لکھنؤ کا ایک یادگار مشاعرہ

مجلسِ برقی اشاعتِ ادبیاتِ عالیہ

بسلسلۂ اردو ادبِ عالیہ

لکھنؤ کا ایک یادگار مشاعرہ

فہرست

آغازِ کتاب

ایک یادگار مشاعرہ

تیرہ چودہ سال کا عرصہ ہوا کہ لکھنؤ میں پنڈت للتا پرشاد صاحب وثیقہ دار کے یہاں ایک معرکہ آرا  مشاعرہ ہوا تھا۔ مصرع طرح یہ تھا:

اگتی ہے جائے سبزہ کنگھی مرے چمن میں

لکھنؤ کے قریب قریب تمام اساتذہ جمع تھے لیکن جلال مرحوم نہیں تشریف لائے تھے۔ قریب چار بجے شام کے مشاعرہ شروع ہوا اور تقریباً دو بجے شب کو ختم ہوا۔ تمام اساتذہ نے اپنے اپنے رنگ میں پرزور غزلیں کہی تھیں اور پرزور غزلیں کس طرح نہ ہوں؟ اس زمین میں آتش کی یادگار غزل کا نغمہ سب کے کانوں میں سمایا ہوا تھا۔ سبحان اللہ! کیا کیا شعر فرمائے ہیں؟ معلوم ہوتا ہے بزم خیال میں نور خدا داد کی شمعیں روشن ہیں۔ میرے دوستو! ذیل کے اشعار پر نظر ڈالو اور فصیح لکھنؤ کی روح پر درود پڑھو!

شیریں زباں ہوئی ہے فرہاد کے دہن میں
دو روز ہے یہ لطفِ عیش و نشاط دنیا
بازار مصر میں چل، یوسف کا سامنا کر
اک تختہ ہفت کشور دہلی کا ہے ہماری
آیا تھا بلبلوں کی تدبیر میں، گلوں  نے
یاد فقیر، آگے اس بت کے بھولتا ہے
صحرا کو بھی نہ پایا بغض و حسد سے خالی
لیلی پکارتی ہے مجنوں کے پیرہن میں
بوئے شبِ عروسی مہمان ہے پیرہن میں
کھوٹے کھرے کا پردہ کھل جائے گا چلن میں
نو آسماں ہیں اپنے اکبر کے نو رتن میں
ہنس ہنس کے مار ڈالا صیاد کو چمن میں
اب کی گرہ میں دوں گا، زنّار برہمن میں
کیا کیا جلا ہے ساکھو پھولا جو ڈھاک بن میں

آخری شعر تو ایسا ہے کہ اس کا جواب اردو شاعری میں ملنا مشکل ہے۔ آتشؔ کے بعد اساتذہ قدیم میں امیرؔ مرحوم نے دو ایک شعر اس زمین میں خوب کہے ہیں۔ فرماتے ہیں:

تم رنگ ہو سخن میں، تم پھول ہو چمن میں
گھر کر سحاب آیا، نہروں میں آب آیا
آفت میں جانِ خستہ، پائے امید بستہ
تم روح ہو بدن میں، ہو تم شمع انجمن میں
دورِ شراب آیا مستو، چلو چمن میں
دل، کشتیٔ شکستہ دریائے موجزن میں

امیر و داغ کی بھی غزلیں اسی طرح میں موجود ہیں اور دونوں نے ایک ایک شعر خوب کہا ہے:

داغؔ   کیا کیا کدورتیں ہیں اس داغدار دل کیآتی ہے خاک لینے آندھی اسی چمن میں
امیرؔ   کیا جانیے کہ چھوڑا پھولوں نے کیا شگوفہ؟بلبل پکارتا ہے صیاد کو چمن میں

قدر بلگرامی کا بھی ایک شعر یاد آ گیا:

لب پر ہنسی جو آئی دندان کھلے دہن میںچمکی یمن میں بجلی، جاکر گری عدن میں

خیر! کجا بود مرکب کجا تا ختم؟ کہاں حال کا مشاعرہ؟ کہاں آتش و امیر؟ لیکن زمین ایک ہی ہے، گو کہ گل کاریاں مختلف ہیں۔ پس نگاہ شوق کا ایک تختے کی سیر کرتے ہوئے دوسرے تختے کی جانب بھٹک جانا قابل معافی ہے۔ افسوس ہے کہ میرے پاس اس وقت مشاعرہ مذکور کی تمام غزلیں موجود نہیں۔ جو کچھ قلیل سرمایہ اشعار کا حافظہ کی امانت میں موجود ہے، اسے قلم کاغذ کے سپرد کرتا ہوں۔ آرزو مند دل لطف اٹھائیں اور داد دیں۔

میر رضا حسین سہاؔ لکھنؤ کے ایک پرانے شاعر تھے۔ میر وزیر علی صباؔ کے داماد تھے اور شاگرد بھی۔ ان کو فخر تھا کہ آتش کے رنگ میں کہنے والا ان کے سوائے کوئی نہ تھا۔ آدمی کم استعداد تھے مگر قدیم اساتذہ کے فیضان صحبت نے زبان کو صاف اور طبیعت کو برق کر دیا تھا۔ انہوں نے اس مشاعرے میں جو غزل پڑھی تھی اس کے چند شعر لکھتا ہوں:

فصل خزاں کے آتے کیسی ہوا چلی یہ
پہنچی یہاں تلک ہے اب لاغری ہماری
آتشؔ کی یہ زمیں ہے جل جائیں گی زبانیں
شمع مرادِ بلبل، گل ہو گئی چمن میں
بنتی ہیں دو قبائیں مجنوں کے پیرہن میں
آہو نہ چر سکیں گے اس شیر نر کے بن میں

آغا مظہر صاحب مظہرؔ ایک آزاد اور رنگین مزاج بزرگ تھے۔ ہر وقت چہرے پر مسکراہٹ رہتی تھی اور زبان ظرافت کے چٹخارے سے کامیاب تھی۔ ان کی استعدادِ علمی معقول تھی اور مضمون آفرینی کی طرف طبیعت خاص طور پر مائل تھی۔ غالبؔ کے بڑے مداح تھے اور جدّت کے عاشق تھے۔ اکثر کہا کرتے تھے کہ جو شعر کہتا ہوں اسے اپنا کر لیتا ہوں۔ اس زمین میں بھی اچھے اچھے شعر کہے تھے۔ دو تین شعر یاد رہ گئے:

کیوں حسن بے ادب ہے یوں عشق سے چمن میں
اشکوں  نے  عطر  کھینچا   گلہائے   داغ  دل  کا
ناز و نیاز   دیکھیں  بلبل  کے  اور  گل  کے
مِنقار  بلبلوں کی  غنچوں کے ہے  دہن میں
تسخیر شمس شبنم کرتی ہے اس چمن میں
ہم بھی چلیں چمن میں، تم بھی چلو چمن میں

سید غضنفر علی خاں صاحب حکیم منشی اسیر کے بڑے صاحبزادے لکھنؤ کے گرانمایہ شاعروں میں تصور کیے جاتے تھے۔ عربی و فارسی کی استعداد کمال تک پہنچی ہوئی تھی اور علم عروض کے زبردست ماہر تھے۔ مضمون آفرینی اور جدت پسندی کا یہ عالم تھا کہ اپنے نامور باپ اسیر مرحوم کی مشکل پسندی کے رنگ کو بھی دو آتشہ کر دیا تھا۔ غزل میں بھرتی کا ایک شعر پڑھنا ان کے لیے کسر شان تھا۔ اپنے نزدیک وہ ہر ایک شعر میں کوئی نہ کوئی جدت اور استادی کا پہلو رکھتے تھے۔ اب یہ کہ اس کوشش میں کامیابی کہاں تک ہوتی تھی اس کا انصاف قدردانوں پر تھا۔ عموماً ان کے اشعار سادگی کے جوہر سے معرّا ہوتے تھے اور اکثر مغلق ہوتے تھے، لیکن ان کا کلام دیکھ کر یہ معلوم ہوتا تھا کہ ایک استاد جید کا کلام ہے۔ جو شعر صاف نکل جاتا تھا وہ قیامت کرتا تھا۔ مشاعروں کی طرح پر وہ غزل بہت کم کہتے تھے، کیونکہ شاعری کا منصب مقدمہ بازی نے چھین لیا تھا۔ لیکن اس مشاعرہ کے لیے انہوں نے بھی غزل کہی تھی اور خوب کہی تھی۔ چند اشعار جو اس وقت یاد ہیں، ہدیہ ناظرین ہیں:

 پھر غیر غیر ہی ہے، گو ہے اس انجمن میں
چھڑکا نمک اسی جا، موئے سفید نے بھی
تنہا گئے لحد کو کب صاحبان دولت
فصل بہار کتنی باتیں کرے گی تم سے
بلبل نے سر جو کچلا، گل نے دکھائی آنکھیں
نالوں سے بلبلوں کے گل تنگ آ کے بولے
بیگانگیٔ سبزہ جاتی نہیں چمن میں
زخمِ غم جوانی جس جس جگہ تھے تن میں
دُزدِ کفن کی نیت لپٹی رہی کفن میں
ہے یاد کی گرہ وہ غنچہ ہے جو چمن میں
کس سرکشی پہ سبزہ دب کر رہا چمن میں
یا یہ رہیں چمن میں یا ہم رہیں چمن میں

نواب یوسف حسین خاں صاحب یوسفؔ شرفائے لکھنؤ میں سے تھے اور قدیم تہذیب کے جو جوہر اور اوصاف ہونے چاہئیں، وہ ان میں سب موجود تھے۔ ان کی زیارت کرنے سے روح کو بالیدگی حاصل ہوتی تھی۔ شاعری میں منشی اسیر کے شاگرد تھے اور اپنے استاد کو ہمیشہ محبت سے یاد فرمایا کرتے تھے۔ لیکن ان کی شاعری کے رنگ اور اسیر کے رنگ سخن میں اندھیرے اجالے کا فرق نظر آتا تھا۔ زبان آب کوثر میں دھوئی ہوئی، بندشیں نورانی اور پاکیزہ۔ شعر کیا ہوتا تھا گویا نور کا دریا بہتا نظر آتا تھا۔ پڑھنے کا یہ عالم تھا کہ جس مضمون کا شعر پڑھتے تھے، اس کی تصویر محض آواز کے اتار چڑھاؤ اور آنکھ کی گردش سے کھینچ دیتے تھے۔ معمولی سا شعر بھی ان کی زبان سے بھلا معلوم ہوتا تھا۔ میرے خیال میں ان کی زبان خاص لکھنؤ کی ٹکسالی زبان تھی اور شاعری کے رنگ میں ڈوبی ہوئی تھی۔ فصاحت ان کے لیے پیدا ہوئی تھی اور وہ فصاحت کے لیے ۔

 اللہ رے صفائے بیان حدیث دوستدم بند ہے فصاحت اہل حجاز کا

انہوں نے جو غزل مشاعرے کے لیے فرمائی تھی، اس کا رنگ تمام غزلوں سے جداگانہ تھا اور خاص ان کے مذاق سخن کا نشان دیتی تھی۔چند اشعار لکھتا ہوں:

بوتل کے گاگ اڑا کر نکلی ہے مے چمن میں
ساغر بھرے دھرے ہیں ساقی کی انجمن میں
صیاد کا ہے دھڑکا پھولوں کی انجمن میں
کس نے کہا کہ بیٹھوں پھولوں کی انجمن میں
پتوں سے نخل گلشن، دستک جو دے رہے ہیں
وہ کونسا حسین ہے، تم پر نہیں جو مرتا
مرنے کے بعد ایسے ہم کچھ ہوئے تبرک
ہر رنگ کے گلوں نے ڈالا جو عکس یوسف!
ٹوپی اچھل رہی ہے مستوں کی انجمن میں
لہرا رہا ہے کوثر فردوس کے چمن میں
ہاتھوں اچھل رہا ہے بلبل کا دل چمن میں
حسرت بھری نگاہیں نرگس کی ہیں چمن میں
چوری گیا ہے شاید بلبل کا دل چمن میں
بھرتا ہے حسن یوسف پانی چہِ  ذَقن میں
بوسیدگی نے چوما ہر استخواں کفن میں
طاؤس بن  گئی ہے   باد  صبا  چمن  میں

مجھ کو اچھی طرح یاد ہے کہ جب یوسف حسین خاں صاحب نے یہ شعر پڑھا کہ “مرنے کے بعد ایسے  الخ” تو حکیم صاحب نے بہت تعریف کی۔ وجہ یہ تھی کہ یہ شعر خاص ان کے رنگ کا تھا مگر باوجود اس کے حضرت یوسف کی زبان کی جِلا اس میں بھی موجود ہیں۔

پنڈت بشن نرائن صاحب درؔ کی ابتدائی شاعری کا یہ زمانہ تھا۔ ان کا بھی ایک شعر یاد رہ گیا:

گل کے جو کان اڑائے بک بک کے بلبلوں نےبولی کلی چٹک کر کیا شور ہے چمن میں

ایک پرانی وضع کے بزرگ موجود تھے اور غالباً منشی اسیرؔ مرحوم کے شاگرد تھے۔ انہوں نے ایک رنگ قدیم کا شعر کہا تھا:

دریائے خون عاشق لہریں جو لے رہا ہےبے تاب مچھلیاں ہیں بازوئے تیغ زن میں

مگر جو شعر حاصل مشاعرہ ثابت ہوا اور جس کی دھوم دوسرے روز تمام شہر میں ہوگئی، وہ شعر حضرت بدرؔ کا تھا۔ حضرت بدر کا نام مجھے اس وقت یاد نہیں، اتنا ضرور جانتا ہوں کہ جناب حکیم کے شاگرد تھے اور لکھنؤ کے پرانے نواب زادوں میں تھے اور دولت کثیر رکھتے تھے۔ شعر بھی تفنن طبع کے طور پر کہہ لیا کرتے تھے۔ اس مشاعرہ میں انہوں نے یہ شعر پڑھ کر قیامت کر دی:

دامن کو چاک کرکے رسوا ہوئی ہے کیا کیاتھی عصمتِ زلیخا یوسف کے پیرہن میں

اس شعر کے علاوہ تمام غزل پھیکی ہے اور اس شعر کا مضمون بھی آتش کے ایک شعر سے لڑتا نظر آتا ہے:

نہ پھاڑنا تھا زلیخا کو دامن یوسفیہ اس کا پردۂ عصمت دریدہ ہونا تھا

لیکن حق یہ ہے کہ بدر کا شعر صفائی بندش کے لحاظ سے آتش کے شعر پر فوقیت رکھتا ہے اور یہی اس کے مقبول ہونے کا باعث ہوا۔

نواب ہادی علی خاں یکتاؔ ایک آزاد منش بزرگ ہیں۔ غزل کم کہتے ہیں لیکن تخمیس کے بادشاہ ہیں اور اس رنگ میں ان کا جواب لکھنؤ میں نہیں ہے۔ غالباً اسی وجہ سے تخلص یکتا رکھا ہے۔ اس مشاعرے میں آتش کی غزل پر انہوں نے مصرع لگائےتھے۔ جو کچھ یاد ہے لکھتا ہوں:

“تو من شدی” کا غل ہے ہر سو ہر ایک بن میں
یہ اتفاق باہم کمتر ہے مرد و زن میں
“من تو شدم” رچا ہے فریاد کوہکن میں
شیریں زبان ہوئی ہے فرہاد کے دہن میں
لیلی پکارتی ہے مجنوں کے پیرہن میں
 

سامان ظاہری ہے یہ اختلاط دنیا
جب ایک دن فنا ہے پھر کیا بساط دنیا؟
؟

 

کس پھیر میں پڑا ہے؟ چھوڑ ارتباط دنیا!
دو روز ہے یہ لطف عیش و نشاط دنیا

بوئے شب عروس مہمان ہے پیرہن میں

 

مشاعرے کے بعد حضرت یکتا ایک روز ملے اور حضرت بدر کے شعر پر جو مصرع لگائے تھے وہ سنائے، وہ بھی لکھتا ہوں:

عاشق ہوئی ہے کیا کیا؟ شیدا ہوئی ہے کیا کیا؟
درپردہ یہ قیامت برپا ہوئی ہے کیا کیا؟
بیدل ہوئی ہے کیا کیا؟ جو یا ہوئی ہے کیا کیا؟
دامن کو چاک کرکے رسوا ہوئی ہے کیا کیا؟

تھی عصمت زلیخا یوسف کے پیرہن میں

علاوہ ان حضرات کے جن کے اشعار میں نے لکھے ہیں، بہت سے شعرا جمع تھے اور غزلیں بھی پڑھی تھیں مگر مجھے اسی قدر اشعار یاد رہ گئے۔ اب تک میری نگاہوں کے سامنے اس مشاعرے کی تصویر ہے۔ کم سے کم ڈیڑھ سو حضرات نے غزلیں پڑھی تھیں جن میں اساتذہ بھی تھے، شاعر بھی تھے ،خوش گو بھی تھے اور محض تخلص کے گنہگار بھی تھے۔ اور سامعین کی تعداد دو سو تین سو سے کم نہ تھی۔ جب اچھا شعر پڑھا جاتا تھا تو قدردانوں کی تعریف اور واہ واہ کے نعروں سے یہ اندیشہ ہوتا تھا کہ چھت اڑ جائے گی۔ ایک طرف مظہر مرحوم کے چٹکلے روتے کو ہنساتے تھے، دوسری طرف جناب حکیم مرحوم کی مولویانہ اور ادب آمیز ظرافت اپنے رنگ میں مزہ دے جاتی تھی۔ نواب یوسف حسین خاں کی نورانی صورت سے تمام محفل نورانی ہو رہی تھی۔ ہادی علی خاں صاحب یکتا کا انداز تعریف قیامت تک نہ بھولے گا۔ افسوس ہے تو یہ ہے کہ اب یہ رنگ دیکھنا نہ نصیب ہو گا۔ پانچ چھ سال کا عرصہ ہوا جناب حکیم نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا۔ حضرت مظہر کے مرنے سے بزم احباب سونی ہو گئی ہے۔ نواب بنےّ صاحب مشّاقؔ بھی اس مشاعرے میں موجود تھے مگر غزل طرح پر نہیں پڑھی تھی۔ موت نے جوانی ہی کے عالم میں ان کا بھی خاتمہ کر دیا۔ ایک نواب یوسف حسین خاں باقی رہے تھے، افسوس ہے کہ پار سال طاعون کی ہوا سے وہ چراغ بھی گل ہو گیا۔ جناب جلال کا زخم ابھی تازہ ہے۔

اٹھ گئی  ہیں  سامنے  سے  کیسی  کیسی   صورتیں؟
روئیے  کس کس کو اور کس کس کا ماتم کیجیے؟

اب مشاعرے ہوں تو کیونکر ہوں۔  خیر خدا عزیزؔ و محشرؔ  کو سلامت رکھے کہ انہوں نے مشاعروں سے علمی مذاق کا سلسلہ قائم کیا ہے؛ ورنہ  زمانہ حال کے نوجوانوں کی طبیعتیں تمام سنجیده مشاغل سے پھری ہوئی ہیں، اسی میں شعروسخن کے مذاق کا خون بھی شامل ہے ۔ رسّا  کھینچنا، ہاکی یعنی  ولایتی گلی ڈنڈا کھیلنا، ٹینس کے دام میں اسیر رہنا اب تہذیب و شائستگی کا  معراج خیال کیاجاتا ہے۔ لیکن عقیدت مند دل مشاعرے کے بدلے مشاعرے کی یاد ہی  سے طبیعت کو تازہ کر لیتے ہیں ورنہ یہ چمن اب کہاں؟

؏ خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا

 

 

نوٹ:- چونکہ تمام اشعار محض حافظے کی مدد سے لکھے گئے ہیں، اس لیے اگر کسی مصرع یا شعر میں تغیر و تبدل ہو گیا ہوتو اہل تنقید معاف فرمائیں۔

(چکبستؔ)

ختم شد

یہ کتاب اردو گاہ اور مجلسِ برقی اشاعتِ ادبیاتِ عالیہ کے تعاون سے پیش کی گئی ہے۔
یہ کتاب اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ