دہلی کی آخری شمع

مجلسِ برقی اشاعتِ ادبیاتِ عالیہ

بسلسلۂ اردو ادبِ عالیہ

دہلی کی آخری شمع

فہرست

آغازِ کتاب

تمہید

 

نام نیکِ رفتگاں ضائع مکن
تا بماند نامِ نیکت برقرار

بقول غالبؔ مرحوم‘‘انسان ایک محشرِ خیال ہے’’ لیکن خیال میں حشر بپا ہونے کے لیے کسی بیرونی تحریک کا ہونا لازمی ہے۔ دماغ خیال کا گنجینہ ہے، لیکن اِس گنجینے کے کھلنے کے واسطے کسی ظاہری اسباب کی کنجی کی ضرورت ہے۔ مجھے بچپن سے شعرائے اردو کے حالات پڑھنے اور سننے کا شوق رہا ہے، مگر کبھی کوئی ایسی تحریک نہیں ہوئی جو ان کے حالات کو ایک جگہ جمع کرنے کا خیال پیدا کرتی اور یہ خیالات الفاظ کی شکل میں ظاہر ہو کر ایک خوش نما چلتی پھرتی تصویر بن جاتے۔

جب کوئی بات ہونے والی ہوتی ہے تو اسباب خود بہ خود پیدا ہو جاتے ہیں۔ اتفاق دیکھیے کہ پرانے قدیم کاغذات میں مجھ کو حکیم مومن خاں مومنؔ دہلوی کی ایک قلمی تصویر ملی۔تصویر کا ملنا تھا کہ یہ خیال پیدا ہوا کہ تو بھی محمد حسین آزادؔ مرحوم کے نیرنگِ خیال کی محفل شعرا کی طرح ایک مشاعرہ قائم کر؛ مگر ان لوگوں کے کلام پر تنقید کرنے کی بجائے صرف ان کی چلتی پھرتی تصویریں دکھا۔ خیال میں رفتہ رفتہ پختگی ہوئی اور اس پختگی خیال نے ایک مشاعرے کا خاکہ پیشِ نظر کر دیا؛ لیکن یہ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ مختلف زمانوں کے شاعروں کو کس طرح ایک جگہ جمع کروں۔ اس عُقدے کو امیر اللہ تسلیمؔ مرحوم کے اس شعر نے حل کردیا:

جوانی سے زیادہ وقتِ پیری جوش ہوتا ہے
بھڑکتا ہے چراغِ صبح جب خاموش ہوتا ہے

اس شعر کا یاد آنا تھا کہ شعرائے دہلی کا آخری دور آنکھوں کے سامنے پھر گیا اور دل میں یہ بات جم گئی کہ بجائے تمام شعرائے اردو کے، دہلی کے آخری دور کا نقشہ کھینچ دیا جائے۔ قاعدے کی بات ہے کہ مرنے سے پہلے بیمار سنبھالا لیتا ہے۔ اردو شاعری کے حق میں بہادر شاہ ثانی کا زمانہ بھی دہلی کا سنبھالا تھا۔ بادشاہت برائے نام تھی اور جو تنخواہ بادشاہ سلامت کو ملتی تھی، اس میں قلعے کا خرچ بھی مشکل سے چلتا تھا۔ برخلاف اِس کے دکن اور اودھ میں دولت کی گنگا بہہ رہی تھی۔ پھر بھی دریائے جمنا کی چمکیلی ریت دہلی والوں کے لیے نظر فریب رہی اور اس ‘‘اجڑے دیار’’ میں شعرا ہی نہیں ہر فن کے کاملوں کا ایک ایسا مجمع ہوگیا جس کی نظیر ہندوستان تو ہندوستان، دوسرے کسی ملک میں بھی ملنی دشوار ہے۔

زمانہ ایک رنگ پر نہیں رہتا۔ ١٨٥٧؁ء  سے قبل ہی اُن کاملین فن میں سے بہت سے تو ملکِ عدم کو سدھارے؛ جو بچے کھچے رہ گئے تھے، ان کو غدر کے طوفان نے تِتّر   بِتّر کر دیا۔ جس کو جہاں کچھ سہارا ملا، وہیں کا ہو رہا۔ دہلی برباد ہو کر حیدرآباد اور رام پور آباد ہوئے۔ اکثر شرفا گھروں سے ایسے نکلے کہ پھر ان کو دہلی کی صورت دیکھنی نصیب نہ ہوئی۔ جو رہ گئے ہیں، وہ چلنے چلانے کو تیار بیٹھے ہیں۔ بہت سے اٹھ گئے، بہت سے اٹھتے جاتے ہیں اور ایک زمانہ وہ آنے والا ہے کہ کوئی یہ بتانے والا بھی نہ رہے گا کہ مومن مرحوم کا مکان کہاں تھا۔ جس طرح سوائے میرے اب شاید کسی کو یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کی قبر کہاں ہے۔

ان چراغ ہائے سحری کو دیکھ دیکھ کر مجھے خیال آیا اور اس خیال کی محرک مومنؔ مرحوم کی تصویر بھی ہوئی کہ اردو کے لیے ان سے ایک ایسا تو چراغ روشن کرلوں جس کی روشنی میں آنے والی نسلیں زبانِ اردو کے اُن محسنوں کی شکلیں (خواہ وہ دھندلی ہی کیوں نہ سہی) دیکھ سکیں اور ان کا کلام پڑھتے وقت کم سے کم ان کی صورتوں کا ایک موہوم سا نقشہ پڑھنے والوں کی آنکھوں کے سامنے پھر جائے۔ جو لوگ علمی مذاق رکھتے ہیں، وہ جانتے اور سمجھتے ہیں کہ کسی کا کلام پڑھتے وقت اگر اس کی شکل و صورت، حرکات و سکنات، آواز کی کیفیت، نشست و برخاست کے طریقے، طبیعت کا رنگ اور سب سے زیادہ یہ کہ اس کے لباس اور وضع قطع کا خیال دل میں رہے تو اس کا کلام ایک خاص اثر پیدا کر دیتا ہے اور پڑھنے کا لطف دو بالا ہو جاتا ہے، ورنہ مصنف کے حالات سے واقف ہوئے بغیر اس کی کسی کتاب کا پڑھ لینا، گرامو فون کے ریکارڈ سننے سے زیادہ مؤثر نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ آج کل مہذب ممالک کے کسی مصنف کی کوئی کتاب شائع نہیں ہوتی، جس کے شروع میں اس کے حالات درج نہ کیے جائیں اور وہ واقعات نہ دکھائے جائیں جن کی موجودگی میں وہ تصنیف ضبط تحریر میں آئی۔ یہی خیالات تھے جنہوں نے مجھے ان چند اوراق کے لکھنے پر آمادہ کیا۔ اس البم میں آپ ایسی بہت سی تصویریں دیکھیں گے جو ان کاملین فن نے اپنے ہاتھ سے خود کھینچی ہیں، بہت سے ایسے مرقعے پائیں گے جو دوسرے مصوروں کے ہاتھ کے بنے ہوئے ہیں، بعض ایسے نقش و نگار ملیں گے جو فوٹو یا قلمی تصاویر دیکھ کر الفاظ میں اتارے گئے ہیں۔ اکثر و بیشتر ایسی صورتیں ہوں گی جو خود میں نے بڑے بوڑھوں سے پوچھ کر بنائی ہیں؛ لیکن ہر صورت میں شہادتِ تائیدی کے مقابلے میں شہادتِ تردیدی کو زیادہ وقعت دی ہے۔ یعنی اگر کسی واقعے کے متعلق ایک بھی مخالف بات معلوم ہوئی تو اُس واقعے کو قطعاً ترک کر دیا۔

اگر اتنے سارے حلیے ایک جگہ ہی جمع ہو جاتے تو یقیناً یہ مضمون فوج کے چہروں کا رجسٹر بن کر بے لطف ہو جاتا، لیکن ادھر تو آزادؔ مرحوم کے نیرنگ خیال نے دل میں مشاعرے کا خیال ڈالا، اُدھر کریم الدین مغفور کی کتاب ‘‘طبقات الشعرائے ہند’’ کے طبقۂ چہارم نے رجب  ۱۲۶۱؁ھ کے ایک مشاعرے کا پتا دیا۔ اب کیا تھا، دونوں کو ملا کر ایک مضمون پیدا کر لیا۔ رہی رنگ آمیزی، اس کی تکمیل میں خود کر دیتا ہوں، البتہ اچھے برے کی ذمہ داری نہیں لیتا۔ بہ حیثیت مورخ  ۱۲۶۱؁ھ کے واقعات میں خود اس طرح لکھ سکتا تھا گویا یہ سب میرے چشم دید ہیں اور:

ہمچو سبزہ بارہا روئیدہ ام
ہفت صد ہفتاد قالب دیدہ ام

پر نظر رکھتے ہوئے اس زمانے کا بھی ‘‘مرزا صاحب’’ بن سکتا تھا؛ مگر میرے دل نے گوارا نہیں کیا کہ کریم الدین مرحوم کی کامیابی کا سہرا اپنے سر پر باندھوں اور ایسے شخص کو دودھ کی مکھی کی طرح نکال کر پھینک دوں جس نے اس مشاعرے میں بہت بڑا حصہ لیا تھا، جس کے مکان پر یہ مشاعرہ ہوا تھا اور جو اس مشاعرے کی روح رواں تھا۔ یہ ضرور ہے کہ ان کی یہ مجلس محدود تھی اور میں نے اس کو اتنی وسعت دی ہے کہ اس زمانے کے تقریباً سب بڑے بڑے شعرا کو اس میں لا بٹھایا ہے۔ اب اس میں مجھے کامیابی ہوئی یا نہیں، اس کا اندازہ قارئین کِرام فرماسکتے ہیں۔ اگر ہوئی ہے تو زِہے نصیب! میری محنت ٹھکانے لگی۔ اگر نہیں ہوئی، تو کم سے کم یہی سمجھ کر میری داد دی جائے کہ مرزا صاحب نے بات تو اچھی پیدا کی تھی مگر نباہ نہ سکے؛جو ان سے نہیں ہوا وہ اب ہم کر دکھاتے ہیں۔ ممکن ہے کہ اس طرح کوئی قلم کا دَھنی ‘‘اُن خفتگانِ خاک’’ کا کوئی ایسا مرقع تیار کر دے جو بزم ادبِ اردو میں سجانے کے قابل ہو۔

لیجیے اب مولوی کریم الدین صاحب کی جون میں حاضرِ خدمت ہوتا ہوں، لیکن یہ ضرور عرض کیے دیتا ہوں کہ جب میں اپنی تمام محنت کریم الدین صاحب کی نذر کر رہا ہوں تو جو کچھ برا بھلا آپ کو اس مضمون کے متعلق کہنا ہے وہ مجھے نہ کہیے، مولوی صاحب کو کہیے اور خوب دل بھر کر کہیے، میں خوش اور میرا خدا خوش۔ والسلام

مرزا فرحت اللہ بیگ

 

 

تدبیر

 

ہوس کو ہے نشاطِ کار کیا کیا
نہ ہو مرنا، تو جینے کا مزا کیا

میرا نام کریم الدین ہے، میں پانی پت کا رہنے والا ہوں۔ یہ قصبہ دہلی سے چالیس کوس پر بہ جانبِ شمال مغرب واقع ہے اور اپنی لڑائیوں کی وجہ سے تاریخ میں مشہور ہے۔ ہم اچھے کھاتے پیتے لوگ تھے، مولویوں کا خاندان تھا، لیکن زمانے کی گردش نے ایسا پیسا کہ کوڑی کوڑی کو محتاج ہوگئے، جائداد ضبط ہوگئی۔ میرے دادا صاحب قبلہ ایک مسجد میں جا بیٹھے اور اللہ اللہ کر کے گزار دی۔ جب ضبط شدہ جائداد کے متعلق دریافت شروع ہوئی تو توکّل نے ان کا دامن پکڑ لیا، اپنی جگہ سے نہ ہلے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہمیشہ کے لیے روٹیوں کا سہارا کھو بیٹھے۔ میرے والد سراج الدین مرحوم بہ مصداقِ ‘‘عصمتِ بی بی از بے چادری’’ متوکل بنے رہے اور مسجد میں ایسے بیٹھے کہ مر کر اٹھے۔

میں ۱۲۳۷؁ھ میں عین عید الفطر کے دن پیدا ہوا۔ میری تعلیم انہی دونوں بزرگوں کے ہاتھوں ہوئی؛ لیکن بے چین طبیعت اور خاندانی جھگڑوں نے آخر پانی پت چھڑایا۔ اُس زمانے میں دہلی میں علم کا بڑا چرچا تھا۔ ہر فن کے کاملوں سے دہلی بھری پڑی تھی۔ ہر سمت علم کے چشمے جاری تھے۔ ‘‘ملا کی دوڑ مسجد تک’’ مَیں بھی پانی پت چھوڑ دہلی آگیا۔ شہر میں چھاپے خانے نئے نئے چلے تھے، کاپی نویسی سے گزارا کرتا۔ محنت مزدوری کے بعد بھی ذوقِ علم ہر حلقۂ درس میں مجھے لے جاتا۔ اسی زمانے میں دہلی کالج کی تنظیم جدید ہوئی تھی، طالب علموں کی تلاش تھی، میں بھی اٹھارہ سال کی عمر میں وہاں شامل ہوگیا۔ سولہ روپے وظیفہ بھی مقرر ہوا اور اس طرح میں نے علم کی پیاس بڑی حد تک بجھائی؛ لیکن یہ وہ زمانہ نہیں تھا کہ علم کو علم کے لیے حاصل کیا جاتا، اب اُس کے ساتھ گزارے کی ایک بڑی شِق لگ گئی تھی؛ اس لیے چند دوستوں کے ساتھ مل کر ایک مطبع کھولا۔ قاضی کے حوض پر مبارک النسا بیگم کی حویلی کرایے پر لی۔ عربی کی مشہور مشہور کتابوں کے ترجمے چھاپے، لیکن مطبع جیسا چلنا چاہیے تھا، نہ چلا۔ یہ اردو شاعری کے شباب کا زمانہ تھا۔ بادشاہ سے لے کر فقیر تک سب اسی رنگ میں رنگے ہوئے تھے۔ خیال آیا کہ ایک مشاعرہ قائم کر کے شعرا کے حالات اور ان کا کلام طبع کروں، ممکن ہے کہ اس طرح مطبع چل جائے۔ مجھے شاعری سے نہ کبھی لگاؤ تھا اور نہ اب ہے؛ بلکہ شعر کہنا میں برا جانتا ہوں، کیوں کہ اہل علم کا یہ پیشہ نہیں ہے۔ وہ لوگ جو معیشت سے فارغ البال ہیں، اپنا دل بہلانے اور حسرت نکالنے کے لیے شاعری کرتے ہیں۔

میں خود عالم ہوں، میرے باپ دادا عالم تھے؛ بھلا میں تو اس قسم کی فضولیات کی طرف توجہ بھی نہ کرتا، مگر کیا کروں ضرورت سب خیالات پر حاوی ہوگئی اور مجھے قیامِ مشاعرہ پر مجبور کیا۔ لیکن بڑی مصیبت یہ ہے کہ ایک تو اس شہر میں غریب اور خاص کر پردیسی غریب کو منہ نہیں لگاتے۔ دوسرے یہ کہ میری جان پہچان تھی تو مولویوں سے، وہ بھلا اس معاملے میں میرا کیا ساتھ دے سکتے تھے۔ سوچتے سوچتے نواب زین العابدین خاں عارفؔ پر نظر پڑی۔ ان سے دو چار دفعہ ملنا ہوا تھا۔ بڑے خوش اخلاق آدمی ہیں۔ لال کنویں کے پاس ایک حویلی ہے، اس کو مدرسہ بھی کہتے ہیں، وہاں رہتے ہیں۔ کوئی تیس (۳۰) سال کی عمر ہے۔گوری رنگت، اونچا قد اور نہایت جامہ زیب آدمی ہیں، البتہ ڈاڑھی بھر کر نہیں نکلی ہے، ٹھوڑی پر کچھ گنتی کے بال ہیں۔ غالب کے بھانجے بھی ہیں اور شاگرد بھی۔ کچھ عرصے تک شاہ نصیر سے بھی اصلاح لی ہے۔ بہرحال ان کی محبت، ان کی شرافت اور سب سے زیادہ ان کے رسوخ نے مجھے ان کی خدمت میں حاضر ہونے اور اس بارے میں ان کی امداد حاصل کرنے پر مجبور کیا۔

ایک روز صبح ہی صبح گھر سے نکل کر ان کے مکان پر پہنچا۔ معلوم ہوا کہ وہ حکیم احسن اللہ خاں صاحب وزیرِ اعظم کے مکان پر تشریف لے گئے ہیں۔ حکیم صاحب کا مکان سِرکی والوں ہی میں تھا۔ واپسی میں دروازے پر دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ نواب زین العابدین خاں اندر ہیں۔ چوبدار کے ذریعے سے اطلاع کرائی۔ انھوں نے اندر بلا لیا۔ بڑا عالی شان مکان ہے۔ صحن میں نہر ہے، سامنے بڑا چبوترہ ہے اور چبوترے پر بڑے بڑے دالان در دالان۔ مکان خوب آراستہ پیراستہ ہے۔ ہر چیز سے اِمارت ٹپکتی ہے۔ سامنے گاؤ تکیے سے لگے نواب صاحب بیٹھے تھے۔ میں نے تو ان کو پہچانا بھی نہیں، سوکھ کر کانٹا ہوگئے تھے اور چہرے پر جھریاں پڑ گئی تھیں۔ میں نے سلام کر کے کیفیت پوچھی، کہنے لگے “مولوی صاحب! کیا کہوں، کچھ دل بیٹھا جاتا ہے۔ بظاہر کچھ مرض بھی نہیں معلوم ہوتا، علاج کر رہا ہوں، مگر بے نتیجہ۔ بھئی اب ہمارے چل چلاؤ کا زمانہ ہے۔ کچھ دنوں دنیا کی ہوا کھا رہے ہیں، مگر یہ تو کہیے آج آپ کدھر نکل آئے؟” میں نے واقعات کا اظہار کر کے ضرورت بیان کی۔ تھوڑی دیر سوچتے رہے، پھر ایک آہ بھر کر کہا: ‘‘میاں کریم الدین! تم کو بات اچھی سوجھی ہے، مگر بھئی اس کا نباہنا مشکل ہے۔ تمھیں خبر نہیں، دہلی کے پہلے مشاعروں نے کیا کچھ دلوں میں فرق ڈال دیے ہیں۔ دل تو میرا بھی چاہتا ہے کہ مرتے مرتے ایک ایسا مشاعرہ دیکھ لوں جس میں یہاں کے سب کاملین فن جمع ہوجائیں، مگر مجھے یہ بیل منڈھے چڑھتی معلوم نہیں ہوتی۔ اچھا تم بھی کوشش کرو، میں بھی کرتا ہوں، ممکن ہے کہ کوئی صورت نکل آئے۔ ہاں ٹھہرو، حکیم صاحب کو آنے دو، ایک تجویز ذہن میں آئی ہے؛ اگر چل گئی تو میری بھی آخری تمنا پوری ہوجائے گی اور تمھارا بھی کام نکل جائے گا۔”

ہم یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ حکیم صاحب نکل آئے۔ گورے چٹے آدمی ہیں، سفید بھری ہوئی ڈاڑھی، گول چہرہ، اس میں کچھ کچھ چیچک کے داغ، آنکھوں سے ذہانت ٹپکتی تھی۔ سر سے پاؤں تک سفید لباس پہنے ہوئے تھے۔ فن طب میں کامل اور تاریخ کے عالم ہیں۔ میں آداب بجا لایا، میری طرف مسکرا کر دیکھا اور نواب صاحب سے کہا: آپ کی تعریف کیجیے۔ انھوں نے کہا: یہ میرے قدیم ملنے والوں میں سے ہیں۔ خود شاعر نہیں مگر شعر فہم ہیں۔ آج کل خیال پیدا ہوا ہے کہ شعرائے دہلی کا ایک تذکرہ لکھیں اور اُس میں ان کے حلیے اور ان کے کلام کے نمو نے دکھائیں۔ مجھ سے مشورہ کرنے آئے تھے۔ آپ جانتے ہیں کہ مجھے ان چیزوں سے عشق ہے۔ اب اپنا آخری وقت ہے، جی چاہتا ہے کہ پرانے رنگ کا ایک مشاعرہ اور دیکھ لوں؛ اگر آپ مدد فرمائیں تو یہ مشکل آسان ہوسکتی ہے۔ حکیم صاحب کہنے لگے: میاں عارف! خدا کے لیے ایسی مایوسی کی باتیں نہ کیا کرو۔ ابھی جوان ہو، ان شاء اللہ خود طبیعت مرض پر غالب آ جائے گی اور تمھیں مرض ہی کیا ہے، وہم ہی ہے؛ مگر ہاں یہ تو بتاؤ تم مجھ سے کس قسم کی مدد چاہتے ہو؟ نواب صاحب نے کہا: حکیم جی! اور کچھ نہیں، اتنا کردو کہ میاں کریم الدین کو بارگاہ جہاں پناہی تک پہنچا دو۔ میں خود جاتا مگر ہمت نہیں ہوتی۔ میں ان کو سب سمجھادوں گا۔ اگر حضرت ظلّ اللہ اپنا کلام بھیجنے پر راضی ہوگئے تو مشاعرے کا جم جانا کوئی مشکل کام نہیں۔ اور اگر بدقسمتی سے انکار ہوگیا تو مشاعرے کا خیال کرنا ہی فضول ہے۔ اب رہا مشاعرے کا انتظام تو وہ میں خود کرلوں گا کیوں کہ یہ بے چارے ان چیزوں کو کیا سمجھیں۔

حکیم صاحب پہلے تو کچھ سوچتے رہے، پھر کہا: عارفؔ! تمھارے لیے میں سب کچھ کرنے کو تیار ہوں۔ اس لیے اور بھی کروں گا کہ اس سے تمھاری طبیعت بہل جائے گی اور کچھ دنوں اس مشغلے میں لگ کر ممکن ہے کہ تمھارے دل سے مرض کا وہم جاتا رہے۔ بادشاہ سلامت سے تو میں کہتا نہیں، ہاں آپ کے دوست کو صاحب(١) عالم مرزا فتح الملک بہادر سے ملا دیتا ہوں، ان کو آج کل مشاعرے کی لَو لگی ہوئی ہے، حضور سے بھی کئی مرتبہ عرض کرچکے ہیں، مگر وہ ٹال گئے۔ اگر ان صاحب نے ذرا بھی زور دیا تو مجھے یقین ہے کہ صاحبِ عالم کہہ سن کر ضرور اجازت حاصل کرلیں گے۔ اچھا تو مولوی صاحب! کل ایک بجے قلعۂ معلیٰ میں آ جائیے، میں چوبدار سے کہے جاتا ہوں، یہ اندر پہنچا دے گا۔ آگے آپ جانیں اور آپ کی قسمت۔ یہ کہہ کر حکیم صاحب نے خدا بخش کو آواز دی۔ وہ آیا تو اس سے کہا کہ کل یہ صاحب حویلی(٢)  میں ایک بجے آئیں گے، ان کو میری بیٹھک میں پہنچا دینا۔ یہ کہہ کر وہ نواب صاحب کی طرف متوجہ ہوگئے اور میں آداب کر کے واپس چلا آیا۔

دوسرے روز ایک بجے کے قریب میں مولویانہ ٹھاٹھ سے جُبّہ پہن، شملہ باندھ، قلعۂ معلّیٰ پہنچا۔ لاہوری دروازے کے باہر خدا بخش کھڑے ہوئے تھے، وہ مجھ کو حکیم صاحب کی بیٹھک میں لے گئے۔ یہ بیٹھک، جس کو پہلے زمانے میں ‘‘نشست’’ کہا جاتا تھا، دیوانِ عام سے ملی ہوئی تھی۔ حکیم صاحب بیٹھے کچھ لکھ رہے تھے، مجھے دیکھ کر بولے: ‘‘اجی مولوی صاحب! میں نے آپ کا کام کر دیا ہے، صاحبِ عالم مرزا فتح الملک بہادر سے صبح ہی کو ملنا ہوگیا، وہ اس تجویز سے بڑے خوش ہوئے۔ فرماتے تھے: جہاں پناہ سے میں اجازت لیے لیتا ہوں، مگر مشاعرے کا انتظام ایسا ہونا چاہیے کہ ہم لوگ بھی آسکیں۔ خیر بیٹھیے، شاید ابھی آپ کی یاد ہو۔ میں ایک طرف بیٹھ گیا۔ بیٹھا ہی تھا کہ چوبدار نے آ کر کہا: وہ کریم الدین کون صاحب ہیں، ان کو حضور والا یاد فرماتے ہیں۔ یہ سننا تھا کہ میرے پسینے چھوٹ گئے۔ میں سمجھا تھا کہ حکیم صاحب ہی کے پاس جا کر معاملہ طے ہوجائے گا۔ یہ کیا خبر تھی کہ بارگاہِ جہاں پناہی میں یاد ہوگی اور یاد بھی ایسے وقت کہ میرا سانس بھی پیٹ میں پوری طرح نہ سمایا ہوگا۔ ‘‘حکم حاکم، مرگِ مفاجات’’۔ اٹھا اور چوبدار کے پیچھے پیچھے روانہ ہوا۔ تمام راستے آیۃ الکرسی پڑھتا رہا۔ آنکھ اٹھا کر یہ بھی نہ دیکھا کہ یہ بندۂ خدا کدھر لیے جا رہا ہے۔ اندر سے قلعہ دیکھنے کا مدت سے شوق تھا۔ اب جو موقع ملا تو کن انکھیوں سے بھی دیکھنے کی ہمت نہ ہوئی۔ چلتے چلتے آندھ آ گئی۔ آخر خدا خدا کر کے چوبدار نے دیوانِ خاص کی سیڑھیوں کے پاس لے جا کر کھڑا کر دیا اور آپ اندر اطلاع دینے چلا گیا۔ حضرت جہاں پناہ اُس وقت حمام میں رونق افروز تھے۔

جن صاحبوں نے دہلی کا قلعہ نہیں دیکھا ہے، وہ شاید نہ سمجھ سکیں کہ گرمیوں میں حمام میں بیٹھنے کے کیا معنی ہیں؟ اصل یہ ہے کہ یہ حمام کیا ہے، ایک عالی شان عمارت ہے۔ اس کے دو درجے ہیں: ایک گرم، دوسرا سرد۔ عمارت کا جو حصہ موتی مسجد کی جانب ہے، وہ گرم ہے اور جو جمنا کے رخ پر ہے وہ سرد ہے۔ ریتی کے رُخ خس کے پردے ڈال کر خس خانہ بنا لیا جاتا ہے۔ اندر نہر بہتی ہے۔ بیچ میں کئی بڑے بڑے حوض ہیں، ان میں فوارے چلتے ہیں۔ حمام کیا ہے، بہشت کا ایک ٹکڑا ہے۔ چوبدار جو گیا تو آنے کا نام نہیں لیتا۔ دھوپ میں کھڑے کھڑے فشِار ہوگیا۔ پسینے میں تر بہ تر، گردن نیچی کیے کھڑا ہوں اور ناک سے پسینے کی بوندیں ٹپ ٹپ گر رہی ہیں۔ ارادہ ہوا کہ واپس چلا جاؤں؛ مگر اول تو طلبی کے بعد بھاگ جانا ہی نازیبا، دوسرے راستہ کس کو معلوم۔ خدا خدا کر کے یہ مشکل آسان ہوئی اور چوبدار نے آ کر کہا کہ چلیے۔ اس ایک لفظ نے خود بہ خود پاؤں میں لغزش اور دل میں کپکپی پیدا کر دی۔ خیر کسی نہ کسی طرح الٹے سیدھے پاؤں ڈالتا حمام مبارک میں داخل ہوگیا۔ چوبدار نے آواز دی: “ادب سے، نگاہ روبرو، حضرت جہاں پناہ سلامت، آداب بجا لاؤ”۔ میں نواب زین العابدین خاں صاحب سے یہ سبق پورا اور اچھی طرح پڑھ کر آیا تھا۔دہرا ہو کر سات تسلیمات بجا لایا اور نذر گزارنی۔ نذر دیتے وقت ذرا آنکھ اونچی ہوئی تو وہاں کا رنگ دیکھا۔ حضرت پیر و مرشد ایک چاندی کی پلنگڑی پر لیٹے تھے۔ پائنتی مرزا فخرو بیٹھے پاؤں دبا رہے تھے۔ دہلی میں وہ کون ہے جس نے حضرت ظل اللہ کو نہیں دیکھا۔میانہ قد، بہت نحیف جسم، کسی قدر لمبا چہرہ، بڑی بڑی روشن آنکھیں، آنکھوں کے نیچے ہڈیاں بہت ابھری ہوئی، لمبی گردن، چوکا ذرا اونچا، پتلی سُتواں ناک، بڑا دہانہ، گہری سانولی رنگت، سر منڈا ہوا، چھدری ڈاڑھی، کلّوں پر بہت کم، ٹھوڑی پر ذرا زیادہ، لبیں کتری ہوئی، ستر برس سے اونچی عمر تھی۔ بال سفید بھک ہوگئے تھے لیکن پھر بھی ڈاڑھی میں اکا دکا سیاہ بال تھا۔ چہرے پر جھریاں تھیں، لیکن باوجود اس پیرانہ سالی اور نقاہت کے آواز میں وہی کرارا پن تھا۔ سبز کمخواب کا ایک برکا پیجامہ اور سفید ڈھاکے کی ململ کا کرتا زیبِ بدن تھا۔ سامنے ایک چوکی پر جامہ وار کی خفتان اور کارچوبی چو گوشیہ ٹوپی رکھی ہوئی تھی۔

اب رہے مرزا فخرو تو وہ عین مَین باپ کی تصویر تھے۔ بتیس تینتیس برس کی عمر تھی، فرق تھا تو بس یہی کہ وہ بڈھے تھے اور یہ جوان۔ اُن کا رنگ بڑھاپے کی وجہ سے ذرا کلونس لے آیا تھا۔ اِن کا کھلا گیہواں رنگ تھا۔ اُن کی ڈاڑھی سفید تھی، اِن کی سیاہ، ورنہ یہی معلوم ہوتا تھا کہ ایک بادشاہ لیٹے ہیں اور ایک بیٹھے ہیں۔

دونوں نے مجھ پر ایک گہری نظر ڈالی اور بادشاہ سلامت نے فرمایا: اماں(١) تمھارا ہی نام کریم الدین ہے؟ کہیں باہر کے معلوم ہوتے ہو۔ میں نے کہا کہ: خانہ زاد پانی پت کا رہنے والا ہے۔ بچپن ہی سے حضرت ظل اللہ کے سایۂ عاطفت میں آ رہا ہے۔ فرمایا: اماں ابھی تمھارا ہی ذکر مرزا فخرو کر رہے تھے۔ میرا خود جی چاہتا ہے کہ پہلے کی طرح دیوانِ عام میں مشاعرہ کروں، مگر کیا کروں زمانے کی ہوا ایسی بگڑ گئی ہے کہ مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ یہ صحیح ہے کہ ‘‘بود ہم پیشہ باہم پیشہ دشمن’’ لیکن خدا محفوظ رکھے، ایسی دشمنی بھی کس کام کی کہ دو گھڑی مل جل کر نہ بیٹھنے دے۔ دیوانِ عام میں مشاعرہ ہوتا تھا، وہ کچھ دنوں ٹھیک چلا۔ پھر میں نے دیکھا کہ بے لطفی بڑھ رہی ہے، اس لیے بند کر دیا۔ منشی فیض پارساؔ نے اجمیری دروازے کے باہر غازی الدین خاں کے مدرسے میں مشاعرہ شروع کیا، وہ تیلیوں کی طرح بکھر گیا۔ وہ تو کہو غنیمت ہوا کہ ردیف میں ‘‘تیلیاں’’ ہی تھیں، کہیں خدانخواستہ اگر ردیف ‘‘کڑیاں’’ ہوتی تو خدا معلوم کتنوں کے سر پھوٹ جاتے۔ تم مشاعرہ تو کر رہے ہو مگر اُن ہاتھیوں کی ٹکر کیسے سنبھالو گے۔

استاد ذوقؔ تو بے چارے بے زبان آدمی ہیں، مگر خدا بچائے حافظ ویرانؔ سے، وہ ضرور لڑ مریں گے اور تم جانتے ہو ‘‘اندھے کی داد نہ فریاد، اندھا مار بیٹھے گا’’۔ کسی نے اگر مشاعرے میں استاد پر ذرا بھی چوٹ کر دی تو ان نابینا صاحب کو سنبھالنا مشکل ہو جائے گا۔ میاں تم سے یہ کام سنبھلتا نظر نہیں آتا۔ میں نے عرض کی کہ قبلۂ عالم! میری کیا ہمت ہے جو میں اتنے بڑے کام میں ہاتھ ڈال سکوں۔ مشاعرے کا سارا انتظام نواب زین العابدین خاں عارفؔ نے اپنے ذمے لیا ہے۔ فرمایا: تو مجھے اطمینان ہے، یہ لڑکا بڑا ہوشیار اور ذہین ہے۔ مرزا نوشہ اور مومن خاں کو وہ سنبھال لے گا۔ رہے استاد ذوقؔ، ان سے میں کہہ دوں گا۔ خدا نے چاہا تو اس طرح مشاعرہ چل جائے گا، مگر میں کہے دیتا ہوں کہ مشاعرے سے پہلے ان لوگوں سے مل لو، کہیں ایسا نہ ہو کہ وقت پر انکار کر بیٹھیں۔ میں اور مرزا شبوؔ تو آ نہیں سکتے، ہاں مرزا فخرو کو میں اپنی جگہ بھیج دوں گا اور ان شاء اللہ اپنی غزل بھی بھیج دوں گا۔ ہاں یہ بتاؤ کہ تم نے ‘‘طرح’’ کیا رکھی ہے؟ ‘‘طرح’’ ہی تو بڑے جھگڑے کی چیز ہے، یہ ذرا سوچ سمجھ کر دینا۔

یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ بازو سے آواز آئی: ‘‘اے ہے! یہ انّا بچے کو کیا بے طرح سلا گئی ہے’’۔ یہ سنتے ہی بادشاہ سلامت نے فرمایا: لو بھئی! یہ خود بہ خود ‘‘فالِ گوش’’ مل گئی۔ تم اس مشاعرے میں کوئی ‘‘طرح’’ ہی نہ دو۔ جس شخص کا جس بحر، جس ردیف، قافیے میں غزل پڑھنے کو دل چاہے پڑھے، نہ لینا ایک نہ دینا دو۔ میں نے عرض کی: ‘‘پیر و مرشد! تاریخ؟’’ فرمایا: ۱۴؍ رجب مقرر کردو۔ دن بھی اچھا ہے، چاندنی رات بھی ہوگی، آج پانچ تاریخ ہے، نو دن باقی ہیں، اتنے دنوں میں بہت کچھ انتظام ہوسکتا ہے۔ انگریزی کی ۲۰؍ جولائی پڑے گی، موسم بھی ٹھنڈا ہوجائے گا۔ اچھا اب خدا حافظ۔

میں نے عمر و دولت و اقبال کو دعا دی اور خوش خوش الٹے قدموں واپس ہوا۔ مرزا فخرو بیچ میں کچھ نہیں بولے، مگر میں سمجھتا تھا کہ یہ سب کچھ کیا دھرا انہی کا ہے، ورنہ کہاں میں اور کہاں خلوتِ شاہی۔ سچ ہے ؏

بگڑی بن جاتی ہے جب فضلِ خدا ہوتا ہے

یہاں اتنا ضرور کہوں گا کہ میرے لیے حضوری اُتنی مشکل نہ تھی جتنا یہ رخصت ہو کر الٹے پاؤں چلنا ہوا۔ زمین پاؤں کو نہیں لگی تھی، اس لیے دو چار قدم ہی چلا ہوں گا کہ پیچھے ایک دیوار سے ٹکرایا۔ اس ٹکر سے ذرا سنبھلا تھا کہ نہر میں پاؤں جا پڑا۔ خیر بہ ہزار مشکل اب جادۂ ادب کو طے کرکے  باہر نکل ہی آیا۔ ادھر میں نکلا ادھر چوبدار ساتھ ہوا۔ اس کو انعام دے دلا کر ٹالا۔ حکیم صاحب کے پاس آیا۔ وہ میرے انتظار ہی میں بیٹھے تھے، ان سے تمام واقعہ بیان کیا۔ فرمانے لگے: مولوی صاحب! بات یہ ہے کہ مرزا فخرو بہت دنوں سے مشاعرے کے لیے بے چین ہو رہے تھے، انہی کی یہ کار گزاری ہے۔ ورنہ بھلا یہ معاملہ اس طرح تھوڑی طے ہوتا۔ مگر چلو تمھارا کام بن گیا۔ میاں عارفؔ سے جا کر کہہ دو، وہ میرے ہی ہاں بیٹھے انتظار کر رہے ہوں گے۔

حکیم صاحب کے مکان پر پہنچا تو دیکھا کہ واقعی نواب صاحب میرے انتظار میں بیٹھے ہیں۔ ان سے حالات بیان کیے، کہنے لگے: چلو یہ مشکل تو آسان ہوئی، اب تم یہ کرو کہ کم سے کم استاد ذوقؔ، مرزا نوشہ اور حکیم مومنؔ خاں کے مکان کا گشت لگا ڈالو؛ مگر دیکھنا ذرا پھونک پھونک کر قدم رکھنا، یہ تینوں بڑے دماغ دار آدمی ہیں۔ اگر ذرا بھی تم سے بات چیت میں لغزش ہوئی تو یاد رکھو بنا بنایا کھیل بگڑ جائے گا۔ جب دیکھو کہ ان میں سے کوئی ہاتھوں سے نکلا ہی جاتا ہے، تو میرا نام لے دینا، کیا عجب ہے کہ میرا نام سن کر راضی ہوجائیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ مبارک النسا بیگم کی حویلی جس میں تمھارا مطبع ہے، دو روز میں خالی کر کے بالکل میرے حوالے کردو۔ مجھے وہاں نشست کا انتظام کرنا ہوگا۔ میں نے کہا: اور میں کہاں جاؤں؟ فرمانے لگے: میرے مکان پر آٹھ نو روز کے لیے آجاؤ، تم کو تکلیف تو ہوگی مگر کیا کیا جائے۔ جب قلعے کے لوگوں کو بلا رہے ہیں، تو انہی کے رتبے کے موافق مکان کو بھی درست کرنا ہوگا۔ دیکھیے خرچ کیا پڑتا ہے؟ میں نے کہا: مشاعرے میں خرچ ہی ایسا کون سا ہوتا ہے؛ زیادہ سے زیادہ سو، سواسو روپے اٹھ جائیں گے۔ یہ سن کر نواب صاحب مسکرائے اور کہا: میاں کریم الدین! تم کیا جانو کہ ایسے مشاعروں میں کیا خرچ ہو جاتا ہے۔ ہزار دو ہزار میں بھی اگر پُوتھ پورا ہوگیا تو سمجھو کہ سستے چھوٹے۔ یہ سن کر میرے ہاتھوں کے توتے اڑگئے، میں نے کہا: نواب صاحب! اگر صورتِ حال یہ ہے تو میرا ایسے مشاعرے کو دور ہی سے سلام ہے۔ مطبع تو مطبع، اگر اپنے آپ کو بھی بیچ ڈالوں تو اتنی رقم نہ اٹھے۔ فرمانے لگے: بھئی تم اس خرچ کے جھگڑے میں نہ پڑو، خدا مشکل بھی آسان کر دے گا۔ جب میں نے اس کام میں ہاتھ ڈالا ہے تو میں جانوں اور میرا کام جانے، تم بیٹھے تماشا دیکھو؛ مگر ہاں کل تک مکان خالی کر دینا۔ نو ہی دن تو رہ گئے ہیں۔ رات کم اور سوانگ بہت ہے۔ اب جاؤ خدا حافظ، تم تھک بھی گئے ہو، ذرا آرام لے لو اور کل صبح ہی سے اِدھر مکان خالی کرنے کی فکر کرو، اُدھر ان تینوں استادوں کے مکان کا چکر لگاؤ، مکان خالی ہوجائے تو فوراً مجھے اطلاع دینا اور خود میرے ہاں چلے آنا۔ اس میں شرم کی کون سی بات ہے۔ آخر میری ہی وجہ سے تو تم اپنا مکان چھوڑ رہے ہو۔

وہاں سے نکل کر میں اپنے گھر آیا، مطبعے کو بند کرتے کرتے اور سامان سمیٹتے سمیٹتے شام ہوگئی۔ صبح اٹھ کر اپنے پہننے اور اوڑھنے کا سامان تو نواب زین العابدین خاں کے مکان پر روانہ کیا اور خود کابلی دروازے کی طرف چلا کہ پہلے استاد ذوقؔ ہی سے بسم اللہ کروں۔

کابلی دروازے کے پاس ہی ان کا مکان ہے۔ مکان بہت چھوٹا ہے۔ چھوٹی سے ڈیوڑھی ہے۔ اس میں ایک طرف جائے ضرور ہے۔ اندر صحن اتنا چھوٹا ہے کہ دو پلنگ بچھنے کے بعد راستہ چلنے کے لیے مشکل سے جگہ رہتی ہے۔ سامنے چھوٹا سا دالان ہے اور اس کے اوپر ایک کمرا۔ صحن میں سے زنانے مکان میں راستہ جاتا ہے۔ جب میں پہنچا تو استاد صحن میں بان کی کُھرّی چارپائی پر بیٹھے حقہ پی رہے تھے، دوسری چارپائی پر ان کے چہیتے شاگرد حافظ غلام رسول ویرانؔ بیٹھے تھے۔ یہ اندھے ہیں اور انہی سے ہوشیار رہنے کے لیے حضرت جہاں پناہ نے ارشاد فرمایا تھا۔ استاد ذوق قد و قامت میں متوسط اندام ہیں۔ رنگ اچھا سانولا ہے، چہرے پر چیچک کے بہت داغ ہیں، آنکھیں بڑی بڑی اور روشن اور نگاہیں تیز ہیں، چہرے کا نقشہ کھڑا کھڑا ہے۔ اُس وقت سفید تنگ پیجامہ اور سفید کرتا اور سفید ہی انگرکھا پہنے ہوئے تھے۔ سر پر ململ کی ٹوپی گول چندوے کی تھی۔

میرا صحن میں قدم رکھنا ہی تھا کہ میرے پاؤں کی آہٹ سنتے ہی حافظ ویرانؔ نے چونک کر کہا: کون ہے؟ میں نے کہا: کریم الدین، استاد ذوقؔ کی خدمت میں حاضر ہوا ہوں۔ استاد نے اپنا نام سن کر کہا: آئیے آئیے اندر تشریف لائیے۔ میں نے آداب عرض کیا۔ انھوں نے فرمایا: بیٹھو بھئی بیٹھو۔ میں حافظ ویرانؔ کے پاس چارپائی پر بیٹھ گیا۔ کہا: فرمائیے کیسے تشریف لانا ہوا؟ میں نے عرض کی کہ میرا ارادہ قاضی کے حوض پر ایک مشاعرہ شروع کرنے کا ہے، ۱۴؍ رجب تاریخ مقرر ہوئی ہے؛ اگر حضور بھی از راہِ ذرہ نوازی قدم رنجہ فرمائیں تو بعید از کرم نہ ہوگا۔

میرا اتنا کہنا تھا کہ حافظ ویرانؔ چراغ پا ہوگئے، کہنے لگے: جائیے، جائیے، کہاں کا مشاعرہ نکالا ہے، استاد کو فرصت نہیں ہے، اُن مرزا لے پالک(١) کے پاس کیوں نہیں جاتے، جو خواہ مخواہ ان کو آ کر دق کرتے ہو۔ استاد نے کہا: بھئی حافظ ویرانؔ! تمھاری زبان نہیں رکتی، بیٹھے بٹھائے دنیا سے لڑائی مول لیتے ہو۔ حافظ ویرانؔ کہنے لگے: استاد! جب وہ آپ کو برا بھلا کہیں تو ہم کیوں چپ بیٹھنے لگے۔ وہ ایک کہیں گے تو ہم سو سنائیں گے۔ اور تو اور میاں آشفتہ کو دن لگے ہیں۔ کل ہی کی بات ہے کہ آپ کو ناوڑا(٢)  کہہ رہے تھے؛ مگر میں نے بھی ایسی خبر لی کہ تمام عمر یاد کریں گے، ان کی سات پشت کو توم ڈالا۔ استاد ہنس کر فرمانے لگے: نا بھئی نا، تم میری وجہ سے کیوں بلا میں پڑتے ہو۔ مجھے جس کا جو جی چاہے سو کہے۔ میں نے ان سب کا جواب اس رباعی میں دے دیا ہے:

تو بھلا ہے تو برا ہو نہیں سکتا اے ذوق!
ہے برا وہ ہی کہ جو تجھ کو برا جانتا ہے
اور جو خود تو ہی برا ہے تو وہ سچ کہتا ہے
کیوں برا کہنے سے اس کے تو برا مانتا ہے

میں نے عرض کیا کہ: میں کل بارگاہ سلطانی میں حاضر ہوا تھا، حضرت ظل اللہ نے ارشاد فرمایا تھا کہ اس مشاعرے میں ہم مرزا فتح الملک بہادر کو اپنی طرف سے بھیجیں گے اور اپنی غزل بھی بھیج کر مشاعرے کی عزت بڑھائیں گے۔ یہ سن کر حافظ ویرانؔ تو ٹھنڈے پڑ گئے، استاد نے فرمایا: ہاں بھئی مجھے یاد آگیا، کل شام کو حضرت پیر و مرشد نے مجھ سے بھی فرمایا تھا اور یہ بھی ارشاد ہوا تھا کہ تو بھی ضرور جائیو۔ میاں! میں ان شاء اللہ تعالی ضرور آؤں گا۔ مگر یہ تو بتاؤ  طرح کیا رکھی ہے؟ میں نے واقعہ عرض کیا اور کہا کہ حضرت ظل سبحانی نے ‘‘طرح’’ کا جھگڑا ہی نکال دیا ہے۔ جو شخص جس بحر اور جس ردیف قافیے میں چاہے، آ کر غزل پڑھے۔ استاد تو ‘‘بہت خوب، بہت خوب’’ کہتے رہے، مگر حافظ ویرانؔ کی تیوری کے بل نہیں گئے، برابر بڑبڑاتے ہی رہے کہ اللہ خیر کرے، دیکھیے اس مشاعرے کا کیا حشر ہوتا ہے۔ حضرت پیر و مرشد بھی بیٹھے بیٹھے اُشقُلے(١)  چھوڑا کرتے ہیں۔ وہ اپنی کہے گئے، میں تو اٹھ، سلام کر چلا آیا۔

دوسرا حملہ اسد اللہ خاں غالبؔ پر تھا۔ چاندنی چوک سے ہوتا ہوا بلّی ماروں میں آیا۔ حکیم محمود خاں صاحب کے مکان کے سامنے سے قاسم جان کی گلی کٹی ہے۔ بائیں طرف پہلا ہی مکان ان کا تھا۔ یہ مکان مسجد کے پیچھے ہے۔ اس کے دو دروازے ہیں: ایک مردانہ، دوسرا زنانہ۔ محل سرا کا ایک راستہ مر دانے مکان میں سے بھی ہے۔ باہر کے دروازے کی دہلیز ذرا دھنسی ہوئی سی ہے۔ دروازے کے اوپر ایک کمرا ہے اور کمرے کے دونوں پہلوؤں میں دو کوٹھریاں؛ گرمی میں مرزا صاحب دوپہر کے وقت اسی ایک کوٹھری میں رہا کرتے ہیں۔ دروازے سے گزر کر مختصر سا صحن ہے اور سامنے ہی دالان در دالان۔ جب میں پہنچا تو اندر کے دالان میں گاؤ تکیے سے لگے بیٹھے کچھ لکھ رہے تھے۔

مرزا نوشہ کی عمر کوئی پچاس سال کی ہوگی۔ حسین اور خوش رو آدمی ہیں۔ قد اونچا اور ہاڑ بہت چوڑا چکلا۔ موٹا موٹا نقشہ اورسرخ سفید رنگ ہے لیکن اس میں کچھ کچھ زردی جھلکتی ہے۔ ایسے رنگ کو محاورے میں چمپئی کہا جاتا ہے۔ آگے کے دو دانت ٹوٹ گئے ہیں، ڈاڑھی بھری ہوئی ہے، مگر گھنی نہیں ہے، سر منڈا ہوا، اُس پر لمبی سیاہ پوستین کی ٹوپی ہے جو کُلاہِ پاپاخ سے ملتی جلتی ہے، ایک برکا سفید پیجامہ، سفید ململ کا انگرکھا، اُس پر ہلکی زرد زمین کی جامہ وار کا چُغا(٢)۔ میری آہٹ پا کر لکھتے لکھتے آنکھ اونچی کی۔ میں نے آداب کیا۔ سلام کا جواب دیا اور آنکھوں سے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ میں ایک طرف بیٹھ گیا۔ ابھی بیٹھا ہی تھا کہ نواب ضیاء الدین احمد خاں آ گئے۔ یہ امین الدین خاں صاحب نوابِ لوہارو کے بھائی ہیں۔ ریختے میں رخشاںؔ اور فارسی میں نیّرؔ تخلص کرتے ہیں۔ کوئی چالیس سال کی عمر ہے۔ انشا پردازی، جغرافیہ، تاریخ، علم الانساب، اسماء الرجال، تحقیق لغات اور واقفیتِ عامہ میں اپنا جواب نہیں رکھتے۔ مرزا نوشہ کے خلیفہ ہیں۔ چھوٹا قد، بہت گورا رنگ، نازک نازک نقشہ، غلافی آنکھیں، چُگّی ڈاڑھی، چھریرا بدن، غرض نہایت خوب صورت آدمی ہیں۔ ایک برکا سفید پیجامہ اور سفید ہی انگرکھا زیب بدن تھا۔ قالب چڑھی ہوئی چوگوشیہ ٹوپی سر پر تھی۔ ایک بڑا رومال سموسا بنا کر شانوں پر ڈالے ہوئے تھے۔ میں نے اٹھ کر سلام کیا، انھوں نے بڑھ کر مصافحہ کیا اور خاموش ایک طرف دو زانو نہایت ادب سے بیٹھ گئے۔ تھوڑی دیر میں مرزا غالب بھی لکھنے سے فارغ ہوئے، پہلے نواب صاحب کی طرف مڑے اور کہنے لگے: میاں نیّرؔ! تم کس وقت آ بیٹھے۔ بھئی اس مرزا تفتہؔ نے میرا ناک میں دم کر دیا ہے۔ ظالم کی طبیعت کی روانی کسی طرح کم نہیں ہوتی۔ ہر خط میں آٹھ دس غزلیں اصلاح کے لیے بھیج دیتے ہیں۔ اصلاح دیتے دیتے تھک جاتا ہوں۔ میری طرف دیکھ کر کہا: آپ شاید مولوی کریم الدین صاحب ہیں۔ میں نے کہا: جی ہاں۔ فرمانے لگے: حضرت! آپ کے تشریف لانے کا مقصد مجھے پہلے ہی معلوم ہوگیا تھا۔ کل میاں عارفؔ آ کر مجھ سے آپ کے مشاعرے میں چلنے کا وعدہ لے گئے ہیں۔ کہو میاں نیرؔ! تم بھی چلو گے؟ نواب صاحب نے کہا: جہاں آپ وہاں میں، آپ تشریف لے جائیں گے تو ان شاء اللہ میں بھی ضرور ہمراہ ہوں گا۔ مرزا صاحب نے پوچھا: مگر بھئی اب تک علائؔی نہیں آئے، مجھ کو ان کا کل سے انتظار ہے۔ اے لو، وہ آ ہی گئے۔ بھئی بڑی عمر ہے، ابھی میں تم ہی کو پوچھ رہا تھا۔

نواب علاء الدین خاں علائؔی، نواب لوہارو کے ولی عہد ہیں، کوئی تیئیس، چوبیس سال کی عمر ہے۔ متوسط قد، گندمی رنگ، موٹا موٹا نقشہ، گول چہرہ، شربتی آنکھیں اور گھنی چڑھی ہوئی ڈاڑھی ہے۔ لباس میں غلطے کا تنگ مہری کا پیجامہ، سفید جامدانی کا انگرکھا، اس پر سینہ کھلی ہوئی سیاہ مخمل کی نیمہ آستین اور سر پر سیاہ ہی مخمل کی چوگوشیہ ٹوپی تھی۔ وہ بھی آداب کر کے ایک طرف بیٹھ گئے اور کہا: واقعی آج دیر ہوگئی۔ مجھے خود خیال تھا کہ آپ انتظار کر رہے ہوں گے۔ میری طرف دیکھ کر کہا: آپ کی تعریف؟ مرزا نوشہ نے تمام قصہ بیان کیا اور کہا: علائؔی! تم کو بھی چلنا ہوگا، ابھی تو تم شاید لوہارو نہیں جا رہے ہو؟ انھوں نے کہا: بہت خوب، آپ تشریف لے جائیں گے تو میں بھی حاضر ہوں گا۔ جب یہ مرحلہ بھی طے ہوگیا تو میں نے اجازت چاہی۔ وہاں سے رخصت ہو کر نواب زین العابدین خاں کے مکان میں آیا۔ انھوں نے مردانے کا ایک حصہ میرے لیے خالی کر دیا تھا۔ جو اسباب صبح میں نے بھیجا تھا، اس کو جما جمایا پایا۔ کپڑے اتارے۔ اندر سے کھانا آیا۔ کھا کر تھوڑی دیر سو رہا۔ چار بجے کے قریب اٹھ کر حکیم مومنؔ خاں کے ہاں جانے کی تیاری کی۔

حکیم صاحب کا مکان چیلوں کے کوچے میں ہے۔ راستے میں مولوی امام بخش صاحب صہبائی مل گئے، یہ کالج میں میرے استاد رہے ہیں۔ کُھلا ہوا گندم گوں رنگ ہے۔ منہ پر کہیں کہیں چیچک کے داغ ہیں، سر پر پٹھے ہیں، بڑے دبلے پتلے آدمی ہیں، کوئی چالیس کی عمر ہوگی۔ ایک برکا سفید پیجامہ، سفید انگرکھا، کشمیری کام کا جبہ پہنتے اور سر پر چھوٹا سفید صافہ باندھتے ہیں۔یہ بھی چیلوں کے کوچے ہی میں رہتے ہیں۔ مجھ سے پوچھنے لگے: کہاں جاتے ہو؟ میں نے کہا: حکیم مومنؔ خاں کے پاس۔ پوچھا: کیا کام ہے؟ میں نے حال بیان کیا۔ کہنے لگے: چلو میں بھی وہیں جا رہا ہوں۔ حکیم آغا جان کے چھتے کے سامنے خاں صاحب کا مکان تھا۔ بڑا دروازہ ہے۔ اندر بہت وسیع صحن اور اس کے چاروں طرف عمارت ہے۔ دو طرف دو صحنچیاں ہیں اور سامنے بڑے بڑے دالان در دالان۔ پچھلے دالان کے اوپر کمرا ہے، سامنے کے دالان کی چھت کو کمرے کا صحن کر دیا ہے، لیکن منڈیر بہت چھوٹی رکھی(١)  ہے۔ دالانوں میں چاندنی کا فرش ہے۔ اندر کے دالان میں بیچوں بیچ قالین بچھا ہوا ہے، قالین پر گاؤ تکیے سے لگے حکیم صاحب بیٹھے ہیں۔ سامنے حکیم سکھانند المتخلص بہ رقم اور مرزا رحیم الدین حیاؔ مودّب دو زانو بیٹھے ہیں۔ معلوم ہوتا تھا کہ کوئی دربار ہو رہا ہے کہ کسی کو آنکھ اٹھا کر دیکھنے اور بلا ضرورت بولنے کا یارا نہیں۔

حکیم مومنؔ خاں کی عمر تقریباً چالیس سال کی تھی۔ کشیدہ قامت تھے، سرخ و سفید رنگ تھا جس میں سبزی جھلکتی تھی۔ بڑی بڑی روشن آنکھیں، لمبی لمبی پلکیں۔ کھنچی ہوئی بھویں، لمبی سُتواں ناک، پتلے پتلے ہونٹ، اُن پر پان کا لاکھا جما ہوا، مِسّی آلودہ دانت، ہلکی ہلکی مونچھیں، خشخاشی ڈاڑھی، بھرے بھرے بازو، پتلی کمر، چوڑا سینہ اور لمبی لمبی انگلیاں، سر پر گھونگر والے لمبے لمبے بال زلفیں بن کر پشت اور شانوں پر بکھرے ہیں۔ کچھ لٹیں پیشانی کے دونوں طرف کاکلوں کی شکل رکھتی ہیں۔ کانوں کے قریب تھوڑے سے بالوں کو موڑ کر زلفیں بنالیا تھا۔ بدن پر شربتی ململ کا نیچی چولی کا انگرکھا تھا لیکن اس کے نیچے کرتا نہ تھا اور جسم کا کچھ حصہ انگرکھے کے پردے میں سے دکھائی دیتا تھا۔ گلے میں سیاہ رنگ کا فیتہ، اس میں چھوٹا سا سنہری تعویذ۔ کاکریزی رنگ کے دوپٹے کو بل دے کر کمر میں لپیٹ لیا تھا اور اس کے دونوں سرے سامنے پڑے ہوئے تھے۔ ہاتھ میں پتلا سا خار پُشت، پاؤں میں سرخ گل بدن کا پیجامہ۔ مُہریوں پر سے تنگ، اوپر جاکر کسی قدر ڈھیلا۔ کبھی کبھی ایک برکا پیجامہ بھی پہنتے تھے، مگر کسی قسم کا بھی ہو، ہمیشہ ریشمی اور قیمتی ہوتا تھا۔ چوڑا سرخ نیفہ۔ انگرکھے کی آستینیں آگے سے کٹی ہوئیں، کبھی لٹکتی رہتی تھیں اور کبھی پلٹ کر چڑھا لیتے تھے۔ سر پر گلشن کی دو پلڑی ٹوپی، اُس کے کنارے پر باریک لیس، ٹوپی اتنی بڑی تھی کہ سر پر اچھی طرح منڈھ کر آگئی تھی۔ اندر سے مانگ اور ماتھے کا کچھ حصہ اور بال صاف جھلکتے تھے۔ غرض یہ کہ نہایت خوش پوشاک اور جامہ زیب آدمی تھے۔ جب میں اور مولوی صہبائی دونوں پہنچے تو حکیم صاحب صاحبِ عالم مرزا رحیم الدین حیاؔ سے کہہ رہے تھے: صاحبِ عالم! تمھارے شطرنج کے نقشوں نے میرا ناک میں دم کر دیا ہے۔ ایک ہوں، دو ہوں، آخر یہ روز روز کی فرمایشیں کوئی کہاں تک پوری کرے۔ صاحبِ عالم نے کہا: استاد! کیا کروں۔ رزیڈنٹ بہادر کے پاس ولایت سے شطرنج کے نقشے حل کرنے کو آیا کرتے ہیں۔ کچھ تو میں خود حل کر کے ان کے پاس بھیج دیتا ہوں، جو سمجھ میں نہیں آتے وہ آپ کے پاس لے آتا ہوں۔ حکیم صاحب نے نظر اٹھا کر ہماری طرف دیکھا، ہمارا سلام لے کر کہا: بیٹھیے بیٹھیے! ہم بیٹھ گئے اور وہ پھر صاحبِ عالم کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے: میاں حیاؔ! جو نقشہ تم لائے ہو وہ تو میرے خیال میں کچھ پیچیدہ نہیں ہے۔ تم کہتے ہو کہ سرخ مہروں کو مات ہوگی، میں کہتا ہوں نہیں، سبز کو ہوگی۔ تم بساط بچھاؤ میں ابھی سمجھائے دیتا ہوں۔ اچھا ذرا مولوی صہبائی سے بات کرلوں اور میاں سکھانند تم بیٹھے انتظار کرتے رہو، میں حکم لگا چکا ہوں کہ جب تک پورب کی طرف سے اِس چھپکلی کا جوڑا نہ آ جائے، یہ سامنے کی دیوار سے نہ جائے گی۔ اس کا جوڑا آئے پر آئے۔ سکھانند حکیم تھے، رقم تخلص کرتے تھے۔ دھرم پورے میں رہتے تھے، کوئی چالیس سال کی عمر تھی، ریختے میں شاہ نصیر کے اور رمل میں خاں صاحب کے شاگرد تھے۔ بڑے خوش پوشاک، خوش وضع، خوش اخلاق، ظریف الطبع، حلیم، خوبصورت اور شکیل آدمی تھے۔ استاد کا ایسا ادب کرتے تھے، جیسے کوئی بیٹا باپ کا کرتا ہے۔ حکیم صاحب کی باتیں سن کر ‘‘بہت خوب’’، ‘‘بہت مناسب’’ کہتے رہے۔ اُن سے گفتگو کر کے حکیم صاحب ہماری طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے: ارے بھائی صہبائی! تم تو کئی دن سے نہیں آئے، کہو خیریت تو ہے، اور آپ کے ساتھ یہ صاحب کون ہیں؟ مولوی صہبائی نے کہا: یہ پہلے کالج میں میرے شاگرد تھے، اب مطبع کھول لیا ہے، وہاں مشاعرہ کرنا چاہتے ہیں، آپ کو تکلیف دینے آئے ہیں۔ حکیم صاحب نے کہا: بس صاحب مجھے تو معاف ہی کیجیے، اب دہلی کے مشاعرے شریفوں کے جانے کے قابل نہیں رہے۔ ایک صاحب(١)  ہیں وہ اپنی امّت کو لے کر چڑھ آتے ہیں۔ شعر سمجھنے کی تو کسی کو تمیز نہیں، مفت میں ‘‘واہ واہ سبحان اللہ’’ کا غل مچا کر طبیعت کو مُنغّص کر دیتے ہیں۔ یہ نہیں سمجھتے کہ:

صائب! دو چیز می شکند قدرِ شعر را
تحسین ناشناس و سکوتِ سخن شناس

دوسرے صاحب ہیں وہ ہدہد(٢) کو ساتھ لیے پھرتے ہیں اور خواہ مخواہ استادوں پر حملے کراتے ہیں۔ خود تو میدان میں نہیں آتے، اپنے نااہل پٹھوں کو مقابلے میں لاتے ہیں۔

اس روز جو اُس جانور  نے یہ شعر پڑھ کر:

مرکزِ محورِ گردوں بہ لبِ آب نہیں
ناخنِ قوسِ قزح شِبہۂ مضراب نہیں

کہا: یہ غالبؔ کے رنگ میں لکھا ہے، تو میں بیان نہیں کرسکتا کہ مجھ کو کس قدر ناگوار گزرا۔ غالبؔ کے رنگ میں شعر کہنا تو کجا، وہ یا ان کے استاد پہلے مرزا نوشہ کے شعروں کو سمجھ تو لیں۔ اب رہے میرؔ صاحب، تو ان کی بات دوسری ہے۔ وہ بھی واہیات بکتے ہیں مگر کسی پر حملہ نہیں کرتے بلکہ ان کی وجہ سے مشاعرے میں کچھ چہل پہل ہو جاتی ہے۔ بھئی میں نے تو اسی وجہ سے مشاعروں میں جانا ہی ترک کر دیا ہے۔ میں نے عرض کی: اس مشاعرے میں استاد ذوقؔ اور مرزا نوشہ نے آنے کا وعدہ کر لیا ہے۔ حضرت ظلِ سبحانی کی غزل بھی آئے گی۔ فرمایا: ہر شخص مختار ہے، خود آئے، چاہے غزل بھیجے؛ میں تو نہ آؤں گا نہ غزل بھیجوں گا۔ یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ ایک بنارس کا سوداگر کپڑوں کے دو گٹھے لے کر آیا۔ شہر میں جب کوئی کپڑوں کا سوداگر آتا تو حکیم صاحب کے پاس اس کا آنا لازمی تھا۔ ریشمی کپڑوں سے ان کو عشق تھا۔ کوئی کپڑا پسند آتا تو پھر قیمت کی پروا نہیں کرتے تھے۔ جو مانگتا دیتے۔ اُس سوداگر نے آ کر ایک گٹھری مزدور کے سر پر سے اتاری، اس میں سے پٹ سے ایک چھپکلی نیچے گری اور دوڑ کر سامنے کی دیوار پر چڑھ گئی۔ جو چھپکلی پہلے دیوار پر جمی بیٹھی تھی، وہ لپک کر اس سے آملی اور دونوں مل کر ایک طرف چلی گئیں(١)۔ہم لوگ بیٹھے یہ تماشا دیکھتے رہے۔ جب دونوں چھپکلیاں چلی گئیں تو حکیم صاحب نے کہا: میاں رقم! تم نے دیکھا! انھوں نے کہا: جی ہاں! ایک خانے کا حساب لگانے میں مجھ سے غلطی ہوئی، میں نے جو اپنی رائے پر اصرار کیا تھا اس کی معافی چاہتا ہوں۔ کہنے لگے: اِس کا خیال نہ کرو، انسان ہی سے غلطی ہوتی ہے۔ ہاں تو میاں صہبائی! مشاعرے کے متعلق ہمارا تو صاف جواب ہے۔ میں نے جب دیکھا کہ خاں صاحب ہاتھوں سے نکلے ہی جا رہے ہیں تو مجھے نواب زین العابدین خاں صاحب کا آخری نسخہ یاد آیا، میں نے کہا: مجھے تو اس مشاعرے سے برائے نام تعلق ہے، سب کیا دھرا نواب زین العابدین خاں عاؔرف کا ہے۔ وہ بہت بیمار ہوگئے ہیں اور اُن کو اب زندگی کی امید نہیں رہی۔ اُن کی آخری خواہش ہے کہ مرتے مرتے ایک ایسا مشاعرہ دیکھ لیں جس میں دہلی کے تمام کاملینِ فن جمع ہوں۔ وہ خود حاضر ہوتے مگر حکیم احسن اللہ خاں صاحب نے ان کو کہیں آنے جانے سے منع کر دیا ہے۔ یہ آخری فقرہ میں نے اپنی طرف سے بڑھا دیا۔خاں صاحب بڑے غور سے میری بات سنتے رہے۔ میں خاموش ہوا تو مولوی امام بخش صاحب کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے: افسوس ہے، کیا خوش فکر اور ذہین شخص ہے، یہ عمر اور مایوسی۔ سچ ہے، ہمیشہ رہے نام اللہ کا! میری طرف دیکھ کر کہا: اچھا بھئی تم جاؤ، میری طرف سے عارفؔ سے کہہ دینا کہ میاں میں ضرور آؤں گا۔ میں نے دیکھا کہ یہ جادو چل گیا تو اور پاؤں پھیلائے اور کہا: نواب صاحب نے یہ بھی فرمایا تھا کہ مولوی صہبائی صاحب، مفتی صدر الدین صاحب اور نواب مصطفے خاں صاحب شیفتہ کو بھی اپنے ہمراہ لائیے گا تو عنایت ہوگی۔ حکیم صاحب کہنے لگے: میاں صہبائی سے تو میں ابھی کہے دیتا ہوں۔ اب رہے آزردہؔ اور شیفتہؔ تو واپس جاتے جاتے اُن سے بھی کہتے جاؤ۔ یہ کہہ دینا کہ میں نے تم کو بھیجا ہے۔ ہاں تاریخ کیا مقرر کی ہے؟ مشاعرہ کہاں ہوگا اور ‘‘طرح’’ کیا ہے؟ میں نے تاریخ بتا کر مکان کا پتا دیا۔ ‘‘طرح’’ کے متعلق حضرت جہاں پناہ کے حضور میں جو گفتگو ہوئی تھی، وہ بیان کی۔ کہنے لگے: ہمارے بادشاہ سلامت بھی عجیب چیز ہیں۔ جو سوجھتی ہے نئی سوجھتی ہے۔ شاید ایسا مشاعرہ کہیں بھی نہ ہوا ہوگا، جس میں ‘‘طرح’’ نہ دی گئی ہو۔ خیر یہ تو اچھا ہوا کہ جھگڑے کا جھونپڑا ہی نہیں رہا۔ مگر بھئی بات یہ ہے کہ جب تک مقابلے کی صورت نہ ہو، نہ شعر کہنے میں جی لگتا ہے نہ پڑھنے میں لطف آتا ہے۔ یہ کہہ کر وہ کپڑے دیکھنے میں مشغول ہوگئے اور میں سلام کر کے رخصت ہوا۔

چتلی قبر کے قریب حویلی عزیز آبادی کے سامنے مفتی صدر الدین صاحب کا مکان تھا، اس کے نزدیک مٹیا محل میں نواب مصطفے خاں صاحب شیفتہؔ رہتے ہیں۔ مفتی صدر الدین کے ہاں جا کر معلوم ہوا کہ شیفتہ بھی مفتی صاحب ہی کے پاس بیٹھے ہوئے ہیں۔ میں نے کہا چلو اس سے بہتر موقع ملنا مشکل ہے، دونوں سے ایک ہی جگہ ملنا ہوگیا۔ یہ سوچ کر اندر گیا۔ مکان کوٹھی کے نمونے کا ہے۔ انگریزی اور ہندوستانی دونوں وضع کو ملا کر بنایا گیا ہے۔ صحن بہت بڑا نہیں ہے، اُس میں مختصر سی نہر ہے۔ سامنے دالان در دالان اور پہلو میں انگریزی وضع کے کمرے ہیں۔ باہر کے دالان میں کواڑ لگا کر، اس کو بھی کمرے کی شکل کا کر دیا ہے۔ دالانوں سے ملا ہوا اونچا چبوترہ ہے۔ چبوترے کے اوپر تخت بچھے ہوئے تھے۔ ان پر چاندنی کا فرش اور دو طرف گا تکیے لگے ہوئے تھے۔ تختوں پر مفتی صاحب اور نواب صاحب بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ مفتی صاحب کی عمر کوئی چھپن ستاون سال کی تھی۔ گداز جسم، سانولا رنگ، چھوٹی چھوٹی آنکھیں ذرا اندر کو دھنسی ہوئی، بھری ہوئی ڈاڑھی، بہت سیدھی سادی وضع کے آدمی ہیں۔ ظاہری نمائش سے کوئی سروکار نہیں۔ بدن میں سفید ایک برکا پیجامہ، سفید کرتا اور سفید ہی صافہ(١)  تھا۔ جامہ زیبی میں حکیم مومنؔ خاں کے بعد دہلی میں نواب مصطفی خاں شیفتہؔ ہی کا نمبر تھا۔ ان کا رنگ گہرا سانولا تھا، لیکن ناک نقشہ غضب کا پایا تھا۔ اُس پر نیچی سیاہ گول ڈاڑھی بہت بھلی معلوم ہوتی تھی۔ جسم کسی قدر بھاری اور قد متوسط تھا۔ لباس میں بھی زیادہ تکلف نہیں تھا۔ تنگ مہری کا سفید پیجامہ، سفید کرتا، نیچی چولی کا سفید انگرکھا اور قبّہ نما پچ گوشیہ ٹوپی پہنے ہوئے تھے۔ تقریباً انتالیس چالیس سال کی عمر ہے۔

میں آداب کر کے تخت کے ایک کونے پر دو زانو بیٹھ گیا۔ مفتی صاحب نے آنے کا سبب پوچھا۔ میں نے حکیم مومنؔ خاں کا پیام پہنچا دیا۔ مفتی صاحب نے بڑے تعجب سے پوچھا: ہیں! خاں صاحب نے تو مشاعرے میں نہ جانے کا عہد کرلیا ہے۔ بھئی شیفتہؔ! یہ کیا معاملہ ہے؟ یا خود نہیں جاتے تھے یا دوسروں کو بھی ساتھ گھسیٹ رہے ہیں۔ میں نے نواب زین العابدین خاں عارفؔ کا واقعہ بیان کیا۔ کہنے لگے: ہاں تو یوں کہو، یہ بات ہے، ورنہ مجھے ہی سن کر حیرت ہوئی تھی کہ حکیم صاحب اور مشاعرے میں جائیں۔ اچھا بھائی! عارفؔ سے کہہ دینا کہ میں اور شیفتہؔ دونوں آئیں گے۔ یہاں سے چھٹی ہوئی تو میں یہ سمجھا کہ گویا گنگا نہا لیا۔ خوشی خوشی آ کر نواب زین العابدین خاں صاحب سے واقعہ بیان کیا، وہ بھی مطمئن ہوگئے۔ میں نے جب حکیم مومن خاں کا حال بیان کیا تو اُن کے آنسو نکل آئے، کہنے لگے: میاں کریم الدین! تم کو یہ بھی معلوم ہے کہ میری حکیم صاحب سے صفائی نہیں ہے۔ میں نے کہا: نواب صاحب! آپ کیا فرماتے ہیں، ان پر تو آپ کی بیماری کے سننے کا ایسا اثر ہوا کہ بیان نہیں کر سکتا، شاید ان کا سگا بھائی بھی ہوتا تو اتنا ہی اثر ہوتا۔ مفتی صاحب سے معلوم ہوا کہ انھوں نے مشاعرے میں نہ جانے کا عہد کر لیا تھا، صرف آپ کی وجہ سے انھوں نے یہ عہد توڑا ہے۔ نواب صاحب نے کہا: میاں! تم کو ان لوگوں کی محبتوں کا حال کیا معلوم! یہ لوگ وہ ہیں کہ اپنے دشمن کو بھی مصیبت میں نہیں دیکھ سکتے۔ خیر اِس کو جانے دو، اب بتاؤ کہ تمھارا مکان خالی ہوگیا یا نہیں؟ میں نے کہا: جی ہاں بالکل خالی ہے، حکم ہو تو میں بھی خدمت میں رہ کر مدد کروں۔ فرمایا: نہیں بھئی نہیں، جہاں دو آدمیوں نے مل کر کسی کام میں ہاتھ ڈالا اور وہ خراب ہوا۔ تم اس انتظام کو بس مجھ پر چھوڑ دو، میں جانوں اور میرا کام جانے۔ بلکہ تم تو ادھر آنا بھی نہیں۔ تم نے آ کر اگر مین میخ نکالی تو مجھ پر دہری تہری محنت پڑ جائے گی۔

 

 

ترتیب

 

بشعر و سخن مجلس آرا ستند
نشستند و گفتند و برخاستند

میں تاریخ ابو الفداء کے ترجمے میں ایسا گتھ گیا کہ سات آٹھ روز تک گھر سے باہر ہی نہ نکلا، نواب زین العابدین خاں کے شوق کی یہ حالت تھی کہ باوجود کمزوری و نقاہت کے روز صبح ہی سے جو باہر نکلتے تو کہیں رات کے آٹھ نو بجے جا کر گھر میں ان کی صورت دکھائی دیتی، اس لیے ان سے ملنا نہیں ہوا کہ کچھ حال پوچھتا۔ بہرحال یہ آٹھ دن آنکھ بند کرتے گزر گئے اور مشاعرے کی تاریخ آ ہی گئی۔ ۱۴ ؍ رجب کو شام کے ساڑھے سات بجے کے قریب میں بھی مشاعرے میں جانے کو تیار ہوا۔ نواب صاحب کو دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ وہ صبح سے جو گئے ہیں تو اب تک واپس نہیں آئے۔ گھر سے جو نکلا تو بازار میں بڑی چہل پہل دیکھی۔ ہر شخص کی زبان پر مشاعرے کا ذکر تھا، کوئی کہتا: یہ میاں کریم الدین کون ہیں؟ کوئی کہتا: اس سے کیا، کوئی ہوں مگر انتظام ایسا کیا ہے کہ دیکھ کر جی خوش ہوتا ہے۔ میں یہ باتیں سنتا اور دل میں خوش ہوتا ہوا قاضی کے حوض پر آیا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ سڑک کے دونوں جانب ٹٹیاں لگا کر اور ان میں روشنی کے گلاس جما کر رات کو دن کر دیا ہے۔ سڑک پر خوب چھڑکاؤ ہے، کٹورا بج رہا ہے۔ مبارک النساء بیگم کی حویلی کے بڑے پھاٹک کو گلاسوں، قمقموں اور قندیلوں سے سجا کر گلزارِ آتشیں کر دیا ہے۔ صدر دروازے سے اندر کی دہلیز تک روشنی کا یہ عالم ہے کہ آنکھوں میں چکا چوند آتی ہے۔ مکان کے اندر جو قدم رکھا تو ہوش جاتے رہے۔ یا اللہ! یہ میرا ہی مکان ہے یا کسی شاہی محل میں آگیا ہوں! گھڑی گھڑی آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر چاروں طرف دیکھتا اور کہتا: واہ میاں عارفؔ واہ! تم نے تو کمال کر دیا۔ کہاں وہ بیچارے کریم الدین کا مکان اور کہاں یہ بادشاہی ٹھاٹھ! واقعی تمھارا کہنا صحیح تھا کہ اگر دو ہزار میں بھی کام نکل جائے تو یہ سمجھو کہ کچھ نہیں اٹھا۔

چونے میں ابرک ملا کر مکان میں قلعی کی گئی تھی جس کی وجہ سے در و دیوار پڑے جگ مگ جگ مگ کر رہے تھے۔ صحن کو بھروا کر تختوں کے چوکے اس طرح بچھائے تھے کہ چبوترہ اور صحن برابر ہوگئے تھے۔ تختوں پر دری، چاندنی کا فرش، اس پر قالینوں کا حاشیہ، پیچھے گاؤ تکیوں کی قطار۔ جھاڑوں، فانوسوں، ہانڈیوں، دیوار گیریوں، قمقموں، چینی قندیلوں اور گلاسوں کی وہ بہتات تھی کہ تمام مکان بقعۂ نور بن گیا تھا۔ جو چیز تھی، خوبصورت اور جو شے تھی، قرینے سے۔ سامنے کی صف کے بیچوں بیچ چھوٹا سا سبز مخمل کا کارچوبی شامیانہ، گنگا جمنی چوبوں پر سبز ہی ریشمی طنابوں سے اِستادہ تھا۔ اس کے نیچے سبز مخمل کی کارچوبی مسند، پیچھے سبز(١)  کارچوبی گاؤ تکیہ، چاروں چوبوں پر چھوٹے چھوٹے آٹھ چاندی کے فانوس کسے ہوئے۔ فانوسوں کے کنول بھی سبز۔ چوبوں کے سنہری کلسوں سے لگا کر نیچے تک موٹےموٹے موتیا کے گجرے سہرے کی طرح لٹکے ہوئے، بیچ کی لڑیوں کو سمیت کر کلابتونی ڈوریوں سے، جن کے کونوں پر مقیش کے گپھے تھے، اس طرح چوبوں پر کس دیا گیا تھا کہ شامیانے کے چاروں طرف پھولوں کے دروازے بن گئے تھے۔ دیواروں میں جہاں کھونٹیاں تھیں وہاں کھونٹیوں پر اور جہاں کھونٹیاں نہیں تھیں، وہاں کیلیں گاڑ کر پھولوں کے ہار لٹکادیے تھے۔ اس سرے سے لگا کر اس سرے تک سفید چھت گیری جس کے حاشیے سبز تھے، کھنچی ہوئی تھی۔ چھت گیری کے بیچوں بیچ موتیا کے ہار لٹکا کر لڑیوں کو چاروں طرف اس طرح کھینچ دیا گیا تھا کہ پھولوں کی چھتری بن گئی تھی۔ ایک صحنچی میں پانی کا انتظام تھا۔ کورے کورے گھڑے رکھے تھے اور شُورے میں جَست کی صراحیاں لگی ہوئی تھیں۔ دوسری صحنچی میں پان بن رہے تھے۔ باورچی خانے میں حقوں کا تمام سامان سلیقے سے جما ہوا تھا۔ جا بہ جا نوکر صاف ستھرا لباس پہنے دست بستہ مودب کھڑے تھے۔ تمام مکان مشک و عنبر اور اگر کی خوشبو سے پڑا مہک رہا تھا۔ قالینوں کے سامنے تھوڑے تھوڑے فاصلے پر حقوں کی قطار تھی۔ حقے ایسے صاف ستھرے تھے کہ معلوم ہوتا تھا ابھی دکان پر سے اٹھ آئے ہیں۔ حقوں کے بیچ میں جو کچھ جگہ چھوٹ گئی تھی، وہاں چھوٹی چھوٹی تپائیاں رکھ کر ان پر خاصدان رکھ دیے تھے۔ خاصدانوں میں لال قند کی صافیوں میں لپٹے ہوئے پان۔ گلوریوں کو صافیوں میں اس طرح جمایا تھا کہ بیچ میں ایک تہ پھولوں کی آگئی تھی۔ خاصدانوں کے برابر چھوٹی چھوٹی کشتیاں، ان میں الائچیاں، چکنی ڈلیاں اور بُن دھنیا۔ مسند کے سامنے چاندی کے دو شمع دان، اندر کافوری بتیاں، اوپر ہلکے سبز رنگ کے چھوٹے کنول۔ شمع دانوں کے نیچے چاندی کے چھوٹے لگن، لگنوں میں کیوڑا۔ غرض کیا کہوں، ایک عجیب تماشا تھا۔ میں تو الف لیلہ کا ابوالحسن ہوگیا۔ جدھر نظر جاتی ادھر ہی کی ہو رہتی ۔(١)

میں اس تماشے میں محو تھا کہ لوگوں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ سب سے پہلے مرزا کریم الدین رساؔ آئے۔ یہ سلاطین زادے ہیں۔ کوئی ستر برس کے پیٹے میں ہیں۔ استعدادِ علمی تو کم ہے، مگر شاعری میں اپنے برابر کسی کو نہیں سمجھتے۔ بہت رحم دل، خوش خلق اور سادہ مزاج ہیں، دغل فصل نام کو نہیں ہے۔ ملاح کہا کرتے ہیں کہ ‘‘کشتی میں چڑھے سب سے پہلے اور اترے سب سے پیچھے’’ انھوں نے اس مقولے کو مشاعرے سے متعلق کر دیا ہے۔ مشاعرے میں سب سے پہلے آتے ہیں اور جب تک ایک ایک کر کے سب نہیں چلے جاتے، یہ اٹھنے کا نام نہیں لیتے۔ ایک روز کا واقعہ ہے کہ مشاعرہ ہو رہا تھا، بڑے زور سے ابر آیا، سب نے جلدی جلدی مشاعرہ ختم کیا، لوگ اپنے اپنے گھر گئے لیکن یہ ٹھہرے اپنی وضع کے پابند، جب تک سب نہ جا چکے اپنی جگہ سے نہ اٹھے۔ ہاں گھڑی گھڑی جھک کر آسمان کو دیکھ لیتے تھے۔ اتنے میں موسلادھار مینہ برسنا شروع ہوا۔ ایسا برسا کہ جل تھل بھر گئے۔کہیں دو گھنٹے کے بعد خدا خدا کر کے ذرا مینہ تھما تو یہ بھی اٹھے، مگر ایسا اندھیرا گھپ تھا کہ ہاتھ کو ہاتھ نہیں سوجھتا تھا۔ مالکِ مکان نے ایک نوکر کو قندیل دے کر ساتھ کر دیا۔ گلیوں میں ٹخنوں ٹخنوں پانی تھا، ان بچارے کے پاؤں میں زردوزی کا قیمتی جوتا، کیچڑ میں پاؤں  رکھیں تو کیسے رکھیں۔ آخر چپکے سے نوکر سے کہا: تو اپنا جوتا مجھے دے دے۔ اس کا جوتا کیا تھا، لتیڑے تھے، وہی گھسیٹتے ہوئے چلے، اپنا جوتا بغل میں دبا لیا۔ قلعے پہنچ کر ایک نیا جوتا نوکر کو دیا اور کہا: میاں تو نے آج میرے ساتھ ایسا احسان کیا ہے کہ تمام عمر نہ بھولوں گا۔ جب کبھی تجھے کوئی ضرورت ہو تو میرے پاس آ جایا کیجیو۔ آگے چل کر اس بد معاش نے ان کو بہت دق کیا۔ اول تو اس راز کا ڈھنڈورا پیٹ دیا، دوسرے ہر تیسرے چوتھے ان سے ایک دو رو پے مار لاتا، مگر انھوں نے بھی ‘‘نا’’ نہیں کی؛ جب جاتا کچھ نہ کچھ سلوک ضرور کرتے۔

نواب زین العابدین خاں صاحب نے بڑھ کر لبِ فرش ان کو لیا اور پوچھا: ہیں صاحبِ عالم! میاں حیاؔ آپ کے ساتھ نہیں آئے؟ مرزا رحیم الدین حیاؔ ان کے بڑے بیٹے ہیں، لیکن تھوڑے دنوں سے باپ بیٹے میں کچھ صفائی نہیں رہی ہے۔ نواب صاحب کا اتنا کہنا تھا کہ صاحبِ عالم ناسور کی طرح پھوٹ بہے، کہنے لگے: نواب! وہ بھلا میرے ساتھ کیوں آتے، جب سے بنارس ہو کر آئے ہیں ان کا تو رنگ ہی بدل گیا۔ میں بچارہ تو کس گنتی میں ہوں، وہ کسی کو بھی اب خاطر میں نہیں لاتے۔ پالا پوسا، بڑا کیا، پڑھایا لکھایا، شاعر بنایا، بٹیریں لڑانا سکھایا اور تخت(١)  کی قسم، وہ وہ نسخے بٹیروں کے بتائے ہیں کہ قلعہ تو قلعہ، ہندوستان بھر میں کسی کے فرشتے خاں کو بھی معلوم نہ ہوں گے اور اب وہی صاحب زادے صاحب ہیں کہ استاد ماننا تو در کنار، مجھ کو باپ بھی کہتے شرماتے ہیں۔ ہاں بھئی کیوں نہ ہو، تیرھویں صدی ہے۔ ان کو بنارس بھیج کر میں تو مصیبت میں آگیا۔ ایک نقصانِ مایہ، دوسرے شمَاتَتِ ہمسایہ۔ بیٹا ہاتھ سے گیا تو گیا، دن رات کی دانتا کلکل اور مول لے لی۔ یہ باتیں کرتے کرتے نواب صاحب نے میاں رساؔ کو لے جا کر ایک جگہ بٹھا دیا۔

ابھی ان سے فارغ نہ ہوئے تھے کہ شہزادوں کا ایک گروہ حافظ عبد الرحمان احسانؔ کو جھرمٹ میں لیے آ پہنچا۔ بھلا دلی شہر میں کون ہے جو ‘‘حافظ جیو’’ کو نہ جانتا ہو۔ جگت استاد ہیں۔ پہلے تو قلعے کا قلعہ ان کا شاگرد تھا، مگر استاد ذوقؔ کے قلعے میں قدم رکھتے ہی ان کا زور ٹوٹا۔ یہ بھی زمانے کی آنکھیں دیکھے ہوئے تھے اور شاہ نصیر سے ٹکّر لڑ چکے تھے، اس بڑھاپے میں بھی خم ٹھونک کر سامنے آگئے اور مرتے دم تک مقابلے سے نہ ہٹنا تھا نہ ہٹے۔ کوئی نوے برس کی عمر تھی۔ کمر دہری ہونے سے قد کمان بن گیا تھا۔ اپنے زمانے کے بلعم باعور تھے لیکن غزل اس کڑاکے سے پڑھتے تھے کہ تمام مشاعرے پر چھا جاتے تھے۔ اِن کی استادی کا سکہ ایک زمانے سے دلّی پر بیٹھا ہوا تھا۔ پہلے مرزانیلی کے استاد ہوئے، رفتہ رفتہ عالم بادشاہ غازی نوّر اللہ مرقدَہ تک رسائی ہوگئی، وہ اِن کو ‘‘حافظ جیو’’ کہتے تھے، اس لیے اسی نام سے تمام قلعے میں مشہور تھے۔ مصرعے پر مصرع لگانے میں کمال تھا اور سند ایسی تڑاخ سے دیتے تھے کہ معترض منہ دیکھتے رہ جاتے تھے۔ ایک روز بادشاہ سلامت نے مصرع کہا:

صبح بھی بوسہ تو دیتا مجھے اے ماہ نہیں

اِنھوں نے فوراً عرض کی:

نامناسب ہے میاں، وقتِ سحرگاہ نہیں

کسی نے ‘‘وقتِ سحر گاہ’’ کی ترکیب پر اعتراض کیا، انھوں نے جھٹ صائبؔ کا یہ شعر پڑھا:

آدمی پیر چو شد، حرص جواں می گردد
خواب در وقتِ سحرگاہ گراں می گردد

اور معترض صاحب اپنا سا منہ لے کر رہ گئے۔

بڑے دبلے پتلے آدمی تھے، رنگ بہت کالا تھا۔ شاہ نصیر نے اسی رنگ کا خاکہ اس طرح اڑایا ہے:

اے خالِ رخِ یار! تجھے ٹھیک بناتا
پر چھوڑ دیا حافظِ قرآن سمجھ کر

نواب صاحب نے ان سب کو بھی ہاتھوں ہاتھ لیا اور اپنی اپنی جگہ لا کر بٹھایا۔ ابھی ان کو بٹھانے سے فارغ نہ ہوئے تھے کہ منشی محمد علی تشنہؔ چُم ننگے، نشے میں چور، جھومتے جھامتے اندر آئے۔ نوجوان آدمی ہیں مگر عجیب حال ہے، کبھی برہنہ پڑے پھرتے ہیں، کبھی کپڑے پہن کر خاصے بھلے آدمی بن جاتے ہیں۔ کسی کے شاگرد نہیں اور پھر سب کے شاگرد ہیں۔ کبھی حکیم آغا جان عیشؔ سے اصلاح لینے لگتے ہیں، کبھی استاد ذوقؔ کے پاس اصلاح کے لیے غزل لے آتے ہیں۔ ذہن بلا کا پایا ہے، لاکھوں شعر زبان کی نوک پر ہیں۔ شعر سنا اور یاد ہوا۔ اکثر ایسا بھی ہوا ہے کہ کسی کی غزل سنی اور یاد کر لی اور مشاعرے میں خود اپنے نام سے وہ غزل پڑھ ڈالی اور وہ بچارہ منہ دیکھتا رہ گیا۔ نواب صاحب آگے بڑھے، پوچھا: منشی جی! یہ کیا رنگ ہے؟ کہنے لگے: اصلی رنگ۔ مشاعرہ کب شروع ہوتا ہے۔ نواب صاحب نے کہا: ابھی شروع ہوتا ہے، آپ بیٹھیے تو سہی۔ خیر ایک کونے میں جا کر بیٹھ گئے، میاں عارفؔ نے اُن پر ایک دوشالہ لا کر ڈال دیا۔ انھوں نے اٹھا کر پھینک دیا۔ عرض جس طرح ننگے آئے تھے، اسی طرح بے تکلف بیٹھے رہے۔

اس کے بعد تو لوگوں کے آنے کا تانتا بندھ گیا۔ جو آتا، اس کا استقبال نواب صاحب کرتے اور لا لا کر بٹھاتے۔ حکیم مومن خاں آئے، ان کے ساتھ آزردہؔ، شیفتہؔ، صہبائی اور مولوی مملوک العلی تھے۔ مولوی صاحب مدرسۂ دہلی میں مدرسِ اول ہیں۔ عجیب با کمال آدمی ہیں۔ مدرسے میں ان کی ذاتِ بابرکات سے وہ فیض ہوا ہے کہ شاید ہی کسی زمانے میں کسی استاد سے ہوا ہو۔ بہت پابندِ شرع ہیں، اس لیے خود شعر نہیں کہتے، مگر سمجھتے ایسا ہیں کہ ان کا کسی شعر کی تعریف کر دینا گویا اس کو دوام کی سند دے دینا ہے۔ کوئی ساٹھ سال کا سِن ہے۔ رہنے والے تو نانوتے کے ہیں، مگر مدتوں سے دہلی میں آرہے ہیں۔ دن رات پڑھنے پڑھانے سے کام ہے۔ مشاعروں میں کم جاتے ہیں، یہاں شاید مولانا صہبائی ان کو اپنے ساتھ گھسیٹ لائے۔ تھوڑے ہی دن ہوئے، بے چارے پابندی شرع اور تقوے کی وجہ سے چکر میں آگئے تھے۔ ہوا یہ کہ رزیڈنٹ بہادر مدرسے کے معائنے کو آئے۔ ان کے علم اور رتبے کے خیال سے ہاتھ ملایا۔ جب تک صاحب بہادر وہاں رہے، انھوں نے ہاتھ کو جسم سے اس طرح الگ رکھا جیسے کوئی نجس چیز کو دور رکھتا ہے۔ صاحب کے جاتے ہی بہت احتیاط سے ہاتھ کئی بار دھویا۔

کسی نے جا کر صاحب سے یہ بات لگادی۔ ان کو بہت غصہ آیا کہ ہم نے تو ہاتھ ملا کر ان کی عزت افزائی کی، انھوں نے اس طرح ہماری توہین کی۔ غرض بڑی مشکل سے معاملہ رفع دفع ہوا ۔(١)

مولوی صاحب میرے بھی استاد تھے۔ میں بھی آگے بڑھا، آداب کیا، فرمانے لگے: میاں کریم الدین! میں تم کو ایسا نہیں سمجھتا تھا۔ تم نے دہلی والوں کو مات کردیا۔ سبحان اللہ! سبحان اللہ! کیا انتظام ہے، دیکھ کر دل خوش ہوگیا، خدا تمھیں اس سے زیادہ حوصلہ دے۔ میں نے عرض کی: مولوی صاحب! بھلا میں کیا اور میری بساط کیا! یہ سب کیا دھرا نواب زین العابدین خاں کا ہے۔ فرمانے لگے: بھئی یہ بھی اچھی ہوئی۔ وہ کہیں کہ سارا انتظام کریم الدین خاں کا ہے، تم کہو کہ نواب صاحب کا ہے، چلو:

من ترا حاجی بگویم، تو مرا حاجی بگو

ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ مرزا نوشہ پالکی میں سے اترے۔ نیرؔ، علاؔئی، سالکؔ اور حزیںؔ ان کے ہمراہ تھے۔ مرزا غالبؔ آتے ہی مومن خاں کی طرف بڑھے، مصافحہ کیا اور کہا: بھئی حکیم صاحب! آج محمد ناصر جان محزوںؔ کا عظیم آباد سے خط آیا تھا، تم کو بہت بہت سلام لکھا ہے۔ معلوم نہیں کہ کیوں ایکا ایکی پٹنے چلے گئے۔ خواجہ میر دردؔ کے پوتے ہو کر ان کا دہلی چھوڑنا ہم کو تو پسند نہیں آیا، اب یاروں کو روتے ہیں۔ دیکھنا کیا درد بھرا شعر لکھا ہے:

نہ تو نامہ ہی نہ پیغامِ زبانی آیا
آہ محزوںؔ! مجھے یارانِ وطن بھول گئے

ارے بھئی رات تو خاصی آگئی ہے، ابھی تک میاں ابراہیم نہیں آئے، آخر یہ مشاعرہ شروع کب ہوگا؟ حکیم صاحب کچھ جواب دینے ہی والے تھے کہ دروازے کے پاس سے ‘‘السلام علیکم’’ کی آواز آئی۔ مولانا صہبائی نے کہا: اے لیجیے مرزا صاحب! وہ استاد کے نشان کے ہاتھی حافظ ویرانؔ صاحب آگئے اور وہ آپ کے دوست ہدہد بھی ساتھ ہیں۔ دیکھیے آج کس کے چونچ مارتے ہیں۔ میاں ہدہدؔ کا نام عبد الرحمن ہے، پورب کے رہنے والے ہیں۔ دہلی میں آ کر حکیم آغا جان عیشؔ کے ہاں ٹھہرگئے ہیں، ان کے بچوں کو پڑھاتے ہیں۔ حکیم صاحب ہی کے مشورے سے ہدہد تخلص اختیار کیا، انہی کی تجویز سے چُگی ڈاڑھی رکھی۔ سر منڈا کر نکّو عمامہ باندھا اور اس طرح خاصے کُھٹ بڑھئی ہوگئے۔ انہی کے ذریعے سے دربار میں پہنچے اور ‘‘طائر الاراکین’’، ‘‘شہپر الملک’’، ‘‘ہدہد الشعرا’’، منقار جنگ بہادر’’ خطاب پایا۔ شروع شروع میں تو ان کے ظریفانہ کلام سے مشاعرہ چمک جاتا تھا، مگر بعد میں انھوں نے استادانِ فن پر حملے شروع کر دیے۔ کہتے تو یہ ہیں کہ حکیم صاحب کے اشارے سے ایسا کیا، لیکن کچھ بھی ہو، آخر سب کو ان سے کچھ نفرت سی ہوگئی اور بجائے دوسروں کا مذاق اڑانے کے خود ان کا مذاق اڑ جاتا تھا۔ حکیم صاحب علانیہ تو ان کی مدد کر نہیں سکتے تھے، خود ان میں اتنی قابلیت نہ تھی کہ جو دہلی والوں کی پھبتیوں کو سنبھال سکتے؛ اس لیے تھوڑی ہی دیر میں ٹھنڈے ہو کر رہ جاتے۔ مرزا نوشہ اور حکیم مومن خاں کے ہمیشہ منہ آتے تھے، اسی لیے مرزا نوشہ، مولانا صہبائی کے منہ سے ‘‘آپ کے دوست’’ کا لفظ سن کر مسکرائے اور کہا: بھئی میں تو ان کے منہ کیوں لگنے لگا، مگر آج دیکھا جائے گا، ‘‘ہر فرعونے را موسیٰ’’۔ سنتا ہوں کہ ہمارے میر صاحب، مولوی ہدہد کی شان میں آج کچھ فرمانے والے ہیں۔ ان کے سامنے اگر یہ ‘‘شہبازِ سخن’’ ٹک گئے تو میں سمجھوں گا کہ بڑا کام کیا۔ غرض یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ استاد ذوقؔ بھی اندر آگئے۔ تمام قلعہ ان کے ساتھ آیا تھا۔ صاحب سلامت کر کے سب اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے۔ قلعے والوں اور ان لوگوں میں جن کا تعلق قلعے سے ہے، سلام کرنے کا کچھ عجیب طریقہ ہے۔ سیدھے کھڑے ہو کر، دایاں ہاتھ اس طرح کان تک لے جاتے ہیں جس طرح کوئی نماز کی نیت باندھتا ہے اور پھر چھوڑ دیتے ہیں، چلو سلام ہوگیا۔ باقی سب لوگوں سے معمولی طرح سلام کرتے ہیں۔ قلعے والوں کی صورت کچھ ایسی ہے کہ ایک ہی نظر میں پہچان لیے جاتے ہیں۔ شہزادے ہوں یا سلاطین زادے، سب کی وضع قطع ایک سی ہے۔ وہی لمبی گردن، وہی پتلی اونچی ناک، لمبا کتابی چہرہ، بڑی بڑی لمبوتری آنکھیں، بڑا دہانہ، اونچا چَوکا، آنکھوں کے نیچے کی ابھری ہوئی ہڈیاں، گہرا سانولا رنگ، ڈاڑھی کلوں پر ہلکی، ٹھوڑی پر زیادہ۔ غرض جیسی مشابہت اِن لوگوں میں ہے، شاید ہی کسی خاندان والوں میں ہوگی۔ امیر تیمور سے لے کر اس وقت تک ان کی شکل میں کوئی فرق نہیں آیا ہے۔

پہلے تو قلعے بھر کا ایک ہی لباس(١)  تھا، مگر اب کچھ دو رنگی ہوگئی ہے۔ وجہ یہ ہوئی کہ جب سلیمان شکوہ کا اودھ کے دربار میں رسوخ ہوا، خاندان کے کچھ لوگ تو وہیں جا رہے اور کچھ ایسے ہیں کہ بنارس آتے جاتے رہتے ہیں۔ جو وہاں جا کر آتا ہے، لباس میں نئی تراش خراش کرتا ہے۔ اس طرح اُس کا لباس، آدھا تیتر آدھا بٹیر ہو کر، نہ لکھنؤ کا رہتا ہے نہ دہلی کا۔ اب جو لوگ یہاں بیٹھے ہیں، انہی کو دیکھ لیجیے۔ جو شاہزادے لکھنؤ جا کر آئے ہیں، ان کے سر پر لکھنؤ کی دوپلڑی ٹوپی ہے، اونچی چولی کا انگرکھا ہے۔ نیچے باریک شربتی ململ کا کرتا اور تنگ پیجامہ ہے۔ جنھوں نے قلعہ کبھی نہیں چھوڑا، ان کے جسم پر وہی پرانا لباس ہے۔ سر پر چوگوشیہ ٹوپی، جسم پر نیچی چولی کا انگرکھا، اس کے اوپر مخمل یا جامے وار کی خفتان، پاؤں میں گل بدن یا غلطے کا ایک برکا پیجامہ۔ جو لوگ لکھنؤ ہو آئے ہیں، انھوں نے ڈاڑھی کو بھی خیر باد کہہ دیا ہے۔ چہرے کی ساخت سے تو ان کو دہلی کا شہزادہ کہہ دو تو کہہ دو، مگر لباس اور وضع قطع سے تو ٹھیٹھ لکھنؤ والے معلوم ہوتے ہیں۔

استاد ذوق سب سے مل ملا کر شامیانے کے دائیں طرف بیٹھ گئے۔ مشاعرے میں شعرا کو سلسلے سے بٹھانا بھی ایک فن ہے۔ نواب زین العابدین خاں کی تعریف کروں گا کہ جس کو جہاں چاہا بٹھا دیا اور پھر اس طرح کہ کسی کو نہ کوئی شکوہ ہوا نہ شکایت۔ اگر کوئی ایسی جگہ بیٹھ جاتا جہاں ان کے خیال میں اس کو نہ بیٹھنا چاہیے تھا، تو بجائے اس کے کہ اس کو وہاں سے اٹھاتے، خود ایسی جگہ جا بیٹھتے جہاں اس کو بٹھانا چاہتے۔ تھوڑی دیر کے بعد کہتے: ارے بھئی! ذرا ایک بات تو سننا۔ وہ آ کر ان کے پاس بیٹھ جاتا، اس سے باتیں کرتے رہتے۔ اتنے میں کوئی ایسا شخص آ جاتا جس کو وہ خالی جگہ کے لیے موزوں سمجھتے، اس سے کہتے: تشریف رکھیے، وہ جگہ خالی ہے۔ جب وہ جگہ بھر جاتی تو کسی بہانے سے اٹھ جاتے اور اس طرح دو نشستوں کا انتظام ہو جاتا۔ شہزادوں کا سلسلے سے بٹھانا ذرا ٹیڑھی کھیر ہے، ذرا ذرا سی بات پر بگڑ کر اٹھ جاتے ہیں کہ واہ ہم اور یہاں بیٹھیں! پھر لاکھ منائیے، وہ بھلا کیا ماننے والے ہیں۔ ان جھگڑوں کو استاد ذوق خوب سمجھتے تھے، اس لیے اپنے ساتھ والوں کا انتظام انھوں نے خود کر لیا، مگر اس طرح کہ کسی کو یہ خیال بھی نہیں ہوا کہ یہ محفل کا بندوبست کر رہے ہیں۔ کسی سے کہتے: صاحبِ عالم! ادھر آئیے۔ کسی سے کسی خاص جگہ کی طرف اشارہ کرتے، کہتے: بیٹھو بھئی بیٹھو۔ غرض تھوڑی دیر میں پوری مجلس جم گئی۔ نشست کا یہ انتظام تھا کہ میرِ مشاعرہ کے دائیں جانب وہ لوگ تھے جن کا تعلق قلعے سے تھا اور بائیں طرف شہر کے دوسرے استاد اور ان کے شاگرد تھے۔

ایک چیز جو مجھے عجیب معلوم ہوئی، وہ یہ تھی کہ قلعے والے جتنے آئے تھے، سب کے ہاتھوں میں بٹیریں دبی ہوئی تھیں۔ یہ بٹیر بازی اور مرغ بازی کا مرض قلعے میں بہت ہے۔ روزانہ تیتروں، بٹیروں اور مرغوں کی پالیاں ہوتی ہیں۔ ایک شہزادے صاحب نے تو کمال کیا ہے، ایک بڑے چھکڑے پر ٹھاٹھر لگا کر چھوٹا سا گھر بنا لیا ہے اور اوپر چھت پر مٹی ڈال کر کنگنی بو دی ہے۔ ٹھاٹھر میں، خدا جھوٹ نہ بلائے، تو لاکھوں ہی پدڑیاں ہیں، جہاں چاہا، چھکڑا لے گئے اور پدڑیاں اڑا دیں۔ ایسی سدھی ہوئی ہیں کہ جھلّڑ سے ایک بھی پھٹ کر نہیں جاتی۔ انھوں نے جھنڈی ہلائی اور وہ اڑیں۔ انھوں نے آواز دی اور وہ چھت پر بیٹھ گئیں۔

استاد ذوق کو آئے ہوئے چند ہی منٹ ہوئے ہوں گے کہ مرزا فتح الملک ہوا دار میں سوار آ پہنچے۔ ان کے ساتھ نواب مرزا خاں داغؔ تھے۔ میاں داغؔ کی کوئی سولہ سترہ برس کی عمر ہوگی۔ رنگت تو بہت کالی ہے، مگر چہرے پر غضب کی نرماہٹ ہے۔ بڑی بڑی غلافی آنکھیں، سُتواں ناک، کشادہ پیشانی، سر پر سیاہ مخمل کی لیس لگی ہوئی چوگوشیہ ٹوپی۔ جسم میں ساسلیٹ کا انگرکھا، سبز گل بدن کا پیجامہ، ہاتھ میں ریشمی رومال۔ ہیں تو ابھی نو عمر، مگر شعر ایسا کہتے ہیں کہ سبحان اللہ! شہر بھر میں ان کی غزلیں گائی جاتی ہیں۔ غرض ہوا دار فرش سے ملا کر لگا دیا گیا۔ پہلے میاں داغ اترے(١) اور اتر کر ایک طرف کھڑے ہو گئے۔ ان کے بعد مرزا فتح الملک اترے۔ ان کا نیچے قدم رکھنا تھا کہ سب سر و قد کھڑے ہوگئے۔ چار چوبدار سبز کھڑکی دار پگڑیاں باندھے، نیچی نیچی سبز بانات کی اچکنیں پہنے، سرخ شالی رومال کمر سے لپیٹے، ہاتھوں میں گنگا جمنی عصا اور مورچھل لیے ہوئے ہوا دار کے پیچھے تھے۔ اِدھر مرزا فخرو نے فرش پر قدم رکھا، اُدھر عصا بردار تو ان کے سامنے آگئے اور مورچھل بردار ان کے پیچھے ہولیے۔ اس سلسلے سے یہ جلوس آہستہ آہستہ شامیانے تک آیا۔ مرزا فخرو نے شامیانے کے قریب کھڑے ہو کر سب کا سلام لیا۔ پھر چاروں طرف نظر ڈال کر کہا: اجازت ہے؟ سب نے کہا: بسم اللہ، بسم اللہ! اجازت پا کر یہ شامیانے میں گئے اور سب کو سلام کر کے بیٹھ گئے۔ دوسرے سب لوگ بیٹھنے کی اجازت کے انتظار میں کھڑے تھے، ان سب کی طرف نظر ڈال کر کہا: تشریف رکھیے، تشریف رکھیے۔ سب لوگ سلام کر کے اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے۔ استاد ذوق نے داغ کو اپنے قریب ہی ایک جگہ بیٹھنے کا اشارہ کیا، وہ وہاں جا بیٹھے۔ مورچھل بردار شامیانے کے پیچھے اور عصا بردار سامنے کی صف کی پشت پر جا کھڑے ہوئے۔ جب یہ سب انتظام ہوگیا تو نواب زین العابدین خاں آگے بڑھے، شامیانے کے پاس جا کر تسلیمات بجا لائے اور دو زانو ہو کر وہیں بیٹھ گئے۔ چپکے چپکے صاحبِ عالم سے کچھ باتیں کیں اور اٹھ کر اپنی جگہ جا بیٹھے۔ ان کے اٹھ کر چلے جانے کے بعد نواب فتح الملک نے دونوں ہاتھ فاتحہ(٢)  کو اٹھائے۔ ساتھ ہی اہل مجلس نے ہاتھ اٹھائے۔ فاتحۂ خیر کے بعد صاحبِ عالم نے فرمایا: اے خوش نوایانِ چمنِ دہلی! میری کیا بساط ہے جو آپ جیسے استادانِ فن کے ہوتے ہوئے میرِ مشاعرہ بننے کا خیال بھی دل میں لا سکوں، صرف حضرت پیر و مرشد کے فرمان کی تعمیل میں حاضرِ خدمت ہوگیا ہوں، ورنہ کہاں میں اور کہاں ایسے بڑے مشاعرے کی میر مجلسی۔ مُحِبّو! اس مشاعرے کی ایک خصوصیت تو آپ کو معلوم ہے کہ اس کے لیے کوئی ‘‘طرح’’ نہیں دی گئی۔ اس کی دوسری خصوصیت آپ یہ پائیں گے کہ بجائے ایک شمع کے، دو شمعیں گردش کریں گی۔ جس طرح ‘‘طرح’’ کے نکل جانے نے ایک دوسرے کے مقابلے میں فخر و مُباہات کا دروازہ بند کر دیا ہے، اُسی طرح دو شمعوں کی وجہ سے پڑھنے میں تقدیم و تاخیر سے جو خیالات طبیعتوں کو مکدر کرتے تھے، وہ بھی رفع ہو جائیں گے۔ مشاعرے کی ابتدا کرنے اور ختم کرنے کا خیال بھی اکثر دلوں میں فرق ڈالتا ہے؛ لیکن اس مشاعرے میں مَیں نے انتہا کو ابتدا کر دیا ہے چنانچہ حضرت ظلِ سبحانی کے کلامِ معجز نظام سے مشاعرے کی ابتدا ہوگی اور اس کے بعد ہی میں اپنی غزل عرض کر کے ابتدا اور انتہا کے فرق کو مٹا دوں گا۔ یہ کہہ کر مرزا فخرو نے ہاتھ کا اشارہ کیا۔ دو چوبدار جو سامنے کھڑے تھے، دونوں شمعیں اٹھا کر ان کے سامنے لائے۔ انھوں نے بسم اللہ کہہ کر فانوس اتارے اور شمعیں جلا کر فانوس چڑھا دیے۔ چوبداروں نے شمعوں کو لے جا کر لگنوں میں رکھ دیا اور سیدھے کھڑے ہو کر مرزا فخرو کی طرف دیکھا۔ انھوں نے گردن سے اشارہ کیا۔ اشارہ پاتے ہی چوبداروں نے بہ آوازِ بلند کہا: حضرات! مشاعرہ شروع ہوتا ہے۔

اس آواز کا سننا تھا کہ ایک سناٹا ہوگیا۔ قلعے والوں نے بٹیریں تھیلیوں میں کر، تکیوں کے پیچھے رکھ دیں۔ نوکروں نے جھٹ پٹ حقے سامنے سے ہٹادیے اور اُن کی جگہ سب کے سامنے اگال دان، خاصدان اور بُن دھنیے کی تشتریاں رکھ، اپنی اپنی جگہ جا کھڑے ہوئے۔ اتنے میں بارگاہِ جہاں پناہی کا خواص بادشاہ سلامت کی غزل لیے ہوئے قلعے سے آیا۔ اُس کے ساتھ کئی نقیب تھے۔ وہ خود شمع کے قریب آ کر تسلیمات بجا لایا اور غزل پڑھنے کی اجازت چاہی۔

مرزا فخرو نے گردن کے اشارے سے اجازت دی، وہ وہیں بیٹھ گیا، نقیبوں نے آواز لگائی:

حاضرین! حضرت ظلِ سبحانی، صاحب قِرانِ ثانی خلّد اللہ مُلکہ و سلطنتہ کا کلام مُعجِز نظام پڑھا جاتا ہے۔ نہایت ادب کے ساتھ گوشِ دل سے سماعت فرمائیے۔

 

تکمیل

 

حضورِ شاہ میں اہلِ سخن کی آزمایش ہے
چمن میں خوش نوایانِ چمن کی آزمایش ہے

نقیب کی آواز کے ساتھ ہی سب اہلِ محفل دو زانو ہو، سنبھل کر بیٹھ گئے اور پاسِ ادب سے سب نے گردنیں جھکالیں۔ خواص نے بادشاہ سلامت کی غزل خَریطے میں سے نکالی، بوسہ دیا، آنکھوں سے لگایا اور بلند آواز سے سورٹھ کے سُروں میں پڑھنا شروع کیا۔ الفاظ کی نشست، زبان کی خوبی، مضمون کی آمد اور سب سے زیادہ پڑھنے والے کے گلے نے ایک سماں باندھ دیا۔ ایک کیفیت تھی کہ زمین سے آسمان تک چھائی ہوئی تھی۔ کسی کو تعریف کرنے کا بھی ہوش نہ تھا۔ استادانِ فن ہر شعر پر جھومتے تھے۔ کبھی کبھی کسی کے منہ سے ‘‘سبحان اللہ’’ کے الفاظ بہت نیچی آواز میں نکل گئے تو نکل گئے ورنہ ساری مجلس پر ایک عالمِ بے خودی طاری تھا۔ مقطعے پر تو یہ حال ہوا جیسے کسی نے سب پر جادو کر دیا۔ ہر شخص وَجد میں جھوم رہا تھا۔ بہ اصرارِ تمام کئی کئی دفعہ مقطع پڑھوایا اور مضمون اور زبان کی چاشنی کا لطف اٹھایا۔ لیجیے آپ بھی پڑھیے اور زبان کے مزے لیجیے:

نہیں عشق میں اِس کا تو رنج ہمیں کہ قرار و شکیب ذرا نہ رہا
غمِ عشق تو اپنا رفیق رہا، کوئی اور بلا سے رہا نہ رہا
نہ تھی حال کی جب ہمیں اپنے خبر، رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہنر
پڑی اپنی برائیوں پر جو نظر، تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا
ہمیں ساغرِ بادہ کے دینے میں اب، کرے دیر جو ساقی تو ہائے غضب
کہ یہ عہدِ نَشاط، یہ دورِ طَرب، نہ رہے گا جہاں میں سدا، نہ رہا
لگے یوں تو ہزاروں ہی تیر ستم کہ تڑپتے رہے پڑے خاک پہ ہم
ولے ناز و کرشمہ کی تیغِ دو دم لگی ایسی کہ تسمہ لگا نہ رہا
ظفرؔ! آدمی اُس کو نہ جانیے گا، ہو وہ کیسا ہی صاحبِ فہم و ذَکا
جسے عیش میں یادِ خدا نہ رہی، جسے طیش میں خوفِ خدا نہ رہا

غزل پڑھ چکنے کے بعد خواص نے کاغذ مرزا فخرو کے ہاتھ میں دیا۔ زر افشاں کاغذ پر خود حضرت ظل اللہ کے قلم کی لکھی ہوئی غزل تھی۔ خط ایسا پاکیزہ تھا کہ آنکھوں میں کُھبا جاتا تھا۔ مرزا فخرو نے کاغذ لے کر ادھر ادھر دیکھا۔ مملوک العلی نے سینے پر ہاتھ رکھ کر کہا: صاحبِ عالم! ہمارا کیا منہ ہے جو ہم حضرت ظل سبحانی کی غزل کی جیسی چاہیے ویسی تعریف کرسکیں، البتہ اُن نوازشاتِ شاہی کا شکریہ ادا کرتے ہیں جو حضرت پیر و مرشد نے غزل بھیج کر شرکائے مشاعرہ پر مبذول فرمائی ہیں۔ بارگاہِ جہاں پناہی میں ہمارا ناچیز شکریہ پیش کر کے ہماری عزت افزائی فرمائی جائے۔ مرزا فخرو نے خواص کی طرف دیکھا۔ اس نے عرض کی: قبلۂ عالم! میں یہ پیام جاتے ہی پیش گاہِ عالی میں پہنچادوں گا۔ خواص آداب بجا لا کر جانے والا ہی تھا کہ مرزا فخرو نے روکا اور کہا: جانے سے پہلے صاحبِ عالم و عالمیان حضرت ولی عہد بہادر کی غزل بھی پڑھتے جاؤ، چلتے چلتے مجھے عنایت کی تھی اور فرمایا تھا کہ کسی خوش گلو شخص سے پڑھوانا، بھلا تم سے زیادہ موزوں اور کون شخص مل سکتا ہے؟ یہ کہہ کر جیب میں ہاتھ ڈالا اور ایک کاغذ نکال کر خواص کو دیا۔ اس نے آداب کر کے کاغذ لیا اور وہیں بیٹھ کر یہ غزل سنائی:

دل سے لطف و مہربانی اور ہے
مہربانی کی نشانی اور ہے
قصۂ فرہاد و مجنوں اور ہے
عشق کی میری کہانی اور ہے
روکنے سے کب مرے رکتے ہیں اشک
بلکہ ہوتی خوں فشانی اور ہے
ہم سے اے داراؔ وہ کب ہوتے ہیں صاف
ان کے دل میں بدگمانی اور ہے

غزل تو بہت پھس پھسی تھی، مگر ولی عہد بہادر کی غزل تھی، بھلا کس کا جگر تھا جو تعریف نہ کرتا، البتہ غالبؔ اور مومنؔ چپ بیٹھے رہے۔ بعض قلعے والوں کو برا بھی معلوم ہوا، مگر ان دونوں کو خوب سمجھتے تھے کہ یہ سچی تعریف کرنے والے لوگ ہیں۔ ولی عہد تو ولی عہد، اگر بادشاہ سلامت کی بھی کمزور غزل ہو تو گردن تک نہ ہلائیں۔

القصہ خواص تو غزل پڑھ کر رخصت ہوا اور اب حاضرین جلسہ کے پڑھنے کی نوبت آئی۔ مرزا فخرو نے چوبدار کو اشارہ کیا، اس نے دونوں شمعیں لا، شامیانے کے سامنے رکھ دیں۔ صاحبِ عالم نے اپنی غزل نکالی اور ادھر ادھر نظر ڈال کر اور گردن کو ذرا جھکا کر کہا: بھلا میری کیا مجال ہے کہ آپ جیسے کاملین فن کے مقابلے میں کچھ پڑھنے کا دعوی کروں، البتہ جو کچھ برا بھلا کہا ہے، وہ بہ نظرِ اصلاح عرض کرتا ہوں:

غم وہ کیا ہے جو جاں گَزا نہ ہوا
درد وہ کیا جو لا دوا نہ ہوا
حال کھل جائیں غیر کے سارے
پر کروں کیا کہ تو مِرا نہ ہوا
درد کیا، جس میں کچھ نہ ہو تاثیر
بات کیا، جس میں کچھ مزا نہ ہوا
وہ تو ملتا، پر اے دلِ کم ظرف!
تجھ کو ملنے کا حوصلا نہ ہوا
شکوۂ یار اور زبانِ رقیب
کھیل ٹھہرا، کوئی گِلا نہ ہوا
تم رہو اور مجمعِ اغیار
میرا کیا ہے، ہوا ہوا نہ ہوا
پھر تمھارے ستم اٹھانے کو
رمؔز اچھا ہوا، برا نہ ہوا

مرزا فخرو کی آواز تو اونچی نہ تھی مگر پڑھنے میں ایسا درد تھا کہ سن کر دل بے قابو ہو جاتا تھا۔ سارا مشاعرہ ‘‘واہ واہ اور سبحان اللہ’’ کے شور سے گونج رہا تھا۔ تیسرے شعر پر مرزا غالبؔ اور پانچویں پر حکیم مومنؔ خاں نے ایسے جوش سے واہ واہ کی کہ صف سے آگے نکل آئے۔ مرزا فخرو اپنی غزل پڑھتے رہے مگر ان دونوں کو انہی دو شعروں کی رٹ لگی رہی۔ پڑھتے اور مزے میں آکر جھومتے رہے۔ جب غزل ختم ہوئی تو مرزا نوشہ نے کہا: سبحان اللہ! صاحبِ عالم سبحان اللہ! واہ کیا کہنا ہے، شعر یوں کہتے ہیں، مزا آگیا۔ استاد ذوق بھی مسکرائے کہ چلو اسی بہانے سے میری تعریف ہو رہی ہے۔ مرزا فخرو نے اٹھ کر سلام کیا اور کہا: یہ آپ اصحاب کی بزرگانہ شفقت ہے جو اس طرح ارشاد ہوتا ہے ورنہ من آنم کہ من دانم۔

وہ جدھر نظر ڈالتے لوگ تعریفیں کرتے اور وہ جھک جھک کر سلام کرتے۔ جب محفل میں ذرا سکون ہوا تو مرزا فخرو نے چوبدار کو اشارہ کیا۔ اس نے شامیانے کے سامنے سے ایک شمع اٹھا سامنے کی صف میں میاں یل  کے آگے رکھ دی۔ نام تو ان کا عبد القادر تھا، مگر شہر کا بچہ بچہ ان کو ‘‘میاں یل’’ کہتا تھا۔ ان کو اپنی طاقت پر اتنا غرور(١) تھا کہ کسی پہلوان کو خاطر میں نہیں لاتے تھے۔ جس اکھاڑے میں جاتے وہاں خم ٹھونک آتے اور کسی کو جواب میں خم ٹھونکنے کی ہمت نہ ہوتی۔ پہلوانی کی نسبت سے تخلص یلؔ رکھا تھا۔ مضمون بھی رندانہ باندھتے تھے۔ پڑھتے اس طرح تھے گویا میدانِ کار زار میں رجز پڑھ رہے ہیں۔ اس سے غرض نہ تھی کہ کوئی تعریف کرتا ہے یا نہیں، ان کو اپنے شعر پڑھنے سے کام تھا۔ غزل لکھی تھی:

کہہ دو رقیب سے کہ وہ باز آئے جنگ سے
ہرگز نہیں ہیں یار بھی کم اُس دبنگ سے
لب کا بڑھا دیا مزا خطِّ سبز نے
ساقی نے پشت دی مےِ صافی کو جنگ سے
دل اب کے بے طرح سے پھنسا زلفِ یار میں
نکلے یہ کیونکہ دیکھیے قیدِ فرنگ سے
آجائیو نہ پیچ میں ظالم کے، دیکھنا
یاری تو تم نے کی ہے یلؔ اس شوخ و شنگ سے

ان کی غزل ختم ہوتے ہی چوبدار نے دوسری شمع اٹھا مرزا علی بیگ کے سامنے رکھ دی۔ یہ بڑے گورے چٹے نوجوان آدمی ہیں، کسرت کا بھی شوق ہے۔ نازنیںؔ تخلص کرتے ہیں۔ دہلی میں بس یہی ایک ریختی گو ہیں۔ اِدھر شمع رکھی گئی، اُدھر نواب زین العابدین خاں نے آواز دی: اوڑھنی لاؤ۔ ایک نوکر فوراً تاروں بھری، گہرے سرخ رنگ کی اوڑھنی لے کر حاضر ہوا۔ نازنیںؔ نے بڑے ناز و ادا سے اس کو اوڑھا۔ ایک پلو کا بُکّل مارا، دوسرا پلو سامنے پھیلا لیا اور خاصی بھلی چنگی عورت معلوم ہونے لگے۔ غزل ایسی لڑ لڑ کر اور اڑ اَڑ کر پڑھی کہ سارا مشاعرہ عش عش کرنے لگا۔ نرت ایسا پیارا کرتے تھے کہ کوئی بیسوا بھی کیا کرے گی۔ دوسرا شعر اس طرح پڑھا کہ گویا ‘‘باجی’’ کو جلانے کے لیے سب کچھ کرنے کو تیار ہیں۔ قلعے والوں کو تو اس غزل میں بڑا مزا آیا، مگر جو ریختے کے استاد تھے، وہ خاموش بیٹھے سنتے رہے۔ غزل یہ تھی:

ہوئی عشاق میں مشہور، یوسف سا جواں تاکا
بُوا! ہم عورتوں میں تھا بڑا دیدہ زلیخا کا
مجھے کہتی ہیں باجی تو نے تاکا چھوٹے دیور کو
نہیں ڈرنے کی میں بھی، ہاں نہیں تاکا تو اب تاکا
اگر اے نازنیںؔ تو دبلی پتلی کامنی سی ہے
چھریرا سا بدن نامِ خدا ہے تیرے دولھا کا

اب تو دونوں شمعیں اس طرح گردش کرنے لگیں کہ پہلے صف کے سیدھی جانب کا ایک شخص غزل پڑھتا تھا اور پھر الٹی طرف کا۔ اگلے صفحے پر ایک نقشہ دیتا ہوں، اس سے نشست کی کیفیت، پڑھنے والوں کا سلسلہ اور مشاعرے کا انتظام اچھی طرح سمجھ میں آ جائے گا:

 

 

 

 

ایجادحشمتاشکیفسوںماہرنالاںتسلّیشوقبیدلبسمل
رسا
[١٢ رجب سنہ ١٢٦١ھ کے مشاعرے میں شعرا کی نشست کا نقشہ]
جعفری
رفعتتنویر
قناعتیکتا
حیاجوش
ظہیرتجلی
صابرکامل
داغقلق
احسانتصویر
ذوقاوج
رمزنازنیں
یل
غالبعاشق
مومنتمکین
آزردہتابش
شیفتہاوج
صہبائیتعشق
عیشرقم
عارفعزیز
رخشاںشہرت
علائیحزیں
سالکبیتابحضوربرقمیرصاحبشورآزادتائبتسکینتشنہ

نازنیں کے پڑھنے کے بعد دائیں طرف کی شمع ہٹ کر میاں عاشقؔ کے سامنے آئی۔ یہ بچارے ایک مزدور پیشہ آدمی ہیں۔ لکھنا پڑھنا بالکل نہیں جانتے۔ نہ کسی کے شاگرد ہیں، نہ کسی کے استاد۔ شعر اچھا خاصا کہتے ہیں۔ اس مشاعرے میں ایک شعر تو ایسا نکل گیا کہ سبحان اللہ! لکھا ہے:

فقط تو ہی نہ میرا اے بتِ خوں خوار دشمن ہے
ترے کوچے میں اپنا ہر در و دیوار دشمن ہے

غزل میں باقی سارے اشعار تو صرف بھرتی کے تھے مگر اِس شعر پر ہر طرف سے بڑی دیر تک واہ واہ ہوتی رہی۔ اُن کی غزل ختم ہونے پر بائیں طرف کی شمع اٹھا کر عبد اللہ خاں اوجؔ کے سامنے رکھ دی گئی۔ یہ بڑے پرانے چالیس پینتالیس برس کے مشّاق شاعر ہیں۔ مضمون کی تلاش میں ہر وقت سرگرداں رہتے ہیں، لیکن ڈھونڈ ڈھانڈ کر ایسے بلند مضامین اور نازک خیالات لاتے ہیں کہ ایک شعر تو کیا، ایک قطعے میں بھی اُن کی سمائی مشکل ہے اور کوشش یہ کرتے ہیں کہ ایک ہی شعر میں مضمون کھپادیں؛ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ مطلب کچھ کا کچھ ہو جاتا ہے۔ بھلا دوسروں کو تو اِن کے شعروں میں کیا مزہ آئے اور کوئی کیا داد دے؛ ہاں یہ خود ہی پڑھتے ہیں، خود ہی مزہ لیتے ہی اور خود ہی اپنی تعریف کر لیتے ہیں۔ غزل اس زور و شور سے پڑھتے ہیں کہ زور میں آ کر صفِ مجلس سے گزوں آگے نکل جاتے ہیں۔ ان کے شاگرد تو دو چار ہی ہیں، مگر استاد بھی اِن کو استاد مانتے ہیں۔ بھلا کس کا بل بوتا ہے جو ان کو استاد نہ کہہ کر لڑائی مول لے۔ ادھر انھوں نے شعر پڑھا، ادھر استاد ذوقؔ یا مرزا غالبؔ نے داد دی۔ داد دینے میں ذرا دیر ہوئی اور اِن کے تیور بدلے۔ اِن کے غصے کی بھلا کون تاب لا سکتا ہے، چارو ناچار تعریف کرنی پڑتی، جب کہیں جا کر یہ ٹھنڈے پڑتے۔ غزل ہوئی تھی:

دم کا جو دمدمہ یہ باندھے خیال اپنا
طفلی ہی سے ہے مجھ کو وحشت سرا سے نفرت
کسبِ شہادت اپنا ہے یاد کس کو قاتل
چیچک کے آبلوں کی میں باگ موڑتا ہوں
بے پل صراط اتریں، یہ ہے کمال اپنا
سُم میں گڑا ہوا ہے آہو کے نال اپنا
سانچے میں تیغ کے سر لیتے ہیں ڈھال اپنا
(رکھ کے) دیوی کے آستاں پر سیمیں ہلال اپنا

آخری شعر پرتو مرزا غالبؔ اچھل پڑے، کہنے لگے: واہ میاں اوجؔ!اس شعر کے دوسرے مصرعے نے تو غضب ڈھا دیا ہے۔ بھئی واللہ! الفاظ ‘‘رکھ کے’’ کیا خوب پھنسائے ہیں۔ یہ سب کافر ہیں جو تمھیں استاد کہتے ہیں، میاں تم تو شعر کے خدا ہو خدا۔ غرض سب استادوں نے تعریفوں کے پل باندھ دیے اور میاں اوجؔ پھول کر کپا ہوئے جاتے ہیں۔ جب ذرا سکون ہوا تو سیدھی طرف کی شمع کھسک کر محمد یوسف تمکینؔ کے سامنے آئی۔ اِن کی عمر کوئی پندرہ سولہ سال کی ہوگی۔ مدرسۂ دہلی میں طالبِ علم ہیں۔ غضب کی ظریفانہ طبیعت پائی ہے۔ بات کرنے میں منہ سے پھول جھڑتے ہیں۔ نازک نازک نقشہ، سانولا رنگ، بھرے ہوئے ہاتھ پاؤں۔ جوان ہوں گے تو بڑے خوب صورت آدمی نکلیں گے۔ غزل کہی تھی:

دوزخ بھی جس سے مانگتا ہر دم پناہ تھا
خانہ خراب ہو ترا اے عشقِ بے حیا
تو نے جو دل کو میرے صنم خانہ کر دیا
تمکیںؔ کو اک نگاہ میں دیوانہ کر دیا
کس دل جلے کی بار خدایا یہ آہ تھی
آئین کون سا تھا، یہ کیا رسم و راہ تھی
رہتا خدا تھا جس میں، یہ وہ بارگاہ تھی
جادو فریب آہ یہ کس کی نگاہ تھی

میاں تمکینؔ کا دل بڑھانے کو سب نے تعریف کی۔ قطعے کو کئی کئی دفعہ پڑھوایا۔ استاد احسانؔ نے کہا: میاں یوسف! کیا کہنا ہے۔ خوب کہتے ہو، کوشش کیے جاؤ، ایک نہ ایک دن استاد ہو جاؤ گے، مگر میاں کسی کے شاگرد ہو جاؤ، بے استاد رہے تو بھٹک نکلو گے۔ میاں تمکینؔ نے مسکرا کر کہا: استاد! میں کہیں آپ کے حکم سے باہر ہو سکتا ہوں، کل ہی ان شاء اللہ استاد اوجؔ کی خدمت میں حاضر ہو جاتا ہوں، استاد ذوق نے کہا: ہاں بھئی ہاں، خوب انتخاب کیا۔ بس یہ سمجھو کہ چند دنوں میں بیڑا پار ہے۔ یہاں یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ دوسری شمع غلام احمد تصویرؔ کے سامنے پہنچ گئی۔ ان کو میاں ببّن بھی کہتے ہیں۔ الف کے نام بے نہیں جانتے مگر طبیعت غضب کی پائی ہے۔ پہلے میاں تنویرؔ کے شاگرد تھے، بعد میں ان سے ٹوٹ کر استاد ذوقؔ سے آملے۔ بھاری بدن، مُنڈی ہوئی ڈاڑھی، چھوٹی چھوٹی مونچھیں، گہرا سانولا رنگ، جسم پر سوسی کا تنگ مہری کاپیجامہ، اوپر سوسی کا کرتا، کندھے پر لٹھے کا رومال، سر پر سوزنی کے کام کی گول ٹوپی۔ بے چارے نیچا بندی کے کام پر گزر اوقات کرتے ہیں۔ بڑے پر گو شاعر ہیں۔ لکھنا پڑھنا تو جانتے ہی نہیں، اس لیے جو کچھ کہتے ہیں دل و دماغ ہی میں ٹھونستے جاتے ہیں۔ یاد اس بلا کی ہے کہ ذرا چھیڑو تو ارگن کی طرح بجنے لگتے ہیں اور ختم کرنے کا نام نہیں لیتے۔ کلام ایسا پاکیزہ ہے کہ بڑے بڑے استادوں کے سر ہل جاتے ہی۔ ان کو سنو تو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ ایک اُمی پڑھ رہا ہے۔ بس یہی سمجھ لو کہ الشعراء تلامیذ الرحمن کی بہترین مثال ہیں۔ غزل کہی تھی:

ہجر کی شب تو سحر ہو یا رب!
جان بے کار تو اپنی نہ گئی
مجھ سے اتنا بھی نہ کھنچیے صاحب!
جذبۂ دل نہیں لایا تم کو
وہ نہ آیا تو قیامت ہی سہی
اے ستم گر! تری شہرت ہی سہی
آپ پر میری طبیعت ہی سہی
آپ کی خیر عنایت ہی سہی

ہر شعر پر واہ واہ اور سبحان اللہ کے شور سے محفل گونج جاتی تھی۔ غزل تمام ہوئی تو استاد ذوق نے حکیم مومن خاں کی طرف دیکھ کر کہا: خاں صاحب! یہ میاں ببّن بھی غضب کی طبیعت لے کر آئے ہیں۔ کہنے کو تو میرے شاگرد ہیں مگر اب تک ان کے کسی شعر میں اصلاح دینے کی مجھے تو ضرورت نہیں ہوئی۔ کل ایک غزل سنائی تھی، میں تو پھڑک گیا، ایک شعر تو ایسا بے ساختہ نکل گیا ہے کہ تعریف نہیں ہوسکتی۔ ہاں میاں ببّن! وہ کیا شعر تھا؟ میاں ببّن نے ذرا دماغ پر زور ڈالا اور شعر دماغ سے پھسل زبان پر آگیا، مطلع تھا:

برچھی تری نگاہ کی پہلو میں آ لگی
پہلو سے دل میں، دل سے کلیجے میں جا لگی

اور شعر یہ تھا:

دامن پہ وہ رکھے نہ رکھے دل رُبا لگی
لیکن ہماری خاک ٹھکانے سے آ لگی

حکیم صاحب نے بہت تعریف کی اور کہا: میاں ببّن! یہ خدا کی دین ہے، یہ بات پڑھنے پڑھانے سے پیدا نہیں ہوتی۔ میاں خوش رہو، اس وقت دل خوش کردیا۔

ان کے بعد شمع محمد جعفر تابشؔ کے سامنے آئی، یہ الہ آباد کے رہنے والے ہیں۔ بہت دنوں سے دلّی میں آ رہے ہیں۔ بچارے گوشہ نشین آدمی ہیں۔ شاعری سے دلی لگاو ہے۔ کوئی مشاعرہ نہیں ہوتا جہاں نہ پہنچتے ہوں۔ غزل میں دو شعر بہت اچھے تھے، وہی لکھتا ہوں:

کبھی بِن بادہ رہ نہیں سکتے
توبہ کچھ ہم کو سازگار نہیں
دل میں خوش ہیں عدو، پر اے تابش ؔ
وہ ستم گر کسی کا یار نہیں

مقطعے کی کچھ ایسی پیاری بندش پڑی کہ سب کے منہ سے بے ساختہ واہ واہ نکلی۔ مفتی صدر الدین صاحب کی تو یہ حالت تھی کہ پڑھتے تھے اور جھومتے تھے۔

تابشؔ کے بعد الٹی جانب کی شمع میاں قلقؔ کے آگے گئی۔ خدا اِن سے محفوظ رکھے، بڑے چالاک آدمی ہیں۔ عبد العلی نام ہے، مدراس کے رہنے والے ہیں۔ کوئی تیس برس کی عمر ہے۔ بچپن ہی میں گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔ حیدرآباد ہوتے ہوئے دہلی آئے۔ ہزاروں کو تعویذ گنڈے کے جال میں پھنسا کر پٹرا کر دیا۔ ان کی شکل سے لوگ گھبراتے ہیں۔ شاہ صاحب بنے پھرتے ہیں مگر دل کا خدا مالک ہے۔ شعر خاصا کہتے ہیں، لکھا تھا:

جامِ شراب سے خُمِ گردوں تو بن گیا
ساقی بنا دے ماہ، پیالہ اچھال کے
ہم مشربوں میں چل کے قلقؔ مے کشی کرو
جھگڑے وہاں نہیں ہیں حرام و حلال کے

یہ پڑھ چکے تو شمع منشی محمود(١)  جان اوجؔ کے سامنے گئی۔ ان کی غزل میں دو ہی شعر ایسے تھے جن کی تھوڑی بہت تعریف ہوئی، باقی سب بھرتی کے تھے:

آنے میں اُس جانِ جاں کے دیر ہے
کچھ مقدر کا ہمارے پھیر ہے
ہے یقین وہ جانِ جاں آتا نہیں
موت آنے میں پھر کیوں دیر ہے

ان کے بعد مرزا کامل بیگ کی باری آئی۔ یہ سپاہی پیشہ آدمی ہیں، کاملؔ تخلص کرتے ہیں۔ مشاعرے میں بھی اُوپچی بن کر آئے ہیں۔ غزل اس طرح پڑھی گویا فوج کی کمان کر رہے ہیں۔ دیکھ لو مضمون میں بھی وہی سپاہیانہ رنگ جھلک رہا ہے۔ ان کی غزل میں قطعہ بڑے مزے کا تھا، وہی لکھتا ہوں:

مژگاں سے گر بچے دل، ابرو کرے ہے ٹکڑے
یہ بات میں نے کہہ کر جب اُس سے داد چاہی
کہنے لگا کہ ترکش جس وقت ہووے خالی
تلوار پھر نہ کھینچے تو کیا کرے سپاہی

اب حکیم سید محمد تعشّق کے پڑھنے کا نمبر آیا۔ یہ بڑے پائے کے ادیب ہیں۔ تریسٹھ چونسٹھ برس کی عمر ہے، حکمت میں اپنا جواب نہیں رکھتے۔ غرض کیا کہوں، ایک جامعِ کمالات شخص ہیں، مگر اپنے آپ کو بہت دور کھینچتے ہیں۔ اچھا شعر سنتے ہیں تو بے تاب ہو جاتے ہیں، چاہتے ہیں کہ جس طرح میں تعریف کرتا ہوں اسی طرح دوسرے بھی میرے شعر کی تعریف کریں۔ شعر برا نہیں کہتے، مگر ایسا بھی نہیں ہوتا کہ مشاعرہ چمک اٹھے اور ہر شخص کے منہ سے بے ساختہ واہ واہ نکل جائے۔ آپ خود ہی اِن کا کلام دیکھ لیجیے:

تجھ کو اِس میری آہ و زاری پر
رحم اے فتنہ گر نہیں آتا
وعدۂ شام تو کیا لیکن
کچھ وہ آتا نظر نہیں آتا
تیرے بیمار کا ہے یہ عالم
ہوش دو دو پہر نہیں آتا

تعریف تو ہوئی مگر کچھ ان کے دل کو نہ لگی، اس لیے ذرا آزردہ سے ہوگئے۔ اِن کے بعد شمع میر حسین تجلیؔ کے سامنے آئی۔ یہ میر تقی میرؔ کے پوتے ہیں۔ بڑے ظریف اور نکتہ سنج آدمی ہیں۔ کلام میں وہی میر صاحب کا رنگ جھلکتا ہے، زبان پر جان دیتے ہیں۔ غزل تو چھوٹی سی ہوتی ہے مگر جو کچھ کہتے ہیں اچھا کہتے ہیں۔ کیوں نہ ہو، آخر کس کے پوتے ہیں:

مری وفا پہ تجھے روز شک تھا اے ظالم!
یہ سر، یہ تیغ ہے، لے اب تو اعتبار آیا
یہ شوق دیکھو پسِ مرگ بھی تجلیؔ نے
کفن میں کھول دیں آنکھیں، سنا جو یار آیا

دوسرے شعر پر وہ تعریف ہوئی کہ میاں تجلی کی باچھیں کھل گئیں۔

میاں تجلی پڑھ چکے تو حکیم سکھانند رقؔم کی باری آئی۔ اِن کو میں حکیم مومن خاں صاحب کے مکان پر دیکھ چکا تھا۔ کلام تو ایسا اچھا نہیں ہوتا مگر پڑھتے خوب ہیں۔ جہاں کسی نے ذرا بھی تعریف کی اور انھوں نے سلام کا تار باندھ دیا، غزل لکھی تھی:

بجھانا آتشِ دل کا بھی کچھ حقیقت ہے
ذرا سا کام تجھے چشمِ تر نہیں آتا
عدم سے کوچۂ قاتل کی راہ ملحق ہے
گیا اُدھر جو گزر، پھر ادھر نہیں آتا
ہو خاک چارہ گری اس مریض کی تیرے
نظر میں تجھ سا کوئی چارہ گر نہیں آتا

تیسرا شعر حکیم مومنؔ خاں صاحب کے رنگ کا تھا، اس کی انھوں نے بہت تعریف کی، مگر اس کے ساتھ یہ بھی کہا: میاں رقؔم! یا تو تم حکمت ہی کرو یا شعر ہی کہو، ان دونوں چیزوں کو ملا کر چلانا ذرا مشکل کام ہے۔

شمع کا شیخ نیاز احمد جوشؔ کے سامنے جانا تھا کہ شاگردانِ ذوق ذرا سنبھل بیٹھے۔ جوشؔ کو استاد ذوق بہت عزیز رکھتے ہیں۔ ان کی عمر اٹھارہ انیس سال کی ہے، مگر بلا کے طبّاع اور ذہین ہیں۔ ان کی سخن گوئی اور سخن فہمی کی قلعے بھر میں دھوم ہے، مگر مشاعرے میں انھوں نے جو غزل پڑھی وہ تو مجھے پسند نہ آئی، ہاں قلعے والوں نے واہ واہ کے شور سے مکان سر پر اٹھا لیا۔ استاد ذوقؔ نے بھی سبحان اللہ! سبحان اللہ! کہہ کر شاگرد کا دل بڑھایا۔ غزل دیکھ لیجیے، ممکن ہے کہ میں نے ہی غلط اندازہ لگایا ہو:

کیوں کر وہ ہاتھ آئے کہ یاں زور و زر نہیں
لے دے کے ایک آہ، سو اُس میں اثر نہیں
قسمت سے درد بھی تو ہوا وہ ہمیں نصیب
جس درد کا کہ چارہ نہیں، چارہ گر نہیں
قسمت ہی میں نہیں ہے شہادت، و گر نہ یاں
وہ زخم کون سا ہے کہ جو کارگر نہیں
سجدے میں کیوں پڑا ہے، ارے اٹھ شراب پی
اے جوشؔ مے کدہ ہے، خدا کا یہ گھر نہیں

آپ نے غزل ملاحظہ کر لی۔ میں تو اب بھی یہی کہوں گا کہ کوئی شعر بھی ایسا نہیں جو تعریف کے قابل ہو۔ اب زبردستی کی تعریفیں کرنا دوسری بات ہے۔

ان کے بعد مولوی امام بخش صہبائی کے بڑے فرزند محمد عبد العزیز کا نمبر آیا۔ یہ عزیزؔ تخلص کرتے ہیں۔ غزل خوب کہتے ہیں۔ کیوں نہ ہو بڑے باپ کے بیٹے ہیں۔ ہائے کیا کیا شعر نکالے ہیں، لکھتے ہیں:

جوں شمع شغل تیرے سراپا نیاز کا
کج فہمیوں سے خلق کی دیکھا کہ کیا ہوا
ہم عاصیوں کا بارِ گنہ سے جھکا ہے سر
مغرور تھا ہی، اور وہ مغرور ہوگیا
اوروں کے ساتھ لطف سے تھا صورتِ نیاز
جلنا جو سوز کا ہے، تو رونا گداز کا
منصور کو حریف نہ ہونا تھا راز کا
اور خلق کو گمان ہے ہم پر نماز کا
اِس میں گلہ نہیں مجھے آئینہ ساز کا
یاں بڑھ گیا دماغ تغافل سے ناز کا

ذرا سچ کہیے گا ساری غزل مرصّع ہے یا نہیں؟ ہاں اس غزل کی جو کچھ تعریف ہوئی بجا ہوئی۔ استاد ذوقؔ نے بھی کہا: بھئی صہبائی! تمھارا یہ لڑکا غضب کا نکلا ہے، خدا اس کی عمر میں برکت دے، ایک دن بڑا نام پیدا کرے گا۔ واہ میاں صاحب زادے واہ! کیا کہنا ہے، دل خوش ہوگیا۔ کیوں نہ ہو، ایسوں کے ایسے ہی ہوتے ہیں۔ میاں عزیزؔ نے اٹھ کر سلام کیا اور بیٹھ گئے۔

میاں عزیزؔ کے بعد شمع خواجہ معین الدین یکتاؔ کے سامنے آئی۔ اِن کا کیا کہنا۔ سرکار سے خطابِ خانی پایا ہے، کسی کو خاطر میں ہی نہیں لاتے۔ کبھی کسی کے شاگرد ہوتے ہیں، کبھی کسی کے۔ پہلے احسانؔ سے تلمذ تھا، آج کل مرزا غالب کی طرف ڈھلک گئے ہیں۔ ایسے متلون مزاجوں کو نہ کبھی کچھ کہنا آیا ہے، نہ آئے گا۔ میرا دل بڑا خوش ہوا کہ کسی نے تعریف نہیں کی۔ بڑے جلے ہوں گے۔ بھلا ایسے شعروں کی کوئی خاک تعریف کرتا:

اے آہِ شعلہ زا! یہ خس و خار بھی نہیں
ہے کس کو تابِ شکوۂ دشمن کہ ضعف سے
جینا فراقِ یار میں وعدے کی لاگ پر
نو آسماں ہیں، دو بھی نہیں، چار بھی نہیں
لب پر ہمارے تذکرۂ یار بھی نہیں
آسان گر نہیں ہے تو دشوار بھی نہیں

ہاں اب جس کے سامنے شمع آئی ہے، وہ شاعر ہے۔ یہ کون ہیں؟ مرزا حاجی بیگ شہرتؔ۔ گورا رنگ، میانہ قد، کوئی ۳۰، ۳۲ برس کی عمر، بڑے بنے سنورے رہتے ہیں۔ پہلے انہی کے مکان پر مشاعرہ ہوتا تھا، اب تھوڑے دنوں سے بند ہے۔ مفتی صدر الدین صاحب کے شاگردِ رشید ہیں۔ کہتے بھی خوب ہیں اور پڑھتے بھی خوب ہیں۔ بڑی پاٹ دار آواز ہے۔ پڑھنے کا ڈھنگ ایسا ہے کہ ایک ایک لفظ دل میں اترتا جاتا ہے، ہر شعر پر تعریفیں ہوئیں اور کیوں نہ ہوتیں، ہر شعر تعریف کے قابل تھا۔ غزل یہ ہے:

ایک دن، دو دن، کہاں تک، تو بھی کچھ انصاف کر
یہ تو جلنا روز کا اے سوزِ ہجراں ہوگیا
ہے ترقی جوہرِ قابل ہی کے شایاں کہ میں
خاک کا پتلا بنا، پتلے سے انساں ہوگیا
کفر و دیں میں تھا نہ کچھ عُقدہ بہ جز بندِ نقاب
اُس کے کھلتے ہی یہ کارِ مشکل آساں ہوگیا
پہلے دعوائے خدائی اُس بتِ کافر کو تھا
کچھ درستی پر جو آج آیا تو انساں ہوگیا

آخری شعر پر تو مرزا غالب کی یہ حالت تھی کہ گویا بالکل مست ہوگئے ہیں۔ رانوں پر ہاتھ مارتے اور کہتے: واہ میاں شہرتؔ واہ! کمال کر دیا! شعر کیا ہے، اعجاز ہے۔ یہ ایک شعر بڑے بڑے دیوانوں پر بھاری ہے، ہاں کیا کہا ہے سبحان اللہ!

پہلے دعوائے خدائی اس بتِ کافر کو تھا
کچھ درستی پر جو آج آیا تو انساں ہوگیا

غرض اس شعر نے ایک عجیب کیفیت محفل میں پیدا کر دی تھی۔ لوگ خود پڑھتے، ایک دوسرے کو سناتے، مزے لے لے کر جھومتے اور جوش میں واہ واہ اور سبحان اللہ کے نعرے مارتے۔ بڑی دیر میں جا کر محفل میں ذرا سکون ہوا تو شمع نوازش حسین خاں تنویرؔ کے سامنے گئی۔ یہ جوان آدمی ہیں، کوئی بتیس تینتیس برس کے ہوں گے۔ بادشاہ سلامت ان کو بہت عزیز رکھتے ہیں۔ میاں شہرت کے شعر نے وہ جوش پیدا کر دیا تھا کہ ان کی غزل کسی نے بھی غور سے نہیں سنی۔ غزل بھی معمولی تھی، صرف یہ قطعہ خاصا تھا:

جان کر دل میں مجھے اپنا مریضِ تپِ غم!
کہتا لوگوں سے بظاہر بتِ عیّار ہے کیا
رنگِ رخ زرد ہے، تر چشم ہے، لب پر دمِ سرد
پوچھنا اِس سے کہ اس شخص کو آزار ہے کیا

یہ پڑھ چکے تو شمع میر بہادر علی حزیںؔ کے سامنے رکھی گئی۔ یہ بڑے سنجیدہ، متین اور وضع دار آدمی ہیں۔ عارفؔ کے شاگرد ہیں، ان کا ایک شعر بڑے مزے کا ہے:

سبو سے منہ لگائیں گے، اب اتنا صبر ہے کس کو
کہ بھریے خم سے مے شیشے میں اور شیشے سے ساغر میں

جو غزل انھوں نے اس روز مشاعرے میں پڑھی، اس کے یہ دو تین شعر اچھے تھے:

دنیا کی وسعتیں ترے گوشے میں آگئیں
جل جل کے آخرش تپشِ غم کے ہاتھ سے
دیکھا وہ اپنی آنکھ سے جو کچھ سنا نہ تھا
اللہ ری وسعتیں تری اے تنگنائے دل
اک داغ رہ گیا مرے پہلو میں، جائے دل
اور دیکھیے حزیںؔ ابھی کیا کیا دکھائے دل

مقطعے کو سب نے پسند کیا اور واقعی ہے بھی اچھا۔

ان کے بعد شمع ایسے شخص کے سامنے آئی جو خود شاعر، جس کا باپ شاعر، جس کا بھائی شاعر، جس کا سارا خاندان شاعر۔ وہ کون؟ میاں باقر علی جعفری۔ فخر الشعرا نظام الدین ممنونؔ کے چھوٹے بھائی۔ ملک الشعرا قمر الدین منتؔ کے چھوٹے بھائی۔ان کی غزل میں زور نہ ہوگا تو اور کس کی غزل میں ہوگا۔ دو شعر سنیے، کہتے ہیں:

تیغ یوں دل میں خیالِ نگہِ یار نہ کھینچ
ناخدا ترس! تو کعبے میں تو تلوار نہ کھینچ
بے سر و پا چمن و دشت میں عالم کے نہ پھر
نازِ ہر گل نہ اٹھا، منتِ ہر کار نہ کھینچ

غزل کی جیسی تعریف چاہیے، ویسی تعریف نہیں ہوئی، وجہ یہ ہے کہ یہ رنگ اب دہلی سے اٹھتا جاتا ہے، اب تو روز مرہ پر لوگ جان دیتے ہیں، اُس میں اگر مضمون پیدا ہوگیا تو سبحان اللہ! مرزا غالب اس رنگ کے بڑے دلدادہ تھے، وہ بھی اب اس کو چھوڑتے جا رہے ہیں۔

اس کے بعد منشی محمد علی تشنہؔ کے پڑھنے کی باری تھی۔ چوبدار اُن کے سامنے شمع رکھنے میں ذرا ہچکچایا۔ یہ ننگ دھڑنگ مزے میں دو زانو بیٹھے جھوم رہے تھے۔ چوبدار نے مرزا فخرو کی طرف دیکھا، انھوں نے آنکھ سے اشارہ کیا کہ رکھ دے۔ اس نے شمع رکھ دی۔ جب شمع کی روشنی آنکھوں پر پڑی تو میاں تشنہؔ  نے بھی آنکھیں کھولیں۔ کچھ سمجھ کر پھونک مار شمع گل کر دی اور کہا: میں بھی کچھ عرض کروں۔ سب نے کہا: ضرور فرمائیے۔ انھوں نے نہایت آزادانہ لہجے میں کچھ گاتے ہوئے، کچھ پڑھتے ہوئے یہ غزل سنائی:

آنکھ پڑتی ہے کہیں، پاؤں کہیں پڑتا ہے
سب کی ہے تم کو خبر، اپنی خبر کچھ بھی نہیں
شمع ہے، گل بھی ہے، بلبل بھی ہے، پروانہ بھی
رات کی رات یہ سب کچھ ہے، سحر کچھ بھی نہیں
حشر کی دھوم ہے، سب کہتے ہیں یوں ہے، یوں ہے
فتنہ ہے اک تری ٹھوکر کا، مگر کچھ بھی نہیں
نیستی کی ہے مجھے کوچۂ ہستی میں تلاش
سیر کرتا ہوں اُدھر کی جدھر کچھ بھی نہیں
ایک آنسو بھی اثر جب نہ کرے اے تشنہ!
فائدہ رونے سے اے دیدۂ تر کچھ بھی نہیں

میں کیا بتاؤں کہ اس غزل کا کیا اثر ہوا! ایک سناٹا تھا کہ زمین سے آسمان تک چھایا ہوا تھا۔ غزل کا مضمون، آدھی رات کی کیفیت، پڑھنے والے کی حالت؛ غرض یہ معلوم ہوتا تھا کہ ساری محفل کو سانپ سونگھ گیا ہے۔ اِدھر یہ عالم طاری تھا، اُدھر میاں تشنہؔ ہاتھ جھٹکتے ہوئے اور ‘‘کچھ بھی نہیں، کچھ بھی نہیں’’ کہتے ہوئے اسی عالم بے خودی میں دروازے سے باہر نکل گئے۔ ان کی ‘‘کچھ بھی نہیں، کچھ بھی نہیں’’ کی آواز بڑی دیر تک کانوں میں گونجتی رہی۔ جب ذرا طبیعتیں سنبھلیں تو سب کے منہ سے بے اختیار یہی نکلا کہ ‘‘واقعی کچھ بھی نہیں۔’’

مرزا فخرو نے شمع منگا کر روشن کی اور کہا: ہاں صاحب پھر سے شروع کیجیے۔ شمع حافظ محمد حسین بسملؔ کے سامنے رکھی گئی۔ بھلا تشنہؔ کے بعد ان کا کیا رنگ جمتا۔ اول تو یہ نو مشق ہیں، مرزا قادر بخش صابرؔ سے اصلاح لیتے ہیں۔ دوسرے غزل میں بھی کوئی خاص بات نہ تھی، البتہ مقطع اچھا تھا، غزل ملاحظہ ہو:

دل تو نے ہم سے او بتِ کافر اٹھا لیا
بارِ گرانِ عشق فلک سے نہ اٹھ سکا
پیر مُغاں نے بسملِؔ مے کش کو دیکھ کر
اس نازکی پہ بوجھ یہ کیوں کر اٹھا لیا
کیا جانے میرے دل نے یہ کیوں کر اٹھا لیا
شیشہ بغل میں، ہاتھ میں ساغر اٹھا لیا

بہر حال کسی نے سنا کسی نے نہیں سنا، کچھ تھوڑی بہت تعریف بھی ہوئی اور شمع میر حسین تسکینؔ کے پاس پہنچ گئی۔ ان کی کوئی چالیس برس کی عمر ہوگی۔ صہبائی کے شاگرد ہیں، مومن سے بھی اصلاح لی ہے۔ اِن کا خاندان دہلی میں بہت مشہور ہے۔ انہی کے دادا میر حیدر نے میر حسین علی وزیرِ فرخ سیر کو مارا تھا۔ سپاہی پیشہ آدمی ہیں۔ شعر بھی برا نہیں کہتے، لکھا تھا:

ہزار طرح سے کرنی پڑی تسلّیِ دل
شبِ وصال میں سننا پڑا فسانۂ غیر
وہ اپنے وعدے پہ محشر میں جلوہ فرما ہیں
مرے قصور سے دیدار میں ہوئی تاخیر
مزے یہ دیکھے ہیں آغازِ عشق میں تسکیںؔ
کسی کے جانے سے گو خود نہیں قرار مجھے
سمجھتے کاش نہ اپنا وہ راز دار مجھے
نہیں ہے ضعف سے انبوہ میں گزار مجھے
نہ دیکھنا تھا تماشائے روزگار مجھے
کہ سوجھتا نہیں اپنا مآلِ کار مجھے

غرض اس غزل نے مشاعرے کا رنگ پھر درست کر دیا اور لوگ ذرا سنبھل کر ہو بیٹھے۔ استاد احسانؔ کے شاگرد خواجہ غلام حسین بیدلؔ کے سامنے شمع آئی، انھوں نے یہ غزل پڑھی:

نگہ کی، چشم کی، زلفِ دو تا کی
کب اس گُل کی گلی تک جا سکے ہے
بتوں سے ملتے ہو راتوں کو بیدلؔ
سہے اک دل جفا کس کس بلا کی
ہوا باندھی ہے یاروں نے ہوا کی
تمھیں بھی دن لگے، قدرت خدا کی

ساری کی ساری غزل پھس پھسی تھی، بھلا اس کی کون تعریف کرتا۔ ہاں اس کے بعد جو غزل محمد حسین صاحب تائبؔ نے پڑھی، اس میں مزہ آگیا۔ تائبؔ مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلوی ؒ کے بھتیجے ہیں اور فخر الشعرا نظام الدین ممنونؔ کے شاگرد۔ چھوٹی بحر میں ایسی غزل لکھتے ہیں کہ سبحان اللہ اور پڑھنا تو ایسا ہے کہ تعریف نہیں ہوسکتی۔ غزل تھی:

پھر کتاں وار جگر چاک ہوا
کہیے اُس بت کو مشابہ کس کے
عہدِ پیری میں جوانی کی امنگ
پھر کوئی ماہ لقا یاد آیا
دیکھ کر جس کو خدا یاد آیا
آہ کس وقت میں کیا یاد آیا

دوسرے اور تیسرے شعر پر تو یہ حال تھا کہ لوگ تعریفیں کرتے کرتے اور میاں تائبؔ سلام کرتے کرتے تھکے جاتے تھے۔ جب ذرا جوش کم ہوا تو شمع استاد ذوق کے استاد غلام رسول شوقؔ کے سامنے آئی۔ بچارے بڈھے آدمی ہیں، شاہ نصیر کے شاگرد ہیں۔ مسجد عزیز آبادی میں امامت کرتے ہیں۔ شروع شروع میں استاد ذوق نے اِن کو اپنا کلام دکھایا تھا، اسی برتے پر یہ اپنے آپ کو ان کا استاد کہا کرتے ہیں اور اب بھی چاہتے ہیں کہ ذوق اسی طرح آ کر مجھ سے اصلاح لیا کریں۔ مجھے تو کچھ سٹھیائے ہوئے معلوم ہوتے ہیں۔ غزل جو پڑھی تو واقعی اس کا مطلع بڑے زور کا تھا، باقی اللہ اللہ خیر سلّا:

لکھا ہوا ہے یہ اُس مہ جبیں کے پردے پر
نہیں ہے کوئی اب ایسا زمیں کے پردے پر

استاد ذوق کے چھیڑنے کو غالبؔ، مومنؔ، آزردہؔ، صہبائی، غرض جتنے استادانِ فن تھے، سب نے میاں شوقؔ کی بڑی واہ واہ کی۔ وہ سمجھے میرے کلام کی تعریف ہو رہی ہے، یہ نہ سمجھے کہ بنا رہے ہیں۔ ذرا کسی نے واہ واہ کی اور انھوں نے استاد ذوق کی طرف دیکھ کر کہا: دیکھا! شعر یوں کہتے ہیں۔ وہ بے چارے ہنس کر خاموش ہو جاتے۔ ان کے ایک آدھ شاگرد نے جواب دینا بھی چاہا مگر انھوں نے روک دیا۔

خدا خدا کر کے ان سے فراغت ہوئی تو شمع آزادؔ کے سامنے آئی۔ ان کا نام الیگزینڈرہیڈلے ہے۔ قوم کے فرانسیسی ہیں۔ دہلی میں پیدا ہوئے، یہیں تربیت پائی اور یہیں سے توپ خانے کے کپتان ہو کر الور گئے۔ کوئی اکیس سال کی عمر ہے۔ ڈاکٹری بھی جانتے ہیں، شعر و سخن کا بہت شوق ہے، عارفؔ کے شاگرد ہیں۔ جہاں مشاعرے کی خبر سنی اور دہلی میں آ موجود ہوئے۔ لباس تو وہی فوجی ہے، مگر بات چیت اردو میں کرتے ہیں۔ ایسی صاف اردو بولتے ہیں جیسے کوئی دہلی والا بول رہا ہے۔ شعر بھی کچھ برے نہیں ہوتے۔ ایک فرانسیسی کا اردو میں ایسے شعر کہنا واقعی کمال ہے۔

غزل ملاحظہ ہو:

وہ گرم روِ راہِ معاصی ہوں جہاں میں
گرمی سے رہا نام نہ دامن میں تَری کا
کچھ پاؤں میں طاقت ہو تو کرو دشت نَوَردی
ہاتھوں سے مزہ دیکھ ذرا جیب دری کا
چہلم کو عیادت کے لیے وہ مری آئے
آزادؔ! ٹھکانا بھی ہے اس بے خبری کا

آزادؔ کے بعد شمع دوسری طرف میر شجاعت علی تسلّی کے پاس آئی۔ بچارے غریب صورت، فرسودہ لباس، کوئی چونسٹھ پینسٹھ برس کے آدمی ہیں، شاہ نصیر کے بڑے چاہیتے شاگردوں میں تھے۔ اپنے زمانے کے جراتؔ سمجھے جاتے تھے۔ اب بہت دنوں سے دنیا سے کنارہ کشی کر کے قدم شریف میں جا رہے ہیں۔ مشاعرے کی کشش کبھی کبھی ان کو دہلی کھینچ لاتی ہے۔ پڑھنے کا انداز بھی نرالا ہے۔ اس طرح پڑھتے ہیں جیسے کوئی باتیں کر رہا ہو۔ غزل دیکھ لیجیے، یہ معلوم ہوتا ہے کہ عاشق و معشوق میں سوال و جواب ہو رہے ہیں:

کیسی ٹھوکر جڑی ہے حضرتِ دل
جب کہا میں نے، تم پہ مرتا ہوں
بولے وہ، کیا مزے کی باتیں ہیں
غیر کی کل وہ لگ کے چھاتی سے
اس لیے اس کے ہم گلے سے لگے
پاؤں پر اس کے سر دھرو تو سہی
تم گلے سے مرے لگو تو سہی
خیر ہے کچھ، پرے ہٹو تو سہی
مجھ سے کہنے لگے، سنو تو سہی
کہ ذرا جی میں تم جلو تو سہی

اس غزل کی جیسی تعریف ہونی چاہیے تھی، ویسی نہیں ہوئی، کیوں کہ اب وہ وقت آگیا تھا کہ نیند کے خمار سے سر میں چکر آنے لگے تھے اور برے بھلے کی تمیز دشوار ہوگئی تھی۔ اس کے بعد جو دو ایک غزلیں ہوئیں وہ بس ہوگئیں، نہ کسی نے شوق سے سنا اور نہ مزہ آیا۔

میاں تسلیؔ کے بعد شورؔ نے غزل پڑھی۔ یہ کوئل کے رہنے والے ہیں۔ قوم کے عیسائی ہیں اور نام جارج پیس ہے، یہ معلوم نہیں کس کے شاگرد ہیں۔ ہاں اکثر دہلی آتے جاتے رہتے ہیں۔ جو کچھ کہہ لیتے ہیں، بہت غنیمت ہے:

عاجز تھا اپنی جان سے ایسا ترا مریض
دیکھے سے جس کے حالتِ عیسی تباہ تھی
بل بے یہ بے خودی کہ خودی سے بھلا دیا
ورنہ یہ زیست، مرگ کی اپنی گواہ تھی
دیر و حرم میں تو نہ دے ترجیح زاہدا
جس سمت سر جھکا، وہی بس سجدہ گاہ تھی

ان کے بعد محمد عسکری نالاں کی باری آئی۔ بھلا اس نوے برس کے بڈھے کی آواز نیند کے خمار میں کسی کو کیا سنائی دیتی۔ مصحفی کے سب سے پہلے شاگرد ہیں۔ اب تو ان کو بس تبرک سمجھ لو۔ شعر بھی وہی باوا آدم کے وقت کے کہتے ہیں:

سحر کے ہونے کا دل کو خیال رہتا ہے
شبِ وصال بھی دل کو ملال رہتا ہے
وہ بد گماں ہوں کہ اُس بت کے سایے پر بھی مجھے
رقیب ہی کا سدا احتمال رہتا ہے

میاں نالاںؔ نے پڑھنا ختم ہی کیا تھا کہ شمع میر صاحب کے سامنے پہنچ گئی۔ شمع کا رکھنا تھا کہ ہر شخص سنبھل کر بیٹھ گیا۔ بعض نے انگلیوں سے آنکھیں مل ڈالیں، بعض نے کرتے کے دامن سے رگڑیں۔ بعض اٹھ اور پانی کا چھپکا منہ پر مار آ بیٹھے۔ کیسی نیند اور کہاں کا سونا۔ میرؔ صاحب کے نام نے سب کو چاق چوبند کر دیا۔ مرزا فخرو اب تک ایک پہلو پر بیٹھے تھے، انھوں نے بھی پہلو بدلا۔ استادانِ فن کے چہروں پر مسکراہٹ آئی، نوجوانوں میں سرگوشیاں ہونے لگیں۔ میر صاحب بھی صف سے کچھ آگے نکل آئے۔ مرزا فخرو نے کہا: میر صاحب! یہ ٹھیک نہیں۔ آپ تو بیچ میں آ کر پڑھیے، یہ کہہ کر چوبدار کو اشارہ کیا، اس نے دونوں شمعیں اٹھا کر وسطِ صحن میں رکھ دیں۔ میرؔ صاحب بھی اپنی جگہ سے اٹھ، شامیانے کے عین سامنے آ بیٹھے۔ بھلا دہلی میں کون ہے جو میر صاحب کو نہیں جانتا۔ کون سا مشاعرہ ہے جو ان کی وجہ سے چمک نہیں اٹھتا۔ کون سی محفل ہے، جہاں ان کے قدم کی برکت سے رونق نہیں آ جاتی۔ ان کا نام تو شاید گنتی کے چند لوگ جانتے ہوں، ہم نے جب سنا ان کا نام میر صاحب ہی سنا۔ کوئی ستر برس کی عمر ہے، بڑے سوکھے سہمے آدمی ہیں، غلافی آنکھیں، توتے کی چونچ جیسی ناک، بڑا دہانہ، لمبی ڈاڑھی، بٹیا سا سر، خشخاشی بال، گوری رنگت، اونچا قد۔ غرض ان کے حلیے کو دہلی کے کسی بچے سے بھی پوچھیے تو پورا پورا بتادے، نہایت صاف ستھرا لباس، سفید ایک بر کا پیجامہ، سفید کرتا، اس پر سفید انگرکھا۔ سر پر ارخ چیں (عرق چیں) ٹوپی، چہرے پر متانت بلا کی تھی، مگر جب غصہ آتا تھا تو پھر کسی کے سنبھالے نہ سنبھلتے تھے۔ چھوٹا ہو یا بڑا، کوئی ان سے بغیر مذاق بات نہیں کرتا تھا اور یہ بھی تڑ سے وہ جواب دیتے تھے کہ منہ پھر جائے۔ اِس سے ان کو غرض نہ تھی کہ جواب ہو بھی گیا یا نہیں۔ مشاعرے میں میاں تمکینؔ سے لے کر بادشاہ سلامت تک اِن کو چھیڑتے تھے۔ انھوں نے نہ اِن کا برا مانا نہ اُن کا۔ جواب دینے میں نہ اِن سے رکے نہ اُن سے۔ غزل ہمیشہ فی البدیہہ پڑھتے تھے۔ لکھ کر لانے کی کبھی تکلیف گوارا نہ کی۔ غزل میں مصرعوں کے توازن کی ضرورت ہی نہ تھی، صرف قافیے اور ردیف سے کام تھا۔ جو کچھ کہنا ہوا، نہایت اطمینان سے نثر میں بیان کرنا شروع کیا۔ بیچ میں دوسروں کے اعتراضوں کا جواب بھی دیتے رہے۔ جب کہتے کہتے تھک گئے تو ردیف اور قافیہ لا، شعر کو ختم کر دیا۔ انھوں نے شعر پڑھنا شروع کیا اور چاروں طرف سے اعتراضوں کی بوچھاڑ ہوگئی۔ یہ بھلا کب دبنے والی آسامی ہیں، چومکھا لڑتے۔ جب زبان سے نہ دبا سکتے تو زور میں آ کر کھڑے ہو جاتے۔ یہ کھڑے ہوئے اور کسی نہ کسی نے ان کو بٹھا دیا، معترض کو ڈانٹا، میر صاحب کا دل بڑھایا اور پھر وہی اعتراضوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ اور تو اور مولوی مملوک العلی صاحب کو ان سے الجھنے میں مزہ آتا تھا۔ یہ بھی مولوی صاحب کی وہ خبر لیتے تھے کہ اگر ان کا کوئی شاگرد سن لیتا تو مدرسے سے مولوی صاحب کا سارا رعب داب رخصت ہو جاتا۔

میر(١)  صاحب نے شمع کے سامنے بیٹھتے ہی ساری محفل پر ایک نظر ڈالی اور کہا: حضرات! آج میں یہاں ہدہد کی شان میں ایک قصیدہ سناؤں گا، اپنے منہ میاں مٹھو یہ اپنی تعریف خود تو بہت کرچکے ہیں اب ذرا دل لگا کر اپنی ہجو بھی سن لیں۔ میاں ہدہد سے سب جلے بیٹھے تھے، اب جو سنا کہ ان کی ہجو ہو رہی ہے اور پھر وہ بھی میر صاحب کے منہ سے، سب نے کہا: ہاں میر صاحب ضرور فرمائیے۔ میاں ہدہد، حکیم آغا جان عیشؔ کے پٹھو تھے اور انہی کے بل پر پھدکتے تھے۔ اب جو حکیم صاحب نے سنا کہ میر صاحب ہدہد کی ہجو پر اتر آئے ہیں، تو بہت پریشان ہوئے۔ ڈر تھا کہ کہیں مجھ کو بھی نہ لپیٹ لیں۔ دوسرا کوئی ہجو کرے تو جواب بھی دیا جائے۔ بھلا میر صاحب کی بحرِ طویل کا کون جواب دے سکتا ہے۔ اور تو کچھ بن نہ پڑا، میاں ہدہد کو گاؤ تکیے کے پیچھے غائب کر دیا۔ اب جو میر صاحب ادھر نظر ڈالتے ہیں تو ہدہد ندارد ہیں۔ بہت گھبرائے، ادھر دیکھا ادھر دیکھا، جب کسی طرف نظر نہ آئے تو کہا: ہجو ملتوی کر کے اب میں غزل پڑھتا ہوں۔ سب نے کہا: ہیں میر صاحب! یہ آپ نے ارادہ کیوں تبدیل فرما دیا، پڑھیے میر صاحب، خدا کے لیے پڑھیے، سوداؔ کے بعد ہجو تو اردو زبان سے اٹھ ہی گئی۔ اگر آپ بھی اس طرف توجہ نہ کریں تو غضب ہوجائے گا، زبان ادھوری رہ جائے گی۔ میر صاحب نے کہا: نا بھئی، میاں ہدہد ہوتے تو ہم کو جو کہنا تھا، ان کے منہ پر کہتے۔ ان کے پیٹھ پیچھے ان کو کچھ کہنا ہجو نہیں، غیبت ہے اور میں غیبت کرنے والوں پر لعنت بھیجتا ہوں۔ جب میر صاحب کا یہ رنگ دیکھا تو حکیم آغا جان کے دم میں دم آیا۔ انھوں نے بھی اس ہجو اور غیبت کے بارے میں چند مناسب الفاظ کہے اور خدا خدا کر کے یہ آئی بلا ٹلی۔

اب میر صاحب نے غزل شروع کی۔ کیا پڑھا، خدا ہی بہتر جانتا ہے۔ بس اتنا تو معلوم ہوا کہ تیر، پیر، کھیر قافیہ، اور ‘‘ہے’’ ردیف ہے۔ اس کے علاوہ میں تو کیا خود میر صاحب بھی نہیں بتاسکتے کہ انھوں نے کیا پڑھا اور مضمون کیا تھا۔ جہاں قافیہ اور ردیف آئی لوگوں نے سمجھ لیا کہ شعر پورا ہوگیا اور تعریفیں شروع ہوئیں۔ کسی نے ایک آدھ اعتراض بھی جڑ دیا۔ اعتراض ہوا اور میر صاحب بگڑے۔ ان کے بگڑنے میں سب کو مزہ آتا تھا۔ اعتراضوں اور میر صاحب کے جوابوں کا رنگ بھی دیکھ لیجیے۔ غزل میں میر صاحب نے جو ایک مصرعے کو کھینچنا شروع کیا تو اتنا کھینچا کہ شیطان کی آنت ہوگیا۔ مولوی مملوک العلی صاحب نے کہا: اجی میر صاحب! یہ مصرع بحر طویل میں جا پڑا۔ میر صاحب نے کہا: مولوی صاحب! کبھی بحر طویل دیکھی بھی ہے یا یوں ہی سنی سنائی باتوں پر اعتراض ٹھونک دیا۔ پہلے مُطَوَّل(١)  پڑھیے مطول، جب معلوم ہوگا کہ بحرِ طویل کس کو کہتے ہیں۔ مولوی صاحب بڑے چکرائے، کہنے لگے: میر صاحب! بھلا مطول کو بحر طویل سے کیا واسطہ؟ ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ۔ آپ کا جو جی چاہتا ہے کہہ جاتے ہیں۔ میر صاحب کو اب کسی حمایتی کی تلاش ہوئی، مولانا صہبائی کی طرف دیکھا۔ انھوں نے کہا کہ مولوی صاحب! مطول میں بحر طویل کی بحریں نہیں ہیں تو اور کیا ہے؟ آپ بھی ہمارے میر صاحب کو اپنی علمیت کے دباؤ سے خاموش کر دینا چاہتے ہیں۔ بس اتنی مدد ملنی تھی کہ میر صاحب شیر ہوگئے، کہنے لگے: جی ہاں مولوی صاحب! آپ سمجھتے ہوں گے کہ آپ کے سوا کسی نے مطول پڑھی ہی نہیں۔ اجی حضرت! میں تو روزانہ اس کے دو دور کرتا ہوں۔ کل ہی اس کی ایک بحر میں غزل لکھنے بیٹھا تھا، لکھتے لکھتے تھک گیا۔ ایک مصرع کوئی پونے دو سو صفحے میں لکھا۔ وہ تو کہو کہ بیاض کے صفحے ہی ختم ہوگئے جو مصرع ختم ہوا، ورنہ خدا معلوم اور کہاں تک جاتا۔ مرزا نوشہ نے کہا: میر صاحب! آپ سچ فرماتے ہیں۔ ہمارے مولوی صاحب نے بحر طویل کہاں دیکھی، مجھ سے پوچھو، میرے بھتیجے خواجہ امان کو جانتے ہو؟ اس نے ایک کتاب بوستانِ خیال لکھی ہے۔ یہ یہ بڑی اور یہ موٹی بارہ جلدیں ہیں، بحر طویل کے بس بارہ مصرعوں میں ساری جلدیں ختم ہوگئی ہیں۔ آپ کا مصرع بحر طویل میں نہیں، رباعی کی بحر میں ہے۔ میر صاحب نے بڑے زور سے ‘‘ہیں’’ کی اور بگڑ کر کہا: واہ مرزا صاحب! سیدھے چلتے چلتے آپ بھی بھٹک گئے۔ رباعی کی بحریں آپ کو معلوم بھی ہیں؟ بھلا بتائیے تو سہی کون سی کتاب میں ہیں؟ یہ ذرا ٹیڑھا سوال تھا۔ مرزا غالب ذرا چپ ہوئے تو خود میر صاحب نے کہا: میں تو پہلے ہی جانتا تھا کہ آپ نے زبردستی اعتراض کر دیا ہے۔ مرزا صاحب! اربعین(٢)  پڑھیے جب معلوم ہوگا کہ رباعی کی بحریں کون کون سی ہیں۔

غرض اسی خوش مذاقی میں کوئی گھنٹہ بھر گزر گیا۔ ہنستے ہنستے جو آنسو نکلے، انھوں نے نیند کے خمار سے آنکھیں صاف کر دیں اور ایسا معلوم ہونے لگا گویا مشاعرے کا دوسرا دور شروع ہو رہا ہے اور سب لوگ تازہ دم ابھی آ کر بیٹھے ہیں۔ جب لوگ اعتراض کرتے کرتے اور میر صاحب جواب دیتے دیتے تھک گئے، تو ایک دفعہ ہی میر صاحب نے کہا: حضرات! غزل ختم ہوئی۔ سب نے کہا: میر صاحب! ابھی مقطع تو آیا ہی نہیں، بے مقطعے کی یہ کیسی غزل؟ میر صاحب نے فرمایا: مقطعے کی اس شاعر کو ضرورت ہے جو بتانا چاہے کہ یہ غزل میری ہے، ہمیں اس کی ضرورت نہیں۔ ہماری غزل کی یہی پہچان ہے، جہاں شروع کی، بس معلوم ہوگیا کہ یہ میر صاحب کے سوا اور کسی کی نہیں ہوسکتی۔ یہ کہتے کہتے انھوں نے جزدان گردانا اور اپنی جگہ آ بیٹھے۔

ایک شمع اٹھا کر میر صاحب کے عین مقابل کے شاعر مرزا جمعیت شاہ ماہرؔ کے سامنے رکھ دی گئی۔ یہ شاہ عالم بادشاہ غازی انارَ اللہ برہانَہ کے پوتے اور صابرؔ کے شاگرد ہیں۔ کلام صاف اور زبان بڑی میٹھی ہے۔ لکھا تھا:

ہم بھی ضرور کعبے کو چلتے، پر اب تو شیخ
قسمت سے بت کدے ہی میں دیدار ہو گیا
ناصح کی بات سننے کا کس کو یہاں دماغ
تیرا ہی ذکر تھا کہ میں ناچار ہوگیا
اے ہم نشیں! وہ حضرتِ ماؔہر نہ ہوں کہیں
اک پارسا سنا ہے کہ مے خوار ہوگیا

میر صاحب کے کلام نے سب کی آنکھوں سے نیند کا خمار اتار دیا تھا، اس لیے اس غزل کی جیسی چاہیے ویسی تعریف ہوئی اور میاں ماؔہر کو محنت کا پورا پورا صلہ مل گیا۔

اُن کے بعد شمع قاضی نجم الدین برقؔ کے سامنے آئی۔ یہ سکندرآباد کے رہنے والے ہیں۔ کوئی بیس بائیس برس کی عمر ہے۔ سر پر لمبے لمبے بال، سانولی رنگت، اس میں سبزی جھلکتی ہوئی، اونچا قد، وجیہہ صورت، سفید غرارے دار پیجامہ، سفید انگرکھا، دو پلڑی ٹوپی، بڑے خوش مزاج، شیریں کلام، ہنس مکھ، بذلہ سنج، وارستہ مزاج، رند مشرب آدمی ہیں۔ پہلے مومنؔ خاں کے شاگرد تھے، پھر ان کے ایما سے میاں تسکین کو کلام دکھانے لگے۔ آواز بڑی دل کش اور طرزِ ادا خوب ہے۔ غزل بھی ایسی پڑھی کہ واہ واہ! کہتے ہیں:

بزمِ اغیار ہے، ڈر ہے نہ خفا تو ہوجائے
ورنہ اک آہ میں کھینچوں تو ابھی ہو ہوجائے
حرم و دیر کے جھگڑے ترے چھپنے سے پڑے
ورنہ تو پردہ اٹھا دے، تو تو ہی تو ہوجائے
کچھ مزہ ہے یہ ترے روٹھ کے مَن جانے کا
چاہتا ہوں یوں ہی ہر روز خفا تو ہوجائے
تو تو جس خاک کو چاہے، وہ بنے بندۂ پاک
میں خدا کس کو بناؤں، جو خفا تو ہوجائے
آپ انکار کریں، وصل سے میں در گزرا
کچھ تو ہو جس سے طبیعت مری یکسو ہوجائے
ہو نہ ہو بس میں کوئی، کچھ نہیں اس کی پروا
دلِ بے تاب پہ اے برقؔ! جو قابو ہوجائے

اللہ اللہ! در و دیوار سے بے خودی برس رہی تھی۔ جب یہ مصرع پڑھا کہ:

میں خدا کس کو بناؤں، جو خفا تو ہوجائے

تو ساری محفل پر ایک مستی سی چھا گئی۔ اور تو اور، استادانِ فن کی بھی یہ حالت تھی کہ بار بار شعر پڑھواتے، خود پڑھتے اور مزے لیتے تھے۔

ابھی ان کی تعریفیں ختم نہ ہوئی تھیں کہ شمع مرزا منجھلے المتخلص بہ فسوںؔ کے سامنے رکھی گئی۔ یہ نوجوان آدمی ہیں۔ مرزا کریم بخش مرحوم کے فرزند اور حضرت ظل سبحانی کے نواسے ہیں۔ ان کا کیا کہنا، زبان تو ان کے گھر کی لونڈی ہے، گا کر غزل پڑھتے ہیں۔ پڑھتے کیا ہیں، جادو کرتے ہیں۔ ان کی غزل کے دو شعر لکھتا ہوں:

اللہ رے جذبۂ دلِ مضطر، کہ تیر کا
باہر ہمارے پہلو کے سوفار بھی نہیں
کچھ آپی آپ دل یہ مرا بیٹھا جائے ہے
ظاہر میں تو الٰہی میں بیمار بھی نہیں

دوسرے شعر میں الفاظ کیا بٹھائے ہیں، نگینے جڑ دیے ہیں۔ آخر کیوں نہ ہو، قلعے کے رہنے والے ہیں۔

ان کے بعد سیدھی جانب سے شمع سرک کر لالہ بالمکند حضورؔ کے سامنے آئی۔ یہ ذات کے کھتری اور خواجہ میر دردؔ کے شاگرد ہیں۔ کوئی ستر اسی برس کا سِن ہے۔ سفید نورانی چہرہ، اس پر سفید لباس، بغل میں انگوچھا، کندھوں پر سفید کشمیری رومال۔ بس جی چاہتا تھا کہ اِن کو دیکھے ہی جائیے۔ شمع سامنے آئی تو انھوں نے عذر کیا کہ میں اب سنانے کے قابل نہیں رہا، سننے کے قابل رہ گیا ہوں۔ جب سبھوں نے اصرار کیا تو انھوں نے یہ قطعہ پڑھا:

نہ پاؤں میں جنبش، نہ ہاتھوں میں طاقت
سرِ راہ بیٹھے ہیں اور یہ صدا ہے
جو اٹھ کھینچیں دامن ہم اس دل ربا کا
کہ اللہ والی ہے بے دست و پا کا

 

قطعہ اس طرح پڑھا کہ خود تصویر ہوگئے۔ ‘‘نہ پاؤں میں جنبش’’ کہتے ہوئے اٹھے مگر پاؤں نے یاری نہ کی، لڑ کھڑا کر بیٹھ گئے۔ ‘‘نہ ہاتھوں میں طاقت’’ کہہ کر ہاتھ اٹھائے، مگر ضعف سے وہ بھی کچھ یوں ہی اٹھ کر رہ گئے۔ دوسرا مصرع ذرا تیز پڑھا۔ تیسرا مصرع پڑھتے وقت اس طرح بیٹھ گئے جیسے کوئی بے دست و پا سرِ راہ بیٹھ کر صدا لگاتا ہے اور ایک دفعہ ہی دونوں آنکھوں کو آسمان کی طرف اٹھا کر جو چوتھا مصرع پڑھا تو یہ معلوم ہوتا تھا گویا ساری مجلس پر جادو کر دیا۔ ہر ایک کے منہ سے تعریف کے بجائے بے ساختہ یہی نکل گیا:

کہ اللہ والی ہے بے دست و پا کا

استاد ذوق نے کہا: یہ خدا کی دین اور خواجہ میر درد کا فیض ہے۔ سبحان اللہ! کیا مؤثر کلام ہے۔ ہم دنیا داروں میں یہ اثر پیدا ہونے کے لیے میر درد ہی جیسا استاد چاہیے۔

اس کلام کے بعد مرزا غلام محی الدین اشکی کی غزل بھلا کون سنتا۔ یہ شاہ عالم بادشاہ غازی کے پوتے ہیں۔ کوئی چالیس سال کی عمر ہے، اونچا قد، سفید پوش، ثقہ صورت آدمی ہیں۔ لکھا تھا:

کچھ وجد نہیں نغمۂ مطرب ہی پہ موقوف
کافی ہے یہاں نالۂ بے ربط درا کا
سجدے میں گرے دیکھ کے تصویرِ بت اشکیؔ
معلوم ہوا، آپ کا خرقہ تھا ریا کا

ان کے بعد شمع صاحبزادہ عباس علی خاں بیتابؔ کے سامنے آئی۔ تیس بتیس برس کا سِن ہوگا۔ رامپور کے رہنے والے اور مومن خاں کے شاگرد ہیں۔ نواب مصطفی خاں شیفتہؔ سے بڑی دوستی ہے، انہی کے ساتھ مشاعرے میں آگئے تھے۔ بڑی اونچی آواز میں غزل پڑھی، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ تحت اللفظ پڑھ رہے ہیں۔ غزل تو کچھ اچھی نہ تھی مگر قطعہ ایسا تھا کہ تعریف نہیں ہوسکتی۔ مے خانے کی تقسیم ایسی خوبی سے کی تھی کہ سبحان اللہ! ہائے لکھا ہے:

معمور ہے خدا کی عنایت سے مے کدہ
بیتاؔب پی، خدا نے تجھے بھی دیے ہیں ہاتھ
ساقی اگر نہیں ہے، نہ ہو، مے سے کام ہے
یہ خم ہے، یہ سبو ہے، یہ شیشہ، یہ جام ہے

بھلا ایسے بڑے مشاعرے میں مرزا فخر الدین حشمت کو پڑھنا کیا ضرور تھا۔ نہ کلام ہی اچھا، نہ پڑھنے کی طرز ہی اچھی، مگر اُن کو روک کون سکتا تھا۔ شہزادے تھے اور وہ بھی شاہ عالم بادشاہ کے پوتے، خیر پڑھ لیا اور بھائی بندوں نے تعریفیں بھی کر دیں۔ خوش ہوگئے۔ غزل یہ تھی:

ترے بیمارِ ہجراں کا ترے بن
یہ عالم ہے کہ عالم نوحہ گر ہے
مجھے روتے جو دیکھا، ہنس کے بولے
مرے حشمتؔ! بتا کیوں چشم تر ہے

ہاں ان کے بعد جس کے سامنے شمع آئی، وہ نوجوان سہی، مگر شاعر ہے اور ایسا شاعر ہوگا کہ ہندوستان بھر میں نام کرے گا۔ بھلا کون سا مشاعرہ ہے جس میں قربان علی بیگ سالک کی غزل شوق سے نہیں سنی جاتی اور کون سا شعر ہوتا ہے جو بار بار نہیں پڑھوایا جاتا۔ جو ایک دفعہ بھی کسی مشاعرے میں گیا ہے، وہ ان کو دور سے پہچان لے گا۔ چھوٹا سا قد، دبلے پتلے ہاتھ پاؤں، موٹی سی ناک، چھوٹی چھوٹی آنکھیں، موٹی جلد، گندمی رنگ، اس پر چیچک کے داغ، چھدری چھدری چھوٹی سی ڈاڑھی، کلوں پر کم، ٹھوڑی پر زیادہ، سر پر خشخاشی بال، کوئی تیس سال کی عمر۔ بس بخارا کے ترک معلوم ہوتے ہیں، ہاں لباس ان لوگوں سے مختلف ہے۔ نیچی چولی کا انگرکھا، تنگ مہری کا پیجامہ، سر پر سفید گول ٹوپی، ہاتھ میں سفید لٹھے کا رومال۔ شمع کا ان کے سامنے آنا تھا کہ سب سنبھل کر بیٹھ گئے۔ انھوں نے بھی انگرکھے کی آستین الٹ، ٹوپی کو اچھی طرح جما، اپنے استاد مرزا غالب کی طرف دیکھا۔ ادھر سے مسکرا کر کچھ اشارہ ہوا تو انھوں نے صاحبِ عالم کی طرف دیکھ کر عرض کی: اجازت ہے؟ مرزا فخرو نے کہا: میاں سالکؔ! پڑھو، آخر اس اجازت کی ضرورت ہی کیا ہے۔ سالکؔ نے جیب میں سے کاغذ نکالا، کچھ الٹا پلٹا، پھر ایک بار سنبھل کر کہا: عرض کیا ہے:

انتہا صبر آزمائی کی
ہے برائی نصیب کی کہ مجھے
نقش ہے سنگِ آستاں پہ ترے
ہے فغاں بعد امتحانِ فغاں
کیا نہ کرتا وصال شادی مرگ
راز کھلتے گئے مرے سب پر
کتنے عاجز ہیں ہم کہ پاتے ہیں
رہ گئیں دل میں حسرتیں سالکؔ!
ہے درازی شبِ جدائی کی
تم سے امید ہے بھلائی کی
داستاں اپنی جبہ سائی کی
پھر شکایت ہے نارسائی کی
تم نے کیوں مجھ سے بے وفائی کی
جس قدر اس نے خود نمائی کی
بندے بندے میں بو خدائی کی
آگئی عمر پارسائی کی

ایک ایک شعر پر یہ عالم تھا کہ مجلس لوٹی جاتی تھی، ایک ایک شعر کئی کئی بار پڑھوایا جاتا تھا، ایک ایک لفظ پر تعریفیں ہوتیں اور ایک ایک بندش کی داد ملتی۔ استاد ذوقؔ نے تیسرے شعر پر کہا: واہ میاں سالک کیا کہنا ہے! سب ہی جبہہ سائی باندھتے آئے ہیں، تمھاری داستان کو کوئی نہیں پہنچا۔ کیا کلام ہے، کیا روانی ہے، سبحان اللہ! حکیم مومن خاں نے کہا: میاں سالکؔ! یہ جوانی اور مقطعے میں یہ بوڑھا مضمون! تمھاری ‘‘عمرِ پارسائی’’ کو بہت دن پڑے ہیں، ابھی سے تو بڈھوں کی سی باتیں نہ کیا کرو۔ سالکؔ نے جواب دیا: استاد! میں تو جوانی میں بڈھا ہوگیا۔ دیکھیے بڑھاپا دیکھنا نصیب بھی ہوتا ہے یا نہیں، پھر دل میں آئے ہوئے مضمون کیوں چھوڑ دوں۔ بعد میں یہ کون دیکھتا پھرے گا کہ یہ شعر بڈھے نے کہا تھا یا جوان نے۔ ہم نہ رہیں گے مضمون رہ جائے گا۔

جب تعریفوں کا سلسلہ ذرا رُکا تو شمع مرزا رحیم الدین ایجادؔ کے سامنے آئی۔ یہ شہزادے مرزا حسین بخش کے صاحب زادے اور مولانا صہبائی کے شاگرد ہیں۔ کوئی چوبیس پچیس سال کی عمر ہے۔ شعر کہتے ہیں، مگر پھیکے، ہاں پڑھتے بہت اچھی طرح ہیں، گانا خوب جانتے ہیں۔ ان کی آواز شعر کی کمزوری ظاہر ہونے نہیں دیتی:

بت خانے میں تھا یا کہ میں کعبہ کے قریں تھا
اے زاہدِ ناداں! تجھے کیا ہے، میں کہیں تھا
ہر چند کہ میں دوست کے ہمراہ نہیں تھا
پر دل وہ بلا ہے وہ جہاں تھا، یہ وہیں تھا
توڑا ہے یہ کچھ آپ کو میں نے کہ جہاں میں
ثابت نہ رہا نام کا جو میرے نگیں تھا

غزل میں تو کیا خاک مزہ آتا، ہاں ان کے گانے میں مزہ آگیا۔ گا کر پڑھنے کا یہ نیا رنگ قلعے سے چلا ہے، مگر استادانِ فن اس کو پسند نہیں کرتے۔

ان کے بعد شمع نواب علاؤ الدین خاں علائی کے سامنے آئی۔ انھوں نے بہت اونچی آواز میں اپنی غزل سنائی۔ مرزا غاؔلب کے بڑے چہیتے شاگرد ہیں، ابھی نو عمر ہیں، شعر اچھا کہتے ہیں۔ کیوں نہ ہو، کس کے شاگرد ہیں۔ غزل دیکھ لو، استاد کا رنگ غالب ہے:

آوارگانِ گل کدۂ آز و آرزو!
رکھیو سنبھل کے پاؤں، جو بینا ہو چشمِ دل
وہ گل جو آج ہے قدحِ موج خیزِ رنگ
گل چور کل ہے سنگِ جفائے سپہر سے
اور لالہ تند بادِ حوادث سے خاک و خوں
جس جا کہ تھا ترانۂ بلبل نشاط خیز
مغرورِ جاہ سے یہ کہو تم علائیاؔ!
حاشا اگر تمھیں سرِ سیر و فراغ ہے
کیجو سمجھ کے کام، جو روشن دماغ ہے
وہ لالہ جو کہ باغ کا چشم و چراغ ہے
گویا کہ غم کدے کا شکستہ ایاغ ہے
گویا دل و جگر کا کسی کے وہ داغ ہے
اس جا پہ آج دل شکن آوازِ زاغ ہے
کل ایک سطحِ خاک ہے، جو آج باغ ہے

علائی کے پاس سے شمع کا ہٹ کر سامنے آنا تھا کہ مرزا کریم الدین رسا سنبھل کر بیٹھ گئے۔ ایک بڑی لمبی غزل پڑھی مگر ساری کی ساری بے مزہ۔ نہ الفاظ کی بندش اچھی، نہ مضامین میں کوئی خوبی۔ تعقیدوں سے الجھن پیدا ہوتی تھی اور رعایتِ لفظی سے جی گھبراتا تھا۔ ان کے بس دو ہی شعر نمونے کے طور پر لکھ دینا کافی سمجھتا ہوں:

باز آ، ستا تو مجھ کو بہت عشوہ گر نہیں
کرتا کسی پہ ظلم کوئی اس قدر نہیں
گو نزع میں ہوں میں، ترے بن آئے جانِ من!
کرنے کی جان بھی مرے تن سے سفر نہیں

یہ پڑھ چکے تو نواب ضیاء الدین خاں نیرؔ و رخشاںؔ کے پڑھنے کی باری آئی۔ فارسی کے شعر خوب کہتے ہیں، اردو کی غزلیں ذرا پھیکی ہوتی ہیں، لکھا تھا:

پی کے گرنے کا ہے خیال ہمیں
شب نہ آئے جو اپنے وعدے پر
دل میں مضمر ہیں معنیِ باقی
تیرے غصے نے ایک دم میں کیا
طالعِ بد سے نیّرؔ رخشاں
ساقیا لیجیو سنبھال ہمیں
گزرے کیا کیا نہ احتمال ہمیں
کسی صورت نہیں زوال ہمیں
مُردۂ نُہ ہزار سال ہمیں
اپنے ہی گھر میں ہے وبال ہمیں

ان کے بعد شمع مرزا پیارے رفعتؔ کے سامنے آئی۔ یہ سلاطین زادے ہیں، بٹیریں لڑانے کا بڑا شوق ہے، شعر بھی خوب کہتے ہیں۔ پہلے احسانؔ کے شاگرد تھے، اب مولانا صہبائی سے تلمّذ ہے، کوئی چالیس سال کی عمر ہوگی۔ لکھا تھا:

بسانِ طائرِ رنگِ پریدہ وحشت سے
نہ عذر تھا ہمیں ہونے میں خاک کے، گر ہم
گُندھی تھی کون سے بد مستِ تشنہ لب کی وہ خاک
بہ ذوق ناز کو دے رخصتِ جفا کہ یہاں
ہیں ایک وہ بھی کہ تم سے ہے جن کو راز و نیاز
کسے دماغ ہے اب آشیاں بنانے کا
یہ جانتے کہ وہ دامن نہیں بچانے کا
کہ جس سے خُم یہ بنا ہے شراب خانے کا
ہمیں بھی عزم ہے طاقت کے آزمانے کا
اور ایک ہم ہیں کہ تکتے ہیں منہ زمانے کا

آخری شعر میں مایوسی کی جو تصویر کھینچی ہے، اس کی تعریف نہیں ہوسکتی۔ کوئی نہ تھا جو اس شعر کے دوسرے مصرعے کو پڑھ کر نہ جھومتا ہو اور بار بار واہ واہ اور سبحان اللہ نہ کہتا ہو۔ ہوتے ہوتے میاں عارفؔ کا نمبر آہی گیا۔ بھلا ان کو مشاعرے کے انتظام سے کب فرصت تھی جو غزل لکھتے، پھر بھی چلتے پھرتے کچھ لکھ ہی لیا تھا وہی پڑھ دیا۔ اِس دن رات کی گردش کے بعد اتنا لکھ لینا کمال ہے۔ غزل تھی:

اٹھتا قدم جو آگے کو اے نامہ بر نہیں
پیچھے تو چھوڑ آئے کہیں اس کا گھر نہیں
اوروں کو ہو تو ہو، ہمیں مرنے سے ڈر نہیں
خط لے کے ہم ہی جاتے ہیں، گر نامہ بر نہیں
بے التفاتیوں کا تری شکوہ کیا کریں
اپنے ہی جب کہ نالۂ دل میں اثر نہیں

مطلعے کی سب نے تعریف کی۔ استاد احسانؔ نے کہا: میاں عارفؔ! میں بھی شعر کہتے کہتے بڈھا ہوگیا، لاکھوں شعر سنے، لاکھوں سنائے مگر یہ مضمون بالکل نیا ہے اور کس خوبی سے ادا کیا گیا کہ دل خوش ہوگیا۔ میاں عارف کے بعد شمع مرزا غلام نصیر الدین عرف مرزا منجھلے کے سامنے آئی۔ یہ شہزادے ہیں، احسانؔ کے شاگرد ہیں اور قناعتؔ تخلص کرتے ہیں۔ غزل خاصی کہتے ہی۔ میں تو یہی کہوں گا کہ شہزادوں میں بہت کم ایسے شاعر ہوں گے۔ غزل تھی:

شوق کو کثرتِ نظارہ سے رشک آتا ہے
حشر سے پہلے میسر ہو وہ دیدار مجھے
کعبے تک جانے میں تھی خاطرِ زاہد، ورنہ
دَیر میں بھی تھی سدا رخصتِ دیدار مجھے
جنسِ دز دیدہ کی مانند ہے الجھاؤ میں جان
کہ نہ لیتا ہے نہ پھیرے ہے خریدار مجھے
رازِ دل لب پہ نہ لانا کبھی منصور کہ یاں
کردیا بات کے کہنے نے گنہ گار مجھے

شمع کا حکیم آغا جان عیشؔ کے سامنے آنا تھا کہ لوگوں میں سرگوشیاں ہوئیں۔ حکیم صاحب بادشاہی اور خاندانی طبیب ہیں۔ زیورِ علم سے آراستہ اور لباسِ کمال سے پیراستہ، صاحبِ اخلاق، خوش مزاج، شیریں کلام، شگفتہ صورت۔ جب دیکھو یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسکرا رہے ہیں۔ طبیعت ایسی ظریف و لطیف اور لطیفہ سنج پائی ہے کہ سبحان اللہ! میانہ قد، خوش اندام، سر پر ایک ایک انگل بال سفید، ایسی ہی ڈاڑھی اس گوری سرخ سفید رنگت پر کیا بھلی معلوم ہوتی ہے۔ گلے میں ململ کا کرتا، جیسے چنبیلی کا ڈھیر پڑا ہنس رہا ہے۔ مگر کچھ دنوں سے ان کے دوست ان سے بھی ذرا کھنچ گئے تھے۔ میاں ہدہد کو پال کر انھوں نے سب سے بگاڑلی۔ شروع شروع میں تو اس کی واہی تباہی باتوں پر کسی نے دھیان نہیں کیا، لیکن جب اس نے استادوں پر حملے شروع کیے، اس وقت ہدہد کے ساتھ ہی حکیم صاحب سے بھی لوگوں کو کچھ نفرت سی ہوگئی۔ غضب یہ کیا کہ اجمیری دروازے والے مشاعرے میں خود انھوں نے مرزا نوشہ پر کھلا ہوا حملہ کر دیا، ایک قطعہ لکھا تھا کہ:

اگر اپنا کہا تم آپ ہی سمجھے تو کیا سمجھے
مزہ کہنے کا جب ہے، اک کہے اور دوسرا سمجھے
کلامِ میرؔ سمجھے اور زبانِ میرؔزا سمجھے
مگر اِن کا کہا، یہ آپ سمجھیں یا خدا سمجھے

مولوی مملوک العلی نے کہا: حکیم صاحب! شعر کے سمجھ میں نہ آنے کی دو ہی صورتیں ہیں، یا تو شعر ہی بے معنی ہے، یا سمجھنے والے کے دماغ کا قصور ہے۔ ہم سب تو ان کے شعر کو سمجھتے ہیں، پھر اپنے ساتھ ہم غریبوں کو کیوں لپیٹ لیا۔ مومن خاں نے کہا: بھئی! مجھے تو اس قطعے کے تیسرے مصرعے میں بھی شاعرانہ تعلّی معلوم ہوتی ہے۔ بہرحال بڑی مشکل سے معاملہ رفع دفع ہوا۔ اس معرکے کے بعد یہ دوسرا موقع تھا کہ حکیم صاحب مشاعرے میں تشریف لائے تھے۔ میر صاحب نے جو ہدہد کے مقابلے میں اعلانِ جنگ کیا تھا، وہ سن چکے تھے؛ اب لوگوں میں جو کانا پھوسی ہونے لگی، اس سے اور بھی پریشان ہوئے، پڑھنے میں تامل کیا۔ آخر مرزا فخرو کے اصرار پر یہ غزل پڑھی:

صلح ان سے ہمیں کیے ہی بنی
زہد و تقویٰ دھرے رہے سارے
لائے وہ ساتھ غیر کو ناچار
کس کا تھا پاسِ شوقِ ظلم اے عیشؔ!
دل پہ جھگڑا تھا، دل دیے ہی بنی
ہاتھ سے اس کے مے پیے ہی بنی
پاس اپنے بٹھا لیے ہی بنی
ان جفاؤں پہ بھی جیے ہی بنی

جب ایسی غزل ہو تو بھلا کون تعریف نہ کرے۔ صلِ علی کے شور اور سبحان اللہ کی آوازوں نے پڑھنے والے اور سننے والے، دونوں کے دلوں سے غبارِ کدورت دور کر دیا۔ اور حکیم صاحب وہی حکیم صاحب ہوگئے جو پہلے تھے، نہ ان سے کسی کو رنج رہا اور نہ ان کو کسی سے ملال۔ ہاں اگر پہلے کہیں میاں ہدہد کچھ چرک جاتے تو خدا معلوم مشاعرے کا کیا رنگ ہو جاتا۔ وہ تو خدا بھلا کرے ہمارے میر صاحب کا، انھوں نے پہلے ہی اس پکھیرو کی زبان بند کردی۔ خیر، رسیدہ بود بلائے و لے بخیر گذشت۔

حکیم صاحب کے بعد مرزا رحیم الدین حیا کا نمبر آیا۔ یہ وہی میاں حیاؔ ہیں جن کی تعریف مشاعرے میں آتے ہی ان کے والد صاحب قبلہ مرزا کریم الدین رساؔ نے فرمائی تھی۔ بڑے خوش طبع، ذہین، نیک فطرت، بدیہہ گو اور ظریف آدمی ہیں۔ کوئی پینتیس چھتیس سال کی عمر ہے، اکثر بنارس میں رہتے ہیں، کبھی کبھی دہلی چلے آتے ہیں۔ شکل تو بالکل شاہزادوں کی سی ہے، مگر ڈاڑھی منڈی ہوئی اور لباس لکھنؤ والوں کا ہے۔ پہلے اپنے والد کے شاگرد ہوئے، پھر شاہ نصیرؔ سے اصلاح لی، اب اپنا کلام استاد ذوق کو دکھاتے ہیں۔ شطرنج بے مثل کھیلتے ہیں۔ پہلے حکیم اشرف علی خاں سے سیکھی، اب مومن خاں کو گھیرے رہتے ہیں۔ ستار ایسا بجاتے ہیں کہ سبحان اللہ! شاعر بھی اچھے ہیں مگر محنت نہیں کرتے۔ زبان کی چاشنی پر مضمون کو نثار کر دیتے ہیں۔ یہ غزل لکھ کر لائے تھے:

موت ہی چارہ سازِ فرقت ہے
ہو چکا وصل، وقتِ رخصت ہے
روز کی داد کون دیوے گا
کارواں عمر کا ہے رخت بدوش
سانس اک پھانس سی کھٹکتی ہے
تم بھی اپنے حیاؔ کو دیکھ آؤ
رنج مرنے کا، مجھ کو راحت ہے
اے اجل جلد آ کہ فرصت ہے
ظلم کرنا تمھاری عادت  ہے
ہر نفس بانگِ کوسِ رحلت ہے
دم نکلتا نہیں، مصیبت ہے
آج اس کی کچھ اور حالت ہے

پانچویں شعر پر ان کے والد نے ٹوکا اور کہا: میاں حیاؔ! لکھنؤ جا کر اپنی شکل تو بدل آئے تھے، اب زبان بھی بدل دی، سانس کو مونث باندھ گئے۔ حیاؔ نے جواب دیا: جی نہیں قبلہ، میں نے استاد ذوق کی تقلید کی ہے، وہ فرماتے ہیں:

سینے میں سانس ہوگی اڑی دو گھڑی کے بعد

بھلا صاحب(١) عالم کب چوکنے والے تھے، کہنے لگے: بھلا ہمارے مقابلے میں آپ کے استاد کا کلام سند ہوسکتا ہے؟ وہ جو چاہیں لکھیں، یہ بتاؤ قلعے میں ‘‘سانس’’ مذکر ہے یا مونث؟ بے چارے حیاؔ مسکرا کر خاموش ہوگئے۔

اب شمع مولانا صہباؔئی کے روبہ رو آئی۔ ان کی علمیت کا ڈنکا تمام ہندوستان میں بج رہا ہے۔ ایسے جامع الکمال آدمی کہاں پیدا ہوتے ہیں۔ ہزاروں شاگرد ہیں، اکثر ریختہ کہتے ہیں، ان کو اصلاح دیتے ہیں اور خوب دیتے ہیں؛ مگر خود ان کا کلام تمام و کمال فارسی ہے۔ میں نے تو ریختے میں نہ کبھی ان کی غزل دیکھی اور نہ سنی اور مشاعرے میں بھی فارسی ہی کی غزل پڑھی۔ خوب خوب تعریفیں ہوئیں مگر ایمان کی بات یہ ہے کہ لوگوں کو مزہ نہ آیا:

ہمچو شبنم خویش را فارغ ز عالم ساختم
محرمِ خورشید گشتم، باخساں کم ساختم
مُردم و در چشمِ مردم عالمے تاریک گشت
من مگر شمعم، چو رفتم، بزم برہم ساختم
کفر در کیشم سپاسِ نعمتِ دیدارِ اوست
جلوہ در ہر رنگ دیدم، گردنے خم ساختم
جرمِ عشقم را جز اشد حور ومن از ہجرِ دوست
داغ بر دل بردم و خلدش جہنم ساختم
نیست صہبائیؔ چو جامِ جم نصیبم، گو مباد
مے ز خونِ دل کشیدم، خویش را جم ساختم

مقطعے پر تو اتنی تعریفیں ہوئیں کہ بیان سے باہر ہے مگر جو بے چارے فارسی نہیں سمجھتے تھے وہ بیٹھے منہ دیکھا کیے۔ صاف بات تو یہ ہے کہ اردو کے مشاعرے میں فارسی کا ٹھونسنا کچھ مجھے بھی پسند نہ آیا۔

اہاہاہا! زبان کا لطف اٹھانا ہے تو اب سید ظہیر الدین خاں ظہیر کو سنیے۔ ابھی تیس بتیس سال کی عمر ہے، مگر کلام میں خدا نے وہ اثر دیا ہے کہ واہ واہ! ذوقؔ کی اصلاح نے اور سونے پر سہاگے کا کام کیا ہے۔ شکل و صورت سے یہ نہیں معلوم ہوتا تھا کہ ان کی طبیعت اس بلا کی ہے۔ قد خاصا اونچا، چھریرا بدن، کشادہ سینہ، سانولی رنگت، کشادہ دہن، اونچی ستواں ناک، آنکھیں نہ بہت بڑی نہ بہت چھوٹی مگر روشن، گول ڈاڑھی نہ بہت گھنی نہ بہت چھدری، سر پر پٹھے۔ لباس میں انگرکھا، تنگ مہری کا پیجامہ، سر پر سفید گول ٹوپی۔ خوش مزاج اور لطیفہ سنج ایسے کہ منہ سے پھول جھڑتے ہیں۔ پڑھنے کا بھی ایک خاص طرز ہے، لکھنؤ والوں کے تحت اللفظ پڑھنے سے ملتا جلتا ہے۔ ساتھ ہی اشاروں سے ایک ایک لفظ کو سمجھاتے جاتے ہیں، غزل ہوئی تھی:

جبیں اور شوق اُس کے آستاں کا
لٹا ہے قافلہ تاب و تواں کا
مری واماندگی منزل رساں ہے
رہے پابند دل کے دل میں ارماں
اٹھاسکتے نہیں سر آستاں سے
ہمیشہ موردِ برق و بلا ہوں
دلِ بے تاب نے وہ بھی مٹایا
ظہیرؔ! آؤ، چلو اب مے کدے کو
ارادہ اور ارادہ بھی کہاں کا!
خدا حافظ ہے دل کے کارواں کا
سراغِ نقشِ پا ہوں کارواں کا
قدم منزل نے پکڑا کارواں کا
غضب ہے بارِ منت پاسباں کا
مٹے جھگڑا الٰہی آشیاں کا
کسی کو کچھ جو دھوکا تھا فغاں کا
نکالا زہد و تقوی ہے کہاں کا

اور تو اور استادانِ فن نے اس غزل کی ایسی داد دی کہ میاں ظہیر کا دل غنچے کی طرح کھل گیا۔ تیسرے شعر پر تو یہ حالت تھی کہ تعریفوں کا سلسلہ ختم ہی نہ ہوتا تھا، سلام کرتے کرتے بچارے کے ہاتھ دکھ گئے ہوں گے۔ جب ذرا سکون ہوا تو سیدھی جانب کی شمع نواب مصطفی خاں شیفتہؔ کے سامنے آئی۔ ان کا کیا کہنا، استادانِ فن میں شمار کیے جاتے ہیں۔ مومنؔ کے شاگرد ہیں مگر خود استاد ہیں۔ انھوں نے کسی شعر کی تعریف کی اور اس کی وقعت بڑھی۔ یہ سن کر ذرا خاموش ہوئے اور شعر دوسروں کی نظروں سے بھی گر گیا۔ زبان کے ساتھ مضمون کو ترتیب دینا ایسے ہی لوگوں کا کام ہے۔ پڑھتے بھی ہیں تو ایک لفظ سمجھا سمجھا کر۔ آواز ایسی اونچی ہے کہ دور اور پاس سب کو صاف سنائی دے۔ غزل پڑھنے سے پہلے ادھر ادھر دیکھا، ذرا انگرکھا درست کیا، ٹوپی درست کی، انگرکھے کی آستینوں کو چڑھایا اور یہ غزل پڑھی:

آرام سے ہے کون جہانِ خراب میں
گل سینہ چاک اور صبا اضطراب میں
سب اس میں محو اور یہ سب سے علاحدہ
آئینے میں ہے آب، نہ آئینہ آب میں
معنی کی فکر چاہیے، صورت سے کیا حصول
کیا فائدہ ہے موج اگر ہے سراب میں
ذات و صفات میں بھی یہی ربط چاہیے
جوں آفتاب و روشنیِ آفتاب میں
وہ قطرہ ہوں کہ موجۂ دریا میں گم ہوا
وہ سایہ ہوں کہ محو ہوا آفتاب میں
بے باک شیوہ، شوخ طبیعت، زباں دراز
ملزم ہوا ہے، پر نہیں عاجز جواب میں
تکلیف شیفتہؔ ہوئی تم کو مگر حضور!
اس وقت اتفاق سے وہ ہیں عتاب میں

غزل تو ایسی ہے کہ بھلا کس کا منہ ہے جو تعریف کا حق ادا کرسکے، مگر تعریف بڑی سنبھل کر کی گئی۔بڑے بڑے مشاعروں میں مَیں نے دیکھا کہ نو مشقوں کے دل تو تعریفوں سے خوب بٹھاتے ہیں، مگر جب استادوں کے پڑھنے کی نوبت آتی ہے تو وہ جوش و خروش نہیں رہتا، بلکہ جوش کے بجائے متانت زیادہ آ جاتی ہے۔ استادوں کے انہی شعروں کی تعریف ہوتی ہے جو واقعی قابلِ تعریف ہوں۔ اگر کسی شعر کی ذرا بے جا تعریف کر دی جائے تو اس سے ان کو تکلیف ہوتی ہے۔ یہ صرف اسی کلام کی تعریف چاہتے ہیں، جس کو یہ خود سمجھتے ہیں کہ اِس کی تعریف ہونی چاہیے۔ شعر پڑھ کر اگر دیکھتے بھی ہیں تو اپنے برابر والوں کی طرف اور وہی داد بھی دیتے ہیں۔ مشاعرے کے باقی لوگ ان کے کلام سے لطف ہی نہیں اٹھاتے، کچھ حاصل بھی کر لیتے ہیں اور ان کے لیے یہ غزلیں کسی طرح استاد کی اصلاح سے کم نہیں ہوتیں۔

ان کے بعد شہزادہ مرزا قادر بخش صابر کی باری آئی۔ یہ کوئی چالیس برس کے ہوں گے۔ ان کی شاعری کی قلعے میں بڑی دھوم ہے۔ خود ان کو بھی اپنے کلام پر ناز ہے۔ شعرائے دہلی کا تذکرہ لکھ رہے ہیں، مگر مشہور ہے کہ الف سے لے کر ی تک مولانا صہبائی کا قلم ہے۔ یہ سچ ہے یا جھوٹ، خدا بہتر جانتا ہے۔ خود انھوں نے اپنے خیالات ایک قطعے میں لکھے ہیں، وہ نقل کرتا ہوں:

پہلے استاد تھے احسانؔ و نصیرؔ و مومنؔ
ہوئی احساںؔ سے پر اصلاحِ طبیعت میری
پھر ہوا حضرتِ صہبائی کی اصلاح کا فیض
طبع باریک ہوئی ان کی بدولت میری
اور ہم بزم رہے مومنؔ و ذوقؔ و غالبؔ
اوستادوں ہی سے ہر دم رہی صحبت میری
ہند کا فضل و ہنر ذات پہ ہے جن کی تمام
مانتے ہیں وہی اشخاص فضیلت میری
منعقد ہوتی ہے جب شہر میں بزمِ اِنشاد
کرتے ہیں اہلِ سخن وقعت و عزت میری

اب اس کلام پر ان کو استاد کہو یا جو جی چاہے کہو۔ غزل میں بھی یہی پھیکا رنگ ہے۔ مضمون بھی بلند پایہ نہیں ہیں، مگر سارا شہر ان کو استاد مانتا ہے۔ ہوں گے، ممکن ہے میری ہی سمجھ کا پھیر ہو۔ غزل کہی تھی:

نظارہ برقِ حسن کا دشوار ہوگیا
محفل میں میں تو اس لبِ مے گوں کے سامنے
حائل ہوئی نقاب تو ٹھہری نگاہِ شوق
معلوم یہ ہوا کہ ہے پرسش گناہ کی
اس کی گلی میں آن کے کیا کیا اٹھائے رنج
پیری میں ہم کو قطعِ تعلق ہوا نصیب
جلوہ، حجابِ دیدۂ بیدار ہوگیا
نامِ شراب لے کے گنہ گار ہوگیا
پردہ ہی جلوہ گاہِ رخِ یار ہوگیا
عاصی گنہ نہ کردہ گنہگار ہوگیا
خاکِ شفا ملی تو میں بیمار ہوگیا
قامت خمیدہ ہوتے ہی تلوار ہوگیا

یہ پڑھ چکے تو شمع مفتی صدر الدین آزردہؔ کے سامنے پہنچی۔ اس پائے کے عالم شاعر نہیں ہوتے اور ہوتے ہیں تو استاد ہو جاتے ہیں۔ مفتی صاحب کے جتنے شاگرد جید عالم ہیں، اُس سے کہیں زیادہ ان کے تلامذہ شاعر ہیں اور شاعر بھی کیسے کہ بڑے پائے کے۔ مفتی صاحب کہتے تو خوب ہیں، مگر پڑھتے اس طرح ہیں گویا طاب علموں کو سبق دے رہے ہیں۔ آواز بھی ذرا نیچی ہے لیکن ان کی وجاہت کا یہ اثر ہے کہ مشاعرے میں سناٹا ہوتا ہے اور تعریف بھی ہوتی ہے تو خاص خاص شعروں پر اور بہت نیچی آواز میں۔ ہاں مرزا نوشہ ان سے مذاق کرنے میں نہیں چوکتے۔ کبھی کبھی اعتراض بھی کر بیٹھتے ہیں اور مزے مزے کی نوک جھونک ہو جاتی ہے۔ غزل ملاحظہ ہو، کیا پختہ کلام ہے:

نالوں سے میرے کب تہ و بالا جہاں نہیں
کب آسماں زمین و زمیں آسماں نہیں
افسردہ دل نہ ہو، درِ رحمت نہیں ہے بند
کس دن کھلا ہوا درِ پیرِ مغاں نہیں
شب اُس کو حال دل نے جتایا کچھ اس طرح
ہیں لب تو کیا، نگہ بھی ہوئی ترجماں نہیں
اے دل! تمام نفع ہے سودائے عشق میں
اک جان کا زیاں ہے، سو ایسا زیاں نہیں
کٹتی کسی طرح بھی نہیں یہ شبِ فراق
شاید کہ گردش آج تجھے آسماں نہیں
کہتا ہوں اُس سے کچھ میں، نکلتا ہے منہ سے کچھ
کہنے کو یوں تو ہے گی زباں اور زباں نہیں
آزرؔدہ! ہونٹ تک نہ ہلے اس کے روبہ رو
مانا کہ آپ سا کوئی جادو بیاں نہیں

آزردہؔ جیسے استاد کے بعد نواب مرزا خاں داغ کا پڑھنا ایک عجیب سی چیز ہے؛ مگر بات یہ ہے کہ اول تو داغؔ کو سب چاہتے ہیں، دل بڑھاتے ہیں اور جانتے ہیں کہ کسی دن یہی داغؔ ہندوستان کا چراغ ہوگا۔ دوسرے مرزا فخرو کے خیال سے ان کو استادوں میں جگہ ملی تھی؛ مگر انھوں نے غزل بھی ایسی پڑھی کہ استاد بھی قائل ہوگئے۔ سترہ اٹھارہ برس کے لڑکے کا اس قیامت کی غزل اور اس جرات سے پڑھنا واقعی کمال ہے۔ میری تو یہ رائے ہے کہ جو زبان داغؔ نے لکھی ہے، وہ شاید ہی کسی کو نصیب ہوگی۔ ذرا زبان کی شوخی، مضمون کی رنگینی اور طبیعت کی روانی ملاحظہ کیجیے اور داد دیجیے:

ساز یہ کینہ ساز کیا جانیں
شمع رو آپ گو ہوئے لیکن
کب کسی در کی جبہہ سائی کی
جو رہِ عشق میں قدم رکھیں
پوچھیے مے کشوں سے لطفِ شراب
جن کو اپنی خبر نہیں اب تک
حضرتِ خضر جب شہید نہ ہوں
جو گزرتے ہیں داغؔ پر صدمے
ناز والے، نیاز کیا جانیں
لطفِ سوز و گداز کیا جانیں
شیخ صاحب نماز کیا جانیں
وہ نشیب و فراز کیا جانیں
یہ مزہ پاکباز کیا جانیں
وہ مرے دل کا راز کیا جانیں
لطفِ عمرِ دراز کیا جانیں
آپ بندہ نواز کیا جانیں

اللہ! اللہ! وہ سہانا وقت، وہ چھوٹی سی آواز، دل کش سُر، وہ الفاظ کی نشست، وہ بندش کی خوب صورتی اور سب سے زیادہ یہ کہ وہ داغ کی بھولی بھالی شکل، ایک عجیب لطف دے رہی تھی۔ ساری محفل میں کوئی نہ تھا جو محوِ حیرت نہ ہوگیا ہو اور کوئی نہ تھا جس کے منہ سے جزاک اللہ، سبحان اللہ اور صل علیٰ کے الفاظ بے ساختہ نکل نہ رہے ہوں۔ مرزا فخرو کی تو حالت یہ تھی کہ گھڑی گھڑی پہلو بدلتے اور دل ہی دل میں خوش ہوتے تھے۔ غزل ختم ہوئی اور کسی کو معلوم نہ ہوا کہ کب ختم ہوگئی۔ جب شمع حکیم مومن خاں مومن کے سامنے پہنچ گئی، اُس وقت لوگوں کا جوش کم ہوا اور اس ریختے کے استاد کا کلام سننے کو سب ہمہ تن گوش ہوگئے۔ انھوں نے شمع کو اٹھا کر ذرا آگے رکھا، ذرا سنبھل کر بیٹھے، بالوں میں انگلیوں سے کنگھی کی، ٹوپی کو کچھ ترچھا کیا، آستینوں کی چنٹ کو صاف کیا اور بڑی درد انگیز آواز میں دل پذیر ترنم کے ساتھ یہ غزل پڑھی:

الٹے وہ شکوے کرتے ہیں اور کس ادا کے ساتھ
بے طاقتی کے طعنے ہیں، عذرِ جفا کے ساتھ
بہرِ عیادت آئے وہ، لیکن قضا کے ساتھ
دم ہی نکل گیا مرا آوازِ پا کے ساتھ
مانگا کریں گے اب سے دعا ہجرِ یار کی
آخر تو دشمنی ہے اثر کو دعا کے ساتھ
ہے کس کا انتظار کہ خوابِ عدم سے بھی
ہر بار چونک پڑتے ہیں آوازِ پا کے ساتھ
سو زندگی نثار کروں ایسی موت پر
یوں روئے زار زار اہلِ عزا کے ساتھ
بے پردہ غیر پاس اسے بیٹھا نہ دیکھتے
اٹھ جاتے کاش ہم بھی جہاں سے حیا کے ساتھ
اس کی گلی کہاں، یہ تو کچھ باغِ خلد ہے
کس جائے مجھ کو چھوڑ گئی موت، لا کے ساتھ
اللہ رے گمرہی، بت و بت خانہ چھوڑ کر
مومنؔ چلا ہے کعبے کو اک پارسا کے ساتھ

شاعری کیا تھی جادو تھا، تمام لوگ ایک عالم محویت میں بیٹھے تھے۔ وہ خود بھی اپنے کلام کا مزہ لے رہے تھے۔ جس شعر میں ان کو زیادہ لطف آتا تھا، اس کے پڑھتے وقت ان کی انگلیاں زیادہ تیزی سے بالوں میں چلنے لگتی تھیں۔ بہت جوش ہوا تو کاکلوں کو انگلیوں میں بل دے کر مڑوڑنے لگے۔ کسی نے تعریف کی تو گردن جھکا کر ذرا مسکرادیے۔ پڑھنے کا طرز بھی سب سے جدا تھا۔ ہاتھ بہت کم ہلاتے تھے اور ہلاتے بھی کیسے، ہاتھوں کو بالوں سے کب فرصت تھی، ہاں آواز کے زیر و بم اور آنکھوں کے اشاروں سے جادو سا کر جاتے تھے۔ غزل ختم ہوئی تو تمام شعرا نے تعریف کی۔ سن کے مسکرائے اور کہا: آپ لوگوں کی یہی عنایت تو ہماری ساری محنتوں کا صلہ ہیں، میں تو عرض کر چکا ہوں:

ہم داد کے خواہاں ہیں، نہیں طالبِ زر کچھ
تحسینِ سخن فہم ہے مومنؔ! صلہ اپنا

ان کے بعد شمع استاد احسانؔ کے سامنے آئی۔ میں سمجھا تھا کہ ان کی آواز کیا خاک نکلے گی، مگر شمع کے پہنچتے ہی وہ کیچلی سی بدل کچھ سے کچھ ہوگئے اور اتنی بلند آواز کے ساتھ غزل پڑھی کہ تمام مجلس پر چھا گئے۔ کسی شعر پر مومن خاں کو متوجہ کرتے، کسی پر مرزا نوشہ کو، کسی پر استاد ذوق کو۔ ان کی عظمت کچھ لوگوں کے دلوں پر ایسی چھائی ہوئی تھی کہ جس کو انھوں نے متوجہ کیا، اس کو تعریف کرتے ہی بن پڑی۔ ردیف سخت اور قافیہ مشکل تھا، مگر اس کی استادی کی داد دینی چاہیے کہ ان دشواریوں پر بھی ساری کی ساری غزل مرصّع کہہ گئے ہیں۔ ہائے لکھتے ہیں:

تو کیوں ہے گریہ کُناں اے مرے دلِ محزوں
نہ رو نہ رو کہ نہ تجھ کو کبھی رلائے خدا
بُتو! بتاؤ تو، کیا تم خدا کو دو گے جواب؟
خدا کے بندوں پہ یہ ظلم، بندہ ہائے خدا!
رضا پہ تیری ہوں دن رات اے صنم مصروف
جو اِس پہ تو نہیں راضی، نہ ہو، رضائے خدا
بتوں کے کوچے میں کہتا تھا کل یہی احساںؔ
یہاں کسی کا نہیں ہے کوئی سوائے خدا

جب یہ پڑھ چکے تو مرزا غالب کی باری آئی۔ یہ رنگ ہی دوسرا تھا، صبح ہو چلی تھی، شمع کے سامنے آتے ہی فرمانے لگے: صاحبو! میں بھی اپنی بھیرویں الاپتا ہوں۔ یہ کہہ کر ایسے دل کش اور مؤثر لہجے میں غزل پڑھی کہ ساری محفل محو ہوگئی۔ آواز بہت اونچی اور پر درد تھی۔ یہ معلوم ہوتا تھا کہ مجلس میں کسی کو اپنا قدردان نہیں پاتے، اس لیے غزل خوانی میں فریاد کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ غزل تھی:

دلِ ناداں! تجھے ہوا کیا ہے؟
ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار
میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں
جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود
یہ پری چہرہ لوگ کیسے ہیں؟
شکنِ زلفِ عنبریں کیوں ہے؟
ہم کو ان سے وفا کی ہے امید
ہاں بھلا کر، ترا بھلا ہوگا
جان تم پر نثار کرتا ہوں
آخر اس درد کی دوا کیا ہے؟
یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے!
کاش پوچھو کہ مدّعا کیا ہے؟
پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے؟
غمزہ و عشوہ و ادا کیا ہے؟
نگہِ چشمِ سرمہ سا کیا ہے؟
جو نہیں جانتے وفا کیا ہے
اور درویش کی صدا کیا ہے!
میں نہیں جانتا دعا کیا ہے
میں نے مانا کہ کچھ نہیں غالبؔ
مفت ہاتھ آئے تو برا کیا ہے!

غزل پڑھ کر مسکرائے اور کہا کہ: اب اس پر بھی نہ سمجھیں وہ، تو پھر ان سے خدا سمجھے۔ حکیم آغا جانؔ سمجھ گئے اور کہنے لگے: مرزا صاحب! غنیمت ہے کہ تم اس رنگ کو آخر ذرا سمجھے۔ غرض تعریفوں کے ساتھ ساتھ مذاق بھی ہوتا رہا اور شمع استاد ذوقؔ کے سامنے پہنچ گئی۔ استاد نے مرزا فخرو کی طرف دیکھ کر کہا: صاحبِ عالم! غزل پڑھوں یا کل جو قطعہ ہوا ہے وہ عرض کروں؟ کل رات خدا جانے کیا بات تھی کہ کسی طرح نیند نہیں آتی تھی، لوٹتے لوٹتے صبح ہوگئی، شبِ ہجر کا مزہ آگیا، اسی کشاکش میں ایک قطعہ ہوگیا ہے، اجازت ہو تو عرض کروں۔ مرزا فخرو نے کہا: استاد! آج کا مشاعرہ سب بندوں سے آزاد ہے، غزل پڑھیے، قصیدہ پڑھیے، رباعی پڑھیے، قطعہ پڑھیے، غرض جو دل چاہے پڑھیے، ہاں کچھ نہ کچھ پڑھیے ضرور۔ استاد ذوقؔ سنبھل کر بیٹھ گئے اور قطعہ ایسی بلند اور خوش آیند آواز میں پڑھا کہ محفل گونج اٹھی اور ان کے پڑھنے کے انداز نے کلام کی تاثیر میں اور زیادہ زور پیدا کر دیا:

کہوں کیا ذوقؔ! احوالِ شبِ ہجر
نہ تھی شب، ڈال رکھا تھا اک اندھیر
تپِ غم شمع ساں ہوتی نہ تھی کم
یہی کہتا تھا گھبرا کر فلک سے
کہاں میں اور کہاں یہ سب، مگر تھے
سو اس ظلمت کے پردے میں کیے ظلم
عوض کس بادہ نوشی کے، مجھے آج
حواس و ہوش جو مجھ سے قریں تھے
مری سینہ زنی کا شور سن کر
اٹھایا گاہ اور گاہے بٹھایا
کہا جب دل نے، تو کچھ کھا کے سو رہ
نہ ٹوٹا جان کا قالب سے رشتہ
بہت دیکھا، نہ دکھلایا ذرا بھی
کہا جی نے مجھے یہ ہجر کی رات
لگے پانی چُوانے منہ میں آنسو
مگر دن عمر کے تھوڑے سے باقیکہ قسمت سے قریبِ خانہ میرے
بشارت مجھ کو صبحِ وصل کی دی
ہوئی ایسی خوشی اللہ اکبر!
کہ تھی اک اک گھڑی، سو سو مہینے
مرے بختِ سیہ کی تیرگی نے
اور آتے تھے پسینوں پر پسینے
کہ او بے مہر، بد اختر، کمینے!
مری جانب سے تیرے دل میں کینے
ارے ظالم! تری کینہ وری نے
پڑے یہ زہر کے سے گھونٹ پینے
قرینے سے ہوئے سب بے قرینے
پھٹے جاتے تھے ہمسایوں کے سینے
مجھے بے تابی و بے طاقتی نے
بہت الماس کے توڑے نگینے
بہت ہی جان توڑی جاں کنی نے
طلوعِ صبح سے منہ روشنی نے
یقیں ہے صبح تک دے گی نہ جینے
پڑھی یسٰیں سرہانے بے کسی نے
لگا رکھے تھے میری زندگی نے
اذاں مسجد میں دی بارے کسی نے
اذاں کے ساتھ یُمن و فرّخی نے
کہ خوش ہو کر کہا یہ خود خوشی نے
مؤذن! مرحبا! بروقت بولا
تری آواز مکّے اور مدینے

آخری شعر پر پہنچے تھے کہ برابر کی مسجد سے آواز آئی: اللہ اکبر اللہ اکبر، اللہ اکبر اللہ اکبر۔ اس کے ساتھ ہی سب کے منہ سے نکلا: ‘‘تری آواز مکّے اور مدینے’’ اذان ختم ہوئی تو سب نے دعا کو ہاتھ اٹھائے۔ دعا سے فارغ ہو کر مرزا فخرو نے کہا: صاحبو! کچھ عجیب اتفاق ہے کہ فاتحۂ خیر ہی سے مشاعرہ شروع ہوا تھا اور اب فاتحۂ خیر ہی پر ختم ہوتا ہے۔ یہ کہہ کر انھوں نے دونوں شمعوں کو، جو چکر کھا کر ان کے سامنے آگئی تھیں، بجھا دیا، شمعوں کے گل ہوتے ہی نقیبوں نے آواز دی: حضرات! مشاعرہ ختم ہوا۔ یہ سننا تھا کہ چلنے کو سب کھڑے ہوگئے۔ سب سے پہلے مرزا فخرو سوار ہوئے اور پھر سب ایک ایک کر کے رخصت ہوئے۔ آخر میں مَیں اور نواب زین العابدین خاں رہ گئے۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ کہنے لگے: میاں کریم الدین! یہ تمھاری نیک نیتی تھی جو اتنا بڑا مشاعرہ بخیر و خوبی ختم ہوا۔ تمھارا کام بھی بن گیا اور میرا ارمان بھی نکل گیا۔ اچھا خدا حافظ!

 

تقدیر

 

در ماندگی میں غالبؔ! کچھ بن پڑے تو جانوں
جب رشتہ بے گرہ تھا، ناخن گرہ کشا تھا

دوسرے روز سب سامان اٹھ گیا اور پھر وہی چھاپے خانے کی گھڑ گھڑ اور پریس مینوں کی گڑ بڑ شروع ہوگئی۔ میں نے دوسرے مہینے پھر مشاعرے کا اعلان کیا، اشتہار بھی تقسیم کیے، مگر گنتی کے آدمی آئے، آخر یہ مجلس بند کرنی پڑی۔ کچھ تو مطبعے کے کام میں نقصان ہوا، کچھ ملازمین پیشگی رقمیں دبا بیٹھے؛ غرض تھوڑے ہی دنوں میں میرے دو چار جاہل شرکا نے مجھ سے فریب کر کے مطبع چھین لیا۔ ہر چند کہ میں نے سوچا تھا کہ اگر دعوی کروں، حاکم بے شک میرا انصاف کرے گا؛ لیکن چند صدمات  پڑ جانے کی وجہ سے وہ ارادہ بھی پورا نہ ہوا۔ اُس مشاعرے کی کیفیت کے مسودات پڑے رہ گئے ہیں، دیکھیے کب چھپتے ہیں اور کون چھاپتا ہے۔

 

فقط

١۔ اِن کا نام مرزا فخر الدین، خطاب مرزا فتح الملک، شاہ بہادر، عرف مرزا فخرو اور تخلص رمز تھا۔ بہادر شاہ ثانی کے منجھلے بیٹے تھے۔ مرزا محمد دارا بخت عرف مرزا شبّو ولی عہدِ سلطنت کے انتقال کے بعد ١٨٤٩ء میں ولی عہد ہوئے مگر غدر سے پہلے ہی ١٠ جولائی ١٨٥٢ء میں چالیس سال کی عمر میں انتقال کیا۔ ان کے انتقال کے بعد مرزا جواں بخت کی ولی عہدی کے جھگڑے پڑے۔

٢۔ قلعۂ دہلی کو “لال حویلی” یا صرف حویلی بھی کہا جاتا ہے۔ حافظ عبد الرحمن خاں احسانؔ کا شعر ہے:

مری تنخواہ لوٹی ان لٹیروں نے حویلی میں
بہادر شاہ غازی کی دوہائی ہے دوہائی ہے

١۔ قلعہ دہلی کے دورِ آخر میں شاہانِ دہلی بعض وقت مرد عورت دونوں کو “اماں” سے خطاب کیا کرتے تھے، چنانچہ اس طرز کلام کی جھلک حیدرآباد کے روزمرہ میں بھی کسی قدر نظر آتی ہے۔ مجھے بڑا تعجب ہے کہ ایک مورخ نے اس طریقہ مخاطبت کی بنا پر قلعہ معلّی کی تہذیب و اخلاق پر حملہ کیا ہے اور لکھا ہے کہ بادشاہ کے اخلاق کی پستی کا اندازہ اِس سے کیا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی بیوی کو بھی “اماں” کہتا تھا۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ صاحب انگریزی نہیں جانتے تھے ورنہ ان کو یہ پڑھ کر بڑا تعجب ہوتا کہ جس قوم کو وہ تہذیب کا پتلا اور اخلاق کا نمونہ ظاہر کرتے ہیں، اُن کے یہاں بھی خاوند اپنی بیوی کو “اماں” ہی کہتا ہے اور بیوی خاوند کو کبھی “ابا” اور کبھی “دادا” پکارتی ہے۔ میرے خیال میں یہ “ارے میاں” کا اختصار ہے، چنانچہ اب بھی بے تکلف بول چال میں میاں کو “اماں” ہی کہہ جاتے ہیں۔ (اڈیٹر رسالہ اردو)

١۔ اُن دنوں دہلی میں لوگوں نے یہ اڑا رکھا تھا کہ مرزا نوشہ (غالبؔ) مرزا عبد اللہ بیگ کے بیٹے نہیں ہیں، بلکہ انھوں نے اُن کو پال لیا ہے اور یہ دراصل کسی کشمیری کی اولاد ہیں۔ حافظ ویرانؔ نے اِسی طرف اشارہ کیا ہے۔ خدا محفوظ رکھے دہلی والوں سے۔ جو باہر سے آیا ہے، اُس کے حسب نسب میں انھوں نے کیڑے ڈالے۔

٢۔ استاد ذوقؔ کو شہر بھر نائی کہتا ہے، یہ دوسری بات ہے کہ آزادؔ مرحوم نے اُن کے ہاتھ میں استرے کے بجائے تلوار سے کر ان کو سپاہی زادہ بنا دیا ہے۔

١۔ معلوم نہیں کہ یہ کس زبان کا لفظ ہے مگر دہلی میں عام طور پر “شگوفے” کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔

٢۔ قلعہ دہلی کے عجائب خانے میں مرزا غالب کی ایک تصویر ہے، اُس سے یہ لباس لیا گیا ہے۔

١۔ میں نے خود یہ مکان بیس بائیس برس ہوئے دیکھا ہے۔ ٹوٹ کر کھنڈر ہو گیا تھا۔ تین طرف کی عمارت ڈھے گئی تھی۔ سامنے کا حصہ قائم تھا۔ معلوم نہیں کہ اوپر کی منڈیر کیوں اتنی نیچی رکھی گئی تھی۔ اسی منڈیر سے ٹھوکر کھا کر حکیم مومن خاں نیچے گرے، ہاتھ اور بازو ٹوٹ گیا اور اسی وجہ سے ان کا انتقال ہوا۔ خود ہی مرنے کی تاریخ کہی تھی “دست و بازو بشکست”۔

١۔ یہ استاد ذوق اور شہ زادوں کی طرف اشارہ تھا۔

٢۔ اِن کا مفصل حال آگے آئے گا، یہ بھی عجیب رقم تھے۔

١۔ یہ واقعہ ہے۔ اِس کے دیکھنے والے ایک صاحب کا ابھی کوئی بیس برس ہوئے انتقال ہوا ہے۔ میں نے یہ واقعہ خود اُن کی زبانی سنا ہے۔

١۔ پرانے زمانے میں شرفا گھر پر بھی پورا لباس پہنے رہتے تھے۔ زنانے میں جانے کے خاص خاص وقت تھے، ورنہ سارا وقت مردانے ہی میں گزرتا تھا۔ ہر وقت کوئی نہ کوئی ملنے جلنے والا پاس بیٹھا رہتا۔ عالم ہوئے تو درس کا حلقہ ہوتا۔ شاعر ہوئے تو شعر کا چرچا رہتا۔ غرض کوئی وقت بیکار نہ گزرتا، خاص خاص دوستوں سے مذاق کی گفتگو ہوتی، ورنہ عام طور پر اپنے کو بہت لیے دیے رہتے۔ جہاں جاؤ یہی معلوم ہوتا کہ دربار لگا ہوا ہے۔ ہر شخص دو زانو مودّب بیٹھا ہے۔ بے ضرورت نہ بات کی جاتی ہے نہ جواب دیا جاتا ہے۔ کوئی ہنسی کی بات ہوئی تو ذرا مسکرادیے، کھلکھلا کر ہنسنا معیوب اور بڑھ بڑھ کر بولنا یا اونچی آواز میں بات کرنا خلافِ ادب سمجھا جاتا تھا۔

١۔ سبز رنگ دہلی کا شاہی رنگ تھا۔

١۔ بزرگوں کی زبانی دیوانِ عام کے مشاعروں کا جو حال میں نے سنا ہے، بجنسہ اسی پر اس مشاعرے کا نقشہ قائم کیا ہے۔

١۔ روز روز کی خانہ جنگیوں نے ہر شہزادے کے دل میں یہ خیال پیدا کر دیا تھا کہ کل میں ہی بادشاہ ہو جاؤں، اس لیے قلعے کے سب لوگ خواہ شہزادے ہوں یا سلاطین زادے، ہمیشہ تخت کی، تاج کی اور اسی طرح کی قسمیں کھایا کرتے تھے۔

 

١۔ اس واقعے کا ذکر ڈاکٹر نذیر احمد مرحوم نے ابن الوقت میں کیا ہے، مگر نام نہیں لکھا ہے۔ یہ واقعہ انہی کی زبانی معلوم ہوا تھا۔ سن کر تعجب ہوا تھا۔ اب ایسے بہت سے لوگوں کو خود اپنی آنکھ سے دیکھ لیا۔

١۔ اس مضمون میں جا بہ جا دہلی والوں کے لباس کا ذکر آیا ہے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ذرا وضاحت سے اس لباس کو بتا دوں تاکہ پڑھنے والوں کی آنکھوں کے سامنے اُس محفل کا نقشہ اور اچھی طرح پھر جائے۔ مرزا نوشہ کا ذکر تو جانے ہی دو، وہ تو ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بناتے ہیں۔ ان کی ٹوپی دنیا بھر سے جدا تھی، نہ ترکی نہ تاتاری۔ کھال کو (خواہ سمور ہو یا برّہ) اس طرح سی لیا جاتا تھا کہ نیچے کا گھیر اوپر کے چندوے سے ذرا بڑا رہے۔ اس کے بعد چار کنگرے قائم کر کے کھال کو ٹوپی کی آدھی لمبان تک اس طرح کاٹ لیا کہ ٹوپی گڑگج کی شکل بن گئی۔ بیچ میں چندوے کی جگہ مخمل یا گہرے رنگ کی بانات کنگروں کے کناروں سے ملا کر سی لی، اندر استر دے دیا، چلو مرزا نوشہ کی ٹوپی ہوگئی۔ شہرہ میں کلاہِ تتری کا بہت استعمال ہے، جس کو عام اصطلاح میں چوگوشیہ ٹوپی کہتے ہیں۔ یہ بھی کئی وضع کی ہوتی ہیں اور کئی طرح پہنی جاتی ہیں۔ جو ٹوپی شرفا استعمال کرتے ہیں، اس کا دمہ (گوٹ) ذرا نیچا ہوتا ہے۔ دمے کے اوپر چار پاکھے، پاکھے کی وضع بالکل شاہ جہانی محراب کی سی ہوتی ہے۔ چاروں کو اس طرح ملا کر سیتے ہیں کہ چاروں کونے کمرک (کمرخ) کے نمونے کے ہوجائیں۔ بعض لوگوں نے اس میں ذرا جدت بھی کی ہے وہ یہ کہ دمے کو اونچا کر کے پاکھوں کی لمبان کو چوڑان سے کسی قدر بڑھا دیا ہے اور ان کے سل جانے کے بعد جو پہل پیدا ہوئے ہیں ان کو پھر کاٹ کر کلیاں ڈال دی ہیں۔ اس طرح بجائے چار پہل کے آٹھ پہل ہوگئے ہیں۔ خوب صورتی کے لیے دمے کے کناروں پر پتلی لیس اور گوشوں کے کناروں پر باریک قیطون لگاتے ہیں۔ بادشاہ سلامت کی ٹوپی ہوتی تو اسی نمونے کی ہے، مگر سلمی ستارے کے کام سے لپی ہوئی اور جا بجا موتی اور نگینے ٹکے ہوئے۔ اس قسم کی ٹوپی کئی طرح پہنی جاتی تھی۔ قلعے والے تو پاکھوں کو کھڑا رکھتے ہیں۔ باقی لوگ ان کو کسی قدر دبا لیتے ہیں۔ جو ٹوپی آٹھ پہل کی ہوتی ہے، اس کے پاکھوں کو تو اتنا دبا دیتے ہیں کہ گوشے، دمے کے باہر پھیل کر کنول کی شکل بن جاتے ہیں۔ اس قسم کی ٹوپی ہمیشہ آڑی پہنی جاتی ہے اور وہ بھی اس طرح کہ اُس کا ایک کونا بائیں بھوں کو دبائے۔ اِس ٹوپی کے علاوہ ارخ چین (عرق چین) کی ٹوپی کا بھی رواج ہے۔ اس کا بنانا کچھ مشکل کام نہیں۔ ایک مستطیل کپڑے کے کناروں کو سر کی ناپ کے برابر سی لیا۔ نیچے پتلی سی گوٹ دے دی اور اوپر کے حصے میں چنّٹ دے کر چھوٹا سا گول گتا لگا دیا۔ دہلی کی دو پلڑی ٹوپی اور لکھنؤ کی ٹوپی میں صرف یہ فرق ہے کہ یہاں یہ ٹوپی اتنی بڑی بناتے ہیں کہ سر پر منڈھ جائے۔ بر خلاف اس کے لکھنؤ کی ٹوپی صرف بالوں پر دھری رہتی ہے۔ ان ٹوپیوں کے علاوہ بعض بعض لوگ پچ گوشیہ ٹوپی بھی پہنتے ہیں۔ اس ٹوپی کے پانچ گوشے ہوتے ہیں، لیکن اس کی کاٹ چوگوشیہ ٹوپی سے ذرا مختلف ہے۔ گوشوں کے اوپر کے حصے بس ایسے ہوتے ہیں جیسے فصیل کے کنگرے۔ نیچے دمے کی بجائے پتلی سی گوٹ ہوتی ہے۔ یہ ٹوپی قالب چڑھا کر پہنی جاتی ہے۔ قالب چڑھ کر ایسی  معلوم ہوتی ہے جیسے ہمایوں کے مقبرے کا گنبد۔ عام لوگوں میں بڑے گول چندوے کی ٹوپی کا بھی بہت استعمال تھا۔ بعض تو بالکل سادی ہوتی ہیں (بقیہ صفحۂ گزشتہ سے آگے) اور بعض سوزنی کے کام یا فیتے کے کام کی ہوتی ہیں۔ اس ٹوپی کو بھی قالب چڑھا کر پہنتے ہیں۔ لباس میں انگرکھا بہت پسند کیا جاتا ہے۔ انگرکھے کی چولی اتنی نیچی ہوتی ہے کہ ناف تک آتی ہے۔ چوں کہ ہر شخص کو کسرت کا شوق ہے، اس لیے جسم کی خوب صورتی دکھانے کے لیے آستینیں بہت چست رکھتے ہیں اور بعض شوقین آستینوں کو آگے سے کاٹ کر الٹ لیتے ہیں۔ انگرکھے کے نیچے کرتا بہت کم لوگ پہنتے ہیں۔ قلعے والوں کے انگرکھے کے اوپر جامے دار یا مخمل کی خفتان ہوتی ہے۔ بہت تکلف کیا تو اس کے حاشیوں پر سمور لگا لیا، نہیں تو عموماً پتلی لیس لگاتے ہیں۔ بٹنوں کی بجائے صرف ایک تکمہ اور گھنڈی ہوتی ہے جس کو “عاشق معشوق” یا “چشمے” کہتے ہیں۔ اس کی آستینیں ہمیشہ آدھی ہوتی ہیں۔ قلعے میں تو اس کو خفتان کہا جاتا ہے مگر شہر والے اس سینہ کھلے نیمہ آستین کو “شیروانی” کہتے ہیں۔ انگرکھے کے اوپر چوکور شالی رومال سموسا کرکے پیٹھ پر ڈال لیتے ہیں۔ اس رومال کو عام اصطلاح میں “ارخ چین” کہتے ہیں۔ کمر میں بھی بتی کر کے رومال لپیٹنے کا رواج ہے مگر بہت کم۔ پیجامہ ہمیشہ قیمتی کپڑے کا ہوتا ہے، اکثر گل بدن، غلطے، مشروع،  موٹرے، اطلس یا گورنٹ کا ہوتا ہے۔ پرانی وضع کے جو لوگ ہیں، وہ اب بھی ایک بر ہی کا پیجامہ پہنتے ہیں مگر تنگ مہریوں کے پیجامے بھی چل نکلے ہیں۔ سلیم شاہی جوتی کا استعمال شروع ہوگیا ہے پھر بھی دہلی کے شرفا گھیتلی جوتی زیادہ پسند کرتے ہیں۔ شاید ہی شہر بھر میں کوئی ہوگا جس کے ہاتھ میں بانس کی لکڑی اور گز بھر کا لٹھے کا چوکور رومال نہ ہو۔ ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر لمبی پور کا ٹھوس بھاری بانس لیتے، تیل پلاتے، مہندی مل کر باورچی خانے میں لٹکاتے،  یہاں تک کہ اس کی رنگت بدلتے بدلتے سیاہ ہو جاتی اور وزن تو ایسا ہو جاتا گویا سیسہ پلا دیا ہے۔ جو نکلتا ہے، اینٹھتا ہوا نکلتا ہے۔ جس کو دیکھو چوڑا سینہ، پتلی کمر، بنے ہوئے ڈنڈ۔ شرفا میں ڈھونڈنے سے شاید ایک بھی نہ نکلے گا جس کو کسرت کا شوق نہ ہو اور وہ بانک، بنوٹ اور لکڑی نہ جانتا ہو۔ بچپن ہی سے ان فنون کی تعلیم دی جاتی ہے۔ مقابلے ہوتے ہیں، واہ واہ سے بچوں اور نوجوانوں کا دل بڑھاتے ہیں اور فنونِ سپہ گری کو شرافت کا تمغا سمجھتے ہیں۔

١۔ مرزا فخرو کے ساتھ نواب مرزا خاں داغ کے آنے کی وجہ یہ تھی کہ نواب شمس الدین خاں کے پھانسی پانے کے بعد ان کی بیوی یعنی داغ کی والدہ کا نکاح مرزا فخرو سے ہوگیا تھا اور اسی نسبت سے داغ قلعے میں رہتے تھے۔ (نواب فتح الملک کا عرف “مرزا فخرو” تھا۔)

٢۔ نواب فتح الملک بہادر بڑے کٹر مسلمان تھے۔ کوئی کام بغیر فاتحۂ خیر کے شروع نہ کرتے تھے، اسی لیے سب قلعے والے ان کو “ملا” یا “ملیٹا” کہا کرتے تھے۔

١۔ اس غرور ہی نے آخر ان کو نیچا دکھایا۔ ان کا روز روز اکھاڑے میں آ کر خم ٹھوکنا لوگوں کو ناگوار گزرا۔ شیخو والوں کے استاد حاجی علی جان نے ایک پٹھا تیار کیا۔ بدن میں تو کچھ ایسا زیادہ نہ تھا مگر داؤں پیچ میں طاق تھا اور پھرتی اس بلا کی تھی کہ کیا کہوں۔ ایک دن جو میاں یل نے حسبِ معمول شیخو والوں کے یہاں آ کر خم ٹھونکے تو لونڈا کپڑے اتار، پیترا بدل سامنے آگیا اور خم ٹھونک کر ہاتھ ملانا چاہا۔ میاں یل کو ہنسی آگئی کہ بھلا یہ پودنا میرا کیا مقابلہ کرے گا۔ ہاتھ ملانے میں تامل کیا۔ استاد علی جان نے کہا: کیوں بھئی ہاتھ کیوں نہیں ملاتے، یا تو ہاتھ ملاؤ یا پھر کبھی اس اکھاڑے میں آ کر خم نہ ٹھونکنا۔ کہنے لگے: استاد! جوڑ تو دیکھ لو، خواہ مخواہ اس لونڈے کو پسوانے سے حاصل؟ استاد نے کہا: میاں جو جیسی کرے گا ویسی بھرے گا۔ دنگل میں تم اسے کچل ڈالنا۔ یہی ہوگا نا کہ ہڈی پسلی تڑوا کر آئندہ کو کان ہو جائیں گے۔ بہرحال دونوں کے ہاتھ مل گئے، تاریخ مقرر ہوگئی۔ اس مشاعرے کے دو چار دن بعد شاہی دنگل میں کشتی قرار پائی۔ عید گاہ کے پاس ہی یہ دنگل ہے۔ دس پندرہ ہزار آدمیوں کے بیٹھنے کی جگہ ہے، مگر اُس روز وہاں تل رکھنے کو جگہ نہ تھی۔ جدھر نظر جاتی سر ہی سر دکھائی دیتے۔ میاں یل کی بے ہودگیوں کی وجہ سے ساری دہلی اس لونڈے کی طرف تھی۔ پہلے چھوٹی موٹی کشتیاں ہوتی رہیں۔ ٹھیک چار بجے یہ دونوں جانگیے پہن، چادریں پھینک دنگل میں اترے۔ اترتے ہی دونوں نے “یا علی” کا نعرہ مارا۔ دو چار ڈھیکلیاں کھائیں۔ کچھ پڑھ کر مٹی سینے پر ڈالی اور خم ٹھونک کر آمنے سامنے ہوگئے۔ دونوں کے جسموں میں زمین آسمان کا فرق تھا، ہاتھی اور     (بقیہ گزشتہ صفحے کا) چیونٹی کا مقابلہ تھا۔ تمام دنگل میں سناٹا تھا۔ سوئی بھی گرے تو آواز سن لو۔ وہاں آواز تھی تو “یا علی” کی یا خم ٹھونکنے کی۔ میاں یل نے لونڈے کا ہاتھ پکڑ کر جھٹکا دیا، وہ آگے کو جھکا۔ یہ کمر پر آگئے، وہ جھٹ غوطہ مار ہاتھوں کو چیر کر نکل گیا۔ انھوں نے اس کا سیدھا ہاتھ پکڑ کر دھوبی پاٹ پر کسنا چاہا۔ وہ توڑ کر کے الگ جا کھڑا ہوا۔ یہ گاؤ زوری کر کے اس کو دبا تو لیتے، لیکن وہ اپنی پھرتی کی وجہ سے ذرا سی دیر میں صاف نکل جاتا۔ آخر ایک دفعہ یہ اس کو دبا ہی بیٹھے۔ وہ چپکا پڑا رہا۔ انھوں نے ہفتے کس لیے۔ تھوڑی دیر تک اس کو خوب رگڑا۔ وہ سہے چلا گیا انھوں نے پہلو میں اُکس کر اس کا سینہ کھولنا چاہا۔ وہ بھی موقع تاک رہا تھا۔ یہ کھینچنے میں ذرا غافل ہوئے، اس نے ٹانگ پر باندھ کر جو اڑایا تو میاں یل چاروں شانے چت جا پڑے۔ لونڈا اچک کر سینے پر سوار ہوگیا۔ “وہ مارا، وہ مارا” کی آوازوں سے دنگل ہل گیا۔ لوگوں نے دوڑ کر لونڈے کو گود میں اٹھا لیا۔ کسی نے پھر کر یہ بھی نہ دیکھا کہ میاں یل کہاں پڑے ہیں۔ یہ بھی چپکے سے اٹھ، چادر اوڑھ، منہ لپیٹ، ایسے غائب ہوئے کہ پھر کسی نے ان کی صورت نہ دیکھی۔ دنگل سے کیا گئے۔ ہمیشہ کے لیے دہلی سے گئے۔ تھے بڑے غیرت مند، وہ دن اور آج کا دن، پھر ان کی صورت نظر نہ آئی، خدا جانے کہاں مر کھپ گئے۔

١۔ آیندہ یہ ظاہر کرنے کی ضرورت نہیں کہ سیدھی طرف سے شمع بڑھی یا الٹی جانب سے۔ بس یہ سمجھ لیجیے کہ دائیں طرف کا ایک شاعر پڑھتا تھا اور پھر بائیں طرف کا۔

١۔ غدر کے بعد میرؔ صاحب کا انتقال ہوا ہے۔ میاں کالے صاحب کے فرزند میاں نظام الدین صاحب کے مکان پر جو مشاعرہ ہوتا تھا، اس میں بھی یہ شریک ہوتے تھے۔ اُس مشاعرے کے دیکھنے والے اب بھی دہلی میں بہت موجود ہیں۔ انہی لوگوں کی زبانی میر صاحب کے حالات معلوم ہوئے اور درج کیے گئے۔ تذکروں میں تو ان بچاروں کا کیوں ذکر آنے لگا۔

١۔ علمِ معانی اور بلاغت پر علامہ تفتازانی کی ایک مشہور کتاب کا نام مطول ہے۔

٢۔ اربعین فی اصول الدین حضرت امام غزالیؒ کی ایک مشہور تصنیف ہے، جس کو میر صاحب نے رباعیوں کی بحروں سے متعلق کر دیا۔

١۔ قلعے والوں کو خواہ شہزادے ہوں یا سلاطین زادے “صاحب عالم” کہا جاتا ہے۔

ختم شد

یہ کتاب اردو گاہ اور مجلسِ برقی اشاعتِ ادبیاتِ عالیہ کے تعاون سے پیش کی گئی ہے۔
یہ کتاب اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

نئی کتابیں

تنبیہ