؤں
جنبش ہی جانتی نہیں دیوار بن کے پاؤں
اللہ رے بخلِ پیر فلک بعد مرگ بھی
اتنا کفن دیا کہ نہ پھیلائیں تن کے پاؤں
باقی ہیں آج تک وہی شعلہ مزاجیاں
رکھتے نہیں مزار پہ مارے جلن کے پاؤں
سامانِ انتہائے سفر ابتدا میں ہے
دھوتا ہے اشک شام سے شمع لگن کے پاؤں
وہ لوگ کیا ہوئے کہ جو اے رندؔ زیر چرخ
پنجوں کے بل سے چلتے تھے رکھتے تھے تن کے پاؤں

اب شمع امانتؔ کے پاس رکھ دی گئی۔

امانت لکھنوی

 

نام سید آغا حسن، تخلص امانتؔ، خلف مرزا آغا، شاگرد دلگیرؔ مرثیہ گو، زبان میں لکنت ہے۔ پاؤں کے ردیف میں غزل پڑھی:

مشتاق دشت کے ہوں نہ شائق چمن کے پاؤں
گڑ جائیں کوئے یار میں مجھ خستہ تن کے پاؤں
پابند میں نہ ہوں گا کسی کا بہار میں
جوشِ جنوں میں ٹکڑے کریں گے رسن کے پاؤں
شربت کی جا طبیب نے عاشق کو لکھ دیا
دھو کر پیا کرے کسی شیریں دہن کے پاؤں
اے گل فروش پھرنے لگے گل گلی گلی
آئی بہار پیٹ سے نکلے چمن کے پاؤں
ثابت قدم رہا جو امانتؔ کیا کمال
کانپے نہ اس زمیں میں کب اہلِ سخن کے پاؤں

دوسرے شعر پر خوب واہ واہ ہوئی، یہ امانتؔ کا خاص رنگ تھا جسے لوگ رعایت لفظی کہہ کر پکارتے تھے اور سچ پوچھو تو امانتؔ اس رنگ کے امام تھے، ان کے اثر سے یہ اتنا بڑھا کہ لکھنوی شاعری کے خمیر میں داخل ہوگیا، چنانچہ اس غزل میں بھی ہر شعر میں انھوں نے کچھ نہ کچھ رعایت ضرور ملحوظ رکھی تھی۔

ان کے بعد شمع قبول کے سامنے آئی۔

قبول

 

کپتان مقبول الدولہ مرزا مہدی علی خاں بہادر نام، قبولؔ تخلص، شاگرد ناسخ، صاحب دیوان ہیں، داروغۂ توپ خانہ و مصاحب خاص حضرت سلطان جانِ عالم۔ ان کے سامنے شمع آتے ہی سلطان جانِ عالم خاص طور پر متوجہ ہوئے، ان کی توجہ دیکھ کر اہل مشاعرہ بھی جو اتنے رات گئے نیند کے جھونکے لینے لگے تھے ہوشیار ہوگئے، انھوں نے تسلیم عرض کر کے اجازت لی اور ہاتھ کی ردیف میں غزل پڑھی:

گُل سے سوا ہیں سرخ ترے او نگار ہاتھ
دکھلا رہے ہیں مجھ کو چمن کی بہار ہاتھ
کس شعلہ رو کے ملنے کی حسرت ہے رات دن
پھیلائے ہے چمن میں جو اپنے چنار ہاتھ
جاتا ہے مجھ سے کر کے جو وعدہ وصال کا
سچ ہے تو میرے ہاتھ پہ اے جان مار ہاتھ
دنیا میں ہاتھ پھیلتے ہیں پیٹ کے لیے
سائل کو اور کے لیے کرتے ہیں خوار ہاتھ
اُس سر میں شانہ کرتا تھا میں تھام کر جبیں
اب اے قبولؔ ملتا ہوں لیل و نہار ہاتھ

ان کے بعد شمع منیرؔ کے سامنے آئی۔

منیر شکوہ آبادی

 

سید اسماعیل حسین نام، منیرؔ تخلص، ولد منشی احمد حسین شکرؔ شکوہ آبادی۔

داستان گوئی میں کمال دست گاہ ہے، قواعد نظم و نثر سے طبیعت بخوبی آگاہ ہے، صاحبِ دیوان ہیں، قد متوسط مائل بہ پستی، جسم دہرا، رنگ گندمی، لباس میں دہرے بندوں کا انگرکھا، آواز متوسط اور پڑھنے کی ترکیب نہایت دل کش، حرکات کم کرتے مگر شعر کو دوبارہ پڑھتے تھے۔

ہنگامۂ غدر ۱۸۵۷ ؁ء میں ماخوذ ہو کر کالے پانی بھیج دیے گئے، جب کالے پانی پہنچ گئے تو کہتے ہیں:

غربت میں وطن خانہ بدوشوں کو ملا
زہرِ غربت شکر فروشوں کو ملا
جب لختِ جگر کھا کے لگی پیاس منیرؔ
کالا پانی سفید پوشوں کو ملا

اس واقعہ کے بعد اتفاق سے نواب یوسف علی خاں والیٔ ریاست رامپور، الہ آباد کسی کام سے گئے، وہاں لکھنؤ کا ایک قوال حاضر خدمت ہوا اور منیر کی ایک غزل سنائی، نواب صاحب نے بہت پسند کی۔ جب قوال نے یہ مقطع پڑھا:

میرے ہنر کا کوئی نہیں قدر داں منیرؔ
شرمندہ ہوں میں اپنے کمالوں کے سامنے

تو نواب صاحب نے فی البدیہہ یہ فرمایا:

ناظمؔ منیرؔ آئے یہاں، ہم ہیں قدر داں
شرمندہ کیوں ہے اپنے کمالوں کے سامنے

نواب صاحب نے گورنمنٹ سے سفارش کی اور رہائی کی کوشش کی، آخر  ۱۸۶۰ ؁ء میں منیرؔ چھوٹ کر آ گئے، رامپور جانے کا ارادہ کیا تو معلوم ہوا نواب کا انتقال ہوگیا، منیرؔ نے اپنی غزل کو تضمین کرلیا تھا، اس میں مندرجۂ ذیل شعر کی تضمین کا اضافہ کیا:

آیا منیرؔ چھوٹ کے جب قید سے یہاں
تھا قصد رامپور کو ہو جاؤں میں رواں
لیکن حضور ہوگئے راہی سوئے جناں
اب کس کے پاس جاؤں میں ہے کون قدر داں
نادم رہا میں اپنے کمالوں کے سامنے

نواب یوسف علی خاں کے بعد نواب کلب علی خاں مسند نشین ہوئے اور منیر کو بلایا، اس موقع پر منیرؔ نے مندرجۂ ذیل شعر کا اضافہ کیا:

نواب پاک کلبِ علی خاں نے اے منیرؔ
بلوا کے رامپور میں کی بخشش کثیر
صد شکر آئے راہ پہ اب طالعِ فقیر
ہے قدر داں مرا یہ امیرِ فلک سریر
اب سرخ رو ہوں اپنے کمالوں کے سامنے

انھوں نے اس مشاعرہ کے لیے ہاتھ کی ردیف میں غزل لکھ تھی:

تیرے ماتھے کی گری افشاں ہمارے ہاتھ میں
آسماں سے ٹوٹ کر آئے ستارے ہاتھ میں
جان پڑ جاتی بجاؤ ایک چٹکی اگر
طائرِ رنگِ حنا بولی تمھارے ہاتھ میں
اس پری پیکر نے بھی ہاتھوں میں پہنا شوق بند
شوق ہے اب ہتکڑی ڈالو ہمارے ہاتھ میں
ہتکڑی کے ٹکڑے ٹکڑے فرط جنبش سے ہوئے
قوتِ بازو ہوا رعشہ ہمارے ہاتھ میں
صاف خود بینی دکھا جائے گی اعجاز کلیم
آئینہ ہوگا یدِ بیضا تمھارے ہاتھ میں
لکھنؤ سے تا نجف پڑھتے ہوئے جائیں منیرؔ
دفترِ تعریفِ حیدر ہو ہمارے ہاتھ میں

غالب دہلوی

 

مرزا(٥) اسد اللہ خاں نام، عرفیت مرزا نوشہ، تخلص غالبؔ، ولد عبد اللہ بیگ خاں، مشہور شعراءِ دہلی میں سے ہیں۔ یہ غزل اپنے خط میں بند کر کے شیخ فدا حسین فداؔ ساکن قصبۂ ڈبائی کے توسط سے بھیجی تھی، پڑھی گئی، بڑی داد ملی:

‘‘غزل بر ردیف پاؤں’’

دی سادگی سے جان پڑوں کوہ کن کے پاؤں
ہیہات کیوں نہ ٹوٹ گئے پیر زن کے پاؤں
دھوتا ہوں جب میں پینے کو اس سیم تن کے پاؤں
رکھتا ہے ضد سے کھینچ کے باہر لگن کے پاؤں
اللہ رے شوقِ دشت نوردی کہ بعد مرگ
ہلتے ہیں خود بخود مرے اندر کفن کے پاؤں
شب کو کسی کے خواب میں آیا نہ ہو کہیں
دکھتے ہیں آج اس بتِ نازک بدن کے پاؤں
غالبؔ مرے کلام میں کیوں کر مزا نہ ہو
پیتا ہوں دھو کے خسروِ شیریں دہن کے پاؤں

ان کے بعد امیرؔ مینائی کی باری آئی۔

امیر مینائی

 

امیر احمد نام، امیر تخلص، خلف مولوی کرم احمد حضرت شاہ مینا علیہ الرحمۃ کی اولاد میں ہیں، منشی مظفر علی اسیرؔ کے شاگرد ہوئے۔ ابتدائی تعلیم و تربیت والد کی نگرانی میں ہوئی، تعلیم کی بعض منزلیں فرنگی محل میں طے ہوئیں اور یہیں سے شعر و شاعری کی ابتدا ہوئی۔ رنگ گورا، دہرے بدن کے، پڑھنے کا انداز سیدھا سادھا، آواز متوسط جس میں متانت اور نرمی، امیر کو بچپن ہی سے شاعری کا شوق تھا، یہ خبر جب ان کے والد کو پہنچی، ایک دن شب کو جب کہ امیرؔ بیٹھے پاؤں دبا رہے تھے، ان کے والد نے پوچھا کہ میاں! ہم نے سنا ہے کہ تم شعر کہتے ہو، ذرا ہم بھی سنیں کہ ہمارا امیر کیسے شعر کہتا ہے۔ یہ سن کر پہلے تو امیرؔ خاموش ہوگئے، مگر شفیق باپ کے محبت آمیز اصرار سے مجبور ہو کر عرض کیا کہ گھر میں سب لوگ کہا کرتے ہیں کہ برسات گذری جاتی ہے اور بارش نہیں ہوتی، اسی مضمون کو لکھا ہے اور اس تمہید کے بعد یہ شعر جو امیرؔ نے اسی زمانے میں تصنیف کیا تھا عرض کیا:

ابر آتا ہے ہر بار برستا نہیں پانی
اس غم سے ہے یارو مرے اشکوں کی روانی

یہ سن کر شفیق باپ نے تعریف سے دل بڑھایا کہ بھئی شعر تو بہت صاف ہے اور مضمون بھی سچا، لیکن تمھارا سن ابھی اس مشغلے کے لیے موزوں نہیں، پہلے اچھی طرح لکھ پڑھ لو، پھر شعر کہنا۔

طرح پر غزل پڑھی:

بارِ گنہ سے ہوگئے ہیں لاکھ من کے پاؤں
نکلیں گے حشر کو بھی نہ باہر کفن کے پاؤں
عالم ہے بے ثبات نہ رکھ یار تن کے پاؤں
ہوویں گے موئے خط ترے حسنِ ذقن کے پاؤں
اک نقطہ بھی جو بے سرو پا ہو محال ہے
سر دال سینہ قاف سرِ نو ذقن کے پاؤں
لٹکایا زلفِ یار نے الٹا یہ تھی سزا
صدمے اٹھاسکے تھے نہ بارِ رسن کے پاؤں
وہ سنگ مومنوں کا گوشہ گاہ ہے امیرؔ
جس میں بنے ہوئے ہیں رسولِ زمن کے پاؤں

اب شمع ذوقؔ کے سامنے آئی۔

ذوق دہلوی

 

شیخ محمد ابراہیم نام، ذوق تخلص(٦)، والد کا نام شیخ محمد رمضان، حافظ غلام رسول شوقؔ کے آ گے زانوئے ادب تہ کیا، شاہ نصیر کے شاگرد، بہادر شاہ کے استاد، علمی و ادبی کارنامے ایسے ہیں کہ ان کا نام قیامت تک زندہ رہے گا، اس مشاعرہ کے لیے مرزا غالب کی طرح انھوں نے بھی اپنی طرحی غزل بھیج دی تھی، میر اسد صبرؔ نے یہ غزل پڑھ کر سنائی:

اے ذوقؔ وقت نالے کے رکھ لے جگر پہ ہاتھ
ورنہ جگر کو روئے گا تو دھر کے سر پہ ہاتھ
اے شمع ایک چور ہے بادِ نسیم صبح
مارے ہے کوئی دم میں ترے تاجِ سر پہ ہاتھ
چھوڑا نہ دل میں صبر نہ آرام نے شکیب
تیری نگہ نے صاف کیا گھر کے گھر پہ ہاتھ
میں ناتواں ہوں خاک کا پروانے کی غبار
اٹھتا ہوں رکھ کے دوشِ نسیمِ سحر پہ ہاتھ
جو دیکھے اس کو تھام کے دل بیٹھ جائے ذوقؔ
جب ناز سے کھڑا ہو وہ رکھ کر کمر پہ ہاتھ

استاد ذوقؔ موجود نہ تھے، لیکن ان کے کلام کی داد دل کھول کر دی گئی، خاص طور پر نسیمؔ دہلوی بار بار جھومتے تھے، کیوں کہ ردیف خالص لکھنوی مذاق کی ہونے پر بھی انھوں نے اپنے دہلوی رنگ کو ہاتھ سے جانے نہیں دیا تھا، کچھ یوں بھی داد اور ملی کہ وہ بہادر شاہ ظفر کے استاد تھے اور شہنشاہ کے استاد کو لوگ قلمرو شعر و سخن کا شہنشاہ سمجھتے تھے۔

پھر شمع جلالؔ لکھنوی کے سامنے رکھی گئی۔ اس وقت ان کی عمر ۱۷ سال کی ہوگی۔

جلال لکھنوی

 

ضامن علی نام، جلالؔ تخلص، شاگرد بلالؔ، رشکؔ، برقؔ، والد کا نام حکیم اصغر علی، خاندانی پیشہ طبابت، فارسی کی درسی کتابیں مکمل پڑھیں، مزاج میں نزاکت کے ساتھ کچھ چڑچڑاپن، پستہ قد، سانولا رنگ، گٹھا ہوا بدن، آواز بلند، پڑھنا بہت بانکا تھا، پڑھنے میں کبھی کبھی ہاتھ ہلاتے تھے، اپنا آبائی پیشہ یعنی طبابت بھی نظر انداز نہیں کیا۔

ایک مرتبہ رامپور کے مشاعرہ میں حضرتِ داغؔ دہلوی نے مندرجۂ ذیل مطلع پڑھا:

یہ تری چشمِ فسوں گر میں کمال اچھا ہے
ایک کا حال برا ایک کا حال اچھا ہے

مشاعرہ میں بہت داد دی گئی، مگر جلالؔ مرحوم نے تعریف کرنے میں کمی کی اور جب ان کی باری آئی، ذیل کا شعر پڑھا جس کی بے حد تعریف ہوئی:

دل مرا آنکھ تری دونوں ہیں بیمار مگر
ایک کا حال برا ایک کا حال اچھا ہے

ایک اور مشاعرہ میں جلالؔ نے ایک شعر پڑھا، مولانا عبد الحق مرحوم منطقی خیر آبادی کو وجد آگیا، جھوم اٹھے اور بے اختیار آنسو آنکھوں سے جاری ہوگئے  :

حشر میں چھپ نہ سکا حسرتِ دیدار کا راز
آنکھ کم بخت سے پہچان گئے تم مجکو

مولانا مرحوم روتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے کہ سبحان اللہ کیا با اثر شعر ہے، کس مزے کی بلاغت ہے، رازِ حسرتِ دیدار چھپانے کی انتہائی حد دکھائی ہے، عمر بھر حسرت چھپائی، وقت مرگ بھی افشائے راز نہ ہونے دیا لیکن مقام حشر جو آخری دیدار کی جگہ ہے وہاں حسرتِ دیدار کا راز کسی طرح چھپائے نہ چھپ سکا، آنکھ کم بخت سے پہچان گئے تم مجکو۔

چونکہ بحرؔ، سحرؔ، اسیرؔ، امیرؔ، قلقؔ وغیرہ کا کلام گرمیٔ محفل کا باعث رہتا تھا، نوجوان شاعروں کی تحریک کے لیے یہ سامان کافی تھا، چنانچہ اسی نے جلالؔ پر اثر کیا، ناسخ سے براہ راست فیض کا موقع نہیں ملا، اسی حسرت کا اظہار خود ان الفاظ میں کرتے ہیں :

کچھ مستفیض اُن سے ہوئے ہم نہ اے جلالؔ
جی لوٹتا ہے ناسخِ مرحوم کے لیے

طرح پر غزل پڑھی:

گردش میں ایسے آگئے مجھ بے وطن کے پاؤں
پھرنے سے باز رہ گئے چرخِ کہن کے پاؤں
عکسِ شفق ہے پائے بلوریں میں اے پری
مہندی لگی نہیں ہیں عقیقِ یمن کے پاؤں
کیوں کر اٹھائیں رنگِ حنا کے وہ بار کو
نازک زیادہ گل سے ہیں اس گل بدن کے پاؤں
دھوئے جو موجِ آب میں دندان و لب وہ شوخ
بطنِ صدف میں ٹھیریں نہ درِّ عدن کے پاؤں
ہے بعد مرگ بھی وہی جلالؔ کو بے کلی
اندر کفن کے ہاتھ ہیں باہر کفن کے پاؤں

آخر میں شمع بردار نے شمع صدرِ محفل سلطان عالم کے سامنے رکھی، خدام نے عرض کی: با ادب، با ادب، حضور والا، ظل اللہ اپنا کلام بلاغت نظام ارشاد فرماتے ہیں۔

اختر

 

سلطانِ عالم واجد علی شاہ، متخلص اخترؔ، امجد علی شاہ کے بڑے بیٹے تھے۔ رحم دل، رقیق القلب، باوجود اس قدر سلطنت اور زور زر کے کسی پر طیش اور بے رحمی کبھی نہیں کی، نہ کبھی موافق و مخالف کو ظلم سے ستایا، نہ کسی کی جان لی۔ غرور و نخوت نام کو نہ تھا، ان کی ذاتی خوبیوں شرافت اور انسانیت، عدل و انصاف کا ہر شخص قائل، علم و ادب میں بڑا پایہ رکھتے تھے۔ سلطنت پر جب سے جلوہ افروز ہوئے ہیں، رنگ رلیاں مچی ہوئی ہیں اور تفریح طبع کے لیے اپنے ارد گرد راجا اندر کا سا اکھاڑہ بنا رکھا ہے۔ شعر و شاعری سے بڑی دلچسپی ہے۔ طرح پر مندرجہ ذیل غزل ارشاد فرمائی:

عشق ہے جس طرح اک کوہِ گراں بالائے سر
سنگ ماریں کودک و پیر و جواں بالائے سر
مجھ سا رستم ہے کوئی دنیا میں کہہ انصاف سے
پاؤں کے نیچے زمیں ہے آسماں بالائے سر
مرد مومن ہوں نہ چھوڑوں گا کمر کی یاد میں
عشق کی دستار باندھوں گا مکاں بالائے سر
شمع روشن عشق ساعد سے بنی ہیں ہڈیاں
موئے سر کی طرح رہتا ہے دھواں بالائے سر
قاتلا! پہلی سزائے عشق اخترؔ کو ملے
بارِ غم رکھا جو پیشِ مرد ماں بالائے سر

اس کے بعد پاؤں کی ردیف میں غزل سنائی:

تلخیٔ ہجر دیتے ہیں شیریں دہن کے پاؤں
سر کی جگہ تراشیے پھر کوہ کن کے پاؤں
کیوں کر نئی زمین پہ یہ ناتواں چلے
دیکھے کبھی نہیں سرِ چرخِ کہن کے پاؤں
ابرو کے وار پر جو پڑی ناوک مژہ
ہر تیر بن گیا ہے مرے زخم تن کے پاؤں
آیا شراب خانے میں ڈر کر نہ محتسب
کاسے سے آج توڑیے  پیماں شکن کے پاؤں
اخترؔ غزل امیر کی خاطر سے کہہ چکے
بے واسطہ گلے میں پڑے تھے سخن کے پاؤں

اس کے بعد ہاتھ کی ردیف میں غزل سنائی:

آبرو میری رہی ابروئے خم دار کے ہاتھ
صاف کرتی ہیں مرے جسم پہ تلوار کے ہاتھ
عشوہ و غمزہ و انداز و ادا نے مارا
ناتواں ایک یہ چورنگ ہوا چار کے ہاتھ
عشق سے قدر بڑھی حسن کی اے جانِ جہاں
حسنِ یوسف کا رہا مول خریدار کے ہاتھ
عشق اشعار سے ہوں مورد اندوہ و الم
بندہ گئے فکر مضامین سے گنہگار کے ہاتھ
بزم میں آج غزل اپنی سناؤں اخترؔ
شعراء میں مری عزت رہے اشعار کے ہاتھ

حاضرین نے داد سے مشاعرہ کو گرما دیا، محفل واہ واہ سے گونج اٹھی، بادشاہ اٹھ کھڑے ہوئے اور محل سرا تشریف لے گئے۔ جنابِ صبرؔ نے اہل مجلس کا شکریہ ادا کیا اور محفل برخاست ہوئی۔

 

حواشی

 

[1]۔ یہ لفظ بھی اس موقع کے لیے مخصوص ہے۔

قیصر باغ کی عمارت واجد علی شاہ نے خود بنوائی تھی جو خوبصورتی اور شان میں لا جواب تھی۔ اس میں بہت سی خوش نما اور فلک بوس دو منزلی عمارتوں کا ایک مربع مستطیل رقبہ دور تک چلا گیا تھا، جس کا ایک رخ جو دریا کی جانب تھا، غدر کے بعد کھود ڈالا گیا اور تین ضلعے اب تک قائم ہیں، جن کو مختلف قطعات پر بانٹ کے گورنمنٹ نے تعلقدارانِ اودھ کے حوالے کر دیا ہے اور حکم دیا ہے کہ ان میں رہیں اور ان کو اسی وضع میں قائم و برقرار رکھیں۔

قیصر باغ کا اندرونی صحن جس میں چمن بندی تھی، جلو خانہ کہلاتا تھا۔ درمیان میں پتھر والی بارہ دری تھی جو آج کل لکھنؤ کا ٹاؤن ہال ہے، اس میں اور کئی عمارتیں بھی تھیں جن کا نشان اب باقی نہیں۔ اس کے باہر یہاں سے متصل ہی بہت سی شاہی عمارتیں تھیں، جنھوں نے اس قطعۂ زمین کو عجوبۂ روزگار بنا دیا تھا، یہ عمارتیں قیصر باغ کے مشرقی پھاٹک کے باہر تھیں۔ لوگوں کو اس پھاٹک سے نکلتے ہی دونوں جانب چوبی اسکرینیں ملتی تھیں جن سے گزر کر وہ چینی باغ میں پہنچتے ۔ وہاں سے بائیں ہاتھ کی طرف مڑ کر آپ جل پریوں کے ایک عالی شان پھاٹک پر پہنچتے جس پر مدار المہامِ سلطنت علی نقی خاں کا قیام رہتا تھا تاکہ ہر وقت جہاں پناہ سے قریب رہیں اور بوقت ضرورت فوراً بلالیے جاسکیں۔ اس پھاٹک کے اس طرف حضرت باغ تھا اور اندر ہی داہنی طرف چاندی والی بارہ دری تھی۔ یہ ایک معمولی اینٹ چونے کی عمارت تھی، مگر چھت میں چاندی کے پتر جڑے ہونے کی وجہ سے چاندی والی بارہ دری کہلاتی۔ اسی سے ملحق کوٹھی خاص مقام تھی، جس میں خود جہاں پناہ سلامت رہتے اور وہیں نواب سعادت علی خاں کی بنائی ہوئی پرانی کوٹھی بادشاہ منزل تھی۔

پھر ان چوبی اسکرینوں کے گلیارے سے نکل کر دوسری طرف مڑیے تو پیچیدہ عمارتوں کا ایک سلسلہ دور تک چلا گیا تھا جو چولکھی کے نام سے مشہور تھیں۔ ان عمارتوں کا بانی حضوری نائی عظیم اللہ تھا، جنھیں بادشاہ نے چار لاکھ روپے دے کے مول لیا تھا۔ نواب خاص محل اور معزز محلات عالیات اس میں رہتی (گذشتہ سے پیوستہ) تھیں۔ اسی کے اندر غدر کے زمانے میں حضرت محل کا قیام رہا اور یہیں ان کا دربار ہوا کرتا تھا۔ یہاں سے ایک سڑک قیصر باغ کی طرف آئی تھی، جس کے کنارے ایک بڑا بھاری سایہ دار درخت تھا، اس کے نیچے گردا گرد سنگ مرمر کا ایک نفیس گول چبوترہ بنایا گیا تھا، جس پر قیصر باغ کے میلوں کے زمانے میں جہاں پناہ جوگی بن کے اور گیروے کپڑے پہن کر آتے اور دھونی رما کر بیٹھتے۔ اس چبوترے سے آگے بڑھ کے ایک عالی شان پھاٹک تھا جو لکھی پھاٹک کہلاتا، اس لیے اس کی تعمیر میں ایک لاکھ روپے صرف ہوئے تھے۔ اور اس سے بڑھ کر آپ پھر قیصر باغ میں آ جاتے۔ قیصر باغ کی عمارت میں سلطنت کے اسی لاکھ روپے صرف ہوئے تھے اور اس کے چاروں طرف کی عمارتوں میں جہاں پناہ کی بیگمیں اور پری جمال و ماہ طلعت خاتونیں رہتیں۔ جن کی جگہ اب عجیب و غریب صورتوں کو دیکھ کر بعض پرانے زمانہ کے لوگ کہہ اٹھا کرتے ہیں:

پری نہفتہ رخ و دیو در کرشمہ و ناز
بسوخت عقل ز حیرت کہ ایں چہ بو العجبی ست

(پری نے تو منہ چھپالیا اور دیو کرشمہ اور ناز دکھلا رہا ہے۔ میری عقل حیرت سے جل گئی ہے کہ یہ کیا تماشا ہے)

قیصر باغ کے مغربی پھاٹک کے باہر روشن الدولہ کی کوٹھی تھی، اسے واجد علی شاہ نے ضبط کر کے اس کا نام قیصر پسند رکھ دیا تھا اور ان کی محبوبہ نواب معشوق محل اس میں رہتی تھیں۔ اس کے سامنے اور قیصر باغ کے اس مغربی پہلو پر بھی ایک دوسرا جلو خانہ تھا۔ سال میں ایک مرتبہ قیصر باغ میں ایک عظیم الشان میلہ ہوتا تھا، جس میں پبلک کو بھی قیصر باغ میں آنے اور جہاں پناہ کی عشرت پرستیوں کا رنگ دیکھنے کا موقع مل جاتا۔

چو قیصر باغ را تعمیر فرمود
دلِ رضواں بہ حسنش گفت بارک
بصد جوشِ بہارش کلکِ شمشیر
نوشتہ سال آں باغِ مبارک

۱۸۴۸؁ء میں قیصر باغ کی بنیاد پڑی اور ۱۸۵۰؁ء میں تکمیل ہوئی، مع اسباب آرائش اسی لاکھ روپیہ خرچ ہوا۔

[2]۔ اس مشاعرہ کا حوالہ (۱) سراپا سخن مطبوعہ  ۱۸۵۱؁ء

(۲) ‘‘اودھ اخبار’’ ۲ ؍ نومبر ۱۸۶۱؁ء

(۳) ‘‘علی گڑھ اخبار’’ یکم جولائی ۱۸۶۸؁ء

٢۔

ہر رنگ میں اس شوخ کا جلوہ نظر آیا
خورشید کے مانند وہ ہر جا نظر آیا
جب یار کو دیکھا نگہِ دیدۂ دل نے
قطرہ نظر آیا تو وہ دریا نظر آیا
پرتو سے ترے دیکھتا ہوں صورتِ عالم
تو روشنیٔ دیدۂ بینا نظر آیا
وہ رنگ ہے تیرا کہ ترے رنگ کے آگے
جس رنگ کو دیکھا تو وہ پھیکا نظر آیا

خلیل کے دوست امانت سید آغا حسین ابن مہر آغا رضوی تھے، مرثیہ گوئی میں دلگؔیرؔ سے تلمذ تھا۔

مے خانۂ عالم میں دونوں ہیں دلا یکساںہشیار ہوا تو کیا مستانہ ہوا تو کیا

ایماؔن دیا شنکر ابن گنگا واجد علی شاہ کی سرکار میں بخشی الممالک تھے، موجی رام موجؔی کے شاگرد:

دلِ رنجیدہ کہتا ہے نہ بولوں یار سے لیکن
جب آنکھیں چار ہوتی ہیں مروت آ ہی جاتی ہے
کوئی دل اپنا دیتا ہے کوئی ایمان دیتا ہے
تمھارے واسطے ہر ایک اپنی جان دیتا ہے

سلیمان خاں متخلص نواب سبط نواب صحبت خاں روہیلہ خواجہ آتش کے دیکھنے والے رنؔد، صبؔا کے معاصر آخر عمر میں ٹونک چلے گئے۔

اچھا ہوا شباب کا عالم گزر گیااک جن چڑھا ہوا تھا کہ سر سے اتر گیا
مجکو وقفہ تہِ شمشیر اجل نے نہ دیادو گھڑی دل مرے قاتل کا بہلنے نہ دیا

 

٣۔ محبت کا اندازہ اس سے ہوسکتا ہے کہ جب انتزاعِ سلطنت کے بعد واجد علی شاہ کلکتہ تشریف لے گئے اور مٹیا برج میں قیام فرمایا تو یہ بھی ساتھ گئے اور وہیں انتقال فرمایا۔ وقتِ آخر بادشاہ کو ایک مطلع لکھ کر بھیجا تھا:

برقؔ جو منہ سے کہا تھا وہی کر کے اٹھے
جان دی آپ کے دروازے سے مر کے اٹھے

٤۔ ۱۸۵۷؁ء کے ہنگامہ میں انھوں نے چند انگریزوں کو پناہ دی اور اس کے سلسلے میں علاوہ خلعت کے جاگیر بھی عطا ہوئی۔ عہدۂ منصفی پر سرفراز ہوتے وقت یہ شعر پڑھا تھا:

اے مہرؔ سوزِ ہجر سے خوگر ہوئے ہیں ہم
منصف چنار گڈھ کے مقرر ہوئے ہیں ہم

٥۔ ایک مرتبہ بعد رمضان جب مرزا قلعۂ دہلی میں گئے تو بادشاہ نے پوچھا: ‘‘مرزا تم نے کتنے روزے رکھے؟’’ مرزا نے جواب دیا پیر و مرشد ‘‘ایک نہیں رکھا’’۔

۲۔ ایک صحبت میں مرزا میر تقی کی تعریف کر رہے تھے، ذوقؔ بھی موجود تھے، انھوں نے سودا کو ترجیح دی، مرزا بولے۔ ‘‘میں تو آپ کو میری سمجھتا تھا مگر اب معلوم ہوا کہ آپ سودائی ہیں۔’’

۳۔ احسن مارہروی مرحوم کے پیر دادا شاہ سید عالم سے مرزا کی اکثر خط و کتابت رہتی تھی۔ ایک مرتبہ حضرت صاحب نے مرزا سے پوچھا کہ آپ کی ولادت کس سنہ میں ہوئی اور یہ بھی اطلاع دی کہ میری ولادت لفظ ‘‘تاریخ’’ سے نکلتی ہے، جس کے عدد ۱۲۱۱ ہوتے ہیں، مرزا نے جواب میں یہ شعر لکھا:

ہاتفِ غیب شب کو یوں چیخا
ان کی تاریخ میرا تاریخا

تاریخ میں الف بڑھا دیا جس کا مطلب یہ ہوا کہ  ۱۲۱۲ ؁ کی پیدائش ہے۔

۴۔ ایک دن چھوٹا لڑکا کھیلتا کھیلتا آیا اور کہا دادا جان مٹھائی منگادو، مرزا نے فرمایا کہ پیسے نہیں ہیں۔ وہ صندوقچہ کھول کر ادھر ادھر ٹٹولنے لگا، آپ نے فرمایا:

درم و دام اپنے پاس کہاں
چیل کے گھونسلے میں ماس کہاں

۵۔ نواب یوسف علی خاں کے انتقال پر جب مرزا تعزیت کے لیے نواب کلب علی خاں صاحب کے پاس رامپور گئے تو وہاں چند روز قیام فرمایا، اسی اثنا میں نواب صاحب کو لفٹنٹ گورنر صاحب سے ملنے بریلی جانے کا اتفاق ہوا، چلتے وقت نواب صاحب نے یوں ہی معمولی طور پر مرزا سے کہا ‘‘خدا کے سپرد’’، مرزا نے کہا: ‘‘حضرت! خدا نے تو آپ کے سپرد کیا ہے، آپ پھر الٹا مجھ کو خدا کے سپرد کرتے ہیں”۔

۶۔ایک مرتبہ چند احباب مرزا غالب کی ملاقات کو گئے، یہ وہ زمانہ تھا کہ مرزا غالب قوتِ سماعت سے بے بہرہ ہوچکے تھے۔ دوات، قلم، کاغذ ہر وقت سامنے رکھا رہتا تھا اور جو حضرات ملنے آتے تھے وہ اپنا مدعا لکھ کر پیش کرتے تھے، چنانچہ جب یہ لوگ ان کی خدمت میں پہنچے تو حسبِ عادت انھوں نے دوات، (گذشتہ سے پیوستہ) قلم، کاغذ آگے بڑھا دیا اور فرمایا، ارشاد۔ انھوں نے لکھا کہ ہم لوگ آپ کا کلام بلاغت نظام آپ کی زبان فیض ترجماں سے سننا چاہتے ہیں، یہ دیکھ کر فرمایا: بہت اچھا۔ اس کے بعد ‘‘سمجھائیں کیا، دکھلائیں کیا” کی غزل سنائی اور جب یہ مقطع پڑھا کہ:

پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون ہے
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتلائیں کیا

تو فرمایا کہ کہو کچھ سمجھے بھی، انھوں نے اسی خیال سے کہ جو ہم سمجھے ہیں اگر وہ ان کا منشا نہ ہوا تو پھر بگڑیں گے، عرض کیا مطلق نہیں سمجھے، اس پر مسکرا کر فرمایا: ہاں نہیں سمجھے ہوں گے، سنو! ایک زمانہ ہوا جب وہاں گئے تھے، جانتے ہو کہاں؟ عرض کیا نہیں، کہنے لگے اجی وہیں، اپنے معشوق کے پاس، مگر یہ اس زمانہ کا ذکر ہے جب ہم جیتے تھے یعنی جوان تھے، سر پر بال تھے، گھنی ڈاڑھی، تنا ہوا سینہ، بھرے بھرے بازو، چمپئی رنگ تھا۔ نگاہ اٹھا کر دیکھتے تھے تو آنکھوں سے شعلے نکلتے تھے، چلتے تھے تو در و دیوار دہلتے تھے۔ اس وقت گئے گئے پھر کب گئے، اب جب کہ آنکھوں میں نور دل میں سرور نہ رہا، سماعت میں فرق آگیا، کمر جھک گئی، اب ہم کو اس ہیئت کذائی میں دیکھ کر

پوچھتے ہیں وہ کہ غالب کون تھا
کوئی بتلاؤ کہ ہم بتائیں کیا

مرزا نے مرنے سے چند روز پہلے مندرجۂ ذیل شعر کہا تھا اور اکثر یہی پڑھتے تھے:

دمِ واپسیں بر سرِ راہ ہے
عزیزو اب اللہ ہی اللہ ہے

٦۔ ایک دفعہ بہادر شاہ کے دربار میں کوئی مرشد زادہ کسی بیگم کی طرف سے کچھ عرض لے کر آئے اور بادشاہ کے کان میں کچھ باتیں کر کے چلے گئے، اس وقت حکیم احسن اللہ بھی موجود تھے، فرمانے لگے کہ پیر و مرشد یہ کیسا آنا جانا تھا، پیر و مرشد نے فرمایا: اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے اور استاد ذوق کو اشارہ کیا۔ استاد نے عرض کیا:

لائی حیات آئے قضا لے چلی چلے
اپنی خوشی نہ آئے نہ اپنی خوشی چلے

۲۔ رمضان کا مہینہ تھا، گرمی شدت کی تھی، عصر کا وقت، نوکر نے شربت نیلوفر کٹورے میں گھول کر کوٹھے پر تیار کیا اور استاد ذوقؔ سے کہا کہ ذرا اوپر تشریف لے چلیے، چونکہ ذوقؔ اس وقت لوگوں سے کچھ لکھوا رہے تھے، مصروفیت کے باعث نہ سمجھ سکے اور سبب دریافت کیا، اس نے اشارہ کیا، فرمایا کہ لے آ یہیں، یہ ہمارے یار ہیں ان سے کیا چھپانا، جب اس نے کٹورا لا کر دیا تو یہ مطلع پڑھا:

پلائے آشکارا ہم کو کس کی ساقیا چوری
خدا کی جب نہیں چوری تو پھر بندے کی کیا چوری

۳۔ محبوب علی خاں خواجہ سرا سرکار بادشاہی میں مختار تھے، محل اور دربار دونوں جگہ اختیار قطعی رکھتے تھے، مگر جوا بہت کھیلتے تھے، کسی بات پر نا خوشی ہوئی، انھوں نے حج کا ارادہ کیا۔ کسی شخص نے ذوقؔ سے آ کر کہا کہ محبوب علی خاں کعبۃ اللہ جاتے ہیں، استاد ذوقؔ ذرا تأمل کر کے مسکرائے اور یہ مطلع پڑھا:

جو دل قمار خانہ میں بت سے لگا چکے
وہ کعبتین چھوڑ کے کعبہ کو جا چکے

۴۔ استاد ذوقؔ فرماتے تھے کہ ایک دن بادشاہ کی غزل درست کر رہا تھا تو دیکھا کہ پشت پر ایک صاحب دانائے فرنگ کھڑے ہیں، مجھ سے کہا کہ آپ کیا لکھتا ہے؟ میں نے کہا کہ نظم میں حضور کی دعا گوئی کیا کرتا ہوں، فرمایا کس زبان میں؟ میں نے کہا، اردو میں۔ پوچھا آپ کیا کیا زبانیں جانتے ہیں؟ میں نے کہا فارسی، عربی جانتا ہوں، فرمایا کہ ان زبانوں میں بھی کہتا ہے، میں نے کہا کوئی خاص موقع ہو تو اس میں بھی کہنا پڑتا ہے ورنہ اردو ہی میں کہتا ہوں کہ یہ میری زبان ہے، جو کچھ انسان اپنی زبان میں کرسکتا ہے، عربی زبان میں نہیں کرسکتا۔ پوچھا آپ انگریزی جانتا ہے؟ میں نے کہا، نہیں۔ فرمایا کیوں نہیں پڑھا، میں نے کہا کہ ہمارا لب و لہجہ اس سے موافق نہیں، وہ ہمیں آتی نہیں۔ صاحب نے کہا: وَل (well) یہ کیا بات ہے، دیکھئے ہم آپ کا زبان بولتے ہیں، میں نے کہا پختہ سالی میں غیر زبان نہیں آسکتی، بہت مشکل معاملہ ہے۔ انھوں نے پھر کہا، ول (well) ہم آپ کی تین زبان ہندوستان میں آ کر سیکھا ہے، آپ ہماری ایک زبان نہیں سیکھ سکتا، یہ کیا بات ہے؟ اور تقریر کو طول دیا۔ میں نے کہا ہم زبان کا سیکھنا اسے کہتے ہیں کہ اس میں بات چیت، ہر قسم کی تحریر، تقریر اسی طرح کریں جس طرح خود اہلِ زبان کرتے ہیں، آپ فرماتے ہیں ‘‘آم آپ کا تین زبان سیکھ لیا’’ بھلا یہ کیا زبان ہے اور کیا سیکھنا ہے؟ اسے زبان سیکھنا اور بولنا نہیں کہتے، اسے تو زبان کا خراب کرنا کہتے ہیں۔

۵۔ ایک دفعہ قلعہ میں مشاعرہ تھا، حکیم آغا جان عیش کہ کہن سال مشاق اور نہایت زندہ دل شاعر تھے، انھوں نے مندرجۂ ذیل شعر پڑھا  :

اے شمع صبح ہوتی ہے روتی ہے کس لیے
تھوڑی سی رہ گئی ہے اسے بھی گزار دے

حکیم صاحب کے بعد ہی ذوقؔ نے یہ شعر پڑھا:

اے شمع تیری عمر طبیعی ہے ایک رات
رو کر گزار یا اسے ہنس کر گزار دے

۶۔ مرزا جوں بخت بہادر شاہ ظفر کے بیٹے تھے، جب ان کی شادی کا موقع آیا تو بڑی دھوم سے انتظام ہوئے۔ غالبؔ نے سنا، سہرا کہہ کر حضور میں گزارا، جس کا مقطع تھا:

ہم سخن فہم ہیں غالبؔ کے طرف دار نہیں
دیکھیں اس سہرے سے کہہ دے کوئی بہتر سہرا

مقطع کو سن کر بادشاہ کو خیال ہوا کہ اس میں ہم پر چشمک ہے، استاد ذوقؔ سے کہا کہ استاد تم بھی ایک کہہ دو، عرض کی، بہت خوب، آخر شعر مقطع کے جواب میں اس طور سے لکھا   :

جس کو دعوی ہو سخن کا یہ سنا دو اس کو
دیکھ اس طرح سے کہتے ہیں سخنور سہرا

۷۔ مولانا محمد حسین آزادؔ فرماتے ہیں کہ ذوقؔ نے مرنے سے کئی گھنٹے پہلے مندرجۂ ذیل شعر کہا تھا:

کہتے ہیں آج ذوقؔ جہاں سے گزر گیا
کیا خوب آدمی تھا خدا مغفرت کرے

ختم شد

یہ کتاب اردو گاہ اور مجلسِ برقی اشاعتِ ادبیاتِ عالیہ کے تعاون سے پیش کی گئی ہے۔
یہ کتاب اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!