سیرِ ایران

مجلسِ برقی اشاعتِ ادبیاتِ عالیہ

بسلسلۂ اردو ادبِ عالیہ

سیرِ ایران - محمد حسین آزادؔ

فہرست

آغازِ کتاب

دیباچہ

اپنے بزرگوں کے وطن کی سیر کا کانٹا جس ذوق و شوق سے مولانا کے پہلو میں کھٹکتا تھا اکثر تحریروں میں لہو ہو ہو کر ٹپکا ہے مگر وقت کی مجبوری اور واقعات کی مصلحت ہندوستان کا دامن نہ چھوڑنے  دیتی تھی۔ اگرچہ علمی و ادبی تحقیقات کے غنچے چٹکیاں لیے جاتے تھے۔ آخر وہ مبارک گھڑی آہی گئی اور مولانا نے بصد اشتیاق و آرزو ایران کے سفر کے لیے کمر کسی۔ انواع و اقسام کی ہزاروں آرزوؤں اور ولولوں کے سِوا کچھ زاد راہ مولانا کے ساتھ نہ تھا۔ اس قدر لمبا سفر اور پھر اُس زمانہ کا سفر کوئی آسان کام نہ تھا۔ مگر اس دشوار پسند طبیعت نے ہمت اور محبت کے بل پر آسان کر دکھایا، گھر اور گھر والوں کو خدا کے سپرد کیا اور خود کراچی سے پار اتر گئے۔

علمِ تاریخ کے متوالے جانتے ہیں کہ جس طرح آج ہر ایک علم و فن ایجاد و اختراع کا منبع  ولایتِ انگلینڈ ہے، اِسی طرح ایک زمانہ میں ایران سمجھا جاتا تھا۔ خاص کر ہمارے مشرقی علوم تو اِسی رستے بہہ کر ہم تک پہونچے تھے۔ ایسی حالت میں ہر علم دوست طبیعت کی یہی آرزو ہوتی تھی کہ ایک دفعہ ضرور ان آنکھوں کو ولایتِ ایران کی زیارت سے روشن کرے۔ دوسرے ہزاروں علمی نکتے تھے کہ وقت بے وقت ملکِ ایران سے ہوتے ہوئے ہندوستان میں پہونچتے تھے۔ کچھ بگڑے ہوئے آتے تھے، کچھ یہاں بگڑ جاتے تھے۔ بال کی کھال اتارنے والی طبیعتیں ان کی تحقیق کرنا چاہتی تھیں اور غرض کہ ہزاروں قسم کی آرزوئیں اور خواہشیں تھیں کہ ہندوستان کے مستانوں کو شیراز اور اصفہان میں گلی بہ گلی و کوچہ  بکوچہ پھراتی تھیں اور تیوری پر  بل نہ آنے دیتی تھیں۔ ایسے اور ان جیسے لاکھوں خیالوں نے مولانا کو ایران کا سفر تہ کرایا تھا اور اس تھوڑے سے عرصے میں وہ ادبی کلیاں چن چن کر ساتھ لائے کہ مارے خوشی کے پھولوں نہ سماتے تھے۔ مگر افسوس جیسا کہ وہ چاہتے تھے، ان کلیوں اور پھولوں سے ایک گلدستہ بھی نہ سجاسکے۔ قسمت نے کوئی بھی آرزو پوری نہ ہونے دی۔

سیاحتِ ایران کے بعد مولانا نے ہندوستان واپس آکر سخندانِ فارس کو ترتیب دیا۔ قندِ پارسی سے اپنے وطن کے بچوں کا منہ میٹھا کیا۔  اگر چہ ان دونوں کتابوں میں جگہ جگہ اور صفحہ صفحہ پر ایران کی شیریں بیانی نے اپنا رس ٹپکایا ہے۔ مگر مولانا کی سب سے بڑی آرزو ایک فارسی لغت کے تیار کرنے کی تھی جو شاید انہوں نے پوری بھی کی ہو۔ بہت ممکن ہے کہ بستوں اور مسودوں کے اُلٹ پُلٹ کرنے سے تیار بھی ہو جائے۔ اگرچہ فارسی زبان اور فارسی علم ادب ہندوستان میں مردہ ہو چکا ہے۔ ظاہراً کوئی امید بھی باقی نہیں کہ پھر زندہ ہو۔ مگر پھر بھی اگر وہ لغت(١) مل گئی اور خوش قسمتی سے چھپ گئی تو مولانا کی معنوی یادگاروں میں سے ایک عجیب و غریب یادگار ہو گی۔

دوسری آرزو سفرنامہ ایران تھا جس کو وہ ترتیب ہی نہ دے سکے۔ حالات اور واقعات پرچوں اور پرزوں پر ہوں گے۔ زمانہ نے اتنی فرصت ہی نہ دی کہ آرام سے بیٹھیں۔ اطمینان کے دامن پر ان لپٹے ہوئے گٹھوں کو کھولیں۔ چھوٹے چھوٹے نوٹوں سے بڑے بڑے واقعات کی یاد کو تازہ کریں اور اس رشکِ ارم ملک کی تصویر مولانا اپنے ہاتھ سے کھینچیں۔

سفر کے تھوڑے ہی عرصے بعد تخیل کے دریا میں طلاطُم آیا۔ واقعات تبدیل ہونے شروع ہوئے۔ ادھر سے طبیعت ہی اچاٹ ہوگئی۔ مہینوں اور برسوں کی عرق ریزیاں کاغذ کے دفتروں میں سمٹ کر بستوں میں سوگئیں اور مولانا کے کان میں کسی نے چپکے سے کہدیا کہ:

ہوش و خرد کو دیکھ لیا درد سر میں ذوق
آرام کو بھی دیکھ کہ دیوانہ پن میں ہے

پھر کیا تھا۔ عالم ہی اور ہوگیا۔ دنیا کا رنگ ہی بدل دیا۔ وہ بات ہی بگڑ گئی۔ سفر اور سفر نامہ دونوں کو بھول گئے۔ پھر کسی کی مجال تھی کہ ان کھلے دفتروں کو سمیٹتا۔ ان الجھی زلفوں کو سلجھاتا۔ خدا جانے وہ کیا حسرت خیز دیوانہ پن تھا جس نے پھر ادھر کا رخ ہی نہ کیا۔

آخر زمانہ نے ان ورقوں کو بھی الٹ دیا۔ دن مہینے اور سال گزر گئے۔ مولانا دنیا سے اٹھ گئے۔ وہ شمع جو بیس بائیس سال سے ہوائے وحشت کا دم بھرتی تھی بجھ گئی۔ اس شمع کے پروانے بھی یکے بعد دیگرے رخصت ہوگئے۔ اب بھی چند وجود باقی ہیں جو پرانے واقعات کے نقشے کھینچتے ہیں۔ ان بگڑی ہوئی بزموں کی یاد سے دل کے پھپھولے پھوڑتے ہیں۔ نئی پود کو سناتے ہیں کہ ہم نے مولانا کو یہاں دیکھا تھا۔ وہاں نہر کے کنارے بیٹھے شعر پڑھ رہے تھے۔ کوئی کہتا ہے میں نے اسی باغ میں مولانا کے قدم لیے تھے۔ انہوں نے ہاتھ اٹھا کر دعائیں دی تھیں۔ کسی کو یہ صدمہ ہے کہ مولانا نے مجھے پہچانا تو تھا مگر بات نہ کی تھی۔ کسی کو قلق ہے کہ مجھے پہچانا ہی نہ تھا۔ مگر یہ باتیں بھی چند روزہ ہیں، کچھ عرصہ بعد یہ ہستیاں بھی نہ رہیں گی۔ یہ تصویریں بھی مٹ جائیں گی۔ پھر کون جانے گا کہ سوائے چند مطبوعہ کتابوں کے آزادؔ نے اپنے ملک کی زبان کے لیے کیا کیا جانفشانیاں کی تھیں۔ آزاد کون تھے۔ کہاں رہتے تھے۔ کس کس جگہ گئے تھے اور زبان اردو پر کس کس طرح جان چھڑکتے رہے تھے۔

ترقی یافتہ قوموں کے بڑے بڑے ادیبوں اور فلاسفروں کے سفرنامے اور سوانح عمریاں ہی ایسی بیش بہا چیزیں سمجھی جاتی ہیں کہ جن کی روشنی گذشتہ اور آئندہ منزلوں پر پر چومک کا کام دیتی ہے اور جو آنے والی نسلوں کے سدھارنے کے لیے بہت کچھ مدد دیتی ہے مگر کس قلم سے لکھوں ۔ دل خون ہوا جاتا ہے کہ ہندوستان کا سب سے بڑا انشا پرداز، اقلیمِ سخن کا تاجدار، قلزم تاریخ کا شناور، نئی نثر و نظم کا موجد ان دونوں چیزوں سے محروم گیا۔

ہمارے بعد کے اردو بولنے والے کیا جانیں گے کہ آزاد نے کس طرح کا سفر کیاتھا اور اس میں ہمارے لیے کیا کچھ کیا تھا۔ میں نے ہر چند تلاش کیا مگر ان کے سفر کا کوئی روزنامچہ یا سفر نامہ ان کے اپنے ہاتھ کا لکھا ہوا نہ ملا ۔ فقط ایک پھٹا پرانا رفیق ہند اخبار کا پرچہ ہاتھ آیا ہے جس میں ایک لیکچر سفر ایران کے متعلق ہے۔ اس کے علاوہ چند چھوٹے چھوٹے کاغذوں کا ایک گٹھا سا ملا جس میں نوٹ لکھے ہیں جن کا پڑھنا دشوار اور ترتیب دینا ناممکن تھا پھر بھی جس قدر ممکن ہوسکا موزوں کرکے روزنامچہ کے نام سے چھپوا دیا ہے۔

اس طول و طویل سفر سے مولانا جولائی ١٨٨٦ء؁ میں واپس تشریف لائے تھے۔ اس وقت کی تعلیم یافتہ جماعت میں میں جو خوشی مولانا کے واپس  بخیروعافیت تشریف لانے سے ہوئی ہوگی اس کا اندازہ وہی خوب لگا سکتے ہیں  جن کے سینوں میں دل ہو اور دل میں کسی کے لیے محبت ہو اور پھر وہ کسی کے منتظر ہوں۔ خیر غرض کہ لاہور والوں نے بصد اشتیاق ٢٤  جولائی کو انجمن ہال میں جلسہ منعقد کیا جس کا اعلان کچھ دن پیشتر ہی کر دیا گیا تھا۔ اس جلسے اور لیکچر کا چرچا کئی دن سے لاہور میں ہو رہا تھا۔ اکثر احباب امرتسر واطراف لاہور سے  لیکچر سننے کے لیے تشریف لائے تھے۔ تعلیم یافتہ اصحاب اور تمام طالب علم نور مل اسکول وغیرہ  کے جو امتحانوں سے فارغ ہو چکے  تھے اسی کے انتظار میں ٹھہرےرہے۔ جلسہ کے موقع پر حاضرین وشائقین کی تعداد حد ہجوم سے بھی بڑھ گئی تھی۔ باوجود اس کے جس وقت مولانا نے لیکچر دینا شروع کیا عجیب چپ چاپ اور سناٹے کا عالم تھا۔ ہر شخص ہمہ تن گوش بنا بیٹھا تھا۔ مختلف اخبارات کے ایڈیٹر اور نامہ نگار ان برستے پھولوں کو کاغذ کے دامن پر سمیٹ رہے تھے۔ وہ بڑے خوش قسمت وجود تھے جنہوں نے تاجدار اردو کو خود چہکتےاور مہکتے دیکھا ہوگا اور ولایت ایران کی تصویریں اس مصور فطرت کی زبان سے کھینچتی ہوئی دیکھی ہو گی اور لاہور میں بیٹھ  کر ایران کی سیر کے لطف اٹھائے ہوں گے۔

یہ لیکچر اگرچہ نہایت ہی مختصر دریا میں سے قطرہ کی مثال ہے مگر اس رشکِ ملٹن و شکسپیئر کی زبان سے نکلے ہوئے جواہر ریزے، دل میں اتر جانے والے چھوٹے چھوٹے جملے ایسے نہیں کہ ان کو بھلا دیا جائے۔ دل نہیں چاہتا کہ ہم اور ہم سے آئندہ آنے والی نسلیں اس مہک سے محروم رہیں۔ اگرچہ یہ پورا سفرنامہ تو نہیں ہے لیکن کیا ہوا۔ اسی چمن کا ایک پھول ہے۔ انہیں پھولوں کی ایک تھوڑی سی خوشبو ہے۔ غور سے دیکھو تو اس میں بھی وہی گوہرِ غلطاں کی چمک ہے۔ اب اسی کو غنیمت جان کر چھپوائے دیتا ہوں تاکہ کچھ تو مولانا کے سفر کی یاد باقی رہ جائے۔ خواہ تھوڑی ہی کیوں نہ ہو۔

 

دعا کا محتاج

طاہرؔ نبیرہ آزاد

 

لکچر

شرفائے قوم !

بندہ آزاد خیر مقدم کہتا ہے آپ صاحبوں کو جو اس جلسہ میں تشریف لائے اور سلامت باشید کہتا ہے ان اخباروں کو جنہوں نے مراجعتِ سفر پر مبارکباد دی۔ آپ نے میری مختصر سیاحت کو حب الوطن کا جوش سمجھ کر اتنا بڑھایا اور چڑھایا اور میں کوتاہئ خدمت  پر شرمسار دیکھ رہا ہوں۔

بات فقط  اتنی ہے کہ بڑھاپے نے عصائے پیری کے اشارہ سے جوان ہمتوں کو میدان دکھایا ہے یعنی مَیں دوڑ نہیں سکتا۔ تم دوڑو کہ کامیابی کی منزلیں قدم قدم پر موجود ہیں۔

سرمایہ خدمت فقط اتنا ہے کہ لاہور سے آتش فشاں اژدہے پر سوار ہوکر فرش خاک کو لپیٹا۔ دو دن اور رات میں کراچی جا اترا۔ وہاں سے نہنگ دخانی پر بیٹھ کر سطح آب کو طے کیا اور دسویں دن بوشہر میں جا پہنچا۔ جہاز میں دوران سر اور برہمی طبع کی طرف سے بڑا اندیشہ تھا کہ صفراوی مزاج ہوں۔ مگر شکر خدا کہ معلوم بھی نہ ہوا۔ بڑا سبب اس کا یہ ہے کہ شوق سفر اور سواری جہاز کے ذوق سے دل ایسا لبریز تھا کہ جب جہاز چند میل نکل گیا تب یاد آیا کہ خلل ہائے مذکورہ کا اثر مجھ پر ہے یا نہیں۔ اس وقت خیال کیا تو کچھ بھی نہ تھا۔

بوشہر برائے نام ملک غیر ہے۔ کارداران ایرانی ہمارے ساتھ اپنوں سے بہت زیادہ رعایت کے ساتھ پیش آتے ہیں۔ مجھے یہاں سب سے پہلے نئی بات یہ معلوم ہوئی کہ چھوٹے چھوٹے بچے کھیلتے تھے۔ فارسی بولتے تھے جیسے ہزار داستان اور اس خوش ادائی سے بات کو ادا کرتے تھے کہ میں منہ دیکھتا رہ جاتا تھا۔ بوشہر ایک گرم مقام ہے۔ کھجوروں کی بہتات تھی۔ اناروں کا موسم تھا مگر اُس کثرت کے ساتھ نہ تھے۔ اور ویسے لطافت اور آبداری بھی کم تھی۔ آٹھ دن کے انتظار کے بعد ایک ایرانی راہوار پر بیٹھ کر کاروان میں روانہ ہوا۔ ۹ دن تک  کچھ پہاڑ کچھ میدان لپیٹ سپیٹ شیراز میں جا اترا۔

شیراز کو دیکھنے کا ارمان تھا۔ ایک  عمر کے بعد خدا نے پورا کیا۔ اللہ! اللہ! خواجہ حافظ اور شیخ سعدی کا پیارا وطن جس پر وہ لوگ تعریفوں اور دعاؤں کے پھول چڑھائیں۔ اس کو دیکھنے کا ارمان کیوں نہ ہو، میں نے دیکھا اور تعجب کے ساتھ دیکھا، کیونکہ جس شیراز پر نورانی بزرگوں نے نور برسائے تھے  اُس کی رونق و  آبادی ان کے ساتھ ہی رحلت کر گئی۔ اب بڑی بڑی وسیع اور بلند پرانی مسجدیں  اور کہنہ مدرسے گرے پڑے کھڑے ہیں اور بنانے والوں کی ہمتوں پر دلائل پیش کر رہے ہیں۔ اُن میں نوجوان لڑکے  صرف ،نحو، بلاغت، فقہ، اصول کی کتابیں سامنے رکھے بے مدد کتاب کے مسائلِ کتابی پر بحث کرتے ہیں۔ علما کتب علمیہ کی تدریس سے پرانی ہڈیوں پر آب حیات چھڑکتے ہیں۔ یہ بات جاننے کے قابل  ہے کہ وہاں ہندوستان کی طرح طلباء فقرہ بہ فقرہ نہیں پڑھتے۔ استاد کتاب سامنے رکھے بیٹھا ہے، طلبا اپنی کتاب کھولے خاموش بیٹھے  ہیں۔ استاد کتاب کو دیکھتا ہے اور اُس کے مطالب کو نہایت توضیح اور تفصیل کے ساتھ بیان کرتاجاتا ہے۔  طلبا سنتےجاتے ہیں۔ ‍‍ جتنی جس کے دامن میں وسعت ہو پھل پھول بھرلے۔

غرض شہر شیراز کا اب یہ حال ہے کہ وہ عالی شان اور سیدھا بازار اور بلند اور فراخ مسجد جو کریم خان ژند نے سو برس پہلے بنائی ہے۔ اگر وہاں سے اٹھالیں تو اصل شیراز ایک معمولی قصبہ رہ جاتا ہے۔ چند سال ہوئے مشیر الملک نے بھی رفیع الشان مسجد اور کارواں سرائے سے پرانے شہر کو نیا کیا ہے۔

نواب مرزا علی خان صدر ایک امیر خاندانی کی زندگانی شیراز کے لیے سرمایۂ آبادانی ہے اور اُن کی مہمان نوازی اُس پاک مٹی کے لیے قدیمی قبالہ ہے۔ مجھے بھی دو دن مہمان رکھا۔ باوجود دستگاہ امارت اور پیرانہ سالی کے، جب دیکھو گرد کتابیں چُنی ہیں۔ ایک دو مُلّا پاس بیٹھے ہیں۔ بیچ میں آپ مطالعہ میں مصروف ہیں۔ تصحیح کرتے ہیں۔ حواشی لکھتے ہیں۔ ایک خوشنویس کاتب ناقص کتابوں کی تکمیل کررہا ہے۔ مُصور نقَّاشی کررہا ہے۔ کھانے کا وقت ہوا، وہیں پہلو میں دسترخوان بچھا۔ اٹھے پہلے سجدہ شکرانہ بجا لائے۔ ایک روٹی کو اٹھاکر آنکوں سے لگایا۔ پھر سب کے ساتھ کھانا کھایا۔ یہ بھی گویا ایک فرض تھا کہ ادا کیا۔ پھر کتابوں کے حلقے میں جابیٹھے۔

اِن کے والد مرحوم کی تصنیفات سے بڑی بڑی ضخیم کتابیں ہیں۔ بعض ان میں سے میں نے بازار سے خریدیں۔ ان میں سے اِس رسالہ کا پیش کرنا واجب ہےجوکہ انہوں نے حرکتِ زمین کے اثبات میں لکھا تھا۔ نواب ممدوح نے خود اس کی نقل مجھے عنایت فرمائی ہے۔آج سے چالیس برس پہلے ایشیائی تعلیم میں ایسے خیالات کا پیدا کرنا خاکِ پارس کی پاکیزگی کی دلیل ہے۔

اسی سلسلے میں حکیمِ حاذق حاجی مرزا حسن کا ذکر بھی واجب ہے۔ انہوں نے ایک مفصل تاریخ شیراز کی لکھ کر پارس نامہ نام رکھا ہے اور ان کا علو خاندان مجھے کتابوں سے حد ثبوت کو پہنچامعلوم ہوا۔ ساتویں پشت میں خواجہ شاہ منصور اور چوتھی پشت میں سید علی خان بلاغت کی اولاد ہیں۔ سید علی خان کی تصنیفات شہرۂ آفاق ہیں۔ان کی تفصیل اپنے سفرنامے کے لیے امانت رکھتا ہوں۔

حکیم صاحب خبر سن کر نواب صدر کے ہاں آئے۔  باوجودیکہ  میری روانگی میں ایک شب باقی تھی۔ شام ہو گئی تھی۔ بوندیں پڑ رہی تھیں۔ باصرار اجازت لے کر اپنے گھر لے گئے۔ رات بھر اپنی کتاب سناتے رہے۔ مطالب پر مشورہ کرتے رہے۔ میری کتاب یاداشت نے بھی اُس کے اکثر مطالب سے سرمایہ حاصل کیا۔

یہ اہل ایران میں عام دستور ہے کہ اشراف سفید پوش کے مکان کے ساتھ ایک مردانہ مکان ہوتا ہے۔ وہ حرم سرائے سے زیادہ آراستہ ہوتا ہے اور ضروریات کے سامان موجود ہوتے ہیں۔ اکثر ہوتا ہے کہ موافق طبع دوست صبح  ملاقات کو آیا۔ ظہر کی نماز پڑھ کر رخصت ہوا۔ یا رات کو رہا، صبح ناشتا کر کے رخصت ہوا۔

شیراز کے لوگ اب تک لباس و اوضاع میں اپنے بزرگوں کی تصویر ہیں۔ علما اور ثقہ لوگ عمامہ باندھتے ہیں۔ عبا پہنتے ہیں۔ خاندانی ترک کلاہ پوست برہ کی پہنتے ہیں۔ طہران کے اوضاع جدید ابھی تک وہاں لذیذ نہیں ہوئے ۔

شیراز میں چھوٹی چھوٹی ٹکیاں بکتی دیکھیں کہ ان سے لوگ سر اور داڑھیاں دھوتے تھے ۔ وہ ایک قسم کی مٹی ہے جس کی کان شہر کے پاس ہے ۔ اس میں خوشبو کے اٹھانے کی قدرتی تاثیر ہے ۔ اُسے پھولوں میں بساکر صاف کرتے ہیں اور ٹکیاں بنا کر بیچتے ہیں ۔ شہروں میں تحفہ لے جاتے ہیں ۔ گِلِ گُل اس کا نام ہے ۔مجھے گلستان کا سبق یاد آیا ۔ ع

گلِ خوشبوئے در حمام روزے

جن دنوں ہم نے پڑھا تھا تو خدا جانے کیا سمجھے تھے ۔ پھر ایک خیال شاعرانہ سمجھتے رہے ۔ اب معلوم ہوا کہ شیراز کا اصلی تحفہ ہے ۔

جاڑے کا موسم  کوہ برف لیے سر پر چلا آتا تھا ۔ بڑھاپے نے خوف کے لحاف میں دبک کر کہا کہ شیراز تو دیکھ لیا ۔ اب اصفہان کو دیکھو اور آگے بڑھو کہ تلاش کی منزل ابھی دور ہے۔ شیراز کے دوست بہت روکتے اور رستہ کے جاڑے سے ڈراتے رہے ، مگر جب کارواں چلا۔ مجھے اشتیاق نے اٹھا کر کجاوہ میں بٹھا دیا۔ ٤-٤  ٥-٥  کوس پر شاہ عباسی سرائیں آباد موجود تھیں۔ جن کی پختگی اور وسعت قلعوں کو ٹکر مارتی تھی۔ ان سراؤں میں مسافر اگر روپیہ رکھتا ہو تو خاطر خواہ سامان آسائش کا ملتا ہے ، چار پانچ آنہ کو مرغ اور پیسے کے دو دو انڈے ، ہر قسم کے تر و خشک میوے نہایت اعلٰی اور نہایت ارزاں ملتے ہیں۔

رستہ آبِ رواں سے سبزاوار آبادیوں سے معمور تھا۔، جہاں منزل کرتا ، گاؤں میں جا کر پوچھتا اور جو اہل علم ہوتا اس سے ملاقات کرتا۔ چھوٹی سے چھوٹی آبادی میں بھی ایک دو عالم اور بعضے صاحب اجتہاد ہوتے تھے۔ ان کی حالت دیکھ کر تعجب آتا تھا۔ مثلاً کھیت سے گائے کے لیے گھاس گندھے پرلیے آتے ہیں۔  یا نہر پر کپڑے دھو رہے ہیں۔ لڑکا گھر کی دیوار چُن رہا ہے۔ جب فارغ ہوئے تو اسے شرع لمعہ یا قوانین الاصول کا سبق پڑھانے لگے۔ جب اُن سے پوچھتا کہ کسی شہر میں جا کر ترویج علم کیوں نہیں کرتے؟ کہ رواج ِکار بھی ہو۔ تو کہتے کہ وہاں خلوت کا لطف نہیں رہتا حضور قلب میں خلل آتا ہے۔ دنیا چند روز ہے۔ گزار دیں گے اور گزر جائیں گے۔ یہ علمی روشنی کل مملکتِ ایران میں عام ہے کہ شاہان سلف کی پھیلائی ہوئی ہے۔

میں اُن سے کہتا تھا کہ ہماری تمہاری تو جس طرح گزر ی گزر گئی۔ لڑکوں کو طہران بھیجو اور دار الفنون پڑھواؤ کہ زمانہ کی ہوا پھر گئی ہے۔ اکثر ہنس دیتے  اور میرے ساتھ ہم داستان ہو کر کہتے۔ انہی کو کہو کہ ان کا معاملہ ہے۔ بعضے بحثنے لگتے اور آخر  اتفاق رائے کرتے۔

میرے پاس کھانے پکانے کا سامان نہ تھا۔ وہیں بیٹھ کر کسی گھر سے روٹی مول لیتا۔ کہیں سے انڈے کہیں سے گھی۔ اشکنہ یعنی انڈوں کا قلیہ پکاتا۔ اس میں روٹی ڈبوتا، کھاتا اور شکر الہی بجالاتا۔ اس میں بہت باتوں اور تحقیقاتوں کے موقع ملتے تھے اور وہ لوگ ان کاموں میں میری مدد کرنی مہمان نوازی کا جز سمجھتے تھے جو کہ حقیقت میں فرض مذہبی ہے۔ غرض بارہ دن کے بعد اصفہان میں جا اترا۔ شہر سے پہلے تخت فولاد کا میدان سامنے آیا۔ یہاں ہزاروں بزرگانِ دین اور سترگان دنیا کے اجسام بے ارواح نے شہر خموشاں بسایا ہے۔ میر باقر داماد علیہ الرحمۃ صاحب حکمت یمانیہ نے خاک پر سوکر نام کو نام زندہ کیا ہے۔ جمعرات کا دن تھا، صد ہا زَن و مرد قبروں پر فاتحہ پڑھنے آئے تھے۔ رفتہ رفتہ دروازہ شہر نمودار ہوا اور ایک وسیع سڑک سامنے آئی، جسے سفید دیواروں کی بلند قطاروں اور سر بفلک چناروں اور دو نہروں نے ٥متوازی خیابانوں میں تقسیم کیا ہے۔ بے اختیار زبان سے نکلا کہ زہے سلاطینِ صفویہ بادشاہی ہو تو ایسی ہو۔

خیابانِ مذکور میں کئی میل چل کر وہ دریائے وسیع آیا جسے زندہ رود کہتے ہیں۔ اصفہان کا تمام علاقہ اس سے زندہ ہے۔ یہاں کتابوں میں اس کانام پڑھ کر مزے لیا کرتا تھا، اب دیکھا۔ باوجود یکہ انگریزی پُلوں کو دیکھ کر اب کوئی پُل نظر میں نہیں جچتا پھر بھی اس کا پل دیکھنے کے قابل ہے۔

شہر اصفہان کی وسعت فی الحقیقت بہت فراخ ہے۔ اِس نے فارسی مبالغہ کو درست موقع دیا کہ شعرا نے کہا:

جہاں را اگر اصفہانے نبود
جہاں آفریں را جہانے نبود

دوسرے نے کہا:

اصفہاں نیمۂ جہاں گفتند
نیمۂ وصف اصفہاں گفتند

یہ شہر سلاطینِ صفویہ کی ہمتوں کا عجائب خانہ ہے۔ عمارات عالیشان کا حال کیا کہوں ، صبح سے شام تک پھرتا تھا۔ رات کو آ کر بستر پر گر پڑتا تھا۔ ملا  باقر مجلسی علیہ الرحمۃ کی قبر پر گیا۔ مسجد جامع کے گوشہ میں ایک الگ مکان ہے ۔ اِس میں باپ بیٹے برابر سوتے ہیں۔ وہ مُلا قرآن کی تلاوت کرتے ہیں ۔ ان کی قبروں کے کتابے بڑی مشکل سے لکھے۔ یہ جگہ مہینوں رہنے کی تھی  ، مگر جاڑے کے ڈر نے پانچ دن سے زیادہ نہ ٹھہرنے دیا ، مجھے یہ بھی خیال تھا کہ چلے چلو ۔ طہران میں چل کر ڈیرے ڈالیں گے ۔

اصفہان سے آٹھ منزل چل کر کاشان میں پہنچا۔ مخمل بافوں کی صنعت اب تک اس کے نام کو چمکاتی ہے۔ فاضل رحمانی مُلا محسن کاشانی علیہ الرحمۃ کا مزار اب تک مرجع خاص و عام ہے۔ تین دن یہاں رہا ۔ چوتھے دن شہر قم میں پہنچا۔ یہاں سلطان دنیا و  دین امام ہشتمیں علی ابن موسی رضا کی ہمشیرہ کا مزار مقدس ہے۔ اور دن رات دربار شاہانہ لگا ہوا ہے۔ کئی عالم نامی و گرامی موجود ہیں۔ شیخ ابن بابویہ قمی علیہ الرحمۃ یہاں مدفون ہیں۔ دن بھر میں کئی دفعہ ان کی قبر پر جا کر بیٹھتا اور برکت حاصل کرتا تھا۔ قبر کے سرہانے کی سطح پر وہ توقیع (فرمان) چینی کے حرفوں میں منقوش ہے جو حضرت صاحب الزمانؑ کی طرف سے انہیں آیا تھا۔ میں نے اس کی نقل بڑی احتیاط سے لکھی ہے۔ یہاں تین بزرگ اور مدفون ہیں جو سفر طوس میں امام علیہ السلام کے ہم رکاب تھے اور اکثر ہم پلۂ  کچاوہ میں ہوتے تھے۔ ان کی قبروں کے کتبے بھی نقل کرکے لایا ہوں۔ محمد شاہ، شاہِ حال کے والد اور فتح علی شاہ دادا یہاں مدفون ہیں۔ ان کی قبروں پر اِن کی تصویریں عمدہ دستکاری کے ساتھ منقوش ہیں۔

اصفہان سے پندرہ منزلیں طے کرکے طہران میں داخل ہوا۔ لوگ اسے دار الخلافہ ایران کہتے ہيں۔ لیکن حقیقت میں شاہ کی برکتِ ہمت سے آج علوم و فنون، تہذیب اور دولت و اقبال کا دار الخلافہ ہے۔ تفصیل اِس کی سفرنامہ  کے حوالہ کرکے مختصر کہتا ہوں کہ پہلے اصفہان اور قزوین شاہ نشین دور الخلافے تھے۔ فتح علی شاہ نے مصالح ملکی پر نظر کرکے کوہ دماوند کے دامن میں شہر آباد کیا اور اسے دار الخلافہ قرار دیا۔ اس کی آبادی کی عمر ۱۰۰ برس سے زیادہ نہیں۔ شہر رے قدیمی شہر اس کے پہلو میں تین چار میل کے فاصلہ پر ویران پڑا ہے۔ طہران کے بازار پٹے ہوئے اور مسجدیں اور عالیشان مدرسے بھی قدیمی شہروں کی طرز پر تعمیر ہیں۔ شاہ جمجاہ نے جو سفر یورپ سے آکر ملک و مملکت میں روشنی پھیلائی ہے تو شہر کے باہر قصر عالیشان بنا کر شمس العمارۃ نام رکھا ہے۔ اس کے پہلو میں مدرسہ دار الفنون بنایا ہے جسے یونیورسٹی کہنا چاہیے۔ عمارت کی وضع بھی انگریزی طرز پر ہے۔ اس میں فرنچ ، انگریز اور روس کے مُدرّس زبانیں اور علوم و فنون سکھاتے ہیں اور ایران کے نئے تعلیم یافتہ بھی مُدرس ہو گئے ہیں۔

مکان مذکور کے پہلو میں دارالتصنیف، دارالترجمہ، دار الطباعہ (مطبع)، دار العدالت وغیرہ وغیرہ ہیں۔ اس کے برابر میدان نظام (قواعد فوج) ہے۔ وہاں سے چار طرف وسیع سڑکیں کوسوں چلی جاتی ہیں۔ دونوں طرف کی سڑکوں پر کھلے (بے سقف) بازار ہیں۔ دونوں طرف یکساں دکانیں اور چھوٹی چھوٹی کوٹھیاں سوداگروں اور ہنرمندوں کی ہیں۔ ان میں ایران اور یورپ کے لوگ آباد ہیں اور سڑک پر ایرانی امرا گھوڑے اور رنگ رنگ کی بگّیاں دوڑاتے پھرتے ہیں۔

مجھے اس سفر میں بڑی غرض کتابوں کی تلاش تھی اور اس سے زیادہ یہ کہ جامع لغاتِ فارسی کے لیے سرمایہ جمع کروں۔ اس لیے جاتے ہی مطلب کے ٹھکانے ڈھونڈھنے شروع کیے۔ خوش نصیبی نے پہلے شہزادۂ آزادہ معتمد الدولہ نواب فرہاد مرزا کی حضور میں پہنچایا۔ یہ صاحب علم، صاحب فضل، صاحب ہمت، حکومت کے تجربہ کار،  شاہزادہ روزگار، نائب السلطنت عباس مرزا کے خلف الرشید فتح علی شاہ جنت مکان کے پوتے، چچا شاہ جمجاہ کے ہیں۔ وہ اوصاف مذکورہ کے ساتھ دیندار اور نہایت پرہیزگار ہیں۔ باوجود اس کے خوش مزاج، خندہ جبیں، نورانی صورت، حاکمانہ درباروں اور عالمانہ جلسوں کو خوش طبعی کے ساتھ گلزار رکھتے ہیں۔ میں ان کے علمی درباروں میں ہمیشہ حسب الارشاد حاضر ہوتا تھا۔  رخصت کے وقت ایک تصویر بھی عنایت فرمائی اور دو دو نسخے کتابوں کےدیے  جو خود تصنیف کی تھیں یا فرمایش و تصحیح سے چھپوائی تھیں۔ فرمایا کہ کتب خانہ آزاد میں یادگار رکھنا۔ اگرچہ بڑھاپے اور دماغی محنتوں نے انہیں نہایت ہی ضعیف کردیا ہے، اس پر بھی ہمیشہ تصنیف جاری ہے۔ کئی عالم نوکر ہیں۔ وہ بھی علمی کاموں میں مصروف ہیں۔شاہ کے دربار میں جو مقدّمہ کہ علم سے متعلق ہوتا ہے یا سلطنت کا پیچیدہ معاملہ ہوتا ہے، اِن کی اصلاح سے طے ہوتا ہے۔ ان کا کتب خانہ تمام ایران میں لاثانی مشہور ہے، ان کے بڑے صاحبزادے آنکھوں کے علاج کے لیے ولایت پروشیہ میں گئے ہوئے تھے۔ چھوٹے یعنی احتشام الملک عبد العلی میرزا موجود تھے، تقریباً ٢٥ ٢٦ برس کی عمر میں فاضل ِ کامل ہیں۔ مگر علم الہیات کا بہت شوق ہے۔ دو دفعہ شرحِ اشارات پڑھا چکے ہیں۔ فرنچ زبان خوب بولتے ہیں اور انہی کے ذریعہ سے یوروپ کے علوم جدیدہ حاصل کیے ہیں۔ تعلیم سخن کا کمال شوق ہے۔ طرزِ قدیم میں کہتے ہیں اور خوب کہتے ہیں۔ میرے حال پر دلی شفقت سے مرحمت فرماتے تھے اور حصول مقاصد میں مدد کرتے تھے۔ ان سے بھی تحقیق الفاظ میں بہت فوائد حاصل کیے۔

شاہزادۂ نورانی کی وساطت سے اکثر علما کی ملاقات اور امرا سے ملازمت حاصل کی ۔ خصوصاً امیر خاندانی نواب مخبرالدولہ(٢)  وزیر تعلیم ۔ ان کے والد مرحوم رضا قلی خان للہ باشی اکثر شاہزادوں کے اتالیق تھے۔ انجمن آرائے فارسی ایک جامع کتاب لغات فارسی میں ، تذکرہ فصحائے فارس کا فن سخن میں ، روضۃ الصفائے ناصری تاریخ میں لکھی ہے ۔ یہ ایک ایک ضخیم کتاب کارنامہ اپنے فن کا ہے اور چھوٹی کتابوں کی تفصیل دیباچہ تذکرۃ الفصحا سے معلوم ہو سکتی ہے۔ مخبرالدولہ بہادر کے چار فرزند ہیں۔ ایسے سعادت مند کہ خدا بیٹے دے تو ایسے دے۔ چاروں نے علومِ مغربی سے دماغ روشن کیے ہیں ، کوئی پیرس سے ڈگری حاصل کرکے آیا ہے، کوئی برلن سے وغیرہ وغیرہ۔ بڑا بیٹا سر رشتہ ٹیلیگراف کا ڈائریکٹر ہے۔ حقیقی بھائی ان کا مدرسہ دارالفنون کا پرنسپل ہے۔ سب بامروت، بامحبت، صاحب ہمت۔ ٣ مہینے طہران میں رہا ، روز اِن کے پاس پہنچتا تھا اور تحقیق الفاظ اور کتابوں کا فیض حاصل کرتا تھا۔ یہ امیرزادے باوجود دستگاہ امارت اور عمر جوانی کے ڈکشنریاں لے کر بیٹھتے تھے اور میرے کام میں اس محبت سے توجہ فرماتے تھے گویا اپنا فرض ادا کرتے ہیں۔ ان کی محبت اور عنایت کی فہرست کہاں تک پڑھوں۔ جس وقت چلنے لگا تو ایک حکم نامہ عام لکھ دیا کہ جس مقام میں کوئی ضرورت پیش آئے تلگراف خانہ میں جانا اسے دکھانا۔ اگر وہاں سر انجام نہ ہو سکے تو ہمیں تار دینا اور ہر جگہ سے اپنی خیر و عافیت کی خبر دیتے جانا۔

طہران میں مانک جی صاحب ایک پارسی صاحب تحقیق بامروت ، با دیانت ہیں۔ انہوں نے قوم کی حمایت اور اعانت کا بیڑا اٹھایا ہوا ہے۔ شہرہائے ایران اور بلادِ ہندوستان میں جہاں پارسی ہیں اور اِن کے کام دربارِ ایران سے متعلق ہوتے ہیں، یہ ان کے مُتکفّل ہیں۔ اور آپس کے تکراروں میں بھی ان کی بات  ہمیشہ تسلیم کی جاتی ہے۔ ان کا ایک معقول دفتر ہے اور دو منشی نوکر ہیں۔ تصنیف بھی کچھ نہ کچھ چلی جاتی ہے۔ شاہ کی کمال مرحمت اِن کے حال پر مبذول ہے۔ میں ان سے اکثر ملتا تھا اور فوائد علمی حاصل کرتا تھا۔ اُنہوں نے میری محنت اور شوق تحقیق کی حد سے زیادہ قدردانی کی۔ ایک سپاس نامہ دیا جسے میں اپنے لیے فخر کا قبالہ سمجھتا ہوں۔ وہ ضروریات مسافرت میں بھی اکثر مدد کرتے رہے۔ بازار میں جس اشرفی کے ١٣قَران ملتے تھے، وہ پارسی بھائیوں کے پاس بھیج دیتے،١٧ قران آجاتے۔  سو روپیہ کے نوٹ پر بازار میں ١٠ قران بٹّا لگتا تھا، وہ ٥قران بٹّا پر بکوا دیتے۔

مرزا رضا خان افشار ہگشلو سے مُلاقات ہوئی۔ دبیرانِ دبیر اِن کا خطاب ہے اور دولتِ ایران کی طرف سے اسلامبول میں سر ترجمان ہیں۔ انہیں لغات فارسی پر عبور کامل ہے۔ فرنچ اور ترکی بھی خوب جانتے ہیں۔ کوشش کر رہے ہیں کہ فارس میں فارسی خالص کا رواج عام ہو جائے۔ کئی ملاقاتیں ہوئیں۔ لیکن ان کی کوشش میری رائے ناقص سے ایک جُز میں اختلاف کرتی ہے۔ وہ کہتے ہيں کہ آج ہی سب کو مستعد ہونا چاہیے کہ عربی لفظوں کو زبانوں سے کھرچ ڈالیں اور فارسی قدیم کو جاری کر دیں۔ میں نے کہا کہ علما کا فرقہ بالکل مخالف ہمارا ہے اور پبلک نے ابھی ہمارے مطلب کو سمجھا نہيں۔ اگر دفعتاً کل تصنیفات اور عام کارروائی اس پابندی کے ساتھ جاری ہوئی تو پبلک گھبرا جائے گی اور حق بجانب اُن کے ہوگا۔ کیونکہ صدہا لفظ فارسی کے ہیں کہ زبان سے بالکل محو ہو گئے ہیں۔ اُن کی جگہ الفاظ عربی کارروائی کر رہے ہیں۔ ہزاروں کے لیے لفظ فارسی ہیں مگر مستعمل نہیں۔ ہر شخص ادنیٰ ادنیٰ کام میں لفظ لفظ کے لیے ڈکشنری سے مدد لے یہ ناممکن ہے۔ نہ دیکھیں تو کام بند۔ ایسی حالت میں علما کہ قوی رقیب ہمارے ہیں فتح یاب ہو جائیں گے اور ہمارے کام میں خللِ عظیم واقع ہوگا۔

میری رائے ناقص یہ ہے کہ جہاں تک ہو سکے الفاظ عربی کی جگہ فارسی الفاظ رکھو اور وہ رکھو جو خاص و عام کے کانوں کو اب بھی مانوس ہیں۔ جس عربی لفظ کی جگہ اصل لفظ فارسی کا نہ ملے وہاں فی الحال عربی رہنے دو یا مطلب کو کسی اور پہلو سے فارسی کے مانوس لفظوں میں ادا کر دو۔ جب اہل ملک کو ہمارے ارادہ کی مصلحت معلوم ہوگی اور حُبّ الوطن کی گرمی دلوں میں دوڑ جائے گی تو سب خود بخود ہمارے ارادہ پر متفق ہو جائیں گے۔ ہمیں اس مصلحت کے پھیلانے میں اخباروں سے بھی مدد لینی چاہیے اور شاہ کی عالی پیشگاہ میں اِس عرض کو پہنچانا چاہیے۔ کیونکہ دار التصنیفِ شاہی میں طرزِ عبارت کی اِصلاح پر نظر ہے۔ اِس کے جواب میں مرزا صاحب نے فرمایا کہ ہم کو اپنے کام میں باستقلال مصروف ہونا چاہیے۔ خواہ کوئی مانے خواہ نہ مانے۔ الف باے بہروزی اور پَروَز (اصل) اپنے دو رسالے اِنہوں نے کتب خانہ آزاد کے ليے مرحمت فرمائے۔

طہران بلکہ تمام ایران میں کوئی شاعر بالاستقلال نہیں جو اِس فن کا نشان گاڑ کر بیٹھا ہو اور یہ سند ہے اس امر کی کہ جس قدر تہذیب بڑھتی ہے شاعری گھٹتی ہے۔ لسان الملک (مصنف ناسخ التواریخ) کے بیٹے قصیدہ خوب کہتے ہیں۔ اصول و فروع سے باخبر۔ عربی و فارسی کے لوازمات سے آگاہ۔ طبیعت موزوں و مناسب اور کلام نہایت زبردست ہے۔ مگر برسوں میں جب دل چاہتا ہے کوئی قصیدہ لکھ لیتے ہیں، نثر بھی خوب لکھتے ہیں، مگر وہی طرز قدیم میں۔ الفاظ عربی سے لغت بازی اور لفاظی کرتے ہیں، غالباً یہی سبب ہوگا کہ دارالترجمہ اور دارالتصنیف میں شامل نہیں، باپ کا وظیفہ پاتے ہیں۔ ناسخ التواریخ کی تکمیل کرتے ہیں اور جو اپنی طبیعت صلاح دیتی ہے لکھے جاتے ہیں۔ مرزا فروغی دارالترجمہ کے سرترجمان، فرنچ زبان میں ماہرہیں۔ قصیدہ اور غزل دونوں خوب کہتے ہیں مگر بالاستقلال اس کام کو لے کر نہیں بیٹھے۔ سبب کیا؟ وہی نکتہ کہ شاہ، دربارِ شاہ اور جو اہل فہم ہیں تہذیب سے اثر پذیر ہوکر علوم و فنون کے خواہاں ہوگئے ہیں۔ پھر کس کی امید پر شاعری سے نکاح کرکے بیٹھیں۔ مرزا مشتری مشہدی طہران میں موجود ہیں۔ فصیح شاعر ہیں۔ زبان عربی میں پوری مہارت نہیں رکھتے اور علوم میں بھی وہ رتبہ نہیں۔ قصیدہ اور غزل کم لکھتے ہیں۔ ہجو اور ہزل پر طبیعت زیادہ مائل ہے۔ خوش طبع، خوش صحبت، شگفتہ مزاج۔ یہ ساری خوشیاں بعض اُمرا کی قدردانی سے نبھی جاتی ہیں۔ نہیں تو اللہ ہی اللہ ہے۔

مجھے طہران میں ٹھہرنے کی بڑی ضرورتیں دو تھیں۔ اول کتابیں، دوسرے تحقیقاتِ الفاظ اور ان کاموں کے لیے جس قدر توقف ہو تھوڑا تھا۔ شوق کی پیاس کسی طرح نہ بجھتی تھی۔ جاڑے کا موسم اور بیماری اس توقف کے لیے خوب مددگار ہوئے۔ ۳ مہینے بڑی کوشش سے کام میں مصروف رہا۔ جب بڑا اور چھوٹا دونوں چلّے گزر گئے تو میں گھبرایا کہ رخصت تھوڑی رہ گئی اور رخصت بھی ہو تو اڑھائی روپیہ روز کٹ رہا ہے۔

آخر جب سب سے اخیر برف پڑ چکی تو میں شوق کا زاد راہ اور عقیدت کا کارواں باندھ کر مشہدِ مقدس کو روانہ ہوا۔ ٦منزل چل کر شہر سمنان میں پہنچا۔ کتابوں میں دیکھا تھا کہ شعر سمنان اور انار سمنان یہاں کا تحفہ ہے اور ہندوستان میں اپنے محقق اور معتبر دوستوں سے سنا ہوا تھا کہ مرزا یغما جس کی تحقیقِ زبان اور زورِ طبیعت کا چند سال پہلے جواب نہ تھا، اُس کا ایک گھر سمنان میں بھی ہے۔ شہر میں جاکر دریافت کیا۔ معلوم ہوا کہ منجھلا اور چھوٹا بیٹا زندہ موجود ہیں۔ دیکھا تو دونوں ایک دکان میں بیٹھے برنجی حُقّے گھڑ رہے ہیں اور چلمیں چرخ پر اتارتے ہیں۔ بہت افسوس کیا۔ ؏

میراثِ پدر خواہی علمِ پدر آموز

میں نے سنا ہوا تھا کہ مرزا مرحوم نے ایک کتاب فنِّ لغت میں بھی لکھنی شروع کی تھی۔ دریافت کیا، لڑکوں بیچاروں کو کیا معلوم۔ انہوں نے کہا کہ وہ تو ہمارے بڑے بھائی کی تصنیف تھی۔ مجھے زیادہ افسوس آیا اور کہا خیر باپ کے مال پر بیٹے نے تصرف کیا تو باپ کی خوش نصیبی، بشرطیکہ لیاقت کے ساتھ ہو۔

پانچویں دن دامغان کو اُس سے بدتر حالت میں پایا۔ شاہ رود بدترین بدتر۔ شاہ رود سے داہنے ہاتھ ڈیڑھ کوس کے فاصلہ پر شہر بسطام ہے جو کبھی حضرت بایزید بسطامیؒ  کا وطن تھا۔ نام کی محبت نے اُدھر کھینچا۔ فقط ایک گاؤں باقی رہ گیا ہے سبزوار۔ فقط بزرگوں کی زیارت گاہ باقی رہ گئی۔ نیشاپور کا بڑا خیال تھا۔ اس پر بڑا رونا آیا۔ تمام خرابی اور کھنڈر پڑے تھے۔

یہاں سے چوتھی منزل میں مشہدِ مقدس کی زیارت سے مشرف ہوا۔ ۱۲ دن مقام کیا۔ حالات بیان کروں تو ایک ضخیم کتاب مرتب ہو۔ مختصر کہتا ہوں کہ سلاطینِ سلف سے جو دیہات اور الماک جاگیر چلے آتے ہیں وہ اب تک جاری ہیں۔ کوئی بادشاہ انہیں گھٹا نہیں سکا۔ بڑھانا اپنی سعادت سمجھا۔ آمدنی ان کی ۱۲ لاکھ روپیہ سالانہ سے کم نہیں۔ علما وطلبا کے مواجب غربا کے وظائف۔وظیفہ خوروں کا کھانا روزانہ جاری ہے۔ ہر زائر ۱۵ دن حضرت کا مہمان ہوتا ہے اور ہندی کے لیے میعاد نہیں۔ جب تک رہے باورچی خانہ حضرت سے کھانا کھایا کرے۔ تقریباً ۳۰۰ آدمی روز کھانا کھاتے ہیں۔ ایک رکابی پُلاؤ کی۔ ایک روٹی۔ ساتھ سالن۔

کتاب خانہ جو روضۂ حضرت سے متعلق ہے کتب عجیبہ و غریبہ سے علوم و فیون کا خزانہ ہے۔ سلاطین و امرائے سلف نے عمدہ عمدہ نایاب کتابیں بھیج کر ذخیرۂ آخرت جمع کیا ہے۔ ان کی فہرست لایا ہوں۔

یہ مقدؔس مقام  ایرؔان ترکسؔتان افغاؔنستان ہندؔوستان کی تجارت کے لیے پینٹھ ہے، اس لیے کار وان سرائیں آباد۔ بازار بارونق۔ خیابان بالا، خیابان پائیں، دو بازار طولانی اور وسعت میں نہایت دلکشا ہیں۔ بیچ میں نہر جاری ہے۔ دونوں طرف مالدار دکاندار اور دکانیں اسباب سے مالا مال ہیں۔ (جسے ہم سڑک کہتے ہیں وہاں خیابان کہتے ہیں) یہاں غلّہ کی ارزانی بلکہ ہر جنس کی فراوانی قابلِ تعجب ہے۔ لطافتِ ہوا کا یہ حال ہے کہ نو روز ہوچکا تھا مگر بازاروں میں اگلے برس کے انگوروں کے خوشے آویزاں تھے۔ بعضے جُھریا گئے تھے بعضے صاف اور درست تھے۔

اکثر شاہوں اور شاہزادوں کی قبریں دیکھی گئیں۔ ہارون رشید سر حلقۂ خلفائے عباسیہ گنبدِ اقدس میں سوتے ہیں۔ ناؔدر کی قبر دیکھ کر عبرت ہوئی۔ اللہ اکبر وہ نادر جس کی تلوار کی امان نہ تھی۔ جس کے گھوڑے کی جھپٹ سے لشکر پھوس کی طرح اڑتے تھے وہ ایک ٹوٹے چبوترہ پر پڑا ہے۔ وہاں قپانخانہ ہے، اسباب تجارت تلا کرتا ہے (قپان بڑی ترازو)۔

علما میں شیخ بہاء الدین عاملی، شیخ حُرّ عاملی، شیخ طبری رحمہم اللہ مدفون ہیں۔ ان بزرگوں کی قبروں پر جا کر فاتحہ پڑھی اور کتبوں کی نقلیں لیں۔ شیخ بھائی علیہ الرحمۃ کی قبر پر روز دو تین دفعہ فاتحہ کا موقع حاصل ہوتاتھا۔ شعرا میں فردوؔسی اور اسؔدی۔ طوؔسی کا نام لینا ضرور ہے کہ وہیں مدفون ہیں۔ اس متبرک اور مقدس مقام میں بارہ دن مقام کیا۔ یہاں سے ہندوستان کے دو رستے ہیں:

(١) براہ نیرؔدو کرماؔن بندر ؔعباس  میں پہنچتا ہے۔ تمام رستہ صاف سپاٹ نا آباد ریگستان ہے۔ بندر سے جہاز میں بیٹھے اور کراچی میں آن اترے۔

(٢) ہراؔت اور قندؔھار سے کوؔئٹہ میں آکر ریل میں بیٹھے اور لاہور میں داخل۔ میں نے سنا کہ مشہد سے آٹھویں دن ہراؔت اور ہراؔت سے ۱۲ ۱۴ دن میں قندھار۔ قندھار سے ۵ دن میں کوئٹہ پہنچتے ہیں۔ البتہ افغانوں کی طرف سے رستہ میں خطر ہے اس لیے سوداگر بندر کے رستہ آتے جاتے ہیں۔ یہ بھی سنا کہ امیر صاحب نے اب اپنے ملک کا بندوبست ایسا چست اور درست کیا ہے کہ آج تک کبھی نہیں ہوا تھا۔ میں نے بندر عباس کے رستہ میں طول مسافت دیکھا اور کارواں بھی موجود نہ تھا۔ ۱۵ ۲۰ دن انتظار نظر آتا تھا۔ امیر صاحب کے عدل اور انتظام پر یقین کرکے توکل بخدا روانہ ہوا۔ ہراؔت کے رستہ میں ہمارا کاروان شتری تھا۔ تیسری منزل میں نیند نے مجھ پر غفلت کا شب خون مارا۔ اونٹ سےگر پڑا۔ ایک پسلی ٹوٹ گئی۔ قدرت الٰہی نے جرّاحی کی۔ آپ ہی جُڑ کر اچھی ہوگئی۔ گرہ اب تک موجود ہے۔

آج سے چند سال پہلے یہ رستہ ترکمانوں کے سبب سے ایسا خطرناک تھا کہ ہر کاروان کے ساتھ ایک دستہ فوج کا اور چند توپیں مشہد سے آتی تھیں۔ ہراؔت سے امیر کی فوج جاتی تھی۔ میانِ راہ سے کاروان کو اپنی سپردگی میں لے کر ہراؔت میں پہنچاتی تھی۔ جب سے کہ فوج سرکاری ہند سے براہِ راست بلوؔچستان حد بندی کے لیے گئی ہے۔ روسیوں نے ترکمانوں کو روکا۔ اب دن رات کچھ پروا نہیں۔ مُسافروں کا آمد و رفت جاری ہے۔

راہِ ؔمشہد اور ہراؔت میں جاؔم مولانا جاؔمی کا وطن(١) آیا۔ ایک ویران قصبہ رہ گیا ہے۔ یہاں حضرت شیؔخ جام کی تُربت ہے اس پر شاہ عباس نے ایک عمارت عالیشان بنوائی ہے۔ میں بھی گیا اور فاتحہ پڑھ کر داخلِ ثواب ہوا۔ اُس کے ایک کُتابہ سے معلوم ہوا کہ میر معصؔوم بہکری نے اِن کے مزار کو  ۱۰۱۱  ؁ میں سرِ نو تعمیر کیا ہے۔ میؔر کا نام دیکھ کر دل ایسا خوش ہوا جیسے غُربت میں کوئی دوست مل گیا۔ کیونکہ میؔرکی اور میری دربار اکبری کی ملاقات تھی (یہ بھی امراء اکبر شاہی میں تھے)۔ خود تاریخ قندؔھار کے مصنف اور طبقاتِ اکبری میں نظامؔ الدین بخشی کے ساتھ شریک تھے۔ اکؔبر کی والدہ شیخ احؔمد جام کی اولاد تھیں۔ عجب نہیں کہ اکؔبر کے حکم سے یا خود بنواکر حقِ نمک ادا کیا ہو۔

جس دن میں ہراؔت میں پہنچا اُسی دن نائب کوتوال آیا اور کہا کہ آپ کو سپہ سالار کے پاس چلنا ہوگا۔ میں نے سبب پوچھا۔ وہ نیک نیت اشراف فرقۂ قز لباش سے تھا اس نے کہا کہ مقامِ تردد نہیں، ہر مسافر کو جانا پڑتا ہے۔ بعد ظہر میں آؤں گا اور آپ کو لے جاؤں گا۔ چنانچہ بموجب وعدہ کے آیا اور لے جا کر فرامرز خان سپہ سالار کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے پوچھا راہداری ہے؟ مرزا عباس خان وکیل مختار سرکاری حاضر باش مشہد کا مُہری تذکرہ میرے پاس موجود تھا۔ حاضر کیا انہوں نے پڑھوا کر سنا اور کہا کہ یہ مُہر اصلی ہے۔ میں نے کہا کہ حضور کے سامنے سندِ اصلی کو پیش کرتے ہوئے ہاتھ کانپتے ہیں، جعلی کاغذ کون پیش کرسکتا ہے۔ کہا بہت خوب تم یابو لو اور روانہ ہوجاؤ۔ ایک فقیر اور ایک پاگل سا آدمی تھا وہ بھی نووارد مسافر تھے۔ پیش ہوئے۔ ایک کے پاس کاغذ راہداری تھا۔ اُسے حکم ہوا کہ روانہ ہوجاؤ۔ دوسرے کے پاس نہ تھا۔ وہ بخارا سے آیا تھا۔ حکم ہوا کہ جدھر سے آئے ہو ادھر ہی چلے جاؤ۔ شہر ہراؔت شاہانِ گذشتہ کا عیش باغ تھا۔ لیکن ۵۰ ۶۰ برس سے اس پر ایسی نحوست کا ستارا آیا ہے کہ سلطنتوں کے انقلاب نے گُھڑ دوڑ کا میدان بنا دیا ہے۔ میں نے اس کی عماراتِ قدیم کا حال مُختلف کتابوں میں خصوصاً تاریخِ ہراؔت میں دیکھا ہوا تھا۔ جن مقاموں کے حالات پڑھ کر قدرتِ خدا یاد آتی تھی۔ اب صفاًً صفّا ہوگئے۔ بڑے بڑے عالم اور نامی مصنف۔ اُن میں سے امام فخر ؔالدین رازی مصنف تفسیر کبیر۔ ملا حسین کاشفی صاحبِ تفسیر حسینی۔ غرض کن کن کے نام لوں کہ شاہان با اقبال کی قدردانی سے وہاں آکر جمع ہوئے تھے، سب وہیں پیوند خاک ہو گئے ہیں۔

ایک عالیشان گنبد کے اندر جو کہ اب کھنڈر پڑا ہے، ۶ تعویذ برابر دیکھے۔ ان کی منَبَّت کاری کو مرصّع کاری کہنا چاہیے۔ ان میں امیر تیمور کے کئی بیٹے اور پوتے پڑے سوتے ہیں۔ وہیں سلطان حسین بائقرا مدفون ہے۔ انہی میں گوہر شاد بیگم تیمور کی بہو ہے جس کی مسجد مشہد مقدس میں ہے اور عجائبات عمارات عالم میں شمار کی جاتی ہے۔ ان سب کے کتبے نقل کرکے لایا ہوں۔

شہر سے ۴-۵ کوس کے فاصلے پر خواجہ ابو الولید کا مزار ہے۔ بہت لوگ زیارت کو جاتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ یہ اوائل اسلام میں تشریف لائے تھے۔ تاریخ سے معلوم ہوا کہ احمد ابو رجا اُن کا نام تھا۔ ظاہر و باطن کو صلاحِ حال اور علم و کمال سے آراستہ کیا تھا اور حدیث میں مہارت کامل رکھتے تھے۔

گاوز گاہ شہر سے ٣-٤کوس پر مشہور مقام ہے اور اکثر علما و اُمرا کی قبریں وہا ں ہیں۔ خواجہ عبداللہ انصار کا مزار بھی وہیں ہے۔ فاتؔ تاریخِ فوت ہے۔          امیر دوست محمد خان اور سلطانؔ جان جو محمد عظیم خان امیر بڑے بھائی کا بیٹا اور خود امیر کا داماد تھا اور ٢٥ برس حاکمِ ہرات رہا، وہیں مدفون ہے۔  اُس کی بیوی یعنی امیر کی بیٹی کی قبر بھی وہیں ہے۔  امیر نے فوج کشی کر کے ہرات لیا، نواسا اُسی لڑائی میں مارا گیا وہ بھی وہیں دفن ہے۔  پھر آج سلطان جان مر گیا۔ کل ہرات فتح ہوا۔ آج ہرات فتح ہوا۔ کل امیر مر گئے۔ دونوں ہمّت کے پورے۔ اس نے جب تک دم میں دم رہا ہرات نہ چھوڑا۔ امیر نے جب تک ہرات نہ لیا جان نہ دی۔

مولانا جامی کی قبر کو جا کر دیکھا۔ احاطہ ٹوٹا پھوٹا پڑا ہے۔ قبر بڑی عریض و طویل ہے۔ کسی زمانہ میں تعویذ قبر اور دورِ قبر سنگِ مرمر کی سلوں پر بہت دعائیں اور غزلیں عمدہ خط میں منقوش تھیں، اب سب ایک ڈھیر پتھروں کا ہے۔ کوئی شعر کا مصرعہ پڑھا جاتا ہے، باقی اللہ اللہ۔ ان کے شاگرد عزیز ہمدم کی قبر بھی وہیں ہے۔ ہمدم اِسے کہتے ہیں کہ مر کر بھی جدا نہ ہو۔

میں نے ہرات میں آتے ہی کارواں کی تلاش شروع کردی تھی۔ چنانچہ چوتھے دن ایک قافلہ باشی سے گفتگو ہوگئی  اور اس نے کہہ دیا کہ پرسوں روانہ ہو جائیں گے۔ لیکن افسوس کہ کل اور پرسوں میں ۲۸ دن کامل گزر گئے۔ یہاں مجھے ایک گھڑی پہاڑ تھی اور جو سب سے زیادہ مشکل تھی وہ یہ تھی کہ بچہ سے لے کر بوڑھے تک اور بہادر سپاہی سے لے کر بڑھیا عورت تک ہر شخص سوال کرتا تھا اور سوال میں سوال کرتا تھا۔ پھر آنکھیں بدلتا تھا اور کہتا تھا کہ کہاں سے آئے ہو ؟  کیوں آ ئے ہو ؟ کس راستہ آئے ہو؟ کیا لائے ہو؟ کتابیں کیوں لائے ہو ؟اتنی کتابیں کیوں لائے ہو ؟انہیں کیا کرو گے؟ یہ کیا کتابیں ہیں؟  کس کس علم کی کتابیں ہیں؟ تم اس رستے کیوں آئے؟  یہاں کیوں بیٹھے ہو؟ کس رستے جاؤ گے؟ اس رستے کیوں جاتے ہو ؟الہی تیری پناہ ۔ ناک میں دم آجاتا ۔ جَل جل جاتا اور کچھ نہ کر سکتا۔ ہزار رحمت ہے ملک ایران پر کہ کئی مہینوں وہاں رہا ۔ جا بجا پھرا اور سب سے ملا جلا ۔ ہر قسم کی بات پوچھتا تھا  اور لکھتا تھا۔ وہ بتاتے تھے اور خوش ہوتے تھے۔ کسی بات  کا شبہ دل میں نہ لاتے تھے۔

قندھار کا رستہ جسے ہم ١٢۔١٤ منزل سمجھے ہوئے ہیں،وہ ٢٦ دن میں کاٹنا پڑا۔ کیونکہ تمام ملک ویران پڑا ہے۔  رعایا غجدی نشین ہے۔ جہاں پانی دیکھتے ہیں کمّل تان تان  کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اپنی ضرورت کے بموجب کچھ بوتے ہیں۔ وہی اٹھاتے ہیں اور جہاں چاہتے ہیں بیٹھ کر کھاتے ہیں تاکہ مالیہ نہ دینا پڑے۔ ہمارے قافلہ میں ١٠٢ یابو اور گدھا تھا اور متفرق مسافر الگ۔ جدھر ہرا میدان اور آبِ رواں سنتے تھے ادھر جاتے تھے۔ اگرچہ رستہ میں پھیر ہو۔ اور جہاں ہری گھاس پاتے اتر پڑتے اگرچہ معمولی مسافت سے کم طے کی ہو۔

سب نے کھانے کے سامان باندھ لیے تھے اور جہاں غجدی نشین ملتے تھے اُن سے پاتے تو آٹا گھی، گھوڑوں اور گدھوں کے لیے جَو لے لیتے تھے۔ مجھ جیسے لوگوں نے سوئیاں، انگشتانے، کنگھیاں، سرمہ، کالی مرچیں، سونٹھ شہر سے مول لے لی تھی۔ اُن سے روٹی، دودھ، دہی، گھی، چھاچھ وغیرہ مل جاتا تو مول لے لیتے تھے کیوں کہ وہ پیسوں سے لین دین نہیں کرتے۔ اشیائے مذکورہ سے مبادلہ کرتے ہیں۔ ایک آدھ روپے سے بھی سودا کر لیتے ہیں۔ کیوں کہ ٣-٤ سیر آٹے یا جو سے زیادہ جنس بھی نہیں دے سکتے۔ میرے پاس پکانے کا سامان نہ تھا اس لیے بہت سی روٹیاں پکوا کر ساتھ لے لی تھیں۔ وہ پانچویں دن سڑ گئیں۔ اُنہیں سکھایا۔ ایک جگہ گدھا پانی میں بیٹھ گیا وہ بھیگ گئیں۔ جہاں موقع ملا پھر پکوائیں۔ اور ۱۰ ۱۰ ۱۵ ۱۵  دن کی سوکھی پانی کے گھونٹوں سے کھائیں۔ اور لوگ مل جل کر کھاتے پکاتے چلتے تھے۔ گھی چاول آٹا وغیرہ ساتھ بندھا تھا۔ مجھے کھانے پانی کو ہاتھ نہ لگانے دیتے تھے کہ ناپاک ہو جائے گا۔ کئی جگہ لوگ پتھر لے کر مارنے کو کھڑے ہو گئے کہ کافر ہے۔ باوجود اِس کے جب میرے پاس دودھ، دہی وغیرہ کھانے کی چیز ہوتی اور میں دیتا تو لے بھی لیتے۔ اس سے اور اکثر باتوں سے مجھے ثابت ہوا کہ یہ سختی اُن کی کسی سبب سے نہ تھی۔ جانتے ہیں کہ ہندوستان کے لوگ رُپے والے ہیں۔ انہیں جس طرح دبا کر لے سکیں لینا چاہیے۔ بہانہ ہاتھ آئے تو مار بھی ڈالیں۔ البتہ حکام اور سرداروں کی مروت اور محبت ہر جگہ قابل شکریہ ہے اور یہ دلیل ہے اِس بات کی کہ امیر صاحب بذاتِ خود دولتِ انگلشیہ کے ساتھ اتحادِ اصلی اور رعایائے انگریزی پر شفقتِ دلی رکھتے ہیں۔

قندھار میں پہنچ کر ۵ دن ٹھہرنا پڑا۔ یہاں بھی وہی قباحتیں موجود تھیں۔ راہ چلتے آدمی کو روک لیتے اور پوچھتے "بیا بیا بنشیں۔ با تو گپ زنیم”۔ میں کہتا "مسافر ہستم کار دارم معاف دارید”۔ راہ چلتے پکڑ لیتے اور کہتے "از کجا آمدی بہ کجا میروی”۔ ایک دن دل جل گیا۔ دو شخص بازار ميں ملے اور یہی سوال کیا۔ میں نے کہا "از ہند آمدہ ام باز بہند میروم”۔ پھر پوچھا "چِرا آمدی”۔ مجھے بھی غصہ آگیا۔ میں نے کہا "تو بگو کہ چرا می پُرسی”۔ ایک نے میرا بازو پکڑ کر کہا "نمیدانی ما می توانیم۔ تُرا بگیریم و پیشِ امیر صاحب ببریم۔ تو جاسوسِ فرنگ ہستی”۔ میں نے کہا  ” خیلے خوب ، مامی گوئم ، امیر صاحب مسافر ہستیم ، بملک شما آمدیم، نمک شمارا خوردیم آرام یافتیم ، دعا می کنیم ، می رویم اینہا ہستند کہ حالا بخیر خواہی شمادم می زنند، فوج فرنگ می آمد ودر او می روند۔ نوکری می کنند ، یک تخم مرغ بہ ٤، یک ماکیان بہ ٢ روپیہ می فروشند۔ بازوقتیکہ ایوب خان می آید بہ کفر شما فتوی می نویسد "۔ جب یہ میں نے کہا تو ایک نے دوسرے کی طرف دیکھ کر کہا” گم کنید” مجھ سے کہا "بروبرو”۔  ایک اور شخص سامنے سے آتا تھا۔ مجھے ٹال کر اس سے بات کرنے لگے۔ میں نے ہنس کر کہا "حالا اینہم بفرمائید کہ اسم شریف شما چیست”۔  غصہ ہو کر کہا "بروبرو،  بابابرو”۔ میں نے اصرار کیا تو نام بتائے۔ خدا جانے صحیح تھے یا غلط تھے۔ میں نے کہا  شما بکدام محلہ می نشینید ، اس تیسرے شخص نے اس سے پوچھا "ایں چہ بلا است”۔ پہلے نے کہا "چہ بگویم، ہماں خرس ست کہ من می گزارم  او نمی گزارَد”۔

غرض ٥ دن وہاں رہ کر ١٠ کی جگہ ١٢ روپے کرایہ کے دیے اور کوئٹہ کو روانہ ہوا۔ کیوں کہ جانتا تھا اڑھائی روپیہ روز کٹ رہا ہے۔ راہ کا حال کیا کہوں۔ وہی بلائیں ساتھ تھیں۔ خدا خدا کر کے ٥ دن کا راستہ ١١ دن میں طے کیا۔ کوئٹہ میں پہنچ کر شکرِ خدا بجا لایا۔ دوسرے دن ایک چھکڑا کرایہ پر کیا۔ اُس میں کتابیں لادیں۔  آپ بچھونے بچھا کر اوپر بیٹھا۔ دو دن ایک رات میں رندلی پہنچا۔ وہاں سے ریل میں بیٹھ کر حاضر خدمت ہوا۔

ختم شد

یہ کتاب اردو گاہ اور مجلسِ برقی اشاعتِ ادبیاتِ عالیہ کے تعاون سے پیش کی گئی ہے۔
یہ کتاب اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

نئی کتابیں

تنبیہ