حیاتِ ماہ لقا

مجلسِ برقی اشاعتِ ادبیاتِ عالیہ

بسلسلۂ اردو ادبِ عالیہ

حیاتِ ماہ لقا

فہرست

آغازِ کتاب

تمہید

ماہ لقا بائی کے نام سے کون واقف نہیں ہے اور چندا جی کا نام کون ہے جو سنا نہیں۔ اس کو انتقال کیے ابھی سو برس بھی پورے نہیں ہوئے، جس کا مقبرۂ عالیشان اور سرا کوہ شریف کے پائیں میں واقع ہیں، جہاں ہر سال عرس شریف کے موقع پر ہزاروں تماش بین اور زائرین فروکش ہوتے ہیں، جس کو حیدرآباد دکن کا ہر امیر فقیر اور برنا و پیر جانتا ہے۔ اور یہ بات بھی ہر ایک کو معلوم ہے کہ ماہ لقا بائی لطیفہ گوئی، بذلہ سنجی، شاعری، مروت، اخلاق، فیاضی، دولت و ثروت، حکومت میں اپنے زمانہ میں یکتائے روزگار مانی جاتی تھیں۔ بارہ کم سو برس 88 کے پیشتر ہزاروں اشخاص بلکہ لاکھوں مہ لقا بائی کے جمال جہاں آرا کے مشتاق اور اس کی نظر عنایت کے امیدوار رہتے تھے۔ افسوس ہے کہ اب وہ ماہ لقا بائی موجود ہے اور نہ اس کے چاہنے والوں کا وجود باقی ہے۔ امتداد زمانہ نے بالکل کایا پلٹ دیا ہے۔ ایک ماہ لقا بائی پر ہی کیا منحصر ہے، ہر ایک انسان کے لیے یہی معاملہ درپیش ہے۔

مگر اب بھی ماہ لقا بائی کا کلام اور حالات، اس کے نام کو باقی رکھنے والے اور اس کی یاد کو تازہ کرنے والے  زمانہ میں موجود ہیں۔ عام دستور کے موافق ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ اب جو کچھ بچا بچایا قبر کا نشان اور مقبرہ و سرا موجود ہیں، ان کا بھی پتہ نہ ملے گا۔ سب زمین کے برابر ہو جائیں گے۔ لیکن  یہی کلام اور حالات اب تک باقی رہے اور آئندہ بھی باقی رہیں گے۔

 

چنانچہ ہم نے بڑی جستجو اور بے حد تلاش سے ماہ لقا بائی کا ہندی دیوان اور خاندانی حالات پیدا و فراہم کر کے طبع کرائے ہیں جو ہدیۂ ناظرین ہیں۔ اگر ہماری خوش قسمتی سے پبلک نے اس کو قدردانی کی نظر سے دیکھا اور لطف اٹھایا تو ہماری محنت و مشقت چیز ہو گئی اور بصورت بالعکس کسی سے شکایت اور گلہ بھی نہیں ہے۔ فقط

 

٢١؍ ربیع الاول 1324؁ھ                                                        سلطنت آصفیہ کا نمک خوار

حیدرآباد دکن۔ دار الشفا                                                               گوہرؔ حیدرآبادی

 

چندا  بی بی المخاطب ماہ لقا بائی کے خاندانی حالات اور حسبی و نسبی واقعات

جس زمانہ میں کہ ہندوستان جنت نشان کی زمامِ فرماں راوئی حضرت ابو الفتح نصیر الدین محمد شاہ بادشاہ فردوس آرامگاہ کے دست قدرت میں تھی اور شہر شاہ جہاں آباد (دہلی) پر سرسبزی و شادابی کے باعث جوبن پھٹا پڑتا تھا،ایک شخص غریب الوطن مُفلس و آوارہ، لیکن شریف خاندان، عالی ہمت خواجہ محمد حسین خاں نام قصبۂ بارہہ (جو سادات زیدی کا مسکن و مقام ہے) کا رہنے والا واردِ دہلی ہوا۔ چونکہ ملکی و مالی حالات سے ماہر، سلیقہ شعار، بلند فطرت تھا؛ اس لیے بہت جلد اپنی جوہرِ کاردانی کے باعث احمدآباد (گجرات) کے ناظم کی طرف سے کڑوڑ گیری پر مامور ہوا۔ مزاج میں عیاشی اور حسن پرستی کا چسکا بہت تھا، اس لیے عقد کے لیے کسی خوبصورت عورت کی تلاش شروع کی۔ اتفاقاً ایک بزرگ  خواجہ زادگان سے کاٹھیاواڑ کے رہنے والے احمدآباد (گجرات) میں مقیم تھے لیکن غربت کے باعث نہایت مستغنی المزاج، دولت دنیا سے فارغ و بے فکر رہتے تھے۔ ان کو ایک لڑکی ماہ پیکر، رشک حور چندا بی بی نام موجود تھی۔ چنانچہ خواجہ محمد حسین خاں نے پیام بھیج کر ان بزرگ کو راضی کیا اور اس لڑکی کو اپنے حبالۂ عقد میں لایا۔ ایک مدت کے عیش و کامرانی میں 19 بچے پیدا ہوئے۔ مگر حوادث روزگار کے باعث اکثر کم سنی میں چل بسے۔ صرف پانچ بچے مثل حواس خمسہ زندہ باقی رہے جو آئندہ عمر طبعی کو پہنچے۔ ان میں دو لڑکے غلام حسین و غلام محمد نام تھے اور تین لڑکیاں جن کو نور بی بی، بولن بی بی، میدا بی بی کہتے تھے۔

چونکہ فلک کج رفتار کی چال ایک وضع پر نہیں رہتی اور خواجہ محمد حسین خاں کی زندگی ہمیشہ عیش و طرب میں گزرتی تھی۔ اس کے ساتھ اسراف و فضول خرچی بھی طبیعت میں بہت تھی، چنانچہ اس اسراف و فضول خرچی کے بدولت ذاتی رقم کے علاوہ بہت کچھ سرکار کی امانتی رقم بھی خان مذکور کے تصرف میں آ گئی۔ دشمنوں نے اس کی خبر ناظم احمدآباد کو پہنچائی۔ فوراً حساب کی جانچ پڑتال کی گئی جس میں کچھ واجبی اور کچھ غیر واجبی بدر نکالی گئی۔ بدر کی مقدار ایسی زیادہ تھی کہ جس کی ادائی محال تھی۔ آخر خواجہ محمد حسین خاں نے بہ پاسِ آبرو کمال سراسیمگی کی حالت میں فرار پر کمر باندھی اور اپنے وطن مالوفہ کو روانہ ہو گیا۔ بیوی بچوں کو مصیبت کا شکار بنایا اور بلدۂ احمدآباد میں بے کس و لاوارث چھوڑ گیا۔ جب ناظم گجرات کو محمد حسین خاں کے فرار کی خبر لگی تو تمام نقد و جنس جو کچھ موجود تھا، ضبط کر لیا۔ بلکہ چندا بی بی کو بھی مع اس کے چھوٹے چھوٹے بچوں کے نظر بند کیا۔

چندا بی بی کی فراری

چند روز ان بے کسوں نے تھوڑے بہت متفرق اشیا جو ضبطی سے بچے ہوئے تھے، ان کو بیچ کر غربت کے ساتھ جوار باجرا کھا کر نظر بندی میں گزارا۔ جب کچھ بھی نہ رہا تو چندا بی بی نے فاقہ کشی سے تنگ آ کر آخر فرار کی ٹھہرائی اور بچوں کو لے کر آبادی کو چھوڑ جنگل کا راستہ لیا۔

چندا بی بی کا قصبہ دیولیہ میں پہنچنا

چنانچہ چند روز کی صحرا نوردی کے بعد چندا بی بی کا گزر بہ مقتضائے قضا و قدر قصبہ دیولیہ میں ہوا جہاں یہ غمزدہ مع اپنے کم سن بچوں کے اتفاقات و شامت کے باعث بھگتیوں کے محلہ میں قیام پذیر ہوئی اور بھگتیوں نے ان غریب الوطنوں پر ترس کھا کر چندے ان کی قوت بسری کا سامان کر دیا۔ لیکن چند روز کے بعد ان بھگتیوں نے چندا بی بی کو یہ ترغیب دی کہ اب حسب و نسب کو طاق پر رکھ کر ان لڑکیوں کو جو حسن و جمال میں ماہِ چہاردہ ہیں، رقص و سرود کی تعلیم دلائی جائے تاکہ کسب معاش و تحصیل قوت کا ذریعہ نکلے اور فراغت سے گزرے۔ اول تو چندا بی بی نے اس تجویز کو نفرت کی نگاہ سے دیکھا، لیکن جب بے کسی اور فاقہ کشی پر نظر ڈالی تو آخر اس تجویز پر کاربند ہونا پڑا۔ چنانچہ لڑکیوں کو رقص و سرود کی تعلیم دلانا شروع کی۔

راجا سالم سنگھ کی خبر گیری

ان دنوں قصبہ دیولیہ کا حاکم (راجا) سالم سنگھ نام نہایت نامور، شجیع، حسن و جمال میں بے نظیر، مال و دولت، حمعیت و حشمت کی زیادتی کے باعث صوبۂ گجرات میں مشہور تھا۔ جب اس کو خواجہ محمد حسین خاں کے عیال و اطفال کی بے سر و سامانی کی کیفیت معلوم ہوئی تو بلحاظ سرداری ان کی خبرگیری شروع کی اور ان مصیبت زدوں کے رہنے کے لیے ایک مکان بھی دیا اور اس کے ساتھ ضروری اسباب بھی مہیا کر دیا۔

راجا سالم سنگھ کا عشق میدا بی بی کے ساتھ

چند روز کے بعد چندا بی بی کی چھوٹی لڑکی میدا بی بی کے حسن و جمال نے سالم سنگھ کو ایسا شیفتہ و شیدا کیا کہ صبر و قرار جاتا رہا۔ چنانچہ اس دوشیزہ حور پیکر کے رام کرنے کے لیے تحفہ و تحائف بھیجنا شروع کیا۔ بعد چند روز کے چندا بی بی سے اپنا مافی الضمیر ظاہر کیا جس کو چندا بی بی نے بمصلحت وقت قبول کیا اور میدا بی بی کو ہم آغوشی کے لیے راجا سالم سنگھ کے گھر بھیج دیا۔

مہتاب بی بی کا تولد

کچھ مُدت کے بعد راجا سالم سنگھ کے صُلب سے میدا بی بی کو ایک لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام مہتاب بی بی رکھا گیا۔ لائق نجومیوں نے اس نومولود لڑکی کے متعلق یہ حکم لگایا کہ یہ لڑکی آئندہ کسی امیر ذیشان یا وزیر والا تدبیر کی حرم محترم ہو گی۔ چنانچہ یہ پیشین گوئی بہت صحیح ثابت ہوئی جس کا ذکر آئندہ آوے گا۔

سالم سنگھ کی زوجہ کا میدا بی بی پر جادو کرنا

الحاصل جب میدا بی بی کے بطن سے یہ لڑکی پیدا ہوئی تو راجا سالم سنگھ کی محبت روز بروز زیادہ ہونے لگی۔ ادھر راجا سالم سنگھ کی منکوحہ رانی نے رشک و حسد کے باعث میدا بی بی پر جادو، منتر، جنتر کرنا شروع کیا۔ چنانچہ اس کی تاثیر سے ایک روز میدا بی بی دفعتاً مثل مرض سکتہ کے بے حس و حرکت ہو گئی۔ بلکہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ طائر روح قفس عنصری سے پرواز کر گیا ہے۔ چونکہ فضل ایزدی شامل حال اور رشتۂ حیات مضبوط تھا، اس لیے تعویذ، فلیتہ، جنتر، منتر سے چند روز کے بعد میدا بی بی کا مزاج درست ہو گیا۔

چندا بی بی کا انتقال

لیکن اس صدمۂ جانکاہ سے میدا بی بی کی ماں چندا بی بی نے یکایک انتقال کیا جس سے یہ نوجوان لڑکیاں سخت خائف اور ہراساں ہوئیں اور خیال پیدا ہو کہ کہیں ہمارا حال بھی ایسا نہ ہو جائے۔ اس لیے اپنے اپنے جان کی حفاظت کرنے لگیں۔

بھگتیوں کے ساتھ تینوں لڑکیوں کی فراری

جس زمانہ میں کہ چندا بی بی اپنی لڑکیوں کے ساتھ قصبۂ دیولیہ کے بھگتیوں کے محلہ میں فروکش ہوئی اور بعد از انکار بسیار رقص و سرود کی تعلیم لڑکیوں کو دلانا شروع کی تھی اور میدا بی بی کو رام سنگھ کی ہمخوابی کے لیے بھیجا تھا تو نور بی بی اکثر شوق و محبت سے بھگتیوں کے گھر جا کر گانے بجانے کی تعلیم حاصل کرتی اور گھر میں آ کر اپنی چھوٹی بہن بولن بی بی کو بھی اس کی تعلیم دیتی تھی۔ چنانچہ یہ دونوں بہنیں علم موسیقی میں اعلیٰ درجہ کی ماہر ہو گئیں اور بھگتیوں کو تعلیم دینے کے باعث ان لڑکیوں پر ہر طرح کی حکومت ہو گئی تھی۔ جب چندا بی بی کا انتقال ہو گیا تو میدان صاف ہو گیا اور ان بھگتیوں نے اپنے کمانے اور نفع پیدا کرنے کی خواہش میں یہ تجویز کی کہ میدا بی بی کو سالم سنگھ کے گھر سے بھگا کر سب یکساتھ کسی دوسرے ملک میں بھاگ کر چلے جائیں اور وہاں ان لڑکیوں کے ذریعہ خوب کمائیں۔

چونکہ جادو منتر کا خوف ان لڑکیوں کے دل میں بے حد بیٹھا ہوا تھا، اس لیے اس تجویز پر فوراً راضی ہو گئیں اور ایک تقریب کے موقع پر قابو پا کر میدا بی بی کو راجا سالم سنگھ کے گھر سےنکال لائے اور سب کے سب مع بھگتیوں کے فرار ہو گئے۔ چنانچہ صوبہ مالوا کے راستہ سے دریائے نربدا عبور کر کے ملک دکن کو روانہ ہوئے۔ مگر اس پریشانی اور دوڑ دھوپ میں میدا بی بی کے دونوں بھائی غلام حسین و غلام محمد (جو اس سفر میں ساتھ تھے) کہیں چھوٹ گئے، حتی کہ ہمیشہ کے لیے مفقود الخبر ہو گئے۔ اب ان لڑکیوں کے پاس کوئی محرم مرد کی صورت نہ رہی۔

بھگتیوں کا مع لڑکیوں کے برہان پور پہنچنا اور تبدیل نام کرنا

یہ زمانہ ہندوستان میں فردوس آرامگاہ محمد شاہ کی پادشاہی کا تھا اور نواب نظام الملک آصف جاہ بہادر برہانپور میں مع لشکر فیروزی رونق افروز تھے۔ چنانچہ یہ بھگتیے لڑکیوں کو لے کر بعد قطع مراحل  ١١٦١؁ھ میں اولاً وارد برہان پور ہوئے اور لشکر فیروزی میں قیام کیا۔

جب لشکر فیروزی برہان پور سے کوچ کر کے اورنگ آباد آیا تو یہ بھی لشکر فیروزی کے ساتھ ساتھ اورنگ آباد آئے۔ چونکہ ان لڑکیوں کو تحصیل معاش کا کوئی ذریعہ نہ تھا، اس لیے اورنگ آباد پہنچنے کے بعد بھگتیوں کی ترغیب سے رقاصی کا پیشہ اختیار کر کے اپنے کو شہرت دیں اور اس شہرت کے ساتھ اصلی نام تبدیل کر کے نور بی بی برج کنور بائی([1]) اور بولن بی بی بولن کنور بائی اور میدا بی بی راج کنور بائی اور مہتاب بی بی مہتاب کنور بائی سے موسوم ہوئیں۔ اور مہتاب کنور بائی کو (جو راجا سالم سنگھ کے صلب سے تھی) مع راج کنور بائی کے گھر میں چھوڑ کر یہ دونوں ناچ گانےکو جانے لگیں۔ چنانچہ تھوڑے ہی عرصہ میں ان کی شہرت ایسی ہو گئی کہ اکثر امرا و اعزا کے پاس ناچ و مُجرے کی طلبی ہونے لگی اور راج کنور بائی کا اختلاط وار تباط امرائے آصف جاہی سے ایسا بڑھا کہ ہر ایک انھیں کا دم بھرنے لگا۔

عماد الدولہ بہادر و بہادر شاہ اور آصف جاہ بہادر کا انتقال

جن ایام میں کہ آصف جاہ نظام الملک بہادر برہان پور میں مشغول سیر و شکار تھے، اوائل  1161؁ھ  میں یہ خبر بد آئی کہ احمد شاہ ابدالی نے دہلی پر چڑھائی کی اور عماد الدولہ چین قمر الدین خاں مدار المہام سلطنت مقتول ہوئے اور محمد شاہ بادشاہ نے وفات پائی۔

بمجرد استماع اس خبر وحشت اثر کے نواب آصف جاہ بہادر کی خاطرِ شگفتہ پژمردہ ہو گئی۔ چونکہ سن شریف بھی عمر طبعی کو پہنچ چکا تھا، اس لیے دفعتاً مزاج مبارک جادۂ اعتدال سے منحرف ہوا اور ضعف و نقاہت کی زیادتی ہوئی۔ اطبائے حاذق حاضر ہوئے، علاج شروع کیا گیا اور 27؍ جمادی الاول  1161؁ھ کو برہان پور سے کوچ کر کے زیناباد کے جنوب رویہ لشکر فیروزی کا مضرب قیام ہوا۔ لیکن افسوس ہے کہ مرض میں افاقہ نہ ہوا۔ روز بروز ترقی پذیر ہوتا چلا۔ آخر 5؍ جمادی الثانی  1161؁ھ روز یکشنبہ کو اس اولوالعزم اور نامدار رئیس اعظم (آصف جاہ بہادر) نے اعلیٰ علیین کا راستہ لیا۔ بعد انتقال مغفرت مآب کے لقب سے ملقب ہوئے۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔

مہتاب کنور بائی کو ارسطو جاہ بہادر کا اپنے نکاح میں لانا اور صاحب جی صاحبہ خطاب ملنا

اس کے چند روز بعد وہ پیشین گوئی جو نجومیوں نے مہتاب کنور بائی کے نسبت کی تھی، اس کا ظہور ہوا یعنی احتشام جنگ رکن الدولہ بہادر مدار المہام سلطنت آصفیہ مہتاب کنور بائی کے حسن خداداد کے ایسے والہ و شیدا ہوئے کہ اس کی ماں (راج کنور بائی) کو راضی کر کے مہتاب کنور بائی کو اپنے عقد شرعی میں لایا اور صاحب جی صاحبہ خطاب عطا کیا۔

ارسطو جاہ بہادر کے دل میں مہتاب کنور بائی کی محبت و الفت نے ایسا گھر کیا تھا اور اس کے طالع بلند نے ایسی یاوری کی تھی کہ سیر و شکار، سفر و حضر، بلکہ مہمات جنگی میں بھی بہ تجمل و احتشام ہاتھی پر سوار رکن الدولہ کے ہمراہ رہتی تھی اور جہاں کہیں قیام ہوتا تو تمام فوج شاہی صف باندھ کر آداب بجا لاتی۔

جب ارسطور جاہ بہادر، راؤ اعظم مادھو راؤ پنڈت پردھان کی ملاقات کے لیے پونہ کو روانہ ہوئے تو مہتاب کنور بائی بھی ساتھ تھیں۔

بہر حال ارسطو جاہ بہادر کو مہتاب کنور بائی کی جدائی اور مفارقت ایک منٹ کے لیے بھی گوارا نہ تھی اور ارسطو جاہ بہادر کے خاطر و خوشی کے لیے اکثر امرائے نامدار و منصب دار شاہی، مہتاب کنور بائی کا کمال اعزاز و احترام کرتے تھے۔ چنانچہ ظفر الدولہ مبارز الملک بہادر اور شمشیر الدولہ بہادر جیسے امرائے نامدار زنانی ڈیوڑھی (مہتاب کنور بائی کا محل) پر حاضر ہو کر مراسم سلام و نیاز اور عیدین کی مبارکباد بجا لاتے تھے اور محل سرا (مہتاب کنور بائی) کے اندر سے ان امرائے نامدار کو پاندان رخصت مرحمت ہوتا تھا۔

علاوہ بریں خود رکن الدولہ بہادر بھی نہایت عزت و توقیر فرماتے تھے جس کے باعث رکن الدولہ بہادر کے بھائیان شرف الدولہ شرف الملک بہادر، میر حامد یار خاں ارسلان یار جنگ بہادر اور  میر ایزدیار خاں حشمت جنگ بہادر بھی کمال ادب سے آداب بجا لاتے تھے۔ جب رکن الدولہ بہادر نے شہادت پائی تو مہتاب کنور بائی اپنی اصالت و نجابت کے باعث مثل پردہ نشینان عفت مآب کے گوشہ نشینی اختیار کی اور ہمیشہ پنجگانہ نماز اور روزہ، وظائف و اوراد، تسبیح و تہلیل میں تمام عمر بسر کی۔

مان کنور بائی کا تولد

اورنگ آباد کی سکونت کے زمانہ میں راج کنور بائی حاملہ ہوئی اور بعد ایام مقررہ وضع حمل ہونے پر ایک لڑکی پری پیکر، حور منظر پیدا ہوئی، جس کا نام مان کنور بائی رکھا گیا۔ یہ لڑکی ایسی حسین و مہ پارہ تھی کہ ایام دوشیزگی و خورد سالی میں ہی نواب بسالت جنگ شجاع الملک بہادر (جو نواب میر نظام علی خاں بہادر کے بھائی تھے) نے اس کے حسن لاثانی سے والہ و فریفتہ ہو کر اپنے محل میں لا کر رکھا اور نواب ممدوح اس سے اس قدر محبت و دلبستگی رکھتے تھے کہ اگر کبھی کنور بائی بمقتضائے کم سنی لہو و لعب میں مشغول ہوتی تو آپ بھی اس کے پاسِ خاطر سے اس لہو و لعب میں شریک ہوتے۔ مگر افسوس ہے کہ یہ حور  منظر ایک لڑکا پیدا ہونے کے بعد انتقال کی جس کا داغ نواب کے دل پر بے حد ہوا۔

بسالت خاں بخشی صرف خاص سے راج کنور بائی کا تعلق پیدا ہونا

جب ان بھگتیوں نے (کیونکہ یہ لڑکیاں انھیں کے زیر اطاعت تھیں) لشکر آصف جاہی میں اپنے پیدائش و کمائی کی صورت دیکھی تو مستقل طور پر قیام کر لیا اور راج کنور بائی سے اکثر امرائے آصف جاہی محبت و الفت کرنے لگے۔ کیونکہ راج کنور بائی بہ نسبت اپنی دوسری بہنوں کے نہایت قبول صورت، نیک سیرت، صاحب اخلاق اور بامروت تھی مگر کسی کا بھی کمند مدعا راج کنور بائی کے محل مقصور پر نہ پہنچا اور حسب سرنوشت ازلی و تقدیرِ لم یزلی راج کنور بائی کا نقش موانست امیر نامدار نواب بسالت خاں بہادر آصف جاہی بخشی صرفِ خاص کے لوحِ دل پر درست بیٹھا۔

اب یہاں پر مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ناظرینوں کی دلچسپی اور معلومات کے لیے نواب بسالت خاں بہادر بخشی صرف خاص کے حسب و نسب اور خاندانی حالات کا کسی قدر تذکرہ کیا جائے جس سے مہ لقا بائی (جس کی یہ سوانح عمری ہے) کے حسب و نسب کی کیفیت، عالی خاندانی کا حال، شرافت و نجابت کے اسباب ظاہر ہوں۔

اگر تھوڑا سا غور کر کے انصاف سے کام لیا جائے تو یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ مہ لقا بائی کے عالی خاندانی کا سلسلہ نہایت نامور اور شریف خاندان سے تھا۔ لیکن قضا و قدر کے معاملہ میں کس کو چارہ ہے۔ خواجہ محمد حسین خاں کا اسراف و فراری، عیال و اطفال کی بے کسی و بے بسی، خبر گیران مفقود، پرورش کا ذریعہ مسدود، زمانۂ غربت، رذیل صحبت، مجبور و معذور، نالائق رائے کے باعث رقاصی کا پیشہ اختیار کرنا پڑا جس سے خاندان کی عظمت برباد گئی۔ کلنگ کا ٹیکا ماتھے پر ہمیشہ کے لیے نمایاں رہا۔ ورنہ ماہ لقا بائی کے عادات و اطوار، لیاقت و ہوشیاری، فیاضی و جرأت، گفتگو اور سلیقہ، مروت و اخلاق، اوقات و وضع کی پابندی، صوم و صلوٰۃ کا خیال، یہ سب کچھ اعلیٰ خاندانی اور نجیب الطرفینی کے پورے پورے موید و معین تھے۔

میدا بی بی عرف راج کنور بائی (ماہ لقا بائی کی ماں) نے بمقتضائے وقت رقاصی کا پیشہ اختیار کیا تھا لیکن وہ شریف خاندان ضرور تھی۔ کیونکہ اس کی ماں چندا بی بی احمدآباد گجرات کے ایک بزرک کی دختر نیک اختر تھیں اور اس کا باپ خواجہ محمد حسین خاں قصبۂ بارہہ کا رہنے والا ایک شریف خاندان کا یادگار تھا۔ بہر حال راج کنور بائی کو صلب اور بطن دونوں پاک و صاف ملے تھے۔ پھر عجب کیا ہے کہ اس کی لڑکی ماہ لقا بائی جو ایک شریف و نجیب خاندان کے رکن امیر نامدار بسالت خاں بہادر بخشی صرف خاص کے صلب سے پیدا ہوئی ہو، جملہ اوصاف حمیدہ سے متصف نہ ہو اور حسب و نسب کے عادات و خصائل اس کو ورثہ میں نہ ملے ہوں۔ چنانچہ اسی باعث ماہ لقا بائی من حیث المجموع جملہ صفات حسنہ کا مجموعہ تھی۔ خیر آمدم بر سر مطلب۔

بسالت خاں بہادر بخشی صرف خاص کے خاندانی حالات

بسالت خاں بخشی صرف خاص کا اصلی نام بہادر خاں تھا اور بسالت خاں کا موروثی خطاب پیشگاہ سرکار آصف جاہ بہادر سے عطا ہوا تھا۔ آپ (بسالت خاں بہادر) میرزا سلطان نظر المخاطب بسالت خاں و صلابت خاں و معظم خاں کے خلف اکبر و ارشد تھے جن کے خاندانی واقعات تاریخ فتحیہ میں اس طرح مرقوم ہیں کہ:

مرزا سلطان نظر کے حالات

آپ (بسالت خاں بہادر) کے دادا میرزا محمد یار قوم چغتہ برلاس جو شہر بلخ کے معزز و عالی خاندان سے تھے، صاحب قران ثانی شاہجہاں بادشاہ کے عہد میں وارد ہندوستان ہوئے۔ بعد چند روز کے بزمرۂ منصب داران شاہی ملازمت حاصل کی اور ایک شریف خاندان کی بانو سے عقد کیا۔ پروردگار عالم نے ایک فرزند نرینہ عطا فرمایا جس کا نام میرزا سلطان نظر رکھا گیا اور تعلیم و تربیت نہایت عمدگی اور احتیاط سے کی گئی۔ بعد چندے اپنی ذکاوت طبع کے باعث شاہان وقت کی اعلیٰ اور ممتاز خدمات انجام دیں۔ چنانچہ آپ (مرزا سلطان نظر) کو محمد اعظم شاہ کے زمانہ شاہزادگی میں صلابت خاں کا خطاب سرفراز ہوا تھا اور حسب الحکم حضرت خلد منزل رسالۂ محمد اعظم شاہ کے متعلق آپ کو ایسا اقتدار حاصل تھا کہ افراد مناصب پر رسالہ کے آپ ہی کے دستخط ہوتے تھے اور یہ بھی حکم تھا کہ جب کسی منصب دار میں لیاقت و فراست موجود ہو تو منصب دو بستی سے دو ہزاری تک اپنی دستخط سے اجرا کریں۔

تاریخ فتحیہ میں لکھا ہے کہ:

“حضرت خلد منزل نے داروغہ عرض مکرر کو حکم صادر فرمایا کہ محمد اعظم شاہ کے رسالہ کے ملازموں کا منصب دو بستی سے دو ہزاری تک بسالت خاں کی مہر سے جاری کیا جائے کیونکہ ہم نے اس رسالہ کی بخشی گری مثل بخشی اول کے بسالت خاں کے سپرد کی ہے اور خدمت داروغگی داغ و تصحیح و امپنی ہفت چوکی و داروغگی خزانہ اس رسالہ کی بزن خاں کے نام مقرر کی جاتی ہے۔ علاوہ بریں سات لاکھ اشرفی کے توڑے (جو دفتر شاہی میں مہر جلالی لکھی جاتی تھیں) ارابہ پر بار کر کے خان موصوف کو پہنچا دیے جائیں اور تاکید کی جائے کہ یہ رقم ملازمین رسالہ کی تنخواہ میں تقسیم ہو اور سرخ رنگ کے ڈیرے کچہری بخشی گری اور دیوانی داغ و تصحیح و خزانہ کے لیے تیار کر کے اپنے خیمہ کےپاس کھڑے کیے جائیں۔”

چنانچہ ان خدمات و اعزاز کی سرفرازی کے بعد تقریباً دو ہزار تین سو منصب دار جن میں اکثر اعظم شاہی اور بیدار بختی اور والا جاہی اور باقی اشخاص اجنبی تھے جو شاہزادہ کی سفارش سے خاں معز کے رسالہ میں نوکر ہوئے تھے مرحمت ہوئے۔

جب شاہ عالم بہادر نے ہندوستان سے دکن کے جانب محمد کام بخش پر فوج کشی فرمائی تو فوج کا پیش خیمہ خان موصوف کے تفویض کیا گیا اور چغتائی خان([2]) پیش خیمہ کے ہمراہ متعین ہوا اور بادشاہ نے چغتائی خاں کو ارشاد فرمایا کہ تم کو اس ولایت سے کما حقہ واقفیت نہیں ہے، اس لیے بصوابدید بسالت خاں کام کرنا چاہیے۔ چنانچہ ہر دو سردار باتفاق لشکر کے ترتیب اور انتظام کیا کرتے تھے۔

جب بہادر شاہ فوج شاہی کے ساتھ حیدرآباد رونق افروز ہوئے تو محمد کام بخش نے اپنی ضدی طبیعت اور غیور مزاجی کی وجہ سے فوج شاہی کا مقابلہ کیا جس سے ہدف ناوک اجل کا نشانہ بنا اور چغتائی خاں بھی اُنھیں ایام میں بعارضہ جسمانی انتقال کیا۔

اس کے بعد کچھ ایسے امور پیش آئے کہ رسالہ کی تنخواہ چڑھ گئی۔ غلہ کی گرانی اور گھوڑوں کے کاہ و دانہ کی تکلیف ایسی واقع ہوئی کہ بیان سے باہر۔ چنانچہ بسالت خاں نے اس تکلیف و پریشانی کا حال بادشاہ کی بارگاہ میں عرض کیا۔ ارشاد شاہی ہوا کہ اس کا جواب امیر الامرا ذو الفقار خاں میر بخشی کے ذریعہ صادر ہوگا۔ جب چند روز گزرے تو امیر الامرا نے بسالت خاں سے کہا کہ مہمات ضروریہ کے باعث اس قدر رقم خزانہ میں موجود نہیں ہے کہ رسالہ کی تنخواہ بے باق کی جائے لہٰذا چندے تامل کیا جائے۔ بہادر شاہ نے معظم خاں عمدۃ الملک مدار المہام ریاست کو حکم دیا کہ ان لوگوں کی تنخواہ میں کوئی جاگیر تجویز کر کے پیش کرے۔ ادھر رسالہ کے لوگ فاقہ کشی سے جان بلب اور گرانی غلہ سے سخت مجبور ہوئے اور بسالت خاں نے بادشاہ کی خدمت میں مکرر معروضہ پیش کیا کہ “یہ فدوی فرق مبارک کا تصدق جو جاگیر پاتا ہے وہ صرف ذاتی ضروریات کے لیے کافی ہے۔ اس میں اس قدر گنجائش نہیں ہے کہ رسالہ کی تنخواہ بھی دی جائے۔ بہرحال نہ خود بھوکا رہنا ممکن ہے اور نہ ان کو بھوکا دیکھ سکتا ہوں۔ پس امیدوار ہوں کہ یہ رسالہ کسی دوسرے کے تفویض فرمایا جائے۔”

بادشاہ نے امیر الامرا کے ذریعہ بسالت خاں کی فہمائش بہت کی۔ مگر خاں معز نے ایک نہ سنی اور باوجود فہمائش استعفا دے دیا۔ آخر بادشاہ نے اس رسالہ کو مغل([3]) ہارسی کے تفویض فرمایا، لیکن چند روز کے بعد بد انتظامی اور عسرت کے باعث اس رسالہ میں بجز نام کے کوئی باقی نہ رہا۔اکثر آدمی رسالہ کی نوکری سے دست بردار ہو کر شاہزادگان بلند مراتب اور امرائے نامدار کے پاس نوکر ہو گئے۔ چنانچہ اس رواروی کے باعث رسالہ کا شیرازہ پریشان ہو گیا۔

اس کے بعد بادشاہ نے بسالت خاں کو میر آتشی دکن کی خدمت سے سرفراز کرنا چاہا۔ مگر خاں معز نے قبول نہ کی اور صرف بارگاہ شاہی کی حاضر باشی پر اکتفا کیا۔

اس کے چند روز بعد زمانہ نے گردش کھائی اور بہادر شاہ لاہور میں ساقی کے ہاتھ سے پیمانہ اجل نوش کیا۔ بمجرد اس واقعہ کے چاروں شاہزادوں میں فتنہ و فساد برپا ہوا اور ہر ایک اپنی اپنی جگہ بادشاہی کا دم بھرنے لگا اور اپنے اپنے رفیقوں کو خدمات و منصب کی بھی تقسیم شروع کر دی۔ چونکہ بسالت خاں ابتدا سے جہان شاہ (شاہزادہ چھارمی) کی رفاقت میں بسر کرتا تھا، اس لیے جہان شاہ نے اس موقع پر بسالت کو معظم خاں کا خطاب اور اصل و اضافہ منصب شش ہزاری و پنچ ہزار سوار و خدمت بخشی گری سے سرفراز و ممتاز فرمایا۔ لیکن افسوس ہے کہ جہان شاہ اس آپس کی جنگ میں مع اپنے دو بھائیوں کے مقتول ہوا اور شہزادہ معز الدین جہاندار شاہ (جو بہادر شاہ کا بڑا بیٹا تھا) کو فتح نصیب ہوئی اور اورنگ شاہی پر جلوس فرمایا۔ امیر الامرا ذو الفقار خاں کو قلمدان وزارت عطا ہوا۔

چونکہ بسالت خاں کو امیر الامرا سے قدیمی اتحاد و رابطہ تھا اس لیے امیر الامرا نے بسالت خاں کو پیشگاہ جہاندار شاہ میں لے جا کر منصب و خطاب اور جاگیر کی بحالی (جو خلد منزل کے عہد میں تھی) و خلعت فاخرہ و قبضہ شمشیر سے مخلع و ممتاز کرایا۔

اس کے بعد شہزادہ محمد فرخ سیر نے جہاندار شاہ پر فوج کشی کی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جہاندار شاہ قید ہو گیا (جو اس قید میں چند روز کے بعد مر گیا) اور ذوالفقار خاں امیر الامرا قتل کیا گیا اور شاہزادہ فرخ سیر نے سادات بارہہ کی اعانت و امداد سے تخت شاہی پر قدم رکھا اور سید عبد اللہ خاں معروف بہ سید حسن علی خاں نے وزارت کی خدمت سے سرفرازی پائی اور ان کے بھائی سید حسین علی خاں کو بخشی گری کی خدمت اور امیر الامرائی مرحمت ہوئی۔ چنانچہ اس موقع پر امیر الامرا کے ذریعہ بسالت خاں نے بلحاظ لیاقت و جوہر شجاعت بارگاہ فرخ سیر سے خلعت و منصب اور خطاب سند بحالیٔ جاگیر حاصل کی اور چند ہی روز کے بعد امیر الامرا کا رفیق خاص ہو گیا۔

جس وقت امیر الامرا حسب فرمان شاہی راجپوتانہ کے راٹھور و کچواہہ کی تنبیہ و تادیب اور طلب ڈولہ کے لیے مامور ہوئے اور پچاس ہزار سوار جرّار اور تخمیناً تیس اسم امرائے نامدار و صاحب قوت ہمراہ کیے گئے تو امیر الامرا نے بادشاہ سے سفارش کر کے بسالت خاں کو اس فوج کی بخشی گری اور وقائع نگاری سے سرفراز کرا کے ہمراہ لیا۔ مگر اس مہم میں بلا کسی جنگ و جدال کے راجا اجیت سنگھ راٹھور نے برغبت و خواہش اپنی لڑکی کو ڈولہ دینا پسند کیا۔

اس کے بعد جب امیر الامرا صوبجات دکن کے بند و بست و انتظام کے لیے بھیجے گئے تو اس موقع پر بھی خدمات بخشی گری اور وقائع نگاری دکن کی بسالت خاں کو دلوائی۔ چنانچہ خاں معز خلعت فاخرہ اور ایک زنجیر فیل مادہ سے سرفراز ہو کر امیر الامرا کے ساتھ دکن روانہ ہوا۔ اکثر موقعوں پر امیر الامرا خاں معز کی بہت تعظیم و تکریم کرتے تھے۔

جب امیر الامرا دار الفتح بلدہ اجین میں پہنچے تو فرمان([4]) شاہی امیر الامرا کے نام صادر ہوا کہ ان دنوں والیٔ ایران کے پاس سے سید مرتضیٰ خاں ایلچی آیا ہوا ہے۔ پس مابدولت کو لازم ہوا کہ یہاں سے بھی ایلچی روانہ کیا جائے۔ چنانچہ ان اہم خدمات کی انجام دہی کے لیے بسالت خاں تجویز کیا گیا ہے۔ پس فوراً خاں معز کو دربار شاہی میں روانہ کر دیا جائے۔ اس کے علاوہ ایک دوسرا فرمان بسالت خاں کے نام اس میں ملفوف تھا کہ تمھارے لیے امیر الامرا کو لکھا گیا ہے، پس فوراً روانہ ہو جاؤ۔ جس وقت کہ یہ فرمان امیر الامرا نے دیکھا تو بسالت خاں سے کہا کہ ان شاء اللہ تعالیٰ جس وقت کہ میں ملک دکن میں داخل ہو جاؤں گا تو تم کو رخصت کر دوں گا۔

مرزا سلطان نظر المخاطب بسالت خاں کا انتقال

مگر اتفاقات قضا و قدر سے داؤد خاں افغان جو مملکت دکن کا ناظم تھا، امیر الامرا کی اطاعت سے انحراف و سرکشی کی۔ حالانکہ بسالت خاں نے مصالحت میں بہت کچھ کوشش کی مگر سود مند نہ ہوئی۔

آخر جنگ کی نوبت آئی اور داؤد خاں مارا گیا۔ لیکن افسوس ہے کہ اس جنگ میں بسالت خاں بھی مردانہ وار قتل ہوا اور بلدہ دار السرور برہان پور محلہ سنوارہ میں جو خود مرحوم کی خریدی ہوئی حویلی (جو بزمانہ ملازمت شاہ عالم بہادر خریدی تھی) تھی، مدفون ہوا۔ 63 سال کی عمر پائی۔

بسالت خاں کے عادات و خصائل وغیرہ

بسالت خاں نہایت عظیم الجثہ، بلند و بالا، خوبرو و جوان صالح، مروت سے آراستہ اور حسن اخلاق سے پیراستہ تھا۔ پندرہ سال کی عمر سے (جو سن تمیز کا زمانہ کہلاتا ہے) باوجود تکلفات و تکلیف کے نماز پنجگانہ کے علاوہ نماز تہجد کبھی قضا نہ ہوئی تھی۔

جس زمانہ میں کہ محمد اعظم شاہ احمد نگر سے عازم اکبر آباد ہوئے (جس کی مسافت تین سو کئی جریبی کوس شمار کی گئی ہے) تو بسالت خاں باوصف حدت آفتاب و سخت گرمی ایک لمحہ بھی جلو ریزی سے تخت رواں کے منزل مقصود پر پہنچے تک جدا نہ ہوا۔

اور باوصف کثرت مشاغل و رجوع خلائق و سوال و جواب مقدمات ہر وقت نماز تہجد کو بیدار ہو کر بعد ادائے نماز تہجد طلوع آفتاب تک وظائف و ادعیہ و اوراد میں مشغول رہتا تھا۔ ایک دفعہ عالَم کم منصبی میں مرہٹوں کے تعاقب میں تین شبانہ روز متواتر ہوائے سرد و سرما میں گزارنا پڑا تھا۔ چنانچہ بمقتضائے تاثیر ہوائے بارد خاں موصوف کو سخت درد سر عارض ہوا اور ایک آشنا کی ترغیب سے تخفیف درد سر کے لیے تھوڑی افیون بمجبوری استعمال کرنی پڑی تھی۔ سوائے اس کے مُدت العمر کبھی مسکّرات و منہیات کے جانب رغبت نہ کی اور رقص و سرود، لہو و لعب سے نفرت کلی تھی۔ اور بازی نرد و شطرنج، گنجفہ و چوسر کو اعمال تحریمہ و خطائے عظیمہ تصور کرتا تھا۔ مروت و اخلاق میں بے نظیر تھا۔ جو کچھ نقد و جنس تردد و تدبیر سے پیدا اور فراہم ہوا تھا وہ اکثر خالصتاً للہ خیرات و مبرات میں صرف کیا کرتا۔ دو وقت کا کھانا اس کے رفقائے یکرنگ جن کی تعداد ساٹھ تک ہو گی ساتھ کھاتے تھے۔ کھانا بالکل سادہ ہوتا تھا۔ چنانچہ چاشت کے وقت روٹی، کباب، قلیہ اور شام میں خشکہ، قلیہ، پلاؤ زیب دسترخوان رہتے تھے۔

اور نماز ظہر کے بعد قہوہ نوشی بھی کی جاتی تھی جس میں میوہ ہائے تر و خشک موجود رہتے تھے۔ لباس میں بالکل سادگی تھی۔ فقط قبائے سفید (گراں بہا) پہنتا تھا۔ جو جامہ اور دستار ایک بار استعمال میں آتے وہ بغیر شوب کے مکرر استعمال میں نہ آتے تھے۔ اور یہ بھی عادت تھی کہ ملبوسات فاخرہ اس سال کے دوسرے سال میں فقرا اور محتاجوں، رفقا و آشنایوں میں تقسیم کر دیے جاتے تھے۔ جس سال کہ بسالت خاں امیر الامرا کے ساتھ راجپوتان اجمیر کی تنبیہ کے لیے روانہ ہوا تھا تو اخلاص خاں (جو خاص امرائے شاہی سے تھے) نے متعدد رقعات لکھے تھے۔ ازاں جملہ ایک دو کے ترجمے ذیل میں لکھے جاتے ہیں۔

 

رقعہ نمبر ا

خان صاحب مہربان کرم فرما سلامت۔ اس آبادی کے اطراف میں جس کی آبادی میں ہمیشہ زیادتی ہوتی رہے، ہرنوں کی کثرت بہت ہے جس کے لیے ایک چیتے کی ضرورت ہے۔ سنا گیا کہ وہ سرزمین چیتوں کا معدن کھلاتی ہے۔ پس کوئی چیتا گرفتار کر کے فقیر کے لیے بھیج دیجیے کیونکہ شکار کا لقمہ حلال ہے۔ اگر آپ کے دل میں یہ خیال گزرے کہ دعویٰ تو فقیری کا کرتے ہیں اور چیتے کے خواستگار ہیں، لیکن اس  کوکوئی نسبت نہیں۔ کیونکہ جب تک منصب کا نام باقی ہے، یہ آرزو ہمیشہ ہوتی رہے گی۔ جس دن یہ برطرف ہو گی تو یہ آرزوئیں بھی اس کے ساتھ پردۂ نسیان میں آئیں گی۔ علاوہ بریں اس سفر میں دل لگی سے زیادہ صحبت رہتی ہے۔ متانت خاں اور خواجہ عطاء اللہ صحبت میں رکھنے کے لیے بہت اچھے ہیں۔ غالباً آپ جانتے ہوں گے ورنہ آپ جان سکتے ہیں۔ اور محمد مقیم علم طبابت میں کمال رکھتا ہے۔ ایسی لیاقت رکھنے والا نواب صاحب کی خدمت میں رہنا چاہیے۔ خدا کرے کہ ہمارے نواب صاحب اس کا خیال رکھیں اور آپ بھی اس میں توجہ فرمائیں۔

 

رقعہ نمبر 2

صاحب میرے آپ تصور سے بھی زیادہ مہربان ہیں۔ جب فرض کر لیا جائے تو یاد سے جانا ناممکن۔ نیکوں کی یاد کے لیے کوشش نہ چاہیے۔ کیونکہ نیکی خداوند تعالیٰ کو بہت پسند ہے۔ جو کچھ کہ حسّاد و بغض طینتوں کے نسبت لکھا گیا تھا، معلوم ہوا۔ اس میں شک نہیں کہ بعض حسد کیش نیکوں کی برائی چاہتے ہیں مگر حقیقت میں وہ خود اپنے بدخواہ ہیں۔ حضرت مولوی معنوی کےکلام سے ایک رباعی یہاں حسب مناسب معلوم ہوئی لہذا تحریر میں آئی۔ ایک دن مولانا روم اپنے فرزند سلطان کو فرماتے تھے کہ اے لڑکے! کیا تو ہمیشہ بہشت میں رہنا چاہتا ہے، جواب دیا ہاں۔ فرمایا یہ رباعی یاد رکھ کہ تیرے لیے مفید ہے۔

رباعی :

پیشی خواہی زہیچ کس پیش مباش
خواہی کہ تر از ہیچ کس بد نرسد
چوں مرہم و موم باش چوں نیش مباش
بد گو و بد آموز د بد اندیش مباش

الغرض اس شرح و بسط سے یہی ہے کہ میرزا سلطان نظر المخاطب بسالت خاں نامداران روزگار و امرائے باوقار سے تھے جو ازروئے نسب چندا بی بی المخاطب ماہ لقا بائی کے جد اعلیٰ ہوتے ہیں۔ چنانچہ بمضمون (كل شيئ يرجع إلى أصله) ماہ لقا بائی میں بھی حسن اخلاق اور اطوار پسندیدہ اپنے اجداد کے جلوہ افروز تھے۔

الحاصل اب یہاں پر بسالت خاں بہادر کا خاندانی تذکرہ ختم کر کے اصل قصہ کے جانب رجوع کیا جاتا ہے۔ چنانچہ اس کے آگے ہم یہاں تک لکھ چکے تھے کہ راج کنور بائی کے مراسم اتحاد اور روابطِ وِداد بسالت خاں بہادر بخشی صرف خاص سے روز افزوں ترقی پذیر ہوتے چلے۔ چنانچہ ایک زمانہ کے بعد گل آرزو شگفتہ ہوا اور راج کنور بائی کو حمل قرار پایا۔

راج کنور بائی کے بطن اور بسالت خاں بہادر کے صلب سے چندا بی بی المخاطب ماہ لقا بائی کا پیدا ہونا

 

راج کنور بائی کے اسقاط حمل  کے متعلق جناب امیر المومنین علیہ السلام کا معجزہ

جس زمانہ میں کہ راج کنور بائی ماہ لقا بائی کے حمل سے حاملہ تھی تو ایک بار جناب امیر علی السلام کی زیارت کے لیے کوہ شریف پر حاضر ہوئی اور شاہ تجلی علی صاحب مؤلف تزک آصفیہ (جو کمالات ظاہری و باطنی اور خطاطی و مصوری، بذلہ گوئی و لطیفہ سنجی میں فرد یگانہ تھے) بھی بلحاظ علاقہ تابعداری راج کنور بائی کے ہمراہ رکاب تھے۔ دفعتاً کوہ شریف کے مقام پر راج کنور بائی کو اسقاط حمل کے آثار ظاہر ہوئے اور خون جاری ہو گیا۔ فی الفور شاہ تجلی علی صاحب آستانۂ مقدس مرتضوی میں جا کر چند تار ناڑہ کے اور تھوڑی عودی عود دان سے لے کر آئے۔ ناڑہ تو راج کنور بائی کے کمر میں باندھا اور عودی کھلا دی۔ بمجرد اس عمل کے باعجاز مظہر العجائب والغرائب اسد اللہ الغالب علیہ السلام کے خون بند ہو گیا اور حمل قائم رہا۔

تولد چندا بی بی المخاطب ماہ لقا بائی

جب ایام حمل منقضی ہوئے تو بتاریخ 20؍ ذی قعدہ  1181؁ھ روز دو شنبہ کو جب آفتاب عالمتاب دو نیزے برابر آیا، ساعت قمر میں ایک ماہ پیکر حور منظر لڑکی تولد ہوئی۔ منجموں نے چندا بی بی نام رکھا۔ مورخ کا بیان ہے کہ تولد کے وقت دفعتاً ایسی روشنی ہوئی کہ تمام حجرہ منور ہو گیا۔ تمام حاضرین اس مشاہدہ سے متحیر و متعجب ہوئے۔

جشن چھٹی کا تکلف

تولد کے پانچویں روز چھٹی شب کو رستم دل خاں کی حویلی میں حسب فرمان خسروی جشن چھٹی مقرر ہوا۔ جہاں شیر جنگ منیر الملک بہادر تشریف رکھتے تھے اور احتشام جنگ رکن الدولہ مدار المہام ریاست آصفیہ نے اس حویلی کو لے کر نہایت تکلف سے آراستہ کیا تھا اور بموجب حکم نواب غفران مآب غلام سید خاں سہراب جنگ ارسطو جاہ اور راجا پرتاب ونت وٹھل داس دیوان آصفجاہی کے بھتیجے اور دوسرے امرائے نامدار کمال تکلف و اہتمام سے افواج شاہی کے ساتھ چھٹی کی کھچڑی ہاتھیوں پر بار کر کے لائے اور رسم تہنیت ادا کی۔ چنانچہ اس جشن کے رسومات ایک مدت تک نہایت تکلف و عمدگی سے ادا ہوتے رہے۔

راج کنور بائی کا چندا بی بی کو صاحب جی صاحبہ (مہتاب کنور بائی) کی آغوشی میں دینا

چونکہ صاحب جی صاحبہ (مہتاب کنور بائی) محل احتشام جنگ رکن الدولہ بہادر کے بطن سے کوئی اولاد نرینہ موجود نہ تھی، اس لیے راج کنور بائی نے چندا بی بی کو صاحب جی صاحبہ کی آغوش فرزندی میں دے دیا اور خود عبادت و خدا طلبی میں مشغول ہوئی۔ اگرچہ میدا بی بی (راج کنور بائی) کا نام بحسب سرنوشت، کسبیوں کی فہرست میں شامل ہو گیا تھا، لیکن والا گہری اور نجابت فطری کے باعث ہمیشہ نجیب پروری اور قدر دانی کرتی رہتی تھی اور مُدام اپنا وقت نماز پنچگانہ، وظائف و اوراد، تسبیح و تہلیل میں گزارتی تھی۔ مشائخین کرام اور علمائے علّام سے کمال اعتقاد تھا۔ آخر اہل سلوک و اہل باطن کی صحبت نے اپنا رنگ جمایا، چنانچہ اکثر کشف باطنی و مراقبہ و تصور میں محنت کرتی اور آخر شب سے یک پہر دن تک وظیفہ میں مشغول رہتی تھی۔ اس درمیان میں کسی سے بات چیت نہ کرتی تھی۔

راج کنور بائی کی فیاضی

اکثر مشائخین و فقرا کو بقدر مراتب اس فیاض عورت نے فی کس ایک ایک ہزار اور بعض اوقات دو دو ہزار روپیہ تک نقد بخشش و تواضع کرتی تھی۔ چنانچہ اس کی فیاضی کی شہرت بہت دور دور تک تمام ہند و دکن میں مشہور ہو گئی تھی۔ بعض اوقات ہندوستان اور اس کے اطراف و اکناف سے قوال کلاونت، گویے بھی آتے تھے جن کو میدا بی بی (راج کنور بائی) کے خوان کرم سے بمقتضائے قدر دانی و نیک نامی دس دس  ہزار روپیہ تک نقد اور خلعت ہائے مکلّل و زرّیں دو شالہ ہائے بیش قیمت، زنجیر ہائے فیل، جواہر وغیرہ مرحمت ہوتے تھے۔ بہر حال کوئی سائل اس کے دروازے سے محروم نہیں گیا۔ کچھ نہ کچھ حسب مقدور ہر ایک کو مل ہی جاتا تھا۔

راج کنور بائی کے تصرفات

اب زہد و تقوی کے تصرفات و کمالات ملاحظہ ہوں۔ ایک دفعہ لشکر فیروزی دریائے کشنا سے گنگا کو عبور کر رہا تھا اور دریا نہایت طغیانی پر ہونے کے باعث سوائے ہاتھی کے عبور مشکل تھا۔ چنانچہ تمام محلات و لشکر بمشقت مالا کلام گھوڑے اور ہاتھیوں پر سوار شناوری کرتے ہوئے عبور کر رہے تھے۔ راج کنور بائی حسب معمول پالکی میں سوار تھیں اور پالکی کی سواری میں دریا کا عبور ناممکن تھا۔ لہذا راج کنور بائی نے رکن الدولہ بہادر کو کہلا بھجوایا کہ ہمارے عبور کے لیے ہاتھی روانہ کیا جائے۔ اتفاقاً ہاتھی کے پہنچنے میں ایک گھڑی کی دیر ہو گئی۔ چونکہ راج کنور بائی کا مزاج بہت تیز تھا، اس لیے برآشفتہ ہو کر اپنے ہمراہیوں کی سواری کا رتھ منگا کر سوار ہوئی اور بلا پس و پیش اس دریائے پرجوش و پر خروش میں رتھ کو ڈال دیا۔ حالانکہ دریا کا پانی اس قدر عمیق تھا کہ ہاتھیوں کی گدیاں تر ہوتی تھیں۔ مگر تعجب اور حیرت کا مقام ہے کہ راج کنور بائی کے رتھ کے پایوں سے ایک انچ بھی پانی اونچا نہ ہوا۔ چنانچہ رتھ مع الخیر دریا کے پار ہو گیا۔ اس ماجرائے عجیب و غریب سے نواب رکن الدولہ بہادر کمال متاثر ہوئے۔ گو اس کے آگے بھی راج کنور بائی کی عزت و احترام بلحاظ صاحب جی صاحبہ (مہتاب کنور بائی) کی ماں ہونے کے بہت کچھ کرتے تھے لیکن اس تصرف کے معائنہ سے اور بھی عظمت و بزرگی راج کنور بائی کی آپ کے دل میں جاگزیں ہو گئی۔

اسی قبیل کا ایک اور واقعہ یہ ہے کہ جس زمانہ میں رکن الدولہ بہادر نے قلعہ گوپال پیٹھ کا محاصرہ کیا تھا تو پانی ہر روز علی الاتصال بلا فاصلہ افراط و شدت سے ایسا برستا تھا کہ قلعہ مذکور کی تسخیر لشکریوں کو ناممکن الوقوع ہو گئی تھی۔ چنانچہ اس موقع پر رکن الدولہ نے راج کنور بھائی کو کہلا بھیجا کہ بارش کی زیادتی سے قلعہ کی تسخیر دشوار ہو گئی ہے۔ چونکہ آپ شاغل و کا سب ہیں، لہذا دعا کیجیے کہ بارش میں تخفیف ہو۔ اس پیام کے سنتے ہی راج کنور بائی نے اول تو عجز و انکساری کے ساتھ عذر کیا اور بعد میں کہا کہ اچھا جاؤ رکن الدولہ بہادر کو مژدہ دو کہ آئندہ پروردگار عالم کی قدرت کاملہ سے ہر روز صبح سے تین بجے تک مطلع صاف رہے گا اور مطلق بارش نہ ہو گی؛ اس عرصہ میں قلعہ گیری کا سامان کر لیا جائے۔ چنانچہ اس کے بعد حسب قول راج کنور بائی بارش نے صبح سے تین بجے تک برابر فرصت دی اور بہ فضل فتاح حقیقی قلعہ فتح ہو گیا۔

اسی طرح اور بہت سے خرق عادات اور تصرفات اس خجستہ صفات سے اکثر ظاہر ہوئے ہیں جو بلحاظ طوالت نظر انداز کیے جاتے ہیں۔

راج کنور بائی کا انتقال

افسوس ہے کہ یہ عفیفۂ دوراں، خجستہ خصال، عابدہ و زاہدہ کلمہ گویاں، شاداں و فرحاں 19؍ محرم الحرام کو راہی روضۂ رضوان ہوئی اور اپنے حسن نیت کے باعث کوہ فلک شکوہ مرتضوی علیہ السلام کے پائیں باغ میں دفن کی گئی۔ چنانچہ ہر سال ماہ لقا بائی نہایت تکلف و اہتمام سے عرس کرتی تھیں اور عرس کےموقع پر کمال تجمل و احتشام رہتا تھا۔ ہزار ہا مساکین و فقرا  دو وقتہ بریانی اور زردہ کھاتے تھے۔ کلام مجید کا ختم ہوتا، چراغوں کی روشنی بکثرت ہوتی۔ ناچ رنگ کا بھی عمدہ تھاٹ رہتا تھا۔ مشاعروں کی بھی ترتیب ہوتی تھی۔

الحاصل چندا بی بی (ماہ لقا بائی) صاحب بی صاحبہ کی آغوش محبت میں بہت کچھ ناز و نعم سے پرورش پائی اور ہر ایک علم و فن میں کمال حاصل کیا۔ علم موسیقی میں یکتائے روزگار تھی۔ چہرہ سے امارت کے آثار ہویدا تھے۔ امرائے نامدار اور بارگاہ شاہی میں ہمیشہ باریابی کا فخر حاصل رہتا تھا۔ کوئی مجلس بزم و طرب کی ایسی نہیں ہوتی تھی کہ جس میں ماہ لقا بائی شریک نہ ہوتی ہو۔ بندگان حضرت کے الطاف و عنایات بے حد مبذول رہتے تھے اور اکثر سیر و شکار و مہمات میں بھی ماہ لقا بائی کی یاد ہوا کرتی تھی۔ چنانچہ  1196؁ھ میں سفر کولاس اور  1197؁ھ میں تسخیر قلعہ نرمل اور  1217؁ھ میں مہم قلعہ پانگل میں یہ پری پیکر ہاتھی پر سوار حضرت غفران مآب کے ہمراہ رکاب تھی۔

چندا بی بی کو بارگاہ خسروی سے ماہ لقا بائی کا خطاب اور نوبت و گھڑیال کا عطا ہونا

 

جب بندگان عالی مع الخیر سفر پانگل سے معاودت فرمائے تو  1217؁ھ میں حیدرآباد پہنچ کر ایک جشن عشرت افزا مرتب فرمایا اور تمام امرا و منصب دار خطاب و منصب، علم و نقارہ سے سرفراز و ممتاز کیے گئے اور بمناسبت نام کے چندا بی بی کو ماہ لقا بائی کا خطاب اور نوبت و گھڑیال (جو لازمۂ منصب داری ہے) سے سرفراز فرمایا۔ چنانچہ عطائے نوبت کی تاریخ ایک صاحب نے حسب ذیل لکھی ہے:

قطعہ

نوید آمد بعالم مہ لقا را
ترانہ ساز سالش گفت ناہید
نوازش کرد از نوبت شہنشاہ
بلند آوزہ نوبت باد دلخواہ

انتقال پرملال نواب نظام علی خاں بہادر

نواب نظام علی خاں بہادر بعمر 72 سالہ 18؍ ربیع الثانی 1218؁ھ کو راہی روضۂ رضوان ہوئے۔ 44 سال حکمرانی کی اور بعد انتقال غفران مآب لقب ہوا۔ اس صدمۂ جانکاہ سے رعایا برایا، امیر و غریب ہر ایک متاسف و متالّم ہوا اور مرشد زادۂ آفاق نواب میر اکبر علی خاں سکندر جاہ آصفجاہ ثالث مسند نشین ریاست ہوئے اور ارسطو جاہ بہادر حسب سابق مدار المہام ریاست رہے۔ چنانچہ آصف جاہ ثالث کے عہد میمنت مہد میں بھی اس نادرۂ روزگار کا طالع عروج پر رہا اور وہی نوازشات شاہی و الطاف خسروی شامل حال رہے۔ اکثر چوبدارِ شاہی خیریت و مزاج پرسی کے لیے آتا رہتا تھا۔

ماہ لقا بائی کو میر عالم بہادر کی مصاحبت کا حاصل ہونا

جب ارسطو جاہ نے رحلت پائی اور میر ابو القاسم نواب میر عالم بہادر مدار المہام ریاست ہوئے تو یہ عجوبۂ روزگار ان کی مصاحب خاص ہو گئی۔ چونکہ میر عالم بہادر کا مزاج قدردان اہل کمال تھا اور فصاحت و بلاغت میں حسان و سحبان پر گوئے سبقت لے جاتے تھے۔ اس لیے ماہ لقا بائی کی صحبت اور لطیفہ گوئی اور حاضر جوابی سےکمال محظوظ ہوتے تھے اور اکثر شعر گوئی کی صحبت رہا کرتی تھی۔ میر عالم بہادر کا مقولہ تھا کہ ایسا جلیس و انیس اور تلمیذ ارشد، تیز فہم، طبع رسا مثل ماہ لقا بائی کے کم دیکھنے میں آیا ہے۔ چنانچہ آپ نے ماہ لقا بائی کے حسن و جمال کی تعریف میں ایک سراپا تصنیف فرمایا تھا جو بخوف طوالت اور زبان فارسی میں ہونے کے نظر انداز کیا گیا۔

ماہ لقا بائی کی شاعری

ماہ لقا بائی کو شعر گوئی سے بے حد شوق تھا اور امیر علیہ السلام کی جناب میں کمال اعتقاد رکھتی تھی۔ چنانچہ اس کا طبعزاد ایک مختصر سا دیوان ہندی ہدیۂ ناظرین کیا جاتا ہے اور تمام غزلیات بالالتزام پانچ شعری ہیں۔ ہر ایک مقطع میں امیر علیہ السلام کا اسم مبارک موجود ہے۔ ماہ لقا بائی کو میر عالم بہادر کی شاگردی کا فخر حاصل تھا۔ چنانچہ خود بہادر موصوف کو اس کی شاگردی کا اعتراف ہے۔

ماہ لقا بائی کے خصائل و عادات

باوصف سامان ثروت و حشمت ماہ لقا بائی کا اخلاق اور تواضع بہت بڑھا ہوا تھا۔ اکتساب علم کے لیے اکثر فصحا، علما، شعرا کی صحبت رہتی تھی۔ چونکہ طبیعت موزوں پائی تھی، اس لیے ضلع جگت میں طاق، لطیفہ گوئی اور حاضر جوابی میں شہرۂ آفاق تھی۔ محاورہ درست روزمرہ چست تھا۔ ہمیشہ مکمل لباس سے آراستہ و پیراستہ رہتی تھی۔ بروقت طلبی بارگاہ خسروی پر حاضر ہوتی تھی۔ باقی اوقات کتب سیر و کتب متداولہ کے مطالعہ میں گزرتے تھے۔ کتاب خانہ ہر ایک علم و فن کی کتب سے مملو تھا۔ چونکہ اس زمانہ میں مطبع نہ تھا اس لیے اکثر کتابوں کی نقل کر لی جاتی تھی، چنانچہ متعدد کاتب ملازم تھے۔ کوئی کتاب نظم و نثر کی تازہ نظر آ جائے تو فوراً اس کی نقل کر لی جاتی۔سخن سنجی اور قدر دانی میں اس محبوبۂ روزگار کی ذات مغتنمات سے تھی۔ ہر روز ہزاروں فقرا اور مساکین کا ہجوم رہتا تھا۔ سادات کرام و مشائخین عظام کو بعنوان نذر و نیاز بہت کچھ عطا کرتی تھی۔

تکلف و اہتمام عرس کوہ شریف

گو جناب شاہ ولایت نے زمین ہندو دکن کو اپنے قدوم ولایت لزوم سے منور نہیں فرمایا ہے لیکن معجزہ طی الارض لازم و ملزوم ہے۔ چنانچہ ایک موقع پر جناب امیر علیہ السلام حسب الارشاد آں سرور کائنات صلی اللہ علیہ و آلہ و اصحابہ وسلم ایک درویش محتاج کی حاجت روائی کے لیے طرفۃ العین میں مع فقیر محتاج کے قدم رنجہ فرمائے تھے۔ جہاں آپ نے ایک آن واحد میں بربر کے بند کو باندھا، اژدر کو مارا،خود کو بیچا اور درویش کی حاجت روائی کر کے واپس ہوئے۔ اس لیے تعجب کا مقام نہیں ہے کہ امیر علیہ السلام نے کسی شخص کی مشکل کشائی یا ترویج دین محمدی کے لیے سواد حیدرآباد دکن کو بھی اپنے نعلین سے ضرور شرف بخشا ہو گا جس کی تاثیر سے کوہ پُرشکوہ پر عظمت و جلال کے آثار نمایاں ہیں۔ اگرچہ حضر ت کی ولادت باکرامت 13؍ رجب 30 عام الفیل کو ثابت ہے، لیکن سلاطین قطب شاہیہ کے عہد سے کوہ شریف کا عرس 17؍ رجب کو انجام پاتا ہے ۔ لاکھوں مرد و زن وضیع و شریف، غنی و فقیر، برنا و پیر، صغیر و کبیر بلدۂ حیدرآباد اور اطراف و اکناف کے اضلاع سے کوہ فلک شکوہ پر جمع ہوتے ہیں اور نذر و نیاز ادا کر کے غربا و مساکین کو کھانا کھلاتے ہیں اور اقسام اقسام کے لذیذ اور میوہ ہائے خشک و تر سے دسترخوان چنا جاتا ہے جو آج تک جاری ہے۔

چنانچہ عرس شریف کے ایام میں ماہ لقا بائی کوہ شریف پر جا کر شاہِ ولایت علیہ السلام کے عرس میں حاضر ہوتی تھی اور ہر گروہ کے فقرا و مشائخین اس عرس میں فراہم ہوتے تھے۔ چار روز تک برابر دو وقتہ اقسام اقسام کے کھانے ماہ لقا بائی کے مطبخ سے کھلائے جاتے تھے اور رخصت کے وقت ہر فقیر کو ایک روپیہ نقد اور بعض کو بقدر مراتب پانچ روپیہ خیرات۔ مشائخین کو پچاس سے سو روپیہ تک نقد بعنوان نذر اللہ بوجہ اللہ عطا کرتی تھی اور خدام و مجاوران درگاہ شریف کو نقد روپیہ اور پارچہ وغیرہ بخشش کیا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ ہر ماہ میں حسب دستور و معمول کوہ شریف پر جا کر مبلغ پانصد روپیہ کے قریب صرف کرتی تھی۔

عشرہ شریف میں عزاداری اور سوز خوانی کا اہتمام

جس وقت محرم محترم کا مہینہ آتا تو ماہ لقا بائی حضرت امام حسین علیہ السلام کے غم میں لذیذ غذا کو ترک کرتی تھی اور بلدہ کے تمام عاشور خانوں میں (جن کا شمار ناممکن ہے) یہ راسخ الاعتقاد ایک روپیہ سے پانچ روپیہ تک بقدر مناسب نذر و نیاز گزرانتی تھی۔ سادات کرام و محبان اہل بیت علیہ السلام کو ہزاروں روپیہ کی بخشش ان کے رتبہ کے موافق کرتی تھی۔ چنانچہ غرۂ محرم سے زیارت تک اسی سرمایہ نجات کے جمع کرنے میں رہتی تھی۔ ماہ لقا بائی کا عالیشان محل ایلچی بیگ کی کمان میں واقع تھا جس کے تمام طاق و ر واق، سقف و کٹگر مذہّب و مطلّا تھے۔ چونکہ اس مکان میں اکثر تعلیم رقص و سرود کی ہوتی تھی، اس لیے بپاس ادب سید الشہدا علیہ السلام علم ہائے مبارک کے لیے محل کے محاذی ایک عاشور خانہ تعمیر کرایا گیا تھا اور عاشور خانہ کے سامنے نقار خانہ قائم کیا گیا تھا۔ غرہ محرم سے عاشور خانہ طرح طرح کے نقوش سے آراستہ ہوتا تھا اور وہاں بجز فاتحہ خواں یا باوضو شخص کے کوئی دوسرا جانے نہیں پاتا تھا۔ یہ بھی تاکید تھی کہ کوئی شخص سرخ لباس پہن کر نہ آئے۔ خطبۂ تعزیت پڑھنے کے لیے سیاہ مخمل منڈھا ہوا ایک منبر استادہ کیا جاتا تھا جہاں روضۃ الشہدا واقعات مقبل، بند ملا محتشم پڑھے جاتے تھے اور عاشور خانہ کے مقابل میں روشنی کے لیے کٹگر باندھا جاتا جس کے سامنے کے رخ پر سرخ کپڑا لپیٹ کر بند رومی کی جال وچار خانہ اور ابیات وغیرہ نمایاں کیے جاتے تھے۔ غرہ محرم سے شب عاشور تک اول شب سے صبح تک برابر روشنی رہتی تھی۔ سرشام مرثیہ خواں نہایت خوش الحانی سے سوز خوانی کرتے تھے۔ اس کے بعد روضہ خواں بحکم حدیث شریف من بکــا علی الحسین أو أبــکی أو تباکی وجبت له الجنة حدیث پڑھتے تھے۔ اس کے بعد تعزیہ داری اور سینہ زنی ہوتی تھی جس سے ہنگامہ محشر بپا ہوتا تھا۔ تعزیہ داری میں جب کوئی شخص بے ہوش ہو جاتا تو اس پر گلاب پاش سے گلاب چھڑکا جاتا تھا۔ اس کے بعد دسترخوان چنا جاتا اور تمام شرکائے مجلس کو اقسام اقسام کے کھانے کھلائے جاتے۔ چنانچہ دس روز تک برابر یہ عمل جاری رہتا تھا۔ جب رات زیادہ ہوتی اور خلائق کا ہجوم کم ہوتا تو خاص خاص لوگ تعزیہ داری اور سینہ زنی کے لیے آتے تھے۔

ترتیب جشن حیدری

13 رجب کو ہر سال انجمن جشن حیدری منعقد ہوتا تھا جس میں شاہ اولیا کی منقبت خوانی ہوتی تھی اور ہر قسم کا سامان ماکول و مشروب مہیا و موجود رہتا تھا۔

نیاز یاز دھم شریف

11 ربیع الثانی کو جناب سید عبد القادر جیلانی قدس سرہ العزیز کی نیاز یازدہم شریف نہایت تکلف و اہتمام سے انجام پاتی تھی۔ طرح طرح کی نعمتیں محتاجوں اور مساکینوں کو کھلائی جاتیں۔ علاوہ بریں فقرا و مساکین کو نقد روپیہ اور پارچہ تقسیم کیا جاتا۔

کھٹ درسن کا میلہ

سال میں ایک میلہ کھٹ درسن کے نام سے کیا جاتا جس میں پہلے روز فقرائے نو و کہن ملک ہند و دکن، حفاظ و قرا فصاحت فن و مشائخین معارف مسکن کی دعوت اور تمام مشائخین بلدہ کے گھروں میں ایک سیر مٹھائی بھیجی جاتی۔ اگر کوئی مشائخ صاحب اولاد یا اہل برادر ہوتے تو ہر ایک کے نام بنام (خواہ وہاں 20 شخص کیوں نہ ہوں) وہی سیر سیر بھر مٹھائی بھیجی جاتی۔ حفاظ و قرا کو بھی اسی موافق ایک ایک سیر شیرینی دی جاتی تھی۔ دوسرے روز تمام فقرا آزاد و مداری و قادریہ و چشتیہ و چاردہ خانوادہ و رفاعی و گزر والہ حبشیہ و فقرائے بابا پیاری کا میلہ جمع ہوتا تھا۔ ہر ایک کے لیے اکل و شرب کا انتظام کیا جاتا اور شیرنی وغیرہ کی تواضع کی جاتی۔ اس میں سو سو کوس کے فقرا جمع ہوتے تھے۔ تیسرے روز مساکین و غربا و مفلوج و معلول جمع ہوتے جن کی تعداد قریب ستر 70 ہزار کے ہوتی تھی۔ ان لوگوں میں فی کس آدھ سیر شیرینی تقسیم کی جاتی تھی۔ چوتھے روز جوگی اور بیراگی جمع ہوتے جن کو اچھی طرح مال پوری کھلائی جاتی تھی۔ بہر حال عجب عالی ہمت اور فیاض عورت تھی کہ جہاں کوئی قوم یا جماعت محروم نہ رہتی تھی۔

اگر سچ پوچھیے تو ماہ لقا بائی نے اپنی زندگی نہایت کامیابی سے گزاری۔ ہمیشہ اس کا ستارۂ اقبال اوج و ترقی پر رہتا تھا۔

ماہ لقا بائی کا انتقال

مگر افسوس ہے کہ یہ فرشتہ خصال، حور منظر، پری پیکر، حاتم دل 1236؁ھ میں بعہد میمنت مہد نواب سکندر جاہ بہادر چھپن سال کی عمر میں اس دار ناپائیدار سے بعارضہ و باراہی روضہ رضوان ہوئی اور اپنے تعمیر کیے ہوئے مقبرہ واقع پائیں کوہ شریف میں دفن کی گئی۔

محدثات ماہ لقا بائی

ماہ لقا بائی کے محدثات سے ایک عالیشان حویلی ایلچی بیگ کی کمان میں واقع تھی۔ دوسرا ایک حوض موسوم بہ فی سبیل اللہ کوہ شریف کی گزرگاہ میں تیار کیا گیا تھا۔ چنانچہ حوض کی تعمیر کی تاریخ جو کسی شخص نے کہی ہے، درج ذیل ہے :

انتخابِ زمانہ ماہ لقا
سال ایں چشمہ خضر گفت ہمیں
در جہاں شد بکار خیر کفیل
باد جاری بآب فیض سبیل

مگر اب نہ وہ عالیشان حویلی باقی رہی ہے او ر نہ وہ حوض ہی موجود ہے۔ یہ دونوں انقلاب زمانہ کے باعث دوسری حیثیت میں ہو گئے ہیں۔ البتہ اب صرف عاشور خانہ باقی ہے جہاں علم مبارک استادہ ہوتے ہیں۔

ماہ لقا بائی کے اوقات کی پابندی

ماہ لقا بائی جب صبح میں بیدار ہوتی تو پرستاران یاسمین اندام و کنیزان سوسن فام (جو خدمت گزاری پر مامور تھے) آفتابہ اور سیلابچی وضو کے لیے حاضر کرتے اور بعد از فراغ وضو مُصلا بچھا کر نماز ادا کرتی تھی۔ اس کے بعد وظائف میں مشغول ہوتی اور صحیفۂ کاملہ جناب سید الساجدین امام علی زین العابدین علیہ السلام پڑھ کر طلوع آفتاب تک اپنے دل کو جناب کبریا کے طرف رجوع کرتی۔ بعد ازاں کلام مجید کی تلاوت ببر علی مشہور بہ لاڈلے صاحب سے کرتی تھی۔ چاشت کے وقت دسترخوان چنا جاتا، اقسام اقسام کے کھانے موجود رہتے۔ خود بہت کم خوراک تھی، تھوڑا کھانے کے بعد تمام باقی حواشین و رفقا میں تقسیم کر دیا جاتا۔ اس کے بعد بالا خانہ پر قیلولہ کے لیے جاتی۔ وہاں سے فارغ ہو کے ظہرین کی نماز ادا کر کے تسبیح و تہلیل میں مشغول ہوتی اور ٦ گھڑی دن رہے دیوان خانہ میں بڑا قالین بچھایا جاتا اور اس پر مسند آراستہ کی جاتی۔ منشی، متصدی اور اہلکار کارخانہ حاضر ہو کر افراد مداخل و مخارج ملاحظہ میں گزرانتے۔ جب اس سے فراغت پاتی تو ایک دو بزرگ قابل و سخندان مجالست و ہم بزمی کے لیے حاضر ہوتے۔ چنانچہ علم سیر میں روضۃ الصفا، حبیب السیر، جلاء العیون، نادر نامہ وغیرہ کا مطالعہ رہتا اور دواوین فارسی و ہندی نہایت مرغوب خاطر تھے۔ جب شام ہوتی تو نماز مغرب و عشا ادا کرتی۔ بعد ازاں فن موسیقی کے اساتذہ حاضر ہوتے۔ رقص و سرود کی تعلیم ہوتی۔ چنانچہ کنیزان مہ پارہ مردنگ و سارنگ اور قانون و جلترنگ بجاتے اور خوش الحانی میں ہم آواز رباب و چنگ تھے۔

 

(بقیہ اگلے صفحہ پر)

گو خود علم موسیقی میں کامل الفن تھی لیکن پھر بھی خوشحال خاں کلانونت([5]) سے اس کے نکات و دقیقہ دریافت کرتی رہتی تھی۔

یوں تو ماہ لقا بائی کے تین سو کنیزیں اور متعدد خانہ زاد تھے۔ ازاں جملہ دو چھوکریاں موسوم بہ حسین افزا بائی اور حسین لقا بائی سربرآوردہ ممتاز نکلیں۔ چنانچہ بعد انتقال([6]) ماہ لقا بائی کے یہ دو نوچیاں تمام مال و اسباب کی مالک ہوئیں۔ کہتے ہیں کہ علاوہ عمارات و باغات وغیرہ کے صرف نقدی و جواہر و پشمینہ و اسباب وغیرہ ایک کڑوڑ روپیہ کا تھا۔ مزید برآں مواضعات پنپال، سید پلی، حیدر گوڑہ، چندا پیٹھ، پلے پہاڑ، مقطعہ علی باغ، مقطعہ اڈی پیٹھ جاگیرات بھی تھیں۔ چنانچہ بعد انتقال ماہ لقا بائی کے نواب سکندر جاہ بہادر کا حکم مہاراجا چندو لال بہادر کے نام یہ صادر ہوا کہ ماہ لقا بائی کی تمام جائیداد اور جاگیرات نگرانی میں لے لیے جاویں اور کنیزکوں و خانہ زادوں کو حسب مناسب تنخواہ کر دی جائے۔ پس مہاراجا بہادر نے حسب فرمان شاہی ماہ لقا بائی کا تمام مال و اسباب جواہر و نقدی وغیرہ کو منگا لے کر جاگیرات پر ضبطی بھیج دی اور خالصہ کا عمل کر لیا گیا۔ اس کے بعد کنیزکوں اور خانہ زادوں کو فی نائکہ دس روپیہ، فی کنیز پانچ روپیہ، فی خانہ زاد سات روپیہ کے حساب سے تنخواہ اجرا فرما دی۔

ایک مدت تک یہی عمل جاری رہا۔ لیکن جب نواب سکندر جاہ بہادر مغفرت منزل نے 1224؁ھ میں انتقال فرمایا اور نواب ناصر الدولہ بہادر سریر آرائے سلطنت دکن ہوئے تو حسین افزا اور حسین لقا مثل ماہ لقا بائی کے باریاب بارگاہ خسروی ہوئیں اور روز بروز نوازشات شاہی مبذول ہونے لگیں اور ماہ لقا بائی کا تمام مال و اسباب ان دونوں کو واپس ملا اور جاگیرات وغیرہ بھی ان دونوں کے نام بحال کر دیے گئے۔ چنانچہ یہ دونوں اپنے اپنے زمانہ زندگی تک نجیب پرور، صاحب سلوک و قدردان و فیاض رہیں جو اب تک ان کی فیاضی اور قدر دانی کا فسانہ بعض بعض کبیرسن حضرات کے زبان زد ہے اور ان دونوں کی احداثات سے نام پلی کے راستہ میں ایک عالیشان باغ و مکان حسین لقا کے باغ سے موسوم اور لنگم پلی میں ایک عمدہ باغ و مکان حسین افزا کے نام سے اب تک مشہور ہے۔

حسین افزا اور حسین لقا کے پاس بھی پروردہ لڑکیوں کی تعداد بے حد و بے شمار تھی۔ مگر ان میں سے حسین افزا کے تین پروردہ نگینہ بائی، کامنی بائی، سالو بائی اور حسین لقا کے دو پروردہ موتی بائی، دلا رام بائی داخل محلات نواب افضل الدولہ بہادر مغفرت مکان ہوئیں۔ چنانچہ اس وقت حضرت سالو بائی صاحبہ و حضرت دلا رام بائی صاحبہ (محلات حضرت مغفرت مکان) زندہ وحی القائم ہیں۔ باقی نگینہ بائی صاحبہ و کامنی بائی صاحبہ و موتی بائی صاحبہ انتقال کر گئیں۔

حسین افزا نے 1260؁ھ میں انتقال کیا اور حسین لقا نے 1262؁ھ میں وفات پائی۔ جب ان دونوں کا انتقال ہو گیا تو بمصداق اس کے کہ آں قدح بشکست و آں ساقی نماند کے طائفہ کا وجود باقی نہ رہا اور سب مثل اوراق پریشاں کے ادھر اُدھر ہو گئیں اور ان دونوں کے بعد کوئی ایسی لائق و قابل نائکہ نہ رہی کہ ان اوراق پریشاں کو اکٹھا کر کے شیرازہ باندھتی اور ماہ لقا کے نام کو زندہ کرتی۔ بہرحال ماہ لقا بائی کے واقعات اس وقت ایسے ہیں کہ ؏                  خواب تھا جوکچھ کہ دیکھا جو سنا افسانہ تھا

یہاں یہ واقعہ بھی قابل ذکر ہے کہ حسین لقا و حسین افزا کے انتقال کے بعد مہاراجا بہادر نے محمد مقبولہ مرحوم (جو ماہ لقا بائی کے پرورش یا فتہ متبنیٰ بہ نسبت دوسروں کے لائق و سربرآوردہ تھے) کو ایک زنجیر فیل، ایک مادہ اسپ، ایک منزل میانہ، ساٹھ روپیہ ماہوار اور مواضعات پنپال و ٹرچرلہ و مقطعہ اڈی پیٹھ و علی باغ عطا و سرفراز کر کے ماہ لقا بائی کے عاشور خانہ و مقبرہ و عرسیات کا انتظام و اہتمام تفویض فرمایا۔ چنانچہ محمد مقبولہ  بعہد نواب ناصر الدولہ بہادر صاحب عرض اور باریاب بارگاہ سلطانی تھے اور خوب عروج و ترقی پائے۔ جب 19 ذی الحجہ 1271؁ھ کو محمد مقبولہ کا انتقال ہو گیا، ان کے چار بیٹوں کے نام فی کس پندرہ روپیہ کے حساب سے پورے ساٹھ روپیہ اجرا ہوا۔ ایک مدت کے بعد تین بیٹوں کا انتقال ہو گیا۔ اب ایک بیٹا مسمی غلام علی اس وقت زندہ وحی القائم ہے۔ چھبیس روپیہ ماہوار ملتی ہے، جن کو دو لڑکے ہیں۔ اب بھی ماہ لقا بائی کے عرس کو سرکار سے پانچ سو روپیہ اور عاشور خانہ کو ایک سو روپیہ سالانہ ملتے ہیں۔

اس کے قبل ہم لکھ چکے ہیں کہ ماہ لقا بائی لطیفہ گوئی اور بذلہ سنجی میں یکتائے روزگار تھیں۔ چنانچہ اس وقت بھی ماہ لقا بائی کے لطیفے اکثر معمر اشخاص کے نوک زبان ہیں، جن میں سے ایک دو ناظرین کی دلچسپی کے لیے ہم یہاں نقل کرتے ہیں۔

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ جب ماہ لقا بائی دربار شاہی میں پہنچیں تو ان کے اکلائی کے پلّو سے ایک جوتی اٹک کر آنے لگی۔ ایک ظریف امیر دربار میں موجود تھے۔ انھوں نے کہا کہ بائی جی صاحبہ! آپ کا جوڑا تو آپ کے ساتھ ساتھ رہتا ہے، جس کا جواب فوراً ماہ لقا بائی نے یہ دیا کہ واقعی ہم غریبوں کا جوڑا ہمارے ساتھ رہتا ہے۔ مگر آپ جیسے امیروں کا جوڑا خدمتگار کے بغل میں رہتا ہے۔

ایک بار ماہ لقا بائی کی سواری راستہ سے جا رہی تھی۔ چہار مینار کے متصل پالکی میں سے چونےکی ڈبیا نیچے گری۔ ایک ظریف وہاں موجود تھے، انھوں نے کہا کہ بائی جی صاحبہ کا انڈا گر گیا۔ ماہ لقا بائی نے پلٹ کر جواب دیا کہ کیا خوب، گرتے ہی بانگ دینے لگا۔

ایک وقت ماہ لقا بائی دربار خسروی میں حاضر ہوئیں تو وہاں نواب بہرام الملک بہادر مع اپنے چار صاحبزادوں کے (جو نہایت ہی عظیم الجثہ اور زبردست تھے) تشریف رکھتے تھے۔ نواب صاحب نے ماہ لقا بائی سے مزاحاً کہا کہ بائی جی صاحبہ! آپ نے ان شیر بچوں (اپنے فرزندوں کی طرف اشارہ کر کے) کو دیکھا؟ تو ماہ لقا بائی نے کیا برجستہ جواب دیا کہ ہاں نواب صاحب شیر بچوں کو تو میں نے دیکھا، مگر اول اس گوی کی تعریف کرنا چاہیے کہ جس سے یہ شیر بچے برآمد ہوئے۔ اس جواب سے نواب صاحب بہت خفیف ہوئے۔

بہر حال اسی قسم کے اور لطیفے بھی موجود ہیں مگر بلحاظ طوالت نظر انداز کیے جاتے ہیں اور انھیں مختصر حالات پر ماہ لقا بائی کی سوانح عمری ختم کی جاتی ہے۔ فقط۔

 

تمام شد

[1] ۔ لفظ کنور کے اختیار کرنے کے اسباب ان لڑکیوں کے دل میں یہ پیدا ہوئے کہ کنور کا لفظ عمدہ اور بہتر ہے کیونکہ جو راجا زادگان اور فرزندان راجا ہوتے ہیں، ان کو کنور سے مخاطب کرتے ہیں۔ چنانچہ اس وجہ سے انھوں نے اپنے نام کے ساتھ یہ عمدہ لفظ ایزاد کیا تھا اور آئندہ ہم بھی ان کو انھیں پیارے ناموں سے یاد کیا کریں گے۔

[2]۔ بہادر شاہ کی شہزادگی کے زمانہ میں ایک شخص ارسلان خاں نامی والیٔ مملکت کاشغر اپنے لڑکوں کی دست برد سے آوارہ ہو کر کابل میں آیا اور شاہزادہ محمد معظم کی ملازمت اختیار کی۔ عالمگیر بادشاہ نے بپاس سفارش فرزند ارجمند کے اس کو منصب دو ہزار و پانصدی اور دو ہزار سوار و علم و نقارہ سے سرفراز فرما کر بادشاہزادہ کے متعین فرمایا تھا اور بعد جلوس شاہ عالم بہادر کے تخت ہندوستان کے لیے فیما بین محمد اعظم شاہ اور بہادر شاہ کے خوب جنگ ہوئی۔ اور اس جنگ کا نتیجہ یہ نکلا کہ محمد اعظم شاہ مع اپنے فرزند بیدار بخت کے مقتول ہوا اور بہادر شاہ نے فتح پائی۔ چونکہ اس جنگ میں ارسلان خاں نے کمال درجہ کی جانفشانی اور بہادری دکھلائی تھی، اس لیے شاہ عالم بہادر نے اس کو منصب ہفت ہزاری اور سات ہزار سوار خطاب چغتائی خاں بہادر فتح جنگ وماہی مراتب و پالکی جھالردار سے سرفراز فرمایا تھا۔ مگر اس وقت چغتائی خاں کی جمعیت ساٹھ یا ستر  سوار مغلیہ سے زیادہ نہ رہی تھی اور برائے نام فوج کا سردار کہلاتا تھا۔

[3]۔ مغل ہارسی کسی وقت میں محمد اعظم شاہ کی سرکار میں نوکر تھا اور بعد برطرف ہو کر ایک مدت تک مرہٹوں کے ساتھ رہزنی کرتا رہا۔ اس کے بعد کابل جا کر شہزادہ محمد اعظم کی سرکار میں نوکر ہوا۔ چنانچہ شاہ عالم بہادر نے اپنے جلوس کے بعد مغل ہارسی کو منصب سہ ہزاری اور خطاب مخلص خاں سے ممتاز فرمایا تھا۔

[4]۔ امیر الامرا کا یہ قاعدہ اور ضابطہ تھا کہ جب فرمان صادر ہوتا تو بسالت خاں کو کہتے کہ تم فرمان لے کر رو برو کھڑے رہو تاکہ میں تسلیمات بجا لاؤں اور تسلیمات بجا لانے کے وقت سوائے تمھارے اور کوئی مقابل نہ رہے۔

[5]۔ مملکت ہندوستان میں راجپوتوں کی قوم (جو راجگان اولوالعزم کی اولاد ہے) اپنے کو شریف و نجیب جانتی ہے، اصل میں تمام چھتری اور راجپوت کے دو گروہ ہیں۔ ایک اپنے کو آفتاب کی اولاد جانتا ہے اور اسی وجہ سے سورج بنسی کہلاتا ہے۔ اور دوسرا چاند سے منسوب کر کے چندربنسی کے نام سے موسوم ہے۔ راجپوتوں کے قبائل بہت ہیں جن کی تفصیل کتب براہمہ میں مندرج ہے۔ انھیں میں سے ایک قوم کوت کھندارا کہلاتی ہے جو علم موسیقی میں مہارت کامل رکھتی ہے۔ جلال الدین محمد اکبر بادشاہ کے زمانہ میں یہ قوم بہ ہدایت ایزدی مشرف باسلام ہوئی اور خطاب خانی و منصب سے سرفرازی پائی۔ کوت کے معنی نژاد و اولاد و احفاد کے ہیں اور اس لفظ کوت کھندارا سے یہ بھی قیاس لگایا گیا ہے کہ زمانہ سلف میں ایک نامور مشہور راجا قوم راجپوت سے گزرا ہے جس کی اولاد کو کوت کھندارا کہتے ہیں۔ زبان سنسکرت میں کوت کو کوتر کہتے ہیں جس کے معنی نژاد اور احفاد کے ہیں اور یہ قوم فن موسیقی میں ماہر ہونے کے باعث اکثر بادشاہوں کے مقرب و مصاحب رہی ہے اور کمال کی مناسبت سے کلاونت کے لقب سے ملقب ہوئی۔

کلاونت دو کلمے سے مرکب ہے۔ کلا بمعنی موجد و مخترع ترکیب سی شعبہ و شش مقام سرود ہندی۔ دوسرا معنی کلاکا روشنی اور ونت کا معنی مصاحب ہے جیسا کہ فارسی میں مند یعنی طالع مند و ہنر مند۔ صاحب ایجاد اور راگوں کی ترکیب دینے والا۔

اکبر بادشاہ کے عہد میں میاں تان سین (جو قوم کا راجپوت کوت کھندارا تھا) نے علم موسیقی میں کمال تجربہ حاصل کیا تھا۔ چنانچہ اس کمال کے بدولت بادشاہ کے بارگاہ سے کلاونت کا خطاب ہوا تھا اور اس کے بعد تان سین کا نواسہ میاں نعمت مشہور بہ سدا رنگ (جو میاں تان سین کا ثانی بلکہ اس سے بھی ممتاز تر کہنا چاہیے) محمد شاہ بادشاہ کے عہد میں فن موسیقی کی وجہ سے مقرب و مصاحب ہو گیا تھا اور منصب پنج ہزاری و خطاب خانی سے (بزمرہ کلاونت) بھی سرفرازی پائی تھی۔ گانے بجانے میں سدا رنگ کی تعریف و توصیف خارج از بیان ہے۔ چنانچہ محمد شاہ بادشاہ کی مصاحبت میں اس قدر اقتدار حاصل ہو گیا تھا کہ ہر وقت بارگاہ خسروی میں باریاب ہوتا تھا۔ بلا قید اوقات باریاب ہونے کی اجازت تھی۔ ان کے بعد فیروز خاں مشہور بہ ادارنگ جو میاں نعمت سد ارنگ کا شاگرد  علم موسیقی میں بے نظیر اور شہرہ آفاق ہوا ہے۔

چنانچہ فیروز خاں ادارنگ کے نغمات مثل ابو نصر فارابی کے تھے۔ جس وقت چاہتا اپنے گانے سے روتے کو ہنسا دیتا اور اسی راگ کو ایسا مقلوب کرتا کہ ہنستے کو رلا دیتا۔ اس کے پانسو شاگرد تھے جو ہر ایک اپنے فن میں کامل تھا۔ لیکن ان میں کریم خاں قوم راجپوت کوت کھندارا (جو رشتہ میں تان سین کا نواسہ تھا) مستثنیٰ اور کامل تھا، جس کا شہرہ تمام ہندوستان میں پھیلا ہوا تھا۔ جس وقت حید علی خاں (حیدر نائک) ملک کرناٹک (دکن) پر حکمران تھا، اس کا ایک عزیز حلیم خاں افغان میانہ ساتور میں حاکم تھا جس نے کمال اشتیاق کے ساتھ کریم خاں کو معقول رقم بھیج کر ہندوستان سے طلب کیا۔ چنانچہ خان مذکور حسب آبخور وارد دکن ہو کر حلیم خاں کی ملازمت اختیار کی۔ چونکہ حلیم خاں علم موسیقی سے ماہر نہ تھا، صرف سننے کا شوق رکھتا تھا، اس لیے کریم خاں برداشتہ خاطر ہو کر حیدرآباد آیا اور نو سال تک راجا رگھناتھ داس و راجا بھوانی داس (جو راجا چندو لعل کے چچا زاد بھائی تھے) کے سرکار میں بوجہ جوہر شناسی و قدردانی کے ملازمت اختیار کی ۔ اس کے بعد دس سال تک نواب شکوہ جنگ بہادر (جو غفرانمآب کے پہلے داماد تھے) کے سرکار میں بسر کیا۔ بعد ازاں بقضاء الٰہی فوت ہوا جس کا مزار کوہ شریف کے رہگزر میں موجود ہے۔ مرحوم کے دو فرزند تھے، ایک رضا خاں دوسرا خوشحال خاں انوب تخلص۔ فرزند آخر الذکر علم موسیقی اور زبان ہندی مثل برج بھا کا و تصنیف کبت و دوہہ وغیرہ میں باپ سے بہتر اور کامل تھا جس کی تصدیق ہر ایک ماہر فن نے کی تھی۔ لیکن چند روز کے بعد برداشتہ خاطر ہو کر وطن مالوفہ کا ارادہ کیا، مگر ماہ لقا بائی نے بمقتضائے قدر دانی جانے نہ دیا۔ چنانچہ خان مذکور بھی اس کی قدر دانی پر حویلی (گزشتہ سے پیوستہ) خاصہ رنگ میں (جو ماہ لقا  کا مکان تھا) سکونت اختیار کی۔ اگرچہ راجا چندو لعل بہادر نے خان مذکور کو پچاس سوار سے سرفراز فرمایا تھا لیکن سکونت ماہ لقا بائی کے پاس تھی۔ کبھی کبھی یاد آوری کے موقع پر مہاراجا بہادر کے پاس جاتا تھا۔ اس کے سوا کبھی نہیں۔ یا کبھی عیدین کے موقع پر نذر کے لیے حاضر ہوتا۔ اور مہ لقا بائی اس کی دلدہی اور دلجوئی میں کوئی دقیقہ باقی نہ رکھتی تھی اور ہزارہا روپیہ سے سلوک کرتی تھی۔ آخر خوشحال خاں نے ماہ لقا بائی کے گھر ہی میں انتقال کیا۔ جس کے محدثات سے اس وقت زنانی پھاٹک کے اندر ایک مسجد سر بفلک کشیدہ یادگار اور خوشحال خاں کی مسجد کے نام سے موسوم ہے۔

[6] ۔ اس کے قبل ہم نے بقول گلزار آصفیہ بیان کیا ہے کہ ماہ لقا بائی کا انتقال 1236؁ھ میں ہوا۔ مگر ایک سن رسیدہ صاحب (جو ماہ لقا بائی کے علاقہ دار ہیں) کا بیان ہے کہ ماہ لقا بائی نے 1240؁ھ میں انتقال کیا ہے اور اپنے بیان کی تصدیق میں انھوں نے ماہ لقا بائی کے مقبرہ کی کندہ تاریخ کے دو مصرعے حسب ذیل پیش کیے ہیں و ہو ہذا:

ہاتف غیبی ندا داد بتاریخ اوراہی جنت شدہ ماہ لقایٔ دکن

اور انھیں صاحب سے ہم کو راج کنور بائی کے مقبرہ کی تاریخ بھی دستیاب ہوئی جو نذر ناظرین ہے:

کنیز شاہ مردان راج کنور
چو محمل بست ازیں دنیائے فانی
بخوبی بہتر از لیلیٰ و شیریں
برائے انبساط روح مادر
بسالِ رحلتِ او گفت ہاتف
سخاوت پیشہ و اخلاق آرا
عجب بگذاشت دختر سر و بالا
خطابش مہ لقا و عرف چندا
بنا کرد ایں مکان فرحت افزا
بیامرزد خدا ایں عاجزہ را

 

ختم شد

یہ کتاب اردو گاہ اور مجلسِ برقی اشاعتِ ادبیاتِ عالیہ کے تعاون سے پیش کی گئی ہے۔
یہ کتاب اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ